Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 101 of 106

2001Maarif-ul-Hadith

وفات اور مرض وفات

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى. قُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ قَالَ: اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ فَقَالَ: «ائْتُونِي بِكَتِفٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا» . فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ. فَقَالُوا: مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ فَذَهَبُوا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ. فَقَالَ: «دَعُونِي ذَرُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ» . فَأَمَرَهُمْ بِثَلَاثٍ: فَقَالَ: «أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ» . وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَهَا فَنَسِيتُهَا قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا مِنْ قَول سُلَيْمَان. (رواه البخارى ومسلم)

(سعید بن جبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا کہ (مائے) جمعرات کا دن اور کیسا تھا جمعرات کا وہ دن (یہ کہہ کر) وہ ایساے روئے کہ ان کے آنسوؤں سے فرش زمین کے سنگریزے تر ہو گئے۔ میں نے عرض کیا کہ اے ابن عباسؓ کیا تھا وہ جمعرات کا دن؟ (جس کو آپ اس طرح یاد کر رہے ہیں) تو انہوں نے بیان کیا کہ (جمعرات کا دن تھا) کہ رسول اللہ ﷺ کی بیماری بڑھ گئی تو (اس حالت میں) آپ نے فرمایا کہ کتف (شانہ کی ہڈی) لے آؤم میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھا دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے، تو اس معاملہ میں (ان لوگوں میں جو اس وقت آپ ﷺ کے پاس حاضر تھے) اختلاف رائے ہو گیا ..... اور نبی کے پاس تنازعہ اور اختلاف نہ ہونا چاہئے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ کیا آپ ﷺ ہم کو چھوڑ رہے ہیں (داغ مفارقت دے رہے ہیں) آپ سے دریافت کرو (کیا فرماتے ہیں اور کیا عرض ہے؟) پھر لوگ آپ ﷺ سے بار بار اس بارے میں عرض کرنے لگے تو اپ ﷺ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو، میں جس شغل اور جس حال میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے، جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ..... پھر آپ ﷺ نے تین باتوں کا حکم فرمایا ایک یہ کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے باہر کر دیا جائے اور (حکومتوں یا قبیلوں کی طرف سے آنے والے) وفود یا قاصدوں کے ساتھ اسی طرح حسن سلوک کیا جائے جس طرح میں کیا کرتا تھا ..... سعید بن جبیرؓ سے اس حدیث کے روایت کرنے والے راوی سلیمان کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر نے تو تیسری بات بیان ہی نہیں کی یا میں بھول گیا .... (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح ایک ہی واقعہ سے متعلق حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے یہ دو بیان ہیں ان میں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں ہے صرف بعض اجزا کی کمی زیادتی کا فرق ہے، بظاہر اس کا سبب یہ ہے کہ جب حضرت ابن عباسؓ نے یہ واقعہ عبیداللہ بن عبداللہ کے سامنے بیان کیا تو صرف وہ اجزاء بیان کئے جو پہلی روایت میں ذکر کئے گئے ہیں اور اس وقت حضور ﷺ کے پاس حضرت عمرؓ کا ہونا اور انہوں نے جو فرمایا تھا اس کا بھی ذکر کیا اور جب سعید بن جبیرؓ کے سامنے بیان کیا تو اس میں حضرت عمرؓ کا تو کوئی ذخر نہیں کیا لیکن کئی باتیں وہ بیان کیں جو پہلے بیان میں ذکر نہیں کی تھیں .... اور ایسا بکثرت ہوتا ہے۔ دونوں روایتوں کو پیش نظر رکھا جائے تو پورا واقعہ اس طرح سامنے آتا ہے .... کہ جمعرات کا دن تھا، (یعنی وفات سے پانچ دن پہلے، کیوں کہ یہ بات قطعی اور یقینی طور پر معلوم ہے کہ حضور ﷺ کی وفات دو شنبہ کو ہوئی) تو اس جمعرات کو آنحضرت ﷺ کے مرض میں شدت ہو گئی، بخار بہت تیز ہو گیا اور تکلیف بہت بڑھ گئی، اس وقت آپ ﷺ کے پاس چند حضرات تھے ان میں حضرت عمرؓ بھی تھے، اسی حالت میں حض ﷺ ر ﷺ نے فرمایا کہ لکھنے کا سامان لے آؤ میں چاہتا ہوں کہ تمہارے لئے ایک تحریر لکھوا دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ (صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے۔ “اِيْتُوْنِىْ بِالْكَتَفِ وَالدَّاوَاةِ” یعنی شانہ کی ہڈی اور دوات لے آؤ) (1) اس موقع پر حضرت عمرؓ نے وہاں موجود دوسرے لوگوں سے کہا کہ اس وقت حضور ﷺ کو بہت تکلیف ہے، آپ ﷺ ہی کے ذریعہ آیا ہوا قرآن مجید تمہارے پاس موجود ہے، ہماری تمہارے ہدایت کے لئے اور ہر طرح کی ضلالت اور گمراہی سے بچانے کے لئے اللہ کی وہ کتاب کافی ہے (جیسا کہ خود قرآن میں بارہا فرمایا گیا ہے) حاضرین میں اس بارے میں اختلاف رائے ہو گیا، کچھ حضرات نے کہا کہ لکھنے کا سامان لانا چاہئے تا کہ حضور ﷺ جو لکھوانا چاہتے ہیں وہ لکھا جائے اور کچھ حضرات نے وہ کہا جو حضرت عمرؓ نے کہا تھا کہ اص سخت تکلیف کی حالت میں حضور ﷺ کو کچھ لکھوانے کی زحمت نہ دی جائے، اللہ تعالیٰ کی کتاب ہدایت قرآن مجید کافی ہے..... اسی موقع پر بعض حضرات نے کہا “مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ” (حضور ﷺ کا کیا حال ہے، کیا آپ ﷺ جدائی اختیار فرما رہے ہیں ہم کو چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ آپ سے دریافت کرو) پھر لوگ اس بارے میں بار بار آپ سے عرض کرتے رہے، اس سے آپ کی توجہ الی اللہ اور اس وقت کی خاص قلبی کیفیت میں خلل پڑا، آپ نے فرمایا اس وقت تم لوگ مجھے چھوڑ دو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش نہ کرو میں جس شغل اور جس حال میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو۔ (یعنی میں اس وقت اپنے رب کریم کی طرف متوجہ ہوں اس کے حضور میں حاضر ہونے کی تیاری کر رہا ہوں اور تم مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہو مجھے چھوڑ دو .... حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (کہ اس کے بعد آہپ نے اسی مجلس میں تین باتوں کا حکم فرمایا۔ ایک یہ کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے باہر کر دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ حکومتوں یا قبیلوں کی طرف سے آنے والے وفود اور قاصدوں کے ساتھ اسی طرح حسن سلوک کیا جائے (ان کو مناسب تحائف دئیے جائیں) جیسا کہ میرا طرز عمل رہا ہے .... حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اس حدیث کے روایت کرنے والے سعید بن جبیر کے شاگرد سلیمان نے تین باتوں میں سے یہی دو باتیں بیان کیں، اور تیسری بات کے بارے میں کہا کہ یا تو سعید بن جبیر نے وہ بیان ہی نہیں کی تھی یا میں بھول گیا ہوں۔ یہ ہے پورا واقعہ جو “حدیث قرطاس” کے نام سے معروف ہے، اس میں چند باتیں خاص طور سے قابل لحاظ اور وضاحت طلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ واقعہ جمعرات کے دن کا ہے، اس کے پانچویں دن دوشنبہ تک آنحضرت ﷺ اس دنیا میں رہے، ان دنوں میں آپ نے وہ تحریر نہیں لکھوائی بلکہ اس کے لکھوانے کا کسی دن ذکر بھی نہیں فرمایا، یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ اس تحریر کے لکھانے کا آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نہیں ہوا تھا، بلکہ آپ ﷺ کو بطور خود ہی اس کا خیال ہوا تھا اور بعد میں خود آپ کی رائے اس کے لکھانے کی نہیں رہی .... اگر اس کے لکھوانے کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہوتا یا آپ کی رائے میں تبدیلی نہ ہوئی ہوتی اور آپ کے نزدیک گمراہی سے امت کی حفاظت کے لئے اس کا لکھانا ضروری ہوتا تو ان پانچ دنوں میں آپ ﷺ اس کو ضرور لکھواتے اور اس کا نہ لکھوانا (معاذ اللہ) فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کوتاہی ہوتی (حاشا، ثم حاشا) اور یہ بالکل اسی طرح ہوا جس طرح آپ ﷺ نے اسی مرض وفات کے بالکل ابتدا میں (1) حضرت ابو بکرؓ کی خلافت کے بارے میں تحریر لکھوانے کا اور اس کے لئے حضرت ابو بکرؓ اور ان کے صاحب زادے عبدالرحمن کو بلوانے کا بھی ارادہ فرمایا تھا۔ لیکن بعد میں خود آپ نے اس کو غیر ضروری سمجھ کر اس کے لکھانے کا خیال چھوڑ دیا ..... اور فرمایا کہ “يَابَى اللهُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اِلَّا اَبَا بَكْرٍ” تو سمجھنا چاہئے کہ جمعرات کے دن کے اس واقعہ میں بھی ایسا ہوا اور خود حضور ﷺ نے اس تحریر کا لکھانا غیر ضروری سمجھ کر اس کے لکھانے کا ارادہ ترک فرما دیا۔ اس حدیث قرطاس کے بارے میں ایک دوسری قابل لحاظ بات یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نے تیز بخار اور شدید تکلیف کی حالت میں تحریر لکھوانے کے لئے لکھنے کا سامان لانے کے لئے فرمایا، تو حضرت عمرؓ نے جو اس وقت حاضر خدمت تھے، حضور ﷺ سے تو کچھ عرض نہیں کیا البتہ حاضرین مجلس کو مخاطب کر کے ان کو رسول اللہ ﷺ کی اس وقت کی غیر معمولی حالت اور تکلیف کی شدت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ان سے کہا کہ اس وقت حضور ﷺ کو سخت تکلیف ہے اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اس حالت میں ہم لوگوں کو کچھ لکھوانے کی زحمت حضور ﷺ کو نہیں دینا چاہئے، خود قرآن مجید کے نصوص اور حضور ﷺ کی تعلیم و تربیت سے یہ یقین ان کے اندر پیدا ہو گیا تھا کہ انسانی دنیا کی ہدایت اور ہر قسم گمراہی اور ضلالت سے حفاظت کے لئے رسول اللہ ﷺ ہی کے ذریعہ آئی ہوئی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہدایت قرآن مجید کافی ہے، اس کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے “مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ” اور “تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ” اور “تَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ” اور ابھی“حجة الوداع” میں یہ آیت نازل ہو چکی ہے“الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے واضح اعلان فرما دیا ہے کہ انسانی دنیا کی ہدایت کے لیے جو کچھ بتلانا ضروری تھا وہ قرآن میں بیان فرما دیا گیا، اس سلسلہ کی کوئی ضروری بات بیان کرنے سے نہیں چھوڑی گئی ہے۔ دین یعنی ضابطہ حیات و ہدایت بالکل مکمل ہو گیا ہے۔ اس لئے ہم لوگوں کو حضور ﷺ کو کچھ لکھانے کی زحمت اس تکلیف کی حالت نہ دینی چاہئے قرآن آپ لوگوں کے پاس موجود ہے، اللہ تعالیٰ کی وہ کتاب ہماری آپ کی ہدایت کے لئے اور ہر قسم کی ضلالت اور گمراہی سے حفاظت کے لئے کافی ہے (عِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُكُمْ كِتَابُ اللهِ) جیسا کہ عرض کیا گیا اس مجلسی گفتگو کے بعد حضور ﷺ پانچ دن تک اس دنیا میں رہے اور وہ تحریر نہیں لکھوائی، بلکہ اس کے بعد کبھی اس کا ذکر بھی نہیں فرمایا ..... آپ کے اس طرز عمل نے حضرت عمرؓ کی اس رائے کی تصویب و تائید فرما دی۔ بلاشبہ یہ واقعہ حضرت عمرؓ کے عظیم فضائل و مناقب میں سے ہے۔ شارحین حدیث نے عام طور سے یہی سمجھا اور یہی لکھا ہے۔ اس حدیث قرطاس کے سلسلہ میں ایک تیسری قابل لحاظ بات یہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کی اس روایت میں (جو صحیحین کے حوالہ سے یہاں درج کی گئی ہے) اس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ حضور ﷺ نے لکھنے کا سامان لانے کا حکم کس کو دیا تھا۔ لیکن اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں مسند احمد کے حوالہ سے خود حضرت علی مرتضیٰ ؓ کی روایت نقل کی ہے جس میں صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لکھنے کا سامان لانے کا حکم انہی کو دیا تھا خود حضرت علی مرتضی کا بیان ہے کہ: أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِطَبَقٍ (اَىْ كَتْفٍ) يَكْتُبُ فِيهِ مَا لَا تَضِلُّ أُمَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ. (فتح البارى جز اول ص 106 طبع انصارى دهلى 1304ه) ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو حکم فرمایا تھا کہ میں طبق (یعنی کتف) لے آؤں تا کہ آپ ایسی تحریر لکھوا دیں جس کے بعد آپ کی امت گمراہ نہ ہو۔ یہ معلوم ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ، لکھنا جانتے تھے، ان کو لکھنے کا سامان لانے کے لئے حکم فرمانے کا مطلب بظاہر یہی تھا کہ وہ لکھنے کا سامان لے آئیں اور حضور ﷺ جو لکھوانا چاہتے ہیں وہ اس کو لکھیں ..... اور یہ بات بطور واقعہ معلوم اور مسلم ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ نے بھی وہ تحریر نہیں لکھی ..... یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ حضرت عمرؓ کی طرح انہوں نے بھی یہی مناسب سمجھا کہ حضور ﷺ اس شدید تکلیف کی حالت میں کچھ لکھوانے کی زحمت نہ فرمائیں اور غالباً ان کی رائے بھی یہی ہوئی کہ امت کی ہدایت اور ہر قسم کی ضلالت سے حفاظت کے لئے کتاب اللہ کافی ہے۔ اس حدیث میں ایک اور وضاحت طلب بات یہ ہے کہ سعید بن جبیر کی مندرجہ بالا روایت کے مطابق جب حضور ﷺ نے لکھنے کا سامان لانے کا حکم فرمایا تو بعض لوگوں نے کہا “مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ” اس کا صحیح مطلب سمجھنے کے لئے یہ صورت حال پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جب حضور ﷺ نے بیماری کی شدت اور سخت تکلیف کی حالت میں بطور وصیت ایسی تحریر لکھوانے کا ارادہ ظاہر فرمایا جس کے بعد آپ کی امت کبھی گمراہ نہ ہو تو بعض حضرات کو محسوس ہوا کہ شاید حضور ﷺ کا سفر آخرت کا وقت قریب آ گیا ہے، اس وجہ سے بطور وصیت ایسی تحریر لکھوانے کا ارادہ فرما رہے ہیں، یہ لوگ اس احساس سے سخت مضطرب اور بےچین ہو گئے اور انہوں نے اس اضطراب اور بےچینی کی ھالت میں کہا “مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ” (حضور ﷺ کا کیا حال ہے، کیا آپ ﷺ جدائی اختیار فرما رہے ہیں، ہم کو چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ آپ ﷺ سے دریافت کیا جائے) اس میں لفظ هجر ہجر سے مشتق ہے جس کے معنی جدائی اختیار کرنے اور چھوڑ کے جانے کے ہیں ..... یہ لفظ اسی معنی میں اردو میں بھی مستعمل ہے، “وصل” کے مقابلہ میں “هجر” بولا جاتا ہے اور ہجرت کے معنی ترک وطن کے ہیں .... بعض حضرات نے اس کو هجر سے مشتق سمجھا۔ جس کے معنی ہیں بیمار آدمی کا بےہوشی کی حالت میں بہکی بہکی باتیں کرنا۔ جس کو ہذیان کہا جاتا ہے، اس صورت میں حدیث کے اس جملہ کا مطلب یہ ہو گا کہ حضور ﷺ کچھ لکھوانے کے لئے جو فرما رہے ہیں کیا یہ ہذیان ہے؟ آپ سے دریافت کرو ..... ظاہر ہے کہ یہ مطلب کسی طرح درست نہیں ہو سکتا، کیوں کہ جو مریض بےہوشی کی حالت میں بہکی بہکی باتیں کرتا ہو وہ ایسے حال میں نہیں ہوتا کہ اس سے کچھ دریافت کیا جائے .... الغرض “اسْتَفْهِمُوهُ” کا لفظ اس کا قرینہ ہے کہ ہجر کا لفظ هُجر سے مشتق نہیں ہے جس کے معنی ہذیان کے ہیں۔ اس کے علاوہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ “لکھنے کا سامان لے آؤ میں ایک تحریر لکھوا دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے، یہ ہرگز ایسی بات نہیں تھی جس کے بارے میں کسی کو ہذیان کا شبہ بھی ہو۔ اگرچہ أَهَجر کو استفہام انکاری قرار دے کر یہ معنی بھی بن سکتے ہیں، لیکن واقعہ یہی ہے کہ یہاں اس لفظ کا ہذیان کے معنی میں ہونا بہت مستبعد ہے۔ حدیث کے اس جملہ “أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ” کے بارے میں یہ بات بھی خاص طور سے قابل لحاظ ہے کہ اس کے کہنے والے حضرت عمرؓ نہیں ہیں، یہ بات کچھ دوسرے حضرات نے کہی تھی جن کے نام بھی حدیث میں مذکور نہیں ہیں بلکہ فقالوا کا لفظ ہے (یعنی کچھ لوگوں نے کہا) شیعہ مصنفین حضرت عمرؓ کو لعن طعن کا نشانہ بنانے کے لئے یہ جملہ زبردستی ان کی طرف منسوب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے حضور ﷺ کے اس ارشاد کو ہذیان کہا (معاذ اللہ) حالانکہ اہل سنت کی حدیث کے کسی معتبر کتاب میں کوئی روایت نہیں ہے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ یہ بات حضرت عمرؓ نے فرمائی تھی .... انہوں نے اس موقع پر وہی فرمایا تھا جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی مندرجہ پہلی روایت میں ذکر کیا گیا ہے (عِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُكُمْ كِتَابُ اللهِ) ہاں “أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ” بھی بعض صحابہ کرامؓ ہی نے کہا تھا، لیکن اس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا اور وہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے عشق و محبت کی دلیل ہے۔ شارحین حدیث نے اس حدیث کی شرح میں اس پر بھی گفتگو کی ہے کہ آپ نے جو فرمایا تھا کہ “لکھنے کا سامان لے آؤ میں تمہارے لئے ایسی تحریر لکھوا دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے” ..... تو آپ کیا لکھوانا چاہتے تھے؟ اس سلسلہ میں مختلف باتیں کہی گئی ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ سب قیاسات میں ..... شیعہ حضرات کا دعویٰ ہے کہ حضور ﷺ حضرت علیؓ کے لئے خلافت نامہ لکھوانا چاہتے تھے؟ جو حضرت عمرؓ کی مداخلت کی وجہ سے نہیں لکھا جا سکا لیکن واقعہ یہ ہے کہ شیعوں کے لئے اس کے کہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیوں کہ ان کا دعویٰ ہے اور اسی پر ان کے بنیادی عقیدہ امامت کی بلکہ ان کے پورے مذہب کی بنیاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع سے واپسی میں وفات سے صرف ستر (۷۰) بہتر (۷۲) دن پہلے غدیر خم کے مقام پر سفر حج کے تمام رفقاء ہزاروں مہاجرین و انصار کو خاص اہتمام سے جمع کرا کے منبر پر کھڑے ہو کر (جو خاص اسی کام کے لئے تیار کرایا گیا تھا) اپنے بعد کے لئے حضرت علیؓ کی خلافت و امامت کا اعلان فرمایا تھا، اور صرف اعلان ہی نہیں فرمایا تھا بلکہ حضرت علیؓ کے لئے سب سے بیعت بھی لی تھی (اگرچہ ہمارے نزدیک یہ صرف گھڑا ہوا افسانہ ہے، لیکن شیعہ حضرات کا تو اس پر ایمان ہے اور ان کی مستند ترین کتابوں “الجامع الکافی” اور “احتجاج طبرسی” وغیرہ میں اس کی پوری تفصیلات ہیں) تو جب ایک کام ہو چکا اور ہزاروں کے مجمع میں اس شان اور اس دھوم دھام سے ہو چکا تو اس کے لئے بطور وصیت کچھ لکھوانے کی کیا ضرورت رہی ..... ہاں اس حدیث کی شرح میں جن حضرات نے یہ خیال ظاہر فرمایا ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے بعد کے لئے حضرت ابو بکرؓ کی خلافت کے باتے میں تحریر لکھوانے کا ارادہ فرمایا تھا، لیکن بعد میں جب آپ ﷺ کویہ اطمینان ہو گیا کہ تقدیر الٰہی میں یہ طے ہو چکا ہے تو آپ ﷺ نے تحریر لکھوانے کا ارادہ ترک فرما دیا تو یہ بات قابل فہم ہے علامہ بدرالدین عینی نے عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں اسی حدیث قرطاس کی شرح میں لکھا ہے: قَالَ الْبَيْهَقِيّ: وَقد حكى سُفْيَان بن عُيَيْنَة عَن أهل الْعلم، قيل: إِن النَّبِي، عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام، أَرَادَ أَن يكْتب اسْتِخْلَاف أبي بكر، رَضِي الله عَنهُ، ثمَّ ترك ذَلِك اعْتِمَادًا على مَا علم من تَقْدِير الله تَعَالَى. وَذَلِكَ كَمَا همَّ فِي أول مَرضه حِين قَالَ: وارأساه، ثمَّ ترك الْكتاب، وَقَالَ: يأبي الله والمؤمنون إِلَّا أَبَا بكر، ثمَّ قدمه فِي الصَّلَاة. (عمدة القارى ج 2 ص 171 طبع مصر) ترجمہ: امام بیہقی نے بیان کیا ہے کہ سفیان بن عیینہ نے (جو اس حدیث قرطاس کے ایک راوی ہیں) اہل علم سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارادہ فرمایا تھا کہ حضرت ابو بکر ؓ کو خلیفہ مقرر فرما دیں (اور اس کے لئے تحریر لکھوا دیں) پھر آپ نے یہ معلوم ہونے پر کہ تقدیر الٰہی میں یہ طے ہو چکا ہے اس کے لکھانے کا خیال ترک فرما دیا جیسا کہ اسی مرض کے ابتدا میں (جب آپ نے فرمایا تھا وا رأساہ) حضرت ابو بکرؓ کی خلافت کے بارے میں تحریر لکھوانے کا خیال فرمایا تھا پھر لکھوانے کا خیال ترک فرما دیا تھا اور فرمایا تھا “يابى الله والمؤمنون الال ابا بكر” (اور بجائے کچھ لکھوانے کے) آپ نے ان کو نماز کی امامت کرنے کا حکم فرما دیا۔ (یہ گویا عملی استخلاف تھا) ملحوظ رہے کہ سفیان بن عیینہ تابعین میں سے ہیں، انہوں نے جن “اہل علم” سے نقل کیا ہے ان میں غالباً حضرات تابعین بھی ہوں گے، اس سے معلوم ہوا کہ اس حدیث قرطاس کے بارے میں یہ رائے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابو بکر ؓ، کی خلافت کے بارے میں تحریر لکھوانے کا ارادہ فرمایا تھا حضرات تابعین کی بھی رہی ہے۔ اس حدیث قرطاس کی تشریح کے سلسلہ میں یہاں تک جو کچھ لکھا گیا وہ اس کو تسلیم کر کے لکھا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لکھنے کا سامان لانے کے لئے جو فرمایا تھا وہ کچھ لکھوانے کی نیت ہی سے فرمایا تھا اور آپ کا ارادہ اس وقت کوئی تحریر لکھوانے کا تھا۔ (جو بعد میں نہیں رہا اور آپ نے کچھ نہیں لکھوایا) لیکن حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں اسی حدیث قرطاس کی تشریح کے سلسلہ میں ایک احتمال یہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ دراصل حضور ﷺ کا ارادہ کچھ تحریر کرانے کا تھا ہی نہیں بلکہ آپ اپنے صحابہ کا امتحان لینا چاہتے تھے اور دیکھنا چاہتے تھے کہ ان کے قلوب میں یہ بات پوری طرح راسخ ہو گئی یا نہیں کہ اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید امت کی ہدایت کے لئے کافی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت عمرؓ، نے جو کہا “عِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُكُمْ كِتَابُ اللهِ” اور حاضرین مجلس میں سے اور لوگوں نے بھی اس کی تائید کی تو حضور ﷺ کو اطمینان ہو گیا۔ (فتح الباری جز ۱۸ ص ۱۰۱ طبع انصاری دہلی ۱۳۰۷؁ھ) ملحوظ رہے کہ قرآن مجید میں جا بجا “اطيعوا الله” کے ساتھ اطیعوا الرسول فرما کر اور دوسرے عنوانات سے بھی رسول اللہ ﷺ کے احکام و ارشادات کی تعمیل اور آپ کے طریقہ کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے اس لئے وہ بھی قرآن کی ہدایت میں شامل ہے اور قرآن مجید کو بھی حاوی ہے، اس لئے یہ شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ “حسبكم كتاب الله” میں رسول اللہ ﷺ کی سنت اور ہدایت سے استغنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اس حدیث کا آخری جز یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی مجلس میں تین باتوں کا حکم خاص طور سے دیا (ﷺ صحیح بخاری ہی کی ایک روایت کے الفاظ ہیں “واوصاهم بثلاث” یعنی آپ نے اس موقع پر زبانی ہی تین باتوں کی وصیت فرمائی) ایک یہ کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دیا جائے (واضح رہے کہ یہاں مشرکین سے مراد عام کفار ہیں خواہ مشرکین ہوں یا اہل کتاب، دوسری روایات میں “اخرجوا اليهود والنصارى” بھی ہے، مطلب یہ ہے کہ “جزیرہ عرب” اسلام کا مرکز اور خاص قلعہ ہے اس میں صرف اہل اسلام کی آبادی ہونی چاہئے اہل کفر کو آبادی کی اجازت نہ دی جائے اور جو ابھی تک آباد ہیں ان کو اس علاقہ سے باہر بسا دیا جائے(حضور ﷺ کے اس حکم اور وصیت کی تعمیل کی سعادت حضرت فاروق اعظم ؓ کے حصہ میں آئی، انہوں نے اپنے زمانہ خلافت میں اس کی تکمیل فرما دی) جزیرہ عرب کے حدود اور رقبہ کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، راجح یہ ہے کہ اس حدیث میں جزیرہ عرب سے مراد مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ یمامہ اور ان سے متصل علاقے ہیں۔ دوسری وصیت آپ نے یہ فرمائی تھی کہ حکومتوں یا قبیلوں یا علاقوں کے جو وفود اور قاصد آئیں (اگرچہ وہ غیر مسلم ہوں) ان کے ساتھ حسن سلوک کا ویسا ہی معاملہ کیا جائے جو میرا معمول ہے۔ آپ ﷺ ان کو مناسب تحائف بھی عطا فرماتے تھے، حضور ﷺ کا یہ حسن سلوک قدرتی طور پر ان کو متاثر کرتا تھا ..... یہ دو باتیں ہوئیں۔ تیسری وصیت کے بارے میں حدیث کے ایک راوی سفیان بن عیینہ نے فرمایا کہ اس حدیث کے روایت کرنے والے ہمارے شیخ سلیمان نے یہی دو باتیں بیان کیں اور تیسری بات کے بارے میں کہا کہ یا تو حضرت ابن عباسؓ کے شاگرد سعید بن جبیرؓ نے وہ بیان ہی نہیں کی تھی یا میں بھول گیا ہوں .... شارحین نے مختلف قرینوں کی بنیاد پر اس تیسری وصیت کو بھی متعین کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ بعض حضرات نے کہا کہ آپ ﷺ کی وہ تیسری وصیت یہ تھی کہ اللہ کی کتاب قرآن کو مضبوطی سے تھامے رہنا۔ بعض دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ وہ تیسری وصیت یہ تھی کہ “ ا تتخذوا قبرى ” (یعنی ایسا نہ ہو کہ میری قبر کو بت بنا کر اس کی پرستش کی جائے)۔ مؤطا امام مالک میں “اخرجوا اليهود” کے ساتھ حضور ﷺ کی یہ وصیت بھی روایت کی گئی ہے، بہرحال یہ سب قیاسات ہیں، تاہم یہ سب ہی حضور ﷺ کے ارشادات اور آپ کی ہدایت ہیں۔

2002Maarif-ul-Hadith

وفات اور مرض وفات

عَنْ عَائِشَةُ قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ فِي الأَرْضِ، بَيْنَ عَبَّاسٍ وَآخَرَ، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ؟ قُلْتُ: لاَ، قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا دَخَلَ بَيْتَهَا، وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ: «هَرِيقُوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ، لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ» قَالَتْ: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ مِنْ تِلْكَ القِرَبِ، حَتَّى جَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا: «أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ» قَالَتْ: وَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ، فَصَلَّى لَهُمْ وَخَطَبَهُمْ. (رواه البخارى)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کا مرض بڑھ گیا اور تکلیف میں شدت زیادہ ہو گئی تو آپ نے ازواج مطہرات سے اجازت چاہی کہ اب آپ کا علاج اور تیمارداری میرے ہی گھر میں ہو (یعنی مستقل قیام میرے ہی گھر میں رہے) تو سب ازواج مطہرات نے اس کی اجازت دے دی (اور سب اس پر راضی ہو گئیں) تو آپ کو دو آدمی اس طرح لے کر میرے گھر آئے کہ آپ ﷺ کے پائے مبارک (کے گھسٹنے سے) زمین پر لکیر بن رہی تھی (آپ کو لانے والے یہ دو آدمی) ایک ان میں سے عباس بن عبدالمطلب تھے اور دوسرے ایک اور صاحب تھے ..... آگے حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں تشریف لے آئے تو (ایک دن) آپ کو تکلیف بہت بڑھ گئی تو آپ نے ہم سے (یعنی ازواج مطہرات سے) فرمایا کہ مجھ پر سات ایسی مشکوں سے پانی چھوڑو جن کے بند کھولے نہ گئے ہوں، تا کہ (میری حالت بہتر اور پر سکون ہو جائے تو) میں (مسجد جا کر) لوگوں سے بہ طور وصیت کچھ ضروری باتیں کر سکوں (حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں) کہ ہم نے آپ کو ایک ٹب میں بٹھایا جو آپ کی زوجہ مطہرہ حفصہؓ کا تھا، پھر ہم نے (آپ کی ہدایت کے مطابق) آپ پر مشکوں سے پانی چھوڑنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ آپ نے اپنے ہاتھ سے ہمیں اشارہ فرمایا کہ تم نے کام پورا کر دیا۔ (حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ آپ کو سکون ہو گیا) چنانچہ آپ مسجد تشریف لے گئے پھر آپ نے نماز پڑھائی اور اس کے بعد خطاب بھی فرمایا (جس کا آپ کے دل میں خاص تقاضا تھا)۔ (صحیح بخاری) تشریح اس حدیث کا مضمون صحیح طور پر سمجھنے کے لئے یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ حضور ﷺ کی نو ازواج مطہرات تھیں جن کے حجرات (چھوٹے چھوٹے گھر) الگ الگ تھے، اور آپ ﷺ کا دستور و معمول تھا کہ عدل و انصاف کے تقاضے کے مطابق باری باری ان سب کے ہاں ایک ایک رات قیام فرماتے، آپ اس کی ایسی پابندی فرماتے تھے کہ بعض علمائے کرام نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ ایسا کرنا آپ کے حق میں فرض و واجب تھا۔ بہرحال ماہ صفر ۱۱؁ھ کی کسی تاریخ کو (جس کے بارے میں روایات مختلف ہیں) آپ کے اس مرض کا سلسلہ شروع ہوا جس کا اختتام وفات ہی پر ہوا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دن حضرت میمونہ ؓ کے ہاں قیام تھا پھر اگلے دن جن زوجہ مطہرہ کے ہاں قیام کی باری تھی، آپ ان کے ہاں منتقل ہو جائے۔ بیماری کی حالت میں روزانہ ایک گھر سے دوسرے گھر منتقلی آپ ﷺ کے لئے سخت تکلیف کا باعث تھی، آپ ﷺ کی خواہش تھی کہ اب آپ ﷺ ایک ہی گھر میں قیام فرمائیں اور مختلف وجوہ سے اس کے لئے آپ ﷺ کے دل میں حضرت عائشہؓ کے گھر کو ترجیح تھی۔ صحیح بخاری کو جو حدیث اوپر درج کی گئی ہے، اس کے الفاظ کا ظاہری مطلب یہی ہے کہ حضور ﷺ نے خود ازواج مطہرات سے اپنی اس خواہش کا اظہار فرمایا اور ان سے اس کی اجازت چاہی لیکن حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اسی حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ ابن سعد نے صحیح سند سے امام زہری سے نقل کیا ہے کہ امہات المومنین سے یہ اجازت حضور ﷺ کی طرف سے حضرت کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ ؓ نے لی تھی (1) بہرحال سب ازواج مطہرات اس پر راضی ہو گئیں اور رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے حجرے میں پہنچا دئیے گئے۔ خود حضرت صدیقہؓ کی روایت ہے کہ یہ دو شنبہ کا دن تھا، یعنی وفات سے ٹھیک ایک ہفتہ پہلے ..... آپ مرض کے اثر سے اس وقت تک اتنے ضعیف و نحیف ہو گئے تھے کہ آپ خود نہیں چل سکتے تھے، بلکہ دو آدمی اس طرح آپ ﷺ کو لا رہے تھے کہ آپ ﷺ کے پائے مبارک زمین پر گھسٹ رہے تھے .... حضرت عائشہ صدیقہؓ نے ان دو (۲) آدمیوں میں سے آپ ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ کا تو نام لیا اور دوسرے صاحب کا نام نہیں لیا، شارحین نے اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ حضرت عباسؓ تو ایک طرف سے مستقل آپ کو اٹھائے ہوئے تھے اور دوسری جانب سے اٹھانے والے تبدیل ہوتے رہتے تھے، کبھی حضرت علیؓ اور کبھی حضرت عباسؓ کے صاحبزادے فضل بن عباسؓ اور کبھی حضرت اسامہؓ .... بہرحال اس طرح آپ ﷺ کو حضرت عائشہ ؓ کے حجرہ میں پہنچا دیا گیا جس کو ہمیشہ کے لئے آپ کی آرام گاہ بننا مقدر ہو چکا تھا .... اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا یہ دو شنبہ کا دن تھا۔ آگے حدیث میں حضرت عائشہؓ کا جو بیان ہے کہ میرے گھر میں تشریف لانے کے بعد حضور ﷺ کی تکلیف میں شدت ہو گئی اور آپ ﷺ کی ہدایت کے مطابق آپ ﷺ کو غسل کرایا گیا اور سات مشکوں سے آپ پر پانی چھوڑا گیا جس کے بعد آپ ﷺ کی حالت بہتر اور طبیعت ہلکی ہو گئی پھر آپ ﷺ مسجد تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی اور نماز کے بعد صحابہ کرامؓ سے خطاب فرمایا ..... تو یہ واقعہ اس دن کا نہیں ہے جس دن آپ ﷺ حضرت صدیقہؓ کے گھر میں تشریف لائے بلکہ یہ تین دن کے بعد جمعرات کے دن کا واقعہ ہے جیسا کہ دوسری روایت میں اس کی صراحت ہے۔ اور یہ ظہر کی نماز تھی، اور یہ حضور ﷺ کی زندگی کی آخری نماز تھی جو حضور ﷺ نے مسجد شریف میں پڑھائی اور اس کے بعد جو خطاب فرمایا وہ مسجد شریف میں آپ ﷺ کی زندگی کا آخری خطاب تھا اور یہ حضور ﷺ کی وہی نماز اور وہی آخری خطاب تھا جس کا ذکر حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت میں گزر چکا ہے۔ صحیح بخاری جزو سوم “إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ” میں اس واقعہ سے متعلق حضرت عائشہ صدیقہؓ کی جوا روایت ہے۔ اس میں صراحت ہے کہ یہ ظہر کا وقت تھا اور حضور ﷺ کی ہدایت کے مطابق حضرت ابو بکر صدیقؓ کی اقتدا میں نماز شروع ہو چکی تھی، تو اس حالت میں حضور ﷺ نے سکون اور طبیعت میں ہلکا پن محسوس کیا اور آپ دو صاحبوں کے سہارے مسجد میں تشریف لے گئے، حضرت ابو بکرؓ جو نماز پڑھا رہے تھے، ان کی نظر حضور ﷺ پر پڑی تو وہ اپنی جگہ سے پیچھے ہٹنے لگے۔ حضور ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹو اپنی جگہ پر رہو اور جو دو حضرات آپ ﷺ کو لے کر گئے تھے، ان سے فرمایا کہ مجھے ابو بکر کے برابر میں بٹھا دو، انہوں نے ایسا ہی کیا، اب اصل امام خود حضور ﷺ ہو گئے اور حضرت ابو بکر مقتدی .... اس نماز کے بعد آپ ﷺ نے وہ خطاب فرمایا جو حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت سے گزر چکا ہے اور وہیں صحیح مسلم کی روایت کے حوالے سے ذکر کیا جا چکا ہے کہ یہ جمعرات کا دن تھا۔ یہ وہی جمعرات تھی جس میں وہ واقعہ ہوا تھا جس کا ذکر حدیث قرطاس میں گزر چکا ہے۔ اس سلسلہ کی مختلف روایات سامنے رکھنے کے بعد واقعات کی ترتیب یہ معلوم ہوتی ہے کہ وفات سے پانچ (۵) دن پہلے جمعرات کے دن ظہر سے پہلے کسی وقت حضور ﷺ کے مرض اور تکلیف میں شدت ہو گئی، اس وقت آپ ﷺ نے بطور وصیت کچھ لکھوانے کا ارادہ فرمایا اور لکھنے کا سامان لانے کے لئے ارشاد فرمایا۔ پھر آپ کی رائے لکھوانے کی نہیں رہی (جیسا کہ حدیث قرطاس کی تشریح میں تفصیل سے بیان کیاجا چکا ہے) ..... لیکن آپ ﷺ کے دل میں تقاضا رہا کہ وصیت کے طور پر کچھ ضروری باتیں صحابہ کرامؓ سے فرما دی جائیں۔ چنانچہ جب ظہر کا وقت آیا تو آپ ﷺ نے ازواج مطہرات سے فرمایا کہ مجھے غسل کراؤ اور سات ایسی مشکوں سے جن کے بند کھولے نہ گئے ہوں مجھ پر پانی چھوڑ دو، (1) ازواج مطہرات نے آپ ﷺ کو ایک بڑے ٹب میں بٹھلا کر آپ ﷺ کی ہدایت کے مطابق غسل کرایا۔ اس سے آپ ﷺ کی حالت بہتر اور طبیعت ہلکی ہوئی تو آپ ﷺ دو (۲) آدمیوں کے سہارے مسجد تشریف لے گئے اور جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے نماز بھی پڑھائی اور اس کے بعد منبر پر رونق افروز ہو کر خطاب بھی فرمایا۔ اس خطاب میں جو کچھ آپ ﷺ نے فرمایا وہ حضرت ابو سعید خدری کی روایت اور اس کی تشریح میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ اس خطاب میں حضور ﷺ نے سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ امت میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے امتیازی مقام کا ذخر فرمایا ہے اور یہ کہ امت میں جو مرتبہ ابو بکرؓ کا ہے وہ کسی دوسرے کا نہیں ہے اور اپنی جگہ نماز کا امام تو آپ ﷺ نے ان کو پہلے ہی بنا دیا تھا ..... ان سب چیزوں کو پیش نظر رکھ کر غور کیا جائے تو ایک حد تک یقین ہو جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے اسی دن ظہر سے پہلے تکلیف کی شدت کی حالت میں بہ طور وصیت لکھوانے کا جو ارادہ فرمایا تھا وہ حضرت ابو بکرؓ کی خلافت و امامت ہی کا مسئلہ تھا۔ اگرچہ بعد میں خود آپ ﷺ کی رائے مبارک لکھوانے کی نہیں رہی، لیکن آپ ﷺ نے ان کو اپنی جگہ امام نماز بنا کر اور مسجد شریف کے آخری خطاب میں ان کا امتیاز اور امت میں ان کا بلند ترین مقام بیان فرما کر ان کی خلافت و امامت کے مسئلہ کی طرف پوری رہنمائی فرما دی اور صحابہ کرامؓ کے لئے وہ رہنمائی کافی ہوئی۔

2003Maarif-ul-Hadith

وفات اور مرض وفات

عنْ أنَسِ بنُ مالِكٍ : أَنَّ المُسْلِمِينَ بَيْنَا هُمْ فِي الفَجْرِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُصَلِّي بِهِمْ، «فَفَجِئَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ فِي صُفُوفِ الصَّلاَةِ، ثُمَّ تَبَسَّمَ يَضْحَكُ»، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الصَّلاَةِ، فَقَالَ أَنَسٌ: وَهَمَّ المُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي صَلاَتِهِمْ، فَرَحًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَكُمْ ثُمَّ دَخَلَ الحُجْرَةَ وَأَرْخَى السِّتْرَ» (رواه البخارى)

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ دو شنبہ کے دن (یعنی جس روز حضور ﷺ کی وفات ہوئی اسی دو شنبہ کے دن) مسلمان فجر کی نماز ادا کر رہے تھے اور حضرت ابو بکرؓ امام کی حیثیت سے نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ نے (اپنی قیام گاہ) حضرت عائشہؓ کے حجرہ (کے دروازے) کا پردہ اٹھا کر ان پر نظر ڈالی جب کہ وہ صفوں میں کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے (یہ منظر دیکھ کر) آپ ﷺ نے تبسم فرمایا اور چہرہ مبارک پر ہنسی کے آثار ظاہر ہوئے، آپ پر جب حضرت ابو بکرؓ کی نظر پڑی تو انہوں نے خیال کیا کہ حضور ﷺ نماز کے لئے تشریف لانا چاہتے ہیں، وہ پیچھے ہٹنے لگے تاکہ مقتدیوں کی صف میں شامل ہو جائیں (حدیث کے راوی حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ) رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھ کر فرط مسرت سے مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ وہ نماز کی نیت توڑ دینے کا ارادہ کرنے لگے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ تم لوگ اپنی نماز پوری کرو، پھر آپ حجرہ کے اندر تشریف لے گئے اور آپ نے دروازہ کا پردہ گرا دیا۔(صحیح بخاری) تشریح حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے اور حضرت علی مرتضیٰ کے ایک بیان کی تشریح کے سلسلہ میں یہ بات پہلے ذکر کی جا چکی ہے کہ جس روز آنحضرت ﷺ کی وفات ہوئی اس دن صبح کو آپ ﷺ کی حالت بہ ظاہر بہت اچھی اور قابل اطمینان ہو گئی تھی، حضرت انسؓ کی اس حدیث سے اس کی پوری تائید ہوتی ہے کہ آپ از خود اٹھ کر حجرہ کے دروازہ پر تشریف لائے پردہ اٹھا کر دیکھا اور صحابہ کرامؓ کو صف بستہ نماز ادا کرتے ہوئے دیکھ کر آپ ﷺ کو غیر معمولی خوشی ہوئی، چہرہ مبارک کھل گیا اور جب ابو بکر صدیقؓ اپنی جگہ سے پیچھے ہٹنے لگے اور خطرہ پیدا ہوا کہ لوگ فرط مسرت سے نماز کی نیت نہ توڑ دیں تو آپ ﷺ نے ہاتھ کے اشارہ سے فرمایا کہ آپ لو گ جس طرح نماز پڑھ رہے ہیں اسی طرح ابو بکر کی اقتدا میں نماز پوری کریں .... اس صبح کو حضور ﷺ کی طبیعت بظاہر اتنی اچھی ہو گئی تھی کہ حضرت ابو بکرؓ مطمئن ہو کر اپنے مکان سخ تشریف لے گئے جو مسجد شریف سے خاصے فاصلے پر تھا۔

2004Maarif-ul-Hadith

وفات اور مرض وفات

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ، فَلَمَّا اشْتَكَى وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، طَفِقْتُ أَنْفِثُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ الَّتِي كَانَ يَنْفِثُ، وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ» (رواه البخارى)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ جب آپ مریض ہوتے تو “معوذات” پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے اور جسم مبارک پر اپنا ہاتھ پھیرتے۔ پھر جب آپ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ ﷺ نے وفات پائی (اور غلبہ مرض اور ضعف کی وجہ سے خود معوذات پڑھ کر دم کرنا اور جسم مبارک پر خود ہاتھ پھیرنا آپ کے لئے مشکل ہو گیا) تو میں وہی معوذات پڑھ کر آپ ﷺ پر دم کرتی تھی اور خود حضور ﷺ کا دست مبارک آپ ﷺ کے جسم مبارک پر پھیرتی تھی۔ (صحیح بخاری) تشریح حدیث میں معوذات سے مراد بظاہر قرآن پاک کی دو سورتیں (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) ہیں، حضور ﷺ اکثر یہی دو سورتیں پڑھ کر دم کیا کرتے تھے، ان کے ساتھ وہ دعوائیں بھی مراد ہو سکتی ہیں جن میں ہر طرح کے امراض اور ہر قسم کے شرور و بلیات سے حفاظت اور پناہ مانگی جاتی ہے۔ اسی حدیث کی ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہ صدیقہؓ کا یہ بیان بھی ہے کہ میں معوذات پڑھ کر حضور ﷺ کا دست مبارک اپنے ہاتھ میں لے کر حضور ﷺ کے جسم مبارک پر اس لئے پھیرتی تھی کہ جو برکت حضور ﷺ کے دست مبارک میں تھی وہ میرے یا کسی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں ہو سکتی تھی۔

2005Maarif-ul-Hadith

وفات اور مرض وفات

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ، فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّهُ رَجُلٌ رَقِيقٌ، إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، قَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» فَعَادَتْ، فَقَالَ: «مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ» فَأَتَاهُ الرَّسُولُ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ مریض ہوئے اور پھر آپ کا مرض بہت بڑھ گیا (اور آپ مسجد تشریف لا کر نما زپڑھانے سے بالکل معذور ہو گئے) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ (میری طرف سے) ابو بکر کر حکم دو کہ وہ لوگوں کو (جو جماعت سے نماز ادا کرنے کے لئے مسجد میں جمع ہیں) نماز پڑھا دیں تو حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ وہ رقیق القلب آدمی ہیں، جب وہ نماز پڑھانے کے لئے آپ ﷺ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو (ان پر رقت غالب آ جائے گی اور) وہ نماز نہیں پڑھ سکیں گے (حضور ﷺ نے حضرت عائشہؓ کی یہ بات سن کر بھی یہی) فرمایا کہ ابو بکر کو حکم دپہنچا دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں (حضرت عائشہؓ نے پھر اپنی بات دہرائی اور پھر حضور ﷺ نے وہی فرمایا کہ ابو بکر کو حکم پہنچا دو کہ وہ نماز پڑھا دیں (اسی کے ساتھ) آپ ﷺ نے حضرت عائشہؓ کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا “فانكن صواحب يوسف” پھر حضور ﷺ کا قاصد (حضور ﷺ کا حکم لےکر)حضرت ابو بکرؓ کے پاس آیا (اور آپ ﷺ کا پیام اور حکم) ان کو پہنچایا تو پھر انہوں نے حضور ﷺ کی حیات مبارکہ میں (یعنی وفات تک برابر) لوگوں کو نماز پڑھائی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مرض وفات میں مسجد تشریف لے جا کر نماز پڑھانے سے آنحضرت ﷺ کے بالکل معذور ہو جانے کے بعد حضور ﷺ کے حکم سے حضرت ابو بکرؓ کے نماز پڑھانے کا یہ واقعہ صحیح بخاری کے متعدد ابواب میں مختلف صحابہ کرامؓ سے کہیں بہت اختصار کے ساتھ اور کہیں پوری تفصیل کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ، کی جو حدیث یہاں درج کی گئی ہے وہ امام بخاری نے “باب العلم والفضل احق بالامامۃ” میں روایت کی ہے، اسی باب میں اسی واقعہ سے متعلق حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی اور اس اگلے باب میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیثیں بھی امام بخاری نے درج فرمائی ہیں۔ ان سب میں یہ واقعہ بہت اختصار کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ اس کے تین باب آگے “باب إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ” میں حضرت عائشہ صدیقہؓ سے اس واقعہ سے متعلق جو حدیث امام بخاری نے روایت کی ہے اس سے واقعہ کی پوری تفصیل معلوم ہو جاتی ہے اس کا ھاصل یہ ہے کہ: رسول اللہ ﷺ وفات سے آٹھ دن پہلے حضرت عائشہ ؓ کے گھر میں منتقل ہو جانے کے بعد بھی مرض کی شدت اور ضعف و نقاہت بہت زیادہ بڑھ جانے کے باوجود کئی دن تک ہر نماز کے وقت مسجد تشریف لے جا کر حسب معمول خود ہی نماز پڑھاتے رہے پھر اسی حال میں ایک دن ایسا ہوا کہ عشاء کی اذان ہو گئی اور لوگ جماعت سے نماز ادا کرنے کے لئے مسجد میں جمع ہو گئے، لیکن اس وقت مرض کی شدت کی وجہ سے حضور ﷺ پر غشی اور غفلت کی سی کیفیت طاری ہو گئی جب اس کیفیت سے افاقہ ہوا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے مسجد میں نماز ادا کر لی؟ ..... عرض کیا گیا کہ ابھی لوگوں نے نماز ادا نہیں کی ہے وہ حضور ﷺ کے انتظار میں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے لئے ٹب میں پانی رکھو۔ آپ ﷺ کا خیال تھا کہ غسل کرنے سے ان شاء اللہ مرض کی شدت میں تخفیف ہو جائے گی اور میں مسجد جا کر نماز پڑھا سکوں گا حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ہم نے ٹب میں پانی رکھ دیا آپ ﷺ نے غسل فرمایا اور اٹھا کر کھڑے ہونے لگے، لیکن پھر وہ غشی اور غفلت کی کیفیت طاری ہو گئی پھر جب اس کیفیت سے افاقہ ہوا تو آپ ﷺ نے پھر دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی؟ عرض کیا گیا کہ ابھی نماز ادا نہیں کی گئی لوگ حضور ﷺ کے انتظار میں ہیں، آپ ﷺ نے پھر ٹب میں پانی بھرنے کا حکم فرمایا اور پھر غسل فرمایا اور پھر مسجد تشریف لے جانے کے لئے اٹھنے کا ارادہ فرمایا تو پھر وہی غشی اور غفلت کی کیفیت طاری ہو گئی، پھر جب اس کیفیت سے افاقہ ہوا تو پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی؟ عرض کیا گیا کہ ابھی نماز ادا نہیں کی گئی لوگ آپ ﷺ کے انتظار میں ہیں تو آپ ﷺ نے پھر ٹب میں پانی بھرنے کے لئے فرمایا اور غسل فرمایا کہ مسجد جانے کے لئے اٹھنے کا ارادہ فرمایا تو پھر وہی غشی اور غفلت کی کیفیت طاری ہو گئی۔ (غرض تین دفعہ ایسا ہی ہوا) اس کے بعد جب افاقہ ہوا اور دریافت کرنے پر پھر آپ ﷺ کو بتلایا گیا کہ ابھی مسجد میں جماعت نہیں ہوئی، لوگ حضور ﷺ کے انتظار میں مسجد میں جمے بیٹھے ہیں، تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اب ابو بکرؓ کو میری طرف سے کہہ دیا جائے کہ وہ نماز پڑھا دیں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی جو روایت اوپر درج کی گئی ہے اس میں بھی ہے اور اس واقعہ کی اکثر روایات میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے اس موقعہ پر عرض کیا کہ میرے والد ابو بکر رقیق القلب ہیں وہ جب مماز پڑھانے کے لئے حضور ﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت غالب آ جائے گی اور وہ نماز نہیں پڑھا سکیں گے، اس لئے بجائے ان کے حضرت عمرؓ کو حکم دے دیا جائے وہ مضبوط دل کے آدمی ہیں۔ لیکن حضور ﷺ نے ان کی اس بات کو قبول نہیں فرمایا اور جب انہوں نے دوبارہ وہی بات کہی تو حضور ﷺ نے ان کو ڈانٹ دیا اور فرمایا کہ ابو بکر ہی کو میرا یہ پیغام پہنچایا جائے کہ وہ نماز پڑھا دیں) چنانچہ حضرت بلالؓ نے حضرت ابو بکرؓ کو حضور ﷺ کا یہ حکم پہنچایا ...... (ان کو معلوم نہیں تھا کہ حضرت عائشہؓ اس بارے میں حضور ﷺ سے کیا عرض کر چکی ہیں اور ان کو کیا جواب مل چکا ہے) انہوں نے بھی اپنی قلبی کیفیت کا خیال کرتے ہوئے حضرت عمرؓ سے کہا کہ تم نماز پڑھا دو، انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ نے تمہارے لئے حکم فرمایا ہے تم ہی نماز پڑھاؤ .... چنانچہ حضرت ابو بکر نے نماز پڑھائی ..... اوپر یہ ذخر کیا جا چکا ہے کہ یہ عشاء کی نماز تھی اور یہ پہلی نماز تھی جو رسول اللہ ﷺ کے مرض وفات میں حضور ﷺ کے تاکیدی حکم سے حضرت ابو بکرؓ نے پڑھائی اور اس کے بعد حضور ﷺ کی وفات تک آپ ﷺ کے حکم کے مطابق وہی مسجد شریف میں نماز پڑھاتے رہے۔ آگے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ پھر ایک دن نماز ظہر کے وقت جب کہ مسجد شریف میں نماز باجماعت شروع ہو چکی تھی اور آپ ﷺ کے حکم کے مطابق حضرت ابو بکرؓ نماز پڑھا رہے تھے، آپ ﷺ نے مرض اور تکلیف میں تخفیف اور افاقہ کی کیفیت محسوس کی تو دو آدمیوں کے سہارے آپ ﷺ مسجد تشریف لائے۔ حضرت ابو بکرؓ کو آپ ﷺ کی تشریف آوری کا احساس ہو گیا وہ پیچھے ہٹنے لگے تا کہ مقتدیوں کی صف میں شامل ہو جائیں آپ ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ مجھے ابو بکرؓ کے پہلو میں بٹھا دو چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اب یہاں سے اصل امام حضور ﷺ ہو گئے اور حضرت ابو بکرؓ مقتدی ہو گئے، لیکن ضعف و نقاہت کی وجہ سے حضور ﷺ کی تکبیرات وغیرہ کی آواز چونکہ سب نمازی نہیں سن سکتے تھے اس لئے تکبیرات وغیرہ حضرت ابو بکرؓ ہی کہتے رہے بعض راویوں نے اس کو اس طرح تعبیر کیا ہے کہ ابو بکرؓ رسول اللہ ﷺ کی اقتدا کر رہے تھے اور باقی تمام نمازی ابو بکرؓ کی اقتدا کر رہے تھے، مطلب یہی ہے کہ عام نمازیوں کو رسول اللہ ﷺ کی تکبیرات وغیرہ کی آواز نہیں پہنچتی تھی ابو بکرؓ ہی کی آواز پہنچتی تھی اور وہ اسی کے مطابق رکوع و سجدہ وغیرہ کرتے تھے، یہ ظہر کی وہی نماز تھی جس کا ذکر پہلے بھی متعدد روایات میں آ چکا ہے اور یہ کہ اس نماز کے بعد آپ ﷺ نے منبر پر رونق افروز ہو کر خطاب بھی فرمایا جو مسجد میں آپ ﷺ کا آخری خطاب تھا۔ اس پر اتفاق ہے کہ حضرت ابو بکرؓ کو اپنی جگہ امام مقرر فرما دینے کے بعد حضور ﷺ نے ظہر کی یہ نماز مسجد تشریف لا کر ادا فرمائی اس کے علاوہ بھی کوئی نماز ان دنوں میں مسجد تشریف لا کر ادا فرمائی یا نہیں اس میں اختلاف ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس واقعہ سے متعلق متعدد روایات میں خود حضرت عائشہ ؓ کا یہ بیان ذ کر کیا گیا ہے کہ میں نے جو حضور ﷺ سے بار بار عرض کیا کہ ابو بکرؓ رقیق القلب ہیں وہ جب آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہو جائے گی اور وہ نماز نہ پڑھا سکیں گے تو اس کا اصل محرک میرا یہ خیال تھا کہ جو شخص حضور ﷺ کی جگہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائے گا لوگ اس کو اچھی محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے اس لئے میں چاہتی تھی کہ حضور ﷺ ان کو نماز پڑھانے کا حکم نہ دیں۔ حضور ﷺ نے غالباً ان کے دل اور زبان کے اس فرق کو محسوس فرما لیا اس لئے ڈانٹا اور فرمایا “ان كن صواحب يوسف” حضرت عائشہؓ یہ نہ سمجھ سکیں کہ حضور ﷺ ان کو اپنی حیات میں امام نماز بنا کر اپنے بعد کے لئے امت کی امامت کبریٰ (خلافت نبوت) کا فیصلہ اپنے عمل سے فرما دینا چاہتے ہیں، حضور ﷺ کو ان کے امام بنانے پر اصرار اسی مقصد سے تھا۔

2006Maarif-ul-Hadith

وفات اور مرض وفات

عَنِ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ» (رواه البخارى)

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے مرض وفات میں مجھ سے فرماتے تھے کہ اے عائشہ! میں اس (زہر آلود) کھانے کی کچھ تکلیف برابر محسوس کرتا رہا جو میں نے خیبر میں کھایا تھا اور اب اس وقت میں محسوس کرتا ہوں کہ اس زہر کے اثر سے میری رگ جان کٹی جا رہی ہے .... (صحیح بخاری) تشریح ۷؍ ہجری میں جب خیبر فتح ہوا اور جنگ کے خاتمہ پر معاہدہ بھی ہو گیا تو یہاد کی طرف سے حضور ﷺ کے لئے ایک بھنی ہوئی بکری ہدیہ کے طور پر بھیجی گئی، مشکوٰۃ المصابیح ہی میں ابو داؤد اور دارمی کی ایک روایت ہے جس میں یہ وضاحت اور صراحت ہے کہ اس بھنی بکری میں ایک یہودی عورت نے ایسا زہر ملا دیا تھا جس کو آدمی اگر کھا لے تو فوراً ہی اس کی زندگی ختم ہو جائے ..... اور اس یہودی عورت نے کسی طرح یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ حضور ﷺ دست کا گوشت زیادہ پسند فرماتے ہیں تو اس قتالہ نے اس بکری کی دست میں وہ زہر بہت زیادہ ملا دیا تھا، بہرحال وہ بھنی بکری کھانے کے لئے حضور ﷺ کے سامنے رکھی گئی، آپ ﷺ کے ساتھ چند اصحاب اور بھی اس کھانے میں شریک تھے، جیسے ہی حضور ﷺ نے اس بکری کے دست میں سے ایک لقنہ لیا اور کھایا۔ “فوراً ہاتھ روک لیا اور ساتھیوں سے بھی فرمایا کہ ہاتھ روک لو، بالکل نہ کھاؤ اس میں زہر ملایا گیا ہے۔ اسی وقت آپ ... نے اس یہودیہ کو بلوایا، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کیا تو نے اس میں زہر ملایا ہے؟ اس نے کہا کہ کس نے یہ بات بتلائی؟ .... آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ بکری کی دست جو میری ہاتھ میں ہے اسی نے بحکم خدا مجھے بتلایا ہے کہ میرے اندر زہر ملایا گیا ہے ..... یہودی عورت نے اقرار کر لیا کہ ہاں میں نے زہر ملایا تھا اور یہ میں نے اس لئے کیا تھا کہ اگر تم سچے نبی ہو گے تو تم پر زہر کا اثر نہیں ہو گا اور اگر تم جھوٹے مدعی نبوت ہو گے تو ختم ہو جاؤ گے اور تمہارے ختم ہو جانے سے ہمیں راحت اور چین حاصل ہو جائے گا اور اب مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ (ﷺ) سچے نبی ہیں .... اسی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس کو معاف فرما دیا۔ اس واقعہ سے متعلق مختلف روایات سے مزید تفصیلات بھی معلوم ہوتی ہیں، جن کا ذکر یہاں غیر ضروری ہے۔ یہاں خیبر کے اس واقعہ کا ذکر صرف یہ بتلانے کے لئے کیا گیا ہے کہ خبیر میں زہر آلود لقمہ کے کھانے کا وہ واقعہ معلوم ہو جائے، جس کا ذکر زیر تشریح حدیث میں کیا گیا ہے .... جو زہر بکری کی دست میں ملایا تھا وہ ایسا ہی تھا کہ اس کا لقمہ کھا کر آدمی ختم ہی ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے معجزانہ طور پر حضور ﷺ کو بچا لیا۔ لیکن اس کا کچھ اثر باقی رہا جس کی کچھ تکلیف کبھی کبھی آپ محسوس فرماتے تھے، اس میں حکمت الٰہی یہ تھی کہ جب دعوت حق امت کی تعلیم و تربیت اور اعلاء کلمۃ اللہ کا وہ کام آپ ﷺ کے ذریعہ پورا ہو جائے جس کے لئے آپ ﷺ کی بعثت ہوئی تھی تو پھر اس زہر کا اثر پوری طرح ظاہر ہو کر آپ ...... کی وفات کا وسیلہ بنے اور اس طرح آپ ﷺ کو شہادت فی سبیل اللہ کی سعادت و فضیلت بھی حاصل ہو۔ اس تفصیل کی روشنی میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی مندرجہ بالا حدیث کا مطلب و مفہوم پوری طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ حضرت صدیقہ ؓ نے اس حدیث میں حضور ﷺ کا جو ارشاد اور حال بیان کیا ہے وہ بظاہر اسی دن کا ہے جس روز حضور ﷺ کی وفات ہوئی اور تکلیف میں وہ شدت شروع ہوئی جس کا ذکر آئندہ درج ہونے والی بعض حدیثوں میں آئے گا۔

2007Maarif-ul-Hadith

وفات اور مرض وفات

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ»، وَكَانَ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ شَدِيدَةٌ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: {مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ} فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے بیان کرتی ہیں کہ میں نے سنا تھا رسول اللہ ﷺ سے آپ فرماتے تھے (تندرستی کی حالت میں) کہ ہر نبی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ ہے کہ جب وہ مریض ہوتے ہیں (یعنی جب وہ مرض وفات میں مبتلا کئے جاتے ہیں) تو ان کو اختیار دیا جاتا ہے کہ اگر دنیا میں ابھی کچھ مدت اور رہنا چاہیں تو رہیں اور اگر اب عالم آخرت کا قیام پسند کریں تو اس کو اختیار کر لیں۔ آگے حضرت صدیقہؓ بیان فرماتیں ہیں کہ) رسول اللہ ﷺ کو آپ کے مرض وفات میں سانس کی سخت تکلیف ہوئی تو میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا “مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ” تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ ﷺ کو وہ اختیار دے دیا گیا (اور آپ ﷺ نے عالم آخرت کو اختیار فرما لیا)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث کے مضمون کی ضروری وضاحت اور تشریح ترجمہ کے ضمن میں کر دی گئی ہے۔ اس حدیث میں حضرت صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ کے مرض وفات کی آخری مرحلہ کا یہ واقعہ بیان فرمایا کہ جب سانس کی شدید تکلیف شروع ہوئی۔ (جو گویا قرب وفات کی علامت ہوتی ہے) تو آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا کہ “مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ..... الخ” (اے اللہ اب اپنے ان مقبول بندوں کے پاص پہنچا دے جن پر تیرا خصوصی انعام ہوا ہے، انبیاء علیہم السلام، صدیقین، شہداء اور صالحین) سورہ نساء کی آیت نمبر ۶۹ میں ان چاروں طبقات پر اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ آگے درج ہونے والی حدیث سے اس آخری وقت اور آخری گھڑی کی کچھ مزید تفصیلات معلوم ہوں گی۔

2008Maarif-ul-Hadith

وفات اور مرض وفات

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَنَّ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ عَلَيَّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ فِي بَيْتِي، وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَأَنَّ اللَّهَ جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ: دَخَلَ عَلَيَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَبِيَدِهِ السِّوَاكُ، وَأَنَا مُسْنِدَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ السِّوَاكَ، فَقُلْتُ: آخُذُهُ لَكَ؟ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ: «أَنْ نَعَمْ» فَتَنَاوَلْتُهُ، فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: أُلَيِّنُهُ لَكَ؟ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ: «أَنْ نَعَمْ» فَلَيَّنْتُهُ، فَأَمَرَّهُ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ أَوْ عُلْبَةٌ - يَشُكُّ عُمَرُ - فِيهَا مَاءٌ، فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي المَاءِ فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ، يَقُولُ: «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ» ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ، فَجَعَلَ يَقُولُ: «فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى» حَتَّى قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ. (رواه البخارى)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے آپؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جن خاص نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی میرے گھر میں اور میری ہی نوبت کے دن میں، اور یہ بھی کہ آپ ﷺ نے وفات پائی میرے سینہ اور میری ہنسلی کے درمیان (یعنی آپ ﷺ نے اس حالت میں وفات پائی کہ آپ میرے سینہ اور ہنسلی سے لگے ہوئے تھے اور اللہ کی جو خاص الخاص نعمتیں مجھ پر ہوئیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے آخری وقت میں میرا آب دہن اور حضور ﷺ کا آب دہن ملا دیا (یعنی آخری وقت میں آپ ..... کا آب دہن (تھوک) میرے حلق میں آیا اور میرا ٓب دہن آپ ﷺ کے دہن مبارک میں گیا، آگے حضرت صدیقہؓ اس کی تفصیل بیان فرماتی ہیں کہ) میرے بھائی عبدالرحمٰن گھر میں آئے، ان کے ہاتھ میں مسواک تھی اور میں حضور ﷺ کو سینہ سے لگائے بیٹھی تھی (یعنی آپ تکیہ کے طور پر میرے سینے سے لگے ہوئے تھے) تو میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ عبدالرحمٰن کی مسواک کی طرف نظر فرما رہے ہیں اور میں نے جانا کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں، تو میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ کیا میں عبدالرحمٰن سے یہ مسواک آپ ﷺ کے لئے لے لوں؟ تو آپ ﷺ نے سر مبارک سے اشارہ فرمایا کہ ہاں لے لو، تو میں نے وہ مسواک عبدالرحمٰن سے لے کر دے دی آپ نے مسواک کرنی چاہی تو وہ سخت محسوس ہوئی، میں نے عرض کیا کہ میں اس کو آپ ﷺ کے لئے نرم کر دوں؟ تو آپ ﷺ نے سر مبارک سے اشارہ فرمایا کہ ہاں (اس کو میرے لئے نرم کر دو) تو میں نے اس کو (چبا کر) نرم کر دیا، تو آپ نے اس کو اپنے دانتوں پر پھیرا (اس طرح اس آخری وقت میں حضور ﷺ کا آب دہن میرے حلق میں اور میرا ٓب دہن حضور ﷺ کو دہن مبارک میں چلا گیا) ..... آگے حضرت صدیقہؓ بیان فرماتی ہیں کہ) اس وقت حضور ﷺ کے سامنے ایک برتن میں پانی رکھا ہوا تھا، آپ ﷺ بار بار اس پانی میں اپنے دونوں ہاتھ ڈالتے اور وہ ہاتھ چہرہ مبارک پر پھیر لیتے، اور اسی حال میں زبان مبارک سے فرماتے “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ” (صرف اللہ ہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہاں موت کے لئے بڑی سختیاں ہیں) پھر آپ ﷺ نے دست مبارک اوپر کی طرف اٹھایا اور فرمانے لگے “فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى” (مجھ کو شامل کر لے رفیق اعلیٰ میں) اسی حال میں روح مبارک قبض کر لی گئی اور آپ ﷺ کا اوپر اٹھا ہوا ہاتھ نیچے کی طرف آ گیا۔ (صحیح بخاری) تشریح اس حدیث میں حضرت صدیقہؓ نے صرف ان خاص الخاص انعامات کا ذکر فرمایا ہے جو حضور ﷺ کی زندگی کے آخری لمحات حیات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ہوئے ..... ایک یہ کہ حضور ﷺ نے میرے گھر میں وفات پائی اور حسن اتفاق سے وہ دن میری نوبت کا تھا ..... یعنی اگرچہ حضور ﷺ وفات سے آٹھ دن پہلے اپنی خواہش اور دیگر ازواج مطہرات کی اجازت میں میرے گھر میں مستقل طور پر تشریف لے آئے تھے لیکن جس دو شنبہ کو وفات پائی وہ دن باری کے حساب سے بھی حضور ﷺ کے میرے ہاں قیام کا دن تھا ..... اور دوسرا خصوصی انعام اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ فرمایا کہ جس وقت حضور ﷺ نے وفات پائی اس وقت آپ میرے سینہ اور ہنسلی کے درمیان تھے، یعنی حضور کی کمر مبارک میرے سینہ سے لگی ہوئی تھی اور سر مبارک میری ہنسلی سے لگا ہوا تھا ..... اور اللہ تعالیٰ کا تیسرا خاص انعام مجھ پر یہ ہوا کہ اس آخری وقت میں میرے بھائی عبدالرحمٰن گھر میں آ گئے ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، ان کی مسواک کی طرف حضور ﷺ نے اس طرح دیکھا کہ میں نے سمجھا کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں، تو میں نے حضور ﷺ کا اشارہ پا کر وہ مسواک اپنے بھائی سے لے کر حضور ﷺ کو دے دی آپ ﷺ نے اس کو استعمال کیا تو وہ سخت محسوس ہوئی میں نے عرض کیا کہ میں اس کو آپ ﷺ کے لئے نرم کر دوں تو آپ ﷺ نے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں اس کو نرم کر دو، تو میں نے اس کو چبا کر اور نرم کر کے آپ ﷺ کو دیا تو آپ ﷺ نے اس کو حسب معمول دانتوں پر پھیرا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس آخری وقت میں آپ ﷺ کا آب دہن (تھوک) میرے حلق میں اور میرا آب دہن آپ ﷺ کے دہن مبارک میں جمع فرما دیا .... واقعہ یہ ہے کہ ان خاص خاص انعام الٰہیہ پر حضرت صدیقہؓ کو جتنی بھی خوشی اور جتنا بھی فخر ہو، برحق ہے ..... آگے حضرت صدیقہؓ نے آخری وقت کا جو حال بیان فرمایا ہے، اس میں اس آخری وقت کی شدت تکلیف کا ذکر ہے ..... فرماتی ہیں کہ اس وقت حضور ﷺ کے سامنے ایک برتن میں پانی رکھا ہوا تھا، آپ ﷺ بار بار اس میں اپنے دونوں ہاتھ ڈالتے اور چہرہ مبارک پر پھیر لیتے اور اسی حال میں زبان مبارک سے فرماتے “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ” مقربین کو اس طرح کی تکلیف ان کے رفع درجات کے لئے ہوتی ہے ..... آگے حضرت صدیقہؓ بیان فرماتی ہیں کہ اسی حال میں آپ ﷺ نے ہاتھ اوپر اٹھایا اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا “فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى” یوں سمجھنا چاہئے کہ اس وقت وہ “اعلى عليين” آپ کے سامنے کر دیا گیا تھا جو حضرات انبیاء علیہم السلام، حضرات صدیقین شہداء اور صالحین کا مقام و مستقر ہے آپ ﷺ نے ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کیا کہ مجھے اسی رفیق اعلیٰ میں پہنچا دے ..... چنانچہ روح مبارک قبض کر لی گئی اوپر اٹھا ہوا دست مبارک نیچے آ گیا .... قرآن پاک میں .... حضران انبیاء علیہم السلام، صدیقین، شہداء اور صالحین پر اللہ تعالیٰ کے خاص انعامات کا ذکر کر کے فرمایا گیا ہے “وَحَسُنَ اُولئِكَ رَفِيْقا” (سورہ نساء، آیت نمبر ۶۹) بظاہر حدیث کے لفظ “فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى” سے یہی مراد ہے، اس سے پہلے صحیحین کے حوالہ سے حضرت صدیقہؓ ہی کی جو روایت ذکر کی گئی ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے، مستدرک حاکم وغیرہ کی ان روایات کا ذکر کیا ہے جن میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس وقت وفات پائی اس وقت آپ ﷺ حضرت علی ؓ کی گود میں تھے، اس کے بعد حافظ ابن حجر نے ان روایات کے بارے میں لکھا ہے “وكل طريق منها لا يخلو من شيعى فلا يلتف اليها” (یعنی ان تمام روایتوں کی سند میں کوئی نہ کوئی شیعہ راوی ہے اس لئے قابل التفات بھی نہیں ہیں) آگے حافظ ابن حجر نے ان تمام روایات کی سندوں پر تفصیلی کلام کیا ہے۔ (فتح الباری ص ۱۰۳، ص ۱۰۴) جز ۱۸ طبع انصاری دہلی)

2009Maarif-ul-Hadith

وفات اور مرض وفات

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ، حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ المَسْجِدَ، فَلَمْ يُكَلِّمُ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَتَيَمَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُغَشًّى بِثَوْبِ حِبَرَةٍ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: «بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَاللَّهِ لاَ يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَمَّا المَوْتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ، فَقَدْ مُتَّهَا» قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ وَعُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَقَالَ: اجْلِسْ يَا عُمَرُ، فَأَبَى عُمَرُ أَنْ يَجْلِسَ، فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَتَرَكُوا عُمَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: " أَمَّا بَعْدُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لاَ يَمُوتُ، قَالَ اللَّهُ: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ} إِلَى قَوْلِهِ {الشَّاكِرِينَ} وَقَالَ: وَاللَّهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ هَذِهِ الآيَةَ حَتَّى تَلاَهَا أَبُو بَكْرٍ، فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ، فَمَا أَسْمَعُ بَشَرًا مِنَ النَّاسِ إِلَّا يَتْلُوهَا ". (رواه البخارى)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر گھوڑے پر سوار ہو کر اپنی قیام گاہ سخ سے آئے، گھوڑے سے اتر کر مسجد میں آئے، جو لوگ وہاں جمع تھے، ان سے کوئی بات نہیں کی پہلے حضرت عائشہ کے گھر میں آئے اور سیدھے رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے، آپ کو ایک دھاری دار یمنی چادر اڑھا دی گئی تھی، حضرت ابو بکرؓ نے چادر ہٹا کر چہرہ مبارک کھولا، پھر آپ ﷺ کے اوپر جھک پڑے اور بوسہ دیا، پھر کہا آپ ﷺ کے اوپر میرے ماں باپ قربان! خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو موتیں جمع نہیں فرمائے گا جو موت آپ ﷺ کے لئے مقدر ہو چکی تھی وہ آپ ﷺ پر وارد ہو گئی (یہاں تک حضرت عائشہ صدیقہؓ کی روایت ہے جس کو امام بخاری نے ابو سلمہ کے حوالہ سے حضرت صدیقہؓ سے روایت کیا ہے) آگے امام زہری ابو سلمہ ہی کے حوالہ سے (اس موقع سے متعلق) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا یہ بیان روایت کرتے ہیں کہ ..... ابو بکرؓ حضرت عائشہؓ کے گھر سے باہر آئے، اس وقت حضرت عمر (اپنے خاص حال میں) لوگوں سے بات کر رہے تھے، حضرت ابو بکرؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ عمر بیٹھ جاؤ (اور جو بات کر رہے ہو وہ نہ کرو) لیکن حضرت عمرؓ نے (اپنے خاص حال میں) یہ بات نہیں مانی تو (حضرت ابو بکرؓ منبر کی طرف آئے) تو سب لوگ حضرت عمرؓ کو چھوڑ کر حضرت ابو بکرؓ کی بات سننے کے لئے ان کی طرف آ گئے، انہوں نے (منبر سے) خطاب کرتے ہوئے۔ (حمد و صلوٰۃ اور توحید و رسالت کی شہادت کے بعد) فرمایا: " أَمَّا بَعْدُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لاَ يَمُوتُ، قَالَ اللَّهُ عز وجل: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا ۗوَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ ترجمہ: اما بعد تم میں سے جو کوئی حضرت محمد ﷺ کی عبادت اور بندگی کرتا تھا تو وہ تو وفات پا گئے، اور تم میں سے جو کوئی اللہ کی عبادت اور بندگی کرتا تھا تو وہ “حَيٌّ لاَ يَمُوتُ” ہے، اس کو کبھی فنا نہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے۔ “اور محمد ﷺ تو صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، تو اگر وہ وفات پا جائیں یا شہید کر دئیے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پلٹ جاؤ گے اور جو کوئی الٹے پاؤں پلٹ جائے تو وہ خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا اور اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو ضرور صلہ عطا فرمائے گا”۔ (حدیث کے راوی) حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ خدا قسم ایسا معلوم ہوا کہ حضرت ابو بکرؓ کے اس موقع پر یہ آیت تلاوت فرمانے سے پہلے گویا لوگوں نے جانا ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے (یعنی اس وقت لوگ اس آیت کے مضمون سے غافل ہو گئے تھے) پھر تو سب ہی لوگوں نے اس کو لے لیا، پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہی آیت تھی اور میں ہر شخص کو یہی آیت تلاوت کرتے ہوئے سنتا تھا۔ (صحیح بخاری) تشریح مندرجہ بالا بعض حدیثوں سے معلوم ہو چکا ہے کہ جس روز حضور ﷺ نے وفات پائی اس کی صبح آپ ﷺ کی حالت بہت بہتر اور قابل اطمینان ہو گئی تھی، اسی لئے حضرت ابو بکرؓ حضور ﷺ کی طرف سے بالکل مطمئن ہو کر اپنی قیام گاہ سخ چلے گئے تھے، وہ ابھی وہیں تھے کہ حضور ﷺ کا وصال ہو گیا، جن لوگوں کو اس کی اطلاع ہوئی وہ جمع ہونا شروع ہو گئے، ان میں حضرت عمرؓ بھی تھے جو کسی طرح اس کے ماننے بلکہ سننے کے لئے بھی تیار نہیں تھے کہ حضور ﷺ وفات پا گئے۔ حافظ ابن حجر نے اسی حدیث کی شرح میں مسند احمد کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ جب حضور ﷺ وفات پا گئے اور میں نے حضور ﷺ کو چادر اڑھا دی حضرت عمرؓ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ آئے اور حضور ﷺ کو دیکھنے کے لئے اندر آنے کی اجازت چاہی، میں نے پردہ کر لیا اور ان دونوں کو اجازت دے دی تو وہ دونوں اندر آئے حضرت عمرؓ نے حضور ﷺ کو دیکھا اور کہا “وا غشيتاه” (ہائے کیسی غشی ہے) اس کے بعد یہ دونوں باہر جانے لگے تو حضرت مغیرہؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ (غشی یا سکتہ نہیں ہے) حضور ﷺ وفات پا گئے، تو حضرت عمرؓ نے ان کو زور سے ڈانٹا اور کہا کہ حضور ﷺ اس وقت تک دنیا سے نہیں اٹھائے جائیں گے جب تک فلاں فلاں کام انجام نہ پا جائیں جو ابھی انجام نہیں پائے ہیں، بہرحال حضرت عمرؓ کا یہی حال تھا اور وہ پورے زور شور سے لوگوں سے یہی کہہ رہے تھے اسی حال میں حضرت ابو بکر گھوڑے پر سوار ہو کر آ پہنچے، پہلے مسجد آئے جہاں لوگ جمع تھے لیکن کسی سے کوئی بات نہیں کی بلکہ حضرت عائشہؓ کے حجرے میں پہنچے حضور ﷺ کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا اور روتے ہوئے بوسہ دیا اور کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان، جو موت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کے لئے مقدر تھی وہ آ چکی (صحیح بخاری ہی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکرؓ نے اس موقع پر “إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ” بھی کہا۔) .... اس کے بعد حضرت ابو بکرؓ باہر تشریف لائے یہاں حضرت عمرؓ اپنے خیال کے مطابق لوگوں کے سامنے تقریر کر رہے تھے، حضرت ابو بکرؓ نے ان سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ یعنی لوگوں سے جو بار کر رہے ہو نہ کرو، لیکن حضرت عمرؓ اس وقت ایسے مغلوب الحال تھے کہ انہوں نے حضرت ابو بکرؓ کی بات نہیں مانی بلکہ اس وقت ماننے سے صاف انکار کر دیا، حضرت ابو بکرؓ حضرت عمرؓ کو اسی حال میں چھوڑ کر مسجد میں منبر پر تشریف لائے، پھر سب لوگ حضرت عمرؓ کو چھوڑ کر انہی کے پاس آ گئے حضرت ابو بکرؓ سے وہ خطاب فرمایا جو اوپر حدیث کے ترجمہ میں لفظ بہ لفظ نقل کر دیا گیا ہے اور قرآن مجید کی سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۴۴ تلاوت فرمائی۔ حضرت ابو بکرؓ کے اس خطبہ اور اس آیت نے ہر صاحب ایمان کے دل میں یہ یقین پیدا کر دیا کہ حضور ﷺ ایک دن یقیناً وفات فرمانے والے تھے، وفات فرما گئے اور ہم کو آپ ﷺ کے بتلائے ہوئے راستہ پر چلتے ہوئے جینا اور مرنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا بیان ہے کہ اس خاص موقع پر حضرت ابو بکرؓ سے یہ آیت سن کر سب کی زبان پر یہی آیت جاری تھی ہر ایک اسی آیت کی تلاوت کر کے اپنے نفس کو اور دوسروں کو اسلام اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایت پر ثابت قدمی کا سبق دے رہا تھا۔ اسی واقعہ کے سلسلہ میں آگے امام زہری ہی نے سعید بن المسیب سے نقل کیا ہے کہ خود حضرت عمرؓ فرماتے تھے کہ جب ابو بکر نے آیت “وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ ..... الاية” تلاوت کی تو اپنی غلطی کے احساس سے میرا یہ حال ہو گیا کہ گویا میں بےجان ہو گیا میری ٹانگوں میں دم نہیں رہا کہ میں کھڑا ہو سکوں میرے دل نے جان لیا کہ رسول اللہ ﷺ بےشک وفات پا گئے۔

2010Maarif-ul-Hadith

وفات اور مرض وفات

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مَا نَسِيتُهُ، قَالَ: مَا قَبَضَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلاَّ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ، ادْفِنُوهُ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِهِ. (رواه الترمذى)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے تو آپ کی تدفین کے بارے میں لوگوں میں رائے کا اختلاف ہوا تو حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں ایک بات سنی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر نبی کو اسی جگہ وفات دیتا ہے جہاں وہ اس کا دفن کیا جانا پسند فرماتا ہے۔ لہذا آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے بستر کی جگہ ہی دفن کیا جائے۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد اس بارے میں صحابہؓ کی رائیں مختلف ہوئیں کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے۔ شارحین نے نقل کیا ہے کہ بعض حضرات کی رائے تھی کہ آپ کو بلداللہ الحرام مکہ مکرمہ لے جا کر دفن کیا جائے بعض کی رائے تھی کہ مدینہ ہی میں بقیع میں دفن کیا جائے۔ اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ اس بارے میں میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے ایک بات سنی ہے، آپ فرماتے تھے کہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ رہا ہے کہ ان کی وفات خاص اسی جگہ ہوتی ہے، جہاں ان کا دفن ہونا ان پیغمبر کو یا خود اللہ تعالیٰ کو پسند ہوتا ہے۔ لہذا حضور ﷺ کو آپ ﷺ کی اسی بستر کی جگہ دفن کیا جائے جس پر آپ ﷺ نے وفات پائی، چنانچہ اسی پر عمل کیا گیا اور آنحضرت ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے حجرہ میں اسی جگہ دفن کئے گئے جہاں بستر پر آپ آرام فرماتے تھے اور جہاں آپ ﷺ نے وفات پائی ..... کیسا خوش نصیب ہے زمین کا وہ قطعہ جس نے سید المرسلین خاتم النبیین محبوب رب العالمین کو قیامت تک کے لئے اپنی آغوش میں لے لیا ہے۔ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ دَائِمًا اَبَدًا

2011Maarif-ul-Hadith

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ إِلاَّ وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلاَ أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِئُهُ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ، وَمَا نَفَعَنِي مَالُ أَحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلاً، أَلاَ وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک موقع پر) ارشاد فرمایا کہ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس نے ہمارے ساتھ حسن سلوک کیا ہو کچھ ہم کو دیا ہو اور ہم نے اس کی مکافات نہ کر دی ہو، سوائے ابو بکرؓ کے، انہو ں نے ہمارے ساتھ جو حسن سلوک کیا اس کی مکافات اللہ تعالیٰ ہی کرے گا قیامت کے دن۔ اور کسی شخص کا بھی مال کبھی اتنا میرے کام نہیں آیا جتنا ابو بکر کا مال کام آیا اور اگر میں (اپنے دوستوں میں سے) کسی کو خلیل (جانی دوست) بناتا تو ابو بکرؓ کو بناتا اور معلوم ہونا چاہئے کہ میں بس اللہ کا خلیل ہوں (اور میرا حقیقی دوست و محبوب بس اللہ ہے)۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر مختلف عنوانات سے حضرت ابو بکرؓ کی فضیلت بلکہ افضلیت اور امت میں ان کے امتیازی مقام کا ذکر خاص اہتمام سے فرمایا ہے، آپ ﷺ کے مرض وفات کے سلسلہ میں متعدد ایسی حدیثیں گزر چکی ہیں جن سے بغیر کسی شک و شبہ کے یقین کے ساتھ معلوم ہو جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے نزدیک آپ ﷺ کی امت کے افضل ترین فرد حضرت ابو بکرؓ تھے اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی قائم مقامی یعنی خلافت نبوت کے لئے وہی آپ ﷺ کی نظر میں متعین تھے۔ ان زبانی ارشادات کے علاوہ آپ ﷺ نے اپنے مرض وفات میں (جس کے بارے میں آپ ﷺ کو منجانب اللہ معلوم ہو چکا تھا کہ اسی مرض میں میری وفات مقدر ہو چکی ہے) اصرار و تاکید کے ساتھ حضرت ابو بکر کو اپنی جگہ امام نماز بنا کر اس طرف امت کو واضح رہنمائی بھی فرما دی تھی۔ حضور ﷺ کے مرض وفات کے سلسلہ کی ان حدیثوں کے علاوہ چند اور حدیثیں حضرت ابو بکر صدیقؓ کی فضیلت اور افضلیت کے بارے میں ذیل میں درج کی جا رہی ہین ان میں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات بھی ہیں اور بعض اکابر صحابہ کی شہادتیں بھی۔ تشریح ..... آنحضرت ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کوئی آپ کو ہدیہ پیش کرتا تو آپ اس کو قبول فرما لیتے اور اسی وقت یا بعد میں کسی وقت اسے اتنا ہی یا زیادہ کسی شکل میں عطا فرما کر مکافات فرما دیتے، زیر تشریح حدیث میں آپ نے فرمایا ہے کہ ابو بکرؓ کے سوا جس کسی نے بھی ہمارے ساتھ حسن سلوک کیا ہم نے دنیا ہی میں اس کی مکافات کر دی، لیکن ابو بکرؓ نے جو حسن سلوک کیا اس کی مکافات آخرت میں اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا، حضرت ابو بکرؓ کے نواسے حضرت عروہؓ کا بیان ہے کہ حضرت ابو بکرؓ نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے، وہ سب رسول اللہ ﷺ کی مرضی کے مطابق دین کی خدمت میں خرچ ہو گئے، سات ایسے غلاموں کو خرید کر آزاد کیا جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا اور ان کے کافر و مشرک مالک و آقا اسلام قبول کرنے ہی کے “جرم” میں ان کو ستاتے اور مظالم کے پہاڑ توڑتے تھے حضرت بلالؓ بھی انہی میں سے تھے ..... حضرت ابو بکرؓ نے حضور ﷺ سے عرض کر دیا تھا کہ میں اور میرا سارا مال گویا آپ کی ملک ہے جس طرح چاہیں استعمال فرما لیں، چنانچہ حضور ﷺ ایسا ہی کرتے تھے، آنحضرت ﷺ نے مرض وفات میں اپنے آخری خطاب میں بھی حضرت ابو بکرؓ کی اس خصوصیت اور امتیاز کا ذکر فرمایا تھا۔ حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت سے وہ خطاب صحیح بخاری و صحیح مسلم کے حوالہ سے ذکر کیا جا چکا ہے اور اس میں حضور ﷺ کے بعد ان کے خلیفہ ہونے کی بھی واضح رہنمائی ہے۔

2012Maarif-ul-Hadith

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ كَأَنَّهَا تُرِيدُ المَوْتَ، قَالَ: «إِنْ لَمْ تَجِدِينِي، فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کسی چیز اور کسی معاملہ کے بارے میں اس نے حضور ﷺ سے گفتگو کی، آپ ﷺ نے اس کو فرمایا کہ پھر (بعد میں کبھی) آیا، اس عورت نے عرض کیا کہ یہ بتلائیے کہ اگر میں آئندہ آؤں اور آپ کو نہ پاؤں؟ ..... حدیث کے راوی جبیر بن مطعم کہتے ہیں کہ غالباً اس عورت کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں آئندہ آؤں اور حضور ﷺ دنیا سے رحلت فرما چکے ہوں، تو میں کیا کروں؟ ..... تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکرؓ کے پاس آ جانا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت مدینہ منورہ سے دور کے کسی مقام کی رہنے والی تھی، اس نے حضور ﷺ سے چاید کچھ طلب کیا تھا جو آپ اس وقت عنایت نہ فرما سکے یہ فرما دیا کہ آئندہ کبھی پھر آنا .... اس نے عرض کیا کہ اگر آئندہ میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں آپ دنیا سے رحلت فرما چکے ہوں تو میں کیا کروں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس صورت میں تم ابو بکرؓ کے پاس آنا ..... اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد متصلاً بلا فصل حضرت ابو بکرؓ کے خلیفہ ہونے کی طرف کھلا اشارہ ہے۔

2013Maarif-ul-Hadith

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ. (رواه الترمذى)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: کسی قوم (کسی ایسی جماعت اور گروہ) کے لئے جس میں ابو بکر موجود ہوں درست اور مناسب نہیں ہے کہ ابو بکرؓ کے سوا کوئی دوسرا شخص ان کا امام ہو۔ (جامع ترمذی) تشریح یہ حدیث کسی تشریح کی محتاج نہیں، اس کا صریح مقتضی اور مفاد یہ ہے کہ امت میں جب تک ابو بکرؓ رہیں اہل ایمان انہیں کو اپنا امام بنائیں، ان کے سوا کسی کو امام بنانا صحیح نہ ہو گا، بلاشبہ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے ان ارشادات میں سے ہے جن کے ذریعہ حضور ﷺ نے اپنے بعد کے لئے حضرت ابو بکرؓ کی خلافت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

2014Maarif-ul-Hadith

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

عَن ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «أَنْتَ صَاحِبِي فِي الْغَارِ وصاحبي على الْحَوْض» . (رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ، راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو بکرؓ سے سے ارشاد فرمایا کہ: تم غار میں میرے ساتھی تھے اور آخرت میں حوض کوثر پر بھی میرے ساتھی ہو گے۔ (جامع ترمذی) تشریح معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مکہ معظمیہ سے ہجرت فرمائی تو تین (۳) دن تک مکہ مکرمہ کے قریب ثور پہاڑ کے ایک غار میں روپوش رہے تھے، اس غار میں حضرت ابو بکرؓ ہی آپ کے ساتھ تھے ہجرت کے اس سفر میں اور خاص کر اس غار میں حضور ﷺ کے ساتھ رہنا (جس میں آخری حد تک کے خطرات تھے) وفاداری اور فدائیت کا بےمثال عمل تھا، اسی لئے حضور ﷺ نے خاص طور سے اس کو یاد رکھا (قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر فرمایا گیا ہے “ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا” سورہ توبہ آیت نمبر ۴۰) اردو زبان میں یار غار کا لفظ قرآن پاک کی اسی آیت اور رسول اللہ ﷺ کے اس سلسلہ کے ارشادات ہی سے آیا ہے۔ غار کی اس تین روزہ رفاقت میں حضرت ابو بکرؓ نے جس فدائیت کا ثبوت دیا اس کا کچھ حال آگے درج ہونے والے حضرت عمرؓ کے ایک بیان سے معلوم ہو گا۔

2015Maarif-ul-Hadith

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَرَانِي بَابَ الْجَنَّةِ الَّذِي تَدْخُلُ مِنْهُ أُمَّتِي» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَكَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي» (رواه ابوداؤد)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جبرئیل امین میرے پاس آئے، میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے جنت کا وہ دروازہ کھلایا جس سے میری امت کا جنت میں داخلہ ہو گا۔ ابو بکرؓ نے (حضور ﷺ سے یہ سن کر عرض کیا کہ) حضور ﷺ! میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ میں بھی اس وقت حضور ﷺ کے ساتھ ہوتا اور میں بھی اس دروازہ کو دیکھتا ..... رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابو بکر تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ میری امت میں سب سے پہلے تم جنت میں داخل ہو گے۔ (سنن ابی داؤد) تشریح اس حدیث میں حضور ﷺ نے یہ واقعہ بیان فرمایا ہے کہ جبرائیل امین آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے اور جنت کا وہ دروازہ کھلایا جس سے میری امت جنت میں داخل ہو گی ..... ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ شب معراج کا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی دوسرے موقع پر جبرائیل بحکم خداوندی حضور ﷺ کو جنت کا وہ دروازہ کھانے کے لئے لے گئے ہوں، یہ معراج کی طرح کا ملا اعلیٰ کا سفر بھی ہو سکتا ہے اور مکاشفہ بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال جب حضرت ابو بکرؓ نے آپ ﷺ سے یہ سن کر عرض کیا کہ حضرت میرے دل میں آرزو پیدا ہوئی کہ کسش میں بھی اس وقت آپ کے ساتھ ہوتا اور میں بھی جنت کا وہ دروازہ دیکھتا تو حضور ﷺ نے ان کو بشارت سنائی کہ تم جنت کا دروازہ دیکھنے کی آرزو کرتے ہو میں تم کو اس سے بڑی خداوندی نعمت کی خوشخبری سناتا ہوں، یقین کرو کہ میری امت میں سب سے پہلے جنت میں تم داخل ہو گے، بلاشبہ یہ اس کی روشن دلیل ہے کہ امت میں سب سے افضل اور عالی مرتبت حضرت ابو بکر صدیق ہی ہیں۔ ؓ وارضاہ۔

2016Maarif-ul-Hadith

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، قَالَ: أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا وَأَحَبُّنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواه الترمذى)

حضرت عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ابو بکرؓ ہمارے سید (سردار) ہیں، ہم میں سب سے بہتر و افضل ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو ہم میں سب سے زیادہ محبوب ہیں (یعنی ان کو حضور ﷺ کی محبوبیت کا جو مقام حاصل ہے وہ ہم میں سے کسی کو حاصل نہیں)۔ تشریح حضرت ابو بکرؓ کی فضیلت اور بلند مقامی کے بارے میں یہ حضرت عمرؓ کا بیان ہے، جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اور ان کے ساتھ آپ ﷺ کے طرز عمل کے مشاہدہ پر ہے۔

2017Maarif-ul-Hadith

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الحَنَفِيَّةِ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ»، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ عُمَرُ»، وَخَشِيتُ أَنْ يَقُولَ عُثْمَانُ، قُلْتُ: ثُمَّ أَنْتَ؟ قَالَ: «مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنَ المُسْلِمِينَ» (رواه البخارى)

حضرت محمد بن حنفیہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ماجد (حضرت علی مرتضیٰ ؓ) سے دریافت کیا کہ امت میں رسول اللہ ﷺ .... کے بعد سب سے بہتر و افضل کون ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ابو بکر۔ میں نے کہا ان کے بعد کون؟ تو انہوں نے فرمایا کہ عمرؓ..... (محمد بن الحنفیہ کہتے ہیں) پھر مجھے خطرہ پیدا ہوا کہ (اگر میں اسی طرح دریافت کروں کہ عمر کے بعد کون؟) تو یہ نہ کہہ دیں کہ عمرؓ کی بعد عثمان (اس لئے میں نے سوال اس طرح کیا) پھر عمر کے بعد آپ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ابو بکر۔ کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ مسلمانوں میں کا ایک آدمی ہوں۔ (صحیح بخاری) تشریح محمد بن الحنفیہ حضرت علیؓ کے صاحبزادے ہیں حضرت فاطمہ زہرا ؓ کے بطن سے نہیں بلکہ حضرت علیؓ کے حرم میں داخل ایک دوسری خاتون حنفیہ سے جن کا اصل نام خولہ تھا اپنے قبیلہ کی نسبت سے حنفیہ کے نام سے معروف ہیں حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانہ خلافت میں نبوت کے جھوٹے مدعی مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھیوں سے جو کہاد ہوا تو فتح کے بعد جنگی قانون کے مطابق جو مرد اور عورتیں گرفتار ہو کر آئے ان میں یہ خولہ بھی تھیں، یہ حضرت علیؓ کے حوالہ کر دی گئیں اور ان کے حرم میں داخؒ ہو گئیں۔ محمد بن الحنفیہ انہی کے بطن سے حضرت علیؓ کے صاحبزادے ہیں۔ علم اور صلاح و تقویٰ اور دوسری صفات کمال کے لحاظ سے بلند مقام تابعین میں سے ہیں۔ انہی کا یہ بیان ہے کہ میں نے والد ماجد حضرت علی مرتضیٰؓ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد امت میں کون افضل ہے؟ تو انہوں نے پہلے نمبر پر حضرت ابو بکر صدیقؓ کا اور دوسرے نمبر پر حضرت عمرؓ کا نام لیا اور اپنے بارے میں فرمایا کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ مسلمانوں میں کا ایک آدمی ہوں۔ ظاہر ہے کہ حضرت علیؓ نے یہ بطور تواضع و انکسار، فرمایا، ورنہ امت میں اس وقت سب سے افضل خود حضرت علی مرتضیٰؓ ہی تھے، حضرت عثمانؓ اس سے پہلے شہید کئے جا چکے تھے ..... یہ روایت تو محمد بن الحنفیہ کی ہے۔ محدثین کے نزدیک حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے یہ روایت تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد امت میں سب سے افضل اور بلند مرتبہ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ ہیں اور یہ کہ جو کوئی مجھے ان دونوں سے افضل قرار دے گا میں اس پر حد (شرعی سزا) جاری کروں گا۔

2018Maarif-ul-Hadith

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا، ثُمَّ عُمَرَ، ثُمَّ عُثْمَانَ، ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لاَ نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ» (رواه البخارى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے تھے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ابو بکر کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے، ان کے بعد عمرؓ، ان کے بعد عثمان۔ پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے تمام اصحاب کو چھوڑ دیتے تھے، ان کے درمیان ایک کو دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ (صحیح بخاری) تشریح حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا مطلب بہ ظاہر یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں حضور ﷺ کا طرز عمل دیکھ کر ہم یہ سمجھتے تھے کہ سب سے افضل حضرت ابو بکرؓ ہیں، ان کے بعد حضرت عمرؓ، ان کے بعد حضرت عثمانؓ، یہ تینوں حضرات سن رسیدہ تھے، اہم امور میں حضور ﷺ اکثر ان ہی سے مشورہ فرماتے تھے، اگرچہ ان تین حضرات کے بعد وہ بلاشبہ امت میں سب سے افضل ہیں اور بعض خصوصیات میں بہت اعلیٰ و بالا ہیں۔ یہ بات بھی قابل لحاظ رہے کہ حضرت ابن عمرؓ کا یہ بیان شخصیات کے بارے میں ہے، طبقات اور صفات کے لحاظ سے صحابہ کرامؓ میں جو درجات و مراتب کا فرق ہے اس سے حضرت ابن عمرؓ نے تعرض نہیں کیا ہے ..... مثلاً عشرہ مبشرہ، اصحاب بدر اور اصحاب بیعت رضوان، سابقین اولین من المہاجرین والانصار (ؓ اجمعین) حضرت ابن عمرؓ کے اس بیان میں ان کے فضائل کی نفی نہیں ہے، انہوں نے جو فرمایا اس کا تعلق، اس خاص فضیلت سے ہے جو ان تین بزرگوں کو حضور ﷺ کے زمانہ میں حاصل تھی۔ واللہ اعلم۔

2019Maarif-ul-Hadith

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

عَنْ عُمَرَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ، وَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا عِنْدِي، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا. قال: فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟» قُلْتُ: مِثْلَهُ، قَالَ: فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ. فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟» فَقَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قُلْتُ: لَا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا. (رواه الترمذى وابوداؤد)

حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کو صدقہ کرنے (یعنی راہ خدا میں مال پیش کرنے) کا حکم فرمایا اور یہ حکم ایسے وقت فرمایا جب کہ (حسن اتفاق سے) میرے پاس مال بڑی مقدار میں تھا تو میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ اگر میں کبھی ابو بکر سے آگے نکل سکتا ہوں تو آج آگے نکل جاؤں گا (حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ) میں گھر آیا اور گھر میں جو کچھ مال تھا میں نے اس میں سے پورا آدھا لا کر حضو ر ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تم نے اپنے اہل و عیال کے لئے کیا باقی چھوڑا ہے۔ میں نے عرض کیا (جتنا یہ لے کر آیا ہوں اتنا ہی گھر والوں کے لئے باقی چھوڑا ہے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں اور ابو بکرؓ وہ سب کچھ لے آئے جو ان کے پاس تھا تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ ابو بکر اپنے اہل و عیال کے لئے کیا باقی چھوڑا۔ انہوں نے عرض کیا کہ گھر والوں کے لئے میں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو باقی چھوڑا ہے(حضرت عمرؓ کہتے ہیں) میں نے (اپنے دل سے) کہا کہ میں کبھی بھی کسی چیز میں ابو بکرؓ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ (جامع ترمذی و سنن ابی داؤد) تشریح ہو سکتا ہے کہ حضرت عمرؓ جو اپنی کل دولت کا نصف لائے تھے، وہ مقدار میں حضرت ابو بکر کے لائے ہوئے سے زیادہ ہو مگر حضرت ابو بکرؓ کا یہ عمل اور حال کہ انہوں نے گھر والوں کے لئے کچھ بھی نہ چھوڑا بس اللہ و رسول پر ایمان اور ان کی رضا جوئی کو سب کچھ سمجھ کر اس پر قناعت کر لی بلاشبہ یہ مقام بہت بلند ہے۔

2020Maarif-ul-Hadith

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

عَنْ عُمَرَ ذُكِرَ عِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ فَبَكَى وَقَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ عَمَلِي كُلَّهُ مِثْلُ عَمَلِهِ يَوْمًا وَاحِدًا مِنْ أَيَّامِهِ وَلَيْلَةً وَاحِدَةً مِنْ لَيَالِيهِ أَمَّا لَيْلَتُهُ فَلَيْلَةٌ سَارَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَار فَلَمَّا انتهينا إِلَيْهِ قَالَ: وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُهُ حَتَّى أَدْخُلَ قَبْلَكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ شَيْءٌ أَصَابَنِي دُونَكَ فَدَخَلَ فَكَسَحَهُ وَوَجَدَ فِي جَانِبِهِ ثُقْبًا فَشَقَّ إزَاره وسدها بِهِ وَبَقِي مِنْهَا اثْنَان فألقمها رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْخُلْ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ رَأسه فِي حجره وَنَامَ فَلُدِغَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِجْلِهِ مِنَ الْجُحر وَلم يَتَحَرَّك مَخَافَة أَن ينتبه رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَقَطَتْ دُمُوعُهُ عَلَى وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟» قَالَ: لُدِغْتُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي فَتَفِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ مَا يَجِدُهُ ثُمَّ انْتَقَضَ عَلَيْهِ وَكَانَ سَبَبَ مَوْتِهِ وَأَمَّا يَوْمُهُ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ وَقَالُوا: لَا نُؤَدِّي زَكَاةً. فَقَالَ: لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا لَجَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ. فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَلَّفِ النَّاسَ وَارْفُقْ بِهِمْ. فَقَالَ لِي: أَجَبَّارٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَخَوَّارٌ فِي الْإِسْلَامِ؟ إِنَّهُ قَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَتَمَّ الدِّينُ أَيَنْقُصُ وَأَنا حَيّ؟ (رَوَاهُ رزين)

حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان کے سامنے حضرت ابو بکرؓ کا ذکر کیا گیا تو رونے لگے اور کہا کہ میں دل سے چاہتا ہوں کہ میرے تما عمر کے عمل ان کے ایام زندگی کے ایک دن کے عمل کے برابر اور ان کی زندگی کی راتوں میں سے ایک رات کے عمل کے برابر ہو جائیں (یعنی مجھ کو میری زندگی بھر کے اعمال کا اللہ تعالی وہ اجر عطا فرما دیں جو ابوبکرؓ کے ایک دن اور ایک رات کے عمل کا عطا ہوگا اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ابوبکرؓ کی رات سے میری مراد وہ خاص رات ہے جب وہ حضور ﷺ کے ساتھ ہجرت کے سفر میں (اپنے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق روپوشی کے ارادہ سے) غار (یعنی غارثور) کی طرف چلے تو جب غار کے پاس پہنچے (اور حضرت ﷺ نے غار کے اندر جانا چاہا) تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ خدا کی قسم آپ ابھی غار میں داخل نہ ہوں پہلے میں غار کے اندر جاؤں گا تو اگر وہاں کوئی موذی چیز ہوگی (مثلا درندہ یا سانپ بچھو جیسا زہریلا جانور) تو جو گزرے گی مجھ پر گزرے گی آپ محفوظ رہیں گے پھر ابوبکر غار کے اندر چلے گئے اس کی صفائی کی اس غار میں ایک طرف چند سوراخ نظر آئے تو اپنے تہہ بند میں سے پھاڑ کر اس کے ٹکڑوں اور چیتھڑوں سے ان سوراخوں کو بند کیا۔ لیکن دو سوراخ باقی رہ گئے (تہبند میں سے جو کچھ پھاڑا تھا اس میں سے اتنا باقی نہیں رہا کہ ان دو سوراخوں کو بھی بند کیا جا سکتا) تو ابوبکرؓ نے ان دو سوراخوں میں اپنے دونوں پاؤں اڑا دیئے اس کے بعد حضور ﷺ سے عرض کیا کہ اب آپ اندر تشریف لے آئیں تو حضور ﷺ غار کے اندر تشریف لے گئے (رات کا بڑا حصہ گزر چکا تھا حضور ﷺ پر نیند کا غلبہ تھا) آپ ﷺ ابوبکرؓ کی گود میں سر مبارک رکھ کر سو گئے (اسی حالت میں) ابوبکرؓ کے پاؤں میں سانپ نے کاٹ لیا (اگرچہ اس کے زہر سے حضرت ابوبکرؓ کو سخت تکلیف ہونے لگی) لیکن اس اندیشہ سے کہ حضور ﷺ کی آنکھ نہ کھل جائے آپ بیدار نہ ہو جائیں اسی طرح بیٹھے رہے حرکت بھی نہیں کی یہاں تک کہ تکلیف کی شدت سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور حضور ﷺ کے چہرہ مبارک پر گرے (تو حضور ﷺ کی آنکھوں کھل گئی آپ ﷺ نے ابوبکرؓ کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھے تو) دریافت فرمایا کہ ابوبکرؓ تم کو کیا ہوا انہوں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ پر میرے ماں باپ قربان مجھے سانپ نے کاٹ لیا آپ ﷺ نے (اسی جگہ پر جہاں سانپ نے کاٹا تھا) اپنا آب دہن ڈال دیا تو ابوبکرؓ کو جو تکلیف ہو رہی تھی وہ اسی وقت چلی گئی (آگے حضرت عمرؓ بیان فرماتے ہیں) پھر (ابوبکرؓ کی وفات سے کچھ پہلے) اس زہر کا اثر لوٹ آیا اور وہی ان کی وفات کا سبب بنا (اس طرح انکو شہادت فی سبیل اللہ کی سعادت و فضیلت بھی نصیب ہو گئی) اور یہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ خیبر میں کھائے ہوئے زہر کا اثر قریبا چار سال کے بعد حضور ﷺ کی وفات کے قریب لوٹ آیا تھا اور وہی آپ ﷺ کی وفات کا سبب بنا تو حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے سفر ہجرت کی اس رات کے اس عمل کا ذکر فرمایا اس کے بعد اس دن کا اوراس دن کے حضرت ابوبکرؓ کے اس عمل کا ذکر فرمایا جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ میں دل سے چاہتا ہوں کہ میرے ساری عمر کے اعمال ان کے ایک دن کے عمل کے برابر ہو جائیں اس سلسلہ میں حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ دن سے مراد ابوبکرؓ کی زندگی کا وہ دن ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ وفات فرما گئے اور عرب (کے بعض علاقوں کے لوگ) مرتد ہوگئے اور انہوں نے فریضہ زکات ادا کرنے سے انکار کردیا تو ابوبکر نے کہا کہ اگر وہ لوگون کا پاؤں باندھنے کی رسی (1) دینے سے بھی انکار کریں گے تو میں ان کے خلاف جہاد کروں گا (حضرت عمر کہتے ہیں کہ) میں نے کہا اے خلیفہ رسول اللہ (اس وقت ان لوگوں کے ساتھ تالیف اور نرمی کا معاملہ کیجئے تو انہوں نے (غصہ کے ساتھ) مجھے فرمایا کہ تم زمانہ جاہلیت میں تو بڑے زور آور اور غصہ ور تھےکیا اسلام کے دور میں بزدل اور ڈرپوک ہو گئے ہو (یہ کیسا انقلاب ہے) وحی کا سلسلہ (حضور ﷺ کی وفات کے بعد) ختم ہو گیا، دین مکمل ہو چکا۔ کیا دین کو ناقص کیا جائے اس میں کمی کی جائے گی اس حال میں کہ میں زندہ ہوں۔ (یہ نہیں ہو سکتا)۔ (رزین) تشریح حدیث کا مطلب سمجھنے کے لئے جس قدر تشریح و توضیح کی ضرورت تھی وہ ترجمہ کے ضمن میں کر دی گئی ہے، البتہ حضرت عمرؓ نے اپنے اس بیان میں مرتدین کے خلاف جہاد سے متعلق حضرت ابو بکرؓ کے جس پُر عزیمت فیصلہ اور اقدام کا ذکر کیا ہے اور اس سلسلہ میں انکار جو خاتمہ کلام نقل فرمایا ہے (اينقص الدين وانا حى) اس کی تشریح اور وضاحت کے سلسلہ میں کچھ عرض کرنا ضروری ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے اسلام اور مسلمانوں کے لئے عام اسباب کے لحاظ سے بڑی خطرناک صورت حال پیدا ہو گئی تھی حضور ﷺ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کی وجہ سے جو شکستہ دلی عام صحابہ میں پیدا ہو گئی تھی اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے .... علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ نے مرض وفات ہی میں حضرت اسامہ کی .... قیادت میں ایک بڑی مہم پر ایک لشکر کی روانگی کا حکم دیا تھا۔ حضور ﷺ کی وفات کے بعد صدیق اکبرؓ نے فیصلہ فرمایا کہ آنحضرت کے حکم کے مطابق یہ لشکر بلاتاخیر روانہ ہو جائے، چنانچہ وہ روانہ ہو گیا اس طرح اس وقت کی فوجی طاقت کا ایک بڑا حصہ اس محاذ پر چلا گیا اس کے علاوہ حجاز مقدس کے قریب علاقے یمامہ میں مسیلمہ کذاب نے حضور ﷺ کے آخری دور حیات ہی میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور کچھ قبیلے اس کے ساتھ ہو گئے تھے، اس طرح ایک حکومت سی قائم ہو گئی تھی۔ صدیق اکبرؓ نے حضور ﷺ کی وفات کے بعد فوراً فیصلہ فرمایا کہ اس فتنہ کو بھی جلد سے جلد ختم کیا جائے، چنانچہ خالد بن الولید کی قیادت میں اس کے لئے بھی ایک لشکر کی روانگی کا حکم دیا۔ انہی حالات میں حجاز ہی کے بعض علاقوں کے لوگوں نے (جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے) زکوٰۃ کی ادائیگی سے اجتماعی طور پر انکار کر دیا، صدیق اکبرؓ نے اس کو ارتداد قرار دیا اور اس کے خلاف بھی جہاد اور لشکر کشی کا فیصلہ فرمایا اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اس وقت کی ساری فوجی طاقت ان محاذوں پر چلی جاتی اور مرکز اسلام مدینہ منورہ کا حال یہ ہو جاتا کہ اگر کوئی دشمن حملہ کر دے یا آس پاس کے منافقین کوئی فتنہ برپا کر دیں تو اس کی مدافعت اور اس پر قابو پانے کے لئے فوجی طاقت موجود نہ ہو۔ اس لئے حضرت عمرؓ اور روایات میں ہے کہ ان کے ساتھ حضرت علیؓ کی بھی رائے تھی کہ صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر اس وقت زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کرنے والوں کے خلاف جہاد اور لشکر کشی نہ کی جائے، مصلحت اندیشی اور حکمت عملی کے طور پر ان کے معاملہ میں تالیف اور نرمی کا رویہ اختیار کیا جائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکرؓ کے دل میں یقین پیدا فرما دیا تھا کہ اس فتنہ ارتداد کا استیصال فوراً ضروری ہے، کسی مصؒحت اندیشی کے تحت اس کو نظر انداز کرے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، زکوٰۃ دین کا اہم رکن ہے نماز ہی کی طرح گویا جزو ایمان ہے، اس کی ادائیگی سے انکار کو برداشت کرنے کا مطلب دین کی قطع و برید برداشت کرنا ہو گا آپ نے فرمایا دین مکمل ہو چکا ہے، وحی کا سلسلہ خمت اور منقطع ہو چکا ہے، رسول اللہ ﷺ نے دینی کو جس شکل و صورت میں چھوڑا ہے، اپنی جان دے کر بھی اس کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔ اس سلسلہ کلام کے آخر میں آپ نے فرمایا “أَيَنْقُصُ الدِّيْنُ وَاَنَا حَىٌّ” صدیق اکبرؓ کے ان دو لفظوں سے دین کے ساتھ ان کے جس خاص الخاص عاشقانہ تعلق اور اس کی راہ میں قربانی اور فدائیت کے جس جذبہ کا اظہار ہوتا ہے، راقم سطور اپنی اردو زبان میں اس کے ادا کرنے سے عاجز ہے۔ اس واقعہ میں یہ نکتہ خاص طور سے قابل غور اور ہمارے لئے سبق آموز ہے کہ حضرت عمرؓ کی رائے حضرت ابو بکرؓ کے اس فیصلہ اور اقدام کے خلاف تھی بعد میں وہی فیصلہ ان کی نظر میں اتنا عظیم ہو گیا کہ اپنے زندگی بھر کے اعمال کو وہ حضرت ابو بکرؓ کے اسی ایک عمل سے کمتر سمجھنے لگے، اور اس کا برملا اعتراف فرمایا۔ رضى الله تعالى عنهما وارضاهما۔