Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 103 of 106

2041Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الفِتَنَ فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي ثَوْبٍ فَقَالَ: هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الهُدَى، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ. قَالَ: فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ. (رواه الترمذى وابن ماجه)

حضرت مرہ بن کعب ؓ سے روایت ہے (انہوں نے بیان کیا کہ) رسول اللہ ﷺ سے میں نے (ایک خطاب میں) سنا، آپ ﷺ نے اپنے بعد امت میں برپا ہونے والے کچھ فتنوں کا ذکر فرمایا اور ان کو قریب ہی میں واقع ہونے والے فتنے بتلایا۔ اسی وقت ایک شخص سر سے کپڑا اوڑھے ہوئے سامنے گذرا تو حضور ﷺ نے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، یہ شخص آنے والے ان فتنوں کے دنوں میں طریقہ ہدایت اور راہ راست پر ہو گا (حدیث کے راوی مرہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کی زبان مبارک سے یہ بات سن کر) اس شخص کی طرف چلا (تا کہ دیکھ لوں کہ وہ کون ہے) دیکھا تو عثمان بن عفان تھے میں نے ان کا چہرہ حضور ﷺ کی طرف کر کے حضور ﷺ سے عرض کیا، کیا وہ یہی ہیں؟ (جن کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ وہ فتنہ کے زمانے میں ہدایت اور راہ راست پر ہوں گے؟) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ “ہاں”(یہی وہ ہیں)۔ تشریح حدیث کسی تشریح و توضیح کی محتاج نہیں ہے مطلب بالکل واضح ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی عطا فرمائی ہوئی اطلاع کی بنا پر بطور پیشن گوئی کے حضرت عثمان ؓ کے بارے میں اپنے اس خطاب عام میں اعلان فرمایا کہ میرے بعد قریبی زمانہ میں جو فتنے امت میں برپا ہوں گے ان میں عثمان بن عفان طریقہ ہدایت اور راہ راست پر ہوں گے ..... معلوم ہے کہ حضور ﷺ کے بعد امت میں سب سے بڑا اور پہلا فتنہ خود حضرت عثمان ؓ کے خلاف اٹھنے والا فتنہ تھا جس میں وہ انتہائی مظلومیت کے ساتھ شہید کئے گئے، جیسا کہ آئندہ ذکر کی جانے والی حدیثوں سے بھی معلوم ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ کے اس طرح کے ارشادات کی روشنی ہی میں اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ فتنے کے دور میں حضرت عثمانؓ حق و ہدایت پر تھے، اور ان کے مخالفین جنہوں نے فتنہ برپا کیا اہل ضلال تھے۔ نَعُوذُ بِاللَّهِ تَعَالَى مِنَ الشُّرُوْرِ وَالفِتَنِ، مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ.

2042Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ أَبِي مُوسَى الْاَشْعَرِىْ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ المَدِينَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» فَفَتَحْتُ لَهُ، فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، فَبَشَّرْتُهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ»، فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ، فَقَالَ لِي: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ»، فَإِذَا عُثْمَانُ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ المُسْتَعَانُ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے ایک باغ میں حضور ﷺ کے ساتھ تھا تو ایک شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھلوانا چاہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان کے لئے دروازہ کھول دو اور ان کو جنت کی خوشخبری دو، تو میں نے اس شخص کے لئے دروازہ کھول دیا تو دیکھا کہ وہ ابو بکرؓ ہیں، میں نے ان کو جنت کی بشارت دی، تو اس پر انہوں نے اللہ کی حمد کی (اور شکر ادا کیا) پھر ایک اور شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھلوانا چاہا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ ان کے لئے دروازہ کھول دو اور جنت کی خوشخبری دو، تو میں نے ان کے لئے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ وہ عمرؓ ہیں، تو میں نے ان کو وہ بتلا دیا جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا، تو انہوں نے اللہ کی حمد کی (اور شکر ادا کیا) پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھلوانا چاہا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ ان کے لئے بھی دروازہ کھول دو اور ان کو جنت کی خوشخبری دو، ایک بڑی مصیبت پر جو ان کو پہنچے گی (تو میں نے دروازہ کھول دیا) تو دیکھا کہ وہ عثمانؓ ہیں، تو میں نے ان کو وہ بتلایا جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا تو انہوں نے اللہ کی حمد کی (اور شکر ادا کیا) پھر کہا (اللَّهُ المُسْتَعَانُ) (یعنی آنے والی مصیبت کے لئے میں اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں) ..... (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث میں باغ کے لئے حائط کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے، حائط اس باغ کو کہا جاتا ہے جو چہار دیواری سے گھیر دیا گیا ہو، اس میں داخلہ کے لئے دروازہ ہوتا ہے۔ اس حدیث میں یہ واقعہ بیان فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ کے کسی ایسے ہی باغ میں تشریف فرما تھے، اور اس وقت صرف ابو موسیٰ اشعریؓ آپ کے پاس تھے (اسی حدیث کی ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم دیا تھا کہ دروازہ کی حفاظت کریں اور کسی کو بغیر اجازت کے اندر نہ آنے دیں)۔ تو اس وقت کسی شخص نے دروازہ کھلوا کر اندر آنا چاہا، تو آپ ﷺ نے ابو موسیٰ اشعری سے فرمایا کہ ان کے لئے دروازہ کھول دو اور ان کو جنت کی بشارت دے دو ..... ابو موسیٰ اشعری کو معلوم نہیں تھا کہ یہ دروازہ کھلوانے والے کون صاحب ہیں، جب دروازہ کھولا تو دیکھا کہ وہ ابو بکرؓ ہیں، تو ابو موسیٰ نے ان کو وہ بتلایا جو حضور ﷺ نے فرمایا تھا اور جنت کی بشارت دی، تو جیسا کہ حدیث میں ذکر کیا گیا ہے، انہوں نے جنت کی بشارت سن کر اللہ کی حمد کی اور شکر ادا کیا، پھر حضرت عمرؓ نے دروازہ کھلوا کر اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے ابو موسیٰ سے وہی فرمایا جو اس سے پہلے ابو بکرؓ کے لئے فرمایا تھا ان کو معلوم نہ تھا کہ اب یہ دروازہ کھلوانے والے کون صاحب ہیں، دروازہ کھولا تو معلوم ہوا کہ یہ عمرؓ ہیں تو انہوں نے ان کو جنت کی بشارت دی، انہوں نے بھی بشارت سن کر اللہ کی حمد کی اور شکر ادا کیا، اس کے بعد تیسرے شخص آئے اور انہوں نے بھی دروازہ کھلوا کر اندر آنا چاہا تو آپ ﷺ نے ابو موسیٰ اشعری سے فرمایا ان کے لئے بھی دروازہ کھول دو اور ان کو جنت کی خوشخبری دو ایک بڑی مصیبت پر جو ان پر آنے والی ہے ابو موسیٰ اشعری کو معلوم نہیں تھا کہ یہ آنے والے کون ہیں جب حضور ﷺ کے حکم کے مطابق دروازہ کھولا تو دیکھا کہ عثمان بن عفانؓ ہیں تو انہوں نے ان کو وہ بتلایا جو حضور ﷺ نے فرمایا تھا اور ان کو جنت کی بشارت دی اور ساتھ ہی یہ کہ وہ ایک عظیم آزمائش اور مصیبت میں مبتلا ہوں گے، تو انہوں نے جنت کی بشارت پر اللہ کی حمد کی، شکر ادا کیا اور مصیبت کی بات سن کر کہا اللَّهُ المُسْتَعَانُ (کہ اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں) حضرت عثمانؓ پر آنے والی اس مصیبت کی کچھ تفصیل آگے ذکر کی جانے والی حدیثوں سے معلوم ہو گی۔

2043Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرَ بِئْرِ رُومَةَ؟ فَقَالَ: " مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَجْعَلُ فِيهَا دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَجَعَلْتُ دَلْوِي فِيهَا مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ، وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي مِنَ الشُّرْبِ مِنْهَا حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ فَيَزِيدُهَا فِي الْمَسْجِدِ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَزِدْتُهَا فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ عَلَى ثَبِيرٍ ثَبِيرِ مَكَّةَ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا، فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ فَرَكَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: «اسْكُنْ ثَبِيرُ، فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ» قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، شَهِدُوا لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ - يَعْنِي أَنِّي شَهِيدٌ ثَلَاثًا. (رواه الترمذى والنسائى والدار قطنى)

ثمامہ بن حزم قشیری ؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت عثمانؓ کے گھر پر اس وقت حاضر تھا جب انہوں نے بالا خانے کے اوپر سے (اپنے گھر کا محاصرہ کرنے والے باغیوں بلوائیوں سے خطاب کرتے ہوئے) فرمایا: کہ میں تمہیں اللہ کا اور اس کے دین حق اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں، کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ جب ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو وہاں بیر رومہ کے علاوہ شیرین پانی کا کنواں نہ تھا (اور وہ ایک یہودی کی ملکیت تھا وہ اس کا پانی جس قیمت پر چاہتا بیچتا تھا) تو رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن) ارشاد فرمایا کہ “کون اللہ کا بندہ ہے جو بیر رومہ کو خرید کر سب مسلمانوں کو اس سے پانی لینے کی اجازت دے دے (یعنی عام مسلمانوں کے لئے وقف کر دے) تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کو اس سے بہتر عطا فرمائے گا” تو میں نے اس کو اپنے ذاتی مال سے خرید لیا (اور قف کر دیا) اور آج تم لوگ مجھے اس کا پانی پینے سے روکتے ہو؟ جس کی وجہ سے میں سمندر کا (کھاری) پانی پینے پر مجبور ہوں، تو اس کے جواب میں ان لوگوں نے کہا اللھم نعم (یعنی اے اللہ ہم جانتے ہیں کہ عثمان کی یہ بات صحیح ہے)۔ اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کا اور اس کے دین حق اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ حضور ﷺ کی بنوائی ہوئی مسجد نمازیوں کے لئے تنگ ہو گئی تھی تو حضور ﷺ نے (ایک دن) ارشاد فرمایا “کون اللہ کا بندہ ہے جو فلاں گھرانے کے قطعہ زمین کو (جو مسجد کے برابر میں تھا) خرید کر ہماری مسجد میں شامل کر دے تو اللہ اس کو جنت میں اس سے بہتر قطعہ عطا فرمائے گا” تو میں نے اس کو اپنے ذاتی مال سے خرید لیا (اور مسجد میں شامل کر دیا) اور آج تم لوگ مجھے اس بات سے روکتے ہو کہ میں اس میں دو رکعت نماز پڑھ سکوں؟ ...... تو ان لوگوں نے کہا اللھم نعم (اے اللہ بےشک ہم یہ بات جانتے ہیں کہ حضور ﷺ کے فرمانے پر عثمانؓ نے وہ قطعہ زمین خرید کر مسجد میں شامل کیا تھا) ..... اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے غزوہ تبوک کے لشکر کے لئے اپنے مال سے ساز و سامان کیا تھا؟ ان لوگوں نے کہا اللھم نعم (اے اللہ ہم یہ بات بھی جانتے ہیں) اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے ان سے فرمایا کہ میں اللہ کا اور اس کے دین حق اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا تمہارے علم میں یہ بات ہے کہ (ایک دن)رسول اللہ ﷺ مکہ کے جبل ثبیر پر تھے، اور آپ ﷺ کے ساتھ ابو بکرؓ و عمرؓ تھے اور میں بھی تھا تو پہاڑ حرکت کرنے لگا یہاں تک کہ اس کے پتھر اوپر سے نیچے کی جانب نشیب میں گرنے لگے، تو آپ ﷺ نے ثبیر پہاڑ پر اپنا قدم مبارک زور سے مارا اور فرمایا “اسْكُنْ ثَبِيرُ” (اے ثبیر ساکن ہو جا) کیوں کہ اس وقت تیرے اوپر ایک نبی ہے اور ایک صدیق ہے اور دو شہید ہیں ..... تو ان لوگوں نے کہا اللهم نعم (خداوندا یہ واقعہ بھی ہمارے علم میں ہے) اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے فرمایا اللہ اکبر! ان لوگوں نے بھی گواہی دی، اسی کے ساتھ حضرت عثمانؓ نے فرمایا) قسم ہے رب کعبہ کی کہ میں شہید (ہونے والا) ہوں، یہ آپؓ نے تین دفعہ فرمایا۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی، دار قطنی) تشریح حضرت عمر ؓ کی شہادت کے بعد انتخاب خلیفہ کے لئے ان کی بنائی ہوئی مجلس شوریٰ نے حضرت عثمانؓ کو خلیفہ منتخب فرمایا تھا تمام صحابہ مہاجرین و انصارؓ نے ان کو اسی طرح خلیفہ تسلیم کر لیا جس طرح حضرت عمرؓ کو اور اس سے پہلے حضرت ابو بکرؓ کو خلیفہ تسلیم کر لیا تھا ...... قریباً بارہ برس تک آپؓ خلیفہ رہے آپؓ کی خلافت کے آخری سالوں میں آپؓ کے خلاف وہ فتنہ برپا ہوا جس کی پیشن گوئی رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر فرمائی تھی۔ یہ محاصرہ جس کا اس حدیث میں ذکر ہے اس فتنہ کے سلسلہ کی آخری کڑی تھا، محاصرہ کرنے والے مصر اور عراق کے بعض شہروں کے باغی اور بلوائی تھے جن کو فتنہ پردازی کے ماہر ایک منافق یہودی عبداللہ بن سبا نے خفیہ سازشی تحریک کے ذریعہ حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا تھا (اس فتنے اور عبداللہ بن سبا کی خفیہ تحریک کی تفصیلات سیر و تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں)۔ جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوا باغی بلوائیوں کا یہ محاصرہ اتنا شدید ہو گیا تھا کہ حضرت عثمانؓ مسجد شریف آ کر نماز بھی نہیں پڑھ سکتے تھے اور آپؓ کو اور آپ کے گھر والوں کو پینے کا پانی نہیں پہنچ سکتا تھا، ان بلوائیوں کا مطالبہ تھا کہ آپ خلافت سے دستبردار ہو جائیں یعنی خود اپنے آپ کو معزول کر دیں۔ حضرت عثمانؓ رسول اللہ ﷺ کی ایک تاکیدی ہدایت کی بنیاد پر (جس کا ذکر آگے ایک حدیث میں آئے گا) ان لوگوں کے مطالبہ پر خلافت سے از خود دستبردار ہونے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اس کے مقابلہ میں ان باغیوں، بلوائیوں کے ہاتھوں مظلومیت کے ساتھ جان دے دینا اور شہید ہو جانا بہتر سمجھتے تھے۔ معلوم ہے کہ حضرت عثمانؓ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور حکومت کے فرمانروا تھے، اگر ان باغیوں کے خلاف طاقت کے استعمال کرنے کا فیصلہ فرماتے یا اس کی اجازت چاہنے والوں کو اجازت ہی دے دیتے تو یہ بغاوت پوری طرح کچھ دی جاتی لیکن آپ کی فطرت اور طبیعت پر حیا کی طرح حلم کا بھی غلبہ تھا، نیز آپؓ اس کے لئے کسی طرح تیار نہیں تھے کہ آپؓ کی جان کی حفاظت کے لئے کسی کلمہ گو کے خون کا قطرہ زمین پر گرے اس لئے آپؓ نے آخری حد تک افہام و تفہیم کی کوشش کی اور آخر میں اتمام حجت کے طور پر وہ خطاب فرمایا جسے اس حدیث کے راوی ثمامہ ابن حزم قشیریؓ نے بیان فرمایا ہے جنہوں نے یہ خطاب خود اپنے کانوں سے سنا تھا اور محاصرہ کا وہ منظر آنکھوں سے دیکھا تھا ...... آخر میں حدیث کے الفاظ “وَرَبِّ الْكَعْبَةِ يَعْنِي أَنِّي شَهِيدٌ ثَلَاثًا” (رب کعبہ کی قسم! میں شہید ہونے والا ہوں یہ بات آپ نے تین دفعہ فرمائی) سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ کو خداداد ایمانی فراست اور کچھ غیبی اشارات سے (جن کا ذکر بعض روایات میں کیا گیا ہے) یقین ہو گیا تھا کہ یہ فتنہ میری شہادت کا تکوینی انتظام ہے جس کی پیشن گوئی رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر فرمائی تھی، اس لئے آپ نے مظلومانہ شہید ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو جانے کا فیصلہ فرمایا اور مظلومانہ شہادت اور قربانی کی ایک لاثانی مثال قائم کر دی۔ اسی سلسلہ میں وہ حدیث ناظرین کرام عنقریب پڑھیں گے جس سے معلوم ہوگا کہ حضرت عثمان ؓ نے شہید ہونے کے لئے کس طرح تیاری کی تھی۔ حدیث میں حضرت عثمان ؓ کا جو خطاب ذکر فرمایا گیا ہے، اس کے آخر یہ واقعہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپؓ کے ساتھ حضرت ابو بکرصدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمانؓ مکہ کے قریب کے پہاڑ ثبیر پر ایک دن تشریف لے گئے تو پہاڑ میں ایک خاص قسم کی حرکت پیدا ہوئی تو حضور ﷺ نے زور سے قدم مبارک مارا اور فرمایا “اسْكُنْ ثَبِيرُ، فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ” (اے ثبیر ساکن ہو جا اس وقت تیرے اوپر اللہ کا ایک نبی ہے، اور ایک صدیق ہے اور دو شہید ہیں) ..... اسی طرح کا واقعہ مدینہ منورہ میں احد پہاڑ پر بھی پیش آیا، جو حضرت انسؓ کی روایت سے صحیح بخاری مین ذکر کیا گیا ہے حدیث کا متن یہ ہے۔

2044Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: «اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ» (رواه البخارى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایک دن) احد پہاڑ پر چڑھے اور ابو بکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ (بھی آپؓ کے ساتھ تھے) احد پہاڑ ان کی وجہ سے کانپنے لگا (اور اس میں حرکت پیدا ہو گئی) تو حضور ﷺ نے اپنا قدم مبارک مارا اور فرمایا، اے احد! ٹھہر جا ساکن ہو جا اس وقت تیرے اوپر اللہ کا ایک نبی ہے اور ایک صدیق ہے اور دو شہید ہیں ..... (صحیح بخاری) تشریح بلاشبہ پہاڑ میں حرکت پیدا ہو جانا حضور ﷺ کا معجزہ تھا اور حضرت عمرؓ و حضرت عثمانؓ کو شہید فرمانا یہ آپؓ کا دوسرا معجزہ تھا، حضرت عمر ؓ حضور ﷺ کی وفات کے قریباً بارہ ۱۲ سال بعد شہید ہوئے اور حضرت عثمانؓ قریباً چوبیس ۲۴ سال بعد۔ بلاشبہ ان دونوں حضرات کے شہید ہونے کی اطلاع آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی وحی سے ہی ملی تھی۔

2045Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا عُثْمَانُ إِنَّهُ لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلاَ تَخْلَعْهُ لَهُمْ. (رواه الترمذى وابن ماجه)

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن) عثمانؓ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا اے عثمان! امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو ایک خاص قمیص پہنائے گا تو اگر لوگ اس قمیص کو تم سے اترواناچاہیں تو ان کے کہنے سے تم اس کو نہ اتارنا۔ (جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ) تشریح شارحین حدیث کا اتفاق ہے کہ حضور ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہی تھا کہ اے عثمان اللہ تعالیٰ تم کو خلافت کا خلعت عطا فرمائے گا اور پہنائے گا تو اگر لوگ تم سے اس خلعت کو اتروانا چاہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے عطا فرمائے ہوئے منصب خلافت سے دستبردار ہو جانے کا مطالبہ کریں تو اس کو نہ ماننا۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ ہدایت و وصیت جامع ترمذی ہی میں خود حضرت عثمان ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے روایت کا متن یہ ہے۔

2046Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ أَبِي سَهْلَةَ، قَالَ: قَالَ لِىْ عُثْمَانُ يَوْمَ الدَّارِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ. (رواه الترمذى)

ابو سہلہ سے روایت ہے کہ جس دن حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کیا گیا اور وہ شہید کئے گئے اسی دن حضرت عثمانؓ نے مجھ کو بتلایا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک خاص وصیت فرمائی تھی، میں نے صبر کے ساتھ اس وصیت پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ (جامع ترمذی) تشریح یہ ابو سہلہ حضرت عثمان ؓ کے آزاد کردہ غلام تھے وہ محاصرہ کے وقت حضرت عثمانؓ کے پاس تھے اور دوسرے ہمدردوں اور وفادار رفیقوں کے ساتھ وہ بھی چاہتے تھے کہ باغیوں کے خلاف طاقت استعمال کی جائے، غالباً یہی بات انہوں نے حضڑت عثمانؓ کی خدمت میں عرض کی تھی، جس کے جواب میں حضرت عثمانؓ نے حضور ﷺ کی اس ہدایت اور وصیت کا حوالہ دیا، جو حضرت عائشہ کی مندرجہ بالا حدیث میں ذکر کی جا چکی ہے۔ یہی رسول اللہ ﷺ کی وہ خاص ہدایت اور وصیت تھی جس کی تعمیل کرتے ہوئے حضرت عثمان ؓ باغیوں بلوائیوں کے مطالبہ پر خلافت سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہ ہوئے اور اس کے مقابلہ میں مظلومیت کے ساتھ شہید ہو جانے کا فیصلہ فرمایا جس کی پیشن گوئی کوئی رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر بار بار فرمائی تھی۔

2047Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فِتْنَةً، فَقَالَ: يُقْتَلُ هَذَا فِيهَا مَظْلُومًا يَعْنِىْ عُثْمَانَ. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن اپنے خطاب میں) ایک عظیم فتنہ کا ذکر فرمایا، اور عثمانؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرایا کہ یہ بندہ اس فتنہ میں مظلومیت کے ساتھ شہید ہو گا۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب واضح ہے یہ ارشاد بھی بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کے معجزات میں سے ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے چوبیس سال بعد حضرت عثمانؓ کے خلاف جو فتنہ برپا ہونے والا تھا اس فتنہ کی اور اس فتنہ کی اور اس فتنہ میں ان کی مظلومانہ شہادت کی خبر آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو دے دی تھی، ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کو اس کی اطلاع اللہ تعالیٰ کی وحی سے ہی ہوئی تھی۔

2048Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ مُسْلِمٍ بْنِ سَعِيدٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، إِنَّ عُثْمَانَ أَعْتَقَ عِشْرِينَ عَبْدًا وَدَعَا بِسَرَاوِيلَ فَشَدَّهَا عَلَيْهِ، وَلَمْ يَلْبَسْهَا فِي جَاهِلِيَّةٍ، وَلا إِسْلامٍ وَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْبَارِحَةَ فِي الْمَنَامِ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَإِنَّهُمْ قَالُوا لِي: «اصْبِرْ فَإِنَّكَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا الْقَابِلَةَ، فَدَعَا بِمُصْحَفٍ فَنَشَرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقُتِلَ، وَهُوَ بَيْنَ يَدَيْهِ» (رواه ابن احمد والموصلى)

حضرت عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام مسلم ابن سعید سے روایت ہے کہ (جس دن حضرت عثمانؓ شہید کئے گئے اس دن) انہوں نے بیس غلام آزاد کئے اور سراویل (پاجامہ) منگوایا (اور پہنا) اور اس کو بہت مضبوط باندھا اور اس سے پہلے کبھی نہ زمانہ جاہلیت میں (یعنی اسلام لانے سے پہلے) پہنا تھا اور نہ اسلام لانے کے بعد کبھی پہنا تھا اور فرمایا کہ میں نے گذشتہ رات خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور آپ ﷺ کے ساتھ ابو بکرؓ و عمرؓ کو بھی، ان حضرات نے مجھ سے فرمایا کہ عثمان! صبر پر قائم رہو تم کل ہمارے پاس روزہ افطار کرو گے۔ اس کے بعد آپؓ نے مصحف (قرآن مجید) منگوایا اور اس کو سامنے رکھ کر کھولا (اور تلاوت شروع کر دی) پھر آپؓ اسی حال میں شہید کئے گئے کہ مصحف آپ کے سامنے تھا۔ (مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ، موصلی) تشریح جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو نور قلب یعنی ایمانی فراست سے اور بعض غیبی اشارات سے یقین ہو گیا تھا کہ باغیوں بلوائیوں کا یہ فتنہ میری شہادت کا تکوینی انتظام ہے، جس کی پیشن گوئی رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر فرمائی تھی اور اس حدیث میں گذری ہوئی رات کے جس خواب کا ذکر ہے، جس میں ان کو رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صاحبین حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓ کی زیارت ہوئی اور انہوں نے فرمایا کہ عثمان! صبر اور تسلیم و رضا کے راستے پر قائم رہو، کل تم ہمارے پاس آ کر روزہ افطار کرو گے، یہ آخری غیبی تلقین تھی جس کے بعد حضرت عثمان ؓ نے اس شہادت کی تیاری شروع فرمائی۔ جس رات کو یہ خواب دیکھا پنجشنبہ اور جمعہ کی درمیانی رات تھی، اگلے دن جمعہ کو آپؓ نے روزہ رکھا مختلف انواع کے اعمال صالحہ کا خاص طور سے اہتمام فرمایا، بیس غلام اس دن آزاد کئے، اور جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے آپؓ نے پاجامہ منگوایا جو اس سے پہلے کبھی آپؓ نے نہیں پہنا تھا، عرب میں عام طور سے تہبند پہننے کا رواج تھا، آپؓ بھی ہمیشہ تہبند ہی پہنتے تھے، لیکن چونکہ آپؓ پر شرم و حیا کا غلبہ تھا، اس لئے آپؓ نے اس دن بجائے تہبند کے پاجامہ منگوا کر پہنا اور اس کو بہت مضبوط باندھا تا کہ شہادت اور موت کے بعد بھی جسم کا وہ حصہ نہ کھلے جس کا کھلنا شرم و حیا کے خلاف ہے پھر آپؓ نے قرآن شریف منگوایا اور اس کی تلاوت شروع فرما دی اسی حال میں بدبخت ظالم باغیوں نے آپ کو شہید کیا، روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ شہادت کے وقت سورہ بقرہ کا وہ حصہ تلاوت فرما رہے تھے جہاں پاروں کی تقسیم کے لحاظ سے پہلا پارہ الم ختم ہوتا ہے آپؓ کے خون کے قطرے اس آیت پر گرے: فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّـهُ ۚوَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (1) یہ منجانب اللہ اس کا اعلان ہے کہ ان بدبخت ظالموں سے اللہ تعالیٰ پورا انتقام لے گا۔ (یہاں اپنے معمول کے مطابق حضرت عثمان ؓ سے متعلق فضائل و مناقب کی چند حدیثوں کا عام فہم ترجمہ اور صرف بقدر ضرورت تشریح و توضیح کی گئی ہے جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے، واقعات کی تفصیل حضرت شاہ ولی اللہ کی “ازالة الخفا” اور سیر و تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے)۔ حضرت عثمان ؓ کے فضائل کے سلسلہ میں جو حدیثیں یہاں تک درج کی گئیں ان میں ان کی ان دو اہم فضیلتوں کا ذخر نہیں آیا جن میں وہ تمام صحابہ کرام اور خلفائے راشدین میں بھی ممتاز و منفرد ہیں۔ ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے یکے بعد دیگرے اپنے دو صاحبزادیوں کا ان کے ساتھ نکاح کیا اسی وجہ سے ان کو ذو النورین کہا جاتا ہے اور دوسری یہ کہ انہوں نے حضور ﷺ کی صاحبزادی اپنی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ کے ساتھ دو دفعہ ہجرت فرمائی، پہلی ہجرت مکہ مکرمہ سے حبشہ کی طرف اور دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی طرف۔ اب چند وہ حدیثیں نذر ناظرین کی جا رہی ہیں جن میں ان دونوں فضیلتوں کا ذکر ہے۔

2049Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَوَّلَ مَنْ هَاجَرَ مِنْ الْمُسْلِمِينَ إلَى الْحَبَشَةِ بِأَهْلِه عُثْمَانُ بْنِ عَفَّانَ فَخَرَجَ وَخَرَجَ مَعَه بِابْنِةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ و سَلَّم فَاحْتَبَسَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ و سَلَّم خَبَرُهُمَا فَجَعَل يَخْرُج يَتَوَكَّف الْأَخْبَارَ فَقَدِمْتْ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ فَسَأَلَهَا فَقَالَت: يَا أَبَا الْقَاسِمِ! رَأَيْتُهُمَا قَالَ عَلَى أَيِّ حَالٍ رَأَيْتُهُمَا؟ قَالَتْ : رَأَيْتهُ وَقَد حَمَلَهَا عَلَى حِمَارٍ مِنْ هَذِه لدَّبَّابَةِ وَهُوَ يَسُوقُ بِهَا يَمْشِيْ خَلْفَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ و سَلَّم صَحِبَهُمَا اللَّهُ إنْ كَانَ عُثْمَانُ بْنِ عَفَّانَ لأَوَّلَ مَنْ هَاجَرَ إلَى اللَّهِ بِأَهْلِهِ بَعْدَ لُوطٍ (رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِير و الْبَيْهَقِيّ و ابْنُ عَسَاكِرَ)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے جس شخص نے سب سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی وہ عثمان بن عفان تھے وہ اپنی اہلیہ محترمہ (رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ ؓ) کو ساتھ لے کر حبشہ کے لئے روانہ ہو گئے (پھر طویل مدت تک) رسول اللہ ﷺ کو ان دونوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی تو آپ ﷺ باہر تشریف لے جاتے اور خبر معلوم ہونے کا انتظار فرماتے اور کہیں سے خبر حاصل ہونے کی کوشش فرماتے تو قبیلہ قریش کی ایک خاتون ملک حبشہ سے (مکہ) آئی تو آپ ﷺ نے اس سے (ان کے بارے میں) دریافت فرمایا تو اس نے کہا اے ابو القاسم! میں نے ان دونوں کو دیکھا ہے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تم نے ان کو کس حال میں دیکھا تو خاتون نے کہا کہ میں نے عثمانؓ کو دیکھا انہوں نے (آپ ﷺ کی صاحبزادی) رقیہ کو آہستہ چلنے والے ایک حمار پر سوار کر دیا تھا اور وہ خود پیدل پیچھے چل رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان دونوں کے ساتھ رہے (اور ان کی حفاظت فرمائے) اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ (اللہ کے پیغمبر) لوط (علیہ السلام) کے بعد عثمان پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی بیوی کو ساتھ لے کر اللہ کی طرف ہجرت کی ہے۔(معجم کبیر طبرانی، بیہقی ابن عساکر) تشریح حدیث اور سیر و تاریخ کی روایات کی روشنی میں یہ معلوم و مسلم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پہلی زوجہ مطہرہ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کے بطن سے (باختلاف روایات دو یا تین صاحبزادوں کے علاوہ جو صغر سنی ہی میں وفات پا گئے) آپ کی چار صاحبزادیاں پیدا ہوئیں حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم، حضرت فاطمہ۔ (ؓن) حضرت زینب جو سب سے بڑی تھیں ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ نے ابو العاص بن الربیع سے کر دیا تھا اور وہ انہی کے ساتھ رہیں (یہاں ان کے بارے میں اس سے زیادہ لکھنا ضروری ہے) اور حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم کا رشتہ آپ ﷺ کےچچا ابو لہب کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے ہو گیا تھا، لیکن رخصتی کی نوبت نہیں آئی تھی کہ ابو لہب اور اس کی بیوی (ام جمیل) کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی دعوت توحید کی شدید ترین مخالفت اور آپ ﷺ کی ایذا رسانی پر سورہ لہب نازل ہوئی جس میں ان دونوں میاں بیوی کی بدانجامی کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان فرمایا گیا اس سے طیش میں آ کر ابو لہب اور اس کی بیوی نے اپنے دونوں بیٹوں عتبہ اور عتیبہ پر دباؤ ڈالا کہ رقیہ اور ام کلثوم سے تمہارا جو رشتہ ہو چکا ہے اس کو ختم کر دو، انہوں نے ایسا ہی کیا فی الحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انتظام تھا کہ یہ پاک صاحبزادیاں اس ناپاک گھرانے میں نہ جا سکیں۔ (ان ربی) اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں میں سے بڑی بہن رقیہ کا نکاح بحکم خداوندی (جیسا کہ دوسری روایات میں بصراحت موجود ہے) حضرت عثمان بن عفانؓ سے کر دیا جو دعوت اسلام کے ابتدائی دور ہی میں ایمان لا کر آنحضرت ﷺ کے خواص اصحاب و رفقاء میں شامل ہو چکے تھے ..... معلوم ہے کہ دعوت توحید کے ابتدائی دور میں مکہ کے شریر و ظالم اور سنگدل مشرکین کی طرف سے اسلام قبول کرنے والوں پر کیسے کیسے ظلم و ستم ڈھائے جاتے تھے۔ حضور ﷺ کو معلوم تھا کہ ملک حبشہ کا بادشاہ جو دین عیسوی کا پیرو ہے ایک نیک دل اور عادل حکمران ہے اور امید ہے کہ وہاں جو بھی جائے گا امن و امان سے رہ سکے گا تو آپ ﷺ نے ایمان لانے والے اپنے اصحاب کو مشورہ دیا کہ جو لوگ جا سکتے ہوں وہ فی الحال حبشہ چلے جائیں، چنانچہ چند حضرات نے اس کا ارادہ کر لیا، ان میں سب سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے حضرت عثمانؓ تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ کے مشورہ کے مطابق آپ ﷺ کی صاحبزادی اپنی زوجہ محترمہ حضرت رقیہؓ کو بھی ساتھ لے کر حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی ..... پھر جیسا کہ حضرت انسؓ کی اس روایت میں بیان کیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ کو مدت تک ان دونوں کے بارے میں کوئی خیر خبر نہیں ملی جس سے آپ ﷺ بہت فکر مند رہے اور کوشش فرماتے رہے کہ کسی طرح ان کا حال معلوم ہو ..... تو طویل عرصہ کے بعد قبیلہ قریش کی ایک عورت حبشہ سے مکہ مکرمہ آئی، آپ ﷺ نے اس سے حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ کے بارے میں دریافت فرمایا تو اس نے بتلایا کہ میں نے ان دونوں کو دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کسی حال میں دیکھا ہے اس نے کہا کہ میں نے ان کو اس حالت میں دیکھا ہے کہ عثمانؓ نے اپنی اہلیہ رقیہؓ کو آہستہ آہستہ چلنے والے ایک حمار پر (1) سوار کر دیا تھا اور خود پیدل اس کے پیچھے چل رہے تھے (راقم سطور کا گمان ہے کہ حمار کو آہستہ اس لئے چلایا جا رہا ہو گا کہ حضرت رقیہؓ کو تکلیف نہ ہو) ..... اس قریشی خاتون سے یہ حال معلوم کر کے آنحضرت ﷺ کو اطمینان ہوا اور آپ ﷺ نے دعا فرمائی کہ “صَحِبَهُمَا الله” (ان دونوں کو اللہ تعالیٰ کی معیت اور حفاظت نصیب رہے) اس کے ساتھ آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ کے پیغمبر لوط علیہ السلام کے بعد عثمان پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی رفیقہ حیات کو ساتھ لے کر اللہ کی طرف یعنی اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہجرت کی، اپنا وطن اپنا گھر بار اور اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑا اور محض لوجہ اللہ جلا وطنی اختیار کی ..... اس زمانہ میں مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کرنا کتنا بڑا مجاہدہ تھا، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں یہ ذکر کر دینا بھی مناسب ہے کہ اسلام میں یہ پہلی ہجرت تھی جس کا اس حدیث میں ذکر ہے، اس قافلہ میں چند ہی حضرات تھے، اس کے بعد ایک بڑے قافلہ نے بھی مکہ سے حبشہ کو ہجرت کی۔ ان سب حضرات کا طویل مدت تک حبشہ میں قیام رہا، حضرت عثمانؓ چند برس وہاں قیام کے بعد مکہ مکرمہ واپس آئے، ایسے وقت پہنچے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ ہجرت فرما چکے تھے تو حضرت عثمانؓ نے بھی اپنی زوجہ مطہرہ حضرت رقیہؓ اور ایک صاحبزادے (عبداللہ کو ساتھ لے کر جو حبشہ میں پیدا ہوئے تھے) مکہ مکرمہ سے مدینہ کو ہجرت کی اس طرح وہ صاحب الهجرتين ہیں اور حضرات خلفاء راشدین میں بھی یہ فضیلت انہی کو حاصل ہے۔ ؓ وارضاہ۔ مدینہ منورہ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر پیش آیا انہی دنوں حضرت رقیہؓ بیمار ہو گئیں، جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ بدر کے لئے روانہ ہونے لگے تو حضرت عثمانؓ نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ جانا چاہا، حضور ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم رقیہؓ کی تیمارداری کے لئے یہیں رہو ہمارے ساتھ نہ چلو، اللہ تعالیٰ تم کو وہی اجر عطا فرمائے گا جو اس غزوہ کے مجاہدین کو عطا فرمایا جائے گا اور غنیمت میں تمہارا وہی حصہ ہو گا جو غزوہ میں شریک ہونے والے مجاہدین کا ہو گا ...... حضرت عثمانؓ حضور ﷺ کے اس حکم کی وجہ سے غزوہ بدر کے لئے نہیں جا سکے، حضرت رقیہؓ کی تیمارداری میں مصروف رہے ...... لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قضا و قدر کا فیصلہ کہ وہ صحت یاب نہ ہو سکیں حضور ﷺ کی مدینہ واپسی سے پہلے ہی وفات پا گئیں واپسی پر حض ﷺ ر ﷺ کو علم ہوا تو رقیہؓ جیسی لخت جگر کی وفات کا جو صدمہ ہونا چاہئے تھا وہ ہوا اور حضرت عثمانؓ کا جو حال ہوا وہ آئندہ درج ہونے والی حدیث سے معلوم ہو گا۔

2050Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَهُو مَغْمُوم لَهْفَانٌ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : مَا شَأْنُكَ يَا عُثْمَانُ؟ قَال : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولُ اللَّه وَأُمِّي ! وَهَلْ دَخَلَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ مَا دَخَلَ عَلَيَّ ، تُوُفِّيَت بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي رَحِمَهَا اللَّه وَانْقَطَع الظَّهْرُ وَذَهَبَ الصِّهْرُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَك إلَى آخِرَ الْأَبَدِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : أَتَقُول ذَالِكَ يَا عُثْمَانُ ؟ قَالَ : إِيْ وَاَللَّهِ ! أَقُولُهُ يَا رَسُولُ اللَّهِ! فَبَيْنَمَا هُو يُحاوِرُه إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ : هَذَا جِبْرِيلُ يَا عُثْمَانُ! يَأْمُرُنِيْ عَنْ أَمْرِ اللَّهُ أَنْ أُزَوِّجَك أُخْتَهَا أُمِّ كُلْثُومٍ عَلَى مِثْل صِدَاقِهَا وَعَلَى مِثْل عِشْرَتَهَا فَزَوَّجَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إيَّاهَا . (رواه ابن عساكر)

حضرت سعید بن مسیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عثمانؓ بن عفان سے ملے اور وہ اس وقت بہت ہی غمزدہ اور سخت رنجیدہ تھے تو رسول اللہ ﷺ نے (ان کا یہ حال دیکھ کر) فرمایا عثمان تمہارا یہ کیا حال ہے؟ انہوں نے عرض کیا اے رسول خدا! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں کیا کسی شخص پر بھی ایسی مصیبت آئی ہے جو مجھ پر آئی ہے، آپ ﷺ کی صاحبزادی جو میرے ساتھ تھیں (یعنی رقیہ ؓ) وہ وفات پا گئیں اللہ ان پر رحمت فرمائے (اس صدمہ سے) میری کمر ٹوٹ گئی ہے اور آپ ﷺ سے دامادی کے رشتہ کا جو شرف مجھے نصیب تھا اب وہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا (اور میں اس عظیم نعمت اور سعادت سے محروم ہو گیا) تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ عثمان! کیا تم ایسا ہی کہتے ہو (اور تمہیں اسی کا صدمہ اور رنج ہے؟) حضرت عثمانؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں قسم کے ساتھ وہی عرض کرتا ہوں جو میں نے عرض کیا ہے (میرا یہی حال اور یہی احساس ہے) اسی درمیان کے آپ ﷺ عثمانؓ سے یہ گفتگو فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے عثمان! یہ جبرئیل امین ہیں یہ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچا رہے ہیں کہ میں اپنی بیٹی مرحومہ رقیہ کی بہن ام کلثوم کا نکاح تم سے کر دوں اسی مہر پر جو رقیہ کا تھا اور اسی کے مثل معاشرت پر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے عثمانؓ کے ساتھ اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح کر دیا۔ (ابن عساکر) تشریح حدیث کا مضمون واضح ہے کسی وضاحت کا محتاج نہیں اور متعدد دوسری روایات سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے ..... اس حدیث کے بارے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس کے راوی سعید بن المسیب تابعی ہی ظاہر ہے کہ یہ حدیث ان کو کسی صحابی سے پہنچی ہو گی جن کا انہوں نے حوالہ نہیں دیا، ایسی حدیث کو محدثین کی اصطلاح میں مرسل کہا جاتا ہے۔ لیکن سعید بن المسیب ان جلیل القدر تابعین میں سے ہیں جن کی اس طرح کی مرسل روایات مستند اور قابل قبول ہیں اور جیسا کہ عرض کیا گیا دوسری متعدد روایات سے اس حدیث کے مضمون کی تائید ہوتی ہے۔

2051Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أُزَوِّجَ كَرِيمَتَيَّ مِنْ عُثْمَانَ. (رواه ابن عدى والدار قطنى وابن عساكر)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے مجھے بذریعہ وحی حکم دیا کہ میں اپنے دونوں عزیز بیٹیوں کا نکاح عثمان سے کروں۔ (ابن عدی، دار قطنی، ابن عساکر) تشریح اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کے ساتھ پہلے اپنی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کا نکاح بھی اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے کیا تھا اور ہجرت کے دوسرے سال ان کی وفات کے بعد دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثومؓ کا نکاح بھی آپ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کے ساتھ وحی کے ذریعہ ملنے والے خداوندی حکم سے ہی کیا۔

2052Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ عِصْمَةَ بْنِ مَالِكٍ الْخِطْمِىِّ قَالَ: لَمَّا مَاتَتْ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ عُثْمَانَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زَوِّجُوا عُثْمَانَ لَو كَانَ لِي ثَالِثَةً لَزَوَّجْتُهُ، وَمَا زَوَّجْتُهُ إِلَّا بِالْوَحْيِ مِنَ اللهِ» (رواه ابن عساكر)

حضرت عصمۃ بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی ان صاحبزادی کا انتقال ہو گیا جو حضرت عثمانؓ کے نکاح میں تھیں (یعنی ام کلثومؓ) تو آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ ..... آپ لوگ عثمانؓ کا نکاح کر دیں، اگر میری کوئی تیسری بیٹی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی عثمان ہی سے کر دیتا اور میں نے اپنی بیٹیوں کا نکاح عثمان سے وحی کے ذریعہ ملے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے کیا تھا۔ (ابن عساکر) تشریح آنحضرت ﷺ کی صاحبزادی حضرت ام کلثومؓ جن کا نکاح آپ ﷺ نے ان سے بڑی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کی ۲؁ھ میں انتقال فرما جانے کے بعد حضرت عثمانؓ سے کر دیا تھا، وہ بھی ۹؁ھ میں وفات پا گئیں، تو آپ ﷺ نے اپنے اصحابِ کرام سے فرمایا کہ آپ لوگوں میں سے کوئی اپنی بیٹی یا اپنے زیر ولایت بہن یا کسی عزیزہ کا عثمانؓ سے نکاح کر دیں، اگر میری کوئی تیسری غیر شادی شدہ بیٹی ہوتی تو مین اس کا نکاح بھی عثمان ہی سے کر دیتا اس کے لئے آپ لوگوں سے نہ کہتا ..... ساتھ ہی آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے اپنی بیٹیوں کا نکاح جو عثمان کے ساتھ کیا تھا تو وہ محض اپنی صوابدید اور اپنی رائے سے نہیں بلکہ وحی کے ذریعہ ملے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا تھا۔ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک ﷺ کے نزدیک حضرت عثمانؓ کا جو مقام و مرتبہ معلوم ہوتا ہے وہ ظاہر ہے۔ ؓ وارضاہ۔

2053Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ عُثْمَانَ قَال : قَالَ لِيْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَوْت ابْنَتَه الْأَخِيرَة يَا عُثْمَان ! لَوْ أَنَّ عِنْدِي عَشْرًا لَزَوَّجْتُكَهُنَّ وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ فَإِنّي عَنْك رَاضٍ . (رواه الطبرانى فى الاوسط والدار قطنى في الافراد وابن عساكر)

حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی دوسری صاحبزادی (ام کلثوم) کا انتقال ہو گیا ..... تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے عثمان! اگر میری دس بیٹیاں ہوتیں تو میں ان میں سے ایک کے بعد ایک کا (سب کا) تم سے نکاح کر دیتا، کیوں کہ میں تم سے بہت راضی اور خوش ہوں۔ (معجم اوسط طبرانی، افراد دار قطنی، ابن عساکر) تشریح حدیث کا مضمون واضح ہے، اس سے پہلی عصمہ بن مالک الخطمی کی روایت کی ہوئی حدیث سے معلوم ہوا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے صاحبزادی کلثومؓ کے انتقال کے بعد حاضرین مجلس یعنی صحابہ کرامؓ سے فرمایا تھا کہ “اگر میری تیسری کوئی بیٹی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی عثمانؓ ہی سے کر دیتا” ...... اور اس حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے خود حضرت عثمانؓ سے فرمایا کہ “اگر میری دس بیٹیاں ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے ان کا نکاح تمہارے ساتھ ہی کر دیتا” ...... ظاہر ہے کہ ان دونوں باتوں میں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں ہے۔ پہلی بات آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمائی تھی اور اس حدیث میں جو فرمایا گیا ہے اس کے مخاطب خود حضرت عثمانؓ تھے اور مقصد یہ تھا کہ ان کے ساتھ اپنی رضا اور قلبی تعلق کا اظہار فرمائیں۔ حضرت ام کلثوم کی وفات پر حضرت عثمانؓ کو جو غیر معمولی صدمہ تھا، اس کی تعزیت اور تسلی و تسکین کا یہ بہترین طریقہ تھا جو آنحضرت ﷺ کی شان کریمی اور خلق عظیم کے عین مطابق تھا۔ صلی اللہ علیہ وبارک وسلم۔ بعض بعض روایات میں اس سے زیادہ عدد بھی آیا ہے۔ اس میں بھی کوئی اختلاف اور تضاد نہیں، مقصد وہی ہے جو عرض کیا گیا۔ حضرت عثمان ذو النورین ؓ کے فضائل کے اس سلسلہ کو امیر المومنین حضرت علی ؓ کے ایک ارشاد پر ختم کیا جاتا ہے۔

2054Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَلِيٍّ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ! إنِّي ارْجِعْ إلَى الْمَدِينَةِ وَأَنَّهُمْ سَائِلِيْ عَنْ عُثْمَانَ فَمَاذَا أَقُولُ لَهُمْ ؟ قَالَ : أَخْبِرْهُمْ أَنَّ عُثْمَانَ كَانَ مِنْ الَّذِينَ {آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ}. (رواه ابن مردويه وابن عساكر).

ثابت بن عبید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت علیؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں مدینہ جانے والا ہوں، وہاں لوگ مجھ سے عثمانؓ کے بارے میں سوالات کریں گے تو (مجھے بتلا دیجئے) کہ میں ان کو کیا جواب دوں، تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو جواب دیجیو اور بتلائیو کہ عثمانؓ اللہ کے ان بندوں میں سے تھے (جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے) {الَّذِيْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} وہ بندے جو ایمان لائے اور اعمال صاسلحہ کئے، پھر انہوں نے تقویٰ اور کامل ایمان والی زندگی گذاری پھر تقویٰ اور احسان کا مقام ان کو حاصل ہوا اور اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں سے محبت و پیار فرماتا ہے جو مقام احسان پر فائز ہوں۔ (ابن مردویہ ابن عساکر) تشریح معلوم ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ، نے کوفہ کو دارالحکومت بنا لیا تھا جو صاحب مدینہ جانے والے تھے اور انہوں نے حضرت سے وہ سوال کیا تھا جو روایت میں ذکر کیا گیا ہے، بظاہر وہ حضرت علیؓ کے خواص اہل تعلق میں سے تھے ان کا مقصد یہ تھا کہ جب میں مدینہ پہنچوں گا تو لوگ مجھ سے آپ کے تعلق سے عثمانؓ کے بارے میں سوالات کریں گے تو میں ان کو کیا جواب دوں؟ (ملحوظ رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت عثمانؓ کی شخصیت متنازعہ ہو گئی تھی اور وہ شہید کر دئیے گئے تھے اور ان کو شہید کرنے والے باغی حضرت علیؓ کی محبت کا دم بھرتے تھے) تو حضرت علیؓ نے ان کو وہ جواب دیا جو روایت میں میں ذکر کیا گیا ہے ..... یہ دراصل سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۹۳ کا اقتباس ہے، آیت کا مطلب ہے کہ جو بندے ایمان، اعمال صالحہ، تقویٰ اور احسان والی زندگی گذاریں، ان سے کسی قصور کے بارے میں آخرت میں پوچھ گچھ نہ ہو گی اور وہ اللہ کے محبوب اور پیارے ہیں، عثمانؓ اللہ کے انہی محبوب و مقبول بندوں میں سے تھے۔ ملحوظ رہے کہ یہاں جو احسان کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ ایک خاص دینی اصطلاح ہے خود رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث مٰں اس کی تشریح یہ فرمائی ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی اور اس کے احکام کی فرمانبرداری اس طرح کرے کہ گویا اللہ تعالیٰ اس کی نگاہ کے سامنے ہے ..... ظاہر ہے کہ یہ ایمان و ایقان کا اعلیٰ درجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سطروں کے لکھنے والے اور پڑھنے والے اپنے بندوں کو بھی اس احسانی کیفیت کا کوئی ذرہ نصیب فرما دے۔

2055Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ سَهْلِ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللهُ عَلَى يَدَيْهِ، يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ» فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ يَرْجُونَ أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا: هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، قَالَ فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ، فَأُتِيَ بِهِ، فَبَصَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ، حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا؟ قَالَ: «انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ، حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللهِ فِيهِ، فَوَاللهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن ارشاد فرمایا کہ: کل میں یہ پرچم ایسے ایک شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ خیبر کو فتح کرا دے گا، وہ اللہ اور اس کے رسول کا محب اور محبوب ہو گا ..... پس جب صبح ہوئی تو لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ سب امید اور تمنا رکھتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ پرچم ان کو عطا فرما دیں گے ..... تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ “علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟” تو لوگوں نے عرض کیا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے (اس لئے وہ اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں) ..... آپ نے ارشاد فرمایا کہ ان کو بلانے کے لئے کسی کو بھیجو .... چنانچہ ان کو بلا کر لایا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی دونوں آنکھوں میں اپنا آب دہن (تھوک) ڈال دیا تو وہ ایسے اچھے ہو گئے کہ گویا ان کو کوئی تکلیف تھی ہی نہیں .....ن اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے پرچم ان کو عنایت فرمایا (یہ اس کا نشان تھا کہ آج لشکر کے سپہ سالار اور قائد یہ ہوں گے) تو حضرت علیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا میں خیبر والوں سے اس وقت تک جنگ کروں کہ وہ ہماری طرح ہو جائیں (یعنی اسلام قبول کر لیں) تو آپ نے فرمایا کہ تم آہستہ روی کے ساتھ جاؤ، یہاں تک کہ ان کی زمین اور ان کے علاقہ میں پہنچ جاؤ، پھر ان کو اسلام کی دعوت دو، اور ان کو بتلا دو کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق واجب ہو گا .... خدا کی قسم! یہ بات کہ تمہارے ذریعہ ان میں سے ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نصیب ہو جائے تمہارے حق میں اس سے بہتر ہے کہ مال غنیمت میں سرخ اونٹ تم کو ملیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح خیبر مدینہ سے ایک سو چوراسی کلو میٹر (قریباً سوا سو میل) شمال میں واقع ہے، یہ یہودیوں کی بستی تھی، یہ وہ یہودی تھے جو کسی زمانے میں شام سے نکالے گئے اور یہاں آ کر بس گئے تھے، یہ سب دولت مند اور سرمایہ دار تھے، یہاں انہوں نے بہت مضبوط قلعے بنا لئے تھے اور اس وقت کے معیار کے مطابق جن کی ساز و سامان کا اچھا ذخیرہ بھی رکھتے تھے، یہ علاقہ سرسبز و شاداب اور بہت زرخیز تھا۔ مدینہ منورہ کے قرب و جوار کے جن یہودیوں کو ان کی غداریوں اور شراتوں کی وجہ سے نکالا اور جلا وطنم کیا گیا تھا وہ بھی یہیں آ کر بس گئے تھے، یہ مسلمانوں کے خلاف سخت کینہ رکھتے اور سازشیں کرتے رہتے تھے۔ مدینہ منورہ جو رسول خدا ﷺ کا دار الہجرۃ اور مسلمانوں کا دار الحکومت تھا، اس کے لئے خیبر کے یہ یہودی ایک مستقل خطرہ تھے۔ ۶؁ھ کے اواخر میں رسول اللہ ﷺ حدیبیہ سے واپس آ کر اور قریش مکہ سے مصالحبت اور دس سال کے لئے نا جنگ معاہدہ کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے، ذی الحجہ کا قریبا پورا مہینہ مدینہ ہی میں گذرا، محرم ۷؁ھ میں آپ نے خیبر کی خطرناک دشمن طاقت سے تحفظ اور مامون رہنے کے لئے صرف قریباً ڈیڑھ ہزار صحابہ کرامؓ کا لشکر ساتھ لے کر خیبر کی طرف کوچ فرمایا، خیبر کے قریب پہنچ کر جس جگہ کو لشکر کے قیام کے لئے مناسب سمجھا وہاں قیام فرمایا، حسب معمول آپ ﷺ نے خیبر کے یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی اور ساتھ ہی یہ کہ اگر وہ فی الحال اسلام قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔ تو سیاسی ماتحتی قبول کر کے جزیہ ادا کیا کریں اور اگر ان میں سے کوئی بات قبول نہ کی گئی تو ہم اللہ کے حکم کے مطابق جنگ کریں گے۔ یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کریں یا جزیہ دینا منظور کریں۔ خیبر کے یہودی سرداروں نے کسی بات کے بھی قبول کرنے سے متکبرانہ انداز میں انکار کر دیا اور جنگ لئے تیار ہو گئے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے انہوں نے متعدد قلعے بنا لئے تھے، جن میں سامان جنگ کے علاوہ کھانے پینے کی چیزوں کا بھی وافر ذخیرہ تھا، وہ مطمئن تھے کہ مسلمانوں کا لشکر کسی طرح بھی ان پر فتح نہ حاصل کر سکے گا۔ بہرحال جنگ شروع ہوئی اور کئی دن تک جاری رہی مسلمانوں نے یکے بعد دیگرے ان کے کئی قلعوں پر قبضہ کر لیا، لیکن ایک قلعہ جو بہت مضبوط اور مستحکم تھا اور اس کی حفاظت اور دفاع کا بھی غیر معمولی انتظام کیا گیا تھا بار بار کے حملوں کے باوجود وہ فتح نہ ہو سکا، تو رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ارشاد فرمایا کہ کل میں یہ پرچم اور جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول کا محب اور محبوب ہو گا اور اللہ اس کے ہاتھ پر یعنی اس کے ذریعہ فتح مکمل کرا دے گا اور یہ آخری قلعہ بھی فتح ہو جائے گا اور اس طرح جنگ کا خاتمہ بالخیر ہو جائے گا پھر یہاں کے یہودی یا تو اسلام قبول کر لیں گے یا سیاسی ماتحتی قبول کر کے جزیہ دینا منظور کر لیں گے ..... حضور نے اس شخص کو نامزد نہیں فرمایا جس کو آئندہ کل پرچم دینے کا آپ کا ارادہ تھا بس یہ فرمایا کہ وہ اللہ ااور اس کے رسول کا محب اور محبوب ہو گا اور اللہ اس کے ذریعہ یہ آخری قلعہ بھی فتح کرا دے گا، بلاشبہ یہ بڑی فضیلت اور سعادت تھی اور بہت سے حضرات اس کے متمننی اور امیدوار تھے کہ کل پرچم ان کو عطا فرمایا جائے ..... حضرت علی مرتضیٰؓ اس وقت وہاں موجود نہں تھے ..... جب اگلی صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا علی بن ابی طالب کدھر ہیں؟ لوگوں نے بتلایا ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے اس لئے وہ اس وقت یہاں حاضر نہیں ہو سکے ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا کسی کو بھیج کر ان کو بلواؤ، چنانچہ وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس ھال میں کہ ان کی دونوں آنکھوں میں تکلیف تھی، حضور ﷺ نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈال دیا فورا تکلیف جاتی رہی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے آنکھ میں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں، اس کے بعد آپ نے پرچم (جھنڈا) ان کو عطا فرمایا، یہ اس بات کی علامت تھی کہ آج لشکر کی قیادت یہ کریں گے ..... حضرت علی مرتضیٰ نے جھنڈا ہاتھ میں لے کر حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا میں ان یہودیوں سے اس وقت تک نگ کروں کہ وہ اسلام قبول کر کے ہمارے طرح ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ ایک آدمی کو بھی ہدایت عطا فرما دے اور اس کو ایمان کی دولت حاصل ہو جائے تو یہ تمہارے واسطے اس سے بہتر ہو گا کہ تم کو غنیمت میں بہت سے سرخ اونٹ مل جائیں (اس زمانے میں سرخ اونٹ عربوں کے لئے عزیز ترین دولت تھی) حضور ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ ہماری جنگ کا مقصد دشمن پر فتح حاصل کر کے مال غنیمت سمیٹنا نہیں ہے، اصل مقصد اور نصب العین بندگانِ خداس کی ہدایت ہے، جہاد اور قتال فی سبیل اللہ میں بس یہی نصب العین پیش نظر رکھنا چاہئے اور اسی کے تقاضے کے مطابق رویہ متعین کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ صحیحین کی مندرجہ بالا حدیث کے راوی حضرت سہل بن سعد ؓ نے اس روایت میں حاضرین مجلس اور اپنے مخاطبین کی خصوصیت یا کسی دوسرے وقتی تقاضے سے جنگ خیبر کے آخری مرحلہ کا صرف اتنا ہی واقعہ بیان کیا ہے جس سے حضرت لی مرتضیٰؓ کی یہ خاص فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے محب اور محبوب ہیں ..... یہ بھی بیان نہیں فرمایا کہ جیسا کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ حضرت علی مرتضیٰ ہی کے ہاتھ پر یہودیوں کا آخری قلعہ بھی فتح ہوا اور خیبر کی فتح مکمل ہوئی۔ یہاں راقم سطور نے جنگ خیبر کے سلسلہ میں اتنا ہی لکھنا مناسب سمجھا جس سے اس کا پس منظر اور کچھ اجمالی حال بھی معلوم ہو جائے، اس غزوہ خیبر سے متعلق تفصیلات سیرت و تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس حدیث میں ضمنی طور پر حضور ﷺ کے دو معجزے بھی معلوم ہوئے ایک یہ کہ حضرت علی مرتضیٰؓ کی دونوں آنکھوں میں سخت تکلیف تھی حضور ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن ڈالا فوراً تکلیف دور ہو گئی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے کوئی تکلیف تھی ہی نہیں ..... دوسرا معجزہ یہ معلوم ہوا کہ آئندہ کل فتح مکمل ہو جانے کے بارے میں حضور ﷺ نے جو پیشن گوئی فرمائی تھی وہ پوری ہوئی۔ حضرت سہل بن سعد ؓ کی روایت کی ہوئی اس حدیث کا خاص سبق یہ ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب ؓ اللہ اور اس کے رسول کے محب و محبوب ہیں اور الحمدللہ ہم اہل السنۃ والجماعۃ اور امت کے سواد اعظم کا یہی عقیدہ ہے۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کے سوا کسی دوسرے کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا محب و محبوب ہونے کی سعادت نصیب نہ ہو اور اللہ و رسول پر ایمان رکھنے والا ہر مومن صادق اپنے ایمانی درجہ کے مطابق اللہ اور اس کے رسول کا محب و محبوب ہے، سورہ آل عمران کی آیت قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ بھی اس کی دلیل اور شاہد عدل ہے۔

2056Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ زِرٍّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِي الله عَنهُ : وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، إِنَّهُ لَعَهِدَ النَّبِيُّ الْأُمِّيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ: «أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ» (رواه مسلم)

زر بن حبیش سے روایت ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جو دانے کو پھاڑ کر پودا نکالتا ہے اور جس نے جانداروں کو پیدا فرمایا، نبی اُمّی ﷺ نے خصوصیت سے مجھ سے فرمایا تھا کہ مجھ سے وہی بندہ محبت کرتے گا جو مومن صادق ہو گا اور وہی شخص مجھ سے بغض و عداوت رکھے گا جو منافق ہو گا۔ (صحیح مسلم) تشریح بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علی مرتضیٰ ؓ وارضاہ کو جن عظیم انعامات اور دینی فضائل سے نوازا، مثلاً یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر اسلام پر سب سے پہلے لبیک کہنے والوں میں ہیں، اور یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے حقیقی چچا زاد بھائی تھے اور وہ ان سے محبت فرماتے تھے اور یہ کہ آپ ﷺ نے صاحبزادی حضرت سیدہ فاطمہ زہرا ؓ کو ان کے نکاح میں دے کر دامادی کا شرف عطا فرمایا اور اکثر غزوات میں وہ حضور ﷺ کے ساتھ رہے اور بار بار میدان جہاد و قتال میں اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر کارہائے نمایاں انجام دئیے اور جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوا غزوہ خیبر میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشاد و عمل سے یہ ظاہر فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے محب اور محبوب ہیں .... الغرض ان اور ان جیسے ان کے دوسرے فضائل اور خداوندی انعامات کا یہ حق ہے کہ ہر مومن صادق ان سے محبت کرے اور ان سے بغض و کینہ رکھنے والوں کے متعلق سمجھا جائے کہ وہ ایمان کی حقیقت سے محروم اور نفاق کے مریض ہیں۔ البتہ یہ بات قابل لحاظ ہے کہ محبت سے مراد وہی محبت ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک معتبر اور شریعت کے حدود میں ہو، ورنہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے محبت کا دعویٰ کرنے والوں میں سب سے پہلا نمبر ان بدبختوں کا ہے، جنہوں نے ان کو خدا مانا، یا پھر ان بدنصیبوں کا ہے جن کا عقیدہ ہے کہ نبوت کے اصل مستحق حضرت علی مرتضیٰؓ تھے، اللہ نے جبرئیل کو انہیں کے پاس بھیجا تھا وہ غلطی سے محمد بن عبداللہ کے پاس پہنچ گئے، اسی طرح شیعوں کے اسماعیلیہ و نصیریہ وغیرہ فرقے جو اپنے اماموں کے بارے میں یہ مشرکانہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ خدا کا روپ ہیں اور خداوندی صفات و اختیارات ان کو حاصل ہیں۔ اسی طرھ وہ شیعہ اثنا عشریہ جو حضرت علی مرتضیٰ اور ان کی اولاد میں گیارہ شخصیتوں کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبیوں رسولوں کی طرح نامزد امام معصوم مفترض الطاعۃ، تمام انبیاي سابقین سے افضل کمالات میں ان سے فائق، صاحب وحی و کتاب و صاحب معجزات اور متصرف فی الکائنات ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں .... ظاہر ہے کہ یہ محبت ایسی ہی ہے جیسی محبت کا دعویٰ نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کرتے ہین، جس نے ان کو مشرک اور جہنمی بنا دیا ..... الغرض حضرت علی مرتضیٰ سے اس طرح کی محبت کرنے والے فرقے مشرک فی الالوہیت یا شرک فی النبوۃ ہیں، حضرت علی مرتضیٰ ؓ ان سے بری اور بیزار ہیں، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک کے نزدیک مقبول محبت وہی ہے جو حضرت علی مرتضیٰ اور ان کی اولاد بزرگان دین سے اہل السنہ والجماعت کو نصیب ہے۔ اس حدیث میں حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے بغض رکھنے والوں کو منافق فرمایا گیا ہے، اس کا خاص مصداق خوارج و نواصب ہیں، جنہوں نے حضرت علی مرتضیٰ ؓ پر قرآنی ہدایت سے انحراف کا بہتان لگایا اور ان کو دینی حیثیت سے گمراہ قرار دیا اور انہیں میں کے ایک بدبخت عبدالرحمن بن ملجم نے حضرت کو شہید بھی کیا۔ حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد خود صحابہ کرامؓ میں اختلافات پیدا ہوئے اور جمل وصفین کی جنگوں کی بھی نوبت آئی، یہ اختلافات کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے، صحابہ کرامؓ میں سے کوئی بھی حضرت علی مرتضیٰ ؓ کو دینی حیثیت سے گمراہ سمجھ کر ان سے بغض نہیں رکھتا تھا یہ اجتہادی اختلاف تھا اور ہر فریق نے دوسرے فریق کو مومن و مسلم ہونے کا اظہار و اعلان فرمایا اور بعد میں اس جنگ و قتال پر فریقین کو رنج و افسوس اور اس سب کے بعد سیدنا حضرت حسن ؓ کی مصالحت نے ثابت کر دیا کہ جو کچھ ہوا بغض و عداوت کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ اجتہادی اختلاف کی وجہ سے ہوا ..... رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسنؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا “ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ عَلَى يَدَيْهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ” (میرا یہ بیٹا عظیم المقام سردار ہے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے گرہوں میں صلح کرا دے گا) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں گروہ مسلمانوں کے تھے، کوئی گروہ بھی منافق نہیں تھا۔ آخر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صحیح مسلم شریف میں زر بن حبیش کی یہ حدیث ذکر کی گئی ہے اس سے پہلا متصلاً حضرت انسؓ، حضرت براء بن عازب، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مختلف سندوں سے حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ انصار سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے، اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔ حضرت براء بن عازب کی حدیث کے الفاظ صحیح مسلم میں یہ ہیں، حضور ﷺ نے انصار کے بارے میں ارشاد فرمایا: «لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللهُ» ترجمہ: انصار سے صرف وہی شخص محبت کرے گا جو مومن صادق ہو گا اور وہی شخص بغض رکھے گا جو منافق ہو گا، جو انصار سے محبت کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرمائے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ اللہ کا مبغوض ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر مختلف اصحاب کے بارے میں بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ان کی محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے ار بلاشبہ اس بارے میں حضرت علی مرتضیٰ ؓ کو خصوصیت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ اپنی، اپنے رسول پاک اور اپنے تمام محبین و محبوبین کی محبت ہم کو نصیب فرمائے۔

2057Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ سَعْدِ بن أَبِىْ وَقَاصٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ، فَاسْتَخْلَفَ عَلِيًّا، قَالَ: أَتُخَلِّفُنِي عَلَى الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ؟ قَالَ: «أَلاَ تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ، مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوئے تو آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو اپنا خلیفہ بنا کر مدینہ میں چھوڑ دیا تو انہوں نے عرض کیا، کیا آپ ﷺ مجھ کو بچوں اور عورتوں پر خلیفہ (اور نگراں) بنا کر چھوڑ رہے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا کیا تم اس بات پر راضی اور خوش نہیں ہو کہ تمہارا مرتبہ اور درجہ میری نسبت سے وہ ہو جو ہارون کا مرتبہ و درجہ موسیٰ کی نسبت سے تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح غزوہ تبوک اور اس کی غیر معمولی اہمیت کا ذکر حضرت عثمانؓ کے فضائل کے سلسلہ میں کیا جا چکا ہے، یہ حضور ﷺ کا آخری غزوہ تھا اور بعض پہلوؤں سے سب سے اہم غزوہ تھا جس میں روایات کے مطابق تیس ہزار صحابہ کرامؓ کا لشکر آپ ﷺ کے ساتھ تھا، مدینہ منورہ کے سب ہی اہل ایمان جو آپ ﷺ کے ساتھ جا سکتے تھے، لشکر میں شامل تھے، پس وہ منافقین جن کو ایمان کی حقیقت نصیب نہیں تھی جھوٹے بہانے کر کے لشکر میں شامل نہیں ہوئے تھے (مومنین صادقین میں سے بھی دو چار ایسے تھے ..... جو ساتھ چلنے کی نیت رکھنے کے باوجود ..... کسی وجہ سے ساتھ نہیں نہیں جا سکے تھے) ..... رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات، اور صاحبزادی سیدہ فاطمہ طاہرہؓ اور ان کے صاحبزادے اور صاحبزادیاں اور لشکر میں جانے والے سب ہی صحابہ کرامؓ کے اہل و عیال مدینہ ہی میں چھوڑ دئیے گئے تھے ..... چونکہ سفر دور دراز کا تھا، اندازہ تھا کہ واپسی طویل مدت میں ہو سکے گی، اس لئے آپ ﷺ نے ضروری سمجھا کہ اس مدت کے لئے کسی کو اپنا نائب اور قائم مقام بنا کر مدینہ میں چھوڑ دیا جائے تا کہ خدا نہ کردہ اگر کوئی خارجی یا داخلی فتنہ برپا ہو تو اس کی قیادت میں اس سے مدینہ میں رہ جانے والوں کی اور دین کی حفاظت کی کاروائی کی جا سکے ..... اس کے لئے آپؓ نے حضرت علیؓ کو زیادہ مناسب سمجھا اور ان کو حکم دیا کہ وہ آپؓ کے ساتھ نہ چلیں بلکہ مدینہ میں رہیں۔ روایات میں ہے کہ بعض بد باطن منافقین نے کہنا شروع کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے علیؓ کو اس لئے ساتھ نہیں لیا کہ ان کو اس کا اہل نہیں سمجھا، بس بچوں اور عورتوں کی نگرانی اور دیکھ بھال کے لئے مدینہ میں چھوڑ دیا ..... حضرت علی مرتضیٰ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا “أَتُخَلِّفُنِي عَلَى الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ”؟ (کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں پر خلیفہ اور نگراں بنا کر چھوڑے جا رہے ہیں؟) حضور ﷺ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا “کیا تم اس پر راضی اور خوش نہیں ہو کہ تمہارا مرتبہ مجھ سے وہ ہو جو ہارون کا موسیٰ سے تھا” بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہو گا۔ سورہ اعراف کی آیت نمبر ۱۴۲ میں یہ واقعہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو تورات عطا فرمانے کے لئے طور سینا پر طلب فرمایا (تا کہ وہاں چالیس دن تک گویا اعتکاف کریں اور عبادت و دعا و مناجات میں مشغول رہیں۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ نزول قرآن سے پہلے غار حرا میں رہے تھے) تو موسیٰ علیہ السلام نے جاتے وقت اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر اپنی قوم بنی اسرائیل کی اصلاح و تربیت اور فتنوں سے حفاظت کا ذمہ دار بنا کر قوم کے ساتھ چھوڑ دیا تھا ..... تو رسول اللہ ﷺ نے اس واقعہ کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے حضرت علیؓ کو جواب دیا کہ میں تم کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر اسی طرح مدینہ میں چھوڑ رہا ہوں جس طرح اللہ کے پیغمبر موسیٰ علیہ السلام طور سینا جاتے وقت اپنی عدم موجودگی کے زمانے تک کے لئے ہارون کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر قوم میں چھوڑ گئے تھے ..... بلا شبہ حضرت علیؓ کی یہ بڑی فضیلت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے زمانہ سفر کے لئے انہیں کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر مدینہ منورہ میں چھوڑا ..... اور واقعہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی قرابت قریبہ اور بعض دوسرے وجوہ سے بھی جن کی تفصیل کی ضرورت نہیں اس کام کے لئے حضرت علیؓ ہی زیادہ موزوں تھے (یہ بھی ملحوظ رہے کہ شیخین اور دوسرے تمام ہی اکابر صحابہؓ لشکر میں حضور ﷺ کے ساتھ جانے والوں میں تھے اور حضور ﷺ اہم معاملات میں مشورہ کے لئے بھی ان کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شیعہ علماء و مصنفین غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے اس عمل اور اس ارشاد کو اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خلافت کے سب سے زیادہ حق دار حضرت علیؓ ہی تھے اور آپ ﷺ نے ان کو اپنی زندگی میں خلیفہ بنا کر اپنے بعد کے لئے خلافت کا مسئلہ بھی طے فرما دیا تھا .... ظاہر ہے کہ اس دلیل کی رکاکت اور غیر معقولیت سمجھنے کے لئے کسی خاص درجہ کی عقل و فہم کی ضرورت نہیں ..... سفر وغیرہ کی محدود مدت کے لئے عارضی طور پر کسی کو اپنا نائب اور قائم مقام بنانے میں اور رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کے مستقل خلیفہ اور امت کی امامت عامہ میں جو فرق ہے اس کو ہر شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ پھر اگر ایسا ہوا ہوتا کہ حضرت موسیٰؑ کے بعد ان کے خلیفہ اور ان کی جگہ امت کے امام عام حضرت ہارونؑ ہوئے ہوتے تب تو یہ واقعہ کسی درجہ میں دلیل ہو سکتا تھا ..... لیکن معلوم و مسلم ہے کہ حضرت ہارونؑ حضرت موسیٰؑ کی زندگی ہی میں روایات کے مطابق حضرت موسیٰ کی وفات سے چالیس سال پہلے وفات پا گئے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے خلیفہ یوشع ہوئے۔ اس سلسلہ میں یہ بات بھی خاص طور سے قابل لحاظ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے غزوہ تبوک کو جاتے وقت حضرت علی مرتضیٰؑ کو تو اپنی جگہ گویا مدینہ کا امیر و حاکم اور خلیفہ بنایا تھا لیکن مسجد نبوی میں اپنی جگہ نماز کی امامت کے لئے عبداللہ ابن مکتومؓ کو مقرر فرمایا تھا ..... حالانکہ حضرت علیؓ ہر حیثیت سے ان سے افضل تھے ..... راقم سطور کے نزدیک حضور ﷺ نے یہ اسی لئے کیا تھا کہ غزوہ تبوک کے زمانہ کی حضرت علیؓ کی اس خلافت و نیابت کو حضور ﷺ کی مستقل خلافت اور امامت عامہ کی دلیل نہ بنایا جا سکے۔ واللہ اعلم۔

2058Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ. (رواه الترمذى)

حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: علی مجھ میں سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں اور وہ ہر ایمان والے کے ولی ہیں۔ (جامع ترمذی) تشریح صاحبِ مشکوٰۃ المصابیح نے جامع ترمذی کی اس روایت کا یہی آخری جز نقل کیا ہے جو رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے، امام ترمذی نے وہ پورا واقعہ بھی نقل کیا ہے جس سلسلہ میں حضور ﷺ نے حضرت علی مرتضیٰؓ کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا تھا۔ واقعہ کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی مرتضیٰؓ کو امیر بنا کر ان کی سرکردگی میں ایک لشکر کسی مہم پر روانہ فرمایا، اللہ تعالیٰ کی مدد سے مہم کامیاب ہوئی اور فتح حاصل ہوئی، لیکن لشکر میں شامل بعض لوگوں نے حضرت علی مرتضیٰؓ کے اس سلسلہ کے ایک عمل کو صحیح نہیں سمجھا اور واپس آ کر ان لوگوں نے اپنے خیال کے مطابق حضور ﷺ سے حضرت علیؓ کی شکایت کی آنحضرت ﷺ کو ان کی یہ بات سخت ناگوار ہوئی، کیوں کہ حضرت علی مرتضیٰؓ کے بارے میں ان کی شکایت صحیح نہیں تھی غلط فہمی پر منبی تھی، اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے شکایت کرنے والوں پر ناگواری ظاہر فرمائی، اور حضرت علی مرتضیٰؓ پر اپنے اعتماد اور خصوصی قرابت و محبت کے خاص تعلق کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا “إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ..... ” ہماری اردو زبان کے محاورہ میں اس کا حاصل یہ ہے کہ “علی میرے ہیں اورمیں علی کا ہوں” اور حضرت علی مرتضیٰؓ کے ساتھ اپنی محبت اور خصوصی قرب و تعلق کا اظہار انہیں الفاظ کے ساتھ حضور ﷺ نے مختلف مواقع جپر فرمایا ہے، جیسا کہ آئندہ درج ہونے والی حدیث سے بھی معلوم ہو گا۔ ملحوظ رہے کہ حضور ﷺ نے بعض مواقع پر دوسرے بعض صحابہؓ کے ساتھ بھی اپنے خصوصی تعلق اور قرب و محبت کا انہیں الفاظ میں اظہار فرمایا ہے، چنانچہ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ ایک غزوہ میں شہید ہو جانے والے ایک صحابی حضرت جلیبیبؓ کی لاش کے پاس کھڑے ہو کر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ “هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ” (1) (یعنی یہ جلیبیب مجھ میں سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں) ..... اسی طرح آپ نے ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے قبیلہ اشعریین کے ایک طرز عمل کا ذکر فرما کر کہ جب وہ جہاد کے سفروں میں جاتے ہیں یا مدینہ کے قیام ہی کے زمانہ میں کھانے پینے کا سامان ان میں سے کچھ لوگوں کے پاس کم ہو جاتا ہے تو جو کچھ جس کے پاس ہوتا ہے وہ سب ایک جگہ جمع کر لیتے ہیں اور آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں ان کے بارے میں ارشاد فرمایا “هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ” (یعنی یہ اشعریین مجھ میں سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں) ظاہر ہے جیسا کہ عرض کیا گیا آنحضرت ﷺ کی طرف سے یہ ان اشعریین کے سات خصوصی محبت اور قرب و تعلق کا اظہار ہے، اس حدیث کو بھی امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ (1) حدیث کا آخری جملہ ہے “وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ”...... ولی کے معنی دوست، مدد گار اور سرپرست کے ہیں، قرآن مجید میں بھی یہ لفظ مختلف مقامات پر ان میں سے کسی ایک معنی میں اساستعمال ہوا ہے۔ زیر تشریح اس حدیث میں بظاہر یہ لفظ دوست اور محبوب کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور حضور ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب و مدعا یہ ہے کہ ہر صاحب ایمان کو علیؓ کے ساتھ دوستی اور محبت ہی کا تعلق رکھنا چاہئے، میرے ساتھ ان کے خصوصی تعلق کا یہ بھی حق ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ پاک کی اور اپنے سب محبین اور محبوبین کی (جن میں بلا شبہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ کا بھی خاص مقام و مرتبہ ہے) محبت اس عاجز کو اور سب اہل ایمان کو نصیب فرمائے۔

2059Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ، وَلاَ يُؤَدِّي عَنِّي إِلاَّ أَنَا أَوْ عَلِيٌّ. (رواه الترمذى)

حضرت حبشی بن جنادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: علی مجھ میں سے ہیں اور میں علی میں سے ہوں اور میری طرف سے (یہ اہم پیغام) خود میں پہنچا سکتا ہوں یا علی۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب سمجھنے کے لئے وہ صورت حال پیش نظر رکھنی ضروری ہے جس میں حضور ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا ..... ۸؁ھ میں فتح مکہ اور وہاں اسلامی اقتدار قائم ہو جانے کے بعد اگلے سال سورہ براءۃ نازل ہوئی، جس میں مشرکین و کفار کے بارے میں خاص اور اہم احکام ہیں مثلاً یہ کہ جو معاہدہ ان کے ساتھ کیا گیا تھا ان کی شرارتوں کی وجہ سے وہ فسخ کر دیا گیا اور یہ کہ اس سال کے بعد کسی مشرک و کافر کو مسجد حرام میں داخلہ کی اجازت نہیں ہو گی وغیرہ وغیرہ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کو امیر حج بنا کر بھیجا اور یہ ذمہ داری بھی ان کے سپرد ہوئی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے حج کے موقع پر مختلف علاقوں سے آنے والے تمام کفار و مشرکین کو اللہ تعالیٰ کے وہ احکام پہنچا دیں جو سورہ براءۃ میں ان کے بارے میں نازل کئے گئے ہیں اور سورہ براءۃ کی وہ سب آیتیں بھی ان کو سنا دیں ..... صدیق اکبر ؓ حضور ﷺ کے حکم کی تعمیل میں حج کے لئے ساتھ جانے والوں کی جمیعت کے ساتھ روانہ ہو گئے۔ بعد میں حضور ﷺ کو خیال آیا کہ عربوں کا یہ قانون اور ان کی یہ روایت رہی ہے کہ اگر کوئی معاہدہ کیا جائے یا کسی معاہدہ کو فسخ کیا جائے یا اس طرح کا کوئی بھی اہم معاملہ ہو تو وہ قبیلہ کا سردار یا سربراہ بذات خود کرے یا اس کے نائب اور قائم مقام کی حیثیت سے نسبی رشتے سے اس کا کوئی قریب ترین عزیز۔ اس کے بغیر وہ قابل قبول نہ ہو گا ..... تو آپ ﷺ نے ضروری سمجھا کہ آپ کی طرف سے ان اہم اعلانات کے لئے علی مرتضیٰؓ کو بھیجا جائے جو آپ ﷺ کے حقیقی چچا زاد بھائی اور داماد بھی تھے چنانچہ آپ ﷺ نے ان کو اس کام کے لئے بعد میں مکہ معظمہ کے لئے روانہ فرمایا ..... اس موقعہ پر آپ ﷺ نے فرمایا تھا: “عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ، وَلاَ يُؤَدِّي عَنِّي إِلاَّ أَنَا أَوْ عَلِيٌّ” الغرض اس ارشاد کے ذریعہ آپ ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بعد حضرت علی مرتضیٰؓ کو اس کام کے لئے بھیجنے کی غرض و غایت بیان فرمائی۔ پھر جب حضرت علی مرتضیٰ جا کر صدیق اکبرؓ سے مل گئے تو انہوں نے دریافت فرمایا کہ آپؓ امیر کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں یا مامور کی حیثیت سے، تو حضرت علی مرتضیٰؓ نے فرمایا، میں امیر کی حیثیت سے نہیں مامور کی حیثیت سے آیا ہوں، امیر آپ ہی ہیں اور میں خاص طور سے اس غرض سے بھیجا گیا ہوں۔ یہ جو کچھ ہوا من جانب اللہ ہوا، اگر آنحضرت ﷺ شروع ہی میں حضرت علی مرتضیٰؓ کو امیر حج کی حیثیت سے روانہ فرماتے تو اس سے غلط فہمی ہو سکتی تھی کہ آنحضرت کے بعد آپ ﷺ کی خلافت کے اولین حق دار حضرت علی مرتضیٰؓ ہیں، امت کو اس غلط فہمی سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک میں ڈالا گیا کہ امیر حج بنا کر ابو بکر صدیق ؓ کو روانہ کریں، بعد میں حضور کے قلب میں وہ بات ڈالی گئی جس کی وجہ سے حضور ﷺ نے حضرت علی مرتضیٰؓ کو بھیجنا ضروری سمجھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح امت میں رہنمائی فرمائی کہ حضور ﷺ کے بعد مسلمانوں کے امیر اور آپ کے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیقؓ ہوں گے یہ بالکل اسی طرح ہوا جس طرح کہ آنحضرت ﷺ کے مرض وفات میں جب آپ ﷺ خود مسجد جا کر امامت کرنے سے معذور ہو گئے تو آپ ﷺ کے قلب مبارک میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالا گیا کہ اپنی جگہ ابو بکر صدیقؓ کو نماز کا امام مقرر فرما دیں۔ ان ربنا لطيف لما يشاء .

2060Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: آخَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَلَمْ تُؤَاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ آ کر) اپنے اصحاب میں مواخاۃ قائم فرمائی (یعنی صحابہؓ میں سے ہر ایک کو کسی دوسرے کا بھائی بنا دیا) تو حضرت علیؓ آئے (اس حال میں کہ رنج و غم سے) ان کی دونوں آنکھون سے آنسو جاری تھے اور عرض کیا کہ آپ نے اپنے تمام اصحاب کے درمیان مواخاۃ کا رشتہ قائم فرما دیا اور میرے اور کسی دوسرے کے درمیان آپ نے مواخاۃ قائم نہیں فرمائی (یعنی مجھے کسی کا اور میرا کسی کو بھائی ہو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام جب ہجرت فرما کر مدینہ آئے یہ آنے والے مہاجرین مختلف قبیلوں اور مختلف مقامات کے تھے، تو آنحضرت ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخاۃ کا نظام قائم فمایا یعنی دو دو صحابیوں کا ایک جوڑا بنا کر ان کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دے دیا تا کہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں اور ضرورت میں حقیقی بھائی کی طرح کام آویں اور کسی کو تنہائی اور بے کسی کا احساس نہ ہو۔ مثلاً آپ نے حضرت ابو الدرداء انصاریؓ اور حضرت سلمان فارسیؓ کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا، جن کے درمیان پہلے سے نہ کوئی نسبی رشتہ تھا اور نہ ہم وطنی کا تعلق ..... اس طرح آپ ﷺ نے اپنے تمام اصحاب کے درمیان مواخاۃ کا رشتہ قائم فرما دیا، حضرت علی مرتضیٰ ؓ کا کسی کے ساتھ یہ رشتہ قائم نہیں فرمایا وہ اکیلے ہی رہ گئے، اس سے رنجیدہ اور غمگین ہو کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ نے اپنے تمام اصحاب کے درمیان مواخاۃ کا رشتہ قائم فرمایا اور مجھے کسی کا اور کسی کو میرا بھائی نہیں بنایا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا “انت اخى فى الدنيا والاخرة” (یعنی تم میرے بھائی ہو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی) .... ظاہر ہے کہ حضرت مرتضیٰؓ کو یہ سن کر کیسی مسرت اور خوشی ہوئی ہو گی .... بلا شبہ حضرت علی مرتضیٰؓ کو حضور ﷺ کے ساتھ جو قرابت نصیب تھی وہ صرف انہیں کا حصہ تھا جیسا کہ معلوم ہے کہ وہ حضور ﷺ کے حقیقی چچا زاد بھائی تھے اور آپ کی دعوت پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں ہیں اور دامادی کے شرف سے بھی مشرف فرمائے گئے۔ ؓ وارضاہ۔