Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 97 of 106

1921Maarif-ul-Hadith

فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلاَ قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلاَّ كَانُوا مَعَكُمْ. قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ: وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ. (رواه البخارى ورواه مسلم عن جابر)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے جب واپس ہوئے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ مدینہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس پورے سفر میں تمہارے ساتھ رہے اور جب تم نے کسی وادی کو عبور کیا تو اس وقت بھی وہ تمہارے ساتھ ہے بعض رفقاء سفر نے عرض کیا کہ حضرت وہ مدینہ میں تھے (اور پھر بھی سفر میں ہمارے ساتھ رہے؟) آپ صلی اللہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں وہ مدینہ ہی میں رہے کسی عذر اور مجبوری کی وجہ سے وہ ہمارے ساتھ سفر نہیں کر سکے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جو غزوہ تبوک کے سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ جانا چاہتے تھے اور ان کا پکا ارادہ تھا لیکن کسی وقت معذوری اور مجبوری کی وجہ سے نہیں جاسکے تو چونکہ ان کی نیت حضور ﷺ کے ساتھ جانے کی تھی اس لئے اللہ تعالی کے دفتر میں وہ جانے والوں ہی میں لکھے گئے اس حدیث کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی “الا شركوكم فى الاخر” یعنی وہ مومنین مخلصین اپنی صادق نیت کی وجہ سے آج غزوہ تبوک کے اجر و ثواب میں تمہارے شریک اور حصہ دار قرار پائے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی بندہ کسی نیک عمل میں شرکت کی نیت رکھتا ہوں لیکن کسی معذوری اور مجبوری کی وجہ سے وہ بروقت شرکت نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی نیت ہی پر عملی شرکت کا اجروثواب عطا فرمائیں گے۔

1922Maarif-ul-Hadith

فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت

عَنْ أَبِي مُوْسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ. (رواه مسلم)

حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ہیں۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ میدان جہاد میں جہاں تلواریں سروں پر کھیلتی ہیں اور اللہ کے راستہ میں جان کی بازی لگانے والے مجاہد شہید ہوتے ہیں وہیں جنت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں جو بندہ راہ خدا میں شہید ہوتا ہے وہ اسی وقت جنت کے دروازے سے اس میں داخل ہو جاتا ہے...... صحیح مسلم میں اس حدیث کی جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ ہو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد کسی جہاد کے میدان میں ایسے وقت سنایا تھا جب میدان کار راز گرم تھا آگے روایت میں ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری کی زبان سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد سن کر اللہ کا ایک بندہ کھڑا ہوا جو دیکھنے میں خستہ حال سا تھا اس نے کہا کہ اے ابو موسی کیا تم نے خود حضور ﷺ کو یہ فرماتے ھوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے خود حضور ﷺ کی زبان مبارک سے یہ سنا ہے تو وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا کہ میں تم کو آخری سلام کرنے آیا ہوں میرا رخصتی کا سلام لو اس کے بعد اس نے اپنی تلوار کا نیام توڑ کے پھینک دیا اور ننگی تلوار لے کر دشمن کی صفوں کی طرف بڑھتا چلا گیا پھر وہ شمشیر زنی کرتا رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا اور اپنی مراد کو پہنچ گیا اور رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق جنت کے دروازے سے داخل جنت ہوگیا۔

1923Maarif-ul-Hadith

فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ لاَ يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلاَ صَلاَةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ مجاہد فی سبیل اللہ (اللہ کے نزدیک) اس بندہ کی مانند ہے جو برابر روزے رکھتا ہو اللہ کے حضور میں کھڑے ہو کر عبادت کرتا ہو اور آیات الہی کی تلاوت کرتا ہوں اور اس روزے اور نماز سے تھک کر سستاتا نہ ہو اور جب تک گھر واپس آئے۔ (اللہ کے نزدیک اسی حال میں ہیں) (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو بندہ راہ خدا میں جہاد کے لیے گھر سے نکلا وہ گھر واپس آنے تک اللہ کے نزدیک مسلسل عبادت میں ہے اور اس عبادت گزار بندے کی طرح ہے جو مسلسل روزے رکھتا ہو اور اللہ کے حضور میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہو اور اللہ کی آیات کی تلاوت کرتا ہو۔

1924Maarif-ul-Hadith

فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَيْنَانِ لاَ تَمَسُّهُمَا النَّارُ عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کے دو آنکھیں ایسی ہیں جن کو دوزخ کی آگ چھو بھی نہیں سکے گی ایک وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئی ہو اور دوسری وہ آنکھ جس نے جہاد میں (رات کو جاگ کر) چوکیداری اور پہراداری کی خدمت انجام دی ہو۔ (جامع ترمذی)

1925Maarif-ul-Hadith

فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک صبح کو راہ خدا میں نکلنا یا ایک شام کو نکلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ راہ خدا میں تھوڑے سے وقت کا نکلنا بھی اللہ کے نزدیک دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے اور یقین کرنا چاہیے کے آخرت میں اس کا جو اجر ملے گا اس کے مقابلے میں یہ ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ہیچ ہے دنیاومافیہا فانی ہیں اور وہ اجر لافانی۔

1926Maarif-ul-Hadith

فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت

عَنْ أَبِي عَبْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ. (رواه البخارى)

حضرت ابو عبس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی بندے کے قدم راہ خدا میں چلنے سے گرد آلود ہوئے ہو پھر ان کو دوزخ کی آگ چھو سکے۔ (صحیح بخاری) تشریح اس حدیث کا مضمون کسی توضیح و تشریح کا محتاج نہیں البتہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت ابو عبس کی اس حدیث کو امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ اس حدیث کے ایک راوی یزید بن ابی مریم نے بیان کیا کے میں جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے (جامع مسجد کی طرف) جا رہا تھا تو مجھے عبایہ بن رفاعہ تابعی ملے اور انہوں نے مجھ سے فرمایا: أَبْشِرْ، فَإِنَّ خُطَاكَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُمَا حَرَامٌ عَلَى النَّارِ. ترجمہ: تم کو بشارت ہو کہ تمہارے یہ قدم (جن سے چل کر تم جامع مسجد کی طرف جا رہے ہو) یہ راہ خدا میں ہیں اور میں نے ابو عبس ؓ سے سنا ہے وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس بندے کے قدم راہ خدا میں گرد آلود ہوئے تو وہ قدم دوزخ پر حرام ہیں (یعنی دوزخ کی آگ ان کو چھو بھی نہ سکے گی) عبایہ بن رفاعہ تابعی کے اس بیان سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک فی سبیل اللہ جہاد و قتال ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس میں وسعت ہے نماز ادا کرنے کے لئے جانا اور اسی طرح دین کی خدمت اور اللہ کی مرضیات کے لیے دوڑ دھوپ کرنا بھی اس کے وسیع مفہوم میں شامل ہے اسی طرح اس سے پہلی حضرت انس ؓ والی حدیث (لَغَدْوَةٌ فِىْ سَبِيْلِ اللهِ اَوْ رَوْحَةٌ) کے بارے میں بھی سمجھنا چاہیے کے اللہ کیلئے اور دین کی خدمت کے سلسلہ کی ہر مخلصانہ جدوجہد اور دوڑ دھوپ کرنے والوں کا بھی اس بشارت میں حصہ ہے۔

1927Maarif-ul-Hadith

فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ. (رواه مسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اس حال میں انتقال کیا کہ نہ تو کبھی جہاد میں عملی حصہ لیا اور نہ کبھی جہاد کو سوچا (نہ اس کی نیت کی) تو اس نے ایک قسم کی منافقت کی حالت میں انتقال کیا۔ (صحیح مسلم) تشریح قرآن پاک سورہ حجرات میں فرمایا گیا ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (حجرات: 49) ترجمہ: اصلی ایمان والے بس وہی بندے ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پر پھر (ان کے دل میں) کوئی شک شبہ نہیں آیا اور انہوں نے اپنے جان و مال سے راہ خدا میں جہاد کیا وہی سچے پکے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ راہ خدا میں جہاد ایمان صادق کے لوازم میں سے ہے اور سچے پکے مومن وہی ہیں جن کی زندگی اور جن کے اعمال نامہ میں جہاد بھی ہو (اگر عملی جہاد نہ ہو تو کم از کم اس کا جذبہ اور اسکی نیت اور تمنا ہو) پس جو شخص دنیا سے اس حال میں گیا کہ نہ تو اس نے جہاد میں عملی حصہ لیا اور نہ جہاد کی نیت اور تمنا ہی کبھی کی تو وہ مومن صادق کی حالت میں دنیا سے نہیں گیا بلکہ ایک درجہ کی منافقت کی حالت میں گیا۔ بس یہی اس حدیث کا پیغام اور مدعا ہے۔

1928Maarif-ul-Hadith

فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَقِيَ اللَّهَ بِغَيْرِ أَثَرٍ مِنْ جِهَادٍ لَقِيَ اللَّهَ وَفِيهِ ثُلْمَةٌ. (رواه الترمذى وابن ماجه)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بندہ اس حال میں اللہ کے حضور پیش ہو گا کہ اس میں جہاد کا کوئی اثر و نشان نہ ہو تو اس کی یہ پیشی ایسی حالت میں ہوگی کہ اس میں (یعنی اس کے دین) نقص اور رکھنا ہوگا۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) تشریح حضرت ابوہریرہؓ ہی کی اوپر والی حدیث کی تشریح میں جو کچھ عرض کیا گیا ہے اسی سے اس حدیث کی بھی تشریح ہوجاتی ہے۔ اس حدیث اور اس طرح کی دوسری حدیثوں کے مطالعہ کے وقت یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ قرآن و سنت کی زبان میں “جہاد” صرف قتال اور مسلح جنگ ہی کا نام نہیں ہے بلکہ دین کی نصرت و خد مت کے سلسلہ میں جس وقت جس قسم کی جدوجہد کا امکان ہو وہی اس وقت کا جہاد ہے اور جو بندے اخلاص و للہیت کے ساتھ اس دور میں وہ جدوجہد کریں اور اس کے سلسلہ میں اپنی جان و مال اور اپنی صلاحیتوں کو قربان کریں وہ عنداللہ “مجاہدین فی سبیل اللہ” ہیں۔ عنقریب انشاءاللہ اس موضوع پر کسی قدر تفصیل سے عرض کیا جائے گا۔

1929Maarif-ul-Hadith

فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت زید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ جس کسی نے راہ خدا میں جہاد کرنے والے کسی غازی کو سامان جہاد فراہم کیا تو (اللہ کے نزدیک) اس نے بھی جہاد اور غزوے میں حصہ لیا اور جس کسی نے جہاد میں جانے والے کسی غازی کے اہل و عیال کی اس کی نیابت میں خدمت کی اور خبر لی اس نے بھی جہاد میں عملی حصہ لیا (یعنی ان دونوں آدمیوں کو بھی جہاد کا ثواب حاصل ہو گا اور اللہ کے دفتر میں وہ بھی مجاہدین نے لکھے جائیں گے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد سے یہ اصولی بات معلوم ہوئی کے دین کی کسی بڑی خدمت کرنے والوں کے لیے اس کا سامان فراہم کرنے والے اور اسی طرح خدمت دین اور نصرت دین کے سلسلہ میں باہر جانے والوں کے اہل و عیال کی خبر گیری کرنے والے اللہ کے نزدیک دین کی اس خدمت و نصرت میں شریک اور پورے اجر کے مستحق ہیں ہم میں جو لوگ اپنے خاص حالات اور مجبوریوں کی وجہ سے دین کی نصرت و خدمت کے کسی بڑے کام میں براہ راست حصہ نہیں لے سکتے وہ دوسروں کے لئے اس کا سامان فراہم کر کے اور ان کے گھر والوں کی خدمت اور دیکھ بھال اپنے ذمہ لے کے دین کے خدام و انصار کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں اللہ تعالی توفیق عطا فرمائے۔

1930Maarif-ul-Hadith

فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت

عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ. (رواه ابوداؤد والنسائى والدارمى)

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ جہاد کرو مشرکوں سے اپنے جان و مال اور اپنی زبانوں سے (سنن ابی داؤد سنن نسائی سنن دارمی) تشریح مطلب یہ ہے کہ کفار و مشرکین کو توحید اور دین حق کے راستہ پر لانے اور ان کا زور توڑ کے دعوت حق کا راستہ صاف کرنے کے لئے جیسا موقع اور وقت کا تقاضہ ہو اپنے جان و مال سے جدوجہد کرو اور ان کی قربانی دو اور زبان و بیان سے بھی کام لو۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دعوت حق کے راستہ میں پیسے خرچ کرنا اور زبان و بیان (اور اسی طرح قلم) سے کام لینا بھی جہاد کے وسیع مفہوم میں شامل ہیں۔ جہاد کے بارے میں ضروری وضاحت ہماری اردو زبان میں جہاد اس مسلح جنگ ہی کو کہتے ہیں جو اللہ و رسول کے حکم کے مطابق دین کے حفاظت و نصرت کے لئے دشمنان حق سے کی جائے لیکن اصل عربی زبان اور قرآن و حدیث کی اصطلاح میں جہاد کے معنیٰ حریف کے مقابلہ میں کسی مقصد کے لئے پوری جدوجہد اور امکانی طاقت صرف کرنے کے ہیں جو احوال و ظروف کے لحاظ سے جنگ و قتال کی شکل میں بھی ہوسکتی ہے اور دوسرے طریقوں سے بھی۔ (قرآن مجید میں جہاد کا لفظ جابجا اسی وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے) رسول اللہ ﷺ منصب نبوت پر سرفراز ہونے کے بعد قریبا 13 برس مکہ معظمہ میں رہے اس پوری مدت میں دین کے دشمنوں، کافروں، مشرکوں سے نہ صرف یہ کہ جہاد بالسیف اور جنگ و قتال کی اجازت نہیں تھی بلکہ اس کی ممانعت تھی اور حکم تھا “كُفُّوْا اَيْدِيَكُمْ” (یعنی جنگ اور قتال سے اپنے ہاتھ روکے رکھو) سورۃالفرقان اسی مکی دور میں نازل ہوئی ہے اس میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے “ فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا ” (آیت نمبر 52) مطلب یہ ہے کہ اے ہمارے نبی و رسول آپ ان منکروں کی بات نہ مانئے اور ہمارے نازل کئے ہوئے قرآن کے ذریعہ ان سے بڑا جہاد کرتے رہیے! ظاہر ہے کہ اس آیت میں جس جہاد کا حکم ہے اس سے مراد جہاد بالسیف اور جنگ و قتال نہیں ہے بلکہ قرآن کے ذریعہ دعوت و تبلیغ کی جدوجہد ہی مراد ہے اور اسی کو اس آیت میں صرف “جہاد” نہیں بلکہ “جہاد کبیر” اور “جہاد عظیم” فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح سورۃ “عنکبوت” بھی ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ ہی کے زمانہ قیام میں نازل ہوئی ہے اس میں فرمایا گیا ہے “وَمَن جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ” (آیت نمبر 6) مطلب یہ ہے کہ جو بندہ (راہ خدا میں) جہاد کرے گا وہ اپنے ہی نفع کے لئے کرے گا (خدا کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا) خدا سب سے بے نیاز ہے۔ اور اسی سورہ عنکبوت کی آخری آیت ہے “وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّـهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ ” یعنی جو بندہ ہماری راہ میں یعنی ہماری رضا حاصل کرنے کے لیے جہاد و مجاہدہ کریں گے اور مشقتیں جھیلیں گے ان کو ہم اپنے راستوں (یعنی اپنے قرب و رضا کے راستوں) کی ہدایت کی نعمت سے نوازیں گے۔ ظاہر ہے کہ سورۃ عنکبوت کی ان دونوں آیتوں میں بھی جہاد سے جہاد باسیف مراد نہیں لیا جاسکتا بلکہ راہ خدا میں اور اس کے قرب و رضا کے لیے جدوجہد اور محنت و مشقت ہی مراد ہے جس صورت میں بھی ہو۔ بہرحال دین کی راہ میں اور اللہ کے لئے ہر مخلصانہ جدوجہد اور جان و مال اور عیش و آرام کی قربانی اور اللہ تعالی کی عطا فرمائی ہوئی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال، یہ سب بھی اپنے اپنے درجہ میں جہاد فی سبیل اللہ کی شکلیں ہیں اور ان کا راستہ ہر وقت اور دنیا کے ہر حصے میں آج بھی کھلا ہوا ہے۔ ہاں جہاد بالسیف اور قتال فی سبیل اللہ بعض پہلوؤں سے اعلی درجہ کا جہاد ہے اور اس راہ میں جان کی قربانی اور شہادت مومن کی سب سے بڑی سعادت ہے جس کے لیے خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے دلی شوق اور تمنا کا اظہار فرمایا ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔ آگے درج ہونے والی حضرت فضالہ بن عبیدؓ کی حدیث بھی جہاد کے مفہوم کی اس وسعت کی ایک مثال ہے۔

1931Maarif-ul-Hadith

فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت

عَنْ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ. (رواه الترمذى)

حضرت فضالہ بن عبید ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ارشاد فرماتے تھے کہ مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے۔ (جامع ترمذی) تشریح قرآن پاک میں فرمایا گیا “إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ” (یعنی انسان کا نفس برائی اور گناہ کا تقاضہ کرتا ہے) پس اللہ کا جو بندہ اپنی نفسانی خواہشات سے جنگ کرے ان کی پیروی کے بجائے احکام الہی کی تابعداری کرے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا کہ وہ اصل “مجاہد” ہے۔ اسی طرح اس سلسلہ معارف الحدیث کتاب المعاشرہ میں والدین کی خدمت کے بیان میں وہ حدیث ذکر کی جاچکی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے والدین کی خدمت کو بھی جہاد قرار دیا ہے۔ (ففيهما فجاهد)

1932Maarif-ul-Hadith

شہادت کے دائرہ کی وسعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ. قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ قَالَ: إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ. مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الْبَطْنِ فَهُوَ شَهِيدٌ. (رواه مسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک روز صحابہؓ کو مخاطب کرکے) فرمایا کہ تم لوگ اپنے میں کس کو “شہید” شمار کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ حضرت (ہمارے نزدیک تو) جو بندہ راہ خدا میں قتل کیا گیا وہی شہید ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس صورت میں تو میری امت کے شہداء تھوڑے ہی ہونگے۔ (سنو!) جو بندہ راہ خدا میں شہید کیا گیا وہ شہید ہے، اور جس بندہ کا انتقال راہ خدا میں ہوا (یعنی جہاد کے سفر میں جس کو موت آ گئی) وہ بھی شہید ہے، اور جس بندہ کا طاعون میں انتقال ہوا وہ بھی شہید ہے، اور جس بندہ کا پیٹ کے مرض میں مبتلا ہو کر انتقال ہوا (جیسے کہ ہیضہ، تخمہ، اسہال، استسقاء وغیرہ) وہ بھی شہید ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح پھر جس طرح جہاد کے مفہوم میں یہ وسعت ہے اور جہاد بالسیف میں محدود نہیں ہے اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اطلاع دی ہے کہ شہادت کا دائرہ بھی وسیع ہے اور بہت سے وہ بندے بھی اللہ کے نزدیک شہیدوں میں شامل ہیں جو جہاد بالسیف اور قتال کے میدان میں اہل کفر و شرک کی تلواروں یا گولیوں سے شہید ہوتے بلکہ ان کی موت کا سبب کوئی ناگہانی حادثہ یا کوئی غیرمعمولی مرض ہوتا ہے۔ تشریح ..... واقعہ یہ ہے کہ حقیقی “شہید” تو وہی خوش نصیب بندے ہیں جو میدان جہاد میں اہل کفر و شرک کے ہاتھوں شہید ہوں (شریعت میں ان کے لیے خاص احکام ہیں مثلا یہ کہ ان کو غسل نہیں دیا جاتا اور وہ اپنے ان کپڑوں ہی میں دفن کیے جاتے ہیں جن میں وہ شہید ہوئے) لیکن اللہ تعالی کی رحمت نے بعض غیر معمولی امراض یا حادثوں سے مرنے والوں کو بھی آخرت میں شہید کا درجہ دینے کا وعدہ فرمایا ہے جن میں سے کچھ کا ذکر اس حدیث میں اور بعض کہ آئندہ درج ہونے والی حدیثوں میں کیا گیا ہے امتیاز کے لیے پہلی قسم کے شہید کو “شہید حقیقی” اور دوسری قسم والوں کو “شہید حکمی” کہا جاتا ہے غسل اور کفن کے معاملہ میں ان کا حکم وہ نہیں ہے جو حقیقی شہداء کا ہے بلکہ عام اموات کی طرح ان کو غسل بھی دیا جائے گا اور کفن بھی۔

1933Maarif-ul-Hadith

شہادت کے دائرہ کی وسعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيْقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “شہداء” پانچ (قسم) ہیں، طاعون میں مرنے والا اور پیٹ کی بیماری میں مرنے والا اور ڈوب کے مرنے والا اور عمارت وغیرہ ڈھے جانے کے نتیجہ میں مرنے والا اور راہ خدا میں (یعنی میدان جہاد میں) شہید ہونے والا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

1934Maarif-ul-Hadith

شہادت کے دائرہ کی وسعت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَوْتُ غُرْبَةٍ شَهَادَةٌ. (رواه ابن ماجه)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسافرت کی موت شہادت ہے۔ (سنن ابن ماجہ) تشریح ان حدیثوں میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جن بندوں کی موت کسی بھی ناگہانی حادثہ میں یا کسی درد ناک اور قابل ترحم مرض میں ہو ان سب کو اللہ تعالی اپنے خاص رحم و کرم سے کسی درجہ میں شہادت کا اجر عطا فرمائے گا۔ ظاہر ہے کہ اس میں اس طرح مرنے والوں کے لیے بڑی بشارت اور انکے متعلقین اور پسماندگان کے لیے تسلی کا بڑا سامان ہے اللہ تعالیٰ یقین نصیب فرمائے۔ ہمارے اس زمانے میں موٹروں وغیرہ کے ایکسیڈنٹ میں یا ریلوں ہوائی جہازوں کے حادثوں میں اسی طرح قلبی دورے جیسے مفاجاتی امراض کے نتیجہ میں بندگان خدا کی زندگیاں ختم ہوتی ہیں، اللہ تعالی کی رحمت سے پوری امید ہے کہ ان سب کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا معاملہ یہی ہوگا بلاشبہ اللہ تعالی کی رحمت بے حد وسیع ہے۔

1935Maarif-ul-Hadith

امت میں پیدا ہونے والے دینی انحطاط و زوال اور فتنوں کا بیان

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ. قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى قَالَ: فَمَنْ؟ (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یقینا ایسا ہوگا کہ تم (یعنی میری امت کے لوگ) اگلی امتوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے بالشت برابر بالشت اور برابر ذراع (یعنی بالکل ان کے قدم بہ قدم چلو گے) یہاں تک کہ اگر وہ گھسے ہوں گے گوہ کے بل میں تو اس میں بھی تم ان کی پیروی کرو گے۔ عرض کیا گیا کہ اے خدا کے رسول کیا یہود و نصاری (مراد ہیں؟) آپ نے فرمایا تو اور کون؟ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ نے جس طرح عقائد و ایمانیات، عبادات، اخلاق اور معاشرت و معاملات، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ کے بارے میں ہدایت دیں اور امت کی رہنمائی فرمائی اسی طرح مستقبل میں واقع ہونے والے دینی زوال و انحطاط تغیرات اور فتنوں کے بارے میں بھی امت کو آگاہی دی ہے اور ہدایات فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ پر منکشف فرمایا تھا کہ جس طرح اگلی امتوں میں دینی زوال و انحطاط آیا اور وہ طرح طرح کی گمراہیوں اور غلط کاریوں میں مبتلا ہوئیں اور اللہ تعالی کی نظر عنایت اور نصرت سے محروم ہوئیں ایسے ہی حالات آپ کی امت پر بھی آئیں گے۔ اس انکشاف و اطلاع کا مقصد یہی تھا کہ آپ صلی اللہ وسلم امت کو آنے والے اس خطرہ سے آگاہ کرے اور اس بارے میں ہدایات دیں۔ حدیث کی کتابوں میں “کتاب الفتن” یا “ابواب الفتن” کے زیر عنوان جو حدیثیں روایت کی گئی ہیں وہ رسول اللہ ﷺ کے اسی سلسلہ کے ارشادات ہیں ان کی حیثیت صرف پیشن گوئیوں کی نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد و مدعا امت کو آئندہ آنے والے فتنوں سے باخبر کرنا اور انکے اثرات سے تحفظ کا داعیہ پیدا کرنا اور طریق کار کے بارے میں ہدایات دینا ہے۔ اس تمہید کے بعد ذیل میں درج ہونے والی حدیثیں پڑھی جائیں ان میں غور و فکر کیا جائے ان کی روشنی میں خود اپنا اور اپنے ماحول کا جائزہ لیاجائے اوران سے ہدایت و رہنمائی حاصل کی جائے۔ تشریح ..... “شبر” کے معنی بالشت اور “ذراع” کے معنی ہاتھ کی انگلیوں کے سرے سے لے کر کہنی تک کی مقدار جو ٹھیک دو بالشت برابر ہوتی ہے۔ حدیث کے الفاظ “شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ” کا مطلب بالکل وہ ہے جو اردو محاورہ میں “قدم بقدم” کا ہوتا ہے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یقینا ایک وقت ایسا آئے گا کہ میری امت کے کچھ لوگ اگلی امتوں کے گمراہ لوگوں کی قدم بقدم پیروی کریں گے جنگ گمراہیوں اور غلط کاریوں میں وہ مبتلا ہوئے تھے یہ بھی ان میں مبتلا ہوں گے یہاں تک کہ اگر ان میں سے کسی سر پھرے پاگل نے ضب (گوہ) کے بل میں گھسنے کی کوشش کی ہوگی تو میری امت میں بھی ایسے پاگل ہوں گے جو یہ مجنونانہ حرکت کریں گے (مطلب یہ ہے کہ اس طرح کی احمقانہ حرکتوں میں بھی ان کی پیروی اور نقالی کریں گے یہ دراصل کامل پیروی اور نقالی کی ایک تعبیر و تمثیل ہے) آگے حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کا یہ ارشاد سن کر کسی صحابی نے عرض کیا کہ حضرت! ہم سے پہلی امتوں سے کیا یہودونصاریٰ مراد ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ نہیں تو اور کون ....... مطلب یہ ہے کہ ہاں میری مراد یہودونصاری ہی ہیں۔ جیسا کہ تمہیدی سطروں میں عرض کیا گیا یہ صرف پیشن گوئی نہیں ہے بلکہ بڑے مؤثر انداز میں آگاہی ہے کہ مجھ پر ایمان لانے والے خبردار اور ہوشیار رہیں اور یہود و نصاریٰ کی گمراہیوں اور غلط کاریوں سے اپنے کو محفوظ رکھنے کی فکر سے کبھی غافل نہ ہوں۔

1936Maarif-ul-Hadith

امت میں پیدا ہونے والے دینی انحطاط و زوال اور فتنوں کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍوقَالَ: «شَبَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ» وَقَالَ كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِذَا بَقِيتَ حُثَالَةٌ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ، وَأَمَانَاتُهُمْ، وَاخْتَلَفُوا، فَصَارُوْا هَكَذَا قَالَ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: تَأْخُذُ مَا تَعْرِفُ وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ وَتُقْبِلُ عَلَى خَاصَّتِكَ، وَتَدَعُهُمْ وَعَوَامَهُمْ. (رواه البخارى)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال دیں اور (مجھ سے مخاطب ہوکر) فرمایا کہ اے عبداللہ بن عمرو! تمہارا اس وقت کیا حال اور کیا رویہ ہوگا جب صرف ناکارہ لوگ باقی رہ جائیں گے ان کے معاہدات اور معاملات میں دغا فریب ہوگا اور ان میں (سخت) اختلاف (اور ٹکراؤ) ہوگا اور وہ باہم اس طرح گتھ جائیں گے (جیسے میرے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے گھتی ہوئی ہیں) عبداللہ بن عمرو ؓ نے عرض کیا کہ پھر مجھے کیسا ہونا چاہیے یا رسول اللہ؟ (یعنی اس فساد عام کے زمانہ میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس بات اور جس عمل کو تم اچھا اور معروف جانو اس کو اختیار کرو اور جس کو منکر اور برا سمجھو اس کو چھوڑ دو اور اپنی پوری توجہ خاص اپنی ذات پر رکھو (اور اپنی فکر کرو) اور ان ناکارہ و بےصلاحیت اور آپس میں لڑنے بھڑنے والوں سے اوران عوام سے تعرض نہ کرو۔ (صحیح بخاری) تشریح “حثالہ” کےمعنی بھوسی کے ہیں یہاں اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جو بظاہر آدمی ہونے کے باوجود آدمیت کے جوہر سے بالکل خالی ہوں ان میں کوئی صلاحیت نہ ہو جس ترا بھوسی میں صلاحیت نہیں ہوتی۔ آگے رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے ان کا یہ حال بھی بیان فرمایا کہ ان کے معاہدات اور معاملات میں مکر و فریب اور دغا بازی ہو اور باہم جنگ و پیکار ان کا مشغلہ ہو۔ نوعمر صحابہ کرام میں عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ و فطری طور پر بڑے خیرپسند، پرہیزگار اور عبادت گزار تھے، رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ان سے فرمایا کہ جب کبھی ایسا وقت آ جائے کہ ایسے ہی ناکارہ اور بدکردار اور باہم لڑنے بھڑنے والے لوگ باقی رہ جائے تو تمہارا رویہ اس وقت کیا ہوگا؟ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے یہ سوال ان سے اسی لیے کیا تھا کہ وہ اس بارے میں آپ سے ہدایت کے طالب ہوں تو آپ ہدایت فرمائیں۔ یہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ تعلیم تھا چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا اور آپ نے جواب دیا جس کا حاصل یہ ہے کہ جب واسطہ ایسے ہی لوگوں سے ہو جو آدمیت کے جوہر سے محروم ہوں اور نیکی کو قبول کرنے کی ان میں صلاحیت ہی نہ رہی ہو تو اہل ایمان کو چاہیے کے ایسے لوگوں سے صرف نظر کرکے بس اپنی فکر کریں۔ یہاں یہ بات خاص طور سے قابل لحاظ ہے کہ رسول اللہ ﷺ قیامت تک کے مسلمانوں کو جو ہدایت دینا چاہتے تھے اس کا مخاطب صحابہ کرامؓ ہی کو بناتے تھے اللہ تعالی ان اصحاب کرام اور ان کے بعد والے راویان حدیث کو جزاء خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی یہ ہدایات بعد والوں تک پہنچائیں اور ائمہ حدیث نے ان کو کتابوں میں محفوظ کر دیا۔

1937Maarif-ul-Hadith

امت میں پیدا ہونے والے دینی انحطاط و زوال اور فتنوں کا بیان

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ، يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ. (رواه البخارى)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قریب ہے کہ ایسا زمانہ آئے گا ایک مسلمان کا اچھا مال بکریوں کا گلہ ہو جن کو لے کر وہ پہاڑیوں کی چوٹیوں اور بارش والی وادیوں کی تلاش کرے اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگ جائے۔ (صحیح بخاری) تشریح قرآن پاک میں قیامت کو قریب ہی بتلایا گیا ہے (اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ) رسول اللہ صلی اللہ وسلم بھی قیامت اور اس سے پہلے ظاہر ہونے والے فتنوں کا اس طرح ذکر فرماتے تھے جیسے کہ یہ سب کچھ عنقریب ہی ہونے والا ہے۔ اولا تو اس لئے کہ جو چیز آنے والی ہے اور اس کا آنا یقینی ہے اس کو قریب ہی سمجھنا چاہیے۔ دوسرے اس میں یہ بھی حکمت تھی کہ کوئی شخص اس کو بہت دور سمجھ کر مطمئن نہ ہو بیٹھے اور اس کے لیے جو کچھ کرنا چاہیے اس میں سستی نہ کرے۔ اسی اصول و معمول کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں فتنہ کے ایسے زمانے کے قریب ہونے کی آگاہی گئی ہے جب بھری پڑی آبادیوں کا حال ایسا خراب ہو جائے گا کہ وہاں رہنے والے کے لئے دین پر قائم رہنا اور اللہ و رسول کے احکام کے مطابق زندگی گزارنا قریبا ناممکن ہو جائے گا آپ نے فرمایا ایسے وقت میں وہ بندہ مومن بڑی خیریت میں ہوگا جس کے پاس چند بکریوں کا گلہ ہو وہ ان کو لے کر پہاڑیوں کی چوٹیوں پر یا ایسی وادیوں میں چلا جائے جہاں بارشیں ہوتی ہوں بکریاں اللہ کے اگائے ہوئے سبزے سے اپنا پیٹ بھرے اور یہ بندہ ان بکریوں سے گزارا کرے اور اس طرح آبادیوں کے فتنوں سے محفوظ رہے۔

1938Maarif-ul-Hadith

امت میں پیدا ہونے والے دینی انحطاط و زوال اور فتنوں کا بیان

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ. (رواه الترمذى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کے لیے ایک وقت ایسا آئے گا کہ صبر و استقامت کے ساتھ دین پر قائم رہنے والا بندہ اس وقت اس آدمی کی مانند ہوگا جو ہاتھ میں جلتا ہوا انگارہ تھام لے۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ فسق و فجور اور خدا فراموشی ماحول اور فضا پر ایسی غالب آ جائے گی کہ خدا اور رسول کے احکام پر استقامت کے ساتھ عمل کرنا اور حرام سے بچ کر زندگی گزارنا اتنا مشکل اور صبر آزما ہو جائے گا جیسا کہ جلتا انگارہ ہاتھ میں تھام لینا یہ وہی زمانہ ہوگا جس کا ذکر حضرت ابو سعید خدری ؓ کی مندرجہ بالا حدیث میں کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم

1939Maarif-ul-Hadith

امت میں پیدا ہونے والے دینی انحطاط و زوال اور فتنوں کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ فِي زَمَانٍ مَنْ تَرَكَ مِنْكُمْ عُشْرَ مَا أُمِرَ بِهِ هَلَكَ ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ مَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ بِعُشْرِ مَا أُمِرَ بِهِ نَجَا. (رواه الترمذى)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم اس وقت ایسے زمانے میں ہو کہ جو کوئی اس زمانے میں احکام الہی کے (بڑے حصہ پر) عمل کرے صرف دسویں حصہ پر عمل ترک کردیں تو وہ ہلاک ہوجائے گا۔ (اس کی خیریت نہیں) اور بعد میں ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جو کوئی اس زمانہ میں احکام الہی کے صرف دسویں حصہ پر عمل کر لے گا وہ نجات کا مستحق ہوگا۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ ﷺ کے مبارک زمانہ میں آپ کی صحبت اور براہ راست تعلیم و تربیت اور معجزات و خوارق کے مشاہدہ کے نتیجہ میں ایسا ماحول بن گیا تھا کہ احکام الہی ذوق و شوق سے تعمیل کرنا نہ صرف آسان بلکہ مرغوب و محبوب بن گیا تھا اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری طبیعت ثانیہ بن گئی تھی اس ماحول اور اس ایمانی فضا میں جو شخص احکام الہی کی پیروی میں تھوڑی بھی کوتاہی کرے اس کے بارے میں اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ قصور وار اور قابل معاوضہ ہے۔ “قریبا نرا بیش بود حیرانی” اسی کے ساتھ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب ماحول دین کے سخت ناسازگار ہو گا (اور جیسا کہ حضرت انس ؓٗ کی مندرجہ بالا حدیث میں فرمایا گیا ہے دین پر چلنا ایسا صبر آزما ہوگا جیسا ہاتھ میں انگارہ تھام لینا) ایسے زمانے کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا اس وقت میں اللہ کے جو بندے دین کے تقاضوں اور شریعت کے احکام پر تھوڑا بھی عمل کرلیں گے ان کی نجات ہو جائے گی۔(عاجز کا خیال ہے کہ “اس حدیث” میں “عشر ” کے لفظ سے متعین طور پر دسواں حصہ (10/1) مراد نہیں ہیں بلکہ کثیر کے مقابلہ میں قلیل مراد ہے اور حضور ﷺ کے ارشاد کا مدعا وہی ہے جو عاجز نے ان سطروں میں عرض کیا ہے) ..... واللہ اعلم۔

1940Maarif-ul-Hadith

دولت تعیش اور حب دنیا کا فتنہ

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ مَا عَلَيْهِ إِلاَّ بُرْدَةٌ لَهُ مَرْقُوعَةٌ بِفَرْوٍ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَى لِلَّذِي كَانَ فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ وَالَّذِي هُوَ الْيَوْمَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ بِكُمْ إِذَا غَدَا أَحَدُكُمْ فِي حُلَّةٍ وَرَاحَ فِي حُلَّةٍ وَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ صَحْفَةٌ وَرُفِعَتْ أُخْرَى وَسَتَرْتُمْ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ. قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مِنَّا الْيَوْمَ نَتَفَرَّغُ لِلْعِبَادَةِ وَنُكْفَى الْمُؤْنَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لأَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ مِنْكُمْ يَوْمَئِذٍ. (رواه الترمذى)

محمد بن کعب قرضی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک ایسے صاحب نے مجھ سے بیان کیا جنہوں نے حضرت علی بن ابی طالب ؓٗ سے خود (یہ واقعہ) سنا تھا کہ ہم لوگ (ایک دن) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مصعب بن عمیر (ؓٗ) اس حالت اور ہیئت میں سامنے آ گئے کہ ان کے جسم پر بس ایک (پھٹی پرانی) چادر تھی جس میں کھال کے ٹکڑوں کے پیوند لگے ہوئے تھے جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو (اس حالت اور ہیئت میں) دیکھا تو آپ کو رونا آ گیا ان کا وہ وقت یاد کرکے جب وہ (اسلام لانے سے پہلے مکہ میں) عیش و تنعم کی زندگی گزارتے تھے اور ان کی (فقر و فاقہ کی) موجودہ حالت کا خیال کرکے ..... اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے (ہم لوگوں سے مخاطب ہو کر) فرمایا کہ (بتلاؤ) اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی اور کیا حال ہوگا جب (دولت اور سامان تعیش کی ایسی فراوانی ہوگی کہ) تم میں کے لوگ صبح کو ایک جوڑا پہن کر نکلیں گے اور شام کو دوسرا جوڑا پہن کر، اور (کھانے کے لئے) ان کے آگے ایک پیالہ رکھا جائے گا اور دوسرا اٹھایا جائے گا اور تم اپنے مکانوں کو اس طرح لباس پہناؤ گے جس طرح کعبۃ اللہ پر غلاف ڈالا جاتا ہے (آپ کے اس سوال کے جواب میں حاضرین مجلس میں سے کچھ) لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت ہمارا حال اس وقت آج کے مقابلے میں بہت اچھا ہوگا ہمیں اللہ کی عبادت کے لیے پوری فراغت اور فرصت حاصل ہوگی (معاش وغیرہ کے لئے) محنت و مشقت اٹھانی نہیں پڑے گی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نہیں! تم آج (فقر و فاقہ کے اس دور میں عیش و تنعم والے) اس دن کے مقابلہ میں بہت اچھے ہو۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کے راوی محمد بن کعب قرضی تابعی ہیں جو علم قرآن اور صلاح و تقوی کے لحاظ سے اپنے طبقہ میں ممتاز تھے انہوں نے اس راوی کا نام ذکر نہیں کیا جنہوں نے حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے حوالہ سے یہ واقعہ ان کو سنایا تھا لیکن ان کا اس طرح روایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ راوی انکے نزدیک ثقہ اور قابل اعتماد ہے۔ مصعب بن عمیرؓ کی صحابہ کرامؓ میں ایک خاص شان اور تاریخ تھی وہ بڑے ناز پروردہ ایک رئیس زادے تھے ان کا گھرانہ مکہ کا بڑا دولت مند گھرانہ تھا اور یہ اپنے گھر کے بڑے لاڈلے چہیتے تھے اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کی زندگی امیرانہ اور عیش و تنعم کی زندگی تھی پھر اسلام لانے کے بعد زندگی کا رخ بالکل بدل گیا اور وہ حال ہوگیا جو اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے ایک پھٹی پرانی چادر ہی جسم پر تھی جس میں جابجا چمڑے کے ٹکڑوں کے بھی پیوند تھے ان کو اس حالت اور ہیئت میں دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں کے سامنے ان کی عیش و تنعم والی امیرانہ زندگی کا نقشہ آ گیا اور آپ کو رونا آگیا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ صحابہ کرامؓ کو ایک اہم حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے ان سے فرمایا کہ ایک وقت آئے گا جب تمہارے پاس یعنی میری امت کے پاس عیش و تنعم کے سامان کی فراوانی ہو گی ایک آدمی صبح کو ایک جوڑا پہن کر نکلے جا اور شام کو دوسرا جوڑا اسی طرح دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانے ہوا کریں گے بتلاؤ تمہارا کیا خیال ہے وہ وقت تمہارے لیے کیسا ہوگا؟ کچھ لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت وہ وقت اور وہ دن تو بہت ہی اچھا ہوگا ہمیں فراغت اور فرصت ہی فرصت ہو گی بس اللہ کی عبادت کیا کریں گے آپ ﷺ نے فرمایا تمہارا یہ خیال صحیح نہیں ہے آج تم جس حال میں ہو یہ آئندہ آنے والے عیش و تنعم کے حال سے بہت بہتر ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے یہ حقیقت بیان فرمائی تھی اس وقت تو “ایمان بالغیب” ہی کی طور پر اس پر یقین کیا جاسکتا تھا لیکن پہلے بنو امیہ اور بنو عباس کے دور حکومت میں اور بعد کی اکثر دوسری مسلم حکومتیں کے دور میں بھی اور آج کی ان مسلم حکومتوں میں جن کو اللہ تعالی نے عیش و تنعم کا سامان انتہائی فراوانی سے دے رکھا ہے یہ حقیقت آنکھوں سے دیکھ لی گئی ہے اور دیکھی جا رہی ہے بلاشبہ یہ اور اس طرح کی تمام پیشنگوئیاں رسول اللہ ﷺ کے معجزات اور آپ ﷺ کی نبوت کے دلائل میں سے ہیں۔