Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 102 of 106

2021Maarif-ul-Hadith

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ كَانَ فِيمَا قَبْلَكُمْ مِنَ الأُمَمِ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَإِنَّهُ عُمَرُ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلی امتوں میں محدث یعنی ایسے لوگ ہوتے تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کی نعمت سے خاص طور پر نوازے جاتے تھے، تو اگر میری امت میں سے کسی کو اس نعمت سے خاص طور پر نوازا گیا تو وہ عمر ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کے فضائل و مناقب سے متعلق حدیثیں ناظرین کرام ملاحظہ فرما چکے، ان میں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات بھی تھے اور بعض جلیل القدر صحابہ کرام کے بیانات بھی اب آپ کے خلیفہ دوم فاروق اعظم ؓ سے متعلق چند احادیث درج کی جا رہی ہیں، ان میں بھی حضور ﷺ کے ارشادات کے علاوہ جلیل القدر صحابہ کرام کے بیانات بھی ہوں گے۔ تشریح .....“محدث” اللہ تعالیٰ کے اس خوش نصیب بندے کو کہا جاتا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بکثرت الہامات ہوتے ہوں اور اس بارے میں اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خصوصی معاملہ ہو اور وہ نبی نہ ہو کسی نبی کا امتی ہو۔ حضور ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگلی امتوں میں ایسے لوگ ہوتے تھے اور میری امت میں اگر کسی کو اللہ تعالیٰ نے اس نعمت سے خصوصیت کے ساتھ نوازا ہے) تو وہ عمرؓ ہیں ..... حدیث کے الفاظ سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہئے کہ حضور ﷺ کو اس بارے میں کوئی شک شبہ تھا، آپ کی امت جب خیر الامم اور اگلی تمام امتوں سے افضل ہے تو ظاہر ہے کہ اس میں بھی ایسے خوش نصیب بندے ہوں گے جو کثرت الہامات کی نعمت سے نوازے جائیں گے، حضور ﷺ کے اس ارشاد کا مقصد و مدعا اس بارے میں حضرت عمرؓ، کی خصوصیت اور امتیاز سے لوگوں کو آگا کرنا ہے، اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے اس انعام کے بارے میں حضرت عمرؓ کو تخصص و امتیاز حاصل تھا، جیسا کہ آگے درج ہونے والی احادیث سے معلوم ہو گا۔

2022Maarif-ul-Hadith

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے عمرؓ کی زبان اور اس کے قلب میں حق رکھ دیا ہے۔ (جامع ترمذی)

2023Maarif-ul-Hadith

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ. (رواه ابوداؤد)

حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ارشاد فرماتے تھےئ کہ اللہ تعالیٰ نے عمرؓ کی زبان پر حق رکھ دیا ہے، وہ حق ہی کہتا ہے۔ (سنن ابی داؤد) تشریح پہلی حدیث حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت سے ہے اور دوسری حضرت ابو ذر غفاریؓ کی روایت سے، دونوں کا حاصل اور مدعا یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جن خاص انعامات سے نوازا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کے دل میں جو کچھ آتا ہے اور جو کچھ وہ زبان سے کہتے ہیں وہ حق ہی ہوتا ہے، وہ حق ہی سوچتے اور حق ہی بولتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان سے اجتہادی غلطی بھی نہیں ہوتی ....اجتہادی غلطی تو حضرات انبیاء علیہم السلام سے بھی ہو جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو مطلع کر کے اصلاح کرا دی جاتی ہے، حضرت عمرؓ سے بھی کبھی کبھی اجتہادی غلطی ہو جاتی تھی، لیکن حق واضح ہو جانے پر رجوع فرما لیتے تھے، رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بارے میں اور اسی طرح منکرین زکوٰۃ سے جہاد و قتال کے خلاف ان کی جو رائے تھی وہ ان کی اجتہادی غلطی ہی تھی، بعد میں حق واضح ہو جانے پر انہوں نے رجوع اور حضرت صدیق اکبرؓ کی رائے سے اتفاق فرما لیا، بہرحال اجتہادی غلطی کے اس طرح کے چند استثنائی واقعات کے علاوہ (جن میں حق واضح ہو جانے پر انہوں نے رجوع فرما لیا) انہوں نے جو سوچا سمجھا اور جو احکام جاری کئے وہ سب حق ہی تھے۔ بلاشبہ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام تھا ..... آئندہ درج ہونے والی بعض حدیثوں سے ان شاء اللہ حضرت فاروق اعظمؓ کی اس خصوصیت اور فضیلت پر مزید روشنی پڑے گی۔

2024Maarif-ul-Hadith

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ. (رواه الترمذى)

حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک صحبت میں) فرمایا کہ: اگر بالفرض میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب نبی ہوتے۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ مجھ پر ختم فرمایا اور قیامت تک کے لئے نبوت کا دروازہ بند ہو گیا (جس کا اعلان قرآن پاک میں بھی فرما دیا گیا ہے) اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ نہ فرما دیا گیا ہوتا اور میرے بعد بھی نبوت کا سلسلہ جاری رہتا تو عمر بن الخطاب اپنی روحانی خصوصیات کی وجہ سے بالخصوص اس لائق تھے کہ ان کو نبی بنایا جاتا۔ اس حدیث میں بھی ان کے اس خصوصی کمال و امتیاز کی طرف اشارہ ہے، جس کا ذکر مندرجہ بالا حدیثوں میں کیا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے قلب پر حق کا القا اور الہامات کی کثرت۔

2025Maarif-ul-Hadith

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مَا كُنَّا تَبعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ. (رواه البيهقى فى دلائل النبوة)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ اس بات کو بعید نہیں جانتے تھے کہ عمرؓ کی زبان پر سکینہ بولتا ہے۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی) تشریح حضرت علی مرتضیٰ کی اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمرؓ جب خطاب فرماتے یا بات کرتے تو دلوں میں ایک خاص قسم کا سکون و اطمینان پیدا ہوتا تھا، ہم اس بات کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ ان کی زبان و بیان میں یہ خاص تاثیر اللہ تعالیٰ نے رکھ دی ہے۔ یہ مطلب لیا جائے تو حضرت علیؓ کے اس کلام میں “السكينة” سے مراد یہی خداداد تاثیر ہے ........ شارحین نے لکھا ہے کہ “السكينه” سے مراد خاص فرشتہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں حضرت علیؓ کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم یہ بات بعید نہیں سمجھتے تھے کہ حضرت عمرؓ خطاب اور بات فرماتے ہیں تو ان کی زبان سے اللہ کا ایک خاص فرشتہ کلام کرتا ہے جس کا نام یہ لقب “السكينه” ہے۔

2026Maarif-ul-Hadith

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلاَثٍ فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ وَفِي الْحِجَابِ وَفِي أُسَارَى بَدْرٍ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ: میں نے تین باتوں میں اپنے خداوند تعالیٰ سے موافقت کی (یعنی میری رائے وہ ہوئی جو خدا وند تعالیٰ کا حکم آنے والا تھا) مقام ابراہیم کے بارے میں اور پردے کے مسئلہ میں اور غزوہ بدر کے قیدیوں کے مسئلہ میں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح واقعہ یہ ہے کہ ذخیرہ حدیث میں کم از کم پندرہ ایسے واقعات کا ذکر ملتا ہے، کہ کسی مسئلہ میں حضرت عمرؓ کی ایک رائے ہوئی یا ان کے قلب میں داعیہ پیدا ہوا کہ کاش اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم آ جاتا تو وہی حکم وحی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ گیا اس حدیث میں ان میں سے صرف تین کا ذکر کیا گیا ہے ..... ایک مقام ابراہیم سے متعلق حکم کا، دوسرے پردے کے بارے میں، تیسرے غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں حکم کا ...... جس کی مختصر تشریح یہ ہے کہ “مقام ابراہیم” سفید رنگ کا ایک پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی (اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں کے نشانات معجزانہ طور پر پڑ گئے تھے جو اب تک باقی ہیں) وہ اسی زمانہ سے محفوظ چلا آ رہا ہے، رسول اللہ ﷺ کے زمانے تک خانہ کعبہ کی قریب ہی میں ایک جگہ کھلا رکھا رہتا تھا (بعد میں اس کو عمارت میں محفوظ کر دیا گیا) حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ خواہش ظاہر کی کہ کاش ایسا ہوتا کہ مقام ابراہیم کو خصوصیت سے نماز کی جگہ قرار دے دیا جائے، تو سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۲۵ نازل ہوئی اور اس میں حکم آ گیا “وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى” (اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیا کرو) آیت کا سہل الفہم مطلب یہ ہے کہ طواف کے بعد جو دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں وہ مقام ابراہیم کے پاس پڑھی جائیں، فقہا کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ حکم استحبابی ہے، اگر سہولت سے مقام ابراہیم کے پاس پڑھی جا سکیں تو وہیں پڑھی جائیں، ورنہ مسجد حرام میں کہیں بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔ دوسرا مسئلہ حجاب یعنی پردے سے متعلق ہے، جب تک مستورات کے لئے حجاب یعنی پردے کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ عام مسلمانوں کی طرح رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں بھی بضرورت صحابہ کرامؓ کی آمدورفت ہوتی تھی، حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے داعیہ پیدا فرمایا کہ خاص کر ازواج مطہرات کے لئے حجاب کا خصوصی حکم آ جائے چنانچہ اس بارے میں آیت نازل ہو گئی “وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ” (سورہ احزاب آیت ۵۴) تیسری بات یہ کہ غزوہ بدر میں مسلمانوں کی فتح اور مشرکین کی شکست کے بعد ان کے جو آدمی گرفتار کر کے قیدی بنائے گئے، ان کے متعلق میری رائے یہ تھی کہ یہ سب اسلام، رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے جانی دشمن اور اکابر مجرمین ہیں، ان سب کو قتل کر دیا جائے، ان کو زندہ چھوڑ دینا ایسا ہی ہے، جیسے زہریلے سانپوں کو زندہ چھوڑنا لیکن ابو بکر صدیقؓ اور رسول اللہ ﷺ پر رحم دلی کا غلبہ تھا ان کی رائے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کی ہوئی اور اسی پر عمل کیا گیا ...... بعد میں سورہ انفال کی وہ آیات نازل ہوئیں جو میری رائے کے مطابق تھیں۔ یہاں یہ بات خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ واقعہ یہ تھا کہ ان تینوں مسئلوں میں وحی الہی نے حضرت عمرؓ کی موافقت کی تھی، لیکن حضرت عمرؓ نے از راہِ ادب اس کو اس طرح تعبیر کیا کہ میں نے حکم خداوندی کی موافقت کی تین مسئلوں میں۔ بلاشبہ یہ حسن ادب رسول اللہ ﷺ ہی کی تعلیم و تربیت اور فیض صحبت ہی کا نتیجہ تھا۔

2027Maarif-ul-Hadith

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلاَمَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّاِب فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَغَدَا عَلَى النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ ثُمَّ صَلَّى فِى الْمَسْجِدِ ظَاهِرًا. (رواه احمد والترمذى)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی (رات میں) کہ اے میرے اللہ اسلام کو عزت اور قوت عطا فرما ابو جہل ابن ہشام کے ذریعہ یا عمر بن الخطاب کے ذریعہ پس صبح کو اٹھے عمرؓ اور آئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اور اسلام لے آئے اور مسجد حرام میں علانیہ نماز پڑھی۔ (مسند احمد، جامع ترمذی) تشریح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو عالم اسباب بنایا ہے، یہاں ہر بڑے کام اور ہر عظیم مقصد کے لئے اس کے مطابق تدبیر اور عملی جدوجہد اور خاص صلاحیت رکھنے والے جانباز کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے، ابو جہل بن ہشام اور عمر بن الخطاب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کے درجہ اول کے دشمن تھے، اسی کے ساتھ ان دونوں میں وہ صلاحیتیں جو کسی بڑے کام کے لئے درکار ہوتی ہیں، (راقم سطور کا خیال ہے کہ غالباً حضور ﷺ پر منکشف کر دیا گیا تھا کہ دونوں میں سے کسی ایک کو ہدایت دی جا سکتی ہے) تو آپ ﷺ نے ایک رات کو یہ دعا فرمائی جس کا حدیث میں ذکر ہے۔ تقدیر الہی میں یہ سعادت حضرت عمرؓ کے لئے مقدر ہو چکی تھی، ان کے حق میں دعا قبول ہو گئی اور ان کو توفیق مل گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے جو کام لیا خاص کر خلافت کے دس سالوں میں وہ بلا شبہ امت میں ان کا اور صرف ان کا حصہ ہے۔ مسند احمد اور جامع ترمذی کی مندرجہ بالا روایت میں حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کا واقعہ بہت اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ مشکوٰۃ المصابیح کے بعض شارحین نے ابو عبداللہ حاکم کی “دلائل النبوۃ” کے حوالہ سے حضرت ابن عباسؓ ہی کی روایت سے یہ واقعہ مفصل روایت کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابو جہل جو مشرکین مکہ کا سردار اور بڑا سرمایہ دار بھی تھا اس نے اعلان کیا کہ جو کوئی محمد ﷺ کو قتل کر دے میں اس کو سو اونٹنیاں اور ایک ہزار اوقیہ چاندی بطور انعام دینے کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ عمرؓ نے ابو جہل سے کہا کہ تمہاری یہ بات پکی ہے؟ ابو جہل نے کہا بالکل پکی، فوراً ادا کروں گا۔ اس کے بعد عمر تلوار لے کر اس ناپاک ارادہ سے نکلے، راستہ میں ایک شخص نے ان کو اس حال میں دیکھا تو پوچھا کہ عمر کہاں اور کس ارادہ سے جا رہے ہو ..... عمرؓ نے کہا محمد (ﷺ) کو قتل کرنے جا رہا ہوں ...... اس شخص نے کہا کیا تم ان کے کنبہ بنی ہاشم سے بےخوف ہو (وہ ان کی حمایت میں میدان میں آ جائیں گے اور پھر خونریز جنگ ہو گی) عمرؓ نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تو نے بھی باپ دادا کا دین چھوڑ کے محمد کا دین قبول کر لیا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ میں تم کو بتلاتا ہوں کہ تمہاری بہن (فاطمہ) اور بہنوئی (سعید بن زید) نے بھی محمد ﷺ کا دین قبول کر لیا ہے۔ یہ سن کر عمرؓ سیدھے بہن کے گھر کی طرف گئے۔ وہ اس وقت سورہ طہ تلاوت کر رہی تھیں، عمرؓ نے دروازہ پر کھڑے ہو کر سنا، پھر دروازہ کھلوایا اور کہا کہ تم کیا پڑھ رہی تھیں؟ ان کی بہن نے بتایا کہ ہم لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور اس میں قرآن کی آیتیں پڑھ رہی تھی؟ عمرؓ نے کہا مجھے بھی پڑھ کر سناؤ! چنانچہ ان کی بہن نے سورہ طہ پڑھنی شروع کی ...... جب یہ آیت تلاوت کی “اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ” تو عمر کے دل کی دنیا میں انقلاب آ گیا اور بول اٹھے کہ بیشک وہی اور صرف وہی الٰہ اس لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اور کلمہ شہادت پڑھا پھر بہن ہی کے گھر میں رات گزاری اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری کی تڑپ دل میں پیدا ہو گئی۔ بار بار کہتے تھے “وَا شَوْقَاهُ اِلَى مُحَمَّدٍ” اسی حال میں خباب بن الارت ان کے پاس آئے اور ان کو بتلایا کہ رسول اللہ ﷺ آج رات برابر دعا کرتے رہے کہ اے اللہ عمر بن خطاب یا ابو جہل بن ہشام کے ذریعہ اسلام کو عزت اور قوت عطا فرما! اور میرا خیال ہے کہ حضور ﷺ کی دعا تمہارے حق میں قبول ہو گئی۔ اس کے بعد صبح کو عمر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور اسلام قبول کیا۔ اور اسی وقت کہا کہ ہم لات اور عزیٰ کی پرستش کرتے تھے وادیوں کے نشیب میں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور خدا کی عبادت کریں ہم چھپ چھپا کر؟ ...... یہ نہیں ہو گا ..... خدا کی قسم ہم اللہ کی عبادت اعلانیہ خانہ کعبہ کے صحن میں کریں گے۔ (اس وقت تک مسلمان علانیہ مسجد حرام میں نماز ادا نہیں کرتے تھے)۔ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں ابو جعفر بن ابی شیبہ کی تاریخ کے حوالہ سے ابن عباسؓ ہی کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کرنے کے فوراً بعد طے کیا کہ ہم ابھی چل کر اعلانیہ مسجد حرام میں نماز پڑھیں گے اور ایسا ہی کیا گیا ..... فتح الباری ہی میں ابن ابی شیبہ اور طبرانی کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود کا بیان نقل کیا گیا ہے۔ وَاللَّهِ مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ حَوْلَ الْبَيْتِ ظَاهِرِينَ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ ترجمہ ..... خدا کی قسم عمر کے اسلام لانے سے پہلے ہماری طاقت نہ تھی کہ ہم بیت اللہ کے قریب میں علانیہ نماز پڑھ سکتے (عمر کے اسلام میں داخل ہونے کے بعد ہی ہمارے لئے یہ ہوا)۔ حافظ ابن حجرؒ نے حضرت عمر ؓ کی قبول اسلام کی بہت سی روایات مختلف صحابہ کرامؓ کی روایت سے حدیث کی مختلف کتابوں کے حوالوں سے نقل کی ہیں جن میں حضرتے عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت ابن عباسؓ، حضرت انسؓ، حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت ابن عمرؓ کے علاوہ حضرت علی مرتضیٰ بھی ہیں۔ (فتح الباری باب مناقب عمر پارہ نمبر ۱۴، ص ۳۷۳)

2028Maarif-ul-Hadith

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «بَيْنَ أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي، مِنْهُ، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «العِلْمَ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے بیان فرمایا کہ میں سو رہا تھا، اسی حال میں میرے پاس لایا گیا دودھ کا بھرا ہوا پیالہ تو میں نے خوب سیر ہو کر پیا یہاں تک کہ میں نے سیرابی کا اثر اپنے ناخنوں تک میں محسوس کیا، پھر میں نے وہ دودھ جو میرے پینے کے بعد بچ گیا تھا وہ عمر بن الخطاب کو دے دیا کہ وہ اس کو پی ل یں، بعض صحابہ نے عرض کیا کہ آپ نے اس کی کیا تعبیر دی؟ آپ نے فرمایا کہ علم۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح علمائے عارفین نے کہا ہے کہ علم حق کی صورت مثالیہ دوسرے عالم میں دودھ کی ہے، جو شخص خواب میں دیکھے کہ اس کو دودھ پلایا جا رہا ہے اس کی تعبیر یہ ہے کہ اس کو علم حق نافع عطا ہو گا۔ دودھ اور علم حق میں یہ مناسبت ظاہر ہے کہ دودھ جسم انسانی کے لئے بہترین نافع غذا ہے، اسی طرح علم حق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو روح کے لئے بہترین اور نافع ترین غذا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو عطا فرمائے ہوئے علم حق میں حضرت عمرؓ کا خاص حصہ تھا اور صدیق اکبرؓ کے بعد جس طرح دس سال انہوں نے خلافت اور نبوت کی نیابت کا کام انجام دیا اور جس طرح امت کی رہنمائی فرمائی وہ اس کی دلیل اور شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو علم حق سے وافر حصۃ عطا فرمایا تھا۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ازالۃ الحقائق میں فاروق اعظم ؓ، کے علمی کمالات پر جو کچھ تحریر فرمایا ہے، وہ اہل علم کے لئے قابل دید ہے، اس کے مطالعہ سے اس بارے میں فاروق اعظم کے امتیاز اور انفرادیت کو پوری طرح سمجھا جا سکتا ہے۔

2029Maarif-ul-Hadith

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ». قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الدِّينَ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ اس حالت میں کہ میں سویا ہوا تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگوں کو وہ میرے سامنے لائے جاتے ہیں اور وہ سب کرتے پہنے ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ کے کرتے ایسے ہیں جو صرف سینے تک ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جن کے کرتے سینے کے کچھ نیچے تک ہیں، اور عمر بن خطابؓ بھی میرے سامنے لائے گئے ان کا کرتہ اتنا لمبا تھا کہ زمین تک پہنچتا تھا اور وہ اس کو زمین پر گھسیٹ کر چلتے تھے، بعض صحابہ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ نے اس کی کیا تعبیر دی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ “دین”۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح لباس اور دین میں یہ مناسبت اور مشابہت ظاہر ہے کہ لباس سردی او ر دھوپ کی تپش وغیرہ اس عالم کی آفات و تکالیف سے جسم انسانی کی حفاظت کرتا ہے اور سامان زینت ہے۔ اور دین عالم آخرت میں سامان زینت ہو گا اور عذاب سے حفاظت کا ذریعہ و سیلہ ...... خواب میں جو لوگ آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے تھے وہ یہ ظاہر امت کے مختلف طبقات اور درجات کے لوگ تھے ..... کچھ وہ تھے جن کے دین میں مختلف درجات کا نقص تھا اور ان میں حضرت عمرؓ بھی تھے جن کا دین بہت کامل تھا۔ وہ سراپا دین تھے ان کا دین ان کی اپنی ہستی سے بھی زیادہ تھا۔ ؓ وارضاہ۔

2030Maarif-ul-Hadith

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

عَنِ المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ جَعَلَ يَأْلَمُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَأَنَّهُ يُجَزِّعُهُ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، وَلَئِنْ كَانَ ذَاكَ، لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ، ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ، ثُمَّ صَحِبْتَ أَبَا بَكْرٍ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ، ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ، ثُمَّ صَحِبْتَ الْمُسْلِمِيْنَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُمْ، وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ وَهُمْ عَنْكَ رَاضُونَ، قَالَ: «أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِضَاهُ، فَإِنَّمَا ذَالِكَ مَنٌّ مِنَ اللَّهِ مَنَّ بِهِ عَلَيَّ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ أَبِي بَكْرٍ وَرِضَاهُ، فَإِنَّمَا ذَالِكَ مَنٌّ مِنَ اللَّهِ مَنَّ بِهِ عَلَيَّ، وَأَمَّا مَا تَرَى مِنْ جَزَعِي فَهُوَ مِنْ أَجْلِكَ وَأَجْلِ أَصْحَابِكَ، وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلاَعَ الأَرْضِ ذَهَبًا لاَفْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ قَبْلَ أَنْ أَرَاهُ» (رواه البخارى)

حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ جب زخمی کئے گئے حضرت عمرؓ (ان کو خنجر سے زخمی کیا ابو لؤلؤ مجوسی نے)تو تکلیف اور دکھ کا اظہار فرمانے لگے تو حضرت ابن عباسؓ نے ان سے اس طرح کہا کہ گویا وہ سمجھتے تھے کہ تکلیف کا یہ اظہار صبر و برداشت کی کمی کی وجہ سے ہے (اور تسلی دینے کے لئے کہا) اے امیر المؤمنین درد و تکلیف کا یہ اظہار آپ کی طرف سے بالکل نہ ہونا چاہئے (آپ اس وقت اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کیجئے کہ اس نے آپ کو کیسی عظیم نعمتوں سے نوازا) آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھی اور رفیق بن کر آپ کے ساتھ رہے اور آپ نے اس صحبت و رفاقت کا اچھا حق ادا کیا پھر حضور ﷺ اس حال میں آپ سے جدا ہوئے کہ وہ آپ سے راضی اور خوش تھے۔ پھر آپ ﷺ کے خلیفہ ابو بکرؓ کے خصوصی ساتھی اور رفیق بنے تو ان کی صحبت و رفاقت کا بھی آپ نے اچھا حق ادا کیا، پھر وہ بھی اس حال میں آپ سے جدا ہوئے کہ وہ آپ سے پوری طرح راضی اور خوش تھے (یہاں تک کہ آپ کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ بنایا) پھر (اپنے دور خلافت میں) سب مسلمانوں کے ساتھ آپ کا اچھا معاملہ رہا (آپ نے سب کے حقوق ادا کئے) اور اگر آپ ان کو چھوڑ کر جائیں گے تو اس حال میں ان سے جدا ہوں گے کہ وہ سب آپ سے راضی خوش ہوں گے (حضرت ابن عباس کا یہ مطلب تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا اور پھر حضرت ابو بکرؓ کا اور پھر سب مسلمانوں کا آپ سے راضی خوش رہنا اس بات کی دلیل اور علامت ہے کہ اللہ بھی آپ سے راضی ہے اس لئے آپ کی طرف فسے تکلیف اور بےقراری کا جو اظہار ہو رہا ہے نہ ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کو یاد کر کے مطمئن رہنا چاہئے)۔ حضرت عمرؓ نے ابن عباسؓ کی اس بات کے جواب میں فرمایا کہ (اے ابن عباس) تم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میری صحبت و رفاقت کا اور حضور ﷺ کی رضا کا جو ذکر کیا تو یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا خاص احسان تھا جو اس نے مجھ پر فرمایا اور اسی طرح ابو بکرؓ کے ساتھ صحبت و رفاقت اور ان کی رضا کا جو ذکر کیا وہ بھی خداوندی انعام و احسان تھا (یعنی یہ میرا ذاتی کمال نہیں تھا) اور میری طرف سے تکلیف اور پریشانی کا اظہار جو تم دیکھتے ہو وہ (زخم کی تکلیف کی وجہ سے نہیں بلکہ) تم لوگوں کی وجہ سے ہے (یعنی مجھے فکر اور ڈر ہے کہ تم لوگ میرے بعد فتنوں میں مبتلا نہ ہو جاؤ)۔ اور جہاں تک اخروی انجام کی فکر کا تعلق ہے تو (میرا حال یہ ہے کہ اگر میرے پاس اتنا اسونا ہو کہ ساری زمین بھر جائے تو میں وہ سب عذاب الٰہی سے بچنے کے لئے بطور فدیہ دے دوں قبل اس کے کہ اللہ کا عذاب دیکھوں۔ (صحیح بخاری) تشریح حضرت فاروق اعظمؓ نے عبداللہ بن عباسؓ کو جواب دیتے ہوئے آخر میں جو یہ فرمایا کہ تم جو مجھے بےچینی اور بےقراری کی حالت میں دیکھ رہے ہو یہ زخم کی تکلیف کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ اس فکر اور اندیشہ کی وجہ سے ہے کہ میرے بعد تم لوگ فتنوں میں مبتلا نہ ہو جاؤ ..... اس کی بنیاد یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا تھا کہ عمر فتنوں کے لئے بند دروازہ ہیں۔ جب تک وہ ہیں امت فتنوں سے محفوظ رہے گی، جب وہ نہ رہیں گے، تو فتنوں کے لئے دروازہ کھل جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ان کی شہادت کے بعد سے شیاطین الجن والانس کی طرف سے فتنوں کی تخم ریزی شروع ہوئی اور حضرت عثمانؓ کے آخری دور خلافت میں فتنہ اس حد تک پہنچ گیا کہ اپنے کو مسلمان کہنے والوں ہی کے ہاتھوں وہ انتہائی مظلومیت کے ساتھ شہید ہوئے اور اس کے بعد خانہ جنگی کا جو سلسلہ شروع ہوا اس میں ہزارہا صحابہ و تابعین شہید ہوئے۔ یہی وہ فتنے تھے جن کی فکر اور اندیشہ سے اپنے زخم کی تکلیف کو بھلا کر فاروق اعظم بےچین اور مضطرب تھے اور آخر میں جو فرمایا “وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلاَعَ الأَرْضِ ذَهَبًا الخ” (خدا کی قسم اگر میرے پاس زمین بھر بھی سونا ہو تو میں اللہ کا عذاب دیکھنے سے پہلے ہی اس سے بچنے کے لئے وہ سارا سونا فدیہ میں دے دوں) اس کا مقصد حضرت ابن عباسؓ کو یہ بتلانا ہے کہ میں جو اضطراب اور بتےچینی محسوس کر رہا ہوں اس کا ایک دوسرا سبب جو زیادہ اہم ہے وہ عذاب الہی کا خوف بھی ہے ...... راقم سطور عرض کرتا ہے، فاروق اعظم کا یہ خوف ان کے کمال ایمان اور کمال معرفت کی دلیل ہے، جس کا ایمان اور عرفان جس قدر کامل ہو گا اس پر اسی قدر خوف خدا کا غلبہ ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے “انا اعلمكم بالله واخشاكم” مجھے اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم اور معرفت تم سب سے زیادہ، اور اس کا خوف ڈر بھی مجھے تم سب سے زیادہ ہے۔ قرآن مجید میں بار بار یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی خاص رحمت اور جنت کے مستحق وہ بندے ہیں جو اس کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں سورہ “بينة” میں مومنین صالحین کا یہ انجام بیان فرما کر کہ وہ “خىر البرية” (اللہ کی مخلوق میں سب سے بہتر) ہیں، وہ آخرت میں ان غیر فانی جنتی باغات میں رہیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، ان کو رضائے خداوندی کی نعمت حاصل ہو گی؟ اور وہ اپنے اس خداوند سے راضی ہوں گے، آخر میں فرمایا گیا ہے “ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ” (یہ سب ان مومنین صالحین کے لئے ہے جو خداوند تعالیٰ سے (یعنی اس کی پکڑ اور اس کے عذاب سے) ڈرتے رہے ہیں) ..... الغرض حضرت فاروق اعظمؓ کا یہ ارشاد ان کے کمال ایمان اور کمال معرفت کی دلیل ہے۔ قریباں را بیش بود حیرانی۔ شہادت اس حدیث میں حضرت فاروق اعظمؓ کے جس زخمی کئے جانے کا ذکر ہے وہ وہی ہے، جس کے نتیجہ میں آپ کی شہادت ہوئی ..... مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اختصار کے ساتھ انتہائی المناک واقعہ کا ذکر کر دیا جائے۔ فاروق اعظمؓ کے دور خلافت میں ہی ایران فتح ہوا، ایران کے جو مجوسی جنگی قیدیوں کی حیثیت سے گرفتار کر کے لائے گئے وہ شرعی قانون کے مطابق مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے گئے کہ ان سے غلام اور خادم کی حیثیت سے کام لیں اور ان کے کھانے پینے وغیرہ ضروریات زندگی کی کفالت کریں اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں ..... ایران سے آئے ہوئے ان اسیران جنت میں ایک بدبخت ابو لؤلؤ نامی مجوسی بھی تھا جو مشہور صحابی مغیرہ بن شعبہ کے حوالے کیا گیا تھا اس نے فاروق اعظم کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ایک خنجر تیار کیا اور اس کو بار بار زہر میں بجھایا اور اس کے بعد رات میں مسجد شریف کے محراب میں چھپ کر بیٹھ گیا، فاروق اعظمؓ فجر کی نماز بہت سویرے اندھیرے میں شروع کرتے اور بڑی بڑی سورتیں پڑھتے تھے، ذی الحجہ کی ستائیسویں تاریخ تھی وہ حسب معمول فجر کی نماز کے لئے تشریف لائے اور محراب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھانی شروع کر دی ابھی تکبیر تحریمہ ہی کہی تھی کہ اس خبیث ایرانی مجوسی نے اپنے خنجر سے تین کاری زخم آپ کے شکم مبارک پر لگائے، آپ بےہوش ہو کر گر گئے، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے جلدی سے آپ کی جگہ آ کر مختصر نماز پڑھائی، ابو لؤلؤ نے بھاگ کر مسجد سے نکل جانا چاہا نمازیوں کی صفیں دیواروں کی طرف حائل تھیں، پھر اس نے اور نمازیوں کو زخمی کر کے نکل جانا چاہا اس سلسلہ میں اس نے تیرہ صحابہ کرام کو زخمی کیا جن میں سے سات شہید ہو گئے اتنے میں نما زختم ہو گئی اور ابو لؤلؤ کو پکڑ لیا گیا، تو اس نے اسی خنجر سے خودکشی کر لی نماز ختم ہو جانے کے بعد حضرت فاروق اعظمؓ کو اٹھا کر گھر لایا گیا، تھوڑی دیر میں آپ کو ہوش آیا تو اسی حالت میں آپ نے نماز ادا کی ..... سب سے پہلے آپ نے پوچھا کہ میرا قاتل کون ہے بتلایا گیا کہ ابو لؤلؤ مجوسی آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ایک کافر کے ہاتھ سے شہادت عطا فرمائی۔ آپ کو یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا کو قبولیت اس طرح مقدر فرمائی۔ آپ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے شہادت نصیب فرما اور میری موت تیرے رسول پاک ﷺ کے شہر مدینہ میں ہو۔ ایک دفعہ آپ کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت حفصہؓ نے آپ کی زبان سے یہ دعا سن کر عرض کیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ فی سبیل اللہ شہید ہوں اور آپ کی وفات مدینہ ہی میں ہو (ان کا خیال تھا کہ فی سبیل اللہ شہادت کی صورت تو یہی ہے کہ اللہ کا بندہ میدان جہاد میں کافروں کے ہاتھ سے شہید ہو) آپ نے فرمایا کہ اللہ قادر ہے اگر چاہے گا تو یہ دونوں نعمتیں مجھے نصیب فرما دے گا بہرحال آپ کو اپنی شہادت کا یقین ہو گیا، آپ نے حضرت صہیبؓ کو اپنی جگہ امام نماز مقرر کیا اور اکابر صحابہ سے چھ حضرات کو (جو سب عشری مبشرہ میں سے تھے) نامزد کیا کہ وہ میرے بعد تین دن کے اندر مشورہ سے اپنے ہی میں سے ایک کو خلیفہ مقرر کر لیں۔ پھر آپ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر سے فرمایا کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ کے پاس جاؤ اور میری طرف سے سلام کے بعد عرض کرو کہ میری دلی خواہش یہ ہے کہ میں اپنے دونوں بزرگ ساتھیوں (یعنی آنحضرت ﷺ اور صدیق اکبرؓ) کے ساتھ دفن کیا جاؤں، اگر آپ اس کے لئے دل سے راضی نہ ہوں تو پھر جنت البقیع میرے لئے بہتر ہے ..... انہوں نے ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ پیام پہنچایا انہوں نے فرمایا کہ وہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی تھی، لیکن اب میں اپنے اوپر ان کو ترجیح دیتی ہوں۔ جب عبداللہ بن عمرؓ نے آپ کو یہ خبر پہنچائی تو فرمایا کہ میری سب سے بڑی تمنا یہی تھی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے یہ بھی پوری فرما دی۔ ۲۷؍ ذی الحجہ بروز چہار شنبہ آپ زخمی کئے گئے تھے یکم محرم بروز یکشنبہ وفات پائی جب آپ کا جنازہ نماز کے لئے رکھا گیا تو حضرت علی مرتضیٰؓ نے آپ کے بارے میں وہ فرمایا جو ناظرین کرام آگے فضائل شیخین میں درج ہونے والی حدیث میں پڑھیں گے۔ نماز جنازہ حضرت صہیبؓ نے پڑھائی اور روضہ اقدس میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پہلو میں آپ دن کئے گئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ۔

2031Maarif-ul-Hadith

فضائل شیخین

عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ، يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ آخِذٌ مَنْكِبِي، فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ، وَقَالَ: مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ، وَحَسِبْتُ إِنِّي كُنْتُ كَثِيرًا أَسْمَعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ» (رواه البخارى ومسلم)

ابن ملیکہ (تابعی) سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن عباس ؓ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ حضرت عمرؓ کو (وفات کے بعد) جب (غسل دینے کے لئے) تخت پر رکھا گیا تو لوگ ان کے ارد گرد کھڑے تھے اور ان کے لئے دعائیں اور اللہ تعالیٰ سے رحمت کی استدعا کر رہے تھے، قبل اس کے کہ ان کو تخت سے اٹھایا جائے اور میں بھی ان لوگوں میں کھڑا تھا، تو اچانک میں نے محسوس کیا کہ کوئی آدمی میرا کندھا پکڑے کھڑا ہے (میں نے دیکھا) کہ وہ حضرت علی ابن ابی طالبؓ ہیں، وہ حضرت عمرؓ کے لئے رحمت کی دعائیں کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا کہ مجھے اس کی خواہش ہو کہ میں اس شخص کے سے عمل لے کر اللہ کے حضور میں حاضر ہوں، اور خدا کی قسم! میں یہی گمان کرتا تھا کہ تم کو اللہ تعالیٰ تمہارے دونوں (پیش رو) ساتھیوں (رسول اللہ ﷺ و ابو بکر صدیقؓ) کے ساتھ کر دے گا، میں (یہ اس لئے) سمجھتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ سے بہت موقعوں پر سنتا تھا آپ ﷺ فرماتے تھے (فلاں کام کے لئے) میں گیا اور ابو بکر و عمر بھی گئے اور (مسجد میں فلاں مکان میں) میں داخل ہوا اور میرے ساتھ ابو بکر و عمر بھی داخل ہوئے اور میں نکلا اور ابو بکرؓ و عمرؓ بھی نکلے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح گزشتہ صفحات میں پہلے حضرت صدیق اکبرؓ کے فضائل و مناقب سے متعلق حدیثیں نذر ناظرین کی گئی تھیں، اس کے بعد حضرت فاروق اعظمؓ کے فضائل و مناقب سے متعلق ..... اب آنحضرت ﷺ کے چند وہ ارشادات پیش کئے جا رہے ہیں، جن میں آپ ﷺ نے اپنے ان دونوں خاص رفیقوں کا ایک ساتھ اس طرح ذکر فرمایا ہے، جس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی نظر مبارک میں ان دونوں کا خاص الخاص مقام تھا اور بہت سے موقعوں پر آپ نے ان دونوں کا اپنے ساتھ اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ گویا یہ دونوں آپ ﷺ کے شریک حال اور خاص رفیق کار ہیں ..... اس سلسلہ میں سب سے پہلے حضرت ابن عباسؓ کی روایت سے حضرت علی مرتضیٰ کا ایک بیان نذر ناظرین کیا جا رہا ہے۔ تشریح ..... حضرت علی مرتضیٰ ؓ کا یہ بیان کسی وضاحت اور تشریح کا محتاج نہیں ہے، اس میں انہوں نے یہ جو فرمایا کہ “اللہ کی قسم! میں یہی گمان کرتا تھا کہ تہ تم کو تمہارے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر صدیقؓ) کے ساتھ کر دے گا”۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مجھے یہی امید تھی کہ تم انہیں کے ساتھ دفن کئے جاؤ گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آخرت میں جنت میں تم ان کے ساتھ کر دئیے جاؤ گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں ہی مراد ہوں .... اور اس عاجز کے نزدیک یہی راجح ہے۔ حضرت علی مرتضیٰؓ نے اپنے اس بیان میں اس واقعی حقیقت کا واضح طور پر اظہار فرما دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اپنے ان دونوں صاحبوں رفیقوں کے ساتھ خاص الخاص تعلق تھا جو صرف انہی کا حصہ تھا۔ حضرت علی مرتضیٰ ؓ نے اپنے اس کلام کے شروع میں یہ جو فرمایا “مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا الخ” (یعنی تم نے اپنے بعد اللہ کا کوئی ایسا بندہ نہیں چھوڑا جس کے اعمال کے مثل اعمال لے کر اللہ کے حضور میں حاضر ہونے کی مجھے تمنا اور خواہش ہو) اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی مرتضیٰؓ کی تمنا اور خواہش تھی کہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں حضرت عمرؓ کے جیسے اعمال لے کر حاضر ہوں اور حضرت عمرؓ کے بعد کوئی کے بعد کوئی آدمی ایسا نہیں رہا۔ حافظ ابن حجرؒ نے اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے: وَقد اخْرُج بن أَبِي شَيْبَةَ وَمُسَدَّدٌ مِنْ طَرِيقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ هَذَا الْكَلَامِ وَسَنَدُهُ صَحِيحٌ وَهُوَ شَاهِدٌ جَيِّدٌ لِحَدِيثِ ابن عباس لكون مخرجه من ال على رضى الله عنهم .(فتح البارى جزء 14 صفحه 374 طبع انصارى دهلى) ترجمہ .... اور ابن ابی شیبہ اور مسدد نے جعفر صادق کے طریقے سے روایت کیا ہے انہوں نے اپنے والد محمد (باقر) سے خود حضرت علیؓ سے اس قسم کا کلام روایت کیا ہے اور اس کی اسناد صحیح ہے اور یہ روایت ابن عباس کی اس حدیث کے لئے بہت اچھا شاہد ہے کیوں کہ یہ خود حضرت علیؓ کی اولاد کی روایت ہے۔

2032Maarif-ul-Hadith

فضائل شیخین

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ أَعْيَى فَرَكِبَهَا، فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا، إِنَّمَا خُلِقْنَا لِحَرَاثَةِ الْاَرْضِ" فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ بَقَرَةٌ تَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ، أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، - وَمَا هُمَا ثَمَّ – وَقَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ عَدَا الذِّئْبُ، عَلَى شَاةٍ مِنْهَا فَاَخَذَهَا، فَاَدْرَكَهَا صَاحِبُهَا فَاسْتَنْقَذَهَا، فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ، يَوْمَ لاَ رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي " فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ: «أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَمَا هُمَا ثَمَّ» (رواه البخارى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ (ایک مجلس میں) رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: ایک آدمی ایک بیل کو ہانکے لئے جا رہا تھا وہ (چلتے چلتے) تھک گیا، تو وہ بیل پر سوار ہو گیا، بیل نے کہا کہ ہم اس لئے پیدا نہیں کئے گئے تھے ہم تو زمین کی کاشت کے کام (جتائی وغیرہ) کے لئے پیدا کئے گئے تھے تو (حاضرین مجلس میں سے بعض) آدمیوں نے کہا، سبحان اللہ بیل بھی بات کرتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرا ایمان ہے، اس پر کہ (ایسا ہی ہوا) اور ابو بکر و عمر کا بھی ایمان ہے (راوی کا بیان ہے کہ) اس مجلس میں (اس وقت) وہ دونوں موجود نہیں تھے۔ اور حضور ﷺ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا ایک بھیڑئیے نے ریوڑ کی ایک بکری پر حملہ کر کے اس کو اٹھا لیا، بکریوں والے نے اس کو جا پکڑا اور بھیڑئیے سے بکری کو چھڑا لیا تو بھیڑئیے نے اس سے کہا کہ ان بکریوں کے لئے کون (محافظ اور رکھوالا) ہو گا “یوم السبع” میں، وہ دن وہ ہو گا جس دن میرے سوا ان بکریوں کے اور کوئی چرواہا اور محافظ نہ ہو گا تو (حاضرین میں سے بعض) لوگوں نے کہا سبحان اللہ! بھیڑیا بھی باتیں کرتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرا ایمان ہے کہ یہ بات حق ہے اور ابو بکر و عمر کا بھی ایمان ہے، اور وہ دونوں (اس وقت) وہاں موجود نہ تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے پیغمبر ﷺ وحی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر جو کچھ بیان فرمائیں اس پر یقین کیا جائے اور اس کو بغیر شک و شبہ کے حق مانا جائے اگرچہ دنیا کے عام حالات کے لحاظ سے وہ بات ناقابل فہم ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے بیل اور بھیڑئیے کے کلام کرنے کی جو بات بیان فرمائی وہ اسی طرح کی بات تھی، اسی وجہ سے بعض حاضرین نے تعجب کا اظہار کیا، تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے اور اپنے ساتھ ابو بکرؓ و عمرؓ کا بھی نام لے کر فرمایا کہ ان دونوں کا بھی ایمان ہے کہ یہ حق ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ یہ بات آپ ﷺ نے ایسے وقت فرمائی جب کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہ تھا اس لئے یہ شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ان دونوں کا لحاظ کرتے ہوئے اور ان کو خوش کرنے کے لئے یہ بات فرمائی ہو ..... یہ رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے شیخین (ابو بکرؓ و عمرؓ) کے کمال ایمان اور ایمانی کیفیت میں حضور ﷺ کے قریب تر ہونے اور اس بارے میں ان کے اختصاص و امتیاز کی دلیل اور شہادت ہے اور ان دونوں حضرات کے بارے میں حضور ﷺ کے اس رویہ کی یہ ایک اہم مثال ہے جس کا ذکر حضرت علی مرتضیٰؓ نے اپنے مندرجہ بالا بیان میں کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بہت سے موقعوں پر اپنے ساتھ ان دونوں کا ذکر بھی نام لے کر فرمایا کرتے تھے۔ ؓ وارضاھما۔ حدیث کے آخری حصہ میں “یوم السبع” کا لفظ ہے، اس کا ترجمہ نہیں کیا گیا ہے شارحین نے اس کی تشریح میں متعدد اقوال نقل کئے ہیں، اس عاجز کے نزدیک راجح یہ قول ہے کہ اس سے مراد قیامت کے قریب کے وہ دن ہیں جب قیامت کے آثار ظاہر ہو جائیں گے اس وقت لوگ بھیڑ بکری وغیرہ اپنے مویشیوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کو بالکل بھول جائیں گے وہ لاوارث ہو کر جنگلوں میں پھریں گے اور گویا بھیڑئیے وغیرہ درندے ہی ان کے وارث و مالک ہوں گے۔ اسی لحاظ سے اس کو “یوم السبع” (درندوں کا دن) کہا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔

2033Maarif-ul-Hadith

فضائل شیخین

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَهُوَ آخِذٌ بِأَيْدِيهِمَا، وَقَالَ: هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ القِيَامَةِ. (رواه الترمذى)

حضرت بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن باہر تشریف لائے، اور مسجد میں داخل ہوئے (اور آپ کے ساتھ) ابو بکرؓ و عمرؓ بھی تھے، ایک ان دونوں میں سے آپ ﷺ کے داہنی جانب اور دوسرے بائیں جانب اور آنحضرت ﷺ ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے (اسی حال میں) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہم تینوں قیامت کے دن اسی طرح اٹھائے جائیں گے۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب ظاہر ہے حضور ﷺ نے لوگوں کو بتلایا کہ تم جس طرح اس وقت دیکھ رہے ہو یہ دونوں (ابو بکرؓ و عمرؓ) میرے ساتھ ہیں اور میں ان دونوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہوں، قیامت کے دن ہم تینوں اسی طرح ساتھ اٹھیں گے اور ساتھ ہوں گے ..... بلاشبہ یہ ان دونوں حضرات کی خاص فضیلت ہے، اس میں کوئی اور شریک نہیں اور حضور ﷺ نے اپنے دوسرے اصحاب کو ان کی اس خصوصیت و فضیلت سے مطلع فرمانا بھی ضروری سمجھا۔

2034Maarif-ul-Hadith

فضائل شیخین

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لاَ أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيكُمْ، فَاقْتَدُوا بِالَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي. وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ. (رواه الترمذى)

حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: میں نہیں جانتا کہ کب تک تم لوگوں میں باقی رہوں گا (تو جب میں تمہارے اندر نہ رہوں) تو تم اقتدا کیجیو اور میرے بعد ان دونوں ابو بکرؓ و عمرؓ کی۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور ﷺ پر منکشف کر دیا گیا تھا کہ آپ ﷺ کے بعد آپ کے یہ دونوں خاص رفیق ابو بکرؓ و عمرؓ یکے بعد دیگرے آپ ﷺ کی جگہ امت کی امامت و قیادت کریں گے۔ آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ میرے بعد ان کی اقتدا و پیروی کی جائے۔

2035Maarif-ul-Hadith

فضائل شیخین

عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُوْ بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ إِلاَّ النَّبِيِّينَ وَالمُرْسَلِينَ. (رواه الترمذى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ابو بکرؓ و عمرؓ ادھیڑ عمر والے اولین و آخرین میں سے تمام جنتیوں کے سردار ہیں سوائے انبیاء و مرسلین کے۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ بنی آدم میں سے جو لوگ ادھیڑ عمر کو پہنچے اور اس کے بعد وفات پائی اور وہ ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے جنت میں جانے والے ہیں، خواہ دنیا کے ابتدائی زمانے والے ہوں یا آخری زمانے والے، ابو بکرؓ و عمرؓ جنت میں ان سب کے سردار ہوں گے اور ان کا درجہ ان سب سے بالا تر ہو گا سوائے انبیاء و مرسلین کے یعنی جنت میں سب سے فائق و بالا تر انبیاء و مرسلین ہوں گے ..... اور رسول اللہ ﷺ کا یہی ارشاد ابن ماجہ نے اپنی سنن میں حضرت علی مرتضیٰؓ سے بھی روایت کیا ہے۔

2036Maarif-ul-Hadith

فضائل شیخین

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَلَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ، فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ہر نبی کے دو وزیر ہوتے ہیں آسمان والوں میں سے (یعنی ملائکہ میں سے) اور دو وزیر ہوتے ہیں زمین میں بسنے والے انسانوں میں سے، تو آسمان والوں میں سے میرے وزیر جبرائیل و میکائیل ہیں اور زمین والوں میں سے میرے وزیر ابو بکر و عمر ہیں۔ (جامع ترمذی) تشریح واقعہ یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا معاملہ اور برتاؤ ان دونوں حضرات کے ساتھ وہی تھا جو ارباب حکومت کا اپنے خاص معتمد وزیروں کے ساتھ ہوتا ہے، آپ ہر اہم قابل غور و فکر معاملہ میں ان دونوں حضرات سے مشورہ فرماتے تھے۔ رضی اللہ عنھما وارضاھما۔

2037Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ عَائِشَةَ اسْتَأْذَنَ أَبُوْ بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِىْ، عَلَيْهِ مِرْطٌ لِىْ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالَةِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ،: ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ وَاَصْلَحَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، وَقَالَ: «اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ» فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ؟ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ «إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَإِنِّي خَشِيتُ، إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ» وَفِىْ رِوَايَةٍ قَالَ لَهَا اَلَا اَسْتَحْىِ مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْىِ مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ. (رواه مسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ (میرے والد حضرت) ابو بکرؓ نے (کسی ضرورت سے) حضور ﷺ کے پاس آنے کی اجازت چاہی ایسے حال میں کہ آپ ﷺ میرے بستر پر میری چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے آپ ﷺ نے ان کو اندر آنے کی اجازت دلوا دی اور آپ ﷺ جس طرح لیٹے ہوئے تھے اسی طرح لیٹے رہے (ابو بکرؓ آئے) اور جو ضروری بات ان کو کرنا تھی کر کے چلے گئے۔ پھر (حضرت)عمرؓ (کسی ضرورت سے) آئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی، ان کو بھی آپ ﷺ نے اجازت دلوا دی (وہ آئے) اور آپ اسی حالت میں رہے (یعنی جس طرح میرے بستر پر میری چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے اسی طرح لیٹے رہے) پھر وہ بھی اپنی ضرورت پوری کر کے چلے گئے پھر (حضرت) عثمانؓ نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ سنبھل کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو اچھی طرح درست فرما لیا اور مجھ سے فرمایا کہ تم بھی اپنے کپڑے (چادر وغیرہ) پوری طرح اوڑھ لو، اس کے بعد آپ ﷺ نے ان کو آنے کی اجازت دلوا دی (وہ آپ کے پاس آ گئے) اور جو ضروری بات کرنے کے لئے آئے تھے کر کے چلے گئے (حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے جانے کے بعد) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے جیسا اہتمام (حضرت) عثمانؓ کے لئے کیا ویسا اہتمام ابو بکرؓ اور عمرؓ کے لئے کیا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا عثمان ایسے آدمی ہیں کہ ان پر (فطری طور پر) صفت حیا کا غلبہ ہے مجھے اس کا اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے ان کو ایسی حالت میں بلا لیا جس میں میں تھا (کہ تمہاری چادر اوڑھے لیٹا ہوا تھا) تو وہ (فرط حیا کی وجہ سے جلدی واپس چلے جائیں) اور وہ ضروری بات نہ کر سکیں جس کے لئے وہ آئے تھے (اس لئے میں نے ان کے لئے وہ اہتمام کیا جو تم نے دیکھا)۔ (صحیح مسلم) تشریح متن حدیث کی ضروری تشریح ترجمہ کے ضمن ہی میں کر دی گئی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان ؓ پر صفت حیاء کا کس قدر غلبہ تھا اور رسول اللہ ﷺ اس کا کس قدر لحاظ فرماتے تھے۔ صحیح مسلم کی اسی حدیث کی ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ کے سوال کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا “اَلَا اَسْتَحْىِ مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْىِ مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ” (کیا میں ایسے بندہ خدا کا لحاظ نہ کروں جس کا فرشتے بھی لحاظ کرتے ہیں)۔ یہاں ایک بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ بظاہر یہ واقعہ اس زمانے کا ہے کہ حجاب (یعنی پردہ) کا حکم نازل نہیں ہوا تھا کیونکہ حضرت عمرؓ، بھی حضرت صدیقہؓ کے لئے غیر محرم تھے، ان کے آنے پر حضور ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو اچھی طرح کپڑے اوڑھ لینے کا وہ حکم نہیں فرمایا جو حضرت عثمانؓ کے آنے پر فرمایا۔

2038Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحُثُّ عَلَى تَجْهِيْزِ جَيْشِ العُسْرَةِ فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيَّ مِائَةُ بَعِيرٍ بِأَحْلاَسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ حَضَّ عَلَى الجَيْشِ فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلاَسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ حَضَّ عَلَى الجَيْشِ فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيَّ ثَلاَثُ مِائَةِ بَعِيرٍ بِأَحْلاَسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ، مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ. (رواه الترمذى)

حضرت عبدالرحمٰن بن خباب ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ کی خدمت میں ایسے وقت حاضر ہوا جب کہ آپ ﷺ (منبر پر تشریف فرما تھے اور) جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے لئے مدد کرنے کی لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے تو عثمانؓ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ میرے ذمے ہیں سو اونٹ، مع نمدوں اور کجاوؤں کے (یعنی میں سو اونٹ پیش کروں گا مع پورے ساز و سامان ےکے) فی سبیل اللہ (حدیث کے راوی عبدالرحمٰن بن خباب بیان کرتے ہیں کہ) اس کے بعد پھر رسول ﷺ نے لشکر کی مدد کے لئے لوگوں کو ترغیب دی تو پھر عثمان کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ میرے ذمے ہیں (مزید)دو سو اونٹ مع نمدوں اور کجاوؤں کے فی سبیل اللہ، اس کے بعد پھر رسول ﷺ نے لشکر کی امداد کے لئے اپیل دی تو پھر (تیسری مرتبہ)عثمانؓ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ میرے ذمہ ہیں (مزید) تین سو اونٹ مع نمدوں اور کجاوؤں کے فی سبیل اللہ (عبدالرحمٰن بن خباب کہتے ہیں کہ) میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ منبر سے اتر رہے تھے اور فرماتے تھے “مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ” (یعنی عثمان اپنے اس عمل اور اس مالی قربانی کے بعد جو بھی کریں اس سے ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا) یہ بات آپ ﷺ نے مکرر ارشاد فرمائی۔ (جامع ترمذی) تشریح فتح مکہ کے اگلے سال ۹؁ھ میں بعض اطلاعات پر رسول اللہ ﷺ نے ایک بڑے لشکر کے ساتھ ملک شام کی طرف پیش قدمی کا فیصلہ فرمایا، یہ سفر مقام تبوک تک ہوا جو اس وقت کے ملک شام کی سرحد کے اندر تھا، وہاں لشکر کا پڑاؤ قریباً بیس دن تک رہا جس مقصد سے دور دراز کا یہ سفر کیا گیا تھا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی مدد سے جنگ و قتال کے بغیر ہی صرف تبوک تک پہنچنے اور وہاں بیس روزہ قیام ہی سے حاصل ہو گیا تو وہیں سے واپسی کا فیصلہ فرما لیا گیا اس وجہ سے یہ غزوہ غزوہ تبوک کے نام سے معروف ہو گیا ...... حدیث میں اس لشکر کو “جیش العسرۃ” فرمایا گیا ہے عسرۃ کے معنی ہیں تنگ حالی اور سخت حالی ..... یہ سفر ایسے حال میں کیا گیا تھا کہ مدینہ منورہ اور اس کے آس پاس میں قحط اور پیداوار کی بہت کمی کی وجہ سے بہت تنگ حالی تھی، اور موسم سخت گرمی کا تھا، لشکریوں کی تعداد اس زمانے کے لحاظ سے بہت غیر معمولی تھی (روایات میں تیس ہزار ذکر کی گئی ہے) سواریاں یعنی اونٹ اور گھوڑے بہت کم تھے، زادِ راہ یعنی کھانے پینے کا سامان بھی لشکریوں کے تعداد کے لحاظ سے بہت ہی کم تھا، انہیں وجوہ سے اس غزوہ کو “جیش العسرۃ” کہا گیا ہے۔ اسی غیر معمولی صورت کی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے اس غزوہ کے لئے لوگوں کو مالی و جانی قربانی کی اس طرح ترغیب دی جو غزوات کے سلسلہ میں آپ کا عام معمول نہ تھا۔ حضرت عثمان ؓ نے اس لشکر کی امداد و اعانت میں سب سے زیادہ حصہ لیا، حضرت عبدالرحمٰن بن خبابؓ کی اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی ترغیب پر انہوں نے چھ سو اونٹ مع ساز و سامان کے پیش فرمائے ..... شارحین حدیث نے بعض دوسری روایات کی بنیاد پر لکھا ہے کہ ان چھ سو کے علاوہ انہوں نے ساڑھے تین سو اونٹ اور پیش کئے اس طرح ان کے پیش کئے ہوئے اونٹوں کی تعداد ساڑھے نو سو ہوئی ..... ان کے علاوہ پچاس گھوڑے بھی پیش کئے ..... آگے درج ہونے والی حدیث سے معلوم ہو گا کہ اونٹوں گھوڑوں کے علاوہ حضرت عثمانؓ نے ایک ہزار اشرفیاں بھی لا کر حضور ﷺ کی گود میں ڈال دیں۔ آپ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کے ان عطیات کو قبول فرما کر مجمع عام میں یہ بشارت سنائی اور بار بار فرمایا “مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ” (مطلب یہ ہے کہ جنت اور رضاء الہٰی حاصل کرنے کے لئے عثمانؓ کا یہی عمل اور یہی مالی قربانی کافی ہے) ..... جب ان حالات کا تصور کیا جائے جن کی وجہ سے اس لشکر کو جیش العسرہ کہا گیا ہے تو حضرت عثمانؓ کی اس مالی قربانی کی قدر و قیمت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے ...... ؓ وارضاہ۔ (غزرہ تبوک کے بارے میں تفصیلات سیرت و تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جائیں)۔

2039Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي كُمِّهِ، حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، فَنَشَرَهَا فِي حِجْرِهِ فَرَأَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَلِّبُهَا فِىْ حِجْرِهِ، وَيَقُولُ: «مَا ضَرَّ ابْنُ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ» مَرَّتَيْنِ. (رواه احمد)

حضرت عبدالرحمٰن بن سمرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے لئے ضروریات کا انتظام اور سامان کر رہے تھے تو عثمانؓ اپنی آستین میں ایک ہزار دینار (اشرفیاں) لے کر آئے اور حضور ﷺ کی گود میں ڈال دئیے (عبدالرحمٰن بن سمرہ کہتے ہیں کہ) میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ ان اشرفیوں کو اپنی گود میں الٹ پلٹ رہے ہیں اور آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا “مَا ضَرَّ ابْنُ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ” (یعنی آج کے دن کے بعد عثمانؓ جو کچھ بھی کریں اس سے ان کو کوئی ضرر اور نقصان نہیں پہنچے گا)۔ (مسند احمد) تشریح حضرت عثمانؓ کی پیش کی ہوئی اشرفیوں کو حضرت عثمانؓ کے اور دوسرے لوگوں کے سامنے حضور ﷺ کا اپنی گود میں الٹنا بظاہر اپنی قلبی مسرت کے اظہار کے لئے تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن بن خباب کی مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہو چکا ہے کہ حضور ﷺ کی اپیل پر جب حضرت عثمانؓ نے مجاہدین کے لئے اونٹوں کی پیش کش کی تھی، اس وقت بھی حضور ﷺ نے ان کو ایسی ہی بشارت دی تھی، اور بار بار فرمایا تھا “مَا ضَرَّ ابْنُ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ” مومنین صادقین کو اس طرح کی بشارتیں دینا آخرت کی فکر اور اس کے لئے سعی و عمل سے ان کو غافل نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت و رضا جوئی میں اضافہ کا اور مزید دینی ترقیات کا باعث ہوتا ہے۔

2040Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ أَنَسِ قَالَ: قَالَ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَبَايَعَ النَّاسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ. فَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى، فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ خَيْرًا مِنْ أَيْدِيهِمْ لأَنْفُسِهِمْ. (رواه الترمذى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب (حدیبیہ میں) رسول اللہ ﷺ نے بیعت رضوان کے لئے ارشاد فرمایا تو اس وقت عثمانؓ رسول اللہ ﷺ کے قاصد اور سفیر کی حیثیت سے مکہ گئے ہوئے تھے۔ تو ان سب لوگوں نے (جو اس وقت موجود اور حاضر تھے) بیعت کر لی، تو رسول اللہ ﷺ نے (لوگوں سے) فرمایا کہ عثمان (اس وقت یہاں نہیں ہیں) اللہ کے اور اس کے رسول(ﷺ) کے کام سے مکہ گئے ہوئے ہیں (اگر وہ یہاں ہوتے تو تم سب کے ساتھ وہ بھی بیعت کرتے، اب میں خود ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں) پھر آپ نے (حضرت عثمانؓ کے قائم مقام کی حیثیت سے) اپنا ایک دست مبارک اپنے ہی دوسرے دست مبارک پر رکھا (جس طرح بیعت میں ہاتھ پر ہاتھ رکھا جاتا ہے۔ آگے حدیث کے راوی حضرت انسؓ جو خود بیعت کرنے والوں میں تھے کہتے ہیں کہ) رسول اللہ ﷺ کا دست مبارک جس سے آپ نے عثمانؓ کی طرف سے بیعت کی وہ عثمانؓ کے حق میں ان دوسرے تمام لوگوں کے ہاتھوں سے بہتر تھا جنہوں نے خود اپنی طرف سے بیعت کی تھی۔ (جامع ترمذی) تشریح بیعت رضوان کا واقعہ معلوم و معروف ہے، قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر فرمایا گیا ہے، یہاں مختصراً صرف اتنا ذکر کیا جاتا ہے جتنا حدیث کا مفہوم سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔ ہجرت کے چھٹے سال رسول اللہ ﷺ نے ایک خواب کی بنا پر بہت سے صحابہؓ کے شدید اصرار سے عمرہ کے لئے مکہ معظمہ جانے کا ارادہ فرمایا جن لوگوں کو اس کا علم ہوا تو اس مبارک سفر میں حضور ﷺ کی رفاقت اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے ساتھ ہو گئے، ان ساتھیوں کی تعداد چودہ سو ۱۴۰۰ کے قریب ہو گئی، چونکہ سفر عمرہ کی نیت سے کیا گیا تھا اور ذیقعدہ کے مہینہ میں کیا گیا تھا جو اشہر حرم میں سے ہے جن کا مشرکین مکہ بھی احترام کرتے اور جنگ و جدال سے پرہیز کرتے تھے۔ اس کی ضرورت نہیں سمجھی گئی کہ پہلے سے کسی کو بھیج کر مکہ والوں کی رضامندی حاصل کی جائے۔ مشرکین مکہ اس وقت حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے دین کے سخت ترین دشمن تھے ..... جب ان کے علم میں یہ بات آئی کہ آپ ﷺ ایک بڑی جمیعت کے ساتھ آ رہے ہیں تو انہوں نے باہم مشورہ کر کے طے کر لیا کہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہم اپنے شہر مکہ میں نہیں داخل ہونے دیں گے، جب آپ ﷺ اور پورا قافلہ مکہ کی قریب مقام حدیبیہ پر پہنچ گیا (جہاں سے مکہ مکرمہ کی مسافت ۲۰ میل سے کچھ زیادہ ہے) تو مکہ والوں کے فیصلہ اور ارادے کا آپ ﷺ کو علم ہوا ..... آپ ﷺ نے پورے قافلہ کے ساتھ حدیبیہ میں قیام فرما لیا اور حضرت عثمان ؓ، کو سردارانِ قریش سے گفتگو کرنے کے لئے اپنا خاص قاصد اور سفیر بنا کر مکہ بھیج دیا، ان کا انتخاب آپ ﷺ نے اس لئے فرمایا کہ مخالفین کے لیڈروں میں ان کے بعض قریبی رشتہ دار تھے آپ ﷺ نے ان کو اس مقصد سے بھیجا کہ وہ بالخصوص قریش کے سرداروں کو اطمینان دلائیں کہ ہم لوگ صرف عمرہ کے لئے آئے ہیں، اس کے سوا کوئی مقصد نہیں ہے، ہم عمرہ کر کے مدینہ واپس ہو جائیں گے۔ حضرت عثمانؓ مکہ معظمہ چلے گئے لیکن حساب سے ان کو جس وقت تک واپس آ جانا چاہئے تھا واپس نہیں آئے اور حضور ﷺ کے قافلہ میں کسی طرح یہ خبر پہنچ گئی کہ عثمانؓ کو دشمنوں نے شہید کر دیا تو آپ کو بہت رنج اور دکھ ہوا اور آپ ﷺ نے طے فرما لیا کہ اگر ایسا ہوا ہے تو پھر جنگ ہو گی، تمام ساتھیوں میں بھی اس خبر سے سخت اشتعال تھا اس مرحلہ پر آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے جہاد فی سبیل اللہ اور اس میں شہادت تک ثابت قدمی پر خصوصی بیعت لی، یہ بیعت ایک درخت کے نیچے لی گئی تھی، قرآن مجید میں اس موقع پر بیعت کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص رضا کا اعلان فرمایا گیا ہے، اسی لئے اس کا نام بیعت رضوان، معروف ہو گیا ہے۔ جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ یہ بیعت جس وقت لی گئی حضرت عثمانؓ اس وقت موجود نہیں تھے، حضور ﷺ کے قاصد کی حیثیت سے مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے، تو جیسا کہ حدیث میں ذکر کیا گیا حدیبیہ میں موجود تمام صحابہ کرامؓ نے حضور ﷺ کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ رکھ کر بیعت کی۔ عثمانؓ موجود نہیں تھے، ان کی طرف سے حضور ﷺ نے خود بیعت کی اپنے دست مبارک کو حضرت عثمانؓ کے ہاتھ کے قائم مقام قرار دے کر ان کی طرف سے بیعت فرمائی ..... بلا شبہ یہ حضرت عثمان ؓ کے خاص الخاص فضائل میں سے ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کی خبر صحیح نہیں تھی وہ گفتگو کر کے واپس آ گئے اس وقت اہل مکہ اور سردارانِ قریش کسی طرح اس پر آمادہ نہیں ہوئے کہ حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو عمرہ کے لئے مکہ معظمہ میں داخل ہونے کی اجازت دیں۔ اس کے بعد قریش کی طرف سے گفتگو کرنے کے لئے یکے بعد دیگرے ان کے نمائندے آئے اور بالآخر وہ صلح ہوئی جو صلح حدیبیہ نام سے تاریخ اسلام کا مشہور ترین واقعہ ہے اور قرآن مجید میں اس کو “فتح مبین” فرمایا گیا ہے (تفصیلات سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں)۔