رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ،بعثت، وحی کی ابتداء اور عمر شریف
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَعُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ. (رواه مسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی جبکہ عمر شریف تریسٹھ (63) سال تھی اور حضرت ابوبکر ؓ نے بھی وفات پائی جبکہ آپ کی عمر تریسٹھ (63) سال تھی اور حضرت عمرؓ نے بھی وفات پائی تریسٹھ (63) سال ہی کی عمر میں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
شیخین (حضرت ابوبکر صدیق اور عمر فاروق ؓ) کی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو خاص بلکہ خاص الخاص نسبت تھی اس کاایک ظہور یہ بھی تھا کہ آنحضرت ﷺ کی طرح ان دونوں حضرات نے بھی تریسٹھ (63) سال کی عمر میں ہی وفات پائی اور اسی کا ایک ظہور یہ بھی ہے کہ وفات کے بعد یہ دونوں حضرات بھی روضہ اقدس میں حضور اکرم ﷺ کے برابر مدفون ہیں۔ اور علامت قیامت کے زیرعنوان ہو حدیث گزر چکی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن جب آنحضرت ﷺ قبر شریف سے اٹھ کر میدان حشر یا دربار خداوندی کی طرف چلیں گے تو آپ کے یہ دونوں رفیق آپ کے دائیں بائیں ہوں گے اور آگے شیخین کے مناقب میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت انشاءاللہ ذکر کی جائے گی جس میں انہوں نے بیان فرمایا کہ جب فاروق اعظم ؓ کی وفات ہوئی تو حضرت علی مرتضیٰ ؓٗ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شیخین کے اس خصوصی تعلق اور امتیازی نسبت کو خود رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کے حوالہ دے کر بڑے جامع اور واضح الفاظ میں بیان فرمایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ،بعثت، وحی کی ابتداء اور عمر شریف
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الخَلاَءُ، وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ - وَهُوَ التَّعَبُّدُ - اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ العَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا، حَتَّى جَاءَهُ الحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ المَلَكُ فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: «مَا أَنَا بِقَارِئٍ»، قَالَ: " فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، قُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ. خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ. اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ} [العلق: 2] " فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ: «زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي» فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، فَقَالَ لِخَدِيجَةَ وَأَخْبَرَهَا الخَبَرَ: «لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي» فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الكَلَّ، وَتَكْسِبُ المَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ العُزَّى ابْنَ عَمِّ خَدِيجَةَ وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الكِتَابَ العِبْرَانِيَّ، فَيَكْتُبُ مِنَ الإِنْجِيلِ بِالعِبْرَانِيَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: يَا ابْنَ عَمِّ، اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَأَى، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَّلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا، لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا إِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ»، قَالَ: نَعَمْ، لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا. ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ، وَفَتَرَ الوَحْيُ. (رواه البخارى ومسلم)
ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا کہ وہ پہلی چیز جس سے رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتداء ہوئی رویا صادقہ تھے جو آپ سونے کی حالت میں دیکھتے تھے چنانچہ آپ جو خواب بھی دیکھتے وہ سپیدہ صبح کی طرح سامنے آجاتا۔۔۔۔ پھر آپ کے دل میں خلوت گزینی کی محبت ڈال دی گئی تو آپ غار حرا میں جا کر خلوت گزینی کرنے لگے۔ وہاں آپ (اپنے اہل خانہ کی طرف اشتیاق سے پہلے) کئی کئی رات تک عبادت فرماتے اور اس کے لئے خورد و نوش کا ضروری سامان ساتھ لے جاتے پھر (اپنی زوجہ محترمہ) حضرت خدیجہؓ کے پاس تشریف لاتے، اور اتنی ہی راتوں کے لئے پھر سامان خورد و نوش ساتھ لے جاتے ..... یہاں تک کہ اس حال میں کہ آپ غار حرا میں تھے، آپ کے پاس حق آ گیا (یعنی وحی حق آ گئی) چنانچہ (خدا کا فرستادہ) فرشتہ (جبرائیل) آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اقرا (پڑھئے!) آپ نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ نے بیان فرمایا کہ پھر اس فرشتے نے مجھے زور سے دبایا (بھینچا) یہاں تک کہ اس کا دباؤ میری طاقت کی انتہا کو پہنچ گیا، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ اقرا (پڑھئے!) پھر میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، پھر اس نے مجھے پکڑا اور پھر دوسری دفعہ زور سے دبایا، یہاں تک کہ اس کا دباؤ میری طاقت کی انتہا کو پہنچ گیا، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور پھر کہا
اقرا (پڑھئے!) پھر میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، اس کے بعد پھر اس فرشتہ نے مجھے پکڑا اور تیسری مرتبہ زور سے دبایا، یہاں تک کہ اس کا دباؤ میری طاقت کی انتہا کو پہنچ گیا، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ﴿٣﴾ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ﴿٤﴾ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾ (اپنے اس پروردگار کے نام سے پڑھئے جس نے پیدا کیا، انسان کو جس نے جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، پڑھیئے اور آپ کا پروردگار بڑا کریم ہے، وہ جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا، انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا) پھر رسول اللہ ﷺ ان آیتوں کو لے کر اس حال میں لوٹے کہ آپ ﷺ کا دل لرز رہا تھا .... تو آپ (اپنی زوجہ محترمہ) حضرت خدیجہ ؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کپڑا اڑھا دو، مجھے کپڑا اڑھا دو، تو گھر والوں نے آپ کو کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ گھبراہٹ اور دہشت کی وہ کیفیت ختم ہو گئی تو آپ ﷺ نے حضرت خدیجہؓ سے بات کی اور پورا واقعہ بتلایا اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہو گیا تھا حضرت خدیجہؓ نے کہا کہ ہرگز ایسے خطرہ کی بات نہیں، قسم بخدا اللہ تعالیٰ کبھی آپ کو رسوا نہیں کرے گا، آپ ﷺ صلہ رحمی کرتے ہیں اور ہمیشہ حق اور سچی بات کہتے ہیں اور بوجھ اٹھاتے ہیں ناداروں کے لئے کماتے ہیں، اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور لوگوں کی مدد کرتے ہیں ان حادثوں پر جو حق ہوتے ہیں ..... پھر حضرت خدیجہؓ آپ کو لے گئیں اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس اور ان سے کہا کہ اے میرے چچا زاد بھائی اپنے بھتیجے کی بات (اور واردات) سنیئے! تو ورقہ بن نوفل نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اے بھتیجے بتلاؤ تم کیا دیکھتے ہو؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو وہ سب بتلایا جو مشاہدہ رمایا تھا تو ورقہ نے کہا کہ یہ وہ خاص راز داں فرشتہ (جبرائیل) ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر بھیجا تھا۔(پھر ورقہ نے کہا کہ) کاش میں اس وقت جوان پٹھا ہوتا، کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب تمہاری قوم تم کو نکالے گی۔‘‘ تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے (تعجب سے) کہا: ’’ کیا میری قوم کے لوگ مجھے نکال دیں گے؟‘‘ ورقہ نے کہا کہ ہاں! (تمہاری قوم تم کو دیس سے نکال دے گی) کوئی آدمی بھی اس طرح کی دعوت لے کر نہیں آیا جیسی تم لائے ہو مگر یہ کہ لوگوں نے اس کے ساتھ دشمنی کا برتاؤ کیا اور اگرمیں ان دنوں تک زندہ رہا تو تمہاری بھر پور مددکروں گا۔پھر تھوڑی ہی مدت کے بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا۔ اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی ابتداء اور نزول وحی کے آغاز کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور اس کی راوی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہین، جو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں، لیکن حدیث کے مستند ہونے پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا، کیوں کہ یا تو انہوں نے یہ واقعہ اس تفصیل کے ساتھ خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہو گا (اور غالب گمان یہی ہے) یا اپنے والد ماجد حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے یا کسی دوسرے بزرگوار صحابی سے جنہوں نے خود حضور ﷺ سے سنا ہو گا اور اہل سنت کا مسلمہ ہے (جو گویا ان کے عقائد میں شامل ہے) کہ “اَلصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُوْلٌ” (یعنی تمام صحابہ کرام عادل اور ثقہ ہیں) جس صدیقہ نے اس کی ضرورت نہیں سمجھے کہ وہ یہ بتلائیں کہ انہوں نے یہ کس سے سنا تھا، ہمارے یقین کے لئے ان کا بیان فرمانا کافی ہے، اگر اس بارے میں ان کو پورا اطمینان و یقین نہ ہوتا تو وہ ہرگز اس طرح بیان نہ فرماتیں۔ یقیناً حضور ﷺ کی تربیت کے نتیجہ میں وہ یہ جانتی تھیں کہ حضور ﷺ سے متعلق اس طرح کے اہم اور غیر معمولی واقعہ کا بیان کتنی بڑی ذمہ داری کی بات ہے۔
حدیث میں سب سے پہلے بات یہ بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر وحی کا سلسلہ اس طرح شروع ہوا کہ آپ کو “رویائے صادقہ” (سچے خواب) آنے شروع ہوئے، آگے خود حدیث میں اس کی یہ وضاحت ہے کہ آپ سونے کی حالت میں جو خواب دیکھتے وہ صبح کے اجالے کی طرح بیداری میں آنکھوں کے سامنے آ جاتا، سمجھنا چاہئے کہ وحی نبوت کے لئے آپ کی روحانی تربیت کا سلسلہ اس طرح کے خوابوؓ سے شروع ہوا، یہ پہلا مرحلہ تھا۔
اس کے بعد آپ ﷺ کے قلب میں سب سے یکسوئی اور خلوت گزینی کی محبت اور اس کا شوق و جذبہ پیدا فرما دیا گیا، آگے حدیث میں جو بیان فرمایا گیاہے، اس سے معلوم ہو جاتا ہے، کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کے قلب میں مجرد خلوت گزینی اور سب سے الگ تھلگ رہنے کا جذبہ اور داعیہ ہی پیدا نہیں فرمایا گیا تھا، بلکہ سب سے یکسو رہ کر خلوت میں عبادت کا (گویا ایک طرح کے اعتکاف کا) جذبہ اور شوق پیدا فرمایا گیا تھا، پھر اس کے لئے آپ ﷺ نے غار حرا کا انتخاب فرمایا۔ حراء ایک پہاڑ کا نام ہے، مکہ مکرمہ کے ہر طرف پہاڑیاں ہی پہاڑیاں ہیں، کچھ کم بلند ہیں، کچھ زیادہ بلند ہیں (جہاں تک خیال ہے) ان میں سب سے بلند یہی حراء ہے، جس کو لوگ اب جبل النور کہتے ہیں، یہ مکہ مکرمہ کی آبادی سے قریباً دو ڈھائی میل کے فاصلے پر ہے، اس کی چوٹی پر پتھر کی بڑی بڑی چٹانیں باہم اس طرح مل گئی ہیں کہ ان کے درمیان ایک چھوٹا سا مثلث نما (تکونہ) حجرہ سا بن گیا ہے، اسی کو غار حراء کہا جاتا ہے، اور اس میں بس اتنی جگہ ہے کہ ایک آدمی کسی طرح داؒ ہو کر گزارہ کر سکتا ہے، چونکہ یہ پہاڑ بہت بلند ہے اور غار اس کی بالکل چوٹی پر ہے اور اس تک چڑھائی میں بڑی مشقت اٹھانی پڑتی ہے، اس لئے اچھے تندرست و توانا آدمی بھی بہ مشکل ہی وہاں پہنچ پاتے ہیں، اب تو اس مبارک واقعہ کی وجہ سے جس کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے ہر مسلمان کا دل چاہتا ہے کہ اگر وہ پہنچ سکے تو اس کی زیارت کی سعادت ضرور حاصل کرے لیکن ظاہر ہے، کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خلوت میں یکسوئی سے عبادت کے لئے اس کا انتخاب فرمایا تھا تو کسی آدمی کے لئے اس گار میں ایسی کوئی کشش نہیں تھی کہ اس تک پہنچنے کے لئے وہ پہاڑ کی اتنی لمبی چڑھائی کی مشقت برداشت کرے (چنانچہ کہیں اس کا ذکر نہیں ملتا جن ایام میں حضور ﷺ اس غار میں خلوت گزیں (گویا معتکف) رہے، آپ ﷺ کا کوئی عزیز قریب بھی آپ ﷺ کے پاس پہنچا ہو) اس لئے خلوت میں یکسوئی سے عبادت کے لئے اس سے بہتر جگہ کا انتخاب نہیں کیا جا سکتا تھا اور آگے جو ظہور میں آنے والا تھا (جس کا اس حدیث میں بھی ذکر ہے) اس کے لئے ازل سے یہی مبارک غار مقدر ہو چکا تھا۔
آگے حدیث شریف میں جو فرمایا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ غار حرا کی اس خلوت گزینی اور عبادت کے سلسلہ میں آپ کا معمول یہ تھا کہ چند دن رات کے لئے خورد و نوش کا ضروری سامان لے کر آپ غار حرا تشریف لے جاتے اور وہاں پوری یکسوئی سے عبادت میں مشغوک رہتے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کے دل میں گھر والوں کی دیکھ بھال اور ملاقات کا داعیہ پیدا ہوتا تو گھر زوجہ محترمہ حضرت خدیجہؓ کے پاس تشریف لاتے اور پھر اتنے ہی دنوں کے لئے خود و نوش کا ضروری سامان لے کر غار حرا تشریف لے جاتے اور وہاں عبادت میں مشغول رہتے۔
حضرت صدیقہؓ نے غار حرا میں آپ ﷺ کی مشغولیت کے لئے فَيَتَحَنَّثُ کا لفظ استعمال فرمایا ہے حدیث کے ایک راوی امام زہری نے تعبد کے لفظ سے اس کا حاصل مطلب بیان کیا ہے ..... لیکن کسی روایت سے یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ غار حرا کے اس قیام میں حضور ﷺ کی عبادت کا طریقہ کیا تھا شارحین حدیث نے اس بارے میں حضرات علمائے کرام کے مختلف اقوال نقل کئے ہیں، لیکن وہ سب قیاسات ہیں ..... اس عاجز کا خیال ہے کہ نبوت و رسالت کے منصب کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کی مسلسل تربیت ہو رہی تھی جس کا پہلا مرحلہ روؤیائے صادقہ کا سلسلہ تھا، وہ بھی ایک طرح کا الہام تھا، اس کے بعد خلوت گزینی اور خلوت میں عبادت کا داعیہ آپ ﷺ کے قلب میں پیدا کیا گیا یہ بھی جاذبہ الٰہیہ اور ایک طرح کے الہام ربانی کا نتیجہ تھا۔
پھر غار میں آپ ﷺ جو عبادت فرماتے تھے جس کو حضرت صدیقہؓ نے فيتحنث کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے، سمجھنا چاہئے کہ وہ بھی الہام ربانی کی رہنمائی میں تھی، ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ اپنے لئے نور ہدایت کی دعا کرتے ہوں اور آپ ﷺ کی قوم شرک و بت پرستی اور شدید مظالم و معاصی کی جس نجاست و غلاظت میں غرق تھی، جس سے آپ ﷺ کی فطرت سلیمہ صالحہ کو سخت اذیت تھی، اس سے آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنی بیزاری کا اظہار اور قوم کے لئے بھی اصلاح و ہدایت کی دعا فرماتے ہوں (دعا کو حضور ﷺ نے عبادت کا مغز اور جوہر فرمایا ہے) .....
بہرحال راقم الحروف کا خیال ہے کہ آپ ﷺ کو عبادت کی اس مشغولیت میں الہام خداوندی کی رہنمائی حاصل تھی اور اس کے ذریعہ آپ ﷺ کی روحانیت کو آگے کی منزلوں کے لئے تیار کیا جا رہا تھا، واللہ اعلم۔
آگے حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے کہ غار حرا میں آپ ﷺ کی خلوت گزینی اور عبادت کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک (ایک رات (1) میں) آپ ﷺ کے پاس فرشتہ وحی لے کر آ گیا اور اس نے آپ ﷺ سے کہا اقرا (پڑھئے) آپ ﷺ کا بیان ہے کہ میں نے کہا کہ مَا أَنَا بِقَارِئٍ (میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، اس لئے پڑھ نہیں سکتا) .... آپ ﷺ کا بیان ہے کہ اس جواب کے بعد اس نے مجھے پکڑ کے اتنے زور سے دبایا کہ اس کا دباؤ میری حد برداشت کی آخری حد تک پہنچ گیا یعنی اس حد تک کہ اس سے آگے میں برداشت نہیں کر سکتا تھا (بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فرشتہ نے آپ ﷺ کا گلوئے مبارک پکڑ کے (2) اس قدر زور سے دبایا تھا) حدیث شریف میں بیان فرمایا گیا ہے کہ تین (۳) دفعہ ایسا ہی ہوا کہ اس نے مجھ سے کہا اقرأ (پڑھئے) میں نے کہا کہ مَا أَنَا بِقَارِئٍ (میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، اس لئے پڑھ نہیں سکتا) اور میرے اس جواب کے بعد ہر دفعہ اس نے مجھے پکڑ کے اس قدر زور سے دبایا کہ میری حد برداشت کی آخری حد تک پہنچ گیا، تیسری دفعہ کے بعد اس نے سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیتیں پڑھیں (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ سےعَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ تک)
حدیث میں صراحت کے ساتھ ذکر نہیں کیا گیا ہے کہ فرشتہ سے یہ آیتیں سن کر آپ ﷺ نے خود بھی ان کی تلاوت فرمائی، لیکن آگے جو بیان فرمایا گیا ہے، اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ ﷺ کو یہ آیتیں محفوظ ہو گئیں اور آپ ﷺ ان آیات کی تلاوت کرتے ہوئے غار سے گھر تشریف لائے اور آپ ﷺ کی اس وقت جو حالت تھی وہ حدیث میں آگے ذکر کی گئی ہے۔
یہاں یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ یوں تو پورا قرآن مجید معجزہ ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس کی بعض چھوٹی چھوٹی سورتوں اور اس طرح بعض چھوٹی چھوٹی آیتوں میں اعجاز کی شان ایسی واضح اور نمایاں ہے کہ عربی زبان سے واقفیت اور اس کا ذوق رکھنے والا ہر شخص ان کو صرف سن کر یہ یقین کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ بشر کا کلام نہیں بلکہ خالق بشر کا کلا ہے ..... راقم سطور بغیر ادنیٰ انکسار کے عرض کرتا ہے کہ میں عربی زبان کا ادیب نہیں ہوں بس اتنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کا مقدس کلام قرآن مجید اور اس کے رسول پاک ﷺ کی احادیث پڑھ لیتا اور کچھ سمجھ لیتا ہوں اپنے اس حال میں بھی سورہ علق کی ان ابتدائی پانچ آیتوں کے بارے میں الحمدللہ دن میں سورج کی روشنی کی طرح یقین رکھتا ہوں کہ یہ بشر کا یا فرشتہ کا کلام نہیں ہو سکتا ہے یہ بلا شبہ رب ذو الجلال ہی کا کلام ہے ..... چھوٹی چھوٹی ان پانچ آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی معرفت کا جو دفتر اور علوم کا جو سمندر اس کی شان ربوبیت، قدرت و حکمت، کرم و احسان اور صفات و افعال کا جو بیان ہے، اس پر ایک پورا مقالہ بلکہ ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے ..... رسول اللہ ﷺ نے صرف یہ کہ آپ ﷺ کی مادری زبان عربی تھی بلکہ آپ ﷺ افصح العرب) تھے، اس لئے اس میں شک شبہ کی ذرا بھی گنجائش نہیں ہے کہ جیسے ہی آپ ﷺ نے فرشتہ (جبرائیل) سے یہ آٰتیں سنی ہوں گی آپ ﷺ نے یقین فرما لیا ہو گا کہ یہ میرے خالق و مالک رب کریم کا کلام ہے اس نے مجھے اپنے فضل خاص سے نوازا ہے۔
حدیث میں غار حرا کے مذکورہ بالا واقعہ کے ذکر کے بعد بیان فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورۃ العلق کی ان ابتدائی پانچ آیتوں کو لے کر غارِ حرا سے اس حال میں گھر تشریف لائے کہ آپ ﷺ دہشت زدہ سے تھے، آپ ﷺ کا دل لرز رہا تھا، جسم مبارک پر بھی اس کا اثر تھا آپ ﷺ نے آتے ہی اپنے اہل خانہ سر فرمایا کہ مجھ پر کپڑا ڈال دو مجھے کپڑا اڑھا دو، (ایسی حاولت میں کپڑا اوڑھنے کا طبعی تقاضا ہوتا ہے اور اس سے سکون ملتا ہے) چنانچہ گھر والوں نے آپ ﷺ کو کپڑا اڑھا دیا، پھر وہ دہشت زدگی اور دل کے لرزنے کی کیفیت ختم ہو گئی اور حالت معمول پر آ گئی تو آپ ﷺ نے زوجہ محترمہ حضرت خدیجہؓ کو وہ سب بتلایا جو پیش آیا تھو، اس سلسلہ میں یہ بھی فرمایا (لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي) اے خدیجہؓ مجھے تو اپنی جان کا خطرہ ہو گیا تھا) مطلب یہ ہے کہ فرشتہ نے گلا پکڑ کے تین دفعہ ایسے زور زور سے دبایا تھا کہ مجھے خطرہ تھا کہ میری جان ہی نکل جائے گی۔
آگے حدیث میں جو بیان فرمایا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت خدیجہؓ نے غار حرا کی ساری واردات حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سن کر آپ ﷺ کو تسلی اور بشارت دینے کے لئے بڑے اعتماد کے ساتھ اور قسم کھا کے اپنے اس یقین کا اظہار فرمایا کہ ہرگز کوئی خطرہ اور اندیشہ کی بات نہیں تھی اور نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اعلیٰ درجہ کے مکارم اخلاق اور محاسن اعمال سے نوازا ہے، آپ ﷺ صلہ رحمی کرتے ہیں یعنی قرابت داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں، ہمیشہ حق اور سچی بات کرتے ہیں، صداقت اور راست بازی آپ ﷺ کا شعار ہے، آپ ﷺ ایسے صعیفوں، اپاہجوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں جو بےچارے خود اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتے یعنی ان کی کفالت کرتے ہیں اور آپ ﷺ کا حال یہ ہے کہ خود محنت کر کے کمائی کرتے ہیں (تا کہ غریبوں حاجت مندوں کی مدد کریں) اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور جو لوگ بغیر کسی جرم و قصور کے کسی حادثہ کا شکار ہو جاتے ہیں آپ ان کی امداد و اعانت کرتے ہیں۔
حضرت خدیجہ ؓ کا مقصد اس گفتگو سے یہی تھا کہ آپ ﷺ کے یہ مکارم اخلاق اور مبارک احوال اس بات کی علامت اور دلیل ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں اور آپ ﷺ پر اس کا خاص فضل و کرم ہے، اس لئے مجھے یقین ہے کہ یہ جو کچھ ہوا یہ بھی اس کے کرم ہی کا ایک خاص ظہور ہے۔
آگے حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پھر حضرت خدیجہؓ حضور ﷺ کو ساتھ لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل (1) کے پاس پہنچیں ...... حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اسی حدیث کی صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت میں ورقہ بن نوفل کے تعارف میں یہ بھی ہے کہ:
وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ، فَكَتَبَ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ الْإِنْجِيلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ.
ترجمہ: یہ ورقہ بن نوفل ایسے آدمی تھے جو زمانہ جاہلیت میں (یعنی رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے) نصرانیت اختیار کر چکے تھے اور یہ عبرانی زبان لکھتے تھے، چنانچہ انجیل کو عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے اور یہ بہت بوڑھے تھے اور نابینا ہو گئے تھے۔
تشریح ..... اور صحیح مسلم کی روایت میں عبرانی کے بجائے عربی ہے، جس کا مطلب یہ ہو گا کہ ورقہ بن نوفل انجیل کے مضامین عربی زبان میں لکھا کرتے تھے اور بظاہر یہی زیادہ قرین قیاس ہے۔
ورقہ بن نوفل کے حالات میں لکھا ہے کہ یہ شرک و بت پرستی سے بیزار تھے، دین حق کی تلاش میں ملکوں ملکوں پھرے بالآخر ملک شام میں بتوفیق الٰہی نصرانی مذہب کے ایک ایسے راہب یعنی عیسوی مذہب کے درویش عالم سے ملاقات ہو گئی جو صحیح عیسوی مذہب پر تھے (یعنی عیسائیت میں الوہیت مسیح، تثلیت اور کفارہ وغیرہ جیسے جو مشرکانہ اور گمراہانہ عقیدے بعد میں شامل کر لئے گئے وہ ان سے بیزار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی لائی ہوئی صحیح تعلیم و ہدایت پر قائم تھے) ورقہ نے ان کے ہاتھ پر نصرانی مذہب قبول کر لیا اور اس کی تعلیم بھی حاصل کر لی، عبرانی زبان بھی سیکھ لی جس میں توراۃ نازل ہوئی تھی (اور بعض محققین کی تحقیق کے مطابق انجیل بھی عبرانی زبان ہی میں تھی)۔ بہرحال ورقہ بن نوفل صحیح عیسوی مذہب پر تھے اور کتب قدیمہ کے عالم تھے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب “الاصابہ” میں ان ورقہ بن نوفل کے بارے میں ایک رویت نقل کی ہے۔
وَكَانَ وَرَقَةُ قَدْ كَرهَ عِبَادَةَ الْأَوْثَانِ وَطَلَبَ الدِّينَ فِى الْآفَاقِ وَقَرَأَ الْكُتُبَ وَكَانَتْ خَدِيْجَةُ تَسْئَلُهُ عَنْ أَمْرِ النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ مَا أَرَاهُ إِلاَّ نَبِىّ هَذِه الَّذِى بَشَّرَ بِهِ مُوسَى وَعِيسَى .
ترجمہ: ورقہ بتوں کی پوجا کو برا اور غلط سمجھتے تھے اور دین حق کی تلاش میں یہ مختلف علاقوں اور ملکوں میں پھرے اور انہوں نے کتابوں کا (یعنی ان کتابوں کا جو آسمانی کہی اور سمجھی جاتی تھی) مطالعہ کیا تھا، اور خدیجہؓ ان سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پوچھا کرتی تھیں تو وہ کہتے تھے کہ میرا خیال ہے کہ یہ اس امت کے نبی ہوں گے جن کی بشارت حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؓ نے دی ہے۔ (الاصابہ ج ۶، ص ۳۱۸)
اس سے معلوم ہوا کہ ورقہ بن نوفل کی اس خصوصیت کی وجہ سے کہ انہوں نے اپنی قوم کے شرک و بت پرستی والے مذہب سے بیزار ہو کر وعیسوی مذہب اختیار کر لیا تھا (اور اس طرح نبوت و رسالت کے پورے سلسلہ پر وہ ایمان لے آئے تھے) اور تورات انجیل وغیرہ کتب سماویہ کے عالم تھے اور ظاہر ہے کہ ان کی زندگی بھی عام اہل مکہ کی زندگی سے الگ قسم کی عائدانہ، زاہدانہ درویشانہ زندگی رہی ہو گی۔
(الغرض ان کی ان صفات و خصوصیات کی وجہ سے) ان کی چچا زاد بہن حضرت خدیجہؓ جو ایک نہایت سلیم الفطرت اور عاقلہ خاتون تھیں، ان کو ایک روحانی بزرگ سمجھتی تھیں اور ان سے ایک طرح کی عقیدت رکھتی تھیں اور غارحراء کے اس واقعہ سے پہلے بھی حضور ﷺ کے غیرم معمولی احوال (1) کا تذکرہ کر کے آپ ﷺ کے بارے میں ان کا خیال اور ان کی رائے دریافت کیا کرتی تھیں اور وہ جواب میں کہا کرتے تھے ما اراه الا نبى هذه الامة الذى بشر به موسى وعيسى (یعنی میرا گمان ہے کہ یہ اس امت کے وہ نبی ہوں گے جن کی بشارت حضرت موسیٰؑ اور عیسیٰؑ نے دی ہے)۔
پھر جب غار حرا کا یہ واقعہ ظہور میں آیا جس کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے اور حضور ﷺ نے حضرت خدیجہؓ کو بتلایا تو ان کے دل میں داعیہ پیدا ہوا کہ وہ یہ پورا واقعہ حضور کی زبان مبارک سے ورقہ بن نوفل کو سنوائیں۔
ٍجوپہلے ہی سے آپ ﷺ کے نبی و رسول ہونے کا خیال ظاہر کرتے تھے .... یہاں یہ بات خاص طور سے قابل لحاظ ہے کہ کسی روایت میں اس کا ذکر بلکہ اشارہ بھی نہیں ہے کہ حضور نے ورقہ کے پاس جانے کی خواہش کی ہو بلکہ جیسا کہ حدیث میں صراحۃً بیان کیا گیا ہے حضرت خدیجہؓ ہی آپ ﷺ کو ان کے پاس لے کر گئیں۔
آگے حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ان کے پاس پہنچ کر حضرت خدیجہؓ ہی نے ان سے کہا کہ آپ اپنے ان بھتیجے (2) سے ان کی بات اور واردات سنئے! تو ورقہ نے حضور ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے بھتیجے مجھے بتلاؤ کہ تم کیا دیکھتے ہو؟ تو آپ نے وہ سب بیان فرمایا جو غار حرا میں آپ ﷺ نے مشاہدہ فرمایا اور آپ ﷺ پر گزرا تھا، تو ورقہ ابن نوفل نے بغیر کسی تاویل اور تردد کے کہا کہ یہ فرشتہ جو غار حرا میں تمہارے پاس آیا اور جس کا پورا واقعہ تم نے ذکر کیا یہ وہی “ناموس” (یعنی وحی لانے والا خاص فرشتہ) ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام و پیام لے کر اپنے پیغمبر موسیٰؑ پر بھی بھیجا تھا۔
یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ ورقہ بن نوفل تو نصرانی یعنی عیسوی مذہب کے پیرو تھے پھر اس موقع پر انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کا نام چھوڑ کے حضرت موسیٰؑ کا نام کیوں لیا حالانکہ جبرائیل جس طرح موسیٰ علیہ السلام کی طرف بھیجے گئے تھے اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کی طرف بھی بھیجے گئے تھے؟ ..... شارحین حدیث نے اس کے جواب میں لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر تھے اور جبرائیل امین اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی طرف بھی بھیجے جاتے تھے، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مستقل شریعت نہیں لائے تھے، ان کی شریعت وہی تھی جو موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ آئی تھی عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعض احکام میں جزوی تبدیلیاں فرمائی تھیں اور رسول اللہ ﷺ مستقل اور کامل شریعت لانے والے نبی و رسول تھے، اس لئے آپ کو موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ مشابہت تھی ..... قرآن مجید سورہ مزمل میں بھی فرمایا گیا ہے۔ إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ رَسُولًا..... بہرحال اس خاص وجہ سے ورقہ بن نوفل نے اس موقع پر جبرائیل امینؑ کے تعارف میں موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔
آگے حدیث میں ہے کہ ورقہ بن نوفل نے پورے یقین کے ساتھ یہ بتلا کر کہ غار حرا میں آنے والے یہ فرشتے جبرائیل امینؑ تھے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر موسیٰ علیہ السلام (اور دوسرے نبیوں رسولوں) کے پاس بھی آیا کرتے تھے، حضور ﷺ کی نبوت کی واضح الفاظ میں تصدیق فرمائی اور ساتھ میں بڑی حسرت سے کہا کہ کاش میں اس وقت طاقتور پٹھا ہوتا، کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ کو اس شہر مکہ سے نکالے گی (تو میں آپ ﷺ کا ساتھ دیتا اور جان کی بازی لگا کر آپ ﷺ کی مدد کرتا) ..... حضور ﷺ نے ورقہ سے یہ سن کر ازراہ تعجب پوچھا کہ کیا میری قوم مجھے اس شہر سے نکال دے گی؟ (آپ ﷺ کو تعجب اس لئے ہوا کہ اب تک اپنے کریمانہ اخلاق اور معصومانہ زندگی کی وجہ سے آپ ﷺ قوم میں انتہائی درجہ ہر دلعزیز تھے، آپ ﷺ کو الصادق الامین کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا اس لئے یہ بات فی الحقیقت قابل تعجب تھی کہ یہی قوم آپ کو کبھی شہر مکہ چھوڑنے پر مجبور کر دے گی) ورقہ نے آپ ﷺ کے اس سوال کے جواب میں کہا کہ اللہ کی طرف سے جو پیغمبر بھی وہ دعوت و تعلیم لے کر آیا ہے، جو تم لائے ہو (اور لاؤ گے) تو اس کی قوم اس کی دشمن ہو گئی ہے، تمہارے ساتھ بھی یہی ہو گا، تمہاری قوم کے لوگ تمہارے جانی دشمن ہو جائیں گے اور تم کو شہر چھوڑ کے نکل جانا ہو گا ..... غالب گمان یہ ہے کہ ورقہ بن نوفل نے یہ جو کچھ کہا قدیم آسمانی کتابوں کی پیشن گوئیوں اور اللہ کی طرف سے آنے والے نبیوں رسولوں کی تاریخ کی روشنی میں کہا۔ قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کے جو واقعات بیان فرمائے گئے ہیں، ان کی شہادت بھی یہی ہے۔
حدیث کے آخر میں ہے کہ ورقہ بن نوفل نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے مکرر کہا کہ اگر میں نے آپ ﷺ کا وہ زمانہ پایا جب آپ ﷺ قو م کو دین حق کی دعوت دیں گے اور قوم آپ ﷺ کی مخالف اور دشمن ہو جائے گی تو میں اپنے اس بڑھاپے اور معذوری کے باوجود آپ ﷺ کی اپنے امکان بھر مدد کروں گا ..... اس کے آگے روایت میں ہے کہ پھر تھوڑی ہی مدت کے بعد یہ ورقہ بن نوفل وفات پا گئے ..... اور غار حرا کے اس واقعہ کے بعد کچھ مدت تک وحی کی آمد کا سلسلہ بند رہا۔ (حدیث کے اصل مضمون کی توضیح و تشریح ختم ہوئی)
حدیث سے متعلق چند امور کی وضاحت
۱۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے اور ایمان لانے والے ورقہ بن نوفل اور حضرت خدیجہؓ ہیں، لیکن یہ اس وقت ہوا جب رسول اللہ ﷺ کو دین حق کی طرف دعوت دینے کا حکم نہیں ہوا تھا اور ورقہ بن نوفل اسی زمانے میں اس حال میں انتقال فرما گئے کہ وہ صحیح عیسوی دین پر قائم تھے اور رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کر کے آپ ﷺ پر بھی ایمان لا چکے تھے، اس لحاظ سے ان کو اس امت کا اول مومن بھی کہا جا سکتا ہے ......پھر جب آپ ﷺ کو دعوت دینے کا حکم ہوا تو جیسا کہ روایات سے معلوم سے معلوم ہوتا ہے، سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیقؓ، حضرت علی مرتضیٰؓ، حضرت زید بن حارثہؓ اور حضرت خدیجہؓ نے آپ ﷺ کی دعوت کو قبول کیا جو آپ ﷺ کی نبوت پر پہلے بھی ایمان لا چکی تھیں۔
۲۔ حدیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت جبرئیلؑ نے تین دفعہ انتہائی زور زور سے حضور ﷺ کا گلوئے مبارک دبایا (جیسے کوئی کسی کا گلا گھونٹنا چاہتا ہے) شارحین اور علمائے کرام نے اس کی مختلف توجیہیں بیان فرمائی ہیں۔
اس عاجز راقم سطور کے نزدیک زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ اس طرح انتہائی زور سے گلا دبانے سے مقصد یہ ہوتا تھا کہ کچھ دیر کے لئے آپ کی توجہ ہر طرف سے اپنی ذات کی طرف سے بھی ہٹ کر صرف اپنے رب کریم کی طرف ہو جائے جب کسی عارف باللہ اور خدا آشنا بندے کا اس طرح گلا گھونٹا جائے گا تو یقیناً اس کی تمام تر توجہ صرف اپنے پروردگار کی طرف ہو جائے گی اور اس کا احساس و شعور بڑی حد تک اس عالم سے کٹ کر ملا اعلیٰ سے جڑ جائے گا، اس وقت حضور ﷺ پر جو وحی پہلی دفعہ القا کی جانے والی تھی، اس کے لئے اس کی ضرورت تھی، بالفاظ دیگر اس عمل کے ذریعہ حضور کی روح و قلب میں وہ قوت پیدا کرنی تھی، جو اس وحی الہی کا تحمل کر سکے جس کو قرآن پاک میں قولاً ثقیلاً فرمایا گیا ہے ..... بعد میں بھی نزول وحی کے وقت حضور کا جو حال ہوتا تھا، وہ حدیثوں میں ذکر کیا گیا ہے، سخت سردی کے موسم میں جب آپ ﷺ پر وحی کا نزول ہوتا تو آپ کو پسینہ پھوٹ پڑتا۔
روایات میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اونٹنی پر سوار ہونے کی حالت میں اگر وحی نازل ہوئی تو اونٹنی بیٹھ گئی ..... الغرض اس عاجز کے نزدیک زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ اس سخت دباؤ کا مقصد یہی تھا کہ آپ ﷺ اس وحی کا تحمل فرما سکیں جو پہلی دفعہ القا کی جا رہی تھی۔ واللہ اعلم۔
۳۔ حدیث میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ غار حرا سے جب گھر واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ کا دل لرز رہا تھا اور جسم مبارک پر بھی اس کا اثر تھا اور حضرت خدیجہؓ سے آپ ﷺ نے فرمایا “لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي” (مجھے تو اپنی جان کا خطرہ ہو گیا تھا) آپ ﷺ کا یہ حال بھی حضرت جبرائیل کے اس گلا دبانے کا اور کلام الہی کے بار گراں کا بھی نتیجہ تھا، یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و حکمت ہے کہ ہم پر قرآن پاک کی تلاوت کا کوئی بوجھ نہیں پڑتا ورنہ اس کی شان تو خود اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے:
لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّـهِ
(سورۃ الحشر آیت نمبر: ۲۱)
ترجمہ: اگر یہ قرآ ہم پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دب جاتا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ، وَلاَ: لِمَ صَنَعْتَ؟ وَلاَ: أَلَّا صَنَعْتَ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی، آپ ﷺ نے کبھی مجھے اف کا کلمہ بھی نہیں فرمایا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا۔
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے اخلاق حسنہ کے بارے میں خود آپ ﷺ کے اور ساری کائنات کے حالق و پروردگار نے اپنی کتاب مبین قرآن مجید میں فرمایا ہے “إِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ” (1) یعنی اے ہمارے پیغمبر (ﷺ) آپ اخلاق کے بلند و برتر مقام پر ہیں، احادیث و سیرت کی روایات میں آپ ﷺ کے اخلاق حسنہ کا جو بیان ہے، وہ اسی مختصر قرآنی بیان کی گویا تشریح و تفسیر ہے “معارف الحدیث جلد دوم” میں کتاب الاخلاق قریباً دو سو صفحات پر ہے اس میں اخلاق سے متعلق آنحضرتص کی تعلیمات و ارشادات اور باب اخلاق کے سلسلہ کے آپ ﷺ کے بعض اہم واقعات بھی ذکر کئے گئے ہیں۔
شروع میں وہ حدیثیں بھی درج کی گئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں اور اللہ کے نزدیک اخلاق کا کیا درجہ اور مقام ہے۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے آنحضرت ﷺ کے چند مختصر ارشادات یہاں بھی ناظرین کی یاد دہانی کے لئے ذکر کر دئیے جائیں ..... ارشاد فرمایا:
إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلاَقًا (2)
ترجمہ: تم لوگوں میں اچھے اور بہتر وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہیں۔
ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا:
إِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مكارمَ الْأَخْلَاقِ (3)
ترجمہ: میں خاص اس کام کے لئے بھیجا گیا ہوں کہ اپنی تعلیم اور عمل سے کریمانہ اخلاق کی تکمیل کر دوں۔
ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا:
إِنَّ أَثْقَلَ شَيْءٍ يُوضَعُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُلُقٌ حَسَنٌ.
ترجمہ: قیامت کے دن مومن کی میزان اعمال میں جو سب سے زیادہ وزنی چیز رکھی جائے گی وہ اس کے اچھے اخلاق ہوں گے۔
آپ ﷺ نے عمر شریف کے آخری دور میں حضرت معاذ بن جبل ؓ کو داعی و معلم اور حاکم بنا کر یمن بھیجا تو آخری نصیحت فرمائی:
أَحْسِنْ خُلُقَكَ لِلنَّاسِ. (1)
ترجمہ: دیکھو سب لوگوں سے اچھے اخلاق کا برتاؤ کرنا۔
اس تمہید کے بعد ذیل میں چند وہ حدیثیں پڑھئے جن میں صحابہ کرام نے اپنے تجربہ اور مشاہدہ کی بنیاد پر آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان فرمایا ہے ..... اللہ تعالیٰ ہم سب کو زندگی کے اس شعبہ میں بھی آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کا کامل اتباع نصیب فرمائے۔
تشریح ..... عربی زبان میں اف کا کلمہ کسی بات پر ناگواری و ناراضی اور غصہ کے اظہار کے لئے بولا جاتا ہے ..... رسول اللہ ﷺ جب ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو حضرت انسؓ کی عمر آٹھ (۸) سال (اور ایک دوسری روایت کے مطابق دس (۱۰) سال) تھی، ان کی والدہ ام سلیم ؓ نے جو بڑی مخلص مومنہ صالحہ تھیں اپنے ان بیٹے کو حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا اور گویا آپ ﷺ کی خدمت کے لئے وقف کر دیا اور پھر یہ حضور ﷺ کی وفات تک پورے دس (۱۰) سال آپ ﷺ کی خدمت میں رہے، اس حدیث میں انہوں نے حضور کے حسن اخلاق اور نرم مزاجی کے بارے میں اپنا یہ ذاتی تجربہ بیان فرمایا ہے کہ دس (۱۰) سال کی خادمانہ مدت میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ ﷺ نے ناراضی اور غصہ کے اظہار کے لئے اف کا کلمہ بھی فرمایا ہو، اسی طرح کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی کام کے کرنے پر آپ ﷺ نے ڈانٹا ہو کہ یہ کام تم نے کیوں کیا، یا کسی کام کے نہ کرنے پر ڈانٹا ہو کہ تم نے یہ کام کیاں نہیں کیا ..... مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی عادت شریف اور آپ ﷺ کا عام رویہ عفو و درگزر کا تھا ..... حضرت انس ؓ ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے جس کو بیہقی نے “شعب الایمان” میں روایت کیا ہے کہ:
خَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا لَامَنِي عَلَى شَيْءٍ أَتَى فِيهِ عَلَى يَدَيَّ فَإِنْ لَامَنِي لَائِمٌ مِنْ أَهْلِهِ قَالَ: «دَعُوهُ فَإِنَّهُ لَوْ قُضِيَ شَيْءٌ كَانَ» (مشكوة المصابيح)
ترجمہ: میں نے دس (۱۰) سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی، اگر کبھی میرے ہاتھ سے کوئی چیز ضائع یا خراب ہو گئی تو آپ ﷺ نے اس پر بھی مجھے ملامت نہیں فرمائی، اور اگر میری اس غلطی پر آپ کے گھر والوں میں سے کوئی ملامت کرتا تو آپ فرما دیتے تھے کہ جب بات مقدر ہو چکی تھی وہ ہونی ہی تھیں۔
یہاں یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ آپ کا یہ رویہ ذاتی معاملات میں تھا، لیکن جیسا کہ دوسری حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے احکام و حدود کے بارے میں آپ ﷺ کوئی رو رعایت نہیں فرماتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ
وَعَنْهُ قَالَ: «كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الحَاشِيَةِ»، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً، حَتَّى «نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ البُرْدِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ»، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ، «فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ضَحِكَ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓ ہی سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے جا رہے تھے، میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا، آپ ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے جس کے کنارے موٹے تھے (چلتے چلتے) حضرت ﷺ کو ایک گنوار بدو نے پکڑ لیا اور آپ ﷺ کی چادر پکڑ کے اس زور سے کھینچا کہ آپ ﷺ اس بدو کے سینے سے آ لگے اور میں نے دیکھا کہ اس بدو کے زور سے چادر کھینچنے کی وجہ سے آپ ﷺ کی گردن مبارک کے ایک طرف نشان پڑ گیا۔ پھر اس گنوار بدو نے کہا کہ اے محمد تمہارے پاس جو اللہ کا مال ہے تم (اپنے آدمیوں کو) حکم دو کہ وہ اس میں سے مجھ کو دیں (حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس گنوار بدو کی طرف دیکھا (اور بجائے غصہ فرمانے کے) آپ ﷺ اس کی اس حرکت پر ہنسے اور اس کو کچھ دینے کا حکم دیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
نجران یمن کے علاقہ میں ایک شہر تھا جہاں خاص قسم کی چادریں بنتی تھیں، ان کو نجرانی چادر کہا جاتا تھا .... اس بدو نے جس “اللہ کے مال” (مال اللہ) کا سوال کیا تھا اس سے مراد بظاہر زکوٰۃ و صدقات وغیرہ کا وہ سرمایہ تھا جو بیت المال میں رہتا تھا جو آپ ﷺ مستحقین کو عطا فرماتے تھے ..... حدیث کا مضمون و مفہوم واضح ہے کسی توضیح و تشریح کا محتاج نہیں ..... ظاہر ہے کہ یہ بدو انتہائی درجہ کا اجڈ گنوار تھا، اس وقت اس میں کسی اصلاحی بات کے قبول کرنے کی صلاحیت اور استعداد بھی نہیں تھی، اس لئے آپ ﷺ نے اس کو سزا یا تنبیہ درکنار کوئی نصیحت کی بات بھی نہیں فرمائی، بلکہ اس کی اس انتہائی گستاخانہ حرکت کا جواب آپ ﷺ نے صرف ہنس کر دیا اور جس روپے پیسے کا وہ طالت تھا اس کو عنایت فرما دیا اور امت کو سبت دیا کہ اس درجہ کی بدتمیزی اور ایذا رسانی کے مواقع پر بھی نفس پر قابو رکھیں اور عفو و درگزر کا رویہ اختیار کر کے لوگوں کے دل جیتیں اور اپنے سے قریب کریں، پھر اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت عطا فرما دے گا اور ان کی اصلاح بھی ہو جائے گی ..... بلا شبہ ارباب بصیرت کے نزدیک آپ ﷺ کی زندگی کے اس طرح کے واقعات بھی آپ ﷺ کے معجزات ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ سے کسی چیز کا سوال کیا گیا ہو اور آپ نے اس کے جواب میں “لا”(یعنی نہیں) فرمایا ہو۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ ﷺ سے جب کسی چیز کا سوال کیا جاتا تا کہ یہ عنایت فرما دی جائے، تو آپ کبھی “لا” کہہ کر انکار نہیں فرماتے تھے، جس سے سوال کرنے والے کی دل شکنی ہوتی اگر وہ چیز موجود ہوتی تو عطا فرمادیتے، ورنہ عذر فرما دیتے اور دعا فرما دیتے الغرض سوال کرنے والے کو آپ کبھی “لا” کہہ کر انکار اور نفی میں جواب نہیں دیتے تھے۔
بہ ظاہر یہ ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ انتہائی غیر معمولی بات ہے، کسی شخص کے کسی مطالبہ یا سوال کے جواب میں کبھی بھی “نہ” نہ کہنا آخری درجہ کی کریم النفسی، شرافت طبع اور عالی ظرفی کی دلیل ہے، خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ وہبی طور پر یہ صفات نصیب فرما دے، اسی طرح وہ اللہ کے بندے جو ان صفات سے آراستہ اللہ والوں کے ساتھ رہ کر اپنے اندر یہ اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بھی بہت قابل رشک ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ، فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا، فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ، فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا» (رواه مسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تو مدینہ کے گھروں کے خدمت گار (غلام یا باندیاں) اپنے اپنے برتن لے کر آ جاتے جن میں پانی ہوتا (تا کہ آپ برکت کے لئے یا بیماری سے شفا جیسے مقاصد کے لئے اس پانی میں اپنا دست مبارک ڈال دیں) تو آپ ہر برتن میں اپنا دست مبارک ڈال دیتے تو بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ (سخت سردی کے موسم میں) ٹھنڈی صبح کے وقت (برتن میں بہت ٹھنڈا پانی لے کر آپ کے) پاس آ جاتے تو آپ ﷺ اس میں بھی اپنا دست مبارک ڈال دیتے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مدینہ منورہ میں سردی کے خاص موسم میں سخت سردی ہوتی ہے اور برتنوں میں رکھا پانی برف جیسا ٹھنڈا ہو جاتا ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ پانی لانے والے کی دلداری کے لئے اور اس عمل کو بندگان خدا کی خدمت تصور فرماتے ہوئے اس برف جیسے ٹھنڈے پانی میں بھی دست مبارک ڈال دینے کی تکلیف برداشت فرماتے تھے ..... حضرت انس ؓ کے اس بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں تھا کہ کبھی اتفاقاً ہی کوئی شخص برتن میں پانی لے آتا ہو اور آپ ﷺ اس میں دست مبارک ڈال دیتے ہوں بلکہ یہ گویا روز مرہ کا سا معمول تھا ..... اگر اللہ کے کسی صالح بندے کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے تو یہ حدیث اس کی اصل اور بنیاد ہے۔ بشرطیکہ عقیدہ میں فساد اور غلو نہ ہو۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ قَالَ: «إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً» (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ حضور ﷺ آپ مشرکین اور کفار کے حق میں بد دعا فرمائیں، تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں لعنت اور بددعا کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا ہوں بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کفار و مشرکین آپ ﷺ کے اور آپ کے لائے ہوئے دین حق کے انتہائی درجہ کے دشمن تھے، خود آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کو ہر طرح کی ایذائیں دیتے تھے، یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کو اپنا عزیز اور مقدس وطن مکہ مکرمہ چھوڑنا پڑا، اس کے بعد بھی ان کی شر انگیزیوں کا سلسلہ جاری رہا، تو کسی وقت آپ ﷺ کے اصحاب کرام نے درخواست کی کہ حضور ان ظالموں بدبختوں کے حق میں بد دعا فرمائیں کہ اللہ ان پر اپنا قہر و عذاب نازل فرمائے اور یہ ہلاک و برباد کر دئیے جائیں جس طرح اگلی بہت سی امتوں کے ایسے ظالم کفار پر عذاب نازل ہو، اور زمین ان کے وجود سے پاک کر دی گئی۔ تو آنحضرت ﷺ نے اس درخواست کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے نہیں بھیجا ہے کہ میں لعنت اور بددعا کروں، مجھے تو سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مقدس قرآن مجید میں فرمایا ہے: “وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا خَادِمًا، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ، فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ، إِلَّا أَنْ يُنْتَهَكَ شَيْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللهِ، فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» (رواه مسلم)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا نہ کسی عورت کو نہ کسی خادم کو، البتہ جہاد فی سبیل اللہ کے سلسلہ میں ضرور ایسا ہوا ہے ..... اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی شخص کی طرف سے آپ ﷺ کو ایذا پہنچانے والی کوئی حرکت کی گئی ہو تو آپ ﷺ نے اس سے انتقام لیا ہو، (بلکہ آپ ﷺ ذاتی معاملات میں معافی اور درگزر ہی کا معاملہ فرماتے تھے (البتہ اگر کسی شخص کی طرف سے کسی فعل حرام کا ارتکاب کیا جاتا تو آپ اللہ کے لئے (یعنی فرمان خداوندی کی تعمیل میں) اس مجرم کو سزا دیتے (یا سزا دینے کا حکم فرماتے) تھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ام المومنین حضرت صدیقہ ؓ نے اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے متعلق دو باتیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ آپ ﷺ نے کبھی کسی کی غلطی یا بےتمیزی پر غصہ ہو کر اس کو نہیں مارا حتیٰ کہ نہ کبھی کسی خادم پر آپ کا ہاتھ اٹھا نہ کسی عورت پر ..... یعنی کسی خادم غلام یا باندی سے یا کسی بیوی سے کیسی ہی غلطی ہوئی ہو، کبھی غصہ سے آپ کا ہاتھ اس پر نہیں اٹھا .... ہاں جہاد فی سبیل اللہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے لئے اس کے کسی دشمن پر آپ ﷺ کا ہاتھ اٹھا ہے، چنانچہ غزوہ بدر میں مشرکین مکہ کا سردار ابی بن خلف آپ ﷺ ہی کے ہاتھ سے ہلاک ہوا۔
دوسری بات حضرت صدیقہؓ نے یہ بیان فرمائی کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی بدبخت نے آپ ﷺ کو ایذا پہنچائی ہو ئی یا آپ ﷺ کے ساتھ بدتمیزی کی ہو تو آپ ﷺ نے اس سے انتقام لیا ہو، آپ ﷺ اپنی ذات کے معاملہ میں ہمیشہ عفو و درگزر ہی سے کام لیتے تھے۔ البتہ اگر کوئی شخص کسی حرام فعل اور جرم کا ارتکاب کرتا تو آپ ﷺ اس کو سزا دیتے تھے، لیکن یہ سزا بھی نفس کے تقاضے اور طبیعت کے غصہ سے نہیں بلکہ صرف اللہ کی رضا کے لئے اور اس کے حکم کی تعمیل میں دی جاتی تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ
عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: «كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ - تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهِ - فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ» (رواه البخارى)
جناب اسود سے روایت ہے (جو ایک بزرگ تابعی ہیں) انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ (جن اوقات میں حضور ﷺ گھر کے اندر رہتے تھے) تو ان اوقات میں آپ کیا کرتے تھے؟ تو حضرت صدیقہؓ نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کے کاموں میں شریک ہو کر ان کی مدد اور خدمت کرتے تھے، پھر جب نماز کا وقت آ جاتا تو سب چھوڑ کر نماز کو تشریف لے جاتے .... (صحیح بخاری)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گھر کے کام کاج میں گھر والیوں کی مدد کرنا اور ان کا ہاتھ بٹانا حضور کا مستقل معمول تھا اور یہ آپ ﷺ کی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس طرح کی سنتوں پر عمل کرنے کی بھی ہم لوگوں کو توفیق عطا فرمائے۔ اس میں خدمت اور مدد کرنے کا اجر و ثواب بھی ہے اور کبر جیسے روحانی امراض کا علاج بھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْصِفُ نَعْلَهُ وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ كَمَا يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ وَقَالَتْ: كَانَ بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ يَفْلِي ثَوْبَهُ وَيَحْلُبُ شَاتَهُ وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ. (رواه الترمذى)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا عام رویہ اور معمول یہ تھا کہ (ضرورت پڑنے پر) خود ہی اپنی (ٹوٹی پاپوش) گانٹھ لیتے تھے اور خود ہی اپنا (پھٹا ہوا) کپڑا سی لیتے تھے اور اپنے گھر میں اسی طرح کام کرتے تھے، جس طرح تم میں سے کوئی بھی آدمی گھر کا کام کرتا ہے ..... اور حضرت صدیقہؓ نے یہ بھی فرمایا کہ آپ ﷺ (کوئی مافوق البشر غیر انسانی مخلوق نہیں تھے، بلکہ) بنی آدم ہی میں سے ایک آدمی تھے (معمولی سے معمولی کام بھی خود کر لیتے تھے)اپنے کپڑوں میں خود جوئیں دیکھتے تھے، بکری کا دودھ خود دوہ لیتے تھے، اپنے ذاتی کام خود ہی کر لیتے تھے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث اور رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ میں بڑا سبق ہے، ان حضرات کے لئے جو دین اور علم دین میں حضور ﷺ کے خواص نائبین و وارثین ہیں، اللہ تعالیٰ سب کو اس کے اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَافَحَ الرَّجُلَ لَمْ يَنْزِعْ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَنْزِعُ يَدَهُ وَلَا يَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنْ وَجْهِهِ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَصْرِفُ وَجْهَهُ عَن وَجهه وَلم يُرَ مقدِّماً رُكْبَتَيْهِ بَين يَدي جليس لَهُ. (رواه الترمذى)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ اور معمول تھا کہ جب کسی شخص سے آپ ﷺ مصافحہ کرتے تو اپنا دست مبارک اس کے ہاتھ میں سے اس وقت نکالتے جب تک کہ وہ شخص اپنا ہاتھ آپ ﷺ کے دست مبارک سے نہ نکالتا، اسی طرح اپنا رخ اور چہرہ مبارک اس کی طرف سے نہ پھیرتے جب تک کہ خود وہ شخص اپنا چہرہ آپ ﷺ کی طرف سے نہ پھیرتا، اور کبھی آپ ﷺ کو اس حال میں نہیں دیکھا گیا کہ آپ ﷺ اپنے زانوئے مبارک برابر بیٹھے ہوئے دوسرے آدمی سے آگے گئے ہوئے ہوں۔ (جامع ترمذی)
تشریح
ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے والے اور آپ ﷺ سے مصافحہ کرنے والے حضرات آپ ﷺ پر ایمان لانے والے آپ کے خادم و جاں نثار صحابہ کرام ہی ہوتے تھے، ان کے ساتھ بھی آپ ﷺ کا اکرام اور لحاظ کا یہ رویہ تھا جو آپ ﷺ کے ہمہ وقتی خادم حضرت انس نے اس حدیث میں بیان کیا .... افسوس ہم جیسے امتیوں نے ان اخلاق عالیہ اور اس اسوہ حسنہ کے اتباع سے اپنے کو کس قدر محروم کر لیا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ كَانَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ لَأَحْصَاهُ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تم لوگوں کی طرح روانی اور تیزی سے گفتگو نہیں فرماتے تھے بلکہ اس طرح ٹھہر ٹھہر کر بات فرماتے تھے کہ اگر (آپ ﷺ کے الفاظ اور کلمات کو) کوئی شمار کرنا چاہتا تو شمار کر سکتا تھا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
ظاہر ہے کہ تعلیم اور تفہیم کے لئے یہی بہتر ہے کہ بات ٹھہر ٹھہر کے اس طرح کی جائے کہ سامعین پوری طرح سمجھ سکتیں اور ذہن نشین کر لیں جامع ترمذی میں حضرت صدیقہ ؓ ہی سے اسی مضمون کی جو حدیث روایت کی گئی ہے، اس کے آخری الفاظ یہ ہیں۔
كَانَ يَتَكَلَّمُ بِكَلاَمٍ يُبَيِّنُهُ، فَصْلٌ، يَحْفَظُهُ مَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ.
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ اس طرح کلام فرماتے تھے کہ اس کے کلمات جدا جدا ہوتے تھے جو لوگ آپ کے پاس بیٹھے ہوتے وہ اس کو حافظہ میں محفوظ کر لیتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلَ الصَّمْتِ. (رواه فى شرح السنة)
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خاموشی طویل ہوتی تھی۔ (شرح السنہ)
تشریح
مطلب یہ کہ آپ ﷺ تعلیم و تربیت جیسی کسی ضرورت ہی سے گفتگو فرماتے تھے، اگر کچھ فرمانے کی ضرورت نہ ہوتی تو آپ ﷺ خاموش ہی رہتے، اسی سلسلہ معارف الحدیث (کتاب الایمان جلد اول) میں صحیح بخاری و صحیح مسلم کے حوالہ سے یہ حدیث درج کی جا چکی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ.
ترجمہ: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ اچھی بات کرے (جس پر اجر و ثواب کی امید ہو) یا خاموش رہے۔
یہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و ہدایت تھی اور اسی پر آپ ﷺ کا عمل تھا، اللہ تعالیٰ ہم امتیوں کو بھی اس کا اتباع نصیب فرمائے۔
یہاں کتاب المناقب والفضائل میں رسول اللہ ﷺ کے اخلاق حسنہ سے متعلق صرف یہ دس حدیثیں درج کی گئی ہیں بلاشبہ یہ صرف “مشنے نمونہ از خروارے” ہے۔
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِي سِنِينَ، كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ المِنْبَرَ فَقَالَ: «إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الحَوْضُ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هَذَا، وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا فِيْهَ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شہدائے احد پر آٹھ سال کے بعد نماز پڑھی، اس شخص کی طرح جو الوداع کہنے والا ہو زندوں کو اور مردوں کو، پھر آپ (مسجد شریف آ کر) منبر پر رونق افروز ہوئے اور آپ نے صحابہ کرامؓ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تمہارے آگے فرط (میر منزل) کی طرح جانے والا ہوں اور میں تمہارے بارے میں شہادت دینے والا ہوں اور تم سے ملاقات کی جگہ حوض کوثر ہے، اور میں اپنی اسی جگہ سے اس حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا فرما دی گئی ہیں، زمین کے خزانوں کی کنجیاں، اور مجھے تمہارے بارے میں اس کا خطرہ نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے، لیکن مجھے اس کا ڈر ہے کہ میرے بعد تمہاری رغبت اور چاہت کا رخ دنیا کی طرح ہو جائے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
صاحب مشکوٰۃ المصابیح نے رسول اللہ ﷺ کے فضائل اور ولادت باسعادت اور بعثت و آغاز اور آپ ﷺ کے اخلاق حسنہ کے ابواب کے سلسلہ کو باب وفات پر ختم کیا ہے جس میں حضور ﷺ کی وفات اور مرض وفات سے متعلق احادیث ذکر کی ہیں، اسی کی پیروی کرتے ہوئے یہاں بھی آپ ﷺ کی وفات اور مرض وفات سے متعلق چند حدیثوں کے ذکر پر اس سلسلہ کو ختم کیا جاتا ہے۔
پہلے یہ ذکر کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے وفات کے بارے میں اس پر تو محدثین اور اہل سیر و تاریخ کا اتفاق ہے کہ ۱۱ ہجری ربیع الاول کا مہینہ اور دو شنبہ کا دن تھا، لیکن تاریخ کے بارے میں، تاریخ ولادت ہی کی طرح روایات اور اقوال مختلف ہیں، جہاں تک اپنا مطالعہ ہے حدیث کی کسی کتاب میں کوئی روایت نہیں ہے جس میں حضور کی تاریخ وفات کا ذکر کیا گیا ہو، تاریخ اور سیر کی کتابوں میں تین تاریخوں کی روایات ذخر کی گئی ہیں، ربیع الاول کی پہلی، دوسری اور بارہویں اور تاریخ ولادت کی طرح وفات کی تاریخ بھی بارہویں ہی زیادہ مشہور ہے لیکن بعض محققین نے لکھاہے کہ تاریخ وفات ۱۲۔ ربیع الاول کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتی کیوں کہ یہ بات مسلم اور صحیح ترین روایات سے ثابت ہے کہ وفات سے قریبا پونے تین مہینے پہلے آپ ﷺ نے جو حج کیا (حجۃ الوداع) تو ۹۔ ذی الحجہ کو جمعہ ہونے کی صورت میں ۱۲۔ ربیع الاول کو دو شنبہ کا دن کسی طرح نہیں ہو سکتا ذی الحجہ، محرم، صفر تینوں مہینوں کو خواہ ۳۰۔ ۳۰ دن کا فرض کیا جائے یا ۲۹۔ ۲۹ دن کا یا بعض کو ۲۹ اور بعض کو ۳۰ دن کا کسی صورت میں بھی ۱۲۔ ربیع الاول کو دو شنبہ کا دن نہیں ہو سکتا ..... ہاں اگر تینوں مہینوں کو ۲۹ دن کا مانا جائے (جو بہت مستبعد ہے اور جس کا امکان بہت کم ہے) تو ربیع الاول کو پہلے دو شنبہ کو ۲ تاریخ ہو گی اور اگر ایک مہینہ کو ۲۰ کا مانا جائے (جو بہت مستبعد ہے اور جس کا امکان ۳۰۔ ۳۰ دن کا مانا جائے (جو بکثرت ہوتا ہے) تو ربیع الاول کے پہلے دو شنبہ کو یکم تاریخ ہو گی۔ ان سب حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے زیادہ قرین قیاس یکم ربیع الاول والی روایت ہے۔ واللہ اعلم۔
اب پہلے آنحضرت ﷺ کے بعض وہ ارشادات ذکر کئے جائیں گے جن میں آپ ﷺ نے اشارۃ یا صراحۃً صحابہ کرام کو اپنی وفات کے قریب ہونے کی اطلاع دی تھی نیز بعض وہ حدیثیں جن میں مرض وفات کے بعض اہم واقعات بیان فرمائے گئے ہیں، آخر میں وہ حدیثیں جن میں سانحہ وفات کا بیان ہے، اللہ تعالیٰ ان احادیث مبارکہ کو اس عاجز راقم سطور کے لئے اور ناظرین کرام کے لئے ہدایت و سعادت کا وسیلہ بنائے اور ان کی برکت سے حسن خاتمہ نصیب فرمائے۔ اَللَّهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ وَاَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِيْنَ.
تشریح ..... واقعہ یہ ہے کہ غزوہ احد میں جو صحابہ کرامؓ شہید ہوئے تھے (جن میں حضور ﷺ کے محبوب و محترم چچا حمزہ ؓ بھی تھے) ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی تھی (بغیر نماز جنازہ ہی دفن کئے گئے تھے) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت ﷺ پر منکشف کیا گیا کہ آپ کا سفر آخرت قریب ہے تو آپ ایک دن مشہد احد تشریف لے گئے (جہاں شہدائے احد مدفون ہیں) اور آپ نے ان پر جنازہ کی نماز پڑھی ..... صحیح البخاری کتاب الجنائز کی اسی حدیث کی اس روایت میں ہے “صَلَّى عَلَى اَهْلِ اُحُد صَلاتهُ عَلَى الْمَيِّتِ” اس میں صراحت ہے کہ آپ نے آٹھ سال پہلے شہید ہو کر دفن ہونے والوں پر اسی طرح نماز پڑھی جس طرح میت کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے ..... آگے حدیث کے راوی عقبہ بن عامر کے الفاظ ہیں “كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالأَمْوَاتِ” مطلب یہ ہے کہ اس نماز میں حضور ﷺ کا حال وہ تھا جو زندوں اور مردوں سب کو الوداع کہنے والے اور رخصت کرنے والے کسی شخص کا ہوتا ہے۔آگے حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پھر وہاں سے آپ مسجد تشریف لائے (غالباً نماز کا وقت ہو گا اور مسجد میں لوگ جماعت سے نماز ادا کرنے کے لئے جمع ہوں گے) آپ منبر پر رونق افروز ہوئے اور خاص اہتمام کے ساتھ یہ چند باتیں ارشاد فرمائیں ..... اول یہ کہ میں تم سے پہلے اور تم سے آگے عالم آخرت کی طرف “فرط” کی طرح جانے والا ہوں ..... عرب میں دستور تھا کہ جب قافہ کسی طرف جانے والا ہوتا تو ایک سمجھدار اور تجربہ کار آدمی، آگے کی منزل کی طرف پہلے روانہ ہو جاتا، جو قافہ سے پہلے منزل پہ پہنچ کر قافلہ کے لئے ضروری انتظامات کر لیتا اس کو فرط کہا جاتا تھا (صاحب مظاہر حق نے فرط کا ترجمہ میر منزل کیا ہے) ..... اس ارشاد میں حضور ﷺ نے اپنے سفر آخرت کے قریب ہونے کا اشارہ دینے کے ساتھ صحابہ کرام کو تسلی دی کہ میرا تم سے پہلے چلا جانا تمہارے لئے باعث خیر ہو گا، میں آگے جا کر تمہارے لئے وہ کروں گا جو فرط کرتا ہے اور جس طرح قافلہ روانہ ہونے کے بعد منزل پر پہنچ کر پھر فرط سے مل جاتا ہے اسی طرح تم بھی مجھ سے آ ملو گے ..... آگے آپ نے فرمایا اور میں تمہارے بارے میں شہادت دوں گا کہ تم ایمان لائے تھے اور تم نے میرا اتباع کیا اور راہ حق میں ساتھ دیا تھا ..... آگے حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہاں ملاقات حوض کوثر پر ہو گی۔
یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اس حوض کوثر کو میں اس وقت اپنی اسی جگہ سے دیکھ رہا ہوں (یعنی اللہ تعالیٰ نے سارے پردے اٹھا کر آخرت کے حوض کوثر کو میرے سامنے کر دیا ہے) اس کے ساتھ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس زمین اور اس دنیا کے خزانوں کی کنجیاں مجھے عطا فرما دی گئی ہیں یہ بشارت تھی کہ دنیا کے خزانوں کی کنجیاں میری امت کو عطا فرمائے جانے کا خداوندی فیصلہ ہو چکا (واقعہ یہ ہے کہ اس کا ظہار عہد صحابہ ہی میں ہو گیا)۔
اس خطاب کے آخر میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس کا اندیشہ نہیں ہے کہ تم پھر مشرک ہو جاؤ گے اس طرف سے مجھے اطمینان ہے، ہاں یہ خطرہ ضرور ہے کہ تمہاری رغبت اور طلب کا رخ دنیا کی زینتوں، لذتوں کی طرف ہو جائے، حالانکہ مومن کے لئے رغبت اور چاہت کی چیز صرف جنت و نعمہائے آخرت ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے “وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ”
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى المِنْبَرِ فَقَالَ: «إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ، وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ» فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا، فَعَجِبْنَا لَهُ، وَقَالَ النَّاسُ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ، يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا، وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ المُخَيَّرَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایک دن) منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ نے (صحابہ کرامؓ کو خطاب کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی بہاروں اور نعمتوں میں سے جس قدر چاہے لے لے، یا (آخرت کی) جو نعمتیں اللہ کے پاس ہیں، ان کو لے لے ..... تو اس بندے نے (آخرت کی وہ نعمتیں) پسند کر لیں جو اللہ کےپاس ہیں ..... یہ سن کر ابو بکرؓ رونے لگے اور انہوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ ہم اور ہمارے ماں باپ آپ ﷺ پر سے قربان ہوں ..... (حدیث کے راوی ابو سعید خدری کہتے ہیں) کہ ہم کو ابو بکرؓ کے اس حال اور اس بات پر تعجب ہوا اور لوگوں نے آپس میں کہا کہ ان بزرگوار کو دیکھو! حضور ﷺ تو اس بات کی خبر دے رہے ہیں، کہ اللہ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا تا کہ یا تو وہ دنیا کی بہاروں نعمتوں میں سے جس قدر چاہے پسند کرے یا آخرت کی وہ نعمتیں جو اللہ کے پاس ہیں پسند کرے ..... اور یہ بزرگوار ابو بکر کہہ رہے ہیں کہ “ہم اور ہمارے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں” (آگے ابو سعید خدری فرماتے ہین کہ جب جلدی ہی حضور ﷺ وفات پا گئے تو معلوم ہو گیا کہ) آپ ﷺ ہی وہ بندے تھے، جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ اختیار دیا تھا (اور معلوم ہو گیا کہ) ابو بکرؓ علم و دانش اور فرواست میں ہم سب سے فائق تھے (انہوں نے وہ حقیقت سمجھ لی جو ہم میں سے کوئی دوسرا نہیں سمجھ سکا)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس روایت میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر رونق افروز ہو کر یہ خطاب کب فرمایا تھا، صاحب مشکوٰۃ نے الفاظ کی کچھ کمی بیشی کے ساتھ سنن دارمی کے حوالہ سے۔
اس خطبہ کے متعلق حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت نقل کی ہے اس میں صراحت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ خطاب مرض وفات ہی میں فرمایا تھا اور یہ حضرت کا آخری خطاب تھا، اس کے بعد حض ﷺ ر ﷺ نے مسجد شریف میں کوئی خطاب نہیں فرمایا یہاں تک کہ وصال فرما گئے۔
اور صحیح مسلم کی ایک روایت سے (جس کے راوی حضرت جندب ہیں) معلوم ہوتا ہے کہ وفات سے دن پہلے (یعنی جمعرات کے دن) آپ نے یہ خطاب فرمایا تھا۔
صاحب مشکوٰۃنے “باب وفات النبی ﷺ ” میں حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے یہ حدیث صرف اتنی ہی نقل کی ہے جو یہاں درج کی گئی، لیکن صحیح بخاری و صحیح مسلم دونوں میں یہ حدیث حضرت ابو بکر ؓ، کے فضائل کے باب میں بھی نقل کی گئی ہے اور دونوں میں یہ اضافہ ہے کہ حضور نے اسی خطاب میں یہ بھی فرمایا کہ:
«إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ - أَوْ مَوَدَّتُهُ - لَا يَبْقَى بَابٌ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ»
ترجمہ: یہ حقیقت ہے کہ لوگوں میں سے جس شخص نے میرے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کیا اپنے مال سے اور اپنی صحت (یعنی خادمانہ رفاقت) سے وہ ابو بکر ہے اور اگر میں اپنے پروردگار کے سوا کسی کو خلیل (یعنی جانی دوست) بناتا تو ابو بکر کو بناتا۔ لیکن اسلامی اخوت و مودت کا خاص تعلق ابو بکرے سے ہے، (اسی کے ساتھ آپ نے ہدایت فرمائی کہ) مسجد میں کھلنے والے سب دروازے بند کر دئیے جائیں سوائے ابو بکر کے دروازے کے (بس اسی کو باقی رکھا جائے)۔ اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے اس خطاب میں (جو وفات سے صرف پانچ دن پہلے آپ ﷺ نے فرمایا تھا اور جو مسجد شریف میں آپ کی زندگی کا آخری خطاب تھا) اپنے سفر آخرت کے قریب ہونے کی طرف اشارہ فرمانے کے ساتھ یہ بھی واضح فرما دیا تھا کہ امت میں جو مقام و مرتبہ ابو بکر کاس ہے، وہ کسی دوسرے کا نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ فرما کر کہ مسجد میں سب دروازے دبند کر دئیے جائیں صرف ایک دروازہ ابو بکر کا باقی رہے یہ اشارہ بھی فرما دیا تھا کہ میرے بعد ابو بکر ہی کا وہ تعلق مسجد سے رہے گا جو میرا تھا (ملحوظ رہے کہ عہد نبوت کی مسجد نبوی ہماری مسجدوں کی طرح صرف نماز کی مسجد نہیں تھی بلکہ وہ تمام کارہائے نبوت کا مرکز تھا)۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے اس خطاب میں اور بھی چند اہم ہدایات فرمائی تھیں۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ: «لَعَنَ اللَّهُ اليَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»، قَالَتْ عَائِشَةُ لَوْلاَ ذَاكَ لَأَبْرُزُ قَبْرُهُ غَيْرَ خَشِيَ أَنَّ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس مرض میں جس سے آپ صحت یاب نہیں ہوئے (یعنی مرض وفات میں) ارشاد فرمایا کہ یہود و نصاریٰ پر خدا کی لعنت ہو انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا (حضور ﷺ کا یہ ارشاد بیان کرنے کے بعد) حضرت صدیقہؓ نے فرمایا کہ اگر آپ ﷺ نے یہ فرمایا نہ ہوتا تو میں آپ ﷺ کی قبر مبارک کو کھول دیتی، آپ ﷺ کو خطرہ تھا کہ آپ ﷺ کی قبر مبارک کو بھی اسی طرح سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات بھی اسی خطاب میں فرمائی تھی جو آپ ﷺ نے وفات سے پانچ دن پہلے مسجد میں منبر پر روشن افروز ہو کر فرمایا تھا (جس کا ذکر ابو سعید خدریؓ کی مندرجہ بالا حدیث میں آ چکا ہے) اور بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے مرض کی شدت کی حالت میں جب کہ آپ اپنے بستر ہی پر تھے، یہ فرمایا تھا، قرین قیاس یہ ہے کہ یہ بات آپ ﷺ نے مرض کی شدت کی حالت میں بستر پر بھی فرمائی اور مسجد کے خطاب عام میں بھی کیوں کہ آپ کو اس کی غیر معمولی فکر تھی کہ میرے بعد میرے امتی میری قبر کے ساتھ وہ معاملہ نہ کریں جو یہود و نصاریٰ نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کے ساتھ کیا ہے اور اس کی وجہ سے وہ خداوندی لعنت کے مستحق ہو گئے ہیں، آپ ﷺ کو یہ تو اطمینان تھا کہ میرے امتی بت پرستی جیسے شرک میں مبتلا نہ ہوں گے (اس اطمینان کا آپ ﷺ نے اظہار بھی فرمایا) لیکن آپ ﷺ کو یہ خطرہ تھا کہ شیطان ان کو میری محبت اور تعظیم کے حیلہ سے اس شرک میں مبتلا کر دے کہ وہ میری قبر کو سجدہ کرنے لگیں، اس لئے اس بارے میں آپ ﷺ نے بار بار اور مختلف موقعوں پر اور مختلف عنوانوں سے تنبیہ فرمائی اور خاص کر مرض وفات میں آپ ﷺ نے اس کا زیادہ اہتمام فرمایا، خطاب عام میں بھی فرمایا اور گھر میں بستر علالت پر بھی۔
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي مَرَضِهِ " ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ، أَبَاكِ، وَأَخَاكِ، حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ وَيَقُولُ قَائِلٌ: أَنَا أَوْلَى، وَيَأْبَى اللهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ " (رواه مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض میں (مجھ سے) فرمایا کہ اپنے والد ابو بکر کو اور اپنے بھائی (عبدالرحمٰن) کو میرے پاس بلا لو تا کہ میں ایک نوشہ (وصیت نامہ کے طور پر) لکھا دوں، مجھے خطرہ ہے کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے اور کوئی کہنے والا کہے کہ میں زیادہ مستحق ہوں ..... اور اللہ اور مومنین ابو بکر کے سوا کسی کو قبول نہ کریں گے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث کا حاصل اور مفاد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے آخری مرض میں آپ ﷺ کے قلب مبارک میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لئے مجھے مبعوث فرمایا ہے اور جو کام مجھ سے لیتا رہا ہے، اپنے بعد اس کی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے (جس کا عنوان خلافت نبوت سے) ابو بکر کو نامزد کر دیا جائے اور اس بارے میں وصیت لکھا دی جائے، چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا کہ اپنے والد ابو بکر اور اپنے بھائی عبدالرحمٰن کو میرے پاس بلا دو مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی دوسرا تمنا کرنے لگے اور کوئی تیسرا کہنے والا کہنے لگے کہ میں اس کا زیادہ مستحق ہوں اور اس خدمت اور ذمہ داری کو میں بہتر طریقہ سے انجام دے سکتا ہوں اور اس سے اختلاف پیدا ہونے کا خطرہ ہے، اس خطرہ سے امت کی حفاظت کے لئے میں چاہتا ہوں کہ ابو بکر کے بارے میں وصیت نامہ لکھا دوں، لیکن پھر آپ ﷺ نے اس کی ضرورت نہیں سمجھی، آپ کو اطمینان ہو گیا کہ ایسا ہی ہو گا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے خود مومنین یہی فیصلہ کریں گے، چنانچہ آپ ﷺ نے خود ہی حضرت صدیقہؓ سے فرمایا دیا کہ “يابى الله والمؤمنون الا ابا بكر” (اللہ تعالیٰ اور مومنین ابو بکرؓ کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے) .... صحیح بخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضور کے مرض وفات کے پہلے دن کا ہے، (خلافت نبوت کی حقیقت کیا ہے؟ اس بارے میں ان شاء اللہ آگے درج ہونے والی ایک حدیث کی تشریح میں عرض کیا جائے گا۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَضَحِكَتْ، فَسَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ: «سَارَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ يَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ» (رواه البخارى)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض وفات میں (ایک دن) اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ کو (اپنے پاس) بلایا اور رازداری کے طور پر ان سے کوئی بات کی تو وہ رونے لگیں، پھر آپ ﷺ نے ان کو بلایا اور اسی طرح رازداری کے طور پر کوئی بات کی تو وہ ہنسنے لگیں۔ (حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ) میں نے اس کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ پہلی مرتبہ حضور ﷺ نےجب مجھ سے رازداری کے طور پر بات کی تھی تو مجھے یہ اطلاع دی تھی کہ آپ اسی مرض میں وفات پائیں گے (جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی) تو میں رنج اور صدمہ سے رونے لگی تھی آپ ﷺ نے جب دوبارہ اسی طرح رازداری سے بات کی تو آپ ﷺ نے مجھے بتلایا کہ آپ ﷺ کے گھر والوں میں سے سب سے پہلے میں ہی آپ ﷺ کے پیچھے روانہ ہوں گی (اور آپ ﷺ سے جا ملوں گی) تو مجھے خوشی ہوئی اور میں ہنسنے لگی۔ (صحیح بخاری)
تشریح
حدیث کا مضمون واضح ہے البتہ یہ ذکر کر دینا مناسب ہو گا کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اس حدیث کی صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت میں یہ تفصیل ہے کہ حضور ﷺ کے مرض وفات میں جس دن یہ واقعہ ہوا اور حضرت صدیقہؓ نے حضرت سیدہ فاطمہ ؓ سے دریافت کرنا چاہا کہ حضور ﷺ نے تم سے کیا بات فرمائی تھی، جس کی وجہ سے تم پہلے رونے لگی تھیں اور اور پھر جلدی ہی ہنسنے لگی تھیں؟ تو حضرت فاطمہ ؓ نے اس دن نہیں بتلایا بلکہ یہ کہا کہ جو بات حضور ﷺ نے زارداری کے ساتھ فرمائی ہے اس کو میں ظاہر نہیں کر سکتی ..... پھر جب حضور ﷺ کی وفات ہو گئی تو حضرت صدیقہؓ نے پھر ان سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتلایا کہ پہلی دفعہ حضور ﷺ نے مجھے یہ بتلایا تھا کہ میں اسی مرض میں دنیا سے اٹھا لیا جاؤں گاتو میں رنج و صدمہ سے رونے لگی تھی، پھر جب دوسری دفعہ آپ ﷺ نے مجھے بتلایا کہ آپ ﷺ کے گھر والوں میں سب سے پہلے میں ہی آپ ﷺ سے جا ملوں گی، تو رنج و غم کی کیفیت ختم ہو گئی اور میں خوشی سے ہنسنے لگی تھی۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں باتیں اسی طرح واقع ہوئیں، ایک یہ کہ حضور ﷺ نے جیسا کہ فرمایا تھا اسی مرض میں وفات پائی اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے اہل و عیال میں سب سے پہلے سیدہ فاطمہ ؓ کی ہی وفات ہوئی، صرف چھ مہینے کے بعد .... یقیناً یہ ان پیشنگوئیوں میں سے ہے جو آپ ﷺ کی نبوت کی روشن دلیل ہے۔
عَنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَبَا حَسَنٍ، " كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا "، فَأَخَذَ بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ المُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ: أَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ ثَلاَثٍ عَبْدُ العَصَا، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْفَ يُتَوَفَّى مِنْ وَجَعِهِ هَذَا، إِنِّي لَأَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ المُطَّلِبِ عِنْدَ المَوْتِ، اذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْهُ فِيمَنْ هَذَا الأَمْرُ، إِنْ كَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا عَلِمْنَاهُ، فَأَوْصَى بِنَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّا وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَنَاهَا لاَ يُعْطِينَاهَا النَّاسُ بَعْدَهُ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواه البخارى)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مرض وفات کے ایام میں (ایک دن) حضرت علی مرتضیٰ ؓ، حضور ﷺ کے پاس سے باہر نکل کر آئے تو لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آج رسول اللہ ﷺ کا حال کیسا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ الحمدللہ آج حالت اچھی ہے (مرض میں افاقہ ہے) تو (ان کے چچا) حضرت عباس ؓ نے ان کا ہاتھ پکڑ کے ان سے کہا کہ خدا کی قسم تین دن کے بعد تم دوسروں کے تابع اور محکوم ہو جاؤ گے، میں محسوس کر رہا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ جلد ہی وفات پا جائیں گے ..... موت کے قریبی وقت میں عبدالمطلب کی اولاد کے چہروں کی جو کیفیت ہوتی ہے میں اس کو پہنچانتا ہوں (اس پہچان اور تجربہ کی بنا پر میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ کا وقت قریب ہی ہے) تم ہمارے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلو، ہم آپ ﷺ سے دریافت کریں کہ (آپ ﷺ کے بعد) یہ کام (یعنی کار خلافت و نیابت) کس کے پاس رہے گا؟ .... اگر ہمارے (یعنی اہل خاندان) کے سپرد ہونے والا ہو گا تو ہم کو معلوم ہو جائے گا اور اگر ہمارے علاوہ کسی کے سپرد ہونے والا ہو گا تو ہم کو اس کا علم ہو جائے گا اور آپ ہمارے بارے میں وصیت فرما دیں گے ..... تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اگر ہم نے خلافت کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کیا اور آپ ﷺ نے ہم کو منع فرمایا دیا (یعنی خلافت ہم کو سپرد نہ کرنے کا فیصلہ فرما دیا) تو خدا کی قسم (آپ کے منع فرما دینے کے بعد) لوگ ہم کو خلافت نہ دیں گے تو میں تو خدا کی قسم رسول اللہ ﷺ سے خلافت کا سوال نہیں کروں گا۔ (صحیح بخاری)
تشریح
یہ بات تو حدیث کے مضمون ہی سے معلوم ہو جاتی ہے کہ جو واقعہ اس میں بیان ہوا، وہ آنحضرت ﷺ کے مرض وفات کے آخری ایام کا ہے ..... اور حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے “فتح الباری” میں اس حدٰث کی شرح میں ابن اسحاقؒ کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ امام زہری جو اس حدیث کے راوی ہیں، ان کا بیان ہے کہ یہ خاص اسی دن صبح کا واقعہ ہے جس دن سہ پہر کو آپ ﷺ نے وفات فرمائی۔
یہ بات بھی حدیث ہی سے معلوم ہو جاتی ہے کہ جس دن کا واقعہ اس میں بیان ہوا ہے اس کی صبح کو حضور ﷺ کی حالت بہ ظاہر ایسی اچھی تھی کہ حضرت علی ؓ نے (جو آپ کے خاص تیمار داروں میں تھے) اپنے احساس اور اندازہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کے ساتھ آپ ﷺ کے بارے میں اپنے اطمینان کا اطہار کیا تھا اور دوسرے لوگوں کو مطمئن کرنا چاہا تھا .... لیکن ان کے (اور خود حضور ﷺ کے بھی چچا) حضرت عباس ؓ (جو خاندان کے بوڑھے بزرگ اور زیادہ تجربہ کار تھے) اس کے برعکس حضور ﷺ کے چہرہ انور میں وہ آثار محسوس کر لئے تھے، جن سے ان کو اندازہ اور گویا یقین ہو گیا تھا کہ آپ جلدی ہی اس دنیا دار فانی سے دار البقاء آخرت کی طرف رحلت فرمانے والے ہیں، اسی بنا پر انہوں نے حضرت علیؓ سے (جو حضور ﷺ کے حقیقی چچا زاد بھائی ہونے کے علاوہ داماد بھی تھے) وہ بات کہی جو حدیث میں صراحت اور صفائی کے ساتھ ذکر کی گئی ہے اور حضرت علی مرتضیٰ ؓ نے وہ جواب دیا جو حدیث میں مذکور ہے .... ہمارے زمانے کے ان لوگوں کو جو خلافت نبوت کو بھی بادشاہت اور حکومت ہی سمجھتے ہیں حضرت علیؓ کے اس جواب اور طرز عمل سے شبہ ہو سکتا ہے کہ ان کے دل میں بادشاہت اور حکومت کی طمع تھی (اور بعض ناآشنا یا ان حقیقت نے اس کا اظہار بھی کیا ہے) لیکن حقیقت یہ ہے کہ خلافت نبوت دنیوی بادشاہت اور حکومت سے بالکل مختلف چیز ہے (ان دونوں میں ویسا ہی فرق ہے جیسا کہ دین اور دنیا میں فرق ہے) خلافت نبوت کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ دین حق کی دعوت و اشاعت، امت کی تعلیم و تربیت، اعلاء کلمۃ الحق، جہاد و قربانی، اور نظام عدل کے قیام کا جو کام وحی الہٰی کی رہنمائی میں نبی و رسول ہونے کی حیثیت سے جس طریق و منہاج پر اور جن اخلاقی اصولوں کی پابندی کے ساتھ انجام دے رہے تھے، وہی کام آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے جانشین اور قائم مقام کی حیثیت سے، اسی طریقہ و منہاج پر اور انہی اصولوں کی پابندی کے ساتھ کتاب و سنت اور اسوہ نبوی کی رہنمائی میں انجام دیا جائے ..... اسی کو خلافت نبوت اور خلافت راشدہ کہا جاتا ہے .... ظاہر ہے کہ یہ “دنیوی بادشاہت” کی طرح پھولوں کی سیج نہیں، کانٹوں بھرا بستر ہے ..... اس کی طمع اور طلب اور بندہ خدا کے لئے جو امید رکھتا ہو کہ اللہ کی مدد و توفیق سے وہ اس کا حق ادا کر سکے گا، ہرگز مذموم نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی سعادت ہے ..... حضرت علی مرتضیٰ ؓ، کو توقع تھی کہ اگر قردہ فال میرے نام پر آیا اور یہ خدمت عظمیٰ میرے سپرد ہوئی تو ان شاء اللہ بتوفیق خداوندی میں اس کو کما حقہ، انجام دے سکوں گا، اس لئے اس کی طمع اور طلب ایک اعلیٰ درجہ کی سعادت کی طلب تھی ..... چنانچہ ازل سے طے شدہ ترتیب کے مطابق جب پہلے تین خلفائے راشدین کے بعد آپ رسول اللہ ﷺ کے چوتھے خلیفہ منتخب ہوئے تو آپ نے کتاب و سنت کی رہنمائی میں اور رسول اللہ ﷺ کے قائم کئے ہوئے اصولوں کی پابندی کے ساتھ کار خلافت انجام دیا، لیکن چونکہ آپ کا پورا دور خلافت فتنوں کا زمانہ تھا، (جن میں امت حضرت عثمانؓ کی انتہائی مظلومانہ شہادت کی پاداش میں مبتلا کر دی گئی تھی) اس لئے آپ کا پورا وقت اور تمام تر قوت و صلاحیت فتنوں کی آگ بجھانے میں صرف بنوئی اور مثبت تعمیر کا آپ کو وقت ہی نہ ملا۔ وكان ذالك قدرا مقدورا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي البَيْتِ رِجَالٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلُمُّوا أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ»، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَهُ الوَجَعُ، وَعِنْدَكُمُ القُرْآنُ حَسْبُنَا، كِتَابُ اللَّهِ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ البَيْتِ وَاخْتَصَمُوا، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ غَيْرَ ذَلِكَ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالِاخْتِلاَفَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا» قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ، فَكَانَ يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: «إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ، مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الكِتَابَ، لِاخْتِلاَفِهِمْ وَلَغَطِهِمْ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ (ایک دن) جب کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کا وقت قریب آ گیا تھا اور (حضور ﷺ کے پاس) گھر میں چند اشخاص تھے، جن میں ایک حضرت عمر بن الخطابؓ بھی تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: آؤ میں لکھ دوں (یعنی لکھا دوں) تمہارے لئے ایک نوشتہ کہ ہرگز گمراہ نہ ہوں گے تم اس کے بعد ..... تو کہا حضرت عمرؓ نے (لوگوں سے) کہ حضور ﷺ کو اس وقت سخت تکلیف ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے اور وہ اللہ کی کتاب تمہارے لئے (یعنی تمہاری ہدایت کے لئے اور گمراہی سے حفاظت کے لئے) کافی ہے پس جو لوگ اس وقت (حضور ﷺ کے پاس) گھر میں تھے، ان کی رائیں مختلف ہو گئیں اور وہ آپس میں بحث کرنے لگے، ان میں سے کچھ کہتے تھے کہ (لکھنے کا سامان) آپ ﷺ کے پاس لے آؤ تا کہ آپ ﷺ وہ لکھا دیں (جو لکھنا چاہتے ہیں) اور بعض وہ کہتے تھے جو حضرت عمرؓ نے کہا تھا تو جب (اس بحث و مباحثہ کی وجہ سے) اختلاف اور شور و شغب زیادہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ میرے پاس سے چلے جاؤ۔
حضرت ابن عباسؓ سے اس واقعہ کے روایت کرنے والے راوی عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس اس واقعہ کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ مصیبت ساری مصیبت وہ ہے جو حائل ہوئی رسول اللہ ﷺ کے درمیان اور اس نوشتہ کی کتابت کے درمیان (جو آپ ﷺ لکھنا چاہتے تھے) ان لوگوں کے باہمی اختلاف رائے اور شور و شغب کی وجہ سے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
جیسا کہ ذکر کیا گیا حضرت عبداللہ بن عباس سے اس واقعہ کی یہ روایت عبیداللہ بن عبداللہ کی ہے حضرت ابن عباسؓ کے ایک دوسرے شاگرد سعید بن جبیر نے بھی ان سے اس واقعہ کی روایت کی ہے، اس میں چند باتوں کا اضافہ ہے، وہ روایت بھی صحیحین ہی میں ہے، اس کو بھی ذیل میں درج کیا جاتا ہے تا کہ پورا واقعہ سامنے آ جائے ..... سعید بن جبیر راوی ہیں: