Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 98 of 106

1941Maarif-ul-Hadith

دولت تعیش اور حب دنیا کا فتنہ

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ الأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا. فَقَالَ قَائِلٌ وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ قَالَ: بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ وَلَيَنْزِعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهَنَ. فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهَنُ قَالَ: حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ. (رواه ابوداؤد والبيهقى فى دلائل النبوة)

حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قریب ہے (ایسا زمانہ) کہ (دشمن) قومیں تمہارے خلاف (جنگ کرنے اور تم کو مٹا دینے کے لیے) ایک دوسرے کو اس طرح دعوت دیں جس طرح کھانے والی جماعت کے آدمی کھانے کی لگن (تشت) کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں کسی عرض کرنے والے نے عرض کیا کہ کیا اس دن ہماری تعداد کی قلت کی وجہ سے ایسا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا (نہیں) بلکہ تم اس وقت بڑی تعداد میں ہوگے لیکن تم سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح (بے جان اور بےوزن) ہوگے اور اللہ تعالی تمہارے دشمنوں کے دل سے تمھاری ہیبت نکال دے گا اور (اس کے برعکس) تمہارے دلوں میں “وہن” ڈال دے گا کسی عرض کرنے والے نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ “وہن” کا کیا مطلب؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا کی محبت اور موت کی کراہت۔ (سنن ابی داود دلائل النبوۃ للبیہقی) تشریح حضرت ثوبان ؓ کی اس روایت میں رسول اللہ ﷺ کا جو ارشاد نقل ہوا ہے جس وقت آپ ﷺ نے وہ فرمایا ہوگا اس وقت بلکہ اس کے کئی صدی بعد تک بھی حالات ایسے رہے کہ بظاہر دور دور تک اس کا امکان بھی نظر نہیں آتا تھا کہ کبھی آپ صلی للہ علیہ وسلم کے امت کا ایسا حال بھی ہوگا اور وہ دشمن قوموں کے مقابلہ میں ایسی کمزور اور بے جان ہو جائے گی اور ان کے لیے نرم نوالہ بن جائے گی لیکن آپ ﷺ نے جو فرمایا تھا وہ واقع ہو کر رہا اور بار بار وقوع میں آیا اور آج بھی اس کے مظاہرے آنکھوں کے سامنے ہیں اور اس انقلاب حال اور انحطاط و زوال کا بنیادی سبب جیساکہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا یہی ہے کہ اس دنیا اور یہاں کی زندگی سے ہم کو عشق ہو گیا اور موت (راہ خدا کی موت بھی) ہمارے لیے کڑوا گھونٹ بن گئی خدا کی قسم بلاشبہ ہماری اس حالت نے ہم کو دشمنوں کے لیے تر نوالہ بنا دیا ہے جیسا کہ اوپر عرض کیا جاچکا ہے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی صرف پیشن گوئی نہیں ہے بلکہ امت کو آگاہی ہے کہ “وہن” (یعنی حب دنیا اور کراہیت موت) کی بیماری سے قلوب کی حفاظت کی جائے۔

1942Maarif-ul-Hadith

دولت تعیش اور حب دنیا کا فتنہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ خِيَارَكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ سُمَحَاءَكُمْ وَأُمُورُكُمْ شُورَى بَيْنَكُمْ فَظَهْرُ الأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ بَطْنِهَا وَإِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ شِرَارَكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ بُخَلاَءَكُمْ وَأُمُورُكُمْ إِلَى نِسَائِكُمْ فَبَطْنُ الأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ ظَهْرِهَا. (رواه الترمذى)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب (حالت یہ ہو کہ) تمہارے حکمران تم میں کے نیک لوگ ہیں اور تم میں کے دولت مندوں میں سماحت و سخاوت کی صفت اور تمہارے معاملات باہم مشورہ سے طے ہوتے ہیں تو (ایسی حالت میں) زمین کی پشت تمارے لیے اس کے بطن (پیٹ) سے بہتر ہے اور (اس کے برعکس) جب حالت یہ ہو کہ تمہارے حکمران تم میں کے بدترین لوگ ھوں اور تمہارے دولت مندوں میں (سماحت کے بجائے) بخل اور دولت پرستی آجائے اور تمہارے معاملات (بجائے اہل الرائے کی مشاورت کے) تمہاری عورتوں کی رایوں سے چلے تو (ایسی حالت میں) زمین کا بطن (پیٹ) تمہارے لئے اس کی پشت سے بہتر ہے۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ ﷺ پر منکشف کیا گیا تھا کہ امت کا حال ایک زمانے تک یہ رہے گا کہ ان کے حکمران اور عمال حکومت نیک اور اچھے لوگ ہونگے اور ان میں کے دولت مندوں میں سماحت کی صفت ہوگی یعنی وہ اللہ تعالی کی عطا فرمائی ہوئی دولت کو اخلاص و خوش دلی سے اچھے مصارف میں صرف کریں گے ان کے معاملات خاص کر حکومتی اور اجتماعی معاملات باہمی مشورے سے ہوا کریں گے (یہ تین حالتیں اس بات کی علامت ہیں کہ امت کا اجتماعی حال اور مزاج اللہ و رسول کے احکام اور مرضیات کے مطابق ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ امت کے لئے یہ زمانہ خیریت کا ہوگا اور اس دور کے یہ اہل ایمان اس کے مستحق ہونگے کہ اس دنیا میں اور اس زمین کی پشت پر رہیں خیر امت ہونے کی حیثیت سے دنیا کی ہدایت و قیادت کی ذمہ داری سنبھالیں اسی کے ساتھ آپ پر منکشف کیا گیا تھا کہ پھر ایک زمانہ آئے گا کہ امت کا حال اس کے بالکل برعکس ہو جائے گا۔ حکومت کی باگ اور سارا حکومتی نظام بدترین لوگوں کے ہاتھوں میں آ جائے گا اور مسلمانوں میں کے دولت مند لوگ سماحت و سخاوت کے بجائے دولت کے پجاری ہوجائیں گے اور اہم معاملات بجائے اسکے کے اہل الرائے کے باہمی مشورے سے طے کئے جائیں گھروالوں کی خواہشات اور ان کی رائے کے مطابق طے کیے جانے لگے رسول اللہ ﷺ نے شروفساد کے اس زمانے کے بارے میں فرمایا کہ اس وقت یہ بگڑی ہوئی امت زمین کے اوپر چلنے اور رہنے بسنے سے زیادہ اس کے مستحق ہو گی کہ ختم ہو کر زمین کے پیٹ میں چلی جائے اور اس میں دفن ہوئے۔ جیسا کہ بار بار عرض کیا گیا یہ حدیث شریف بھی صرف ایک پیشن گوئی نہیں ہے بلکہ اس میں امت کو بڑی سخت آگاہی ہے کہ میری امت کو اللہ تعالی کی اس زمین پر رہنے اور چلنے پھرنے کا حق اس وقت تک ہے جب تک اس میں “خیر امت” والی ایمانی صفت رہیں لیکن جب وہ ان صفات سے محروم ہوجائے اور اسکی زندگی میں شر و فساد آ جائے تو وہ اس کی مستحق ہوگی کی ختم ہو کر زمین میں دفن ہو جائے۔

1943Maarif-ul-Hadith

امت میں پیدا ہونے والے فتنوں کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا. (رواه مسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جلدی کر لو اعمال صالحہ ان فتنوں کے آنے سے پہلے جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح پے بہ پے آئینگے (حال یہ ہو گا کہ) صبح کرےگا آدمی اس حال میں کہ اس میں ایمان ہوگا اور شام کرے گا اس حال میں کہ وہ ایمان سے محروم ہو چکا ہوگا اور شام کو وہ میں مومن ہوگا اور اگلی صبح وہ مومن نہ رہے گا کافر ہوجائے گا دنیا کی متاع قلیل کے بدلے وہ اپنا دین و ایمان بیچ ڈالے گا۔ (صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ پر منکشف کیا گیا تھا کہ آپ کی امت پر ایسے حالات بھی آئیں گے کہ رات کے اندھیرے کی طرح نوع بہ نوع فتنے لگاتار برپا ہوں گے ان کی وجہ سے ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی صبح کو اس حال میں اٹھے گا کہ اپنے عقیدے اور عمل کے لحاظ سے اچھا خاصا مومن و مسلم ہوگا لیکن شام ہوتے ہوتے وہ کسی گمراہی یا بدعملی میں مبتلا ہوکر اپنا دین ایمان برباد کر دے گا۔ یہ فتنے گمراہانہ تحریکوں اور دعوتوں کی شکل میں بھی آ سکتے ہیں اور آتے رہے ہیں اور مال و دولت یا اقتدار کی ہوس اور دوسری نفسانی خواہشات کی شکل میں بھی، حدیث کا آخری جملہ “يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا” (دنیا کی قلیل متاع کے بدلے اپنا دین ایمان بیچ ڈالے گا) اس بات کا واضح قرینہ ہیں کہ حدیث کا مطلب یہی نہیں ہے کہ آدمی ڈینہ اسلام کا منکر ہو کر ملت سے خارج اور ٹھیٹ کافر ہو جائے گا بلکہ اس میں وہ سب صورتیں داخل ہیں جن میں آدمی دنیا کے لیے (جس میں مال و دولت اور اقتدار کی ہوس اور ہر طرح کی نفسانی اغراض شامل ہیں) دین کو یعنی اللہ و رسول کے احکام کو نظر انداز کر دے اس طرح دنیا کی طلب میں آخرت فراموشی اور ہر قسم کا فسق وفجور بھی اس میں شامل ہے جو عملی کفر ہے جیسے کہ بار بار عرض کیا جاچکا ہے رسول اللہ ﷺ کے اس طرح کے ارشادات کے مخاطب اگرچہ بظاہر صحابہ کرام ہی ہوتے تھے لیکن فی الحقیقت ان کے مخاطب ہر دور کے آپ ﷺ کے امتی ہیں اور آپ ﷺ کے اس پیام اور وصیت کا حاصل یہ ہے کہ ہر مومن آنے والے ایمان کش فتنوں سے ہوشیار رہے اور اعمال صالحہ کے اہتمام میں سبقت اور جلدی کرے ایسا نہ ہو کہ کسی فتنہ میں مبتلا ہو جائے اور پھر اعمال خیر کی توفیق ہی نہ ہو۔ نیز اگر اعمال صالحہ کرتا رہے گا تو وہ اس کا مستحق ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ایسے فتنوں سے اس کی حفاظت فرمائے۔

1944Maarif-ul-Hadith

امت میں پیدا ہونے والے فتنوں کا بیان

عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ قَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ وَلَمَنِ ابْتُلِيَ فَصَبَرَ فَوَاهًا. (رواه ابوداؤد)

حضرت مقداد بن اسود ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا آپ فرما رہے تھے کہ یقینا وہ بندہ نیک بخت اور خوش نصیب ہے جو فتنوں سے محفوظ رکھا گیا وہ بندہ نیک بخت و خوش نصیب ہیں جو فتنوں سے دور رکھا گیا وہ بندہ نیک بخت اور خوش نصیب ہیں جو فتنوں سے الگ رکھا گیا اور جو بندہ مبتلا ہوگیا اور وہ صابر اور ثابت قدم رہا تو (اس کا کیا کہنا) اس کو شاباش اور مبارکباد۔ (سنن ابی داود) تشریح رسول اللہ ﷺ کا طریقہ تھا کہ کسی بات کی اہمیت سامعین اور مخاطبین کے ذہن نشین فرمانا چاہتے تو اس کو مقرر سہ کرر ارشاد فرماتے اس حدیث میں آپ ﷺ نے تین بار یہ جملہ ارشاد فرمایا “إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ” (وہ بندہ خوش نصیب ہے جو فتنوں سے دور اور الگ رکھا جائے) یہ بات آپ ﷺ نے بار بار غالبا اس لیے ارشاد فرمائی کہ کسی بندہ کا فتنوں سے محفوظ رہنا فی الحقیقت اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے لیکن یہ نعمت چونکہ نظر نہیں آتی اس لیے بہت سے بندوں کو اس کا احساس اور شعور بھی نہیں ہوتا اس وجہ سے نہ ان کے دل میں اس نعمت کی قدر ہوتی ہے نہ اس پر شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے رسول اللہ ﷺ نے یہ بات تین دفعہ ارشاد فرما کر اس نعمت کی اہمیت و عظمت ذہن نشین کرنے کی کوشش فرمائی۔ آخر میں فرمایا کہ اور جو بندہ تقدیر الہی سے فتنوں میں مبتلا کیا گیا اور اس نے اپنے کو تھاما یعنی وہ دین پر اور اللہ و رسول کی وفاداری پر صابر و ثابت قدم رہا تو اس کو شاباش اور مبارکباد اس کا کیا کہنا وہ بڑا ہی خوش نصیب ہے حدیث کے آخری جملے “وَلَمَنِ ابْتُلِيَ فَصَبَرَ فَوَاهًا” کا مطلب شارحین نے اور بھی بیان کیا ہے اس عاجز کے نزدیک وہی راجح ہے جو یہاں لکھا گیا ہے۔ والعلم عند الله

1945Maarif-ul-Hadith

امت میں پیدا ہونے والے فتنوں کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيُلْقَى الشُّحُّ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ. قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ: الْقَتْلُ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ (وقت آئے گا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ زمانہ قریب قریب ہو جائے گا اور علم اٹھا لیا جائے گا اور فتنے نمودار ہوں گے اور (انسانی طبیعتوں اور دلوں میں) بخل ڈال دیا جائے گا اور بہت ہوگا ہرج صحابہ نے عرض کیا کہ ہرج کا کیا مطلب؟ آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا (اس کا مطلب ہے) کشت و خون۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے امت میں پیدا ہونے والے چند فتنوں کے بارے میں آگاہی بھی ہے اس سلسلے میں سب سے پہلی بات آپ ﷺ نے ان الفاظ میں ارشاد فرمائی “يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ” شارحین نے اس کے متعدد مطلب بیان کئے ہیں اس عاجز کے نزدیک ان میں قریب الفہم یہ ہے کہ وقت میں برکت نہ رہے گی جلدی جلدی گزرے گا جو کام ایک دن میں ہونا چاہیے وہ کئی دن میں ہوسکے گا راقم سطور کا تو یہ ذاتی تجربہ بھی ہے۔ واللہ اعلم۔ دوسری بات آپ ﷺ نے ارشاد فرمائی کہ علم اٹھا لیا جائے گا مطلب یہ ہے کہ علم جو نبوت کی میراث ہے وہ اٹھا لیا جائے گا ایک دوسری حدیث میں اس کی وضاحت اس طرح فرمائی گئی ہے کہ علمائے ربانی (تو اس علم کے وارث و امین ہیں) اٹھا لیے جائیں گے (چاہے کتب خانے باقی رہی اور پیشہ ور عالموں سے ہماری بستیاں بھری رہیں) حقیقت یہ ہے کہ علم جو نبوت کی میراث ہے اور جو ہدایت اور نور ہے وہ وہی ہے جس کے حامل اور امین علمائے ربانی ہیں جب وہ باقی نہیں رہیں گے اور اٹھا لیے جائیں گے تو علم اور نور بھی ان کے ساتھ اٹھ جائے گا تیسری بات آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اور طرح طرح کے فتنے نمودار ہوں گے یہ بات کسی توضیح و تشریح کی محتاج نہیں چوتھی بات آپ ﷺ نے ان الفاظ میں ارشاد فرمائی “وَيُلْقَى الشُّحُّ” مطلب یہ ہے کہ سخاوت و فیاضی اور ایثار جو صفات محمودہ ہیں وہ لوگوں میں سے نکل جائیں گے اور ان کے بجائے ان کی طبیعت میں بخل جو ایک منحوس رذیلہ ہے ڈال دیا جائے گا آخری بات آپ ﷺ نے ارشاد فرمائی کہ کشت و خون کی گرم بازاری ہوگی جو دنیا کے لحاظ سے بھی افراد اور امتوں کے لیے تباہ کن ہے اور آخر کے لحاظ سے بھی گناہ عظیم ...... اللہ تعالی ان سب فتنوں سے محفوظ فرمائے۔

1946Maarif-ul-Hadith

امت میں پیدا ہونے والے فتنوں کا بیان

عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَهِجْرَةٍ إِلَيَّ. (رواه مسلم)

حضرت معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کشت و خون کے زمانے میں عبادت میں مشغول ہو جانا ایسا ہے جیسا کہ ہجرت کرکے میری طرف آ جانا۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب ناحق کشت و خون کی گرم بازاری ہو تو مومن کو چاہیے کہ اپنا دامن بچا کے اور یکسو ہو کے اللہ کی عبادت میں مشغول ہوجائے۔ اس کا یہ عمل اللہ تعالی کی نگاہ میں ایسا ہوگا جیسا کہ اپنا ایمان بچانے کے لیے دارالکفر سے ہجرت کرکے میری طرف آ جانا۔

1947Maarif-ul-Hadith

امت میں پیدا ہونے والے فتنوں کا بیان

عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ فَقَالَ: اصْبِرُوا، فَإِنَّهُ لاَ يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلاَّ الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ، حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ. سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواه البخارى)

زبیر بن عدی تابعی سے روایت ہے کہ ہم حضرت انس بن مالک ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے حجاج کی طرف سے ہونے والے مظالم کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا کہ (ان مظالم اور مصائب پر) صبر کرو اور یقین کرو گے جو زمانہ بھی تم پر آئے گا اس کے بعد کہ زمانہ اس سے بد تر ہی ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب کے حضور میں حاضر ہو جاؤ گے یہ بات میں نے سنی ہے تمھارے نبی ﷺ سے۔ (صحیح بخاری) تشریح اس سلسلہ معارف الحدیث میں یہ بات ذکر کی جاچکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرامؓ میں آپ ﷺ کے خادم حضرت انس بن مالک ؓ کو اللہ تعالی نے بہت طویل عمر عطا فرمائی وہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد قریبا اسی 80سال حیات رہے بصرہ میں قیام رہا۔ حضرت معاویہ ؓٗ کے بعد بنی امیہ کا جو دور ہے اس میں حجاج ثقفی کا ظلم اور اس کی سفاکی ضرب المثل ہے۔ زبیر بن عدی تابعی ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت انس بن مالکؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے حجاج کے مظالم کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا جو کچھ ہو رہا ہے اس کا مقابلہ صبر و تحمل سے کرو آگے اس سے بھی زیادہ برا زمانہ آنے والا ہے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ بعد میں آنے والا زمانہ پہلے سے بدتر ہی ہوگا۔ اس پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ حجاج کے بعد تو حضرت عمر بن عبدالعزیز کا دور بھی آیا ان کے بعد بھی مختلف زمانوں میں اچھے اچھے عادل و سلاطین اور حکمراں ہوئے ہیں پھر حضور ﷺ کے اس ارشاد کی کیا توجیہ ہو گی کے بعد کا ہر زمانہ پہلے سے بدترین ہوگا؟ واقعہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کے ارشاد کا تعلق صرف حکومت اور ارباب حکومت سے نہیں ہے بلکہ عام امت کے عمومی احوال کے لحاظ سے آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بعد کا زمانہ پہلے سے بدتر ہی ہوگا ...... اور اس میں کوئی شبہ نہیں مشاہدہ ہے ..... حجاج بلاشبہ ویسا ہی تھا جیسا کہ اس پر سمجھا جاتا ہے، اس کے علاوہ حکمران طبقہ میں اور بھی لوگ تھے جن میں شروفساد تھا لیکن امت میں اس وقت اچھی خاصی تعداد صحابہ کرامؓ کی موجود تھی اکابر تابعین جو امت میں صحابہ کرامؓ کے بعد سب سے افضل ہیں بڑی تعداد میں تھے عام مومنین میں بھی صلاح وتقوی تھا بعد کا ہر دور مجموعی لحاظ سے اس کے مقابلے میں یقینا بدتر ہی رہا اور تاریخ شاھد ہے کہ ماضی اور مستقبل میں یہی تناسب رہا ہے .....اور اپنی زندگی میں تو آنکھوں سے دیکھا جا رہا ہے اللہ تعالی فتنوں سے ہمارے ایمانوں کی حفاظت فرمائے۔

1948Maarif-ul-Hadith

امت میں پیدا ہونے والے فتنوں کا بیان

عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ ثُمَّ يَكُوْنُ مُلْكًا ثُمَّ يَقُوْلُ سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ سَنَتَيْنِ، وَخِلَافَةَ عُمَرَ عَشْرَةً، وَعُثْمَانَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ، وَعَلِيٍّ ستة. (رواه احمد والترمذى وابوداؤد)

ضرت سفینہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ خلافت بس تیس (30) سال تک ہے اس کے بعد ہوجائیگی بادشاہت پھر کہتے ہیں سفینہ شمار کرو خلافت ابوبکر کی دو سال، اور خلافت عمر کی دس سال، اور عثمان کی بارہ سال، اور علی کی چھ سال۔ (مسند احمد جامع ترمذی سنن ابی داود) تشریح حضرت سفینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے آزاد کردہ غلام ہیں انھوں نے حضور ﷺ کا جو ارشاد نقل فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ خلافت یعنی ٹھیک ٹھیک میرے طریقہ پر اور اللہ تعالی کے پسندیدہ طریقہ پر میری نیابت میں دین کی دعوت و خدمت اور نظام حکومت کا کام (جس کا مختصر معروف عنوان “خلافت راشدہ” ہے) بس تیس سال تک چلے گا اس کے بعد نظام حکومت بادشاہت میں تبدیل ہوجائے گا اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ پر یہ حقیقت منکشف فرما دی تھی آپ ﷺ نے مختلف موقعوں پر اس کا اظہار فرمایا اور امت کو اس کے بارے میں آگاہی دی مختلف صحابہ کرامؓ سے اس سلسلہ کے آپ ﷺ کے ارشادات مروی ہیں۔ حضرت سفینہ ؓٗ نے حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل فرمانے کے ساتھ اس کا حساب بھی بتلایا لیکن اس کو تقریبی یعنی موٹا حساب سمجھنا چاہیے تحقیقی حساب یہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓ کی خلافت کی مدت دو سال چار مہینے ہے۔ اس کے بعد حضرت فاروق اعظم ؓ کی مدت خلافت دس سال چھ ماہ ہیں۔ اس کے بعد حضرت ذوالنورین کی خلافت کی مدت چند دن کم بارہ سال ہیں۔ اس کے بعد حضرت علی مرتضیٰؓ کی خلافت کی مدت چار سال نو مہینے ہیں۔ ان کی میزان 29 سال 7 مہینے ہوتی ہے اس کے ساتھ سیدنا حضرت حسنؓ کی خلافت کی مدت قریبا پانچ ماہ جوڑ لی جائے تو پورے تیس سال ہو جاتے ہیں۔ یہی تیس (30) سال خلافت راشدہ کے ہیں اس کے بعد جیسا کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا نظام حکومت بادشاہت میں تبدیل ہوگیا اس طرح کی رسول اللہ ﷺ کی پیشن گوئیاں آپ ﷺ کی نبوت کی کھلی دلیلیں بھی ہیں اور ان میں امت کو آگاہی بھی ہیں۔

1949Maarif-ul-Hadith

امت میں پیدا ہونے والے فتنوں کا بیان

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا مَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلاَّ حَدَّثَ بِهِ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلاَءِ وَإِنَّهُ لَيَكُونُ مِنْهُ الشَّيْءُ قَدْ نَسِيتُهُ فَأَرَاهُ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ ثُمَّ إِذَا رَآهُ عَرَفَهُ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت حذیفہ ؓٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایک دن وعظ و بیان کیلئے) کھڑے ہوئے اس بیان میں آپ ﷺ نے نہیں چھوڑی کوئی چیز جو ہو گی قیامت تک، مگر آپ ﷺ نے اسکو بیان فرمایا، اس کو یاد رکھا جس نے یاد رکھا، اور اس کو بھول گیا جو بھول گیا، میرے ان ساتھیوں کو بھی اس کا علم ہے، اور واقعہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کے اس بیان کی کوئی چیز میں بھولے ہوئے ہوتا ہوں پھر اس کو (ہوتا ہوا) دیکھتا ہوں تو وہ مجھے یاد آ جاتی ہے، جس طرح ایک آدمی دوسرے کسی آدمی کے چہرے کو بھول جاتا ہے جب وہ اس سے غائب ہو جائے، پھر جب اس کو دیکھتا ہے تو پہچان لیتا ہے (اور بھولا ہوا چہرہ یاد آ جاتا ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت حذیفہ کے علاوہ دوسرے متعدد صحابہ کرامؓ سے بھی یہ مضمون روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن بہت طویل بیان فرمایا جس میں آپ ﷺ نے قیامت تک ہونے والے واقعات و حوادث کا ذکر فرمایا، ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ ایسے غیر معمولی حوادث و واقعات اور ایسے اہم فتنوں کا ذکر فرمایا جن کے بارے میں امت کو آگاہی دینا آپ ﷺ نے ضروری سمجھا، یہی آپ ﷺ کے منصب نبوت کا تقاضا اور آپ ﷺ کے شایان شان تھا، لیکن وہ لوگ جن کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ابتدائے آفرینش عالم سے قیامت تک زمین و آسمان کی ساری کائنات اور تمام مخلوقات کا، ذرے ذرے اور پتے پتے کا علم کلی محیط حاصل تھا ..... وہ حضرت حذیفہ کی اس حدیث اور اس مضمون کی دوسری حدیثوں سے بھی استدلال کرتے ہیں ..... ان کے نزدیک ان حدیثوں کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے اس بیان میں ان کی اصطلاح کے مطابق تمام “ما کان وما یکون” بیان فرمایا تھا یعنی روئے زمین کے سارے ملکوں، ہندوستان، ایران، افغانستان، چین، جاپان، امیریکہ، افریقہ، انگلینڈ، فرانس، ترکی، روس وغیرہ وغیرہ دنیا کے تمام ملکوں میں قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں، حیوانوں، چرندوں، پرندوں، چونٹیوں، مکھیوں، مچھروں، کیڑے مکوڑوں اور سمندر میں پیدا ہونے والی مخلوقات کے سبھی تمام حالات آپ ﷺ نے بیان فرمائے تھے کہ یہ سب بھی “ماکان ومایکون” میں شامل ہے اسی طرح مختلف ملکوں کے ریڈیو سے مختلف زبانوں میں جو خبریں اور جو گانابجانا نشر ہوتا ہے اور مختلف ملکوں کے ہزاروں اخبارات میں مختلف زبانوں میں جوکچھ چھپتا رہا ہے اور چھپتا ہے اور قیامت تک چھپے گا وہ سب بھی آپ ﷺ نے مسجد نبوی کے خطبہ میں صحابہ کرام کوبتلایا تھا کیونکہ یہ سب بھی “ماکان ومایکون” میں داخل ہے۔ جس آدمی کو اللہ نے ذرا برابر بھی عقل دی ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ حدیث کا یہ مطلب بیان کرنا اور ایسا دعویٰ کرنا اس قدر جاہلانا اور احمقانہ بات ہے۔ اس کے علاوہ اس سلسلہ میں یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ میں ان لوگوں کے دعوے کے مطابق تمام “ما کان وما یکون” اور ہر طرح کے جزوی حوادث و واقعات بیان فرمائے تھے تو اس کا تو ضرور ہی ذکر فرمایا ہوگا کہ میرے بعد پہلے خلیفہ ابو بکر ہونگے اور ان کے زمانہ خلافت میں یہ یہ ہو گا ان کے بعد دوسرے خلیفہ عمر بن الخطاب اور ان کے بعد تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان ہونگے اور انکے دور میں اور اس کے بعد یہ یہ واقعات پیش آئیں گے تو اگر حضور ﷺ نے خطبہ میں “جمیع ما کان وما یکون” اور اس سلسلہ میں یہ سبھی بیان فرمادیا تھا تو حضور صلی اللّہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد انتخاب خلیفہ کے سلسلہ میں کسی غوروفکر اور کسی مشاورت کی ضرورت نہ ہوتی اور سقیفہ بنی ساعدہ میں جو کچھ ہوا کچھ بھی نہ ہوتا ہر شخص کو یاد ہوتا کہ حضور ﷺ نے چند ہی روز پہلے تو فرمایا تھا کہ میرے بعد خلیفہ ابو بکر ؓ ہوں گے .... اسی طرح حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد انتخاب خلیفہ کے سلسلہ میں کسی غور و فکر اور کسی مشاورت کی ضرورت نہ ہوتی، خود حضرت عمرؓ کو اور ان چھٹوں حضرات کو جن کے سپرد آپ ﷺ نے انتخاب خلیفہ کا مسئلہ فرمایا تھا، ضرور یاد ہوتا کہ حضور ﷺ نے بتلا دیا تھا کہ عمرؓ بن الخطاب کے بعد میرے تیسرے خلیفہ عثمانؓ بن عفان ہوں گے ..... یہ سب حضرات اس وقت امت میں سے سے افضل سابقین اولین اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ نے اس خطہ میں بیان تو یہ سب کچھ فرما دیا تھا، لیکن یہ سب اس کو بھول گئے .... تو دین کی کوئی بات بھی قابل اعتبار نہیں رہتی ..... امت کو سارا دین صحابہ کرامؓ ہی کے ذریعہ اور انہی کی نقل و روایت سے ملا ہے، جب ان کے درجہ اول کے حضرات، سابقین اولین اور عشرہ مبشرہ کے بارے میں یہ مان لیا جائے کہ خود ان ہی سے متعلق حضور ﷺ کی فرمائی ہوئی اتنی اہم باتوں کو بھول گئے اور کسی ایک کو بھی حضور ﷺ کا وہ بیان یاد نہیں رہا، تو ان کی نقل و روایت پر قطعاً اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ حدیث کے کسی راوی کے متعلق بھی ثابت ہو جائے کہ وہ ایسا بھولنے والا تھا تو محدثین اس کی کسی بھی روایت کا اعتبار نہیں کرتے وہ روایت میں ساقط الاعتبار اور ناقابل اعتماد قرار دے دیا جاتا ہے۔ بہرحال حضرت حذیفہ کی اس حدیث اور اس مضمون کی دوسری حدیثوں کی بنا پر ان لوگوں کا یہ دعویٰ کہ حضور ﷺ نے مسجد نبوی کے اپنے اس بیان اور خطبہ میں ان کی اصطلاح کے مطابق “جمیع ما کان وما یکون” بیان فرمایا تھا، مذکورہ بالا وجوہ سے انتہائی احمقانہ اور جاہلانہ دعویٰ ہے ..... ان سب حدیثوں کا مطلب و مفاد صرف یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس بیان اور خطبہ میں قیامت تک واقع ہونے والے ان غیر معمولی واقعات و حوادث اور ان اہم فتنوں کا بیان فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر منکشف فرمائے تھے اور ان کے بارے میں امت کو آگاہی دینا آپ ﷺ نے ضروری سمجھا .... یہی منصب نبوت کا تقاضا اور آپ ﷺ کے شایان شان ہے۔

1950Maarif-ul-Hadith

علامات قیامت: قیامت کی عمومی نشانیاں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: «إِذَا ضُيِّعَتِ الأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ»، قَالَ: كَيْفَ إِضَاعَتُهَا؟ قَالَ: «إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ» (رواه البخارى)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہیں کہ اس اثناءمیں کے رسول اللہ ﷺ بیان فرما رہے تھے ایک اعرابی (بدوی) آیا اور اس نے آپ ﷺ سے پوچھا کے قیامت کب آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب (وہ وقت آ جائے گے) امانت ضائع کی جانے لگے تو اس وقت قیامت کا انتظار کرو اس اعرابی نے عرض کیا کہ امانت کیسے ضائع کی جائے گی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب معاملات نااہلوں کے سپرد کئے جانے لگیں تو انتظار کرو قیامت کا۔ (صحیح بخاری) تشریح رسول اللہ ﷺ نے جس طرح امت میں پیدا ہونے والے فتنوں کی اطلاع دی ہے اسی طرح کچھ چیزوں کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت سے پہلے ان کا ظہور ہوگا ان میں سے کچھ بہت غیر معمولی قسم کی ہیں جو بظاہر اس عام قانون قدرت کے خلاف ہیں جن پر اس دنیا کا نظام چل رہا ھے جیسے سورج کا مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہونا اور دابۃ الارض کا خروج اور دجال کا ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول وغیرہ ان غیر معمولی علامات کا ظہور اس وقت ہوگا جب کہ ہم بہت قریب ہوگی یہ چیزیں گویا قیامت کا پیش خیمہ اور اس کی تمہید ہوں گی۔ ان کو قیامت کی علامات خاصہ اور علامات کو کبری بھی کہا جاسکتا ہے ان کی علاوہ آنحضرت ﷺ نے قیامت سے پہلے کچھ ایسی چیزیں ایسے واقعات اور ایسے تغیرات کے ظہور کی اطلاع دی ہے جو اس طرح کی غیر معمولی تو نہیں ہیں لیکن خود آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک اور زمانہ خیرالقرون کے لحاظ سے مستبعد اور غیر معمولی ہیں اور امت میں ان کا ظہور شر و فساد کی علامت ہے انکو قیامت کی عمومی علامات کہاجا سکتا ہے ذیل میں پہلے رسول اللہ ﷺ کے وہ ارشادات پیش کئے جارہے ہیں جن میں آپ نے دوسری قسم کی چیزوں کا یعنی قیامت کی عمومی علامات کا ذکر فرمایا ہے پہلی قسم یعنی علامات کبری سے متعلق حدیثیں بعد میں پیش کی جائینگی۔ تشریح ..... ہماری اردو زبان میں امانت کا مفہوم بہت محدود ہے لیکن قرآن وحدیث کی زبان میں اس کا مفہوم بہت وسیع ہے اور اپنے اندر عظمت اور اہمیت بھی لیے ہوئے ہیں ہر عظیم اور اہم ذمہ داری کو امانت سے تعبیر کیا جاتا ہے امانت کے مفہوم کی وسعت اور عظمت کو سمجھنے کے لئے آخر سورہ احزاب کی آیت “إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ ..... الاية” پر غور کر لیا جائے۔ حضرت ابوہریرہ ؓٗ کی اس حدیث میں امانت کے ضائع کیے جانے کی وضاحت خود رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے کہ ذمہ داریاں ایسے لوگوں کو سپرد کی جائیں جو ان کے اہل نہ ہوں اس میں درجہ بدرجہ ہر طرح کی ذمہ داری شامل ہے حکومت حکومتی مناصب اور عہدے حکومتی اختیارات اسی طرح دینی قیادت و امانت افتاء و قضاء اوقاف کی تولیت اور انکے انتظام وغیرہ کی ذمہ داری اس طرح کی جو بھی بڑی یا چھوٹی ذمہ داری نااہلوں کے سپرد کی جائے گی تو یہ امانت کی اضاعت اور اجتماعی زندگی کی شدید معصیت ہے جس کو رسول اللہ ﷺ نے قرب قیامت کی نشانی بتلایا ہے۔ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کا جو ارشاد ہے اگرچہ وہ ایک اعرابی سائل کے جواب میں ہے لیکن عام امتیوں کے لئے اس کا یہ پیغام اور سبق ہے کہ امانت کی حفاظت کی اہمیت کو محسوس کرو اس کا حق ادا کرو ہر درجہ کی ہر نوع کی ذمہ داریاں ان افراد کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں اس کے خلاف کرو گے تو امانت کی اضاعت کے مجرم ہو گے اور خدا کے سامنے اس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔

1951Maarif-ul-Hadith

قیامت کی عمومی نشانیاں

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ فَاحْذَرُوهُمْ. (رواه مسلم)

حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا قیامت سے پہلے کچھ کذاب لوگ ہوں گے تم کو چاہیے کہ ان سے پرہیز کرو۔ (صحیح مسلم) تشریح “کذابین” سے یہاں مراد وہ لوگ ہیں جن کا جھوٹ غیر معمولی قسم کا ہو اور اسکا تعلق دین سے ہو جیسے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے اور جھوٹی حدیثیں گھڑنے والے اور جھوٹے قصے گھڑ کے اپنی بدعات و خرافات ہو رواج دینے والے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد قیامت سے پہلے ایسے لوگ ہوں گے اور تم کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے میرے امتیوں کو چاہیے کے ان سے ہوشیار اور دور ہیں اور ان کے جال میں نہ پھنسیں جیساکہ معلوم ہے عہد نبوی سے اب تک سینکڑوں مدعیان نبوت بھی پیدا ہوئے جن میں سب سے پہلا یمامہ کا مسیلمہ کذاب تھا اور ہماری معلومات کے لحاظ سے آخری غلام احمد قادیانی، جاری اس طرح مہدویت کہ مدعی بھی پیدا ہوتے رہے اور بہت سی گمراہ کن دعوتوں کے داعی اور قائد بھی یہ سب ان کذابین میں شامل ہیں جن کی اطلاع رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں دی ہے اور ان سے دور رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔

1952Maarif-ul-Hadith

قیامت کی عمومی نشانیاں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اتُّخِذَ الْفَيْءُ دُوَلاً وَالأَمَانَةُ مَغْنَمًا وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا وَتُعُلِّمَ لِغَيْرِ الدِّينِ وَأَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ وَأَدْنَى صَدِيقَهُ وَأَقْصَى أَبَاهُ وَظَهَرَتِ الأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ وَسَادَ الْقَبِيلَةَ فَاسِقُهُمْ وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهِ وَظَهَرَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَوَّلَهَا فَلْيَرْتَقِبُوا عِنْدَ ذَلِكَ رِيحًا حَمْرَاءَ وَزَلْزَلَةً وَخَسْفًا وَمَسْخًا وَقَذْفًا وَآيَاتٍ تَتَابَعُ كَنِظَامٍ بَالٍ قُطِعَ سِلْكُهُ فَتَتَابَعَ. (رواه الترمذى)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب غنیمت کو بنایا جانے لگے ذاتی دولت اور امانت کو مال غنیمت اور زکوٰۃ کو تاوان اور علم حاصل کیا جانے لگے دین کے علاوہ (دنیوی) دوسری اغراض کیلئے اور لوگ فرمابرداری کریں اپنی بیوی کی اور نافرمانی کریں اپنی ماں کی اور اپنے سے لگائیں دوستوں کو اور دور کریں باپ کو اور بلند ہو آوازیں مسجدوں میں اور قبیلہ کی سرداری کرے ان میں کا فسق اور قوم کا لیڈر ایسا شخص ہو جو ان میں سب سے کمینہ ہوں اور جب کسی آدمی کا اکرام کیا جائے اس کے شر کے ڈر سے اور (پیشہ ور) گانے والیاں اور باجے گاجے عام ہوں اور شرابیں پی جائیں اور امت کے بعد والے اس کے اگلوں پر لعنت کریں تو اس وقت انتظار کرو سرخ آندھیوں کا اور زلزلوں کا اور زمین میں دھنسائے جانے کا اور صورتیں مسخ کئے جانے کا اور پتھر برسنے کا اور (ان کے علاوہ اس طرح کی) اور نشانیوں کا جو پے در پے اس طرح آئینگی جس طرح ایک ہار ہو کاٹ دیا گیا ہو اس کا دھاگا تو پے در پے گریں اس کے دانے۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی قیامت سے پہلے پیدا ہونے والی پندرہ خرابیوں کا ذکر فرمایا ہے پہلی یہ کہ مال غنیمت جو دراصل مجاہدین اور غازیوں کا حق ہے اور جس میں فقراء و مساکین کا بھی حصہ ہے ارباب اختیار اس میں ذاتی دولت کی طرح تصرف کرنے لگیں گے دوسری یہ کہ لوگ حکومت کو زکوة خوش دلی سے ادا نہیں کریں گے بلکہ اس کو ایک طرح کا تاوان سمجھیں گے (1) تیسری یہ کہ علم دین جو دین ہی کے لئے اور اپنی آخرت ہی کے لیے حاصل کیا جانا چاہئے وہ غیر دینی اغراض کے لئے یعنی دنیوی منافع اور مقاصد کے لئے حاصل کیا جانے لگے گا چوتھی اور پانچویں یہ کہ لوگ اپنی بیویوں کی تابعداری اور نازبرداری کریں گے اور ماؤں کے ساتھ ان کا رویہ نافرمانی اور ایذارسانی کا ہوگا اور چھٹی اور ساتویں یہ کہ یار دوستوں کو گلے لگایا جائے گا اور باب دھتکارہ جائے گا اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی جائے گی آٹھویں یہ کہ مسجد جو خانہ خدا ہیں اور از راہ ادب ان میں بلا ضرورت زور سے بولنا منع ہے ان کا ادب و احترام نہیں رہے گا ان میں آوازیں بلند ہوں گی اور شوروہنگامہ ہوگا نویں یہ کہ قبیلوں کی سیادت و قیادت فاسقوں فاجروں کے ہاتھ میں آجائے گی دسویں یہ کہ قوم کے ذمہ دار وہ ہوں گے جو ان میں سب سے زیادہ کمینے ہوں گے گیارہویں یہ کہ شریر آدمیوں کی شرارت اور اور شیطنت کے خوف سے ان کا اکرام و اعزاز کیا جائے گا بارہویں اور تیرہویں یہ کہ پیشہ ور گانے والیوں کی اور معازف و مزامیر یعنی باجوں گاجوں کی (اور ان سے دل بہلانے والوں کی) کثرت ہوگی چودھویں یہ کہ شرابیں خوب پی جائیں گی۔ اورپندرہویں یہ کہ امت میں بعد میں آنے والے لوگ امت کے پہلے طبقہ کو اپنی لعنت و بدگوئی کا نشانہ بنائیں گے آخر میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب امت میں یہ خرابیاں پیدا ہو جائیں تو انتظار کرو گے خداوندی قہر ان شکلوں میں آئے سرخ آندھیاں اور شدید زلزلے اور آدمیوں کا زمین میں دھنسایا جانا اور ان کی صورتوں کا مسخ ہوجانا اور اوپر سے پتھروں کا برسنا اور ان کے علاوہ بھی خداوندی قہر وجلال کی نشانیاں جو اس طرح لگاتار اور پے در پے ظاہر ہوں گی جس طرح ہار کا دھاگا ٹوٹ جانے کی وجہ سے اس کے دانے لگاتار گرتے ہیں۔ بظاہر حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ خرابیاں امت میں اور مسلم معاشرے میں بہت عام ہوجائیں گی تو خداوندی قہر و جلال ان شکلوں میں ظاہر ہوگا۔

1953Maarif-ul-Hadith

قیامت کی عمومی نشانیاں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَكَاةِ مَالِهِ فَلاَ يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ وَحَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا. (رواه مسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ (ایسا وقت نہ آجائے کہ) غیرمعمولی بہتات ہو مال کی اور وہ بہا بہا پھرے یہاں تک کہ (حالت یہ ہو جائے کہ) ایک آدمی اپنے مال کی زکوۃ نکالے اور وہ نہ پا سکے کوئی ایسا (فقیر مسکین صاحب حاجت) جو زکوۃ کو اس سے قبول کرے اور ہوجائے عرب کی زمین (جس کا بڑا حصہ آج بے آب و گیاہ ہے) سرسبز چراگاہوں اور نہروں کی شکل میں۔ (صحیح مسلم) تشریح گزشتہ نصف صدی کے اندر اندر عرب ملکوں میں پیٹرول کی دریافت کے بعد جو انقلاب آیا ہے اور دولت کی ریل پیل ہے اور چٹیل میدانوں اور ریگستانوں کو کشت زار اور باغ و بہار میں تبدیل کرنے اور نہریں نکالنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں یقینا یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا مصداق ہیں جس وقت آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا تھا اس وقت اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن اللہ تعالی نے آپ ﷺ پر منکشف فرمایا تھا کہ ایک وقت ایسا انقلاب آئے گا آپ ﷺ نے اس ارشاد میں امت کو اس کی اطلاع دی تھی صحابہ کرام نے صرف سنا تھا اور ہمارے زمانہ میں آنکھوں سے دیکھا جا رہا ہے بلاشبہ حضور ﷺ کی اس طرح کی اطلاعات آپ کا معجزہ اور آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل ہیں۔

1954Maarif-ul-Hadith

قیامت کی عمومی نشانیاں

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ تُضِيءُ أَعْنَاقَ الإِبِلِ بِبُصْرَى. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ (یہ واقعہ نہ ہوجائے کہ) ایک (غیر معمولی قسم کی) آگ اٹھے گی حجاز کی سرزمین سے جو روشن کردی گی شہر بصرہ میں اونٹوں کی گردنوں کو۔ (صحیح بخاری و مسلم) تشریح دنیا میں واقع ہونے والے جو غیر معمولی حوادث اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر منکشف کئے گئے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ایک وقت پر سرزمین حجاز سے ایک انتہائی غیر معمولی قسم کی آگ نمودار ہوگی جو اللہ تعالی کی قدرت کے عجائبات میں سے ہو گی۔ اس کی روشنی ایسی ہوگی کہ سینکڑوں میل دور ملک شام کے شہر بصرہ کے اونٹ اور ان کی گردنیں اس روشنی میں نظر آئیں گی اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ وسلم نے اسی کی اطلاع دی ہے۔ حجاز اس وسیع علاقہ کا نام ہے جس میں مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، جدہ، طائف، رابغ وغیرہ شہر واقع ہیں اور بصرہ ملک شام کا ایک شہر تھا دمشق سے تقریبا تین منزل کی مسافت پر صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے شارحین حافظ ابن حجر علامہ عینی اور امام نووی وغیرہ اکثر شارحین حدیث نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اس پیشن گوئی کا مصداق وہ آگ تھی جو ساتویں صدی ہجری کے وسط میں مدینہ منورہ کے قریب سے نمودار ہونی شروع ہوئی پہلے تین دن شدید زلزلہ کی کیفیت رہی اس کے بعد ایک نہایت وسیع و عریض علاقے میں آگ نمودار ہوئی اس آگ میں بادل کیسی گرج اور کڑک بھی تھی۔ لکھا ہے کہ آگ ایسی تھی کہ معلوم ہوتا تھا کہ آگ کا ایک بہت بڑا شہر ہے وہ جس پہاڑ پر سے گزرتی وہ چور چور ہو جاتا ہے یا پگل جاتا یہ آگ اگرچہ مدینہ منورہ سے فاصلے پر تھی لیکن اس کی روشنی سے مدینہ منورہ کی راتوں میں دن کاسا اجالا رہتا تھا لوگ اس میں وہ سب کام کر سکتے تھے جو دن کے اجالے میں کیے جاتے ہیں اس کی روشنی سینکڑوں میل دور تک پہنچتی تھی یما مہ اور بصرہ تک پہنچتی دیکھی گئی۔ یہ بھی لکھا ہے کہ اس آگ کے عجائبات میں سے یہ بھی تھا کہ وہ پتھروں کو تو جلا کر راکھ کر دیتی تھی لیکن درختوں کو نہیں جلاتی تھی لکھا ہے کہ یہ آگ شروع جمادی الاخریٰ سے اواخر رجب تک قریبا پونے دو مہینے تک رہی لیکن مدینہ منورہ اس سے نہ صرف یہ کہ محفوظ رہا بلکہ ان دنوں میں وہاں نہایت خوشگوار ٹھنڈی ہوائیں چلتی رہیں۔ بلاشبہ یہ آگ اللہ تعالی کی قدرت اور اس کی شان قہر و جلال کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھی آنحضرت ﷺ نے ساڑھے چھ سو برس پہلے اس کی اطلاع دی تھی۔

1955Maarif-ul-Hadith

قیامت کی علامات کبریٰ: آفتاب کا جانب مغرب سے طلوع، دابۃ الارض کا خروج، دجال کا فتنہ، حضرت مہدی کی آمد، حضرت مسیحؑ کا نزول

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ الآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى وَأَيُّهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالأُخْرَى عَلَى إِثْرِهَا قَرِيبًا. (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ قیامت کی نشانیوں سے سب سے پہلے جس کا ظہور ہوگا وہ آفتاب کا طلوع ہونا ہے مغرب کی طرف سے اور لوگوں کے سامنے چاشت کے وقت دابۃ الارض کا برآمد ہونا اور دونوں میں سے جو بھی پہلے ہو دوسری اس کے بعد متصلا ہوگی۔ (صحیح مسلم) تشریح ظاہر ہے کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر اتنا ہی منکشف کیا گیا تھا کہ قیامت کی علامات کبریٰ میں سے سب سے پہلے ان دو غیر معمولی اور خارق عادت واقعات کا ظہور ہوگا ایک یہ کہ آفتاب جو ہمیشہ مشرق سے طلوع ہوتا ہے وہ ایک دن جانب مغرب سے طلوع ہوگا اور دوسرے یہ کہ ایک عجیب و غریب جانور (دابۃ الارض) کا خارق عادت سے ظہور ہوگا اس وقت تک آپ ﷺ پر یہ منکشف نہیں فرمایا گیا تھا کہ ان میں سے کون سا واقعہ پہلے ہوگا اور کون بعد میں اس لئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان میں سے جو بھی پہلے ہو دوسرا اس کے بعد متصلا ہی ہوگا گویا یہ دونوں واقعے ساتھ ساتھ ہوں گے۔ “دابۃ الارض” کے خروج کا ذکر قرآن مجید (سورہ نحل کی آیت نمبر 82) میں بھی فرمایا گیا ہے اس کے بارے میں بہت سی بے اصل باتیں عوام میں مشہور ہیں اور تفسیر کی بعض کتابوں میں بھی اس سے متعلق رطب ویابس روایتیں لکھ دی گئی ہیں لیکن قرآن پاک کے ظاہری الفاظ اور قابل اعتبار روایات سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ یہ زمین پر چلنے اور دوڑنے والا جانور ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ خارق عادت طریقہ سے زمین سے پیدا فرمائے گا (جس طرح حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی اللہ تعالی نے پہاڑ کی ایک چٹان سے پیدا فرمائی تھی) اور وہ بحکم خداوندی انسانوں کی طرح کلام کرے گا اور ان پر اللہ تعالی کی حجت قائم کرے گا بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ کی صفا پہاڑی سے برآمد ہوگا۔ یہ دونوں واقعات جن کا اس حدیث میں ذکر ہے (آفتاب کا بجائے مشرق کے جانب مغرب سے طلوع ہو جانا اور کسی جانور (دابۃ الارض) کا توالدوتناسل کے عام معروف طریقہ کے بجائے زمین سے برآمد ہونا) بظاہر اس نظام قدرت کے خلاف ہے جو اس دنیا کا عام نظام ہے اس لئے ایسے کم فہموں کو جو اللہ تعالی کی قدرت کی وسعت سے آشنا نہیں ہیں ان کے بارے میں شک شبہ ہوسکتا ہے لیکن ان کو سمجھنا چاہیے کہ یہ سب اس وقت ہوگا جب دنیا کا وہ نظام جس پر یہ دنیا چل رہی ہے ختم کیا جائے گا اور قیامت کا دور شروع ہوگا اور زمین و آسمان بھی فنا کر دیے جائیں گے اور دوسرا عالم برپا ہوگا پھر تو وہ سب کچھ سامنے آئے گا جو ہماری اس دنیا کے نظام سے بالکل مختلف ہوگا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قیامت کی “علامات خاصہ” اور “علامات کبری” بھی دو طرح کی ہیں بعض وہ ہیں جن کا ظہور قیامت کے بالکل قریب میں ہوگا گویا ان علامات کے ظہور ہی سے قیامت کی شروعات ہو جائے گی جس طرح صبح صادق کی نمودن کی آمد کی علامت ہوتی ہے اور اسی سے دن کی آمد شروع ہوجاتی ہے یہ دونوں علامتیں جن کا اس حدیث میں ذکر ہے اسی قبیل سے ہیں اور اس قبیل کی علامتوں میں سب سے پہلے انہی کا ظہور ہوگا اور ان کا ظہور گویا اس کا اعلان ہوگا کہ یہ دنیا اللہ تعالی کے حکم سے اب تک جس نظام پر چل رہی تھیں اب وہ ختم ہوگیا اور قیامت کا دور اور دوسرا نظام شروع ہوگیا ..... اور قیامت کی “علامات کبریٰ” میں سے بعض وہ ہیں جن کا ظہور قیامت سے کچھ مدت پہلے ہوگا اور وہ قرب قیامت کی علامات ہوں گے دجال کا خروج اور حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول (جن کا ذکر آگے درج ہونے والی حدیثوں میں آرہا ہے) قیامت کی اس قسم کی علامات میں سے ہے۔

1956Maarif-ul-Hadith

قیامت کی علامات کبریٰ: آفتاب کا جانب مغرب سے طلوع، دابۃ الارض کا خروج، دجال کا فتنہ، حضرت مہدی کی آمد، حضرت مسیحؑ کا نزول

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلاَثٌ إِذَا خَرَجْنَ لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الأَرْضِ. (رواه مسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ (قیامت کی نشانیوں میں سے) تین وہ ہیں جن کے ظہور کے بعد کسی ایسے شخص کو جو پہلے ایمان نہیں لایا تھا اور ایمان کے ساتھ عمل صالح نہیں کیا تھا اس کا ایمان لانا (اور نیک عمل کرنا) کوئی نفع نہیں پہنچائے گا (اور کچھ کام نہ آئے گا) آفتاب کا طلوع ہونا مغرب کی جانب سے اور دجال کا ظاہر ہونا اور دابۃ الارض کا برآمد ہونا۔ (صحیح مسلم) تشریح ان تینوں نشانیوں کے ظہور کے بعد یہ بات کھل کر سب کے سامنے آجائے گی کہ اب دنیا کے نظام کے درہم برہم ہونے کا اور قیامت کا وقت قریب آگیا اس لئے اس وقت ایمان لانا یا گناہوں سے توبہ کرنا یا صدقہ خیرات جیسا کوئی نیک کام کرنا جو پہلے نہیں کیا گیا تھا ایسا ہوگا جیسا کہ موت کے دروازے پر پہنچ کر اور غیبی حقائق کا مشاہدہ کرکے کوئی ایمان لائے یا گناہوں سے توبہ کرے یا صدقہ خیرات جیسا کوئی نیک کام کریں اس لئے اس کا اعتبار نہ ہوگا اور وہ کام نہ آئے گا۔

1957Maarif-ul-Hadith

قیامت کی علامات کبریٰ: آفتاب کا جانب مغرب سے طلوع، دابۃ الارض کا خروج، دجال کا فتنہ، حضرت مہدی کی آمد، حضرت مسیحؑ کا نزول

عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ خَلْقٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ. (رواه مسلم)

حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ حضرت آدم کی پیدائش سے لے کر قیامت آنے تک کوئی امر (کوئی واقعہ اور حادثہ) دجال کے فتنہ سے بڑا اور سخت نہ ہوگا۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السّلام کی تخلیق سے اب تک اور اب سے قیامت تک اللہ کے بندوں کے لیے جو بے شمار فتنے پیدا ہوئے اور ہونگے دجال کا فتنہ ان میں سب سے عظیم و شدید ہوگا اور بندگان خدا کے لیے اس میں سخت ترین آزمائش ہوگی اللہ تعالی ایمان پر قائم رکھے اور ایمان کے ساتھ اٹھائے۔

1958Maarif-ul-Hadith

قیامت کی علامات کبریٰ: آفتاب کا جانب مغرب سے طلوع، دابۃ الارض کا خروج، دجال کا فتنہ، حضرت مہدی کی آمد، حضرت مسیحؑ کا نزول

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا عَنِ الدَّجَّالِ مَا حَدَّثَ بِهِ نَبِيٌّ قَوْمَهُ، إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّهُ يَجِيءُ مَعَهُ بِمِثَالِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَالَّتِي يَقُولُ إِنَّهَا الْجَنَّةُ. هِيَ النَّارُ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمْ كَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں دجال کے فتنہ کے بارے میں تم کو ایک ایسی بات نہ بتلاوں جو کسی پیغمبر نے اپنی امت کو نہیں بتلائی (سنو) وہ کانا ہوگا (اس کی آنکھ میں انگور کے دانے کی طرح ناخنہ پھولا ہوگا) اور اسکے ساتھ ایک چیز ہو گی جنت کی طرح اور ایک دوزخ کی طرح، پس وہ جس کو جنت بتائے گا وہ فی الحقیقت دوزخ ہوگی اور میں تم کو دجال کے بارے میں آگاہی دیتا ہوں جیسی آگاہی اللہ کے پیغمبر نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دی تھی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث کے ذخیرے میں مختلف صحابہ کرامؓ سے دجال سے متعلق اتنی حدیثیں مروی ہیں جن سے مجموعی طور پر یہ بات قطعی اور یقینی طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قیامت کے قریب دجال کے ظہور کی اطلاع دی ہے اور یہ کہ اس کا فتنہ بندگان خدا کے لئے عظیم ترین اور شدید ترین فتنہ ہوگا وہ خدائی کا دعوی کرے گا اور اس کے ثبوت میں عجیب و غریب کرشمے دکھائے گا انہی کرشموں میں سے ایک یہ بھی ہو گا کہ اس کے ساتھ جنت کی طرح ایک نقلی جنت اور دوزخ کی طرح ایک نقلی دوزخ ہوگی اور حقیقت یہ ہوگی کہ جس کو وہ جنت بتلائے گا وہ دوزخ ہوگی۔ اور اسی طرح جس کو وہ دوزخ کہے گا وہ درحقیقت جنت ہوگی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دجال کے ساتھ والی یہ دوزخ اور جنت صرف اس کی جادوگری شعبدہ بازی اور نظر فریبی کا نتیجہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ جس طرح اللہ تعالی نے اپنی خاص حکمت سے ہماری آزمائش کے لیے شیطان پیدا فرمایا ہے اور دجال پیدا فرمائے گا اسی طرح دجال کے ساتھ والی جنت اور دوزخ بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہو اسی کے ساتھ اس کی دجالیت اور کذابیت کی ایک کھلی علامتی یہ ہوگی کہ وہ آنکھ سے کانا ہوگا اور صحیح روایات میں ہے کہ اس کی آنکھ میں انگور کے دانے جیسا پھولا ہوگا جو سب کو نظر آئے گا اس کے باوجود بہت سے خدا نا آشنا جو ایمان سے محروم ہونگے یا جو بہت ضعیف الایمان ہونگے اس کی شعبدہ بازیوں اور استدراجی کرشموں سے متاثر ہوکر اس کی خدائی کے دعوے کو مان لیں گے اور جن کو ایمان کی حقیقت نصیب ہوگی ان کے لئے دجال کا ظہور اور اس کے خارق عادت کرشمے ایمان و یقین میں مزید ترقی اور اضافہ کا ذریعہ بنیں گے وہ اس کو دیکھ کر کہیں گے کہ یہی وہ دجال ہے جس کی خبر ہمارے پیغمبر صادق ﷺ نے دی تھی اس طرح دجال کا ظہور ان کے لیے ترقی درجات کا وسیلہ بنے گا۔ دجال کے ہاتھ پر ظاہر ہونے والے خوارق جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا قیامت سے پہلے دجال کے ظہور سے متعلق حدیث نبوی کے ذخیرہ میں اتنی روایتیں ہیں جن کے بعد اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ قیامت سے پہلے دجال کا ظہور ہوگا اسی طرح ان روایات کی روشنی میں اس میں بھی کسی شبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا اور اس کے ہاتھ پر بڑے غیر معمولی اور محیرالعقول قسم کے ایسے خارق عادت امور ظاہر ہونگے جو بظاہر مافوق الفطرت اور کسی بشر اور کسی بھی مخلوق کی طاقت و قدرت سے باہر اور بالاتر ہوں گے مثلا یہ کہ اس کے ساتھ جنت اوردوزخ ہوگی (جس کا مندرجہ بالا حدیث میں بھی ذکر ہے) اور مثلا یہ کہ وہ بادلوں کو حکم دے گا کہ بارش برسے اور اس کے حکم کے مطابق اسی وقت بارش ہوگی اور مثلا یہ کہ وہ زمین کو حکم دے گا کہ کھیتی اگے اور اسی وقت زمین سے کھیتی اگتی نظر آئے گی اور مثلا یہ کہ جو خدا نا شناس اور ظاہر پرست لوگ اس طرح کے خوارق دیکھ کر اس کو خدا مان لیں گے ان کے دنیوی حالات بظاہر بہت ہی اچھے ہو جائیں گے اور وہ خوب پھولتے پھیلتے نظر آئیں گے اور اس کے برخلاف جو مومنین صادقین اسکے خدائی کے دعوے کو رد کر دیں گے اور اس کو دجال قرار دینگے بظاہر ان کے دنیوی حالات بہت ہی ناسازگار ہوجائیں گے اور وہ فقر و فاقے میں اور طرح طرح کی تکلیفوں میں مبتلا نظر آئیں گے اور مثلا یہ کہ وہ ایک اچھے طاقتور جوان کو قتل کرکے اس کے دو ٹکڑے کر دے گا اور پھر وہ اس کو اپنے حکم سے زندہ کر کے دکھا دے گا اور سب دیکھیں گے کہ وہ جیسا تندرست و توانا جوان تھا ویسا ہی ہو گیا الغرض حدیث کی کتابوں میں دجال کے ہاتھ پر ظاہر ہونے والے اس طرح کے محیر العقول خوارق کی روایتیں بھی اتنی کثرت سے ہیں کہ اس بارے میں بھی کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ اس کے ہاتھ پر اس طرح کے خوارق ظاہر ہونگے اور یہی بندوں کے لیے امتحان اور آزمائش کا باعث ہوں گے۔ اس طرح کے خوارق اگر انبیاء علیہ السلام کے ہاتھ پر ظاہر ہوں تو ان کو معجزہ کہا جاتا ہے جیسے حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیؑ وغیرہ انبیاء کرام کے وہ معجزات جن کا ذکر قرآن مجید نے بار بار فرمایا گیا ہے، یا رسول اللہ ﷺ کا معجزہ شق القمر اور دوسرے معجزات جو حدیثوں میں مروی ہیں اور اگر ایسے خوارق انبیاء علیہ السلام کے متبعین مومنین صالحین کے ہاتھ پر ظاہر ہوں تو ان کو کرامت کہا جاتا ہے جیسے کہ قرآن پاک میں اصحاب کہف کا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے اور اس امت محمدیہ کے اولیاء اللہ کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں واقعات معلوم و معروف ہیں اور اگر اس طرح کے خوارق کسی کافر و مشرک یا فاسق و فاجر داعی ضلالت کے ہاتھ پر ظاہر ہوں تو ان کو استدراج کہا جاتا ہے دجال کے ہاتھ پر جو خوارق ظاہر ہونگے وہ استدراج ہی کے قبیل سے ہیں۔ اللہ تعالی نے اس دنیا کو دارالامتحان بنایا ہے انسان میں خیر کی بھی صلاحیت رکھی گئی ہے اور شر کی بھی اور ہدایت اور دعوت الی الخیر کے لیے انبیاء علیہم السلام بھیجے گئے اور ان کے نائبین کی قیامت تک یہ خدمت انجام دیتے رہیں گے اور اضلال اور دعوت شر کیلئے شیطان اور انسانوں اور جنات میں سے اس کے چیلے چانٹے بھی پیدا کیے گئے جو قیامت تک اپنا کام کرتے رہیں گے بنی آدم میں خاتم النبین سیدنا حضرت محمد ﷺ پر ہدایت اور دعوت الی الخیر کا کمال ختم کردیا گیا اب آپ ہی کے نائبین کے ذریعہ قیامت تک ہدایت وارشاد اور دعوت الی الخیر کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اور اضلال اور دعوت شر کا کمال دجال پر ختم ہوگا اور اس لیے اس کو اللہ تعالی کی طرف سے بطور استدراج ایسے غیرمعمولی اور محیرالعقول خوارق دیے جائیں گے جو پہلے کسی داعی ضلال کو نہیں دیئے گئے۔ یہ گویا بندوں کا آخری امتحان ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ یہ ظاہر فرمائے گا کہ سلسلہ نبوت وہدایت خاص کر خاتم النبیین اور آپ ﷺ کے نائبین کی ہدایت وارشاد اور دعوت الی الخیر کی مخلصانہ کوششوں نتیجہ میں وہ صاحب استقامت بندے بھی اس دجالی دنیا میں موجود ہیں جن کے ایمان و یقین میں ایسے محیرالعقول خوارق دیکھنے کے بعد بھی کوئی فرق نہیں آیا بلکہ ان کی ایمانی کیفیت میں اضافہ ہوا اور ان کو وہ مقام صدیقیت حاصل ہوا جو اس سخت امتحان کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔

1959Maarif-ul-Hadith

حضرت مہدی کی آمد ان کے ذریعہ برپا ہونے والا انقلاب

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَنْزِلُ بِأُمَّتِي بَلَاءٌ شَدِيدٌ مِنْ سُلْطَانِهِمْ، حَتَّى يَضِيقَ الْأَرْضُ عَنْهُمُ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا مِنْ عِتْرَتِي، فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا، كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا، يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ، لَا تَدَّخِرُ الْأَرْضُ شَيْئًا مِنْ بَذْرِهَا إِلَّا أَخْرَجَتْهُ، وَلَا السَّمَاءُ مِنْ قَطْرِهَا إِلَّا صَبَّتْهُ، وَيَعِيشُ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانَ سِنِينَ أَوْ تِسْعًا. (رواه الحاكم فى المستدرك)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ (آخری زمانے میں) میری امت پر ان کے ارباب حکومت کی طرف سے سخت مصیبتیں آئیں گی یہاں تک کہ اللہ کی وسیع زمین ان کے لئے تنگ ہوجائے گی اس وقت اللہ تعالی میری نسل میں سے ایک شخص کو کھڑا کرے گا اس کی جدوجہد سے ایسا انقلاب برپا ہوگا کہ اللہ کی زمین جس طرح ظلم و ستم سے بھر گئی تھی اسی طرح عدل وانصاف سے بھر جائے گی آسمان والے بھی اس سے راضی ہوں گے اور زمین کے رہنے والے بھی، زمین میں جو بیج ڈالا جائے گا اسکو زمین اپنے پاس روک کے نہیں رکھے گی بلکہ اس سے جو پودا برآمد ہونا چاہیے وہ برآمد ہوگا (بیج کا ایک دانہ بھی ضائع نہ ہو گا) اور اسی طرح آسمان بارش کے قطرے ذخیرہ بنا کے رکھے گا بلکہ ان کو برسا دے گا (یعنی ضرورت کے مطابق بھرپور بارشیں ہونگی) اور یہ مرد مجاہد لوگوں کے درمیان سات سال کی آٹھ سال یا نو سال زندگی گزارے گا۔ (مستدرک حاکم) تشریح اس موضوع سے متعلق جو احادیث و روایات کسی درجہ میں قابل اعتبار و استناد ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اس دنیا کے خاتمہ اور قیامت سے پہلے آخری زمانے میں امت مسلمہ پر اس دور کے ارباب حکومت کی طرف سے ایسا شدید و سنگین مظالم ہونگے کہ اللہ کی وسیع زمین ان کے لئے تنگ ہوجائے گی ہر طرف ظلم وستم کا دور دور ہوگا اس وقت اللہ تعالی اس امت میں سے (بعض روایات کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی نسل سے) ایک مرد مجاہد کو کھڑا کرے گا اس کی جدوجہد کے نتیجہ میں ایسا انقلاب برپا ہوگا کہ دنیا سے ظلم و نا انصافی کا خاتمہ ہوجائے گا ہر طرف عدل و انصاف کا دور دورہ ہوگا نیز اللہ تعالی کی طرف سے اس وقت غیر معمولی برکات کا ظہور ہوگا آسمان سے ضرورت کے مطابق بھرپور بارشیں ہونگی اور زمین سے غیرمعمولی اور خارق عادت پیداوار ہوگی جس مرد مجاہد کے ذریعہ اللہ تعالی یہ انقلاب برپا فرمائے گا (بعض روایات کے مطابق اس کا نام محمد اور اس کے والد کا نام عبداللہ ہوگا مہدی اس کا کب ہوگا) اللہ تعالیٰ ان سے بندوں کی ہدایت کا کام لے گا۔ اس مختصر تمہید کے بعد ناظرین اس سلسلہ کے رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کا مطالعہ فرمائیں۔ تشریح ..... قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت قرہ مزنی ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ “اِسْمُهُ اِسْمِىْ وَاِسْمُ اَبِيْهِ اِسْمُ اَبِىْ” اس شخص کا نام میرا والا نام (یعنی محمد) ہوگا اور اس کے باپ کانام میرے والد کا نام (عبداللہ) ہو گا یہ حدیث طبرانی کی معجم کبیر اور مسند بزار کے حوالہ سے کنزالعمال میں نقل کی گئی ہے ان دونوں حدیثوں میں مہدی کا لفظ نہیں ہے لیکن دوسری روایات کی روشنی میں یہ متعین ہو جاتا ہے کہ مراد حضرت مہدی ہی ہیں ان کا نام محمد اور مہدی لقب ہوگا۔ اس حدیث میں حضرت مہدی کا زمانہ حکومت سات یا آٹھ یا نو سال بیان فرمایا گیا ہے لیکن حضرت ابوسعیدخدریؓ ہی کی ایک دوسری روایت میں جو سنن ابی داود کے حوالہ سے آگے ذکر کی جائے گی ان کا زمانہ حوکومت صرف سات سال بیان کیا گیا ہے ہوسکتا ہے کہ مندرجہ بالا روایت میں جو “سات یا آٹھ یا نو سال” ہے وہ راوی کا شک ہو۔ واللہ اعلم

1960Maarif-ul-Hadith

حضرت مہدی کی آمد ان کے ذریعہ برپا ہونے والا انقلاب

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک یہ نہ ہوگا کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص عرب کا مالک اور فرماں روا ہوگا اس کا نام میرے نام کے مطابق (یعنی محمد) ہوگا۔ تشریح اس حدیث میں بھی مہدی کا لفظ نہیں ہے لیکن مراد حضرت مہدی ہی ہیں اور سنن ابی داود میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓٗ ہی کی ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ان کے باپ کانام میرے باپ کے نام کے مطابق (یعنی عبداللہ) ہوگا نیز یہ بھی اضافہ ہے کہ يَمْلأُ الأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلاً كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا (وہ اللہ کی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح پہلے وہ ظلم و ناانصافی سے بھری ہوئی تھی) سنن ابی داؤد کی اس روایت سے اور حضرت مہدی سے متعلق دوسری بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی حکومت پوری دنیا میں ہوگی پس جامع ترمذی کی زیر تشریح روایت میں جو عرب پر حکومت کا ذکر کیا گیا ہے وہ غالبا اس بنیاد پر ہے کہ ان کی حکومت کا اصل مرکز عرب ہی ہوگا دوسری تو جیہ اس کی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ابتداء میں ان کی حکومت عرب پر ہوگی بعد میں پوری دنیا ان کے دائرہ حکومت میں آجائے گی۔ واللہ اعلم۔