Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 99 of 106

1961Maarif-ul-Hadith

حضرت مہدی کی آمد ان کے ذریعہ برپا ہونے والا انقلاب

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَهْدِيُّ مِنِّي أَجْلَى الْجَبْهَةِ أَقْنَى الأَنْفِ يَمْلأُ الأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِينَ. (رواه ابوداؤد)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مہدی میری اولاد میں سے ہوگا روشن اور کشادہ پیشانی بلند بینی وہ بھر دے گا روئے زمین کو عدل و انصاف سے جس طرح وہ بھر گئی تھی ظلم وستم سے وہ سات سال حکومت کرے گا۔ (سنن ابی داؤد) تشریح اس حدیث میں آنکھوں سے نظر آنے والی حضرت مہدی کی دو جسمانی نشانیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے ایک یہ کہ وہ روشن اور کشادہ پیشانی ہونگے اور دوسرے یہ کہ بلند بینی (کھڑی ناک والے) ہونگے ان دونوں چیزوں کو انسان کی خوبصورتی اور حسن و جمال میں خاص دخل ہوتا ہے اسی لیے خصوصیت سے ان کا ذکر کیا گیا ہے حدیثوں میں خود رسول اللہ ﷺ کا جو حلیہ مبارک اور سراپا بیان کیا گیا ھے اس میں بھی ان دونوں چیزوں کا ذکر آتا ہے ان دو نشانیوں کے ذکر کا مطلب یہ سمجھنا چاہیے کے وہ حسین و جمیل بھی ہوں گے لیکن ان کی اصل نشانی اور پہچان ان کا یہ کارنامہ ہوگا کہ دنیا سے ظلم و عدوان کا خاتمہ ہوجائے گا اور ہماری یہ دنیا عدل و انصاف کی دنیا ہو جائے گی۔

1962Maarif-ul-Hadith

حضرت مہدی کی آمد ان کے ذریعہ برپا ہونے والا انقلاب

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يَقْسِمُ الْمَالَ وَلاَ يَعُدُّهُ. (رواه مسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آخری زمانے میں ایک خلیفہ (یعنی سلطان برحق) ہوگا جو (مستحقین کو) مال تقسیم کرے گا اور گن گن کر نہیں دے گا۔ (صحیح مسلم) تشریح ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب و مدعا صرف یہ ہے کہ آخری زمانہ میں میری امت میں ایک ایسا حاکم و فرمانروا ہوگا جس کے دور حکومت میں اللہ تعالی کی طرف سے بڑی برکت اور مال و دولت کی کثرت اور بہتات ہو گی اور خود اس میں سخاوت ہوگی وہ مال و دولت کو ذخیرہ بنا کے نہیں رکھے گا بلکہ گنتی شمار کے بغیر مستحقین کو تقسیم کرے گا صحیح مسلم ہی کی ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں “يَحْثَى الْمَالُ حَيْثًا وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا” (جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں ہاتھوں سے بھر بھر کے مستحقین کو دے گا اور گنتی شمار نہیں کرے گا) حدیث کے بعض شارحین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس حدیث میں جس خلیفہ کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ غالبا مہدی ہی ہیں کیوں کہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زمانے میں اللہ تعالی کی طرف سے غیر معمولی برکات کاظہور ہوگا اور مال و دولت کی فراوانی ہوگی۔ واللہ اعلم۔

1963Maarif-ul-Hadith

حضرت مہدی کی آمد ان کے ذریعہ برپا ہونے والا انقلاب

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْمَهْدِيُّ مِنْ عِتْرَتِي مِنْ أَوْلَادِ فَاطِمَةَ. (رواه ابوداؤد)

ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ مہدی میری نسل سے فاطمہ کی اولاد میں سے ہوگا۔ (سنن ابی داؤد)

1964Maarif-ul-Hadith

حضرت مہدی کی آمد ان کے ذریعہ برپا ہونے والا انقلاب

عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَظَرَ إِلَى ابْنِهِ الْحَسَنِ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ كَمَا سَمَّاهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ رَجُلٌ يُسَمَّى بِاسْمِ نَبِيِّكُمْ يُشْبِهُهُ فِي الْخُلُقِ وَلاَ يُشْبِهُهُ فِي الْخَلْقِ ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ يَمْلأُ الأَرْضَ عَدْلاً. (رواه ابوداؤد)

ابو اسحاق سبیعی سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ نے اپنے صاحبزادے حضرت حسن ؓٗ کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید (سردار) ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو یہ نام (سید) دیا ہے۔ ضرور ایسا ہوگا کہ اس کی نسل سے ایک مرد خدا پیدا ہوگا جس کا نام تمہارے نبی والا نام (یعنی محمد) ہوگا وہ اخلاق و سیرت میں رسول اللہ ﷺ کے بہت مشابہ ہوگا اور جسمانی بناوٹ میں وہ آپ ﷺ کے زیادہ مشابہ نہ ہوگا پھر حضرت علی ؓٗ نے بیان فرمایا یہ واقعہ کہ وہ روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ (سنن ابی داؤد) تشریح اس روایت میں ابو اسحاق سبیعی نے (جوتابعی ہیں) حضرت حسنؓ کی نسل سے پیدا ہونے والے جس مرد خدا کے بارے میں حضرت علی کا یہ ارشاد نقل کیا ہے چونکہ وہ امور غیب سے ہے اور سینکڑوں یا ہزاروں برس بعد ہونے والے واقعہ کی خبر ہے اس لئے ظاہر یہی ہے کہ انہوں نے یہ بات صاحب وحی رسول اللہ ﷺ سے سن کر ہی فرمائی ہوگی۔ صحابہ کرام کے ایسے بیانات محدثین کے نزدیک حدیث مرفوع (یعنی رسول اللہ ﷺ کے ارشادات) کے حکم میں ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم ہی سے سنا ہوگا۔ اس روایت میں حضرت علیؓ نے حضرت حسنؓ کے بارے میں یہ جو فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید (سردار) ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو یہ نام (سید) دیا تھا بظاہر اس سے حضرت علیؓ کا اشارہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کی طرف ہے جو آپ نے حضرت حسنؓ کے بارے میں فرمایا تھا۔ “ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللهَ اَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظْمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ” (میرا یہ بیٹا سید (سردار) ہیں امید ہے کہ اللہ تعالی اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے متحارب (برسر جنگ) گروہوں کے درمیان مصالحت کرا دے گا) اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسنؓ کے بارےمیں سید کا استعمال فرمایا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مہدی حضرت حسن ؓٗ کی اولاد میں سے ہونگے لیکن بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت حسینؓ کی اولاد میں سے ہوں گے بعض شارحین نے ان دونوں میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ وہ والد کی طرف سے حسنی اور والدہ کی طرف سے حسینی ہونگے۔ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس ؓ کو خوشخبری دی کہ مہدی ان کی اولاد میں سے ہوں گے لیکن یہ روایتیں بہت ہی ضعیف درجہ کی ہیں جو روایتیں کسی درجہ قابل اعتبار ہیں ان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی نسل اور حضرت سیدہ فاطمہ ؓ کی اولاد میں سے ہوں گے۔ اس موضوع سے متعلق ایک ضروری انتباہ حضرت مہدی سے متعلق احادیث کی تشریح کے سلسلہ میں یہ بھی ضروری معلوم ہوا کہ ان کے بارے میں اہل سنت کے مسلک و تصور اور شیعی عقیدہ کا فرق و اختلاف بھی بیان کردیا جائے کیونکہ بعض شیعہ صاحبان ناواقفوں کے سامنے اس طرح بات کرتے ہیں گویا ظہور مہدی کے مسئلہ پر دونوں فرقوں کا اتفاق ہے حالاں کہ یہ سراسر فریب اور دھوکا ہے۔ اہلسنت کی کتب حدیث میں حضرت مہدی سے متعلق جوروایات ہے (جن میں سے چند ان صفحات میں بھی درج کی گئی ہیں) ان کی بنیاد پر اہل سنت کا تصور ان کے بارے میں یہ ہے کہ قیامت کے قریب ایک وقت آئے گا جب دنیا میں کفر و شیطنت اور ظلم و طغیان کا ایک غلبہ ہو جائے گا کہ اہل ایمان کے لئے اللہ کی وسیع زمین تنگ ہو جائے گی تو اس وقت اللہ تعالی امت مسلمہ ہی میں سے ایک مرد مجاہد کو کھڑا کرے گا (ان کی بعض علامات اور صفات و خصوصیات بھی احادیث میں بیان کی گئی ہیں) اللہ تعالی کی خاص مدد ان کے ساتھ ہوگی ان کی جدوجہد سے کفر و شیطنت اور ظلم و عدوان کا غلبہ دنیا سے ختم ہو جائے گا پورے عالم میں ایمان و اسلام اور عدل و انصاف کی فضا قائم ہوجائے گی اور اللہ تعالی کی طرف سے غیر معمولی طریقہ پر آسمانی اور زمینی برکات کا ظہور ہوگا احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسی زمانے میں دجال کا خروج ہو گا جو ہماری اس دنیا کا سب سے بڑا اور آخری فتنہ اور اہل ایمان کے لیے سخت ترین امتحان ہوگا اس وقت خیر اور شر کی طاقتوں میں آخری درجہ کی کشمکش ہو گی خیر اور ہدایت کے کا قائد و علمبردار حضرت مہدی ہوں گے اور شر اور کفر و طغیان کا علمبردار دجال ہوگا پھر اسی زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اور انہی کے ذریعہ اللہ تعالی دجال اور اس کے فتنہ کو ختم کرائے گا (نزول مسیح علیہ السلام سے متعلق احادیث انشاءاللہ آگے پیش کی جائینگی وہیں ان کی تشریح کے ساتھ حیات مسیح علیہ السلام اور نزول مسیح علیہ السلام کے مسئلہ پر بھی بقدر ضرورت انشاءاللہ کلام کیا جائے گا) الغرض حضرت مہدی کے بارے میں اہل سنت کا مسلک اور تصور یہی ہے جو ان سطور میں عرض کیا گیا لیکن شیعی عقیدہ اس سے بالکل مختلف ہے اور دنیا کے عجائبات میں سے ہے اور تنہا یہی عقیدہ جو ان کے نزدیک جزو ایمان ہے ارباب دانش کو اثنا عشری مذہب کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لئے کافی ہے۔ یہاں تو صرف اہل سنت کی واقفیت کے لئے اجمال و اختصار ہی کے ساتھ اس کا ذکر کیا جا رہا ہے اس کی کسی قدر تفصیل شیعہ مذہب کی کتابوں کے حوالوں کے ساتھ اس عاجز کی کتاب “ایرانی انقلاب امام خمینی اور شیعیت” میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مہدی کے بارے میں شیعی عقیدہ شیعوں کا عقیدہ ہے جو ان کے نزدیک جزو ایمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے بعد سے قیامت تک کے لیے اللہ تعالی نے بارہ امام نامزد کر دئیے ہیں ان سب کا درجہ رسول اللہ ﷺ کے برابر اور دوسرے تمام نبیوں و رسولوں سے برتر و بالا ہے۔ یہ سب رسول اللہ ﷺ کی طرح معصوم ہیں اور ان کی اطاعت رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہی کی طرح فرض ہے ان سب کو وہ تمام صفات و کمالات حاصل ہیں جو رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالی نے عطا فرمائے تھے بس یہ فرق ہے کہ ان کو نبی یا رسول نہیں کہا جائے گا بلکہ امام کہا جائے گا اور امامت کا درجہ نبوت و رسالت سے بالاتر ہے ان کی امامت پر ایمان لانا اسی طرح نجات کی شرط ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ایمان لانا شرط نجات ہے ان بارہ میں سب سے پہلے امام امیرالمومنین حضرت علیؓ، ان کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے حضرت حسنؓ، ان کے بعد ان کے چھوٹے بھائی حضرت حسینؓ، ان کے بعد ان کے بیٹے علی بن الحسین (امام زین العابدین) ان کے بعد اسی طرح ہر امام کا ایک بیٹا امام ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ گیارہویں امام حسن عسکری تھے جن کی وفات 260ھ میں ہوئی شیعہ اثنا عشریہ کا عقیدہ ہے کہ ان کی وفات سے چار پانچ سال پہلے (بااختلاف روایت 255ھ یا 256ھ میں) ان کی فرنگی کنیز (نرگس) کے بطن سے ایک بیٹے پیدا ہوئے تھے جن کو لوگوں کی نگاہوں سے چھپا کر رکھا جاتا تھا کوئی ان کو دیکھ نہیں پاتا تھا اس وجہ سے لوگوں کو (خاندان والوں کو بھی ان کی پیدائش اور ان کے وجود کا علم نہیں تھا) یہ صاحبزادے اپنے والد حسن عسکری کی وفات سے صرف دس دن پہلے (یعنی چار، پانچ سال کی عمر میں) امامت سے متعلق وہ سارے سامان ساتھ لے کر (جو امیر المومنین حضرت علیؓ سے لےکر گیارہویں امام ان کے والد حسن عسکری تک ہر امام کے پاس رہے تھے) معجزانہ طور پر غائب اور اپنے شہر سرمن رای کے ایک غار میں روپوش ہوگئے۔ اس وقت سے وہ اسی غار میں روپوش ہیں انکی غیبوبت اور روپوشی پر اب ساڑھے گیارہ سو برس سے بھی زیادہ زمانہ گزر چکا ہے شیعہ صاحبان کا عقیدہ اور ایمان ہے کہ وہی بارہویں اور آخری امام مہدی ہیں وہی کسی وقت غار سےبرآمد ہونگے اور دوسرے بے شمار معجزانہ اور محیرالعقول کارناموں کے علاوہ مردوں کو بھی زندہ کریں گے اور (معاذاللہ) (حضرت) ابوبکرؓ (حضرت) عمرؓ اور (حضرت) عائشہ صدیقہ ؓ کو (جو شیعوں کے نزدیک ساری دنیا کے کافروں، مجرموں، فرعون و نمرود وغیرہ سے بھی بدتر درجہ کے کفار و مجرمین ہیں) ان کی قبروں سے نکال کر اور زندہ کرکے ان کو سزا دیں گے سولی پر چڑھائیں گے اور ہزاروں بار زندہ کر کر کے سولی پر چڑھائیں گے اور اسی طرح ان کے ساتھ دینے والے تمام صحابہ کرامؓ اور ان سے محبت و عقیدت رکھنے والے تمام سنیوں کو بھی زندہ کرکے سزا دی جائے گی اور رسول اللہ ﷺ اور امیرالمومنین حضرت علیؓ اور تمام ائمہ معصومین اور خاص شیعہ محبین بھی زندہ ہوں گے اور (معاذاللہ) اپنے ان دشمنوں کی سزا اور تعذیب کا تماشہ دیکھیں گے گویا شیعوں کے نزدیک یہ جناب امام مہدی قیامت سے پہلے ایک قیامت برپا کریں گے شیعہ حضرات کی خاص مذہبی اصطلاح میں اس کا نام رجعت ہے اور اس پر بھی ایمان لانا فرض ہے۔ رجعت کے سلسلہ کی شیعی روایات میں یہ بھی ہے کہ جب یہ رجعت ہوگی تو ان جناب مہدی کے ہاتھ پر سب سے پہلے جناب رسول اللہ ﷺ بیعت کریں گے اس کے بعد دوسرے نمبر پر امیرالمومنین حضرت علیؓ بیعت کریں گے اس کے بعد درجہ بدرجہ دوسرے حضرات بیعت کریں گے۔ یہ ہیں شیعہ حضرات کے امام مہدی جن کو وہ القائم، الحجة اور المنتظر کے ناموں سے یاد کرتے ہیں اور غار سے انکے برآمد ہونے کے منتظر ہیں اور جب ان کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں اور لکھتے ہیں عجل الله فرجه (اللہ جلدی ان کو باہر لے آئے) اہل سنت کے نزدیک اول سے آخر تک یہ صرف خرافاتی داستان ہے جو اس وجہ سے گھڑی گئی ہے کہ فی الحقیقت شیعوں کے گیارہویں امام حسن عسکری 260ھ میں لاولد فوت ہوئے تھے ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا اور اس سے اثنا عشریہ کا یہ عقیدہ باطل ہوتا ہے کہ امام کا بیٹا ہی امام ہوتا ہے اور بارہواں امام آخری امام ہوگا اور اس کے بعد دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا۔ الغرض صرف اس غلط عقیدہ کی مجبوری کی وجہ سے یہ بےتکی داستان گھڑی گئی جو غور و فکر کی صلاحیت رکھنے والے شیعہ حضرات کے لیے آزمائش کا سامان بنی ہوئی ہے۔ افسوس ہے کہ اختصار کے ارادہ کے باوجود مہدی سے متعلق شیعہ عقیدہ کے بیان نے اتنی طوالت ہو گئی لیکن مہدی سے متعلق اہل سنت کے تصور و مسلک اور شیعی عقیدہ کا فرق و اختلاف کو واضح کرنے کے لیے یہ سب لکھنا ضروری سمجھا گیا۔ حضرت مہدی سے متعلق احادیث کی تشریح کے سلسلہ میں یہ ذکر کر دینا بھی مناسب ہے کہ آٹھویں صدی ہجری کے تحقیق اور ناقد وبصیر عالم و مصنف ابن خلدون مغربی نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف مقدمہ میں مہدی سے متعلق قریب قریب ان سب ہی روایات کی سندوں پر مفصل کلام کیا ہے جو اہل سنت کی کتب حدیث میں روایت کی گئی ہیں اور قریبا سب ہی کو مجروح اور ضعیف قرار دیا ہے، (1) اگرچہ بعد میں آنے والے محدثین نے ان کی جرح و تنقید سے پورا اتفاق نہیں کیا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ابن خلدون کی اس جرح و تنقید نے مسئلہ کو قابل بحث وتحقیق بنا دیا ہے۔ والمسئول من الله تعالى هداية الحق والصواب

1965Maarif-ul-Hadith

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلاً، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لاَ يَقْبَلَهُ أَحَدٌ، حَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا. ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: {وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا}. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس پاک ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے یقینا قریب ہے کہ نازل ہونگے تم میں (یعنی مسلمانوں میں) عیسی بن مریم عادل حاکم کی حیثیت سے، پھر توڑ دیں گے وہ صلیب کو، اور قتل کر آئیں گے خنزیروں کو اور ختم کردیں گے جزیہ، اور کثرت و بہتات ہو گی مال کی یہاں تک کہ کوئی قبول نہیں کرے گا اس کو تا آنکہ ہوگا اس وقت ایک سجدہ دنیا و ما فیہا سے بہتر پھر کہتے تھے ابوہریرہؓ کہ اگر (قرآن سے اس کا ثبوت چاہو تو) پڑھو (سورہ نساء کی آیت) “وَاِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتَابِ ..... الاية” (جس کا ترجمہ یہ ہے کہ) “اور سب ہی اہل کتاب عیسی السلام کی موت سے پہلے ان پر ضرور بالضرور ایمان لے آئینگے اور قیامت کے دن وہ ان کے بارے میں شہادت دیں گے”۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح قیامت کی علامات کبری جو احادیث نبوی ﷺ کے بیان کے مطابق دنیا کے خاتمہ کے قریب قیامت قائم ہونے سے پہلے ظاہر ہوگی ان میں ایک بہت غیر معمولی واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی ہے ان صفحات میں تو حسب معمول اس موضوع سے متعلق بھی چند ہی حدیثیں پیش کی جائینگی لیکن واقعہ یہ ہے کہ حدیث کی قریبا تمام ہی کتابوں میں مختلف سندوں سے اتنے صحابہ کرامؓ سے نزول مسیح علیہ السلام کی حدیثیں روایت کی گئی ہیں جن کے متعلق (ان کی صحابیت سے قطع نظر کرکے بھی ازروئے عقل و عادت) یہ شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ انھوں نے باہم سازش کرکے حضور ﷺ پر یہ بہتان باندھا ہے کہ آپ نے قیامت سے پہلے آسمان سے حضرت مسیح کے نازل ہونے کی خبر دی تھی اور اسی طرح یہ شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ان سب صحابہ کرام سے آپ ﷺ کی بات سمجھنے میں غلطی ہو گئی ہو گی۔ بہرحال حدیث کے ذخیرہ میں اس مسئلہ سے متعلق جوروایات ہیں ان کو سامنے رکھنے کے بعد ہر سلیم العقل کو اس بات کا قطعی اور یقینی علم ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قیامت سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کی اطلاع امت کو دی تھی اس کے لیے استاذنا حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہٗ کے رسالہ “التصریح بما تواتر فی نزول المسیح” کا مطالعہ کافی ہے اس میں صرف اسی مسئلہ سے متعلق حدیث کی کتابوں سے منتخب کرکے ستر (70) سے اوپر حدیثیں جمع کردی گئی ہیں۔ پھر احادیث نبوی ﷺ کے علاوہ قرآن مجید سے بھی حضرت مسیح علیہ السلام کا آسمان کی طرف اٹھایا گیا جانا اور پھر قیامت سے پہلے اس دنیا میں آنا ثابت ہے اس بارے میں اطمینان حاصل کرنے کے لیے حضرت استاذ قدس سرہٗ کے رسالہ “عقیدۃ الاسلام فی حیوة عیسی علیہ السلام” کا مطالعہ کافی ہوگا۔ (ملحوظ رہے کہ حضرت استاذ قدس سرہ کے یہ دونوں رسالے عربی زبان میں ہیں) اس عاجز راقم سطور کا ایک رسالہ ہے “قادیانی کیوں مسلمان نہیں اور مسئلہ نزول مسیح و حیات مسیح” اس میں قریبا 70 صفحات اسی مسئلہ سے متعلق لکھے گئے ہیں اردو خواں حضرات کو اس کے مطالعہ سے بھی انشااللہ یہ اطمینان و یقین حاصل ہو سکتا ہے کہ قرآن مجید نے اپنے معجزانہ انداز میں اور رسول اللہ ﷺ نے پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ قیامت کے قریب حضرت مسیح علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر دی ہے۔ لیکن چونکہ اس مسئلہ کے بارے میں بہت سے لوگوں کو عقلی شبہات اور وساوس ہوتے ہیں اور قادیانی مصنفین و اہل قلم نے (مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے مسیحیت کی گنجائش پیدا کرنے کے واسطے) اس موضوع پر چھوٹے بڑے بے گنتی رسائل اور مضامین لکھ کر شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش بھی کی ہے اس لئے مناسب سمجھا گیا ہے کہ اس سلسلہ کی احادیث کی تشریح سے پہلے تمہید کے طور پر کچھ اصولی باتیں عرض کردی جائیں امید ہے کہ ان کے مطالعہ کے بعد انشاءاللہ صاحب ایمان اور سلیم الفہم ناظرین کرام کو اس مسئلہ کے بارے میں وہ اطمینان میں یقین حاصل ہوجائے گا جس کے بعد کسی شبہ اور وسوسہ کی گنجائش نہیں رہے گی۔ واللہ ولی التوفیق۔ مسئلہ نزول مسیح سے متعلق چند اصولی باتیں (1) ..... سب سے پہلی اور اہم بات جس کا اس مسئلہ پر غور و فکر کرتے وقت پیش نظر رکھنا ضروری ہے یہ ہے کہ اس کا تعلق اس ذات سے ہے جس کا وجود ہی عام سنت اللہ اور اس دنیا میں جاری قانون فطرت کے بالکل خلاف ہے یعنی حضرت عیسی بن مریم علیہما السلام اس طرح پیدا نہیں ہوئے جس طرح ہماری اس دنیا میں انسان مرد اور عورت کے ملاپ اور مباشرت کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں (اور جس طرح تمام اولوم العزم پیغمبر اور انکے خاتم وسردار حضرت محمد ﷺ بھی پیدا ہوئے تھے) بلکہ وہ اللہ تعالی کی خاص قدرت اور اس کے حکم سے اس کے فرشتہ جبریل امین (روح القدس) کے توسط سے اپنی ماں حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے بغیر اس کے کہ ان کو کسی مرد نے چھوا بھی ہو معجزانہ طور پر پیدا کیے گئے اسی لیے قرآن مجید میں ان کو “اللہ کا کلمہ” بھی کہا گیا ہے قرآن مجید نے سورہ آل عمران کی آیت 45، 51 میں اور سورہ مریم کی آیت 19تا 23 میں ان کی معجزانہ پیدایش کا حال تفصیل سے بیان فرمایا ہے (اور انجیل کا بیان بھی یہی ہے اور اسی کے مطابق ساری دنیا کے مسلمانوں اور عیسائیوں کا عقیدہ ہے) ایسی ہی ایک دوسری عجیب بات قرآن مجید نے اس بارے میں یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ اللہ کی قدرت اور اس کے حکم و کلمہ سے معجزانہ طور پر مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا ہوئے (جو کنواری تھیں اور ان کا کسی مرد سے نکاح نہیں ہوا تھا) اور وہ ان کو اپنی گود میں لئے بستی میں آئیں اور برادری اور بستی کے لوگوں نے ان کے بارے میں اپنے گندے خیالات کا اظہار کیا اور معاذ اللہ اس نومولود بچے کو ولد الزنا سمجھا تو اسی نومولود بچہ (عیسی بن مریم) نے اللہ کے حکم سے اسی وقت کلام کیا اور اپنے بارے میں اور حضرت مریم علیہا السلام کی باکبازی کے بارے میں بیان دیا۔ (سورہ مریم آیات 27 تا 30) پھر قرآن مجید ہی میں یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے حکم سے ان کے ہاتھوں پر انتہائی محیرالعقول معجزے ظاہر ہوئے کہ وہ مٹی کے گوندے سے پرندہ کی شکل بناتے تھے پھر اس پر پھونک مار دیتے تو وہ زندہ پرندہ کی طرح فضا میں اڑجاتا اور مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں پر ہاتھ پھیر دیتے یا دم کر دیتے تو وہ فورا اچھے بھلے ہو جاتے اندھوں کی آنکھیں روشن ہو جاتی اور کوڑھیوں کے جسم پر کوئی اثر اور داغ دھبّہ بھی نہیں رہتا اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کرکے دکھا دیتے ان کے ان محیرالعقول معجزوں کا بیان بھی قرآن مجید (سورہ آل عمران اور سورہ مائدہ) میں تفصیل اور وضاحت سے فرمایا گیا ہے اور انجیل میں بھی ان معجزات کا ذکر کچھ اضافہ ہی کے ساتھ کیا گیا اور عیسائی دنیا کا عقیدہ بھی اسی کے مطابق ہے۔ پھر قرآن مجید ہی میں یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالی نے ان کو نبوت و رسالت کے منصب پر فائز کیا اور آپ نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو ایمان اور ایمانی زندگی کی دعوت دی تو آپ کی قوم کے لوگوں نے ان کو جھوٹا مدعی نبوت قرار دے کر سولی کے ذریعہ سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا (1) اور اپنے خیال میں انہوں نے اس فیصلہ کا نفاذ بھی کردیا اور سمجھ لیا کہ ہم نے عیسیٰ کو سولی پر چڑھا کے موت کے گھاٹ اتار دیا لیکن فی الحقیقت ایسا نہیں ہوا۔ (انہوں نے جس شخص کو عیسی سمجھ کر سولی پر چڑھایا وہ دوسرا شخص تھا) عیسیٰ علیہ السلام کو تو وہ یہودی پا ہی نہ سکے اللہ تعالی نے اپنی خاص قدرت سے ان کو آسمان کی طرف اٹھا لیا اور وہ قیامت سے پہلے اللہ کے حکم سے پھر اس دنیا میں آئیں گے اور یہیں وفات پائیں گے اور ان کی وفات سے پہلے اس وقت کے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے دین محمدی کی خدمت لے گا اور ان کا نزول ہونا قیامت کی ایک خاص علامت اور نشانی ہو گا۔ (یہ سب سورہ نساء اور سورہ زخرف میں بیان فرمایا گیا ہے۔ پس جو اہل ایمان قرآن پاک کے بیان کے مطابق معجزانہ پیدایش اور ان کے مذکورہ بالا محیرالعقول معجزات پر ایمان لا چکے ہیں ان کو باحکم خداوندی آسمان پر ان کے اٹھا لئے جانے اور اسی کے حکم سے مقرر کیے ہوئے وقت پر آسمان پر نازل ہونے کے بارے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے؟ الغرض سب سے پہلی اور اہم بات جس کا اس مسئلہ نزول مسیح پر غور و فکر کرتے وقت پیش نظر رکھنا ضروری ہے وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نرالی شخصیت اور ان کی مذکورہ بالا خصوصیات ہیں جو قرآن کے حوالہ سے سطور بالا میں ذکر کی گئی اور جن میں وہ انسانی دنیا میں منفرد ہیں۔ (2) ...... اسی طرح کی ایک دوسری یہ بات بھی اس مسئلہ پر غور کرتے وقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ عیسی علیہ السلام کا نزول جس کی اطلاع قرآن مجید میں بالاجمال اور رسول اللہ صلی اللہ ﷺ کے ارشادات میں تفصیل اور وضاحت دی گئی ہے اس وقت ہوگا جب کہ قیامت بالکل قریب ہوگی اور اس کی قریب ترین علامات کبری کا ظہور شروع ہو چکا ہوگا۔ مثلا آفتاب کا بجائے مشرق کے مغرب کی جانب سے طلوع ہونا اور دابۃ الارض کا خارق عادت طریقہ پر زمین سے پیدا ہونا اور وہ کرنا جس کا ذکر احادیث میں ہے گویا اس وقت کی قیامت کی صبح صادق ہوچکی ہوگی اور نظام عالم میں تبدیلی کا عمل شروع ہو چکا ہوگا اور لگاتار وہ خوارق و حوادث رونما ہوں گے جن کا آج تصور بھی نہیں کیا جاسکتا (انہی میں سے دجال کا خروج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی ہوگا) پس عیسی علیہ السلام کے نزول یا دجال کے خروج و ظہور کا اس بنا پر انکار کرنا کہ ان کی جو نوعیت اور تفصیل حدیثوں میں بیان کی گئی ہے وہ ہماری عقل میں نہیں آتی بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ قیامت اور جنت دوزخ کا اس وجہ سے انکار کردیا جائے کہ ان کی جو تفصیلات خود قرآن مجید میں بیان فرمائی گئی ہیں ان کو ہماری عقلیں ہضم نہیں کر سکتی جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں ان کی اصل بیماری یہ ہے کہ وہ خداوند قدوس کی معرفت سے محروم اور اس کی قدرت کی وسعت سے ناآشنا ہیں۔ (3) ..... مسئلہ حیات مسیح و نزول مسیح علیہ السلام پر غور کرتے وقت ایک دوسری بات یہ بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ قرآن مجید کے بیان اور ہم مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام ہماری اس دنیا میں نہیں ہیں جہاں کا عام فطری نظام یہ ہے کہ آدمی کھانے پینے کی جیسی ضروریات اور تقاضوں سے بے نیاز نہیں ہوتا بلکہ وہ عالم سماوات میں ہیں جہاں اس طرح کی کوئی ضرورت اور کوئی تقاضا نہیں ہوتا جیسا کہ فرشتوں کا حال ہے حضرت مسیح علیہ السلام اگرچہ ماں کی طرف سے انسانی نسل ہیں لیکن ان کی پیدائش اللہ تعالی کے “کلمہ” سے اسکے فرشتے روح القدس کے توسط سے ہوئی اس لیے وہ جب تک ہمارے انسانی دنیا میں رہے انسانی ضروریات اور تقاضے بھی ان کے ساتھ رہے لیکن جب وہ انسانی دنیا سے عالم سماوات اور عالم ملکوت کی طرف اٹھا لیے گئے تو وہ ان ضروریات اور تقاضوں سے فرشتوں ہی کی طرح بے نیاز ہو گئے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی ایک کتاب ہے “الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح” (جو دراصل عیسائیوں کے رد میں لکھی گئی ہے) اس میں ایک جگہ گویا اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جب آسمان پر ہیں تو ان کے کھانے پینے جیسی ضروریات کا کیا انتظام ہے؟ شیخ الاسلام نے تحریر فرمایا ہے: فليست حاله كحالة اهل الارض فى الاكل والشرب واللباس والنوم والغائط والبول ونحو ذالك. (1) ترجمہ: (وہاں آسمان پر) کھانے پینے اور لباس اور سونے کی جیسی ضروریات اور تقاضوں کے معاملہ میں ان کا حال زمین والوں کا سا نہیں ہے (وہاں وہ فرشتوں کی طرح ان چیزوں سے بے نیاز ہیں) امید ہے کہ ان اصولی باتوں کو پیش نظر رکھا جائے تو حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات و نزول کے بارے میں وہ شبہات اور وساوس انشاءاللہ پیدا نہیں ہوں گے جو عقلوں کی خامی ایمان کے ضعف اور اللہ تعالی کی قدرت کی وسعت سے ناآشنائی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس تمہید کے بعد نزول مسیح علیہ السلام کے متعلق رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کا مطالعہ کیا جائے۔ تشریح ..... رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد میں حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول اور ان کے چند اہم اقدامات اور کارناموں کا ذکر فرمایا اور امت کو اس کی اطلاع دی ہے چونکہ یہ مسئلہ غیر معمولی تھا اور بہت سے کوتاہ عقل اور ضعیف الایمان لوگوں کو اس میں شک شبہ ہو سکتا تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس کو قسم کے ساتھ ذکر فرمایا سب سے پہلے فرمایا “وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ” (اس خداوند پاک کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے) اس کے بعد مزید تاکید کے لئے فرمایا “لَيُوشِكَنَّ” یقینا قریب ہے) وہ بھی نزول مسیح علیہ السلام کے یقینی اور قطعی ہونے کی ایک تعبیر ہے جس طرح قرآن مجید میں قیامت کے بارے میں فرمایا گیا “اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ” (قیامت قریب ہی ہے) مطلب یہ ہے کہ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں سمجھنا چاہیے کہ بس آنے ہی والی ہے بہرحال قسم کے بعد “لَيُوشِكَنَّ” کا مطلب بھی یہی ہے کہ جو اطلاع دی جارہی ہیں وہ قطعی اور یقینی ہے۔ قسم اور “لَيُوشِكَنَّ” کے ذریعہ مزید تاکید کے بعد اطلاع رسول اللہ ﷺ نے امت کو اس ارشاد میں دی اس کو واضح اور عام فہم الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ یقینا یہ ہونے والا ہے کہ قیامت سے پہلے عیسی بن مریم اللہ کے حکم سے عادل حاکم کی حیثیت سے تم مسلمانوں میں (یعنی اس وقت ان کی حیثیت مسلمانوں ہی میں کے ایک عادل حاکم اور امیر کی ہوگی) اور وہ اپنی حاکمانہ حیثیت سے جو اقدامات کریں گے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ صلیب جو بت پرستوں کے بتوں کی طرح عیسائیوں کا گویا بت بن گئی ہے اور جس پر ان کے انتہائی گمراہ کن اور موجب کفر عقیدہ کفارہ کی بنیاد ہے اس کو توڑ دیں گے توڑ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی جو تعظیم اور ایک طرح کی پرستش عیسائیوں میں ہو رہی ہے اس کو ختم کردیں گے الغرض صلیب شکنی کا مطلب وہی سمجھنا چاہیے جو ہماری زبان میں بت شکنی کا سمجھا جاتا ہے اسی طرح کا ایک دوسرا اقدام ان کا یہ ہوگا کہ خنزیروں کو قتل کر آئیں گے عیسائیوں کی ایک بڑی گمراہی اور دین عیسوی میں ایک بڑی تحریف یہ بھی ھے کہ خنزیر (جو تمام آسمانی شریعتوں میں حرام ہے) اس کو انہوں نے جائز کرلیا ہے بلکہ وہ ان کی مرغوب ترین غذا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام نہ صرف یہ کہ اس کی حرمت کا اعلان فرما ئیں گے بلکہ اس نسل ہی کو نیست و نابود کر دینے کا حکم دیں گے اس کے علاوہ ان کا ایک خاص اقدام یہ بھی ہو گا کہ وہ جزیہ کے خاتمہ کا اعلان فرما دیں گے (جب رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں یہ ارشاد فرمایا تو حضرت عیسی علیہ السلام کا یہ فیصلہ اور اعلان اسی کی بنیاد پر ہوگا اپنی طرف سے اسلامی شریعت و قانون میں تبدیلی نہیں ہوگی) آخر میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس زمانہ میں مال و دولت کی ایسی کثرت اور بہتات ہوگی کہ کوئی کسی کو دینا چاہے گا تو وہ لینے اور قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو گا دنیا کی طرف سے بے رغبتی اور اس کے مقابلہ میں آخرت کے اجر و ثواب کی طلب و رغبت اللہ کے بندوں میں اس درجہ پیدا ہوجائے گی کہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سب کے مقابلہ میں اللہ تعالی کے حضور میں ایک سجدہ زیادہ عزیز اور قیمتی سمجھا جائے گا حضرت ابوہریرہ ؓٗ نے نزول مسیح علیہ السلام سے متعلق رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بیان فرمانے کے بعد فرمایا کہ “فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: الخ” مطلب یہ ہے کہ قیامت سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کے نازل ہونے کا بیان قرآن میں پڑھنا چاہو تو سورہ نساء کی یہ آیت “{وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ الاية (سورہ نساء، آیت نمبر ۱۵۹) پڑھو۔

1966Maarif-ul-Hadith

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول

عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے یہ بھی روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہوگا اس وقت جب نازل ہونگے تم میں عیسی بن مریم اور امام تمہارے ہونگے تم میں سے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح بظاہر رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت حالات بہت غیر معمولی ہوگی جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث اور اس موضوع سے متعلق دوسری حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے حدیث کے آخری جز “وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ” کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ اس وقت عیسی بن مریم کی حیثیت یہ ہوگی کہ (اگلے زمانے کے ایک نبی و رسول ہونے کے باوجود) تم میں کے یعنی تم مسلمانوں کی جماعت کے ایک فرد کی حیثیت سے تمھارے امام اور امیر ہونگے اسی حدیث کی صحیح مسلم کی ایک روایت میں “وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ” کی جگہ “فَأَمَّكُمْ مِنْكُمْ” ہے اور اس کے ایک راوی ابن ابی ذئب نے اس کی شرح ان الفاظ میں کی ہے “فَأَمَّكُمْ بِكِتَابِ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ” یعنی عیسی بن مریم نازل ہونے کے بعد مسلمانوں کے امام و حاکم ہونگے اور وہ امامت و حکومت قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق کریں گے اس تشریح کے مطابق اس حدیث میں عیسی علیہ السلام کی امامت سے مراد صرف نماز کی امامت نہیں بلکہ امامت عامہ مراد ہے۔ یعنی امت کی دینی و دنیوی قیادت و سربراہی اور حاکمانہ حیثیت۔ گویا اس وقت وہ رسول اللہ ﷺ کے نائب و خلیفہ ہوں گے۔

1967Maarif-ul-Hadith

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول

عَنِ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ- قَالَ- فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ لَنَا. فَيَقُولُ لاَ. إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ. تَكْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الأُمَّةَ. (رواه مسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں ہمیشہ ایک جماعت رہے گی جو حق کیلئے لڑتی رہے گی اور کامیاب رہے گی اسی سلسلہ کلام میں آگے آپ نے فرمایا پھر نازل ہوں گے عیسی بن مریم تو مسلمانوں کے اس وقت کے امیر و امام ان سے کہیں گے کہ آپ نماز پڑھائیے تو عیسی بن مریم فرمائیں گے نہیں (یعنی میں اس وقت امام بن کر نماز نہیں پڑھاوں گا) تمہارے امیر وامام تم ہی میں سے ہیں اللہ تعالی کی طرف سے اس امت کو یہ اعزاز بخشا گیا ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث کے پہلے جز میں تو رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے یہ طے ہو چکا ہے کہ میری امت میں ہمیشہ ایک جماعت رہے گی جو حق پر ہو گی اور حق کے لیے حسب حالات و ضرورت دشمنانہ حق سے لڑتی رہے گی اور کامیاب رہے گی حدیث کے شارحین نے لکھا ہے کہ دین حق کی حفاظت و بقا اور فروغ کے لئے یہ لڑائی مسلح جنگ کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے اور زبان و قلم اور دلائل و براہین سے بھی اوردین حق کی اس طرح حفاظت اور اس کے فروغ کی جدوجہد کرنے والے سب ہی باتوفیق بندے دین حق کے سپاہی اور مجاہد کی سبیل الحق ہیں اور بلاشبہ کوئی زمانہ ایسے بندگان خدا سے خالی نہیں رہا اور قیامت تک یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہے گا یہ اللہ تعالی کی طرف سے مقدر ہوچکا ہے حدیث کے دوسرے جز میں رسول اللہ ﷺ نے بطور پیشن گوئی و آگاہی یہ اطلاع دی ہے کہ قیامت کے قریب آخری زمانے میں عیسی بن مریم نازل ہونگے وہ نماز کا وقت ہوگا تو اس وقت مسلمانوں کے جو امام و امیر ہونگے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے عرض کریں گے کہ آپ تشریف لے آئے اب آپ ہی نمازپڑھائیں اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز کی امامت کرنے سے انکار کر دیں گے اور فرمائینگے کہ نماز آپ ہی پڑھاؤ اللہ تعالی نے امت محمدیہ کو جو خواص اعزاز بخشا ہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کا امام انہی میں سے ہو۔ سنن ابن ماجہ میں حضرت ابوامامہ ؓ کی روایت سے خروج دجال اور نزول مسیح علیہ السلام کے بارے میں ایک طویل حدیث ہے۔ اس میں یہ تفصیل ہے کہ مسلمان بیت المقدس میں جمع ہوں گے (یعنی دجال کے فتنہ سے حفاظت اور اس کے مقابلہ کیلئے مسلمان بیت المقدس میں جمع ہوں گے) فجر کی نماز کا وقت ہوگا اور لوگ نماز کے لیے کھڑے ہوگئے ہوں گے ان کے امام جو ایک مرد صالح ہوں گے (ہو سکتا ہے کہ وہ جناب مہدی ہوں) نماز پڑھانے کے لئے امام کی جگہ کھڑے ہو جائیں گے اور اقامت کہی جا چکی ہوگی اس وقت اچانک عیسیٰ علیہ السلام تشریف لے آئیں گے تو مسلمانوں کے جو امام و امیر نماز پڑھانے کے لئے آگے کھڑے ہو چکے ہونگے وہ پیچھے ہٹنے لگیں گے ان حضرت عیسی السلام سے عرض کریں گے کہ اب نماز پڑھائیں (کیوں کہ بہتر یہی ہے کہ جماعت میں جو سب سے افضل ہو وہی امامت کرے اور نماز پڑھائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو اگلے زمانے میں اللہ کے نبی و رسول تھے بلاشبہ سب سے افضل ہونگے اس لیے اس وقت کے مسلمانوں کے امام امامت کی مصلے سے پیچھے ہٹ کر ان سے درخواست کریں گے کہ اب جب کہ آپ تشریف لے آئے تو نماز آپ کی پڑھائیں) حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت نماز پڑھانے سے انکار کر دیں گے اور فرمائیں گے کہ نماز آپ ہی پڑھائیں کیونکہ آپ کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے لئے اس وقت جماعت کھڑی ہوئی ہے اور اقامت کہی جاچکی ہے بہرحال حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے بعد یہ پہلی نماز ہوگی اور وہ یہ نماز رسول اللہ ﷺ کے ایک امتی کے مقتدی بن کر ادا کریں گے اور خود امامت سے انکار فرما دیں گے وہ ایسا اس لئے کریں گے کہ ابتداء ہی میں عمل سے بھی یہ بات ظاہر ہو جائے گی کہ اگلے زمانے کے جلیل القدر نبی و رسول ہونے کے باوجود اس وقت وہ امت محمدیہ کے افراد کی طرح شریعت محمدی کے متبع ہیں اور اب دنیا کے خاتمہ تک شریعت محمدی ہی کا دور ہے۔

1968Maarif-ul-Hadith

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ- يَعْنِي عِيسَى عليه السلام - وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ رَجُلٌ مَرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ بَيْنَ مُمَصَّرَتَيْنِ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ فَيُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَى الإِسْلاَمِ فَيَدُقُّ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا إِلاَّ الإِسْلاَمَ وَيُهْلِكُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَيَمْكُثُ فِي الأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّى فَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ. (رواه ابوداؤد)

حضرت ابوہریرہ ؓٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے اور ان کے ساتھ اپنا خاص تعلق بیان فرماتے ہوئے) ارشاد فرمایا کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی پیغمبر نہیں (ان کے بعد اللہ تعالی نے مجھے ہی نبی و رسول بنا کر بھیجا ہے) اور یقینا وہ (میرے دور نبوت میں قیامت سے پہلے) نازل ہونے والے ہیں تم جب ان کو دیکھو تو پہچان لیجیو وہ میانہ قد ہونگے ان کا رنگ سرخی مائل سفید ہوگا وہ زرد رنگ کے دو کپڑوں میں ہونگے ایسا محسوس ہوگا کہ ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں اگرچہ سر کو تر نہ کیا گیا ہوگا وہ نازل ہونے کے بعد اسلام کے لیے جہاد و قتال کریں گے وہ صلیب کو پاش پاش کردیں گے اور خنزیروں کو نیست ونابود کرائیں گے اور جزیہ موقوف کردیں گے اور انکے زمانے میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سارے ملتوں اور مذہبوں کو ختم کردیں گے اور حضرت مسیح علیہ السلام دجال کا خاتمہ کردینگے، اس کو فنا کر دیں گے پس وہ اس زمین اور اس دنیا میں چالیس سال رہیں گے پھر یہی وفات پائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ (سنن ابی داؤد) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عیسی السلام کے نزول کی اطلاع کے ساتھ ان کی بعض ظاہری علامتیں بھی بیان فرمائیں ایک یہ کہ نی تو وہ زیادہ دراز قد ہونگے نہ پستہ قد بلکہ میانہ قد ہونگے دوسری یہ کہ ان کا رنگ سرخ و سفید ہوگا تیسری یہ کہ ان کا لباس ہلکے زرد رنگ کے دو کپڑے ہونگے چوتھی یہ کہ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہوگا کہ ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں حالاں کہ ان کے سر پر پانی نہ پڑا ہو گا وہ تو اسی وقت آسمان سے اترے ہونگے مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے صاف شفاف ہوں گے اور ان کے سر کے بالوں کی کیفیت ایسی ہوگی کہ ابھی غسل فرما کے تشریف لا رہے ہیں۔ یہ چند ظاہری علامتیں بتلانے کے بعد آپ ﷺ نے ان کے خاص اقدامات اور کارناموں کا ذکر فرمایا اس سلسلہ کی پہلی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کے دین حق اسلام کی دعوت دیں گے (جس کی دعوت اپنے اپنے وقت پر اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے سب پیغمبروں نے دی ہے) اور ان کا آسمان سے نازل ہو کر دین اسلام کی دعوت دینا اس کے دین حق ہونے کی ایسی روشن دلیل ہوگی جس کے بعد اس کو قبول کرنے سے صرف وہی بدبخت اور سیاہ باطن لوگ انکار کریں گے جن کے دلوں میں حق سے عناد ہوگا اور اس کو قبول کرنے کی گنجائش ہی نہ ہوگی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کو بھی دین حق اور اسلام کی نعمت سے بہرہ ور کرنے کے لیے بالآخر طاقت استعمال فرمائیں گے اور جہاد و قتال کریں گے اس کے علاوہ دو اقدام ان کے خاص طور سے ان کے نام لیوا عیسائیوں سے متعلق ہونگے ایک یہ کہ وہ صلیب کو پاش پاش کر دیں گے جس کو عیسائیوں نے اپنا شعار اور گویا معبود بنا لیا ہے اور جس پر ان کے انتہائی گمراہانہ عقیدہ کفارہ کی بنیاد ہے اس کے ذریعہ اس حقیقت کا بھی اظہار ہوگا کہ وہ صلیب پر نہیں چڑھائے گئے اس بارے میں یہودیوں اور عیسائیوں دونوں فرقوں کا عقیدہ غلط باطل ہے حق وہ ہے جس کا اعلان قرآن پاک میں کیا گیا ہے اور جو امت مسلمہ کا عقیدہ ہے۔ اپنے نام لیوا عیسائیوں سے ہی متعلق دوسرا اقدام ان کا یہ ہوگا کہ وہ خنزیروں کو نیست ونابود کرائیں گے جن کو عیسائیوں نے اپنے لئے حلال قرار دے دیا لیا ہے حالانکہ وہ تمام آسمانی شریعتوں میں حرام رہا ہے اس کے بعد حدیث شریف میں عیسی علیہ السلام کے اس اقدام کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ جزیہ لینا موقوف اور ختم کردیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ ارشاد فرما کر ظاہر فرما دیا کہ ہماری شریعت میں جزیہ کا قانون نزول مسیح کے وقت تک کیلئے ہے جب وہ نازل ہو جائیں گے اور آپ کے خلیفہ کی حیثیت سے امت مسلمہ کے سربراہ اور حاکم ہونگے تو جزیہ کا قانون ختم ہو جائے گا (اس کا ایک ظاہری سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے نازل ہونے کے بعد اللہ تعالی کی طرف سے جو غیر معمولی برکات ہوگی تو حکومت کو جزیہ وصول کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے گی جو ایک طرح کا ٹیکس ہے) اس کے بعد حدیث شریف میں ان کے دو اہم کا ناموں کا ذکر فرمایا گیا ہے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ دین حق اسلام کے سوا دوسرے تمام باطل مذہبوں اور ملتوں کو ختم فرما دے گا سب ایمان لے آئینگے اور اسلام قبول کرلیں گے اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالی انہی کے ہاتھ سے دجال کو ہلاک کرا کے جہنم واصل کرے گا اور دنیا دجال کے اس فتنہ سے نجات پائے گی جو اس دنیا کا سب سے بڑا فتنہ ہوگا آخر میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مسیح علیہ السلام نازل ہونے کے بعد اس دنیا اور اس زمین میں چالیس سال رہیں گے اس کے بعد یہیں وفات پائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ حضرت ابو ہریرہؓ کی یہ حدیث جو سنن ابی داود کے حوالہ سے یہاں نقل کی گئی اور یہاں تک اسکی تشریح کی گئی یہ مسند امام احمد میں بھی ہے اور اس میں کچھ اضافہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد اور ان کے زمانہ حکومت و خلافت میں اللہ تعالی کی طرف سے جو خارق عادت برکات ہوں گی ان میں سے ایک یہ بھی ہوگی کہ شیر بھیڑئیے وغیرہ درندوں کی فطرت بدل جائے گی بجائے درندگی کے ان میں سلامتی آجائیگی شیر، چیتے، اونٹوں، گایوں، بیلوں کے ساتھ اسی طرح بھیڑئیے، بکریوں کے ساتھ گھومیں گے، کوئی کسی پر حملہ نہیں کرے گا اسی طرح چھوٹے بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور سانپ کسی کو نہیں ڈسے گا اور کسی سے کسی کو ایذا نہیں پہنچے گی یہ خوارق اور درندوں کی فطرت تک میں یہ انقلاب اسکی علامت ہوگا کہ یہ دنیا اب تک جن نظام کے ساتھ چل رہی تھی اب وہ ختم ہونے والا ہے اور قیامت قریب ہے اور اس کے بعد آخرت والا نظام چلنے والا ہے جیسا کہ راقم سطور نے تمہیدی اصولوں کے ضمن میں عرض کیا تھا اس وقت کو روزقیامت کی صبح صادق سمجھنا چاہیے۔ اللہ تعالی کی قدرت کی وسعت پر جس کا ایمان ہو اس کے لئے ان میں سے کوئی بات بھی ناقابل فہم اور ناقابل یقین نہیں۔

1969Maarif-ul-Hadith

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنْزِلُ عِيْسَى بْنِ مَرْيَمَ اِلَى الْاَرْضِ فَيَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ وَيَمْكُثُ خَمْسًا وَاَرْبَعِيْنَ سَنَةً ثُمَّ يَمُوْتُ فَيَدْفَنُ مَعِىَ فِىْ قَبْرِىْ فَأَقُوْمُ أَنَا وَعِيْسَى بْنِ مَرْيَمَ فِىْ قَبْرٍ وَاحِدٍ بَيْنَ أَبِىْ بَكْرٍ وَعُمَرَ. (رواه ابن الجوزى فى كتاب الوفا)

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عیسی بن مریم زمین پر نازل ہونگے وہ یہاں آ کر نکاح بھی کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی اور وہ پینتالیس سال رہیں گے پھر ان کی وفات ہوجائے گی وفات کے بعد ان کو میرے ساتھ (اس جگہ جہاں میں دفن کیا جاؤں گا) دفن کیا جائے گا پھر جب قیامت قائم ہوگی تو میں اور عیسی بن مریم ابوبکر و عمر کے درمیان قبر کی اسی جگہ سے اٹھیں گے۔ (کتاب الوفا لابن الجوزی) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عیسی السلام کے نزول کی اطلاع کے ساتھ ان کی بعض ظاہری علامتیں بھی بیان فرمائیں ایک یہ کہ نی تو وہ زیادہ دراز قد ہونگے نہ پستہ قد بلکہ میانہ قد ہونگے دوسری یہ کہ ان کا رنگ سرخ و سفید ہوگا تیسری یہ کہ ان کا لباس ہلکے زرد رنگ کے دو کپڑے ہونگے چوتھی یہ کہ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہوگا کہ ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں حالاں کہ ان کے سر پر پانی نہ پڑا ہو گا وہ تو اسی وقت آسمان سے اترے ہونگے مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے صاف شفاف ہوں گے اور ان کے سر کے بالوں کی کیفیت ایسی ہوگی کہ ابھی غسل فرما کے تشریف لا رہے ہیں۔ یہ چند ظاہری علامتیں بتلانے کے بعد آپ ﷺ نے ان کے خاص اقدامات اور کارناموں کا ذکر فرمایا اس سلسلہ کی پہلی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کے دین حق اسلام کی دعوت دیں گے (جس کی دعوت اپنے اپنے وقت پر اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے سب پیغمبروں نے دی ہے) اور ان کا آسمان سے نازل ہو کر دین اسلام کی دعوت دینا اس کے دین حق ہونے کی ایسی روشن دلیل ہوگی جس کے بعد اس کو قبول کرنے سے صرف وہی بدبخت اور سیاہ باطن لوگ انکار کریں گے جن کے دلوں میں حق سے عناد ہوگا اور اس کو قبول کرنے کی گنجائش ہی نہ ہوگی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کو بھی دین حق اور اسلام کی نعمت سے بہرہ ور کرنے کے لیے بالآخر طاقت استعمال فرمائیں گے اور جہاد و قتال کریں گے اس کے علاوہ دو اقدام ان کے خاص طور سے ان کے نام لیوا عیسائیوں سے متعلق ہونگے ایک یہ کہ وہ صلیب کو پاش پاش کر دیں گے جس کو عیسائیوں نے اپنا شعار اور گویا معبود بنا لیا ہے اور جس پر ان کے انتہائی گمراہانہ عقیدہ کفارہ کی بنیاد ہے اس کے ذریعہ اس حقیقت کا بھی اظہار ہوگا کہ وہ صلیب پر نہیں چڑھائے گئے اس بارے میں یہودیوں اور عیسائیوں دونوں فرقوں کا عقیدہ غلط باطل ہے حق وہ ہے جس کا اعلان قرآن پاک میں کیا گیا ہے اور جو امت مسلمہ کا عقیدہ ہے۔ اپنے نام لیوا عیسائیوں سے ہی متعلق دوسرا اقدام ان کا یہ ہوگا کہ وہ خنزیروں کو نیست ونابود کرائیں گے جن کو عیسائیوں نے اپنے لئے حلال قرار دے دیا لیا ہے حالانکہ وہ تمام آسمانی شریعتوں میں حرام رہا ہے اس کے بعد حدیث شریف میں عیسی علیہ السلام کے اس اقدام کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ جزیہ لینا موقوف اور ختم کردیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ ارشاد فرما کر ظاہر فرما دیا کہ ہماری شریعت میں جزیہ کا قانون نزول مسیح کے وقت تک کیلئے ہے جب وہ نازل ہو جائیں گے اور آپ کے خلیفہ کی حیثیت سے امت مسلمہ کے سربراہ اور حاکم ہونگے تو جزیہ کا قانون ختم ہو جائے گا (اس کا ایک ظاہری سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے نازل ہونے کے بعد اللہ تعالی کی طرف سے جو غیر معمولی برکات ہوگی تو حکومت کو جزیہ وصول کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے گی جو ایک طرح کا ٹیکس ہے) اس کے بعد حدیث شریف میں ان کے دو اہم کا ناموں کا ذکر فرمایا گیا ہے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ دین حق اسلام کے سوا دوسرے تمام باطل مذہبوں اور ملتوں کو ختم فرما دے گا سب ایمان لے آئینگے اور اسلام قبول کرلیں گے اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالی انہی کے ہاتھ سے دجال کو ہلاک کرا کے جہنم واصل کرے گا اور دنیا دجال کے اس فتنہ سے نجات پائے گی جو اس دنیا کا سب سے بڑا فتنہ ہوگا آخر میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مسیح علیہ السلام نازل ہونے کے بعد اس دنیا اور اس زمین میں چالیس سال رہیں گے اس کے بعد یہیں وفات پائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ حضرت ابو ہریرہؓ کی یہ حدیث جو سنن ابی داود کے حوالہ سے یہاں نقل کی گئی اور یہاں تک اسکی تشریح کی گئی یہ مسند امام احمد میں بھی ہے اور اس میں کچھ اضافہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد اور ان کے زمانہ حکومت و خلافت میں اللہ تعالی کی طرف سے جو خارق عادت برکات ہوں گی ان میں سے ایک یہ بھی ہوگی کہ شیر بھیڑئیے وغیرہ درندوں کی فطرت بدل جائے گی بجائے درندگی کے ان میں سلامتی آجائیگی شیر، چیتے، اونٹوں، گایوں، بیلوں کے ساتھ اسی طرح بھیڑئیے، بکریوں کے ساتھ گھومیں گے، کوئی کسی پر حملہ نہیں کرے گا اسی طرح چھوٹے بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور سانپ کسی کو نہیں ڈسے گا اور کسی سے کسی کو ایذا نہیں پہنچے گی یہ خوارق اور درندوں کی فطرت تک میں یہ انقلاب اسکی علامت ہوگا کہ یہ دنیا اب تک جن نظام کے ساتھ چل رہی تھی اب وہ ختم ہونے والا ہے اور قیامت قریب ہے اور اس کے بعد آخرت والا نظام چلنے والا ہے جیسا کہ راقم سطور نے تمہیدی اصولوں کے ضمن میں عرض کیا تھا اس وقت کو روزقیامت کی صبح صادق سمجھنا چاہیے۔ اللہ تعالی کی قدرت کی وسعت پر جس کا ایمان ہو اس کے لئے ان میں سے کوئی بات بھی ناقابل فہم اور ناقابل یقین نہیں۔ تشریح ..... یہ مسلمات میں سے ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب ہماری دنیا میں تھے تو انہوں نے یہاں پوری زندگی تجرد کی گزاری، نکاح نہیں کیا، حالانکہ نکاح اور تزوج انسان کی فطری ضروریات میں سے ہیں اور اس میں بڑی حکمتیں ہیں اسی لیے جہاں تک معلوم ہے ان سے پہلے اللہ کے تمام پیغمبروں نے اور ان کے بعد آنے والے خاتم النبیین ﷺ نے بھی نکاح کیا ہے ابن الجوزی کی کتاب الوفاء کی اس روایت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے آخر زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر دیتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ نزول کے بعد کی یہاں کی زندگی میں وہ نکاح بھی کریں گے اور اولاد بھی ہو گی اگے اس روایت میں ان کے قیام کی مدت پینتالیس سال بیان کی گئی ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓٗ کی مندرجہ بالا روایت (جو سنن ابی داود کے حوالہ سے اوپر نقل کی گئی ہے) نزول کے بعد ان کی مدت قیام چالیس سال بتلائی گئی بعض اور روایات میں بھی ان کی مدت قیام چالیس سال ہی بیان فرمائی گئی ہے بعض شارحین نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ چالیس والی روایات میں اوپر کا عدد حذف کر دیا گیا ہے اور عربی محاورات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ قصر حذف کر دی جاتی ہے، واللہ اعلم۔ روایت کے آخری حصہ میں یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہیں وفات پائیں گے اور جہاں میں دفن کیا جاؤں گا وہیں وہ بھی دفن کیے جائیں گے اور جب قیامت قائم ہوگی تو میں اور وہ ساتھ ہی اٹھیں گےاور ابوبکروعمر بھی دائیں بائیں ہمارے ساتھ ہوں گے اس روایت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ پر مستقبل کی جو بہت سی باتیں منکشف کی گئی تھی جن کی آپ ﷺ نے امت کو اطلاع دی، ان میں سے یہ بھی تھی کہ جس جگہ میں دفن کیا جاؤں گا، میرے بعد میرے دونوں خاص رفیق ابوبکر و عمر بھی دفن کئے جائیں گے۔ اور آخری زمانے میں جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور یہیں وفات پائیں گے تو ان کو بھی اس جگہ میرے ساتھ ہی دفن کیا جائے گا اور جب قیامت قائم ہو گی تو ہم دونوں ساتھ اٹھیں گے اور ابوبکر و عمر ہمارے دائیں بائیں ہوں گے۔ معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے حجرہ شریفہ میں ہوئی تھی اور آپ کے ایک ارشاد کے مطابق اسی جگہ آپ دفن کیے گئے اس کے بعد جب حضرت صدیق اکبر ؓٗ کی وفات ہوئی تو وہ بھی وہیں برابر میں دفن کیے گئے۔ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ نہ شہید کئے گئے تو حضرت صدیقہ ؓ کی رضا اور اجازت سے وہ بھی وہیں صدیق اکبرؓ کے برابر میں دفن کیے گئے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حجرہ شریفہ میں ایک قبر کی جگہ اس کے بعد بھی باقی رہی پھر سبط اکبر حضرت حسن بن علی ؓ کی وفات ہوئی تو لوگوں نے چاہا کہ ان کو وہاں دفن کیا جائے۔ ام المومنین حضرت صدیقہ ؓ نے رضامندی اور اجازت دے دی لیکن اس وقت اموی حکومت کے جو حکام مدینہ منورہ میں تھے وہ مانع ہوئے (غالبا اس وجہ سے کہ حضرت عثمان ؓٗ کو وہاں دفن نہیں کیا گیا) پھر جب حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کی وفات ہوئی (جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے) تب بھی یہی ہوا کہ حضرت صدیقہ ؓ نے ان کی تدفین کی اجازت دے دی لیکن وہ بھی وہاں دفن نہیں کئے جا سکے۔ پھر جب خود ام المومنین حضرت صدیقہ ؓ کے مرض وفات پر ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ کو اس جگہ دفن کیا جائے تو انہوں نے فرمایا کہ بقیع میں جہاں حضور ﷺ کی دوسری ازواج مطہرات مدفون ہیں مجھے بھی ان کے ساتھ بقیع ہی میں دفن کیا جائے۔ چنانچہ وہ وہیں دفن کی گئیں بہرحال حضرت عمر ؓ کے بعد روضہ اقدس میں ایک قبر کی جو خالی جگہ رہی تھی وہ خالی ہی ہے اور مندرجہ بالا روایت کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہونے کے بعد وفات پائیں گے تو وہیں دفن کئے جائیں گے۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ رسول اللہ ﷺ کے مشہور صحابی ہیں۔ یہ پہلے یہودی تھے اور تورات اور قدیم آسمانی صحیفوں کے بہت بڑے عالم تھے۔ امام ترمذی نے اپنی سند کے ساتھ جامع ترمذی میں ان کا یہ بیان روایات کیا ہے جس کو صاحب مشکوة نے بھی ترمذی ہی کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔

1970Maarif-ul-Hadith

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ قَالَ مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ صِفَةُ مُحَمَّدٍ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ يُدْفَنُ مَعَهُ. (رواه الترمذى و مشكوة المصابيح)

عبداللہ بن سلام ؓ نے بیان فرمایا کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ کا حال بیان کیا گیا ہے (اس میں یہ بھی ہے) کہ عیسی بن مریم علیہ السلام ان کے ساتھ (یعنی ان کے قریب ہی) دفن کئے جائیں گے۔ تشریح امام ترمذی کی سند میں اس حدیث کے راویوں میں ایک ابو مودود ہیں امام ترمذی نے اس حدیث کے ساتھ ان ابو مودود کا یہ بیان بھی نقل کیا ہے وقد بقی فی البیت موضع قبر (یعنی حجرہ شریفہ میں (جواب روضہ مقدسہ ہے) ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ کیا عجب بلکہ قرین قیاس ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک قبر کی جگہ خالی رہنے کا تکوینی انتظام اسی لئے ہوا ہو کہ اس جگہ حضرت مسیح علیہ السلام کا مدفون ہونا مقدر ہو چکا ہے۔ واللہ اعلم۔

1971Maarif-ul-Hadith

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ. (رواه الحاكم فى المستدرك)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی عیسی بن مریم علیہ السلام کو پائے وہ ان کو میرا سلام پہنچائے۔ (مستدرک حاکم) تشریح اس مضمون کی ایک اور حدیث مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے اور مسند احمد ہی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ لوگوں سے فرمایا کرتے تھے کہ “إِقْرَءُوْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ السَّلَامَ” (تم لوگ اگر عیسی علیہ السلام کو پاؤ تو ان کو رسول اللہ ﷺ کا سلام پہنچائیو) اور مستدرک حاکم میں ایک روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے ایک مجلس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے متعلق رسول اللہ ﷺ کا ایک ارشاد بیان کرنے کے بعد حاضرین مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی طرف سے فرمایا “اے بنى اخى ان رايتموه فقولوا ابو هريرة يقرئك السلام” (اے میرے بھتیجو (1) اگر تم عیسی علیہ السلام کو دیکھو تو میری طرف سے ان سے عرض کیجیو کے ابوہریرہ ؓ نے آپ کو سلام کہا ہے) حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول سے متعلق یہاں صرف سات حدیثیں نقل کی گئی ہیں اور ان کی بقدر ضرورت ہی وضاحت اور تشریح کی گئی ہے (جیساکہ اس سلسلہ معارف الحدیث میں راقم السطور کا عام معمول رہا ہے) ابتدائی تمہیدی سطروں میں استاذنا امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے رسالہ “التصریح بما تواتر فی نزول المسیح” کا ذکر کیا جاچکا ہے اس میں حضرت استاذ رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلہ نزول مسیح علیہ السلام سے متعلق تحدیث کی صرف مطبوعہ کتابوں سے مختلف صحابہ کرامؓ کی روایت کی ہوئ پچھتر حدیثیں جمع فرمائیں۔ یہ مختلف اوقات اور مختلف مجلسوں میں فرمائے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ارشادات ہیں جن میں آپ ﷺ نے آخری زمانے میں قیامت سے پہلے جبکہ دجال کا خروج ہوگا جو آپ ﷺ کی امت کے لئے عظیم ترین فتنہ ہوگا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی اور ان کے ان اہم اقدامات اور کارناموں کی امت کو خبر دی ہے جن کا خاص تعلق آپ ﷺ کی امت سے ہوگا اس رسالہ میں حضرت استاد رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث نبویہ کے علاوہ اسی مسئلہ نزول مسیح علیہ السلام سے متعلق حضرات صحابہ و تابعین کے 26 ارشادات بھی حدیث کی کتابوں سے جمع فرما دیئے ہیں اس کتاب کے مطالعہ سے یہ بات آفتاب نیمروز کی طرح سامنے آجاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری زمانے میں حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کے نازل ہونے کی امت کو خبر دینا ایسے تواتر سے ثابت ہے کہ اس میں کسی تاویل اور شک و شبہ کی گنجائش نہیں نیز یہ کہ حضرات صحابہ کرامؓ اور ان کے بعد حضرات تابعین کا عقیدہ بھی یہی تھا اور انہوں نے قرآنی آیات اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات سے یہی سمجھا تھا۔ جاری بلاشبہ حضرت استاذ کا یہ رسالہ اس مسئلہ میں حجت قاطعہ ہے۔ وَلِلهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ

1972Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور مقامات عالیہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ. (رواه مسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سید (سردار) ہوں گا اور میں پہلا وہ شخص ہوگا جس کی قبر شق ہوگی (یعنی قیامت کے دن اللہ تعالی کے حکم سے سب سے پہلے میری قبر شق ہوگئی اور میں سب سے پہلے اپنی قبر سے اٹھوں گا) اور میں شفاعت کرنے والا پہلا شخص ہوگا (یعنی اللہ تعالی کی طرف سے سب سے پہلے شفاعت کی اجازت مجھے ملے گی اور سب سے پہلے میں ہی اس کی بارگاہ میں شفاعت کروں گا) اور میں ہی وہ شخص ہوں جس کی شفاعت سب سے پہلے قبول فرمائی جائے گی۔ (صحیح مسلم) تشریح اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو جو علم و معارف عطا ہوئے اور آپ کے ذریعے امت کو ملے جو انسانی زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق ابواب میں منقسم ہیں ان میں سے ایک مناقب و فضائل کا باب بھی ہے حدیث کی قریبا سبھی کتابوں میں “کتاب المناقب” یا “ابواب المناقب” جیسے عنوانات کے تحت رسول اللہ ﷺ کے وہ ارشادات روایت کئے گئے ہیں جن میں آپ نے بعض خاص اشخاص و افراد یا خاص طبقات کے وہ مناقب و فضائل بیان فرمائے ہیں جو اللہ تعالی نے آپ ﷺ پر منکشف فرمائے یہ باب بعض پہلوؤں سے حدیث کے اہم ابواب میں سے ہیں اس میں امت کے لیے ہدایت کا بہت بڑا سامان ہے اج بنام خدا اس باب کی احادیث کی تشریح کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے اور اس کا آغاز چند ان حدیثوں کی تشریح سے کیا جارہا ہے جن میں رسول اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد “ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ” کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے رب کریم کے خصوصی انعامات کا اور ان کے مقامات عالیہ کا ذکر فرمایا ہے جن پر آپ کو فائز کیا گیا تھا ساتھ ہی انشاءاللہ آپ ﷺ کے شمائل و خصائل اور خاص احوال سے متعلق احادیث بھی تشریح کے ساتھ نظر ناظرین کی جائیں گی۔ تشریح ..... رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے مجھ پر ایک خاص انعام یہ بھی فرمایا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پوری نسل میں (جس میں تمام انبیاء علیہم السلام بھی شامل ہیں) مجھے سب سے اعلی مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے مجھے سب کا سید و آقا بنایا ہے اس کا پورا ظہور جس کو سب آنکھوں سے دیکھیں گے قیامت کے دن ہو گا اور اسی دن اللہ تعالی کے ان خصوصی انعام کا بھی ظہور ہوگا کہ جب مردوں کے قبر سے اٹھنے کا وقت آئے گا تو بحکم خداوند سب سے پہلے میری قبر اوپر سے شق ہو گی اور میں سب سے پہلے قبر سے باہر آؤں گا اور پھر جب شفاعت کا دروازہ کھلنے کا وقت آئے گا تو باذن خداوندی سب سے پہلے میں ہی شفاعت کرنے والا ہوں گا اور میں ہی پہلا وہ شخص ہوں گا جس کی شفاعت کو اللہ تعالی کی طرف سے شرف قبول حاصل ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ اس طرح کے عظیم خداوندی انعامات کا اظہار اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے اس لیے بھی فرماتے تھے کہ امت آپ ﷺ کے مقام عالی سے واقف ہو اور اس کے قلب میں آپ ﷺ کی وہ عظمت اور محبت پیدا ہو جو ہونی چاہیے اور پھر دل میں آپ ﷺ کی اتباع کا جذبہ اور داعیہ ابھرے نیز اللہ تعالی کی اس نعمت عظمیٰ کے شکر کی توفیق ہو کہ اس نے ایسے عظیم المرتبت پیغمبر کا امتی بنایا الغرض آپ ﷺ کے اس طرح ارشادات تحدیث نعمت اور شکر نعمت کے علاوہ امت کی ہدایت و تربیت کے اسباب بھی ہیں۔ یہاں ایک یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے متعدد حدیثیں اس مضمون کی مروی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ فلاں پیغمبر پر مجھے فضیلت نہ دی جائے آپ کے اس طرح کے ارشادات کا مطلب (جو شارحین نے لکھا ہے اور خود ان حدیثوں کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے) یہ ہے کہ اللہ تعالی کہ کسی بھی پیغمبر کے ساتھ مقابلہ اور موازنہ کرکے ان کو کمتر ثابت کرنے کی بات نہ کی جائے اس میں ان کی کسر شان اور سوء ادب کا اندیشہ ہے ورنہ االلہ تعالی نے اپنی کتاب پاک قرآن مجید میں فرمایا ہے “ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ” (یہ ہمارے رسول ہیں جن میں سے بعض کو ہم نے بعض پر فضیلت اور برتری دی ہے) اور قرآن مجید میں متعدد آیتیں ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کا تمام انبیاء و مرسلین سے افضل ہونا واضح طور پر ثابت ہوتا ہے مثلا “وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ” اور “وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ ..... الاية” وغيرها

1973Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور مقامات عالیہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ فَخْرَ وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلاَ فَخْرَ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاهُ إِلاَّ تَحْتَ لِوَائِي وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ وَلاَ فَخْرَ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں تمام بنی آدم کا سید (سردار) ہوں گا اور یہ میں فخر کے طور پر نہیں کہتا اور حمد کا جھنڈا اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا اور یہ بھی میں فخر کے طور پر نہیں کہتا اور تمام انبیاء علیہم سلام آدمؑ اور انکے سوا بھی سب انبیاء و مرسلین اس دن میرے جھنڈے کے نیچے ہونگے اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس کی قبرکی زمین اوپر سے شق ہو گئی اور یہ بھی میں فخر کے طور پر نہیں کہتا۔ (بلکہ اللہ تعالی کے حکم سے اس کے انعام و احسان کا بیان کر رہا ہوں) (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث کے اول و آخر میں اللہ تعالیٰ کے جن دو انعامات کا ذکر فرمایا گیا ہے ایک “أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ” اور دوسرا “وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تُنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ” ان دونوں کا ذکر حضرت ابوہریرہ ؓ کی مندرجہ بالا حدیث میں بھی کیا گیا ہے اور ان کی تشریح بھی کی جاچکی ہے حضرت ابوسعید ؓٗ کی اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے مزید اس خاص الخاص انعام و کرام کا ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے بن لواء الحمد (حمد کا جھنڈا) میرے ہاتھ میں دیا جائے گا اور تمام انبیاء ومرسلین میرے اس جھنڈے تلے ہوگے۔ یہ بات معلوم ومعروف ہیں کہ جھنڈا لشکر کے سپہ سالار اعظم کے ہاتھ میں دیا جاتا ہے اور باقی لشکری اس کے ماتحت ہوتے ہیں پس قیامت کے دن اللہ تعالی کی طرف سے جھنڈا رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں دیا جانا اور آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء کا آپ ﷺ کے اس جھنڈے تلے ہونا اللہ تعالی کی طرف سے تمام مخلوقات اور تمام انبیاء پر رسول اللہ ﷺ کی سیادت و فضیلت کا ایسا ضرور ہوگا جس کو ہر دیکھنے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد میں بھی اللہ تعالی کا ہر انعام ذکر فرمانے کے ساتھ یہ بھی فرمایاکہ “ولا فخر” کہ اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کا ذکر میں فخر کے طور پر نہیں کررہا ہوں بلکہ اس کے حکم کی تعمیل میں تحدیث نعمت اور اداء شکر کے طور نہ اور تمہاری واقفیت کے لئے کر رہا ہوں۔ یہ لواءالحمد (حمد کا جھنڈا) جو قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں دیا جائے گا اس واقعی حقیقت کی علامت اور اس کا اعلان ہوگا جس برگزیدہ بندے کے ہاتھ میں حمد خداوندی کا یہ جھنڈا ہے اس کا حصہ اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے عمل میں (جو کسی بندے کو اللہ کا محبوب و مقبول بنانے والا خاص الخاص عمل ہے) سب سے زیادہ ہے اللہ کی حمد خود اس کی زندگی کا ہمہ وقتی وظیفہ تھا دن رات کی نمازوں میں بار بار اللہ کی حمد، اٹھتے بیٹھتے اللہ کی حمد، کھاناکھانے کے بعد اللہ کی حمد، پانی پینے کے بعد اللہ کی حمد، سونے سے پہلے اور سو کر اٹھنے کے بعد اللہ کی حمد، لذت اور مسرت کے ہر موقع پر اللہ کی حمد، اللہ تعالی کی کسی بھی نعمت کے احساس کے وقت اس کی حمد، یہاں تک کہ چھینک آنے پر اللہ کی حمد، استنجے سے فراغت پر اللہ کی حمد (ان تمام ملکوں پر رسول اللہ ﷺ سے جو دعائیں ثابت ہیں ان سب میں اللہ تعالی کی حمد ہی ہے) پھر آپ ﷺ نے اپنی امت کو بڑے اہتمام سے اسی طرز عمل کی ہدایت اور تلقین فرمائی جس کے نتیجہ میں بلاشبہ اللہ تعالی کی اتنی حمد ہوئی اور قیامت تک ہوگی جس کا حساب بس اللہ تعالی ہی کے علم میں ہے اس لیے بلاشبہ آپ ﷺ ہیں اس کے مستحق ہیں کہ لواءالحمد (حمد کا جھنڈا) قیامت کے دن آپ ﷺ کے ہاتھ میں دیا جائے اور اس کے ذریعہ آپ کی اس خصوصیت کا اعلان و اظہار کیا جائے۔ صلی اللہ علیہ و بارک وسلم۔

1974Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور مقامات عالیہ

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غَيْرُ فَخْرٍ. (رواه الترمذى)

حضرت ابی بن کعب ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو میں تمام نبیوں کا امام اور پیشوا ہو گا اور ان کی طرف سے خطاب اور کلام کرنے والا ہوں گا اور ان کی سفارش کرنے والا ہی ہوں گا اور یہ میں بطور فخر کے نہیں کہتا (بلکہ اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل میں تحدیث نعمت کے طور پر کہہ رہا ہوں)۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے کو قیامت کے دن انبیاء علیہم السلام کا خطیب اور صاحب شفاعت بھی فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب جلال خداوندی کا غیرمعمولی ظہور ہو گا تو انبیاء علیہم السلام کو بارگاہ خداوندی میں کچھ عرض کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوگی تو میں ان کی طرف سے بارگاہ الہی میں کلام اور عرض ومعروض کروں گا اور ان کے لیے سفارش کروں گا یہاں بھی آخر میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں یہ سب کچھ از راہ فخر وتعلی نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ تحدیث نعمت کے طور پر اور تم لوگوں کو واقف کرنے کے لئے اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل میں بیان کر رہا ہوں۔

1975Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور مقامات عالیہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَلَسَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْهُمْ سَمِعَهُمْ يَتَذَاكَرُونَ قَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلاً. وَقَالَ آخَرُ مُوسَى كَلَّمَهُ تَكْلِيمًا وَقَالَ آخَرُ عِيسَى كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ. وَقَالَ آخَرُ آدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّهُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ كَلاَمَكُمْ وَعَجَبَكُمْ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلُ اللَّهِ وَهُوَ كَذَلِكَ وَمُوسَى نَجِيُّ اللَّهِ وَهُوَ كَذَلِكَ وَعِيسَى رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ وَهُوَ كَذَلِكَ وَآدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّهُ وَهُوَ كَذَلِكَ أَلاَ وَأَنَا حَبِيبُ اللَّهِ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُحَرِّكُ حِلَقَ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُ اللَّهُ لِيَ فَيُدْخِلُنِيهَا وَمَعِي فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا أَكْرَمُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ وَلاَ فَخْرَ. (رواه الترمذى والدارمى)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے اسی حال میں رسول اللہ ﷺ اندر سے تشریف لے آئے جب آپ ﷺ ان لوگوں کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ نے سنا کہ وہ آپس میں یہ باتیں کر رہے ہیں ان میں سے ایک نے (حضرت ابراہیمؑ کی عظمت شان بیان کرتے ہوئے) کہا کہ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا ایک دوسرے صاحب نے کہا کہ اور حضرت موسیؑ کو ہم کلامی کا شرف بخشا پھر ایک اور صاحب نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ مقام ہے کہ وہ کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں پھر ایک اور صاحب نے کہا کہ حضرت آدمؑ کو اللہ تعالی نے برگزیدہ کیا (کہ ان کو براہ راست اپنے دست قدرت سے بنایا اور ان کو سجدہ کرنے کا فرشتوں کو حکم دیا وہ صحابہ یہ باتیں کررہے تھے) کہ اچانک رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا کہ میں نے تمہاری گفتگو اور تمہارا اظہار تعجب سنا، بےشک ابراہیمؑ اللہ کے خلیل ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں (ان کو اللہ تعالی نے اپنا خلیل بنایا ہے) اور بےشک موسیؑ نجی اللہ (اللہ کے ہمراز و ہم سخن) ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں اور بے شک عیسی روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں اور بےشک آدم صفی اللہ (اللہ کے برگزیدہ) ہیں اور فی الحقیقت وہ ایسے ہی ہیں اور تم کو معلوم رہنا چاہیے کہ میں حبیب اللہ (اللہ کا محبوب) ہوں اور یہ میں بطور فخر نہیں کہتا اور قیامت کے دن میں ہی لواءالحمد (حمد کا جھنڈا) اٹھانے والا ہوگا، آدم اور ان کے سوا بھی سب (انبیاء و مرسلین) میرے اس جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور یہ بات میں فخر کے طور پر نہیں کہتا اور میں سب سے پہلا وہ شخص ہوگا جو قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے جس کی شفاعت قبول فرمائی جائے گی اور میں پہلا وہ شخص ہوگا جو (جنت کا دروازہ کھلوانے کے لیے) اس کے حلقہ کو ہلائے گا تو اللہ تعالی میرے لیے اس کو کھلوا دے گا اور مجھے جنت میں داخل فرمائے گا اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہونگے اور یہ بات بھی میں فخر سے نہیں کہتا اور بارگاہ خداوندی میں اولین و آخرین میں سب سے زیادہ میرا اکرام و اعزاز ہوگا اور یہ بھی فخر سے نہیں کہتا۔ (جامع ترمذی و مسند دارمی) تشریح رسول اللہ ﷺ کا مزاج مبارک اور عام رویہ تواضع اور انکساری کا تھا لیکن ضرورت محسوس ہوتی تو اللہ تعالی کے ارشاد “وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ” کی تعمیل میں اللہ تعالیٰ کے ان خصوصی انعامات اور اعلی کمالات و مقامات کا بھی ذکر فرماتے جن سے آپ سرفراز فرمائے گئے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی یہ حدیث اور جو حدیثیں اوپر درج کی گئیں یہ سب آپ ﷺ کے اسی سلسلہ کے بیانات ہے وہ صحابہ کرامؓ جن کی گفتگو کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے حضرت ابراہیمؑ حضرت موسیٰؑ و عیسیٰؑ اور حضرت آدم (علیہم السلام) پر ہونے والے اللہ تعالیٰ کے ان خصوصی انعامات سے تو واقف تھے جن کا وہ تذکرہ کررہے تھے ان کو یہ سب کچھ خود حضور ﷺ ہی کی تعلیم سے قرآن مجید سے معلوم ہو چکا تھا لیکن رسول اللہ ﷺ کے مقام عظمت کے بارے میں غالبا ان کی معلومات ناقص تھی اس لیے یہ خود ان کی ضرورت اور حاجت تھی کہ رسول اللہ ﷺ اس بارے میں ان کو بتلائیں چنانچہ آپ ﷺ نے ان کو بتلایا اور اس طرح بتلایا کہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیؑ و عیسیؑ اور حضرت آدمؑ پر ہونے والے جن انعامات الہیہ اور ان کے جن فضائل ومناقب کا وہ ذکر کر رہے تھے، پہلے آپ ﷺ نے ان سب کی تصدیق فرمائی اس کے بعد اپنے بارے میں بتلایا کہ مجھ پر اللہ تعالی کا یہ خاص الخاص انعام ہے کہ مجھ کو مقام محبوبیت عطا فرمایا گیا ہے اور میں اللہ کا حبیب ہوں (ملحوظ رہے کہ جن اصحاب کرام سے آپ ﷺ نے یہ فرمایا وہ جانتے تھے کہ محبوبیت کا مقام سب سے اعلی و بالا ہے اس لئے آپ ﷺ نے اس سلسلے میں مزید وضاحت کی ضرورت نہیں سمجھی) اس کے بعد آپ ﷺ نے بعض ان انعامات الہیہ کا ذکر فرمایا ہے جس کا ظہور اس دنیا کے خاتمہ کے بعد قیامت میں ہوگا ان میں سے لواءالحمد ہاتھ میں ہونے اور اولین شافع اور اولین مقبول الشفاعۃ ہونے کا ذکر مندرجہ بالا حدیثوں میں بھی آچکا ہے اس کے بعد آپ ﷺ نے دو خصوصی انعامات خداوندی کا اور ذکر فرمایا ایک یہ کہ جنت کا دروازہ کھلوانے کے لیے سب سے پہلے میں ہی اس کے حلقوں کو حرکت دوں گا (جس طرح کسی مکان کا دروازہ کھلوانے کے لیے دستک دی جاتی ہے) تو اللہ تعالی فورا دروازہ کھلوا دیں گے اور مجھ کو جنت میں داخل فرمائیں گے اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہوں گے اور وہ بھی میرے ساتھ ہی جنت میں داخل کر لیے جائیں گے (یہ سب آنحضرت ﷺ کی مقام محبوبیت پر فائز ہونے کا ظہور ہوگا) آخری بات آپ صلی اللہ وسلم نے اس سلسلہ میں یہ ارشاد فرمائی کہ “وانا اکرم الاولین و الآخرین علی اللہ” یعنی یہ بھی مجھ پر اللہ تعالی کا خاص الخاص انعام ہے کہ اس کی بارگاہ میں تمام اولین و آخرین میں سب سے زیادہ اکرم و اعزاز میرا ہی ہے اور جو مقام عزت مجھے عطا فرمایاگیا ہے وہ اولین و آخرین میں سے کسی اور کو عطا نہیں فرمایا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں جن خصوصی انعامات الہیہ کا ذکر فرمایا ان میں سے ہر ایک کے ساتھ یہ بھی فرمایا “ولا فخر” جیسا کہ عرض کیا جاچکا اس کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالی کے ان خصوصی انعامات کا ذکر محض از راہ فخر اور اپنی برتری ظاہر کرنے کے لئے نہیں کر رہا ہوں بلکہ محض اللہ کے حکم کی تعمیل میں تحدیث نعمت اور اداء شکر کے لیے اور تم لوگوں کو واقف کرنے کے لئے کر رہا ہوں تاکہ تم بھی اس رب کریم کا شکر ادا کرو کیونکہ یہ انعامات تمہارے حق میں بھی وسیلہ خیر و سعادت ہیں۔

1976Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور مقامات عالیہ

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ وَلَا فَخْرَ» (رواه الدارمى)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں (بروز قیامت) پیغمبروں کا قائد اور پیش رو ہوں گا اور یہ بات میں بطور فخر نہیں کہتا اور میں خاتم النبیین ہوں اور یہ بھی میں ازراہ فخر نہیں کہتا اور میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول فرمائی جائے گی اور یہ بھی میں بطور فخر نہیں کہنا۔ (مسند دارمی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اکرم ﷺ جو خاتم النبیین ہیں اور اس دنیا میں اللہ کے سارے نبیوں رسولوں کے بعد آئے قیامت کے دن آپ سب انبیاء و مرسلین کے قائد و پیش رو ہونگے۔ پھر آپ نے اسی قیامت کے دن شفاعت اور شفاعت کی قبولیت میں اپنی اولیت اور سابقیت کا ذکر بھی فرمایا جس کا ذکر مندرجہ بالا متعدد حدیثوں میں بھی آ چکا ہے اور آپ ﷺ نے اس حدیث میں بھی اللہ تعالی کے انعامات کا ذکر کے ساتھ فرمایا “ولافخر”۔

1977Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور مقامات عالیہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أُحْسِنَ بُنْيَانُهُ تُرِكَ مِنْهُ مَوْضِعُ لِبْنَةٍ فَطَافَ بِهِ النُّظَّارُ يَتَعَجَّبُوْنَ مِنْ حُسْنِ بِنَائِهِ إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ فَكُنْتُ أَنَا سَدَدْتُّ مَوْضِعَ اللَّبِنَةِ خُتِمَ بِيَ الرُّسُلُ ..... وَفِىْ رِوَايَةٍ فَاَنَا اللَّبِنَةُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری اور اگلے سب پیغمبروں کی مثال ایسی ہے کہ ایک شاندار محل ہے جس کی تعمیر بڑی حسین اور خوبصورت کی گئی ہے لیکن اس کی تعمیر میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی دیکھنے والے اس محل کو ہر طرف سے گھوم پھر کے دیکھتے ہیں انہیں اس کی تعمیر کی خوبی اور خوبصورتی بہت اچھی لگتی ہے ان کو اس سے تعجب ہوتا ہے، سوائے اینٹ کی خالی جگہ کے (وہ اس حسین عمارت کا ایک نقص ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ) پس میں نے آ کر اس خالی جگہ کو بھر دیا میرے ذریعہ اس محل کی تکمیل اور اس کی تعمیر کا اختتام ہو گیا اور پیغمبروں کا سلسلہ بھی ختم اور مکمل ہو گیا۔ (صاحب مشکاۃ المصابیح محمد بن عبداللہ خطیب تبریزی کہتے ہیں کہ) اس حدیث کی صحیحین ہی کی ایک روایت میں آخری خط کشیدہ الفاظ کی جگہ یہ الفاظ ہیں “فَاَنَا اللَّبِنَةُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ” میں ہی وہ اینٹ ہوں جس سے اس قصر نبوت کی تکمیل ہوئی اور میں خاتم النبیین ہوں)۔ (صحیح بخاری ومسلم) تشریح قرآن مجید نے بھی رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا گیا ہے اور بہت سی حدیثوں میں بھی اور بلاشبہ یہ آپ ﷺ پر اللہ تعالی کا عظیم ترین انعام ہے کہ قیامت تک آپ ہی پوری انسانی دنیا کے لئے اللہ کے نبی و رسول ہیں۔ اس حدیث میں آپ ﷺ نے اپنی خاتمیت کی حقیقت اور نوعیت کو ایک عام فہم مثال کے ذریعہ سمجھایا ہے جو ایسی سہل الفہم ہے کہ اس کے سمجھانے کے لیے کسی توضیح و تشریح کی ضرورت نہیں اس حدیث نے بتلایا کہ رسول اللہ ﷺ سے پہلے جو ہزاروں پیغمبر آئے ان کی آمد سے گویا قصر نبوت کی تعمیر ہوتی رہی اور تکمیل کو پہنچ گئی بس ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی تھی رسول اللہ ﷺ کی بعثت و آمد سے وہ بھی بھر گئی اور قصر نبوت بالکل مکمل ہو گیا کسی نئے نبی ورسول کے آنے کی نہ ضرورت رہی نہ گنجائش، اس لئےاللہ تعالی کی طرف سے نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم اور دروازہ بند کردیا گیا اور رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا اعلان فرما دیا گیا۔ صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم

1978Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ،بعثت، وحی کی ابتداء اور عمر شریف

عَنْ أَبِىْ اُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَأُخْبِرُكُمْ بِاَوَّلِ اَمْرِىْ دَعْوَةِ إِبْرَاهِيمَ وَبِشَارَةُ عِيسَى، وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ حِينَ وَضَعَتْنِىْ نُورًا أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ. (رواه احمد)

حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کو اپنے اول امر (اپنی ابتداء) کے بارے میں بتلاتا ہوں میں ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہوں (یعنی انکی دعا کی قبولیت کا ظہور ہو) اور عیسی (علیہ السلام) کی بشارت ہوں (یعنی وہ نبی ہوں جسکی آمد کی بشارت انہوں نے دی تھی) اور اپنی والدہ کا خواب ہو (یعنی ان کے اس خواب کی تعبیر ہو) جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا تھا کہ ایک ایسا نور ظاہر ہوا جس سے میری والدہ کے لیے ملک شام کے محل بھی روشن ہو گئے۔ (مسند احمد) تشریح قرآن مجید سورہ بقرہ کی آیت نمبر 127 اور نمبر 128 میں بیان فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے صاحبزادہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ساتھ لے کر کعبۃ اللہ کی تعمیر کر رہے تھے تو انہوں نے یہ دعا بھی کی تھی کہ اے ہمارے پروردگار ہماری نسل میں سے ایک ایسی امت پیدا فرمانا جو تیری فرمانبردار ہوں اور ان میں انہیں میں سے ایک ایسا رسول مبعوث فرمانا جو ان کو تیری آیات پڑھ کر سنائے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاک صاف کرے۔ اور سورج صف کی آیت نمبر 6 میں بیان کیا گیا ہے کہ جب اللہ تعالی نے عیسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر ان کی قوم بنی اسرائیل کے پاس بھیجا تو آپؑ نے ان لوگوں سے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کے لیے بھیجا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میں اس عظیم الشان پیغمبر کی آمد کی بشارت سناوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں قرآن مجید کی انہی آیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا نتیجہ اور ظہور ہو اور میں عیسی بن مریم کی بشارت کا مصداق ہوں آگے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس خواب کی تعبیر ہوں جو میری والدہ ماجدہ نے میری ولادت کے وقت دیکھا تھا کہ ایک ایسا غیر معمولی نور ظاہر ہوا جس کی روشنی نے میری والدہ صاحبہ کے لئے ملک شام کی عالی شان عمارتیں اور محل روشن کر دیئے اور میری والدہ نے اس نور کے اجالے میں انکو دیکھ لیا۔ یہ خواب رسول اللہ ﷺ کی والدہ ماجدہ نے آپ ﷺ کی ولادت کے قریبی وقت میں غالبا اسی رات میں دیکھا تھا جس کی صبح آپ کی ولادت ہوئی ملک شام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ سرزمین انبیاء ہیں اور اسی میں وہ بیت المقدس ہے جو تمام انبیاء بنی اسرائیل کا قبلہ رہا ہے۔ راقم سطور نے حدیث کے لفظ رویا کا ترجمہ خواب کیا ہے اور اسی کی بنیاد پر تشریح کی ہے لیکن یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ نے اس نور کا ظہور اور اس کی روشنی میں ملک شام کے محلات عین ولادت کے وقت بیداری میں دیکھے بعض دوسری روایات سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ولادت سے پہلے سونے کی حالت میں خواب دیکھا ہو اور پھر ولادت کے وقت بیداری میں بھی آنکھوں نے یہ دیکھا ہو بہرحال یہ نور کا ظہور اور اس کے اجالے میں ملک شام کے محلات کا نظر آنا اس کی علامت تھی کہ اللہ تعالی اس مولود مسعود کے ذریعہ ہدایت کا نور ملک شام تک بھی پہنچ جائے گا جو ہزاروں برس تک خود ہدایت کا مرکز رہا ہے اور بیت المقدس کو قبلہ ماننے والی قوم بھی اس نور ہدایت سے فیضیاب ہوں گی جیسا کہ ظہور میں آیا اور قیامت تک آتا رہے گا۔

1979Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ،بعثت، وحی کی ابتداء اور عمر شریف

عَنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ وُلِدْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ. (رواه الترمذى)

قیس بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور رسول اللہ ﷺ عام الفیل میں پیدا ہوئے تھے۔ (جامع ترمذی) تشریح فیل عربی میں ہاتھی کو کہتے ہیں عام الفیل سے مراد وہ سال ہے جس میں یمن کے عیسائی حاکم ابرہہ نے کعبۃ اللہ کو ڈھا دینے اور برباد کر دینے کے ارادے سے ایسے لشکر کے ساتھ جس میں بڑے بڑے کوہ پیکر ہاتھی بھی تھے مکہ معظمہ پر لشکر کشی کی تھی تو مکہ کے حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالی نے چھوٹی چھوٹی چڑیوں کی شکل میں اپنا غیبی لشکر بھیج دیا ان چڑیوں نے لشکر پر کنکر کی پتھریاں برسا کر (جو گولی کا کام کرتی تھیں) سارے لشکر کو تہس نہس کر دیا۔ قرآن مجید سورۃ الفیل میں یہی واقعہ بیان فرمایا گیا ہے جس سال یہ غیر معمولی واقعہ ہوا تھا اس کو عام الفیل کہا جاتا ہے رسول اکرم ﷺ کی پیدائش اسی سال ہوئی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے پچاس دن بعد آپ ﷺ کی ولادت با سعادت ہوئی۔ علامہ ابن الجوزی کے بیان کے مطابق اس پر اتفاق ہے کہ آپ ﷺ کی ولادت اسی سال میں ہوئی، اس پر بھی قریبا اتفاق ہے کہ مہینہ ربیع الاول اور دن دوشنبہ کا تھا۔ تاریخ کے بارے میں روایات مختلف ہیں، 2 ربیع الاول کی بھی روایت ہے، 8 کی بھی، 10 کی بھی، اور 12 کی بھی (اور یہی زیادہ مشہور ہے) اس کے علاوہ 17، 18 کی بھی روایتیں ہیں علامہ قسطلانی نے لکھا ہے کے اکثر محدثین کے نزدیک 8 ربیع الاول والی روایت زیادہ قوی ہے ماضی قریب کے مصر کے ایک ماہر فلکیات محمود پاشا نے ریاضی کے حساب سے ثابت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ولادت باسعادت عام الفیل 9 ربیع الاول کو ہوئی۔ ٹھیک اس وقت جب کہ آنحضرت ﷺ کی اس دنیا میں (مکہ مکرمہ ہی میں) آمد کا وقت قریب تھا ابرہہ کے لشکر کا جس کو قرآن مجید میں اصحاب الفیل کہا گیا ہے اور جوکعبۃ کو ڈھانے اور نیست و نابود کردینے کے ارادہ سے کوہ پیکر ہاتھیوں کے ساتھ حملہ آور ہوا تھا چھوٹی چھوٹی چڑیوں کی سنگ باری سے تہس نہس ہو جانا یقینا قدرت خداوندی کا ایک معجزہ تھا ہمارے علماء و مصنفین نے اس کو ان معجزانہ واقعات میں شمار کیا ہے جو رسول اکرم ﷺ کی دنیا میں آمد سے پہلے اس کے مقدمات اور پیشگی برکات کے طور پر ظہور میں آئے اور بلاشبہ ایسا ہی ہے۔

1980Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ،بعثت، وحی کی ابتداء اور عمر شریف

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَرْبَعِينَ سَنَةً، فَمَكُثَ بِمَكَّةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَى إِلَيْهِ، ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ فَهَاجَرَ عَشْرَ سِنِينَ، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے (یعنی اللہ تعالی کی طرف سے آپ ﷺ کو نبوت و رسالت کے منصب پر فائز کیا گیا) چالیس سال کی عمر میں۔ اسکے بعد آپ مکہ مکرمہ میں رہے تو تیرہ سال، آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی رہی پھر آپ ﷺ کو حکم ہوا (مکہ سے) ہجرت کا، تو آپ ﷺ نے ہجرت فرمائی، اور مہاجر بن کر دس سال رہے اور پھر (مدینہ منورہ میں) وفات پائی اس وقت جبکہ عمر شریف تریسٹھ 63 سال تھی۔ (صحیح بخاری و مسلم)