Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 104 of 106

2061Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَيْرٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ. (رواه والترمذى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس (کھانے کے لئے بھنا ہوا یا پکا ہوا) ایک پرندہ تھا تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی اے اللہ! تو میرے پاس بھیج دے ایسے بندے کو جو تیری مخلوق میں تجھ کو سب سے زیادہ محبوب اور پیارا ہو، جو اس پرندہ کے کھانے میں میرے ساتھ شریک ہو جائے، تو آ گئے علی مرتضیٰ ؓ چنانچہ آپ ﷺ کے ساتھ اس پرندہ کے کھانے میں شریک ہو گئے۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث سے شیعہ صاحبان استدلال کرتے ہیں کہ حضرت علی مرتضیٰؓ اللہ کی ساری مخلوق سے جس میں شیخین بھی شامل ہیں افضل اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب اور پیارے تھے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اللہ کی مخلوق میں رسول اللہ ﷺ بھی شامل ہیں اگر حدیث سے یہ نتیجہ نکالا جائے گا تو لازم آ جائے گا کہ ان کو شیخین ہی سے نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ سے بھی افضل اور للہ کا زیادہ محبوب اور پیارا مانا جائے۔ اس بنا پر شارحین حدیث نے لکھا ہے کہ حضور ﷺ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! تو کسی ایسے بندے کو بھیج دے جو تیرے محبوب ترین بندوں میں سے ہو اور یقیناً حضرت علی مرتضیٰ ؓ اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین بندوں میں سے ہیں۔ اس حدیث کے بارے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ علامہ ابن الجوزیؒ نے اس کو موضوع قرار دیا ہے، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے ان کی اس رائے سے اتفاق نہیں کیا لیکن یہ تسلیم کیا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔

2062Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا دَارُ الحِكْمَةِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا. (رواه الترمذى)

حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ (جامع ترمذی) تشریح معلوم ہوا کہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ صغر سنی ہی میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر اسلام لائے اور اس کے بعد برابر آپ ﷺ کی تربیت اور صحبت میں رہے اس لئے آپ ﷺ کی تعلیم سے استفادہ میں ان کو ایک درجہ خصوصیت حاصل ہے۔ اسی بنا پر حضور ﷺ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا “أَنَا دَارُ الحِكْمَةِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا” (میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں) لیکن اس سے یہ سمجھنا اور یہ نتیجہ نکالنا بس حضرت علیؓ ہی حضور ﷺ کے ذریعہ آئے ہوئے علم و حکمت کے حامل و وارث تھے اور ان ہی کے ذریعہ اس کو حاصل کیا جا سکتا ہے اور ان کے سوا کسی دوسرے سے حضور ﷺ کے لائے ہوئے علم و حکمت کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انتہائی درجہ کی نافہمی ہے، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اُمیین میں اپنا رسول بنا کر بھیجا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں اور کتاب اللہ اور حکمت کی ان کو تعلیم دیتے ہیں قرآن مجید کی یہ آیتیں بتلاتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے کتاب و حکمت کی تعلیم اپنے اپنے ظرف اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق تمام صحابہ کرامؓ نے پائی، لہذا یہ سبھی حضور ﷺ کے ذریعہ آئے ہوئے علم و حکمت کا ذریعہ اور دروازہ ہیں۔ یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت پر حضرت علی مرتضیٰ ؓ جب اسلام لائے تو جیسا کہ ل کھا جا چکا ہے کہ وہ صغیر السن تھے ان کی عمر مشہور روایات کے مطابق صرف آٹھ یا دس سال یا اس سے کچھ زیادہ تھی اور آنحضرت ﷺ کی تعلیم سے استفادہ کی وہی استعداد اور صلاحیت اس وقت ان کو حاصل تھی جو فطری طور پر اس عمر میں ہونا چاہئے لیکن صدیق اکبر ؓ نے اسی دن جب حضور ﷺ کی دعوت پر اسلام قبول کیا تو ان کی عمر چالیس سال کی ہو چکی تھی اور فطری طور پر ان کو استفادہ کی وہ کامل استعداد اور صلاحیت حاصل تھی جو اس عمر میں ہونی چاہئے اس لئے رسول اللہ ﷺ کے ذریعے سے آئے ہوئے علم و حکمت میں ان کا حصہ دوسرے تمام صحابہ کرامؓ سے مجموعی طور پر زیادہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض وفات میں ان کو اپنی جگہ نماز کا امام مقرر فرمایا یہ بھی حضور ﷺ کی طرف سے حضرت صدیق اکبرؓ کے اعلم بالکتاب والحکمۃ ہونے کی سند تھی پھر صحابہ کرامؓ نے بالاتفاق ان کو آنحضرت ﷺ کا خلیفہ اور امت کا امام تسلیم کر کے عملی طور پا اس کا اعتراف کیا اور گویا اس حقیقت کی شہادت دی۔ نیز یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ مختلف صحابہ کرام کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے علم دین کے مختلف شعبوں میں ان کے تخصص اور امتیاز کا کر فرمایا ہے، جیسا کہ ان شاء اللہ مناقب ہی کے سلسلہ میں آئندہ درج ہونے والی بعض احادیث سے معلوم ہو گا۔ پھر اس واقعی حقیقت میں کس کو شک و شبہ کی گنجائش ہو سکتی ہے کہ حضرات تابعینؒ نے مختلف صحابہ کرام سے حضور ﷺ کا لایا ہوا علم حاصل کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے محدثین کے ذریعہ حدیث کی کتابوں میں محفوظ کرا دیا اور اسی سے قیامت تک امت کو رہنمائی ملتی رہے گی۔ ذالك تقدير العزيز العليم. یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ابن الجوزیؒ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ وغیرہ ناقد محدثین نے زیر تشریح اس حدث “أَنَا دَارُ الحِكْمَةِ” کو موضوع قرار دیا ہے، خود امام ترمذیؒ نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے۔ “هذا حديث غريب منكر” بہرحال سند کے لحاظ سے یہ حدیث محدثین کے نزدیک غیر مقبول اور ناقابل استناد ہے۔

2063Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ أُمُّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا فِيهِمْ عَلِيٌّ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لاَ تُمِتْنِي حَتَّى تُرِيَنِي عَلِيًّا. (رواه الترمذى)

حضرت ام عطیہ انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر (کسی مہم پر روانہ فرمایا) جس میں علی بن ابی طالب ؓ بھی تھے، کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا، اس حال میں کہ آپ ﷺ (دعا کے لئے) ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے کہ اے اللہ! مجھے اس وقت تک دنیا سے نہ اٹھا، تا آنکہ تو مجھے علی کو دکھا دے۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کسی تشریح و توضیح کی محتاج نہیں، بلا شبہ رسول اللہ ﷺ کو ان وجوہ سے جن کا ذکر کیا جا چکا ہے، حضڑت علی مرتضیٰؓ کے ساتھ غایت درجہ کی محبت تھی ..... اسی کا مظہر حضور ﷺ کی یہ دعا بھی ہے۔

2064Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ فَقَالَ: مَنْ أَحَبَّنِي وَأَحَبَّ هَذَيْنِ وَأَبَاهُمَا وَأُمَّهُمَا كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ. (رواه الترمذى)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنے دونوں نواسوں) حسنؓ اور حسینؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ جس نے مجھ سے محبت کی اور ان دونوں سے اور ان کے والد اور والدہ (علی مرتضیٰ اور سیدہ فاطمہ زہرا ؓ) سے محبت کی تو وہ قیامت کے دن جنت میں میرے درجہ میں میرے ساتھ ہو گا۔ (جامع ترمذی) تشریح اسی سلسلہ معارف الحدیث (1) میں ناظرین صحیح بخاری و صحیح مسلم کے حوالہ سے انس ؓ کی وہ حدیث پڑھ چکے ہیں جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کیا۔ متی الساعۃ؟ (قیامت کب آئے گی) آپ ن ے فرمایا۔ تم قیامت کے بارے میں پوچھتے ہو، تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کیا میں نے قیامت کے لئے اس کے سوا کوئی خاص تیاری نہیں کی ہے کہ مجھے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا “انت مع من احببت” مطلب یہ کہ تم اطمینان رکھو، آخرت میں تم ان کے ساتھ کر دئیے جاؤ گے جن سے تمہیں محبت ہے یعنی جب تم کو مجھے سے محبت ہے تو تم میرے ساتھ کر دئیے جاؤ گے ..... اس حدیث کے راوی حضرت انس ؓ، نے بیان فرمایا کہ حضور ﷺ کا یہ ارشاد سن کر تمام صحابہؓ ایسے خوش ہوئے کہ اسلام لانے کے بعد انہیں کبھی ایسی خوشی نصیب نہیں ہوئی تھی۔ آگے حضرت انس ؓ خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں۔ «فَأَنَا أُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ بِحُبِّي إِيَّاهُمْ» ترجمہ: پس میرا حال یہ ہے کہ میں محبت رکھتا ہوں رسول اللہ ﷺ سے اور ابو بکرؓ و عمرؓ سے اور امید رکھتا ہوں کہ اپنی اس محبت ہی کی وجہ سے آخرت میں مجھے ان حضرات کا ساتھ نصیب ہو گا۔ الغرض یہ اللہ تعالیٰ کا قانون رحمت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اور آپ ﷺ کے محبوبین سے محبت کرنے والے آخرت میں آپ ﷺ کے ساتھ کر دئیے جائیں گے (اور بلاشبہ حضرات حسنینؓ اور ان کی والدہ ماجدہ حضور ﷺ کی لخت جگر سیدہ فاطمہ زہراؓ اور ان کے محترم شوہر اور آپ ﷺ کے عزیز بھائی حضرت علیؓ کا آپ ﷺ کے محبوبین میں خاص مقام ہے) پس جن خوش نصیب اہل ایمان کو محبوب رب العالمین سیدا محمد ﷺ کے ساتھ اور آپ ﷺ کے ان محبوبین کے ساتھ محبت ہو گی۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے اس قانون رھمت کے مطابق آخرت اور جنت میں حضرت ﷺ کی معیت نصیب ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس عاجر (راقم سطور) کو اور قارئین کو اپنی اور اپنے محبوب سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے محبوبین کی محبت نصیب فرمائے۔

2065Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي، وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَارْفَعْنِي، وَإِنْ كَانَ بَلاَءً فَصَبِّرْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ قُلْتَ؟ قَالَ: فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَا قَالَ، قَالَ: فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ عَافِهِ، (شَكَّ الرَّاوِىْ) أَوْ اشْفِهِ، شُعْبَةُ الشَّاكُّ، فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي بَعْدُ. (رواه الترمذى)

حضرت علی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں بیمار ہو گیا تھا (اور مجھے سخت تکلیف تھی) تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گذرے اور میں اللہ سے یہ دعا کر رہا تھا اے اللہ، اگر میری موت کا وقت قریب آ گیا تو مجھ کو راحت عطا فرما دے (یعنی موت دے کر اس تکلیف سے نجات دے دے) اور اگر میری موت دیر سے آنے والی ہے تو مجھے فراخی کی زندگی عطا فرما اور اگر یہ (بیماری اور تکلیف تیری طرف سے) امتحان اور آزمائش ہے تو مجھ کو صبر کی توفیق عطا فرما۔ (کہ بےصبری اور تکلیف کا اظہار نہ کروں) تو رسول اللہ ﷺ نے (یہ سن کر مجھ سے) فرمایا، تم نے یہ کیا کہا؟ تو (جو میں نے بطور دعا کے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا وہ) میں نے آپ کے سامنے دہرایا تو آپ نے اپنا قدم مبارک مارا اور دعا فرمائی۔ اللَّهُمَّ عَافِهِ، اے اللہ اس کو عافیت عطا فرما دے! (راوی کو شک ہے کہ آپ نے فرمایا) اللَّهُمَّ اشْفِهِ، (اے اللہ اس کو شفا عطا فرما دے) حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے کبھی وہ تکلیف نہیں ہوئی۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کسی تشریح کی محتاج نہیں۔ بلاشبہ یہ آنحضرت ﷺ کا معجزہ تھا۔

2066Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قِيْلَ لَهُ نَرَاكَ فِي الْحَرِّ الشَّدِيدِ وَعَلَيْهِ ثِيَابُ الشِّتَاءِ، وَنَرَاكَ فِي الشِّتَاءِ وَعَلَيْكَ ثِيَابُ الصَّيْفِ، وَتَمْسَحُ الْعَرَقَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَزَقَ فِىْ عَيْنِىْ وَأَنَا أَرْمَدُ، فَمَا اشْتَكَيْتُهُمَا حَتَّى السَّاعَةِ، وَدَعَا لِي فَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ» ، فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا حَتَّى يَوْمِي هَذَهِ. (رواه الطبرانى فى الاوسط)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے بعض لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کو شدید گرمی کے زمانہ میں دیکھتے ہیں کہ آپ سردی کے موسم کے کپڑے پہنے ہوتے ہیں، اور اسی طرح ہم کبھی جاڑوں کے زمانہ میں آپ کو دیکھتے ہیں کہ آپ گرمی کے موسم کے کپڑے پہنے ہوتے ہیں اور پسینہ پونچھتے ہیں! تو حضرت علیؓ نے جواب میں فرمایا کہ ایک دفعہ میری آنکھ میں تکلیف تھی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا آب دہن ڈالا (تھوک دیا) اس کے بعد سے اب تک کبھی مجھے آنکھ کی وہ تکلیف نہیں ہوئی۔ اور آنحضرت ﷺ نے میرے لئے دعا فرمائی تھی۔ اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ (اے اللہ گرمی اور جاڑے کو اس سے دور رکھ) تو اس کے بعد سے نہ تو میں نے آج تک گرمی محسوس کی اور نہ سردی۔ (معجم اوسط للطبرانی) تشریح حدیث کسی تشریح و وضاحت کی محتاج نہیں، ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعا کا یہ اثر آپ کے معجزات میں سے ہے۔

2067Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي لارْبُطُ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الجُوعِ، وَإِنَّ مَالِىْ لِتَبْلُغُ اَرْبَعِيْنَ اَلْفَ دِيْنَارٍ» (رواه احمد)

حضرت علی ؓ سے روایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ: میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس حالت میں دیکھا ہے کہ بھوک کی وجہ سے میں اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا (اور اب بفضلہ تعالیٰ میری یہ حالت ہے کہ) میرے مال کی زکوٰۃ چالیس ہزار اشرفیاں ہوتی ہیں۔ (مسند احمد) تشریح اسی سلسلہ معارف الحدیث (1) میں کتاب الرقاق میں وہ حدیثیں درج کی جا چکی ہیں جن میں ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے فقر و فاقہ کی زندگی پسند فرمائی اور اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کی تھی کئی کئی دن آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے اہل و عیال پر ایسے گذر جاتے تھے کہ کچھ بھی کھانے کی نوبت نہ آتی تھی، ایسے دنوں میں کبھی کبھی آپ ﷺ شدت ضعف سے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے جس سے ضعف میں کمی آ جاتی تھی ..... آپ ﷺ کے خاص متعلقین میں حضرت علیؓ بھی تھے، ان کو بھی کبھی ایسا کرنا پڑتا تھا۔ اس حدیث میں انہوں نے اسی وقت کا حوالہ دے کر فرمایا ہے کہ ایک زمانہ ایسا تھا کہ فاقہ کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ مجھے بھی پیٹ پر پتھر باندھنا پڑ جاتا تھا اور اب بفضل خداوندی میرے پاس اتنی دولت ہے کہ چالیس ہزار اشرفیاں اس کی زکوٰۃ ہوتی ہیں۔ حضور ﷺ کے طریقہ پر فقر و فاقہ کی زندگی پسند کرنا بلاشبہ سعادت اور بہت بڑی فضیلت ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو جائز اور حلال طریقہ سے دولت عطا فرمائے اور وہ اللہ کے شکر کے ساتھ دولت کا حق ادا کرے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے انعام کی ایک خاص صورت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے اس مضمون کے ارشادات بھی معارف الحدیث (1) کے اسی سلسلے میں ذکر کئے جا چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت علیؓ کو آنحضرت ﷺ کے طریقہ پر فقر و فاقہ کی زندگی کی سعادت بھی عطا فرمائی اور بعد میں دولت اور اس کا حق ادا کرنے کی نعمت سے بھی نوازا۔ ما احسن الدين والدنيا لو اجتمعا۔

2068Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَزَيْدِ بْنِ اَرْقَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ بِغَدِيرِ خُمٍّ، أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى لِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ «لَهُ هَنِيئًا يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ، وَمُؤْمِنَةٍ» (رواه احمد)

حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے غدیر خم پر نزول اور قیام فرمایا تو آپ ﷺ نے حضرت علی مرتضیٰ ؓ کا ہاتھ پکڑ کر (عام حاضرین و رفقاء سفر سے خطاب کرتے ہوئے) فرمایا کہ “أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ” (کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میں مسلمانوں کا ان کے نفسوں اور ان کی جانوں سے بھی زیادہ دوست اور محبوب ہوں) سب نے عرض کیا کیوں نہیں ہاں! بےشک ایسا ہی ہے (اس کے بعد) آپ ﷺ نے فرمایا “أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ” (کیا تم نہیں جانتے کہ میں ہر مسلمان کا اس کے نفس اور اس کی جان سے زیادہ دوست اور محبوب ہوں)سب نے عرض کیا کیوں نہیں ہاں! بےشک ایسا ہی ہے (اس کے بعد) آپ ﷺ نے فرمایا “اَللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ” (اے اللہ! میں جس کا دوست ہوں تو یہ علی بھی اس کے دوست ہیں، اے اللہ جو علیؓ سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی فرما اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس کے ساتھ دشمنی کا معاملہ فرما) اس کے بعد حضرت عمر ؓ حضرت علی ؓ سے ملے اور (ان کو مبارک باد دیتے ہوئے) فرمایا کہ تمہیں مبارک اور خوشگوار ہو اے ابن ابی طالب! کہ تم ہر صبح اور ہر شام (یعنی ہر وقت) ہر مومن اور مومنہ کے دوست اور محبوب ہو گئے۔ (مسند احمد) تشریح یہ واقعہ جس کا ذخر اس روایت میں کیا گیا، حجۃ الوداع کے سفر سے واپسی کا ہے “غدیر” کے معنی تالاب کے ہیں اور خم ایک مقام کا نام ہے جس کے قریب یہ تالاب تھا، یہ مقام مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جاتے ہوئے مشہور بستی “الجحفہ” سئ تین چار میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ آنحضرت ﷺ حجۃ الوداع سے واپس ہوتے ہوئے اپنے فرقاء سفر کے پورے قافلہ کے ساتھ جس میں مدینہ منورہ اور قرب و جوار کے تمام ہی وہ صحابہ کرامؓ تھے جو اس مبارک سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ تھے، ۱۸؍ ذی الحجہ کو اس مقام پر پہنچے تھے، اور قیام فرمایا تھا، یہاں آپ ﷺ نے ان رفقاء سفر کو جمع کر کے ایک خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس خطبہ سے متعلق حدیث کی کتابوں میں جو روایات ہیں۔ ان سے کو جمع کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس خطاب میں کچھ اہم باتیں ارشاد فرمائی تھی جن میں سے ایک بات حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے بارے میں وہ بھی تھی جو اس روایت میں ذکر کی گئی ہے۔ یہ بات آپ ﷺ نے ایک تمہید کے ساتھ خاص اہمیت سے بیان فرمائی۔ سورہ احزاب کے آیت نمبر ۶ میں ارشاد فرمایا گیا ہے: “النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ” اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو فطری طور پر سب سے زیادہ محبت و خیرخواہی اپنے نفس اور اپنی عزیز جان کے ساتھ ہوتی ہے، ہمارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کا حق ہے کہ اہل ایمان اپنے نفس اور اپنی جان عزیز سے بھی زیادہ آپ ﷺ کے ساتھ محبت رکھیں۔ قرآن پاک کی اس آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور ﷺ نے حاضرین سے فرمایا کہ کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میں سب ایمان والوں کی دوستی اور محبت کا ان کے نفسوں اور ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق دار ہوں۔ سب حاضرین نے بیک زبان عرض کیا کہ ہاں! بےشک ایسا ہی ہے، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ “کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ ہر مومن کو اپنے نفس اور اپنی عزیز جان سے جو محبت اور تعلق ہے اس سے زیادہ محبت اور تعلق اس کو میرے ساتھ ہونا چاہئے۔ سب حاضرین نے عرض کیا کہ ہاں بےشک ایسا ہی ہے، آپ ﷺ کا ھق ہم میں سے ہر ایک پر یہ ہے کہ اپنے نفس اور اپنی جان عزیزسے بھی زیادہ محبت آپ ﷺ کے ساتھ ہو ..... اس کے بعد آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا۔ «اَللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» اے اللہ (تو گواہ رہ کہ) میں جس کا دوست اور محبوب ہوں تو یہ علی بھی اس کے دوست اور محبوب ہیں، تو اے اللہ! میری تجھ سے دعا ہے کہ جو علیؓ سے محبت رکھے تو اس سے محبت کا معاملہ فرما اور جو اس سے عداوت رکھے تو اس کے ساتھ عداوت کا معاملہ فرما ..... حضور ﷺ کے اس خطاب کے بعد حضرت عمرؓ، حضرت علی مرتضیٰؓ سے ملے اور مبارک باد دیتے ہوئے فرمایا اے ابن ابی طالب! تم کو مبارک اور خوشگوار ہو کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق ہر ایمان والے اور ہر ایمان والی کے تم محبوب ہو گئے، ہر ایک تم سے ہمیشہ محبت کا تعلق رکھے گا۔ یہاں تک صرف حدیث کے مضمون کی تشریح کی گئ، اس موقع پر راقم سطور ناظرین کو یہ بتلانا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ شیعہ علماء و مصنفین اس حدیث کو اپنے اس عقیدہ اور دعوے کی مضبوط ترین اور سب سے زیادہ وزنی دلیل کے طور پر پیش کرے ہیں غدیر خم کے س خطاب میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعد کے لئے حضرت علی مرتضیٰؓ کو خلیفہ و جانشین اور امت کا امام و حاکم بنا دیا تھا اور اس خطاب کا خاص مقصد یہی تھا، وہ کہتے ہیں کہ مولیٰ کے معنی آقا، مالک اور حاکم کے ہیں اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ میں جن لوگوں کا آقا اور حاکم ہوں۔ علیؓ ان سب کے آقا اور حاکم ہیں، پس یہ حضرت علی مرتضیٰؓ کی خلافت اور امت پر ان کی حاکمیت کا اعلان تھا ..... ان شاء اللہ آئندہ سطور سے ناظرین کرام کو معلوم ہو جائے گا کہ شیعہ علماء کا یہ دعویٰ اور ان کی یہ دلیل کس قدر لچر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان میں بہت سے الفاظ ایسے جو بیس بیس یا اس سے بھی زیادہ معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ لفظ مولیٰ بھی انہیں الفاظ میں سے ہے۔ عربی لغت کی مشہور و مستند ترین کتاب “القاموس المحیط” میں اس لفظ مولیٰ کے مندرجہ ذیل ۲۱ معنی لکھے ہیں۔ المولى: (1) المالك(2) والعبد(3) والعتق(4) والمعتق(5) والصاحب(6) والقريب كابن العم ونحوه(7) والجار(8) والحليف(9) والابن(10) والعم(11) والنزيل(12) والشريك(13) وابن الاخت(14) والولى(15) والرب(16) والناصر(17) والمنعم(18) والمنعم عليه(19) والمحب(20) والتابع(21) والصهر (1) (ان تمام الفاظ کا ترجمہ مصباح اللغات کی عبارت میں ناظرین کرام ملاحظہ فرمائیں گے جو آگے نقل کی جا رہی ہے) اور عربی لغت کی دوسری مستند و معروف کتاب “اقرب الموارد” میں بھی لفظ مولیٰ کے یہی سب معنی لکھے گئے ہیں۔ (2) لغت حدیث کی مشہور و مستند ترین کتاب “النهاية لابن الاثير الجزري فى غريب الحديث والاثر” میں بھی قریبا یہ سب معنی لکھے گئے ہیں، علامہ طاہر پٹنی نے مجمع بحار الانوار میں نہایہ ہی کے حوالہ سے اس کی پوری عبارت نقل کر دی ہے۔ (3) مصباح اللغات جس میں عربی الفاظ کے معنی اردو زبان میں لکھے گئے ہیں، اس میں قریب قریب ان سب الفاظ کا ترجمہ آ گیا ہے جو “القاموس المحیط” اور “اقرب الموارد” وغیرہ مندرجہ بالا کتابوں میں لکھے گئے ہیں، ہم اس کی عبارت بعینہٖ ذیل میں درج کرتے ہیں۔ المولی = مالک و سردار، غلام آزاد کرنے والا، آزاد شدہ، انعام دینے والا جس کو انعام دیا جائے، محبت کرنے والا، ساتھی۔ حلیف پڑوسی، مہمان، شریک، بیٹا، چچا کا بیٹا، بھانجا، چچا، داماد، رشدہ دار، والی، تابع۔ (4) معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن پاک کی کسی آیت یا حضور ﷺ کے کسی ارشاد میں یا کسی بھی فصیح و بلیغ کلام میں جب کوئی کثیر المعنی لفظ استعمال ہو تو خود اس میں یا اس کے سیاق و سباق میں ایسا قرینہ موجود ہوتا ہے جو اس لفظ کے معنی اور اس کی مراد متعین کر دیتا ہے .... اس زیر تشریح حدیث میں خود قرینہ موجود ہے، جس سے اس حدیث کے لفظ مولیٰ کے معنی متعین ہو جاتے ہیں، حدیث کا آخری دعائیہ جملہ ہے “اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ” (اے اللہ جو علی سے دوستی اور محبت رکھے تو اس سے دوستی اور محبت فرما، اور جو اس سے دشمنی رکھے، تو اس کے ساتھ دشمنی کا معاملہ فرما)۔ اس سے متعین طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ حدیث میں لفظ مولیٰ دوست اور محبوب کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اور “مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ” کا مطلب وہی ہے جو اوپر تشریح میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جو کچھ ہوا، وہ اس بات کی روشن اور قطعی دلیل ہے کہ غدیر خم کے ہزاروں صحابہ کرام کے اس مجمع میں کسی فرد نے، خود حضرت علی مرتضیٰؓ اور ان کے قریب ترین حضرات نے بھی حضور کے اس ارشاد کا مطلب یہ نہیں سمجھا تھا کہ آنحضرت ﷺ اپنے بعد کے لئے ان کی خلافت و حاکمیت اور امت کی امامت عامہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اگر خود حضرت علی مرتضیٰؓ نے اور ان کے علاوہ جس نے بھی ایسا سمجھا ہوتا، تو ان کا فرض تھا کہ جس وقت خلافت کا مسئلہ طے ہو رہا تھا تو یہ لوگ کہتے کہ ابھی صرف ستر (۷۰) بہتر (۷۲) دن پہلے غدیر خم کے موقعہ پر حضور ﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنا خلیفہ اور جانشین بنا دیا تھا اور اہتمام سے اس کا اعلان فرمایا تھا الغرض یہ مسئلہ خود حضور ﷺ طے فرما گئے ہیں اور حضرت علیؓ کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ نامزد فرما گئے ہیں، اب وہی حضور ﷺ کے خلیفہ اور آپ ﷺ کی جگہ امت کے حکمران اور سربراہ ہیں .... لیکن معلوم ہے کہ نہ حضرت علیؓ نے یہ بات کہی اور نہ کسی اور نے، سبھی نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کو آنحضرت ﷺ کا خلیفہ اور جانشین تسلیم کر کے بیعت کر لی۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اگر شیعہ علماء کی یہ بات مان لی جائے کہ حضور ﷺ نے غدیر خم کے اس خطبہ میں “مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ” فرما کر حضرت علی مرتضیٰؓ کی خلافت و جانشینی صاف صاف اعلان فرمایا تھا تو معاذ اللہ حضرت علی ؓ سب سے بڑے مجرم ٹھہریں گے کہ انہوں نے حضور ﷺ کی وصال کے بعد اس کی بنیاد پر خلافت کا دعویٰ کیوں نہیں فرمایا؟ ان کا فرض تھا کہ حضور ﷺ کی اس تجویز کی تنقید اور اس فرمان و اعلان کو عمل میں لانے کے لئے میدان میں آتے اگر کوئی خطرہ تھا تو اس کا مقابلہ فرماتے۔ یہی بات حضرت حسن ؓ کے پوتے حسن مثلث نے اس شخص کے جواب میں فرمائی تھی جو حضرت علی مرتضیٰؓ کے بارے میں رافضیوں والا غالیانہ عقیدہ رکھتا تھا اور حضور ﷺ کے ارشاد من کنت مولاہ فعلی مولاہ کے بارے میں کہتا تھا کہ اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی مرتضیٰؓ کو خلیفہ نامزد فرمایا تھا، تو حضرت حسن مثلث نے اس شخص سے فرمایا تھا۔ ولو كان الامر كما تقولون ان الله جل وعلى ورسوله صلى الله عليه وسلم اختار عليا لهذا الامر والقيام على الناس بعده فان عليا اعظم الناس خطيئة وجر ما اذ ترك امر رسول الله صلى الله عليه وسلم۔ (1) ترجمہ: اگر بات وہ ہو جو تم لوگ کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام نے علیؓ کو رسول کے بعد خلافت کے لئے منتخب اور نامزد فرما دیا تھا تو علیؓ سب سے زیادہ خطاکار اور مجرم ٹھہریں گے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل نہیں کی۔ اور جب اس شخص نے حضرت حسن مثلث سے یہ بات سن کر اپنے عقیدہ کی دلیل میں رسول اللہ ﷺ کے ارشاد “مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ” کا حوالہ دیا تو حضرت حسن مثلث نے فرمایا۔ اما و الله لو يعني رسول الله صلى الله عليه و سلم بذالك الامر و السلطان و القيام على الناس لا فصح به كما افصح بالصلاة و الزكاة و الصيام و الحج ولقال ايها الناس ان هذا الولي بعدي اسمعوا واطيعوا. (1) تشریح: سن لو! میں اللہ کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ اگر رسول اللہ ﷺ کا مقصد علی مرتضیٰؓ کو خلیفہ اور حاکم بنانا ہوتا تو بات آپ ﷺ اسی طرح صراحت اور وضاحت سے فرماتے جس طرح آپ ﷺ نے نماز، زکوٰۃ، روزوں اور حج کے بارے میں صراحت اور وضاحت سے فرمایا ہے اور صاف صاف یوں فرماتے کہ اے لوگو! یہ علی میرے بعد ولی الامر اور حاکم ہوں گے لہٰذا تم ان کی بات سننا اور اطاعت و فرمانبرداری کرنا۔ اس کے بعد یہ بات وضاھت طلب رہ جاتی ہے کہ پھر رسول اللہ ﷺ کا مقصد اس ارشاد سے کیا تھا اور حضرت علی مرتضیٰؓ کے بارے میں اس خطاب میں آپ ﷺ نے یہ بات کس خاص وجہ سے اور کس غرض سے فرمائی۔ واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع سے کچھ عرصہ پہلے حضرت علی مرتضیٰؓ کو قریبا تین سو افراد کی جمیعت کے ساتھ یمن بھیج دیا تھا، وہ حجۃ الوداع میں یمن سے مکہ مکرمہ آ کر ہی رسول اللہ ﷺ سے ملے تھے، یمن کے زمانہ قیام میں ان کے چند ساتھیوں کو ان کے بعض اقدامات سے اختلاف ہوا تھا، وہ لوگ بھی حجۃ الوداع میں شرکت کے لئے ان کے ساتھ ہی مکہ مکرمہ آئے تھے، یہاں آ کر ان میں سے بعض لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے بھی اپنے احساس و خیال کے مطابق حضرت علیؓ کی شکایت کی (2) اور دوسرے لوگوں نے بھی ذکر کر دیا ..... بلا شبہ یہ ان کی بہت بڑی غلطی تھی۔ آنحضرت ﷺ سے جن لوگوں نے شکایت کی، حضور ﷺ نے حضرت علی مرتضیٰؓ کا عنداللہ اور دین میں جو مقام و مرتبہ ہ ان کو بتلا کر اور ان کے اقدامات کی تصویب اور توثیق فرما کر ان کے خیالات کی اصلاح فرما دی، لیکن بات دوسرے لوگوں تک بھی پہنچ چکی تھی، شیطان ایسے موقعوں سے فائدہ اٹھا کر دلوں میں کدورت اور افتراق پیدا کر دیتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو جب اس صورت حال کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے ضرورت محسوس فرمائی کہ حضرت علی مرتضیٰؓ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبوبیت اور مقبولیت کا جو مقام حاصل ہے اس سے عام لوگوں کو آگاہ فرما دیں اور اس کے اظہار و اعلان کا اہتمام فرمائیں .... اسی مقصد سے آپ ﷺ نے غدیر خم کے اس خطبہ میں جس کے لئے آپ ﷺ نے اپنے تمام رفقاء سفر صحابہ کرامؓ کو جمع فرما دیا تھا، خاص اہتمام سے حضرت علیؓ کا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے کر ارشاد فرمایا تھا۔ “مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ” جیسا کہ تفصیل سے اوپر ذکر کیا جا چکا ہے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب یہی ہے کہ میں جس کا محبوب ہوں یہ علیؓ بھی اس کے محبوب ہیں لہذا جو مجھ سے محبت کرے اس کو چاہئے وہ ان علی سے بھی محبت کرے، آگے آپ ﷺ نے دعا فرمائی، اے اللہ جو بندہ علی سے محبت و موالاۃ کا تعلق رکھے اس سے تو محبت و موالاۃ کا معاملہ فرما اور جو کوئی علی سے عداوت رکھے اس کے ساتھ عداوت کا معاملہ فرما، جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا گیا یہ دعائیہ جملہ اس کا واضح قرینہ ہے کہ اس حدیث میں مولیٰ کا لفظ محبوب ہے اور دوست کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ الغرض رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد “مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ..... الخ” کا مسئلہ امامت و خلافت سے کوئی تعلق نہیں۔ امید ہے کہ یہاں تک جو کچھ اس مسئلہ کے بارے میں عرض کیا گیا وہ ہر صاحب ایمان سلیم القلب کے لئے ان شاء اللہ کافی و شافی ہو گا۔ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ

2069Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُرْسِلُنِي وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ، وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ، وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ، فَإِذَا جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْكَ الْخَصْمَانِ، فَلَا تَقْضِيَنَّ حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ، كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الْأَوَّلِ، فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يَتَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ»، قَالَ: «فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا، أَوْ مَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَعْدُ» (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجه)

حضرت علی ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ: رسول اللہ ﷺ نے مجھے قاضی بنا کر یمن بھیجا (یعنی بھیجنے کا فیصلہ فرمایا) تو میں نے رض کیا کہ اے رسول خدا! آپ مجھے قاضی بنا کر بھیج رہے ہیں اور میں نو عمر ہوں اور مجھے قضاء کا (یعنی نزاعات اور مقدمات کا فیصلہ کرنے کا کما حقہ) علم نہیں ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قلب کی رہنمائی فرمائے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا (یعنی دل میں وہی ڈالے گا اور زبان سے وہی کہلوائے گا جو صحیح اور حق ہو گا) جب تمہارے پاس دو آدمی کسی نزاعی معاملہ کا فیصلہ کروانے کے لئے آئیں تو تم (معاملہ کو) پہلے پیش کرنے والے کے حق میں فیصلہ نہ کر دینا یہاں تک کہ دوسرے فریق کی بات سن لو، یہ طریقہ تم کو فیصلہ کرنے میں زیادہ کارآمد ہو گا۔ حضرت علیؓ کا بیان ہے کہ (حضور ﷺ کی اس تعلیم اور دعا کے) بعد مجھے کسی قضیہ کا فیصلہ کرنے کے بارے میں شکو شبہ بھی پیدا نہیں ہوا۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح متن حدیث کی ضروری تشریح ترجمہ میں کر دی گئی ہے البتہ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس واقعہ کی روایت حدیث کی مختلف راویوں سے کی گئی ہے جن میں سے بعض میں کچھ اضافے ہیں، اب سب روایتوں کو سامنے رکھنے کے بعد پورا واقعہ سامنے آ جاتا ہے۔ کنز العمال میں ابن جریر کے حوالے سے واقعہ اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ: “یمن کے کچھ لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ ﷺ ہمارے یہاں کسی ایسے صاحب کو بھیج دئیے جو ہمیں دین سکھائیں اور شریعت کی تعلیم دیں، اور ہمارے نزاعات اور قضیوں کا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کریں۔ تو حضور ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تم اس کے لئے یمن چلے جاؤ حضرت علیؓ کا بیان ہے میں نے عرض کیا ہو سکتا ہے کہ وہاں کے لوگ میرے پاس ایسے مقدمات اور ایسے قضیے لے کر آئیں جن کے بارے میں مجھ کو علم نہ ہو تو حضور ﷺ نے میرے سینے پر اپنا دست مبارک رکھا اور فرمایا “إِذْهَبْ إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ، وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ” (جاؤ اللہ تعالیٰ تمہارے قلب کی رہنمائی فرمائے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا) آگے حضرت علیؓ نے بیان کیا کہ اس کے بعد سے اب تک مجھے کسی قضیہ کا فیصلہ کرنے میں کوئی شک و شبہ پیش نہیں آیا” ْ۔ (1) کنز العمال ہی میں مستدرک حاکم، ابن سعد، مسند احمد، ابن جریر وغیرہ کے حوالہ سے اسی واقعہ کی ایک اور روایت حضرت علیؓ ہی سے کی گئی ہے، اس میں ہے کہ: “جب میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ میں نو عمر ہوں اور مجھے نزاعات اور مقدمات کا فیصلہ کرنے میں کوئی خاص بصیرت حاصل نہیں ہے تو آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر رکھا اور دعا فرمائی۔ “اللَّهُمَّ ثَبِّتْ لِسَانَهُ، وَاهْدِ قَلْبَهُ” (اے اللہ تو اس کی زبان کو ثابت رکھ اور اس کے قلب کو ہدایت عطا فرما)۔ آخر میں حضرت علیؓ کا بیان ہے کہ “فَمَا أَشْكَلَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ” (تو حضور ﷺ کی اس دعا کے بعد میرے لئے کسی قضیہ کا فیصلہ نہیں ہوا)۔ (2) اس عاجز (راقم سطور) کا خیال ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ کے سینہ پر دست مبارک رکھا اور وہ دعا فرمائی جو روایت میں ذکر کی گئی ہے اور ساتھ ہی آپ ﷺ کو یقین ہو گیا کہ یہ دعا قبول فرما لی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ “إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ، وَيٌثَبِّتُ لِسَانَكَ” “سَيَهْدِي” میں “س” یقین کے اظہار کے لئے ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا ہے، انہوں نے اپنی قوم سے کہا: “كلا انى معى ربى سيهدين” یہ حقیقت امت کے مسلمات میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت علی مرتضیٰ کو نزاعات اور خصوصیات کے فیصلہ کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا اور اس بارے میں آپ کو تخصص اور امتیاز کا مقام حاصل تھا .... اور بلاشبہ یہ ان کی ایک بڑی فضیلت ہے اور ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کا معجزہ بھی ہے۔

2070Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسَى أَبْغَضَتْهُ الْيَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ، وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ مَنْزِلَتَهُ الَّتِي لَيْسَ بِهِ» ثُمَّ قَالَ: «يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلانِ مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ، وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي» (رواه احمد)

حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے علی! تم کو عیسیٰ ابن مریم سے خاص مشابہت ہے، یہودیوں نے ان کے ساتھ بغض و عداوت کا رویہ اختیار کیا، یہاں تک کہ ان کی ماں مریم پر (بدکاری کا) بہتان لگایا اور نصاریٰ نے ان کے ساتھ ایسی محبت کی کہ ان کو اس مرتبہ پر پہنچایا جو مرتبہ ان کا نہیں تھا، (رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرنے کے بعد) حضرت علیؓ نے فرمایا کہ (بےشک ایسا ہی ہو گا) دو طرح کے آدمی میرے بارے میں ہلاک ہوں گے، ایک محبت کے غلو کرنے والے جو میری وہ بڑائیاں بیان کریں گے جو مجھ میں نہیں ہیں، جو دوسرے بغض و عداوت میں حد سے بڑھنے والے۔ جن کی عداوت ان کو اس پر آمادہ کرنے گی کہ وہ مجھ پر بہتان لگائیں۔ (مسند احمد) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ ارشاد فرمایا تھا اور اسی کی بنیاد پر حضرت علی مرتضیٰؓ نے جو کچھ فرمایا اس کا ظہور ان کے دور خلافت ہی میں ہو گیا ..... خوارج کا فرقہ آپؓ کی مخالفت و عداوت میں اس حد تک چلا گیا کہ آپؓ کو مخرب دین۔ کافر اور واجب القتل قرار دیا، اور انہیں میں کے ایک شقی عبدالرحمٰن بن ملجم نے آپؓ کو شہید کیا اور اپنے اس بدبختانہ عمل کو اس نے اعلیٰ درجہ کا جہاد فی سبیل اللہ اور داخلہ جنت کا وسیلہ سمجھا۔ اور آپ کی محبت میں ایسے غلو کرنے والے بھی پیدا ہو گئے جنہوں نے آپ کو مقام الوہیت تک پہنچا دیا اور ایسے بھی جنہوں نے کہا کہ نبوت و رسالت کے لائق دراصل آپؓ ہی تھے اور اللہ تعالیٰ کا مقصد آپ ہی کو نبی و رسول بنانا تھا اور جبرائیل امین کو وحی لے کر آپ ہی کے پاس بھیجا تھا لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا اور وحی لے کر محمد ﷺ کے پاس پہنچ گئے اور ان کے علاوہ ایسے بھی جنہوں نے کہا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کے وصی اور آپ کے بعد کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نامزد امام و خلیفہ اور سربراہ امت تھے اور رسول اللہ ﷺ ہی کی طرح معصوم اور مفترض الطاعۃ تھے اور مقام و مرتبہ میں دوسرے تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل اور بالاتر تھے اور کائنات میں تصرف اور علم غیب جیسی خداوندی صفات کے بھی آپؓ حامل تھے۔ حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے حق میں غلو کرنے والے یہ لوگ مختلف فرقوں میں منقسم ہیں، مذاہب اور فرقوں کی تاریخ میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان فرقوں کی تعداد پچاس کے قریب تک پہنچتی ہے۔ ان فرقوں میں اکثر وہ ہیں جن کا ذکر صرف کتابوں میں ملتا ہے ہماری اس دنیا میں جہاں تک ہمارا علم ہے اب ان کا کہیں وجود نہیں ہے .... جو فرقے اب موجود ہیں ان میں بڑی تعداد فرقہ اثنا عشریہ کی ہے جس کا دوسرا نام امامیہ بھی ہے، اب اکثر ملکوں اور علاقوں میں اسی فرقہ کو “شیعہ” کہا جاتا ہے، یہ فرقہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے بعد ان کی اولاد میں گیارہ حضرات کو انہیں کی طرح اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے نامزد امت کا امام و حاکم اور آپ ہی کی طرح معصوم اور مفترض الطاعۃ اور تمام انبیاء سابقین سے افضل ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے، اس فرقہ کے عقائد کی تفصیل اور حقیقت حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کی بےنظیر فارسی تصنیف “تحفہ اثنا عشریہ” کے مطالعہ سے معلوم کی جا سکتی ہے اردو خواں حضرات اس موضوع پر امام اہل سنت حضرت مولانا محمد عبدالشکور فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف نیز اس عاجز (راقم سطور) کی کتاب “ایرانی انقلاب، امام خمینی اور شیعیت” کے مطالعہ سے بھی اس فرقہ کا تعارف حاصل کر سکتے ہیں۔

2071Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ صُهَيْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «مَنْ أَشْقَى الْأَوَّلِينَ؟» قَالَ: الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: «صَدَقْتَ، فَمَنْ أَشْقَى الْآخَرِينَ؟» قَالَ: لَا عَلِمَ لِي يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: «الَّذِي يَضْرِبُكَ عَلَى هَذِهِ» ، وَأَشَارَ إِلَى يَافُوخِهِ فَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ: وَدِدْتُ أَنَّهُ قَدْ انْبَعَثَ أَشْقَاكُمْ، فَيَخْضِبُ هَذِهِ - يَعْنِي لِحْيَتَهُ - مِنْ هَذِهِ» ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ " (رواه الطبرانى فى الكبير)

حضرت صہیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ سے (ایک دن) فرمایا، (بتلاؤ) اگلی امتوں میں سب سے زیادہ شقی اور بدبخت کون تھا؟ تو حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ اے رسول خدا (قوم ثمود کا) وہ بدبخت آدمی تھا جس نے اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اس کو مار ڈالا تھا (جس کو حضرت صالح علیہ السلام کے معجزہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے پتھر کی چٹان سے پیدا فرمایا تھا، یہ جواب سن کر رسول اللہ ﷺ نے) فرمایا کہ تم نے سچ اور ٹھیک بتایا، (اب بتلاؤ) بعد کے لوگوں میں سب سے زیادہ شقی اور بدبخت کون ہو گا؟ انہوں نے عرض کیا، مجھ کو اس کا علم نہیں، رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کے سر کے اگلے حصہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا وہ (انتہائی بدبخت اور سب سے زیادہ شقی) وہ ہو گا جو (تلوار سے) تمہاری اسی جگہ پر ضرب لگائے گا ..... تو حضرت عیل مرتضیٰ ؓ (حضور ﷺ کے اس ارشاد کی بنا پر اپنی داڑھی پکڑ کر) فرمایا کرتے تھے، اے عراق والوں میں آرزو مند ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم میں سے کوئی شقی اور بدبخت ترین آدمی اٹھے اور میری اس داڑھی کو رنگ دے میری اس پیشانی کے خون سے۔ (معجم کبیر) تشریح قرآن مجید کے آخری پارہ کے سورہ الشمس کے آخر میں حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ثمود کی بدترین کافرانہ سرکشی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا “كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا ﴿١١﴾ إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا” الایۃ .... ان آیتوں میں اس شخص کو “أَشْقَا” یعنی انتہائی درجہ کا بدبخت فرمایا گیا ہے جس نے اس اونٹنی کو مار ڈالا تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے صالح علیہ السلام کے معجزہ کے طور پر پیدا فرمایا تھا۔ حضرت علی مرتضیٰؓ نے حضور ﷺ کے دریافت فرمانے پر انہیں آیات کی روشنی میں عرض کیا تھا کہ اگلی امتوں میں کا انتہائی درجہ کا شقی اور بدبخت وہ تھا جس نے اس ناقہ کو مار ڈالا۔ اس عاجز راقم سطور کا خیال ہے کہ حضرت علی ؓ سے حضور ﷺ کا یہ سوال دراصل تمہید تھی۔ اس پیش گوئی کی جو آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے خود انہیں کے بارے میں فرمائی، آنحضرت ﷺ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے حضرت علیؓ کی شہادت کی پیشن گوئی اس تفصیل کے ساتھ فرمائی کہ بدبخت قاتل تمہارے سر کے اگلے حصہ پر تلوار سے ضرب لگائے گا جس کے نتیجہ میں تمہاری یہ داڑھی خون سے رنگ جائے گی اور ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ وہ قاتل بعد میں آنے والے لوگو ں میں سب سے زیادہ اشقیٰ اور انتہائی درجہ کا بدبخت ہو گا۔ آگے حضرت صہیب ؓ کے بیان سے معلوم ہوا کہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ اپنی شہادت کے بارے میں حضور ﷺ کی اس پیش گوئی کو اپنے حق میں بڑی بشارت سمجھتے تھے اور اپنے دار الحکومت عراق کے شہر کوفہ میں فرمایا کرتے تھے کہ اے اہل عراق میں اس کا آرزو مند ہوں اور شوق سے اس دن کا انتظار کر رہا ہوں، جب تم میں کا بدبخت ترین انسان میرے سر کے خون سے میری داڑھی کو رنگ دے گا۔ اور جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا آپ ﷺ کی وفات کے قریبا تیس سال بعد بالکل اسی طرح حضرت علیؓ کی شہادت ہوئی۔ ؓ وارضاہ۔ بلاشبہ پیشنگوئی اور اس کا ٹھیک اسی طرح پورا ہو جانا آپ ﷺ کے معجزات میں سے ہے۔ صَلَّى الله عَلَيْهِ واله وصحبه وبارك وَسَلَّمْ. حضرت علی مرتضیٰؓ کی شہادت صاحب مجمع الفوائد نے حضرت صہیبؓ کی مندرجہ بالا روایت کے بعد متصلا معجم کبیر طبرانی ہی کے حوالہ سے حضرت علی مرتضیٰ ؓ کی شہادت کا واقعہ کس قدر تفصیل سے اسمٰعیل ابن راشد کی روایت سے نقل کیا ہے، ذیل میں اس کا حاصل اور خلاصہ نذر ناظرین کیا جانا مناسب معلوم ہوا، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ فرقہ خوارج کا کچھ تعارف کرا دیا جائے۔ یہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے لشکر ہی کا ایک خاص گروہ تھا جو اپنی حماقت اور ذہنی کجروی کی وجہ سے ان کے ایک فیصلہ کو غلط اور معاذ اللہ قرآن مجید کے صریح خلاف سمجھ کر ان کا مخالف اور آمادہ بغاوت ہو گیا تھا، ان کی تعداد کئی ہزار تھی، پھر حضرت علی مرتضیٰ کی افہام و تفہیم کے نتیجہ میں ان میں سے ایک خاص تعداد راہ راست پر آ گئی، لیکن ان کی بڑی تعداد اپنی گمراہی پر قائم رہی اور قتل و قتال پر آمادہ ہو گئی بالآخر حضرت علی مرتضیٰؓ کو ان کے خلاف طاقت استعمال کرنی پڑی (تاریخ میں یہ واقعہ جنگ نہروان کے نام سے معروف ہے) جس کے نتیجے میں ان میں سے اکثر کا خاتمہ ہو گیا، کچھ باقی رہ گئے، ان باقی رہ جانے والوں میں سے تین شخص برک ابن عبداللہ عمرو ابن بکر تمیمی اور عبدالرحمٰن ابن ملجم مکہ میں جمع ہوئے انہوں نے صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ سارا فتنہ ان لوگوں کی وجہ سے جن کے ہاتھوں میں حکومت ہے، ان کو کسی طرح ختم کر دیا جائے، اس سلسلہ میں تین حضرات کو متبعین طور پر نامزد کیا .... حضرت معاویہ، حضرت عمرو بن العاص، حضرت علی مرتضیٰؓ ..... برک نے کہا کہ معاویہ کو قتل کر دینے کی ذمہ داری میں لیتا ہوں، عمرو تیمی نے کہا کہ عمرو بن العاص کو ختم کردینے کی میں ذمہ داری لیتا ہوں، عبدالرحمٰن ابن ملجم نے کہا کہ علی کو قتل کر دینے کی ذمہ داری میں لیتا ہوں، پھر انہوں نے آپس میں اس پر عہد و پیمان کیا اور اس کے لئے یہ اسکیم بنائی کہ ہم میں سے ہر ایک ۱۷؍ رمضان المبارک کو جب کہ یہ لوگ فجر کی نماز پڑھانے کے لئے نکل رہے ہوں، حملہ کر کے اپنا کام کریں، اس دور میں نماز کی امامت خلیفہ وقت یا ان کے مقرر کئے ہوئے امیر ہی کرتے تھے۔ اپنے بنائے ہوئے اس پروگرام کے مطابق برک ابن عبداللہ حضرت معاویہؓ کے دارالحکومت دمشق روانہ ہو گیا اور عمرو تمیمی مصر کی طرف جہاں کے امیر و حاکم حضرت عمرو بن العاصؓ تھے، اور عبدالرحمٰن ابن ملجم حضرت علی مرتضیٰؓ کے دارالحکومت کوفہ کے لئے روانہ ہو گیا۔ ۱۷؍ رمضان کی صبح فجر کی نماز پڑھانے کے لئے حضرت معاویہ تشریف لے جا رہے تھے، برک نے تلوار سے حملہ کیا، حضرت معاویہؓ کو کچھ محسوس ہو گیا اور انہوں نے دوڑ کر اپنے کو بچانا چاہا پھر بھی برک کی تلوار سے ان کی ایک سرین پر گہرا زخم آ گیا، برک کو گرفتار کر لیا گیا (اور بعد میں قتل کر دیا گیا) زخم کے علاج کے لئے طبیب بلایا گیا، اس نے زخم کو دیکھ کر کہا کہ جس تلوار کا زخم ہے، اس کو زہر میں بجھایا گیا ہے، اسو کے علاج کی ایک صورت یہ ہے کہ گرم لوہے سے زخم کو داغ دیا جائے اس طرح امید ہے کہ زہر سارے جسم میں سرایت نہیں کر سکے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میں آپ کو ایک ایسی دوا تیار کر کے پلاؤں جس کا اثر یہ ہو گا کہ اس کے بعد آپ کی کوئی اولاد نہ ہو سکے گی، حضرت معاویہؓ نے فرمایا کہ گرم لوہے کے داغ کو تو میں برداشت نہ کر سکوں گا اس لئے مجھے وہ دوا تیار کر کے پلا دی جائے، میرے لئے دو بیٹے یزید اور عبداللہ کافی ہیں ..... ایسا ہی کیا گیا اور حضرت معاویہ صحتیاب ہو گئے۔ عمرو تمیمی اپنے پروگرام کے مطابق حضرت عمرو بن العاصؓ کو ختم کرنے کے لئے مصر پہنچ گیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کہ ۱۷؍ رمضان کی رات میں حضرت عمرو بن العاص کو ایسی شدید تکلیف ہو گئی کہ وہ فجر کی نماز پڑھانے کے لئے مسجد نہیں آ سکے تھے انہوں نے ایک دوسرے صاحب خارجہ بن حبیب کو حکم دیا کہ وہ ان کی جگہ مسجد جا کر نماز پڑھائیں چنانچہ وہ آئے اور نماز پڑھانے کے لئے امام کے مصلے پر کھڑے ہوئے، تو عمرو نے ان کو عمرو ابن العاص سمجھ کر تلوار سے وار کیا۔ وہ وہیں شہید ہو گئے، عمرو گرفتار کر لیا گیا، لوگ اس کو پکڑ کر مصر کے امیر و حاکم حضرت عمرو بن العاصؓ کے پاس لے گئے، اس نے دیکھا کہ لوگ ان کو امیر کے لفظ سے مخاطب کر رہے ہیں، اس نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ بتلایا گیا کہ یہ مصر کے امیر و حاکم حضرت عمرو بن العاصؓ ہیں، اس نے کہا میں نے جس شخص کو قتل کیا وہ کون تھا؟ بتلایا گیا وہ خارجہ ابن حبیب تھے، اس بدبخت نے حضرت عمرو بن العاصؓ کو مخاطب کو کے کہا اے فاسق! میں نے تجھ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، حضرت عمرو بن العاص نے فرمایا تو نے یہ ارادہ کیا تھا اور اللہ تعالیٰ کا ارادہ وہ تھا جو ہو گیا، اس کے بعد خارجہ ابن حبیب کے قصاص میں عمرو تمیمی کو قتل کر دیا گیا۔ ان میں سے تیسرا خبیث ترین اور شقی ترین بدبخت عبدالرحمٰن ابن ملجم اپنے پروگرام کے مطابق کوفہ پہنچ گیا تھا وہ ۱۷؍ رمضان کو فجر سے پہلے مسجد کے راستے میں چھپ کر بیٹھ گیا، حضرت علی مرتضیٰؓ کا معمول تھا کہ وہ گھر سے نکل کر الصلوة الصلوة پکارتے ہوئے اور لوگوں کو نماز کے لئے بلاتے ہوئے مسجد تشریف تے۔ اس دن میں حسب معمول اسی طرح تشریف لا رہے تھے کہ اس بدبخت ابن ملجم نے سامنے سے آ کر اچانک آپ کی پیشانی پر تلوار سے وار کیا اور بھاگا لیکن تعاقب کر کے لوگوں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت علی مرتضیٰؓ کے سامنے پیش کیا گیا، آپ نے اپنے بڑے صاحبزادے حضرت حسن ؓ سے فرمایا کہ اگر میں زندہ رہا تو اس قاتل ابن ملجم کے بارے میں جیسا چاہوں گا فیصلہ کروں گا چاہوں گا تو معاف کر دوں گا، اور چاہوں گا تو قصاص میں قتل کرا دوں گا اور اگر میں اس میں فوت ہو جاؤں تو پھر اس کو شرعی قانون قصاص کے مطابق قتل کر دیا جائے لیکن مثنہ نہ کیا جائے (یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ اعضاء الگ الگ نہ کاٹے جائیں) کیوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ کٹ کھنے کتے کو بھی مارا جائے تو اس کو مثلہ نہ کیا جائے۔ حضرت علی مرتضیٰ ؓ خبیث ابن ملجم کی اس ضرب کے نتیجہ میں واصل بحق ہو گئے تو حضرت حسن ؓ کے حکم سے اس بدبخت کو قتل کیا گیا، اور غیظ و غضب سے بھرے ہوئے لوگوں نے اس کی لاش کو جلا بھی دیا۔

2072Maarif-ul-Hadith

فضائل خلفاء اربعہ

عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ زَوَّجَنِيَ ابْنَتَهُ، وَحَمَلَنِي إِلَى دَارِ الهِجْرَةِ، وَأَعْتَقَ بِلاَلاً مِنْ مَالِهِ، رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ، يَقُولُ الحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا، تَرَكَهُ الحَقُّ وَمَا لَهُ صَدِيقٌ، رَحِمَ اللَّهُ عُثْمَانَ، تَسْتَحْيِيهِ الْمَلاَئِكَةُ، رَحِمَ اللَّهُ عَلِيًّا، اللَّهُمَّ أَدِرِ الحَقَّ مَعَهُ حَيْثُ دَارَ. (رواه الترمذى)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:“اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ابو بکر پر، انہوں نے اپنی بیٹی (عائشہ) کا میرے ساتھ نکاح کر دیا، اور دارالہجرۃ مدینہ منورہ تک پہنچنے کے لئے میرے واسطے (سواری وغیرہ) سفر کے انتظامات کئے، اور بلال کو اپنے مال سے خرید کر آزاد کیا، ..... اللہ کی رحمت ہو عمر پر، وہ حق بات کہتا ہے اگرچہ کڑوی ہو، اس کی اس (بےلاگ) حق گوئی نے اس حال میں کر چھوڑا ہے کہ کوئی اس کا سچا اور پورا دوست نہیں .... اللہ کی رحمت ہو عثمان پر جس کا حال یہ ہے کہ فرشتے بھی اس سے شرماتے ہیں .... اور اللہ کی رحمت ہو علی پر، اے اللہ! تو حق اور سچائی کو اس کے ساتھ دائر اور سائر کر دے، وہ حق کے ساتھ رہے اور حق اس کے ساتھ ”۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعض ارشادات میں جس طرح ایک ساتھ شیخین حضرت ابو بکر و عمر ؓ کے فضائل بیان فرمائے اور جس طرح بعض ارشادات میں حضرت عثمان ؓ کو بھی شامل فرما کر ایک ساتھ تینوں حضرات کے فضائل بیان فرمائے (جو اپنے موقعہ پر پہلے ذکر کئے جا چکے ہیں) اسی طرح آپ نے اپنے بعض ارشادات میں حضرت علی مرتضیٰ ؓ کو بھی شامل فرما کر چاروں خلفاء کے فضائل ایک ساتھ بیان فرمائے ہیں ذیل میں آپ ﷺ کے ایسے ہی چند ارشادات پیش کئے جا رہے ہیں۔ تشریح .....رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں چاروں خلفاء راشدین کے لئے رحمت کی دعا فرمائی، سب سے پہلے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے حق میں دعاءرحمت فرمائی اور خصوصیت کے ساتھ ان کے تین اعمال خیر کا ذکر فرمایا، سب سے پہلے ان کے اس عمل کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا آپ ﷺ سے نکاح کر دیا .... اس عاجز کا خیال ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے علاوہ اگرچہ کم از کم آٹھ ازواج مطہرات آپ ﷺ کی اور بھی ہوئیں، لیکن حضرت عائشہؓ کے نکاح کی خاص اہمیت یہ تھی کہ آپ ﷺ کی سب سے پہلی رفیقہ حیات حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ جن کا وجود ان کے کمال ایمان، ان کی فراست و دانشمندی اور بالخصوص ان کی وجہ سے خانگی ضروریات کی فکروں سے بے فکر اور آزادی حاصل ہو جانے کی وجہ سے حضور ﷺ کے لئے باعث سکون کاطر تھا ..... ان کی وفات سے فطری طور پر آپ ﷺ کو غیر معمولی رنج اور صدمہ تھا، اس وقت عالم غیب کی طرف سے آپ ﷺ کو اشارہ ملا کہ ابو بکر کی بیٹی عائشہ تمہاری رفیقہ حیات ہوں گی۔ اگرچہ وہ اس وقت بہت کمسن تھیں لیکن آنحضرت ﷺ نے غیبی اشارہ کی بنا پر یقین فرما لیا کہ یہ منجانب اللہ مقدر ہو چکا ہے اور ان کی رفاقت حضرت خدیجہؓ ہی کی طرح میرے لئے خیر اور باعث سکون خاطر ہو گی، چنانچہ ایک نیک خاتون خولہ بنت حکیم نے حضرت ابو بکرؓ کو حضور ﷺ کی طرف سے رشتہ کا پیغام پہنچایا ..... جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا حضرت عائشہؓ اس وقت بہت کمسن تھیں نیز ان کی نسبت جبیر ابن مطعم کے بیٹے سے ہو چکی تھی جو ابو بکر ہی کی طرح مکہ کے خوشحال اور دولت مند لوگوں میں تھے .... اور مالی حیثیت سے حضور ﷺ کا جو حال تھا وہ ابو بکرؓ کے سامنے تھا اس کے باوجود انہوں نے حضور ﷺ کی اس حالت کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے اس امید پر کہ یہ نکاح رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کے سکون کا ذریعہ بنے گا اپنی اور بیٹی کی سعادت سمجھ کو اسے قبول کر لیا اور حضرت عائشہؓ کا آپ ﷺ سے نکاح کر دیا ..... بہرحال آنحضرت ﷺ نے اپنے مندرج بالا ارشاد میں حضرت ابو بکرؓ کے حق میں رحمت کی دعا کرنے کے ساتھ پہلے ان کے اس احسان کا ذکر فرمایا اس کے بعد ان کے اس دوسرے احسان کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کے لئے میرے واسطے انتظامات کئے اور پورے سفر میں میرے ساتھ رہے، آخر میں حضور ﷺ نے ابو بکر صدیقؓ کے اس تیسرے عمل خیر کا ذکر فرمایا کہ حضرت بلال حبشی ؓ کو جو مکہ کی ایک انتہائی سنگدل کافر و مشرک کے غلام تھے وہ صرف حضور ﷺ پر ایمان لانے اور شرک چھوڑ کر توحید کو قبول کر لینے کی وجہ سے ان کو سخت لرزہ خیز تکلیفیں دیتا تھا، حضرت ابو بکرؓ نے حضرت بلالؓ کے علاوہ بھی ایسے متعدد غلاموں اور باندیوں کو خرید کر آزاد کیا تھا جن کو ان کے کافر و مشرک مالک صرف ایمان لانے کے جرم میں تکلیفیں دیتے تھے لیکن حضرت بلالؓ حبشی کی خصوصیات کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد میں صرف انہیں کو خرید کر آزاد کرنے کا ذکر فرمایا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بعد آپ ﷺ نے دوسرے خلیفہ حضرت عمرؓ کے حق میں رحمت کی دعا فرمائی اور ان کے اس خاص وصف کا ذکر فرمایا کہ وہ مخلوق کی رضا مندی و ناراضی سے بےپرواہ ہو کر ہر معاملے میں حق بات کہتے ہیں اگرچہ وہ لوگوں کو کڑوی معلوم ہو اور اس کی وجہ سے ان سے دور اور ناراض ہو جائیں ..... معلوم ہوا کہ کسی بندہ کا یہ حال بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک ﷺ کے نزدیک بہت پسندیدہ ہے اور ایسا بندہ اللہ کی رحمت کا خاص طور پر مستحق ہے ..... حضرت عمرؓ کے بعد آپ ﷺ نے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانؓ کے حق میں رحمت کی دعا فرمائی اور ان کے اس وصف کا ذکر فرمایا کہ اللہ کے فرشتے بھی ان سے شرماتے ہیں (اسی سلسلہ معارف الحدیث میں حضرت عثمان ؓ کے فضائل میں ان کے اس وصف کا ذکر گذر چکا ہے) ..... حضرت عثمانؓ کے بعد آپ ﷺ نے چوتھے خلیفہ حضرت علی مرتضیٰؓ کے حق میں رحمت کی دعا فرمائی اور ساتھ ہی یہ دعا بھی فرمائی کہ اے اللہ! تو علی کے ساتھ حق کو دائر و سائر کر دے یعنی ہمیشہ وہ حق پر رہیں اور حق ان کے ساتھ رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں جس ترتیب کے ساتھ ان چاروں کا ذکر کیا اور ان کے حق میں رحمت کی دعا فرمائی اس سے مفہوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی امت میں یہ چاروں حضرات سب سے افضل اور بلند مرتبہ ہیں اور ان کے درمیان اسی ترتیب کے مطابق درجات کا فرق ہے، نیز اس ترتیب سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد یہ چاروں حضرات اسی ترتیب کے مطابق یکے بعد دیگرے آپ ﷺ کے خلیفہ اور جانشین ہوں گے ..... اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت سے ارشادات میں اسی ترتیب سے ان چاروں حضرات کا ذکر فرمایا گیا ہے اور ان سب احادیث سے یہی اشارہ ملتا ہے ..... ان میں سے چند حدیثیں ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں۔

2073Maarif-ul-Hadith

فضائل خلفاء اربعہ

عَنِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي دِينِ اللَّهُ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْضَاهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. (رواه ابن عساكر)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: میری امت کے لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ رحم دل میری امت میں ابو بکر ہیں ..... اور اللہ کے معاملہ میں سب سے سخت عمر بن خطاب ہیں ..... اور حیاء کے لحاظ سے میری امت میں سب سے افضل عثمان بن عفان ہیں اور نزاعات و خصومات کا فیصلہ کرنے میں علی ابن ابی طالب میری امت میں سب سے فائق ہیں۔ (ابن عساکر) تشریح رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد میں خلفاء اربعہ میں سے ہر ایک کے اس وصف کا ذکر فرمایا ہے، جس میں اس کو امت کے تمام دوسرے افراد پر امتیاز حاصل ہے ..... حضرت ابو بکرؓ صفت رحمت اور رحم دلی کے لحاظ سے تمام امت میں فائق ہیں ..... اسی طرح شدت فی امر اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام اور حقوق کے بارے میں سخت گیری کے لحاظ سے حضرت عمر ؓ ممتاز ہیں علیٰ ہذا صفت حیاء جس کو حدیث شریف میں ایمان کا خاص شعبہ بتایا گیا ہے اس ایمانی صفت کے لحاظ سے امت میں حضرت عثمان ابن عفان ؓ کو امتیاز حاصل ہے، اور نزاعات و خصومات کا صحیح اور حق کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت جو اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت اور الٰہی اور نبوی خلافت کا خاص وظیفہ ہے اس میں حضرت علی مرتضیٰ ؓ کو تمام امت پر فوقیت حاصل ہے۔

2074Maarif-ul-Hadith

فضائل خلفاء اربعہ

عن أبي هريرة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: من فضل على أبي بكر وعمر وعثمان وعلي فقد رد ما قلته وكذب ما هم أهله. (رواه الرافعى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جس نے ابو بکر و عمر اور عثمان و علی پر (کسی اور کو) فضیلت دی تو ا س نے میری بتلائی ہوئی بات کی تردید کی، اور یہ چاروں (عنداللہ) جس مرتبے پر ہیں، اس کی تکذیب کی۔ (الرافعی) تشریح حدیث کسی تشریح کی محتاج نہیں، اہل حق کا اس پر اجماع اور اتفاق ہے کہ یہ چاروں حضرات تمام امت میں افضل ہیں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اس بارے میں واضح ہیں جو کوئی بد عقیدہ شخص کسی دوسرے کو ان چاروں سے افضل جانے تو وہ رسول اللہ ﷺ کی ارشادات کی تردید اور مخالفت کا مرتکب ہوا۔

2075Maarif-ul-Hadith

فضائل خلفاء اربعہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَا يَجْتَمِعُ حُبُّ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةِ أَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِىٍّ فِيْ قَلْبِ مُنَافِقٍ. (رواه الطبرانى فى الاوسط وابن عساكر)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ان چاروں (میرے ساتھیوں اور رفیقوں ابو بکر و عمر اور عثمان و علی) کی محبت کسی منافق کے دل میں جمع نہ ہو گی۔ (معجم اوسط طبرانی، ابن عساکر) تشریح یہ حدیث بھی کسی تشریح کی محتاج نہیں بفضلہٖ تعالیٰ اہل السنۃ والجماعۃ کا حال یہی ہے کہ وہ ان چاروں حضرات سے محبت کو گویا جزو ایمان یقین کرتے ہیں اور جو بدنصیب ان میں سے کسی ایک سے بھی بغض رکھے اس کو فاسد العقیدہ اور حقیقی ایمان سے محروم جانتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر لکھا گیا تھا کتب حدیث میں اور بھی ایسی روایات ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے ان خلفاء اربعہ کی فضیلت اور ان کے امتیاز کا ذکر اسی ترتیب سے فرمایا ہے، ان سب روایات سے ان حضرات کی فضیلت کے ساتھ ان کے درمیان فرق مراتب اور خلافت کے بارے میں ترتیب کا بھی اشارہ ملتا ہے۔ خلفاء اربعہ کے فضائل کے بارے میں ایک قابل لحاظ حقیقت حدیث کی اکثر کتابوں میں شیخین (حضرت ابو بکرؓ و عمر ؓ) کے فضائل کے بارے میں حدیثوں کی تعداد کم ہے ..... حضرت عثمان ؓ کے فضائل سے متعلق حدیثوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے اور حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے فضائل سے متعلق حدیثوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ..... اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دور صحابہ میں شیخین کی شخصیتیں متفق علیہ تھیں اور کسی کو اس کی ضرورت نہیں تھی کہ ان کے فضائل کی روایتیں تلاش کرے اور امت کے عوام کو پہچائے، حضرت عثمان ؓ کی خلافت کے آخری سالوں میں خاص طور سے ایک گروہ کی سازش اور شرارت سے جس کا سرغنہ ایک منافق عبداللہ بن سبا تھا ان کی شخصیت متفق علیہ نہیں رہی، اس لئے اس کی ضرورت پیدا ہو گئی کہ ان کے فضائل سے متعلق روایتیں تلاش کر کے بیان کی جائیں۔ اسی وجہ سے ان کے فضائل سے متعلق حدیثوں کی تعداد حدیث کی کتابوں میں شیخین کی بہ نسبت زیادہ ہے ان کے بعد حضرت علی مرتضیٰ ؓ کی شخصیت بھی متنازعہ وہ گئی اور خوارج کا ایک مستقل ایسا گروہ بھی پیدا ہو گیا جو ان کو دین اور امت میں فتنہ جانتا اور واجب القتل سمجھتا تھا (جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے)۔ اس لئے ان کے فضائل کی حدیثیں تلاش کرنے کی بھی ضرورت پیدا ہو گئی اور اللہ کے مخلص بندوں نے محنت و تلاش سے ان کے فضائل کی حدیثیں جمع کیں۔ علاوہ ازیں ان کے بارے میں غلو کرنے والوں میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جو ان کے فضائل میں حدیثیں وضع کرنا کار ثواب سمجھتے تھے، ان میں سے بہت سے بظاہر صالحین کی سی زندگی گذارتے تھے۔ ہمارے محدثین بشر ہی تھے ان کا زمانہ بھی ان راویوں کے بہت بعد کا تھا، وہ ان کے اندرونی حال سے واقف نہ ہو سکے اور ان کی روایتیں بھی ہماری کتب حدیث میں شامل ہو گئیں، اس لئے بھی حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے فضائل کی روایات ہماری کتب حدیث میں خلفاء ثلثہ کی بہ نسبت بہت زیادہ تعداد میں نظر آتی ہیں۔ اس بات کی ضرورت واقعۃً موجود ہے کہ ان احادیث کا محدثانہ اور محققانہ اصول و قواعد کی روشنی میں جائزہ لیا جائے ..... یہ عاجز اب عمر کے اس مرحلہ اور ضعف و معذوری کے اس حال میں ہے کہ خود اس طرح کے کسی کام کی ہمت نہیں کر سکتا، دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کام کا داعیہ اس کے اہل لوگوں کے قلب میں ڈال دے اور یہ کام بھی انجام پا جائے۔

2076Maarif-ul-Hadith

عشرہ مبشرہ کے بقیہ حضراتؓ کے فضائل

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي الْجَنَّةِ» (رواه الترمذى)

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ابو بکرؓ جنتی ہیں، عمرؓ جنتی ہیں، عثمانؓجنتی ہیں، علیؓ جنتی ہیں، طلحہؓ جنتی ہیں،، زبیرؓ جنتی ہیں، عبدالرحمٰن بن عوفؓ جنتی ہیں، سعد بن ابی وقاصؓ جنتی ہیں، سعید بن زیدؓ جنتی ہیں، اور ابو عبیدہ الجراحؓ جنتی ہیں۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک ارشاد میں (جو ناظرین کرام ان تمہیدی سطروں کے بعد جامع ترمذی کے حوالہ سے پڑھیں گے) اپنے اصحاب کرام سے خصوصیت کے ساتھ دس حضرات کو نامزد کر کے اعلان فرمایا کہ یہ جنتی ہیں .... ان حضرات کو عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے۔ ان دس میں خلفاء اربعہ حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان ذو النورین، حضرت علی مرتضیٰ ؓ بھی ہیں اور حضور نے سب سے پہلے انہیں کے جنتی ہونے کا اعلان فرمایا ہے، ان حضرات کے فضائل و مناقب سے متعلق حدیثیں ناظرین کرام کی نظر سے گذر چکی ہیں، ان کے علاوہ باقی حضرات کے فضائل سے متعلق حدیثیں ذیل میں درج کی جا رہی ہیں۔ تشریح ..... ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کا یہ اعلان وحی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع اور اس کے حکم سے تھا ..... جمہور علماء اہل سنت نے حضور کے اس ارشادع ہی سے یہ سمجھا ہے کہ یہ دس حضرات باقی اصحاب کرام اور پوری امت میں افضل ہیں، اگرچہ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے حضرات کے جنتی ہونے کی حضور ﷺ نے مختلف مواقع پر اطلاع دی ہے، لیکن ان دس حضرات کو دوسرے تمام حضرات کے مقابلہ میں امتیاز اور فضیلت حاصل ہے۔ واللہ اعلم۔ آنحضرت ﷺ کے مندرجہ بالا ارشاد میں حضرات خلفاء اربعہ کے بعد جس ترتیب سے باقی حضرات کے اسماء گرامی درج کئے گئے ہیں اسی ترتیب کے مطابق ان حضرات کے فضائل کی حدیثیں ذیل میں درج کی جا رہی ہیں۔

2077Maarif-ul-Hadith

حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ. (رواه الترمذى)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طلحہ ابن عبیداللہ کو دیکھ کر فرمایا جس کے لئے یہ بات خوشی اور مسرت کا باعث ہو کہ وہ کسی ایسے شہید کو دیکھے جو زمین پر چل پھر رہا ہو تو وہ طلحہ ابن عبیداللہ کو دیکھ لے۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر یہ بات منکشف فرما دی گئی تھی کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ شہید ہوں گے، آپ ﷺ نے اس ارشاد میں جس خاص انداز میں ان کے شہید ہونے کی اطلاع دی، ظاہر ہے کہ اس سے حضور ﷺ کا مقصد ان کی ایک خاص فضیلت اور عنداللہ ان کی شہادت کی غیر معمولی اہمیت اور مقبولیت بیان فرمانا تھا۔ حضرت طلحہ ابن عبیداللہ رسول اللہ ﷺ کے وصال فرمانے کے قریباً پچیس سال بعد جنگ جمل میں شہید ہوئے۔ بلاشبہ آنحضرت ﷺ کا ان کی شہادت کی اطلاع دینا آپ کے معجزات میں سے ہے۔

2078Maarif-ul-Hadith

حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ

عَنْ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ عَلَى النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ فَنَهَضَ إِلَى الصَّخْرَةِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَقَعَدَ تَحْتَهُ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الصَّخْرَةِ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَوْجَبَ طَلْحَةُ. (رواه الترمذى)

حضرت زبیر ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ جنگ احد کے دن آنحضرت ﷺ دو زرہیں پہنے ہوئے تھے، آپ نے اسی حالت میں پتھر کی ایک چٹان پر چڑھنا چاہا تو (دو زرہوں کے بوجھ اور دباؤ کی وجہ سے) آپ چٹان پر چڑھ نہیں سکے، تو طلحہ بیٹھ گئے تا کہ آپ ان کے اوپر اپنا قدم مبارک پر رکھ کر اس چٹان تک پہنچ سکیں چنانچہ) آپ ﷺ ان پر اپنا پائے مبارک رکھ کر پتھر کی اس چٹان تک پہنچ گئے (حضرت زبیرؓ بیان کرتے ہیں) میں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر فرمایا “أَوْجَبَ طَلْحَةُ” یعنی طلحہ نے اپنے لئے (جنت واجب کر لی۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب واضح ہے کسی تشریح کا محتاج نہیں۔ حدیث میں آنحضرت ﷺ کے دو زرہیں پہننے کا ذکر ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنگ کے موقع پر اپنی حفاظت اور دشمن پر فتح حاصل کرنے کے لئے امکانی حد تک اسباب کا استعمال کرنا نہ صرف یہ کہ توکل کے منافی نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کی سنت بھی ہے۔

2079Maarif-ul-Hadith

حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ

عَنْ قَيْسِ ابْنِ حَازِمٍ قَالَ: «رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ» (رواه البخارى)

قیس ابن ابی حازم ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے طلحہ کا ہاتھ دیکھا کہ وہ شل ہو چکا تھا، انہوں نے غزوہ احد میں رسول اللہ ﷺ کو اس ہاتھ کے ذریعہ (دشمن کے تیروں کا نشانہ بننے سے) بچایا تھا۔ (صحیح بخاری) تشریح جنگ احد کے دن ایک وقت ایسا آیا کہ دشمن لشکر کے تیر اندازوں نے خصوصیت سے رسول اللہ ﷺ کو اپنے تیروں کا نشانہ بنا کر آپ کو شہید کر دینا چاہا ..... اس وقت جب کہ آنحضرت ﷺ پر تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی، حضرت طلحہ ابن عبیداللہؒ نے اپنے سپر کے ذریعہ حضور ﷺ کو بچانے کی کوشش کی، اسی حال میں ہاتھ ایسا زخمی ہوا کہ سپر ہاتھ سے گر گیا تو انہوں نے خود اپنی ذات اور اپنے پورے جسم کو خاص طور سے اپنے دونوں ہاتھوں کو سپر بنا لیا اور حضور کی طرف آنے والے ہر تیر کو اپنے اوپر لیا دشمن کا ایک تیر بھی حضور ﷺ تک نہیں پہنچنے دیا، جس کی وجہ سے ایک ہاتھ تو بالکل شل ہو گیا اور پورا جسم گویا چھلنی ہو گیا، روایات میں ہے کہ ان کے جسم پر اسی سے اوپر زخم شمار کئے گئے لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق زندہ ہے اور احد کے بعد بھی قریباً تمام ہی غزوات میں حضور ﷺ کے ساتھ رہے، پھر آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد حضرت عثمان ؓ کی شہادت تک دین اور امت مسلمہ کی خدمت ہی ان کا نصب العین اور ان کی زندگی کا مصرف رہا یہاں تک کہ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا جنگ جمل میں شہید ہوئے۔ ؓ وارضاہ۔ اس روایت کے سلسلے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس کے راوی قیس ابن ابی ھازم معروف اصطلاح کے مطابق صحابی نہیں ہیں، انہوں نے آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں اسلام قبول کر لیا تھا اور حضور ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کے ارادہ سے مدینہ منورہ کی طرف سفر کیا لیکن ایسے وقت پہنچے کہ آنحضرت ﷺ اس دنیا سے رفیق اعلیٰ کی طرف رحلت فرما چکے تھے، اس لئے اگرچہ تابعین میں ہیں، لیکن چونکہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضری اور زیارت و بیعت کی نیت سے مدینہ منورہ کی طرف سفر کیا تھا، اس لئے ان کتابوں کے مصنفین نے حضور ﷺ کے ارشاد “إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى” کی روشنی میں ان کی نیت ہی کو عمل کے قائم مقام قرار دے کر صحابہ کرامؓ کے ساتھ شمار کر لیا ہے۔

2080Maarif-ul-Hadith

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ القَوْمِ يَوْمَ الأَحْزَابِ؟» قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ احزاب کے دن حضور ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو دشمن قوم (کے لشکر) کی خبر لائے، حضرت زبیرؓ نے عرض کیا۔ میں (خبر لاؤں گا) اس پر (ان کے اس عرض کرنے پر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کے لئے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح غزوہ احزاب جس کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے، راجح قول کے مطابق ۵؁ھ کے اواخر میں ہوا بعض حیثیتوں سے اس غزوہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے قرآن مجید میں غیر معمولی انداز میں پورے دو رکوع میں اس غزوہ کے حالات کا ذکر فرمایا گیا ہے، اسی وجہ سے اس سورۃ کا نام الاحزاب ہے، س کے بارے میں تفصیلات حدیث اور سیرت کی کتابوں مین دیکھی جا سکتی ہیں، ہاں عام ناظرین کی واقفیت کے لئے کسی قدر اختصار کے ساتھ اس کا واقعہ لکھا جاتا ہے۔ معلوم ہے کہ قریش مکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کے شدید ترین دشمن تھے۔ بدر اور احد کے تجربوں اور حالات کی رفتار دیکھنے کے بعد انہوں نے گویا طے کر لیا تھا کہ آئندہ وہ اپنی طرف سے مسلمانوں کے خلاف کوئی جنگی اقدام نہیں کریں گے ..... مدینہ طیبہ کے جوار میں جو یہودی قبائل آباد تھے، ان میں سے بنو نضیر کو ان کی شرارتوں اور فتنہ انگیزیون کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے جلا وطن کرا دیا تھا اور وہ خیبر جا کر آباد ہو گئے تھے .... سازش اور فتنہ پردازی یہودیوں کی گویا فطرت ہے، انہوں نے خیبر میں آباد ہو جانے کے بعد یہ اسکیم بنائی کہ عرب کے تمام بڑے قبائل کو اس پرا ٓمادہ کیا جائے کہ وہ اپنی پوری اجتماعی طاقت کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے مرکز مدینہ پر حملہ کریں اور ان کو نیست و نابود کر دیں گے اس مقصد کے لئے بنو نضیر کا ایک وفد پہلے مکہ معظمہ پہنچا اور قریش کے سرداروں کی سامنے جو اسلام اور مسلمانوں کے شدید ترین دشمن تھے اپنی یہ اسکیم رکھی، اور ساتھ ہی بتلایا کہ ہم اس کی پوری کوشش کریں گے کہ دوسرے قبیلے بھی اس جنگ میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ شریک ہوں اور مدینہ کے قریب میں جو یہودی آبادیاں ہیں (بنو قریظہ وغیرہ) وہ بھی اس جنگ میں آپ کا پورا ساتھ دیں گے اور اس صورت میں مسلمان آپ لوگوں کا مقابلہ نہ کر سکیں گے اور ان کا نام و نشان تک مٹ جائے گا ..... قریش مکہ کے ان سرداروں کو راضی کرنے کے بعد اس وفد نے قبیلہ غطفان اور بنو اسد وغیرہ قبائل میں پہنچ کر ان کو بھی اس جنگ میں شرکت پر آمادہ کیا اور بتلایا کہ اس جنگ کے نتیجہ میں مدینہ اور اس کے قرب و جوار کے پورے علاقے پر جو بہت سرسبز و شاداب اور بہت زرخیز تھا، آپ لوگوں کا قبضہ ہو جائے گا، چنانچہ یہ قبیلے بھی آمادہ ہو گئے، اس طرح قریش مکہ، غطفان، بنو اسد وغیرہ عرب قبائل پر مشتمل دس ہزار اور ایک روایت کے مطابق بارہ ہزار کا لشکر مدینہ پر حملہ کے لئے تیار ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ کو دشمنانِ اسلام کے اس ناپاک منصوبہ کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے معمول کے مطابق اپنے خواص اصحاب سے مشورہ کیا .... صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں ان مسلمانوں کی کل تعداد جن سے جنگ میں حصہ لینے کی توقع کی جا سکتی تھی، تین ہزار سے زیادہ نہ تھی وہی اس وقت کی اسلامی فوج تھی، اس کے پاس زندگی کی ضروریات اور جنگ کا سامان اس کا عشر عشیر بھی نہ تھا، جو دشمن لشکر کے پاس تھا، اس لئے مشورہ ہی سے جنگی حکمت عملی یہ طے کی گئی کہ باہر نکل کر کھلے میدان جنگ نہ کی جائے بلکہ مدینہ میں رہ کر ہی مدافعانہ جنگ کی جائے۔ سلمان فارسیؓ جو ایرانی النسل تھے انہوں نے بتلایا کہ ایسے موقعوں پر ہمارے ملک ایران میں کثیر التعداد اور طاقت ور دشمن لشکر کے مقابلے اور اس سے بچاؤ کے طریقہ یہ ہے کہ ایسی خندق کھودی جاتی ہے کہ آدمی نہ خود ہی چھلانگ لگا کر اس کو پار کر سکے اور نہ گھوڑے کا سوار۔ مدینہ منورہ تین طرف سے قدرتی طور پر پہاڑوں وغیرہ سے اس طرح گھرا ہوا تھا کہ ان سمتوں سے کسی بڑے لشکر کے حملہ آور ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا، ایک سمت شمال مشرق کھلی ہوئی تھی کہ دشمن لشکر اس طرف سے حملہ کر سکتا تھا .... رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام نے سلمان فارسیؓ کے مشورہ کو قبول کرنا مناسب سمجھا اور اس سمت میں خندق کھودے جانے کا فیصلہ کر لیا گیا اس خندق کی گہرائی اور چوڑائی قریباً دس ہاتھ تھی، دس (۱۰) دس (۱۰) مسلمانوں کی جماعت بنا کر ان پر خندق کا کام تقسیم کر دیا گیا اور صحابہ کرامؓ نے انتہائی مشقت کے ساتھ سخت سردی کے موسم میں دن کے علاوہ سرد راتوں میں بھی کھدائی کا کام کیا، اس خندق کا طول آثار مدینہ کے بعض ماہرین کے لکھنے کے مطابق تقریباً پانچ ہزار ذراع یعنی ڈھائی ہزار گز تھا (گویا قریباً ڈیڑھ میل)۔ دشمن لشکر ابو سفیان کی سربراہی میں آیا اور خندق کے مقابل میدان میں پڑاؤ ڈالا ان لوگوں کے ساتھ خیمے وغیرہ بھی تھے اور کھانے پینے کا سامان بھی وافر، قریباً ایک مہینے تک یہ لشکر پڑاؤ ڈالے رہا لیکن خندق کو پار کر کے مدینہ پر حملہ کرنا اس لشکر کے لئے ممکن نہ تھا بس دونوں طرف سے کچھ تیر اندازی ہوئی، سیر کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں صحابہ کرام میں سے سات شہید ہوئے اور مشرکین میں چار جہنم واصل ہوئے ..... قرآن مجید (سورۃ الاحزاب) میں اس غزوہ میں مسلمانوں کی سخت ترین آزمائش اور قربانی کا جس طرح ذکر فرمایا گیا ہے اس طرح کسی دوسرے غزوہ کے بارے میں ذکر نہیں فرمایا گیا، آگے قرآن مجید ہی میں یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ جب مسلمانوں کی مشقت و مصیبت اور قربانی انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی مدد آئی یہ ایسی تیز و تند ہوا تھی جس نے دشمن لشکر کے سارے خیمے اکھاڑ پھینکے چولہوں پر دیگیں چڑھی ہوئی تھیں وہ سب الٹ گئیں، ان کے کچھ گھوڑے اور اونٹ رسیاں تڑا کر مختلف فمتوں میں بھاگ گئے ..... (میرا خیال ہے کہ لشکر کے بہت سے لوگوں نے آندھی کی اس غیر معمولی نوعیت کی وجہ سے اس کو خداوندی عذاب سمجھا ہو گا) .... لشکر کے قائد اور سپہ سالار ابو سفیان نے بھی واپسی کا فیصلہ کر لیا اور اس طرح پورا لشکر نامراد ہو کر واپس ہو گیا۔ وَكَفَى اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ اسی غزوہ میں کسی خاص مرحلہ پر آنحضرت ﷺ کو دشمن لشکر کا حال معلوم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ نے فرمایا “مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ القَوْمِ” یعنی کون ہے جو دشمن لشکر کا حال معلوم کر کے لائے، ظاہر ہے کہ اس میں جان کا بھی خطرہ تھا ..... حضرت زبیرؓ نے سبقت کر کے عرض کیا کہ اس خدمت کو میں انجام دوں گا، اس پر حضور ﷺ نے خوش ہو کر فرمایا ہر نبی کے لئے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں۔ اردو میں کوئی لفظ نہیں ہے جو حواری کے پورے مفہوم کو ادا کر سکے (جاں نثار، رفیق کار اور مدد گار کے الفاظ سے کسی حد تک حواری کا مطلب ادا ہو جاتا ہے) ..... بلا شبہ حضرت زبیر ؓ کی یہ بڑی فضیلت ہے۔ ان کے بارے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عشرہ مبشرہ میں حضرت علی مرتضیٰؓ کی طرح ان کو بھی رسول اللہ ﷺ کی قرابت قریبیہ حاصل ہے، حضرت علی مرتضیٰؓ آپ کے چچا ابو طالب بن عبدالمطلب کے بیٹے ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ کے چچازاد بھائی ہیں اور حضرت زبیرؓ آپ کی پھوپھی حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی۔ ؓ وارضاہ۔