Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 105 of 106

2081Maarif-ul-Hadith

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعَلِيٌّ، وَعُثْمَانُ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ» (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حراء پہاڑ پر رسول اللہ ﷺ تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ ابو بکرؓ و عمرؓ، علیؓ، عثمانؓ اور طلحہؓ و زبیرؓ بھی تھے۔ تو پہاڑ کی اس چٹان میں (جس پر یہ حضرات تھے) جنبش پیدا ہوئی تو آپ ﷺ نے (پہاڑ کو مخاطب کر کے) فرمایا کہ ساکن ہو جا کہ تیرے اوپر بس اللہ کا ایک نبی ہے اور ایک صدیق اور شہید ہونے والے۔ (صحیح مسلم) تشریح جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کا معجزانہ واقعہ کئی دفعہ پیش آیا ہے، وہ حدیثیں پہلے ذکر کی جا چکی ہیں، جن میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ صرف شیخین یا ان کے علاوہ حضرت عثمانؓ و حضرت علیؓ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، اس حدیث میں جس واقعہ کا ذکر ہے، اس میں آپ کے ساتھ خلفاء اربعہ کے علاوہ عشرہ مبشرہ میں سے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ بھی تھے، اور اس حدیث میں آپ نے ان دونوں کے شہید ہونے کی بھی پیشن گوئی فرمائی اور یہ دونوں حضرات اسی پیشن گوئی کے مطابق جنگ جمل میں مظلومانہ شہید ہوئے۔

2082Maarif-ul-Hadith

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنِي مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ جَارَايَ فِي الجَنَّةِ. (رواه الترمذى)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میرے دونوں کانوں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے سنا آپ ﷺ ارشاد فرماتے تھے کہ طلحہؓ اور زبیرؓ جنت میں میرے ہمسایہ ہوں گے۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب واضح ہے کسی تشریح کا محتاج نہیں البتہ یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ ان دونوں حضرات (حضرت طلحہؓ و زبیرؓ) رسول اللہ ﷺ سے سنے ہوئے فضائل خاص طور سے آپ ﷺ کے وہ ارشادات جن میں ان دونوں بزرگوں کے شہید فی سبیل اللہ اور جنتی ہونا ذکر فرمایا گیا ہے خاص اہتمام سے بیان فرماتے تھے چنانچہ یہی حدیث جس میں ان دونوں حضرات کی یہ عظیم ترین فضیلت بیان ہوئی ہے کہ “یہ دونوں جنت میں میرے ہمسایہ ہوں گے، اس کے لئے حضرت علیؓ نے یہ پیرایہ بیان اختیار فرمایا کہ “سَمِعَتْ أُذُنِي مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ” کہ میرے کانوں نے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے سنا آپ ﷺ ارشاد فرماتے تھے، ظاہر ہے کہ یہ پیرایہ بیان اسی خاص اہتمام کا مظہر ہے اور اس کی خاص وجہ غالباً یہ تھی کہ ان دونوں حضرات کو جنگ جمل کے موقعہ پر جب کہ یہ دونوں جنگ سے کنارہ کش ہو گئے تھے حضرت علی مرتضیٰؓ کے لشکر کے بعض بدبختوں نے ان کو شہید کیا تھا۔ اس جنگ کے بارے میں اتنی وضاحت یہاں بھی کر دینا ضروری ہے کہ یہ اس دنیا کی وہ عجیب و غریب اور عبرت آموز جنت تھی جس کے دونوں فریقوں میں سے کوئی ایک بھی جنگ کرنا نہیں چاہتا تھا، دونوں ایک دوسرے کے فضائل و مناقب سے واقف اور ان کے معترف تھے، لیکن کچھ شیاطین الانس عبداللہ بن سبا اور اس کے چیلوں نے اپنی شیطنت و فریب کاری سے رات کے اندھیرے میں دونوں فریقوں میں جنگ کرا دینے میں کامیابی حاصل کر لی ..... بہرحال یہ جنگ بلا ارادہ محض دھوکہ میں ہوئی جنگ کے بعد دونوں فریقوں کو انتہائی رنج و افسوس ہوا، اور وہ برابر استغفار اور تلافی کی ممکن کوشش کرتے رہے۔ اس جنگ کے بارے میں تفصیلات ان کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں جن میں اس پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔

2083Maarif-ul-Hadith

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

عَنْ الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ الْاَنْصَارِىِّ قَالَ: سَأَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ فِي الشِّعْبِ: «هَلْ رَأَيْتَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ؟» قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْتُهُ إِلَى حَرِّ الْجَبَلِ، وَعَلَيْهِ عَكَرٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَهَرَبْتُ إِلَيْهِ لِأَمْنَعَهُ، فَرَأَيْتُكَ فَعَدَلْتُ إِلَيْكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُقَاتِلُ مَعَهُ» . فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَجِدُهُ بَيْنَ نَفَرٍ سَبْعَةٍ صَرْعَى، فَقُلْتُ لَهُ: ظَفِرَتْ يَمِينُكَ، أَكُلَّ هَؤُلَاءِ قَتَلْتَ؟ قَالَ: أَمَّا هَذَا لِأَرْطاةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ، وَهَذَا فَأَنَا قَتَلْتُهُمَا، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَقَتَلَهُمْ مَنْ لَمْ أَرَهُ. قُلْتُ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواه ابن منذه فى مسنده والطبرانى فى المعجم الكبير و ابو نعيم فى الحلية)

حضرت حارث بن صمہ انصاریؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ غزوہ احد کے دن جب کہ رسول اللہ ﷺ گھاٹی میں تھے، آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: “کہ تم نے عبدالرحمن بن عوف کو دیکھا ہے؟” میں نے عرض کیا “ہاں یا رسول اللہ! مین نے ان کو دیکھا ہے، پہاڑ کے سیاہ پتھروں والے حصے کی طرف، اور ان پر حملہ کر رہی تھی مشرکین کی ایک جماعت، تو میں نے ارادہ کیا ان کی پاس جانے کا تا کہ میں ان کو بچاؤں کہ اسی وقت میری نگاہ آپ ﷺ پر پڑی، تو میں آپ کی طرف چلا آیا!”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کے فرشتے عبدالرحمن بن عوف کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں۔” (حارث کہتے ہیں کہ) حضور ﷺ سے یہ بات سننے کے بعد میں عبدالرحمٰن بن عوف کی طرف لوٹ آیا، تو می نے ان کو اس حال میں دیکھا کہ سات مشرکوں کی لاشیں ان کے پاس پڑی تھیں تو میں نے ان سے کہا۔ کامیاب اور فتح یاب رہیں تمہارے ہاتھ، کیا ان سب کو تم نے قتل کیا ہے؟ انہوں نے کہا: کہ یہ ارطاہ بن عبد شرحبیل اور یہ دو ان کو تو میں نے قتل کیا ہے، باقی یہ چار میں نے نہیں دیکھا کہ ان کو کس نے قتل کیا ہے۔ (ان کا یہ جواب سن کر) میں نے کہا کہ “صادق ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ ”۔ (روایت کیا اس کو ابن منذہ نے اپنے مسند میں اور طبرانی نے معجم کبیر میں اور ابو نعیم نے حلیہ میں) تشریح حدیث کا مطلب صحیح طور پر سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ غزوہ احد کے بارے میں مختصراً کچھ ذکر کر جائے۔ غزوہ بدر جو رمضان المبارک ۲؁ھ میں ہوا تھا م، اس میں مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے، اور سامان جنگ نہ ہونے کے برابر تھا، کیوں کہ مدینہ سے کسی باقاعدہ جنگ کے ارادہ سے چلے ہی نہ تھے، اس لئے جو سامان جنگ ساتھ لے سکتے تھے وہ بھی ساتھ نہیں اور مکہ کے مشرکین کے لشکر کی تعداد تین گنی سے بھی زیادہ ایک ہزار تھی، وہ جنگ ہی کے ارادہ سے پورے سامان جنگ کے ساتھ لیس ہو کر آئے تھے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی خاص غیبی مدد سے مسلمانوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی، مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں سے قتل ہو کر مشرکین مکہ میں ستر (۷۰) جہنم رسید ہوئے جن میں ابو جہل اور اس جیسے کئی دوسرے قریشی سردار بھی تھے اور ستر (۷۰) کو قیدی بنا لیا گیا، باقی سب نے شکست کھا کر راہ فرار اختیار کی جنگ کے اس نتیجہ نے مکہ کے خاص ان مشرکوں میں جو جنگ میں شریک نہیں تھے، مسلمانوں کے خلاف سخت غیظ و غضب کی آگ بھڑکا دی اور انہوں نے طے کیا کہ ہمیں اس کا انتقام لینا ہے اور پوری تیاری کے ساتھ مدینہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینا ہے، چنانچہ پورے ایک سال تک ان لوگوں نے تیاری کی اور واقعہ بدر کے ٹھیک ایک سال بعد شوال ۳؁ھ میں تین ہزار کا لشکر ابو سفیان کی قیادت میں مسلمانوں کو ختم کر دینے کے ناپاک ارادہ کے ساتھ روانہ ہوا اور منزلیں طے کرتا ہوا مدینہ کی قریب پہنچ گیا، رسول اللہ ﷺ جاں نثار صحابہؓ کو ساتھ لے کر مقابلہ کے لئے تشریف لائے، آپ کے ساتھ مجاہدین کی تعداد صرف سو تھی ..... مدینہ کی آبادی سے دو ڈھائی میل کے فاصلہ پر احد پہاڑ ہے، اس کے دامن میں ایک وسیع میدان ہے آپ ﷺ نے وہیں صحابہؓ کے لشکر کو اس طرف صف آرا کیا کہ احد پہاڑ ان کی پشت پر تھا جس کی وجہ سے یہ اطمینان تھا کہ دشمن پیچھے سے حملہ نہیں کر سکے گا، لیکن پہاڑ میں ایک درہ ایسا تھا کہ دشمن اس درہ سے آ کر پیچھے حملہ کر سکتا تھا، اس کے لئے آپ ﷺ نے یہ انتظام فرمایا کہ پچاس تیر اندازوں کی ایک جماعت کو درہ کے قریب کی ایک پہاڑی پر متعین کیا اور عبداللہ بن جبیرؓ کو (جو تیر اندازی میں خود بھی خاص مہارت رکھتے تھے) اس دستہ کا امیر مقرر فرمایا اور ہدایت فرما دی کہ “وہ اسی جگہ رہیں” آپ ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ دشمن لشکر اس درہ کی طرف سے آ کر حملہ نہ کر سکے۔ جنگ شروع ہوئی پہلے ہی مرحلہ میں مسلمان مجاہدین نے ایسے زور کا حملہ کیا کہ دشمن لشکر (جس کی تعداد چار گنا سے زیادہ تھی) کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گیا، یہاں تک کہ مجاہدین نے سمجھ لیا کہ جنگ ہماری فتح پر ختم ہو گئی اور وہ دشمن کا چھوڑا ہوا مال غنیمت بٹورنے میں مشغول ہو گئے ..... درہ پر متعین کی ہوئی تیر اندازوں کی جماعت نے جب یہ حال دیکھا تو ان میں سے بھی بہت سے مال غنیمت بٹورنے کے لئے پہاڑی سے نیچے اتر کر میدان کی طرف آنے لگے، ان کے امیر عبداللہ بن جبیرؓ نے ان کو روکنا چاہا اور یاد دلایا کہ حضور ﷺ نے ہدایت فرمائی تھی کہ “تم کو ہر حال میں یہیں رہنا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکم تو اس وقت تک کے لئے تھا جب تک جنگ جاری ہو، مگر اب جب کہ جنگ ختم ہو گئی، اور دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گیا، تو ہم یہاں کیوں رہیں، الغرض ان لوگوں نے اپنے امیر کی بات نہیں مانی اور پہاڑی سے نیچے اتر کر یہ بھی مال غنیمت سمیٹنے میں لگ گئے، مگر دستہ کے امیر عبداللہ بن جبیر اور چند ساتھی حضور ﷺ کی ہدایت کے مطابق پہاڑی ہی پر رہے ..... خالد بن ولید جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے مشرکین کے ایک دستہ کو ساتھ لے کر اس درہ کی طرف سے آ گئے، عبداللہ بن جبیرؓ اور ان کے چند ساتھیوں نے جو پہاڑی پر تھے، روکنا چاہا، لیکن وہ نہیں روک سکے اور سب کے سب شہید ہو گئے، خالد بن ولید نے اپنے دستہ کے ساتھ درہ میں سے آ کر پیچھے سے اچانک مسلمانوں پر ایسے وقت میں حملہ کر دیا جب وہ لوگ غلطی سے جنگ ختم سمجھ چکے تھے، اس حملہ نے بہت سے مسلمانوں کو حواس باختہ کر دیا اور وہ جم کر اور منظم ہو کر اس حملہ کا مقابلہ نہیں کر سکے، ان میں افرا تفری کی کیفیت پیدا ہو گئی، متعدد جلیل القدر صحابہ کرامؓ شہید ہوئے، حتیٰ کہ خود حضور ﷺ بھی شدید طور پر زخمی ہوگئے۔ (اس صورت حال کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے) ..... پھر اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد سے پانسہ پلٹا، صحابہ کرام جو منتشر ہو گئی تھے، یہاں تک کہ ایک دوسرے کی خبر نہ تھی، یہ معلوم ہونے کے بعد کہ حضور ﷺ بفضلہٖ تعالیٰ زندہ سلامت ہیں، پھر منظم ہو گئے، اور اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد سے پھر دشمن کو شکست دی ..... مندرجہ بالا حارث بن صمہؓ کی اس حدیث کا تعلق بظاہر اسی مرحلہ سے ہے، معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبدالرحمٰن بن عوف کا یہ حال منکشف کیا گیا کہ وہ مشرکین سے جنگ کر رہے ہیں اور اللہ کے فرشتے ان کے ساتھ شریک جنگ ہیں، اور ان کی مدد کر رہے ہیں آپ نے اسی بنا پر حارث بن صمہؓ سے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے بارے میں دریافت کیا، اور انہوں نے وہ جواب دیا جو حدیث میں مذکور ہوا، ان کا جواب سن کر حضور ﷺ نے فرمایا “أَمَا إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُقَاتِلُ مَعَهُ” (معلوم ہونا چاہئے کہ فرشتے ان کے ساتھ ہو کر جنگ کر رہے ہیں) حضور ﷺ سے یہ سننے کے بعد حارث بن صمہؓ پھر وہاں پہنچے جہاں انہوں نے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو اس حال میں دیکھا تھا کہ مشرکین کی ایک جماعت ان پر حملہ کر رہی ہے تو انہوں نے وہاں پہنچ کر دیکھا کہ سات مشرکوں کی لاشیں پڑیں ہیں، عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے انہوں نے دریافت کیا، کیا ان سب کو تم نے ہی جہنم رسید کیا ہے؟ تو انہوں نے سات میں سے تین کے بارے میں کہا کہ “ان کو تو اللہ تعالیٰ کی مدد سے میں نے ہی قتل کیا ہے، باقی چار کے متعلق مجھے معلوم نہیں کہ ان کو کس نے قتل کیا، ان کا یہ جواب سن کر حارث بن صمہؓ کہہ اٹھے کہ: “صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ” مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ “عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے ساتھ فرشتے جنگ کر رہے ہیں، اس کو میں نے آنکھوں سے دیکھ لیا اور میرا ایمان تازہ ہو گیا”۔ اس حدیث سے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی یہ خصوصیت معلوم ہوئی کہ وہ جنگ احد کے خاص آزمائشی وقت میں بھی استقامت کے ساتھ مشرکین سے جنگ کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے جنگ میں ان کی مدد کر رہے تھے ..... بلاشبہ یہ واقعہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے خاص فضائل میں سے ہے، نیز حضور ﷺ نے ان کے بارے میں جو فرمایا تھا کہ “فرشتے جنگ میں ان کی مدد کر رہے ہیں” یقیناً یہ حضور ﷺ کا معجزہ تھا۔

2084Maarif-ul-Hadith

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : بَلَغَنِيْ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ جُرِحَ يَوْمَ أُحُدٍ إحْدَى وَعِشْرِين جِرَاحَةٌ ، وَجُرْح فِي رِجْلَه فَكَان يَعْرُجُ مِنْهَا. (أبو نعيم وابن عساكر).

ابراہیم بن سعد (تابعی) سے روایت ہے انہو نے بیان کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کو غزوہ احد میں (تیروں اور تلواروں کے) اکیس زخم آئے تھے، ان کا پاؤں بھی زخمی ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ لنگڑا کر چلتے تھے۔ (ابو نعیم ابن عساکر) تشریح معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس گزوہ اھد میں شدید طور پر زخمی ہوئے تھے، بلاشبہ بڑے خوش نصیب اور بلند مرتبہ ہیں وہ سب حضرات جو اس غزوہ میں شہید یا شدید طور پر زخمی ہوئے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ بھی انہیں خوش نصیبوں میں سے ہیں۔

2085Maarif-ul-Hadith

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

عَنْ الْمُغِيرَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَتَاهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، ثُمَّ لَحِقَ بِالنَّاس فَإِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ يُصَلِّي بِهِم ، فَلَمَّا رَآهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَمَّ أَنْ يَرْجِعَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ ! فَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ مَا أَدْرَكْنَا وقضينا مَا فَاتَنَا . (رواه الضياء المقدسى فى المختاره)

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر میں حضور ﷺ کے ساتھ تھے، وہ آپ ﷺ کے لئے وضو کا پانی لائے، آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور اس وضو میں خفین پر مسح کیا پھر آپ لوگون کے ساتھ نماز کی جماعت میں شریک ہوئے، اس وقت حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ امام کی حیثیت سے نماز پڑھا رہے تھے، تو جب عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے آپ ﷺ کو دیکھا، ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹ کر جماعت میں شامل ہو جائیں، (اور باقی نماز حضور ﷺ پڑھائیں) لیکن آنحضرت ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ تم اپنی جگہ پر رہو۔ (پیچھے نہ ہٹو .... آگے حضرت مغیرہؓ بیان کرتے ہیں کہ تو ہم دونوں نے نماز باجماعت کا جو حصہ پایا وہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی اقتداء میں پڑھا، اور جو فوت ہو گیا تو وہ ہم نے بعد میں ادا کیا۔ (مختار لضیاء المقدسی) تشریح اس روایت میں واقعہ کے بیان میں انتہائی درجہ کے اجمال اور اختصار سے کام لیا گیا ہے، واقعہ کی پوری تفصیل حضرت مغیرہؓ ہی کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتی ہے جو سنن سعید بن منصور کے حوالہ سے “کنز العمال” میں مندرجہ بالا روایت کے ساتھ ہی درج کی گئی ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ کسی نے مغیرہ بن شعبہؓ سے دریافت کیا کہ حضرت ابو بکرؓ کے علاوہ کسی اور شخص کی اقتداء میں بھی رسول اللہ ﷺ نے کوئی نماز پڑھی ہے؟ تو مغیرہؓ نے بیان کیا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے جب صبح صادق کا وقت قریب آیا تو آپ نے مجھے اشارہ فرمایا تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں، تو میں آپ کے ساتھ ہو گیا، پھر آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھ میں بھی ساتھیوں سے الگ ہو کر ایک طرف چل دئیے یہاں تک کہ لوگوں نے بہت دور ہو گئے .... پھر رسول اللہ ﷺ مجھے چھوڑ کر ایک طرف چلے گئے یہاں تک کہ میری نظر سے بھی آپ ﷺ غائب ہو گئے، کچھ دیر کے بعد فارغ ہو کر آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا۔ “ہاں ہے” پھر میں اپنے نے مشکیزہ سے پانی لیا جو میری سواری کے کجاوے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا، اور آپ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے پہلے اپنے دونوں ہاتھ بہت اچھی طرح دھوئے اور پانی میں آپ ﷺ کے ہاتھوں پر ڈالا، پھر آپ ﷺ نے اپنے چہرہ مبارک اور دونوں ہاتھ (کہنیوں تک) دھوئے اور سر کا مسح فرمایا اور خفین پر بھی مسح فرمایا پھر ہم دونوں اپنی سواریوں پر سوار ہو کر واپس آئے اور ایسے وقت پہنچے کہ فجر کی جماعت شروع ہو چکی تھی، عبدالرحمٰن بن عوف ؓ امام کی حیثیت سے نماز پڑھا رہے تھے وہ دوسری رکعت میں تھے تو میں نے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو بتلانا چاہا (یعنی یہ کہ حضور ﷺ تشریف لے آئے ہیں) تو آپ ﷺ نے مجھے منع فرما دیا، اور دوسری رکعت جو ہم نے پائی تھی وہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی اقتداء میں ادا کی، اور پہلی رکعت جو ہمارے آنے سے پہلے ہو چکی تھی اس کو ہم دونوں نے بعد میں ادا کیا۔ اسی واقعہ کی دوسری بعض روایات میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ فجر کی نماز میں جب زیادہ تاخیر ہونے لگی، (اور آپ ﷺ کے سفر کے رفقاء میں سے کسی کو علم نہیں تھا کہ حضور ﷺ کدھر تشریف لے گئے ہیں اور کب تک تشریف لائیں گے) تو مشورہ سے طے ہوا کہ اب نماز ادا کر لی جائے اور لوگوں نے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو امام بنا کر نماز شروع کر دی، تو جیسا کہ مندرجہ بالا روایت سے معلوم ہو چکا، ایک رکعت ہو چکی تھی کہ آنحضرت ﷺ اور مغیرہ بن شعبہؓ پہنچے اور جماعت میں شامل ہو کر دوسری رکعت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی اقتداء میں ادا کی اور پہلی رکعت جو فوت ہو چکی تھی اس کو بعد میں ادا کیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو یہ خاص امتیازی فضیلت بھی حاصل ہے کہ حضور ﷺ نے ان کی اقتداء میں نماز ادا فرمائی اور انہوں نے پیچھے ہٹنا چاہا تو آپ ﷺ نے ان کو پیچھے ہٹنے سے منع فرما دیا۔

2086Maarif-ul-Hadith

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ: «إِنَّ الَّذِي يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي هُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ، اللَّهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ» (رواه احمد)

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ سے، آپ ﷺ اپنی ازواج سے فرماتے تھے، کہ جو شخص میرے بعد اپنی دولت سے تمہاری بھرپور خدمت کرے گا وہ ہے صادق الایمان اور صاحب احسان بندہ، اے اللہ! عبدالرحمٰن بن عوف کو جنت کے سلسبیل سے سیراب فرما۔ (مسند احمد) تشریح حضرت ام سلمہ ؓ کی اس حدیث سے “سلسبیل” کا لفظ آیا ہے، وہ جنت کا ایک خاص اور نفیس ترین چشمہ ہے ..... قرآن مجید سورہ دہر میں فرمایاگیا ہے “عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّىٰ سَلْسَبِيلًا” چونکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ “انبیاء علیہم السلام کے ترکہ میں وراثت جاری نہیں ہوتی، وہ جو کچھ چھوڑیں وہ فی سبیل اللہ صدقہ ہے، اس لئے فطری طور پر ازواج مطہرات کے لئے از راہِ بشریت یہ فکر و تشویش کی بات ہو سکتی تھی کہ حضور ﷺ کے بعد ہمارا گذارہ کس طرح اور کہاں سے ہو گا؟ رسول اللہ ﷺ نے ان کو مطمئن کرنے کے لئے فرمایا کہ “اللہ کا ایک صادق الایمان بندہ جس کی فطرت میں اللہ نے احسان کی صفت خاص طور سے رکھی ہے، تمہاری بھرپور خدمت کرے گا ... آگے آپ ﷺ نے دعائیہ کلمہ میں عبدالرحمٰن بن عوفؓ کا نام لے کر متعین بھی فرما دیا کہ وہ کون ہو گا ..... ظاہر ہے کہ یہ پیشن گوئی حضور ﷺ کا ایک معجزہ تھا ..... جامع ترمذی میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے صاحبزادے ابو سلمہ سے (جو اکابر تابعین میں سے ہیں) فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے والد عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو جنت کے خاص چمہ “سلسبیل” سے سیراب فرمائے ..... آگے اسی روایت میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے اپنا ایک ایسا قیمتی باغ ازواج مطہرات کی خدمت میں لوجہ اللہ پیش کر دیا تھا جو بعد میں چالیس ہزار مین فروخت ہوا ..... اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ چار لاکھ میں فروخت ہوا تھا ..... بعض شارحین نے ان دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح کی ہے کہ “چالیس ہزار” سے مراد ہزار دینار ہیں اور “چار لاکھ” سے مراد چار لاکھ درہم ہیں۔ (عہد نبوی میں درہم و دینار کا یہی تناسب تھا)۔

2087Maarif-ul-Hadith

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ حَارِثَةَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِأُمّ كُلْثُومِ بِنْتِ عُقْبَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْف : أَقَالَ لَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : انكحى سَيِّدُ الْمُسْلِمِيْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ . (رواه ابن منده وابن عساكر)

حضرت عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مجمع بن حارثہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ امیر المؤمنین حضرت عمر ؓ نے عبدالرحمٰن بن عوف کی بیوی ام کلثوم بنت عقبہ سے دریافت کیا تھا: کیا (یہ بات صحیح ہے کہ) رسول اللہ ﷺ نے تم سے فرمایا تھا کہ تم عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے نکاح کر لو جو “سید المسلمین” ہیں؟ تو ام کلثوم نے کہا کہ “ہاں، بے شک” (حضور نے مجھ سے یہی ارشاد فرمایا تھا)۔(مسند ابن منذہ و تاریخ ابن عساکر) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو “سید المسلمین” فرمایا تھا، بلاشبہ یہ ان کی اعلیٰ درجہ کی فضیلت و منقبت ہے۔ ؓ وارضاہ۔

2088Maarif-ul-Hadith

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ: «يَا سَعْدُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے نہیں سنا، رسول خدا ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے جمع کیا ہو اپنے ماں باپ دونوں کو کسی کے لئے (یعنی فداک ابی وامی فرمایا ہو) سوائے سعد بن مالک (یعنی سعد بن ابی وقاصؓ) کے میں نے غزوہ احد کے دن آپ کو فرماتے ہوئے سنا “يَا سَعْدُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي” (اے سعد! تیر چلاتے رہو اسی طرح، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے اس بیان میں حضرت سعد بن مالک سے مراد “سعد بن ابی وقاص” ہیں، ان کے والد کا نام مالک تھا، ابو وقاص کنیت تھی۔ غزوہ احد کا مختصر حال حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے تذکرہ میں بیان کیا جا چکا ہے، اس غزوہ میں صحابہ کرامؓ میں سے جو حضرات اللہ تعالیٰ کی کاص توفیق سے پوری طرح ثابت قدم رہے، ان میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بھی ہیں، یہ تیر اندازی میں بڑے ماہر تھے ...... یہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ہی تھے، تیر پر تیر چلا رہے تھے اس وقت آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا “يَا سَعْدُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي” (سعد! تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں اسی طرح تیر چلاتے رہو،) بلاشبہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے یہ صرف ہمت افزائی نہ تھی، بلکہ بہتر سے بہتر الفاظ میں اپنی انتہائی دلی مسرت اور خوشنودی کا اظہار بھی تھا ..... اور شرح السنہ میں کود حضرت سعد بن ابی وقاص ہی کی روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے یہ دعا بھی فرمائی “اللهم اشدد رميته واوجب دعوته” (اے اللہ اپنے اس بندے (سعد) کی تیر اندازی میں قوت و طاقت پیدا فرما دے اور اس کی دعائیں قبول فرما۔) اور جامع ترمذی میں حضرت سعدؓ کی روایت سے آنحضرت ﷺ کی دعا کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں۔ “اللهم استجب لسعد اذا دعاك” خداوند، سعد جب تجھ سے کوئی دعا کرے تو اس کی دعا قبول فرما لے) ..... حضور ﷺ کی اس دعاو ہی کا نتیجہ تھا کہ حضرت سعدؓ جو دعا کرتے وہ عموماً قبول ہی ہوتی، اسی لئے لوگ ان سے اپنے واسطے دعائیں کراتے تھے اور ان کی بددعا سے بہت ڈرتے تھے۔

2089Maarif-ul-Hadith

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَدِمَ المَدِينَةَ، قَالَ: «لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا يَحْرُسُنِي»، إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ سِلاَحٍ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟»، فَقَالَ: أَنَا سَعْدُ قَالَ مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ وَقَعَ فِىْ نَفْسِيْ خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ، فدعا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ َنَامَ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو (کسی غزوہ سے) مدینہ تشریف آوری پر (غالباً کسی وقتی خطرہ کی وجہ سے) رات کو نیند نہیں آ رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: کاش کوئی مرد صالح اس وقت حفاظت کے لئے آ جاتا اسی وقت ہم نے ہتھیاروں کی کھڑکھڑاہٹ کی آواز سنی تو آپ ﷺ نے فرمایا “کون ہے؟” آنے والے شخص نے کہا۔ “میں سعد ہوں” آپ ﷺ نے فرمایا: “تم اس وقت کیوں آئے؟” سعد نے عرض کیا میرے دل میں آپ ﷺ کے متعلق خطرہ پیدا ہوا (کہ مبادا کوئی دشمن آپ کو ایذا پہنچائے) تو میں آپ ﷺ کی حفاظت اور نگہبانی ہی کے ارادہ سے آ گیا ہوں ..... تو آپ نے ان کے لئے دعا فرمائی، پھر آپ ﷺ (اطمینان سے) سو گئے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح جب کسی بندہ کو اللہ کے کسی خاص مقبول بندے سے وہ للہی محبت ہو جاتی ہے جس کو “عشق” سے تعبیر کیا جا سکتا ہے تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ محبوب کے قلب میں جو کیفیت پیدا ہوتی ہے، محب کے قلب پر اس کا اثر پڑتا ہے ..... حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے جو واقعہ بیان فرمایا وہ اسی حقیقت کی ایک مثال ہے، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ جو سابقین اولین میں ہیں ان کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہی “عشق” والی محبت تھی، اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ کسی وقتی خطرہ کی وجہ سے نیند نہ آنے سے جو کیفیت اور تمنا آپ ﷺ کے دل میں پیدا ہوئی کہ کاش کوئی مرد صالح حفاظت و نگہبانی کے لئے اس وقت آ جاتا تا کہ میں اطمینان سے سو سکتا ..... اس کا اثر سعد بن ابی وقاصؓ کے قلب پر پڑا، اور وہ تیر، کمان، نیزے وغیرہ سے مسلح ہو کر آپ ﷺ کی حفاظت ہی کی نیت سے آ گئے، بلاشبہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے قلب کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہ للہی عاشقانہ تعلق ان پر اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت اور بڑی فضیلت ہے۔

2090Maarif-ul-Hadith

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

عَنْ قَيْسِ ابْنِ أَبِىْ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنِ أَبِىْ وَقَّاصٍ يَقُولُ: «وَاللهِ إِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ، رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَرَأَيْتُنَا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْحُبْلَةُ وَوَرَقُ السَّمُرُ، وَإِنَّ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ مَالَهُ خِلْطٌ» ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْاِسْلَامِ، لَقَدْ خِبْتُ، إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي، وَكَانُوْا وَشَواَبِهِ اِلَى عُمَرَ ، وَقَالُوْا: لَا يُحْسِنُ يُصَلِّىْ. (رواه البخارى ومسلم)

قیس بن ابی حازم سے روایت ہے (جو تابعی ہیں) انہوں نے بیان کیا کہ سنا میں نے سعد بن ابی وقاصؓ سے فرماتے تھے: “عربوں میں سے میں پہلا شخص ہوں جس نے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں (اسلام کے دشمنوں پر) تیر اندازی کی اور میں نے دیکھا اپنے کو اور اپنے ساتھی دوسرے صحابہ کو کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (دشمنانِ اسلام سے) جہاد کرتے تھے ایسی حالت میں کہ ہمارے لئے کھانے کا کوئی سامان نہیں ہوتا تھا، سوائے ببول (کیکر) کی پھلیوں اور اسی کے پتوں کے (ببال کی ان پھلیوں اور پتوں کے کھانے کی وجہ سے) ہم لوگوں کو اجابت ہوتی تھی بکریوں کی مینگنی کی طرح، (بالکل خشک) جس میں کوئی چیک نہیں ہوتی تھی، پھر اب بنو اسد مجھے سرزنش کرنے لگے ہیں، اسلام کے بارے میں پھر تو میں خائب و نامراد رہ گیا اور میرے سارے عمل غارت گئے (واقعہ یہ ہوا تھا کہ) بنو اسد کے لوگوں نے اس بات کی شکایت کی تھی حضرت عمر ؓ سے کہ یہ نماز اچھی نہیں پڑھتے۔”(صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت عمر ؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو کوفہ کا ولی و حاکم مقرر فرمایا تھا، قاعدہ کے مطابق وہی نماز کی امامت بھی فرماتے تھے ...... حضرت زبیر بن عوام کے پردادا کا نام اسد ہے اسی وجہ سے حضرت زبیرؓ کے پورے خاندان کو “بنو اسد” کہا جاتا تھا۔ اسی خاندان کے کچھ لوگوں نے حضرت عمرؓ کی خدمت میں شکایت بھیجی کہ سعد نماز اچھی نہیں پڑھتے حضرت عمر ؓ نے اس بارے میں حضرت سعدؓ کو لکھا کہ تمہارے بارے میں یہ شکایت کی گئی ہے، جب یہ بات حضرت سعدؓ تک پہنچی تو یہ فطری طور پر سخت متاثر ہوئے اور وہ فرمایا جو اس روایت میں قیس بن حازم سے نقل کیا گیا کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے دشمنانِ اسلام پر تیر اندازی کی۔ واقعہ یہ ہے کہ ہجرت کے پہلے ہی سال صحابہ کرامؓ ایک جماعت کو جس میں سعد بن ابی وقاصؓ بھی تھے، رسول اللہ ﷺ نے جہاد کے لئے روانہ فرمایا، اسی غزوہ میں سعد بن ابی وقاصؓ نے تیر اندازی کی، جہاد اسلامی کی تاریخ میں یہ پہلی تیر اندازی تھی، اسی واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت سعدؓ نے فرمایا کہ اللہ کی توفیق سے راہ خدا میں تیر سب سے پہلے میں نے ہی چلایا۔ آگے حضرت سعدؓ نے اپنا اور اپنے ساتھ والے مومنین سابقین کے مجاہدوں اور قربانی کا یہ حال بیان فرمایا کہ “ہم ایسی بےسرو سامانی کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کفار سے جہاد کرتے تھے کہ ہمارے پاس انسانی خوراک اور غذا کی قسم کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی، ہم ببول (کیکر) کے درخت کی پھلیوں، اور اس کے پتوں کو بطور غذا استعمال کرتے تھے، (جو دراصل جنگل میں چرنے والی بکریاں عام طور سے کھاتی ہیں) اور پھر اسی وجہ سے ہم لوگوں کو بکریوں کی مینگنیوں ہی طرح اجابت ہوتی تھی۔ اپنا یہ حال بیان فرمانے کے بعد حضرت سعدؓ نے دلی دکھ کے ساتھ فرمایا کہ اب یہ بنو اسد کے کچھ لوگ میری سرزنش کرتے ہیں اسلام کے بارے میں، تو اگر ان کی شکایت صحیح ہو تو پھر تو میں بالکل ہی ناکام اور نامراد رہ گیا، اور میرے سارے عمل غارت و ضائع ہو گئے۔ اگرچہ شکایت کرنے والوں نے حضرت عمرؓ سے حضرت سعدؓ کے نماز اچھی طرح نہ پڑھنے ہی کی شکایت کی تھی، لیکن نماز چونکہ اسلام کا اولین رکن ہے، اور اسلام کے قالب کی گویا روح اور جان ہے۔ اس لئے حضرت سعدؓ نے نماز اچھی نہ پڑھنے کی شکایت کو ناقص الاسلام ہونے کی شکایت سے تعبیر فرمایا، (تُعَزِّرُنِي عَلَى الْاِسْلَامِ)...... آگے اسی روایت میں ہے کہ حضرت سعدؓ نے حضرت عمرؓ کو شکایت کے جواب میں لکھا کہ میں ویسی ہی نماز پڑھاتا ہوں، جیسے حضور ﷺ کو نماز پڑھاتے دیکھا تھا، پہلی دو رکعتوں میں قرأت طویل کرتا ہوں اور بعد کی دو رکعتوں میں مختصر۔ حضرت عمر ؓ نے جواب میں ان کو لکھا۔ “میرا بھی تمہارے بارے میں یہی خیال تھا مطلب یہ ہے کہ میں نے خود اس شکایت کو صحیح نہیں سمجھا تھا، لیکن میں نے اصول و ضابطہ کے مطابق ضرور سمجھا کہ تم کو اس کی اطلاع کروکں، اور حقیقت حال دریافت کروں”۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے بنو اسد کے لوگوں کی شکایت کو رد فرما دیا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر اللہ کا کوئی بندہ کسی وقت ضروری سمجھے تو اپنی اسلامی خدمات اور اس سلسلہ کے ان مجاہدات کا بیان کرنا جن سے اس کی بڑائی ثابت ہو جائز ہے، اور یہ وہ تفاخر اور خودستائی نہیں ہے جس کی ممانعت ہے۔ حضرت سعدؓ سے متعلق یہ چند باتیں بھی قابل ذکر ہیں، جو صحیح احادیث روایت میں متفرق طور پر بیان کی گئیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپؓ نے خود بیان فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ایمان و اسلام کی دعوت کو قبول کرنے والا تیسرا اادمی ہوں، مجھ سے پہلے اللہ کی صرف دو بندوں نے اسلام قبول کیا تھا ..... وہ اس وقت صرف سترہ سالہ نوجوان تھے۔ ان کی والدہ نے ان پر انتہائی درجہ دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے باپ دادا کا مشرکانہ دین و مذہب چھوڑ کر اس نئے دین (اسلام)کو قبول نہ کریں، جب حضرت سعدؓ ان کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوئے تو انہوں نے قسم کھا لی کہ جب تک تو میری بات نہیں مانے گا میں نہ کچھ کھاؤں کی نہ کچھ پیوں گی۔ اسی کے مطابق انہوں نے عمل شروع کر دیا، کئی دن تک نہ کچھ کھایا نہ پیا، اس درمیان میں تین دفعہ ان پر بےہوشی بھی طاری ہوئی۔ لیکن حضرت سعدؓ ان کو منانے کی کوشش تو کرتے رہے، مگر اسلام چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے .... صحیح مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ اسی موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ “وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖوَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا” (1) حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا یہ واقعہ بھی خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے بیعت تو کر لی تھی، لیکن جب اس مظلومانہ شہادت کے نتیجہ ہی میں باہمی خانہ جنگی اور قتل و قتال کا فتنہ شروع ہوا تو حضرت سعدؓ نے اپنے کو اس سے بالکل الگ اور دور رہنے کا فیصلہ کر لیا، چنانچہ جب حضرت علی مرتضیٰ ؓ یا ان کے بعض خاص رفیقوں نے حضرت سعدؓ کو جنگ میں اپنا ساتھ دینے کے لئے فرمایا یا تو انہوں نے کہا کہ: “مجھ کو ایسی تلوار لا کر دے دو کہ اس سے میں کافر پر وار کروں تو اس کو قتل کر دے اور اگر وار مومن پر ہو تو کوئی اثر نہ کرے” اور پھر اس خانہ جنگی اور قتل و قتال سے الگ رہنے ہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ مدینہ طیبہ کی آبادی سے فاصلہ پر وادی عقیق میں ان کی جو زمین تھی، اس پر مکان بنا لیا اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ سب سے الگ تھلگ وہیں پر رہائش اختیار فرما لی، چاہتے تھے کہ باہمی خانہ جنگی کی باتیں بھی ان تک نہ پہنچیں۔ اسلامی تاریخ سے معمولی سی واقفیت رکھنے والے ہر شخص کو معلوم ہے کہ عراق اور پورا ملک فارس انہیں کی قیادت میں فتح ہوا۔ راجح قول کے مطابق حضرت معاویہؓ کے دور حکومت میں ۵۵؁ھ میں اپنے وادی عقیق والے مکان ہی میں وفات پائی وہاں سے جنازہ مدینہ منورہ لایا گیا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ یہ بھی مسلمات میں سے ہے کہ عشرہ مبشرہ میں سب سے آخر میں وفات پانے والے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ ہی ہیں۔ ؓ وراضاہ۔

2091Maarif-ul-Hadith

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ

عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الجَنَّةِ، وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى العَاشِرِ لَمْ آثَمْ. قِيلَ: وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَاءَ، فَقَالَ: اثْبُتْ حِرَاءُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ. قِيلَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ. قِيلَ فَمَنِ العَاشِرُ؟ قَالَ: أَنَا. (رواه الترمذى)

حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ:میں نو حضرات کے بارے میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ “جنتی” ہیں اور اگر ایک دسویں آدمی کے بارے میں یہی شہادت دوں کہ وہ جنتی ہیں تو گنہگار نہ ہون گا، آپ سے کہا گیا: “یہ بات کس طرح ہے؟” یعنی آپ کس بنیاد پر یہ بات فرما رہے ہیں؟ تو اس کے جواب میں) حضرت سعیدؓ نے بیان کیا: کہ ہم لوگ ایک دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حراء پہاڑ پر تھے، (پہاڑ میں جنبش پیدا ہوئی، اور وہ حرکت کرنے لگا تو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اے حراء ساکن ہو جا اس وقت تیرے اوپر یا تو اللہ کے نبی ہیں یا صدیق یا شہید ..... (اس کے بعد حضرت سعیدؓ سے دریافت کیا گیا “وہ کون حضرات تھے؟” تو انہوں نے بتایا۔ ایک خود رسول اللہ ﷺ (آپ کے علاوہ) ۲۔ ابو بکر، اور ۳۔ عمر اور ۴۔ عثمان اور ۵۔ علی اور ۶۔ طلحہ اور۷۔ زبیر اور۸۔ سعد (یعنی ابن ابی وقاصؓ) اور ۹۔ عبدالرحمٰن بن عوفؓ ” لوگوں نے آپ سے کہا: بتلائیے کہ دسواں آدمی کون ہے؟ تو فرمایا: “خود یہ بندہ” ..... (جامع ترمذی) تشریح عشرہ مبشرہ سے متعلق جامع ترمذی ہی کے حوالہ سے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی وہ روایت پہلے گذر چکی ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے دس اصحاب کرام کو نام لے کر ان سب کے بارے میں جنت کی بشارت دی ہے، ان میں نو حضرات تو وہی ہیں جن کے اسماء گرامی حضرت سعید بن زیدؓ کی زیر تشریح حدیث میں ذکر کئے گئے ہین اور دسواں نام حضرت ابو عبیدہ بن جراح کا ہے، اس عاجز (راقم سطور) کا خیال ہے کہ جبل حراء کا جو واقعہ حضرت سعید بن زیدؓ نے بیان فرمایا ہے، اس میں ابو عبیدہ بن جراح حضور ﷺ کے ساتھ نہیں تھے۔ ایک دوسرا فرق ان دونوں روایتوں میں یہ ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ والی روایت میں آنحضرت ﷺ نے دس صحابہ کا نام لے کر ان کے “جنتی” ہونے کی بشارت دی ہے ..... اور حضرت سعید بن زیدؓ کی اس روایت میں رسول اللہ ﷺ نے کسی کا نام لے کر کچھ نہیں فرمایا، بلکہ صرف یہ فرمایا: “اے حراء ساکن ہو جا اس وقت تیرے اوپر یا تو اللہ کے ایک نبی ہیں، یا صدیق یا شہید ..... آگے حضرت سعیدؓ کا بیان ہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے نو صحابی اور تھے، جن کے اسماء گرامی حدیث میں ذکر کئے گئے ہیں۔ حضرت سعید بن زیدؓ نے حضور ﷺ کے ارشاد کی بنیاد پر یقین کر لیا کہ یہ سب حضرات بلابشہ “جنتی” ہیں اور اسی بنیاد پر ان کے “جنتی” ہونے کی شہادت دی ہے، کیوں کہ اللہ کے نبی و رسول اور صدیق اور شہید کے “جنتی” ہونے میں کوئی شبہ نہیں ..... جن حضرات کے اسماء گرامی کا ذکر حضرت سعید بن زیدؓ نے کیا ہے، ان میں خود رسول اللہ ﷺ اللہ کے نبی ہیں اور حضرت ابو بکر صدیق بلکہ “صدیق اکبر” ہیں اور حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، یہ پانچوں شہید ہوئے، باقی حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت سعید بن زیدؓ یہ تینوں بھی بلاشبہ “صدیقین” میں ہیں۔ حضرت سعید بن زیدؓ کا عنداللہ کیا مقام و مرتبہ تھا، وہ اس حدیث سے بھی معلوم ہو جاتا ہے جو اسی سلسلہ “معارف الحدیث” کتاب المعاملات، غصب کے بیان میں ذکر کی جا چکی ہے، جس کے ایک راوی خود یہ حضرت سعید بن زیدؓ بھی ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کو یہاں بھی نقل کر دیا جائے۔ اور وہ یہ ہے۔ “ایک عورت نے (جس کا نام ارویٰ تھا) حضرت معاویہؓ کے دور خلافت میں انہی حضرت سعید بن زید ؓ کے خلاف مدینہ کے اس وقت کے حاکم مروان کی عدالت میں دعویٰ کیا کہ “انہوں نے میری فلاں زمین دبا لی ہے۔ حضرت سعید ؓ کو اس جھوٹے الزام سے بڑا صدمہ پہنچا، انہوں نے مروان سے کہا: “قَالَ: أَنَا أَنْتَقِصُ مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ»” ترجمہ: کہا کیا میں اس عورت کی زمین دباؤں گا اور غصب کروں گا؟ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے کہ “جس شخص نے ظالمانہ طور پر کسی کی ایک بالشت بھر زمین بھی غصب کر لی تو قیامت کے دن زمین کا وہ غصب کیا ہوا ٹکڑا سالوں زمین تک طوق بنا کر اس ظالم کے گلے میں ڈالا جائے گا”۔ یہ روایت حضرت سعیدؓ نے دل کے کچھ ایسے تاثر کے ساتھ اور ایسے انداز سے کہی کہ خود مروان بہت متاثر ہوا اور اس نے آپ سے کہا کہ “اب میں آپ سے کوئی دلیل اور ثبوت نہیں مانگتا ..... اس کے بعد حضرت سعید ؓ نے (دکھے ہوئے دل سے) بددعا کی کہ اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ اس عورت نے مجھ پر یہ جھوٹا الزام لگایا ہے تو اس کو آنکھوں کی روشنی سے محروم کر دے، اور اس کی زمین ہی کو اس کی قبر بنا دے”۔ (واقعہ کے راوی حضرت عروہ کہتے ہیں کہ) “پھر ایسا ہی ہوا، میں نے خود اس عورت کو دیکھا ہے وہ آخر عمر میں نابینا ہو گئی، اور خود کہا کرتی تھی کہ “سعید بن زیدؓ کی بددعا سے میرا یہ حال ہوا ہے، اور پھر ایسا ہوا کہ وہ ایک دن اپنی زمین ہی میں چلی جا رہی تھی کہ ایک گڑھے میں گر پڑی اور بس وہ گڑھا ہی اس کی قبر بن گیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اللہ تعالیٰ اس واقعہ سے سبق لینے کی توفیق دے۔

2092Maarif-ul-Hadith

حضرت ابو عبیدہ ابن جراح رضی اللہ عنہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الجَرَّاحِ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر امت کے لئے ایک امین ہوتا ہے، اور میری اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراحؓ ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اسی سلسلہ معارف الحدیث میں پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں “امانت” کا لفظ بہت وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے، اس کا مطلب ہے اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق سے متعلق جو ذمہ داریاں کسی بندے ہوں، صحیح اور پورے طور پر ان کو ادا کرنا۔ حضرت انسؓ کی زیر تشریح روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت و توفیق سے حضرت ابو عبیدہ ؓ کو اس صفت میں امتیاز حاصل تھا ..... آگے درج ہونے والی حدیث سے بھی مزید وضاحت کے ساتھ یہی معلوم ہو گا۔

2093Maarif-ul-Hadith

حضرت ابو عبیدہ ابن جراح رضی اللہ عنہ

عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلًا أَمِينًا فَقَالَ: «لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ حَقَّ أَمِينٍ»، قَالَ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ قَالَ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ نجران کے لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ آپ ایک امین شخص کو ہمارے لئے مقرر فرما کر بھیج دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ“میں ایک ایسے “مرد امین ” کو تمہارے لئے مقرر کروں گا جو سچا پکا امین ہو گا” تو لوگ اس کے لئے متوقع اور خواہش مند ہوئے، آگے حدیث کے راوی (حضرت حذیفہؓ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو عبیدہ بن جراحؓ کو نجران بھیجنے کا فیصلہ فرمایا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح نجران ایک علاقہ تھا یمن اور شام اور حجاز کے درمیان، اس کے بڑے اور مرکزی شہر کو نجران ہی کہا جاتا تھا، یہ ۱۰ ھ میں فتح ہوا، اس میں بیشتر آبادی عیسائیوں کی تھی اور یہ اس پورے علاقہ میں عیسائیت کا سب سے بڑا مرکز تھا، اس نجران کے ایک وفد نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر وہ درخواست کی تھی جس کا حذیفہ بن الیمانؓ کی زیر تشریح حدیث میں ذکر کیا گیا ہے، اور ان کی درخواست پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کو وہاں کا عامل اور حاکم بنا کر بھیجا۔ کنز العمال میں حضرت حذیفہؓ کی یہ حدیث مسند احمد وغیرہ متعدد کتب حدیث کے حوالہ سے بھی نقل کی گئی ہے اور اس میں نجران کے وفد کی اس درخواست کے جواب میں کہ “آپ ہمارے لئے ایک “مرد امین” مقرر فرما دیجئے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے۔ “لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ” آپ ﷺ نے “أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ” کا لفظ تین دفعہ فرمایا۔ ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے تین دفعہ اس کلمہ کے ارشاد فرمانے سے وصف امانت کے لحاظ سے حضرت ابو عبیدہؓ کی عظمت و فضیلت میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔

2094Maarif-ul-Hadith

حضرت ابو عبیدہ ابن جراح رضی اللہ عنہ

عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ، وَسُئِلَتْ: " مَنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْلِفًا لَوِ اسْتَخْلَفَهُ؟ قَالَتْ: أَبُو بَكْرٍ، فَقِيلَ: ثُمَّ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَتْ: عُمَرُ، قِيلَ مَنْ بَعْدَ عُمَرَ؟ قَالَتْ: أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ". (رواه مسلم)

ابن ابی ملیکہ (تابعی) سے روایت ہے کہ میں نے خود سنا ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے، ان سے دریافت کیا گیا تھا کہ اگر رسول اللہ ﷺ اپنے بعد کے لئے کسی کو خلیفہ مقرر فرماتے تو کس کو نامزد کرتے؟ تو حضرت صدیقہؓ نے فرمایا: ابو بکرؓ کو، اس کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ ابو بکر کے بعد کے لئے کس کو نامزد فرماتے تو حضرت صدیقہؓ نے فرمایا: عمرؓ کو، پھر دریافت کیا گیا عمرؓ کے بعد کے لئے کس کو نامزد فرماتے؟ تو انہوں نے فرمایا: ابو عبیدہ بن جراحؓ کو ..... (صحیح مسلم) تشریح ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کی رائے مبارک، اور رجحانات و عزائم سے واقفیت میں خاص امتیاز ھاصل تھا، انہوں نے حضور کا جو معاملہ اپنے والد ماجد حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ، اور حضرت ابو عبیدہ ابن جراحؓ کے ساتھ دیکھا تھا، اس کی بنا پر انہوں نے یہ رائے قائم فرمائی۔ اور بالخصوص حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے بارے میں تو آنحضرت ﷺ نے اس کا اظہار بھی فرما دیا تھا، اسی سلسلہ معارف الحدیث میں حضور ﷺ کے مرض وفات کے بیان میں حضرت عائشہ صدیقہؓ ہی کا یہ بیان ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضور ﷺ نے ان سے مرض کے آغاز ہی میں فرمایا تھا کہ اپنے والد ابو بکر اور بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بلوا لو، میں ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وصیت لکھوا دوں۔ لیکن پھر آپ نے یہ لکھانے کی ضرورت نہیں سمجھی اور اپنے اس یقین اطمینان کا اظہار فرمایا۔ “يابى الله والمومنون الا ابا بكر” (یعنی مجھے اطمینان ہے کہ اللہ مومنین ابو بکر کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے) پھر حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اپنے آخری وقت میں جس طرح حضرت عمر ؓ کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ مقرر فرمایا، اور جس طرح اس وقت کی امت مسلمہ نے اس کو بشرح صدر قبول کیا اس سے بھی حضرت عمرؓ کے بارے میں حضرت صدیقہؓ کے بیان کی تصدیق ہو گئی۔ اور کنز العمال میں مسند احمد اور ابن جریر وغیرہ کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کیا گیا کہ حضرت عمر ؓ، جب ملک شام کی فتح مکمل ہو جانے کے بعد (ملک کے عمائد کی درخواست پر) شام کی طرف روانہ ہوئے، اور راستہ میں مقام سرغ پر پہنچے تو آپ کو بتایا گیا کہ ملک شام میں سخت وبا ہے اور لوگ بکثرت لقمہ اجل بن رہے ہیں، اس اطلاع کے دینے والوں کا مقصد یہ تھا کہ آپ اس وقت شام تشریف نہ لے جائیں، لیکن آپ نے شام کی طرف سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور اس وقت یہ بھی فرمایا: إِنْ أَدْرَكَنِي أَجَلِي، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ حَيٌّ، اسْتَخْلَفْتُهُ، فَإِنْ سَأَلَنِي اللهُ: لِمَ اسْتَخْلَفْتَهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَمِينًا، وَأَمِينِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ. ترجمہ: اگر میری موت کا مقررہ وقت آ گیا اور ابو عبیدہ اس وقت زندہ ہوئے تو میں ان کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ مقرر کروں گا پھر اگر اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ ابو عبیدہؓ کو تم نے کس وجہ سے امت محمدیہ پر خلیفہ مقرر کیا ہے تو میں عرض کروں گا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے کہ “ہر پیغمبر کا ایک امین ہوتا ہے اور میرے امین ابو عبیدہ ابن جراح ہیں”۔ لیکن اللہ کی مشیت اور قضا و قدر کے فیصلے کے مطابق حضرت عمرؓ تو شام کے سفر سے صحیح سالم واپس تشریف لے آئے، مگر حضرت ابو عبیدہ ؓ طاعون میں مبتلا ہو کر واصل بحق ہوئے۔ “وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقْدُورًا” اور کنز العمال ہی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا: لَوْ أَدْرَكْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ لَاسْتَخْلَفْتُهُ وَمَا شَاوَرْتُ فِيهِ فَإِنْ سُئِلْتُ عَنْهُ، قُلْتُ: اسْتَخْلَفْتُ أَمِينَ اللَّهِ وَأَمِينَ رَسُولِهِ. ترجمہ: اگر میں ابو عبیدہ کو پاتا تو ان کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ نامزد کرتا اور کسی سے مشاورت بھی نہ کرتا، اگر اس بارے میں مجھ سے پوچھا جاتا تو میں جواب دیتا کہ میں نے اس شخص کو خلیفہ نامزد کیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک امین ہے۔ بظاہر یہ بات آپ نے اس وقت فرمائ جب آپ کو ایک شقی ازلی ابو لؤلؤ مجوسی نے عین نماز کی حالت میں خنجر سے ایسا زخمی کیا کہ اس کے بعد زندہ رہنے کی توقع نہیں رہی اور اپنے بعد کے لئے خلیفہ مقرر کرنے یا نہکرنے کا اہم مسئلہ آپ کے سامنے آیا۔ واللہ اعلم۔ الغرض حضرت عمر ؓ کے ان ارشادات سے بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے اس خیال کی پوری تصدیق و توثیق ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بعد کے لئے خلیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ فرماتے تو پہلے نمبر پر حضرت ابو بکر صدیقؓ اور دوسرے پر حضرت عمرؓ اور ان کے بعد ابو عبیدہ بن جراحؓ کو نامزد فرماتے، بلاشبہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح کا یہی مقام و مرتبہ تھا۔ ؓ وارضاہ۔ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی توفیق سے حضرات عشرہ مبشرہ کے مناقب کا سلسلہ ختم ہوا۔

2095Maarif-ul-Hadith

فضائل اہل بیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم (ازواجِ مطہرات اور ذریت طیّبہ): فضائل ام المومنین حضرت خدیجہؓ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ، وَطَعَامٌ، فَإِذَا أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخَبَ فِيهِ، وَلاَ نَصَبَ " (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ جبرائیل رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ اے رسول خدا: یہ خدیجہ آ رہی ہیں ان کے ساتھ ایک برتن ہے اس میں سالن اور کھانا ہے، جب وہ آپ کے پاس آ جائیں تو ان کو ان کے پروردگار کی طرف سے سلام پہنچائیے اور میری طرف سے بھی، اور ان کو خوشخبری سنائیے جنت میں موتیوں سے بنے ہوئے ایک گھر کی، جس میں نہ شور و شغب ہو گا اور نہ کوئی زحمت و مشقت ہو گی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح یہ ایک حقیقت ہے جس میں کسی شک شبہ کی گنجائش نہیں کہ “اہل البیت” کا لفظ قرآن مجید میں ازواج مطہرات ہی کے لئے استعمال ہوا ہے، سورۃالاحزاب کے چوتھے رکوع میں ازواج مطہرات کو کچھ خاص ہدایات دینے کے بعد فرمایا گیا ہے۔ “إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا” جس کا مطلب یہ ہے کہ “اے ہمارے پیغمبر کی بیویوں! تم کو جو یہ خاص ہدایتیں دی گئیں ہیں ان سے اللہ کا مقصد تم کو زحمت و مشقت میں مبتلا کرنا نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ان ہدایات سے یہ ہے کہ تم کو ہر قسم کی ظاہری و باطنی برائی اور گندگی سے مطہر اور پاک صاف کر دیا جائے .....“جو شخص عربی زبان کی کچھ بھی واقفیت رکھتا ہے اس کو سورہ احزاب کے اس پورے رکوع کے پڑھنے کے بعد اس میں کوئی شک شبہ نہیں ہو گا کہ یہاں “اہلبیت” کا لفظ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات ہی کے لئے استعمال ہوا ہے ..... لیکن یہ کیسی عجیب بات ہے کہ قرآن پر ایمان رکھنے والے ہم مسلمانوں کا حال آج یہ ہے کہ “اہل بیت”کا لفظ سن کر ہمارا ذہن ازواج مطہرات کی طرف بالکل نہیں جاتا بلکہ آنحضرت ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ زہرا اور ان کے شوہر حضرت علی مرتضیٰؓ اور ان دونوں کی ذریت ؓ ہی کی طرف جاتا ہے۔ “اہل البیت” کا لفظ قرآن مجید میں سورہ احزاب کے علاوہ صرف ایک جگہ اور سورہ ہود کے چھٹے رکوع میں بھی آیا ہے، جہاں یہ واقعہ بیان ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب بڑھاپے کی اس عمر کو پہنچ گئے تھے جس میں عام قانون فطرت کے مطابق اولاد کی امید نہیں کی جا سکتی اور لاولد تھے، تب اللہ تعالیٰ کی بھیجے ہوئے فرشتوں کی ایک جماعت نے آ کر انہیں اور ان کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ کو ایک بیٹے کو تولد کی بشارت دی، حضرت سارہ نے از راہ تعجب کہا: “أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَذَا بَعْلِي شَيْخًا” (میں خود بڑھیا اور میرے یہ میاں بھی بوڑھے تو اب کیا میں بچہ جنوں گی؟) ..... اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا “ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ ۖ رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ۚ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ” (محترمہ! کی آپ اللہ کے تکوینی حکم کے بارے میں تعجب کرتی ہیں، آپ “اهل البيت” پر تو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتیں اور برکتیں ہیں) ..... ظاہر ہے کہ اس آیت میں بھی “اهل البيت” سے مراد ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ عربی زبان و محاورات سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ کسی شخص کے “اهل البيت” کا اولین مصداق اس کی بیوی ہی ہوتی ہے، اسی طرح فارسی میں “اہل خانہ” اور اردو میں “گھر والے” یا “گھر والی” بیوی ہی کو کہا جاتا ہے، ماں، بہن، بیٹی اور داماد اور ان کی اولاد کے لئے “اہل البیت” اور “اہل خانہ” اور “گھر والوں” کا لفظ استعمال نہیں ہوتا، الغرض اس میں شک شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ “اہل البیت” کا لفظ قرآن مجید میں ازواج مطہرات ہی کے لئے استعمال ہوا ہے اور وہی اس کی اولین مصداق ہے ..... البتہ یہ بات حدیث شریف سے ثابت ہے کہ جب سورہ احزاب کی مندرجہ بالا آیت: “إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا” نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ زہرا اور ان کے دونوں صاحبزادوں حضرت حسن اور حضرت حسین اور ان کے ساتھ ان کے شوہر اور اپنے چچازاد بھائی حضرت علی مرتضیٰ (ؓ اجمعین) کو ایک کملی میں اپنے ساتھ لے کر دعاء فرمائی: “اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَحَامَّتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا” (اے اللہ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں ان سے بھی ہر طرح کی برائی اور گندگی کو دور فرما دے اور ان کو مکمل طور سے مطہر و پاک صاف فرما دے) ..... بلاشبہ حضور ﷺ کی یہ دعا قبول ہوئی اور سورہ احزاب والی آیت میں ازواج مطہرات “اھل البیت” کے لفظ سے ذکر فرما کر ان پر اللہ تعالیٰ کے جس خاص انعام کا ذکر فرمایا گیا تھا، اس میں اور لفظ “اھل البیت” کے اطلاق میں یہ حضرات بھی شامل ہو گئے، اس بنیاد پر یہ حضرات بھی لفظ “اھل البیت” کا صحیح مصداق ہیں، لیکن جیسا کہ تفصیل سے عرض کیا جا چکا، قرآن مجید میں یہ لفظ ازواج مطہرات ہی کے لئے استعمال ہوا ہے، اور وہی اس کی اولین مصداق ہیں۔ الغرض یہ بات کہ ازواج مطہرات آ پ کے اہل بیت میں سے نہیں ہیں بلکہ اس لفظ کا مصداق صرف آپ کی ایک بیٹی، ایک داماد اور دو نواسے ہیں، نہ تو زبان کے لحاظ سے درست ہے نہ قرآن و حدیث سے ثابت ..... بلکہ ایک خاص فرقہ کے فنکاروں کی سازش کے نتیجہ میں اس غلطی نے امت میں عام کی حیثیت اختیار کر لی اور ہماری سادہ دلی کی وجہ سے اس طرھ کی بہت سی دوسری غلط باتوں کی طرح اس کو بھی قبول عام حاصل ہو گیا اور جیسا کہ عرض کیا گیا حالت یہ ہو گئی کہ “اھل بیت” کا لفظ سن کر ہمارے اچھے پڑھے لکھوں کا ذہن بھی ازواج مطہرات کی طرف نہیں جاتا جو قرآن مجید کی رو سے اس لفظ کی اولین مصداق ہیں۔ اب اس عاجز نے لفظ “اھل البیت” کے صحیح مفہوم کو امت میں رائج کرنے کی نیت سے “اھل بیت نبوی” کے عنوان کے تحت ہی رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات اور آپ کی ذریت طیبہ دونوں کے فضائل و مناقب لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وَالله ُالْمُوَفِّقْ وَهُوَ الْمُسْتَعَانِ ازواج مطہرات جیسا کہ حدیث و سیرت کی مستند روایات سے معلوم ہوتا ہے رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات جو منکوحہ بیوی کی حیثیت سے آپ ﷺ کے ساتھ تھوڑی یا زیادہ مدت رہیں وہ کل گیارہ ہیں، ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔ 1.حضرت خدیجہ بنت خویلد 2.حضرت سودہ بنت زمعہ 3.حضرت عائشہ صدیقہؓ 4.حضرت حفصہ بنت عمر بن الخطاب 5.حضرت زینب بنت جحش 6.حضرت ام سلمہ 7.حضرت زینب نبت جحش 8.حضرت ام حبیبہ 9.حضرت جویریہ بنت الحارث 10.حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب 11.حضرت میمونہ (ؓن وارضاھن) ان میں سے حضرت خدیجہؓ اور حضرت زینب بنت خزیمہؓ نے حضور ﷺ کی حیات مین وفات ان گیارہ کے علاوہ بنو قریظہ میں سے ریحانہ شمعون کے متعلق بھی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے یہودی بنی قریظہ کی غداری کی وجہ سے ان کے خلاف کار روائی کی اور ان کی بقایا کو گرفتار کیا گیا تو ان میں یہ ریحانہ بھی تھیں، انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو آزاد کر کے اپنے نکاح میں لے لیا، لیکن بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو حضور ﷺ کی منکوحہ بیوی بننے کا شرف حاصل نہیں ہوا، بلکہ یہ باندی کی حیثیت سے آپ ﷺ کے ساتھ رہیں، یہاں تک کہ حضور ﷺ کی وفات سے چند روز پہلے اور ایک روایت کے مطابق حجۃ الوداع سے واپس آنے کے بعد حضور ﷺ کی حیات ہی میں وفات پا گئیں۔ زوجیت کا شرف رسول اللہ ﷺ کی زوجیت کا شرف بجائے خود یقیناً اعلیٰ درجہ کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت ہے اور فرق مراتب کے باوجود یہ تمام ازواج مطہرات کو یکساں طور پر حاصل ہے اسی طرح ازواج مطہرات کو جو خصوصی احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے دئیے گئے ہیں، وہ بھی یکساں طور پر ان سبھی کے لئے ہیں، قرآن مجید میں “وَاَزْوَاجُهُ اُمَّهَاتُهُمْ” فرما کر ان کو تمام اہل ایمان کی مائیں قرار دیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے ہر امتی اور ہر صاحب ایمان کے لئے ان میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرنا ابد الآباد تک اسی طرح حرام قرار دے دیا گیا ہے جس طرح اپنی حقیقی ماں کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے۔ یہاں تک ازواج مطہرات کے صرف اسماء گرامی لکھے گئے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی زوجیت کے شرف سے متعلق مختصراً کچھ اشارات کئے گئے ہیں، آگے ان شاء اللہ ان “امہات المومنین” کا بقدر ضرورت تعارف، قابل ذکر خصوصی احوال و اوصاف، ان میں سے ہر ایک کے رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں آنے کی تفصیل اور اس کے خاص اسباب و محرکات، نیز ان کی وفیات کا تذکرہ ناظرین کرام مطالعہ فرمائیں گے اور ان شاء اللہ ان سوالات و شبہات کا جواب بھی ان کو مل جائے گا، جو ازواج مطہرات کی تعداد کے بارے میں کچھ شیاطین الانس کی وسوسہ اندازی سے ان کے دلوں میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ یہ پہلی خوش قسمت خاتون ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی زوجیت کے شرف سے مشرف ہوئیں، ان کے والد خویلد بن اسد مکہ کے ایک دولت مند اور معزز تاجر تھے، حضرت خدیجہؓ کی پہلی شادی ابو ہالہ تمیمی سے ہوئی تھی ان سے دو (۲) بیٹے (ہالہ اور ہند) پیدا ہوئے، کچھ مدت کے بعد ابو ہالہ کا انتقال ہو گیا تو ان کا دوسرا نکاح عتیق ابن عابد مخزومی سے ہوا، ان سے بھی ایک بیٹی پیدا ہوئی، لیکن عتیق کی عمر نے بھی زیادہ وفا نہ کی ..... پھر جب کہ خدیجہ کی عمر قریباً ۳۵۔ ۳۶ سال کی ہو گئی تھی، ان کے والد خویلد کا بھی انتقال ہو گیا، اب تجارتی کاروبار کی ذمہ داری خود حضرت خدیجہؓ کو سنبھالنی پڑی ..... مکہ میں رواج تھا کہ لوگ نفع میں مقررہ شرح سے شرکت کی بنیاد پر دوسرے لوگوں کے ذریعہ بھی تجارتی کاروبار کرتے تھے (جس کو فقہی اصطلاح میں “مضاربت” کہا جاتا ہے) اپنے والد اور شوہر کے انتقال کے بعد حضرت خدیجہؓ نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا۔ رسول اللہ ﷺ کی معصومانہ سیرت، امانت و دیانت، صداقت شعاری اور راست بازی کا مکہ میں عام شہرہ تھا، یہاں تک کہ آپ “الامین” کے لقب سے معروف تھے اسی وجہ سے حضرت خدیہؓ نے ایک دفعہ چاہا کہ آپ ﷺ ان کا مال تجارت لے کر ملک شام جائیں اور پیشکش کی کہ منافع میں جتنا حصہ اب تک میں دوسروں کو دیتی رہی ہوں آپ ﷺ ان کا مال تجارت لے کر ملک شام جائیں اور پیشکش کی کہ منافع میں جتنا حصہ اب تک میں دوسروں کو دیتی رہی ہوں آپ ﷺ کو اس سے دوگنا دوں گی آپ نے اپنے چچا ابو طالب سے مشورہ کے بعد اس کو قبول فرما لیا، خدیجہؓ نے اپنے غلام میسرہ کو بھی آپ کے ساتھ کر دیا، اس تجارتی سفر میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی برکت دی اور پہلے جو نفع ان کو ہوا کرتا تھا اس سے دوگنا نفع ہوا، اس کے علاوہ حضرت خدیجہؓ کے غلام میسرہ نے آپ کے حسن اخلاق، معصومانہ سیرت کا تجربہ اور کچھ غیر معمولی خارق عادت کرامتی قسم کی باتوں کا بھی مشاہدہ کیا، واپس آنے پر جن کا تذکرہ میسرہ نے حضرت خدیجہؓ سے بھی کیا۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکاح حضرت خدیجہؓ ایک دولت مند شریف الطبع خاتون ہونے کے علاوہ ظاہری حسن و جمال، باطنی محاسن اخلاق، کردار کی بلندی، فیاضی اور پاک بازی جیسے اوصاف حمیدہ میں بھی ممتاز تھیں، اسی بناء پر وہ طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں، اس وجہ سے قریش مکہ کے بہت سے معزز حضرات کی طرف سے ان کو نکاح کا پیغام دیا گیا، لیکن دو شوہروں سے بیوہ ہو جانے کے باعث باقی زندگی اسی طرح گزارنے کا ارادہ کر لیا تھا، اس لئے کسی کا پیغام قبول نہیں کیا ..... مگر میسرہ نے تجارتی سفر سے واپسی کے بعد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں تجربات اور مشاہدات بیان کئے تو خود ان کے دل میں آپ ﷺ سے نکاح کی خواہش پیدا ہوئی، اور اس مقصد کے لئے ایک دوسری خاتون نفیسہ بنت امیہ کو رازدارانہ طور پر آپ ﷺ کے پاس بھیجا نفیسہ کا بیان ہے کہ ..... میں آپ ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ “آپ ﷺ نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نادار اور خالی ہاتھ ہوں، کس طرح نکاح کر سکتا ہوں، میں نے کہا کہ اگر کوئی ایسی عورت آپ ﷺ سے نکاح کرنے کی خواہش مند ہو جو ظاہری حسن و جمال اور طبعی شرافت کے علاوہ دولت مند بھی ہو اور آپ ﷺ کی ضروریات کی کفایت کرنے پر بھی خوش دلی سے آمادہ ہو تو آپ اس سے نکاح کر لینا پسند کریں گے؟ ..... آپ نے دریافت کیا کہ ایسی کون خدا کی بندی ہو سکتی ہے؟ میں نے کہا: خدیجہ بنت خویلد ..... آپ ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب سے ذکر کیا، انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا تو آپ ﷺ نے نفیسہ کو جواب دے دیا کہ اگر خدیجہ اس کے لئے آمادہ ہیں تو میں بھی راضی ہوں۔ نفیسہ نے آ کر حضرت خدیجہ کو اس کی اطلاع دی، پھر خدیجہ نے نفیسہ ہی کے ذریعہ آپ کو بلوا کر براہ راست بھی آپ سے بات کی، اس گفتگو ہی میں طے ہو گیا کہ آپ اپنے خاندان کے بزرگوں کو لے کر فلاں دن میرے یہاں آ جائیں، چنانچہ آپ اپنے چچا ابو طالب اور دوسرے خاندانی بزرگوں کو لے کر جن میں حضرت حمزہؓ بھی تھے، خدیجہ کے گھر پہنچ گئے، انہوں نے بھی اپنے چچا عمرو ابن اسد کو بلوا لیا، اور قریش کے اس دور کے رواج کے مطابق انہیں کی ولایت میں نکاح ہو گیا، اس وقت آپ کی عمر پچیس سال تھی اور حضرت خدیجہ کی چالیس سال، آپ کا یہ پہلا نکاح تھا جو بعثت سے قریباً پندرہ سال پہلے ہوا۔ اولاد اس رشتہ اردواج کے کچھ مدت بعد (ایک مشہور تاریخی روایت کے مطابق ۵ سال بعد) آپ کے پہلے صاحبزادہ پیدا ہوئے، جن کا نام “قاسم” رکھا گیا، انہیں کے نام پر رسول اللہ ﷺ نے اپنی کنیت “ابو القاسم” رکھی، ان کا صغر سنی ہی میں انتقال ہو گیا، ان کے بعد آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی “زینب” پیدا ہوئیں ان دونوں کی پیدائش آغاز نبوت سے پہلے ہی ہوئی، اس کے بعد ایک صاحبزادے پیدا ہوئے، ان کا ام عبداللہ رکھا گیا ان کی پیدائش دور نبوت میں ہوئی اسی لئے ان کو طیب اور طاہر کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا انتقال بھی صغر سنی ہی میں ہو گیا، پھر ان کے بعد مسلسل تین صاحبزادیاں پیدا ہوئیں جن کے نام رقیہ، ام کلثوم، اور فاطمہ رکھے گئے، چاروں صاحبزادیوں کا تذکرہ آگے “ذریت طبیہ” کے عنوان کے تحت ناظرین کرام ان شاء اللہ مطالعہ فرمائیں گے۔ حضرت خدیجہؓ کی بعض قابلِ ذکر خصوصیات معلوم ہے کہ قریش کا قبیلہ بلکہ عام طور سے اہل مکہ بت پرستی کے شرک میں مبتلا تھے اور یہ شرک انہیں اتنا پیارا تھا کہ اس کے خلاف کوئی لفظ سننا بھی ان کے لئے ناقابل برداشت تھا، لیکن جاہلیت کے اس دور میں گنتی کے دو چار آدمی ایسے بھی تھے جن کو فطری طور پر بت پرستی سے نفرت تھی، ان میں ایک حضرت خدیجہؓ بھی تھیں ..... اس دور کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ واحد خاتون تھیں جو شرک و بت پرستی سے بیزار تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسرے بہت سے انعامات کے علاوہ دولت مندی کی نعمت سے بھی نوازا تھا ..... رسول اللہ ﷺ کا حال اس کے برعکس تھا، انہوں نے اپنی پوری دولت گویا آپ کے قدموں میں ڈال دی اور آپ کو اس سلسلہ کی فکروں سے آزاد کر دیا، قرآن مجید سورہ “والضحى” میں اسی صورت حال کے بارے میں فرمایا گیا ہے “ وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ” (اے پیغمبر! تم کو تمہارے پروردگار نے مفلس اور نادار پایا پھر مستغنی کر دیا) اس سلسلہ میں یہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے کہ زید بن حارثہ، حضرت خدیجہؓ کے زر خرید غلام تھے، انہوں نے دیکھا کہ زید کو رسول اللہ ﷺ سے خاص انس و محبت ہے اور آپ کا معاملہ بھی زید کے ساتھ خصوصی درجہ کی شفقت و پیار کا ہے، تو انہوں نے زید کو حضور ﷺ ہی کی ملکیت میں دے دیا، پھر آپ ﷺ نے ان کو آزاد کر دیا اور عربوں کے اس وقت کے رواج کے مطابق ..... ان کو اپنا منہ بولا بیٹا، بنا لیا یہاں تک کہ ان کو زید بن حارثہ کے بجائے زید بن محمد ہی کہا جانے لگا۔ پھر جب نکاح کے پندرہ سال بعد اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو شرف نبوت سے سرفراز فرمایا اور آپ ﷺ پر وہ شدید غیر معمولی حالات آئے جن کا ذکر بیان مناقب کے شروع ہی میں آغاز نبوت والی حدیث کے حوالہ سے کیا جا چکا ہے، تو اس وقت آپ ﷺ کو جس طرح کی دانش مندانہ و ہمدردانہ تسلی کی ضرورت تھی وہ اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق سے حضرت خدیجہ ہی سے ملی اور جب وہ آپ کے اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو مکہ کی پوری آبادی میں موحد صحیح العقیدہ نصرانی اور توریت و انجیل کے عالم تھے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے غار حراء کی واردات اور سرگذشت سن کر یقین و وثوق کے ساتھ آپ کے مبعوث من اللہ نبی ہونے کی بات کہی تو حضرت خدیجہؓ نے بھی ان کی اس بات کو دل سے قبول کر لیا، بلکہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ رسول اللہ ﷺ کے حالات و اوصاف کے پندرہ سالہ تجربہ کی بنا پر پہلے ہی سے ان کا دل آپ کی ہر بات کی تصدیق کے لئے تیار ہو چکا تھا، اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ پوری امت میں وہ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کے مبعوث من اللہ نبی ہونے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ پھر جب آپ نے بحکم خداوندی توحید اور دین حق کی دعوت کا کام شروع کیا تو پوری قوم آپ کی دشمن بن کر کھڑی ہو گئی، ہر ممکن طریقہ سے آپ کو ستایا برسوں تک ان بدنصیبوں کا محبوب ترین مشغلہ رہا، مظلومیت کے اس پورے دور میں حضرت خدیجہؓ نہ صرف آپ کی غم خوار و غمگسار بلکہ پوری طرح شریک حال رہیں، یہاں تک کہ جب ان ظالموں نے مکہ کی قریبا پوری آبادی کو اپنے ساتھ لے کر آپ کا اور آپ کے خاندان بنو ہاشم کے ان تمام لوگوں کا بھی جنہوں نے اگرچہ آپ کی دعوت اسلام کو قبول نہیں کیا تھا لیکن نسبی اور قرابتی تعلق کی وجہ سے آپ کی کسی درجہ میں حمایت کرتے تھے بائی کاٹ کرنے کا فیصلہ کیا، اور آپ اور آپ کے وہ قریبی رشتہ دار بھی شعب ابی طالب میں محصور کر دئیے گئے اور ایسی ناکہ بندی کی گئی کہ کھانے پینے کی ضروریات بھی ان کو نہ پہنچ سکیں، یہاں تک کہ ان لوگوں کو کبھی کبھی درختوں کے پتے کھا کر گذارہ کرنا پڑا ..... اس حالت میں بھی حضرت خدیجہؓ شعب ابی طالب میں آپ کے ساتھ رہیں، حالانکہ ان کے لئے بالکل ممکن تھا کہ وہ ان دنوں اپنے گھر ہی رہتیں۔ حضرت خدیجہؓ کے سلسلہ میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وہ پورے پچیس سال تک آپ کی رفیقہ حیات کی حیثیت سے آپ کے ساتھ رہیں اور اس پورے دور میں آپ نے کوئی دوسرا نکاح نہیں کیا نبوت کے دسویں سال ہجرت سے قریباً تین سال پہلے رمضان المبارک ۱۱ نبوی میں عمر کے ۶۵ ویں سال وفات پائی۔ اس وقت تک نہ تو نماز پنجگانہ فرض ہوئی تھی اور نہ نماز جنازہ کا حکم ہوا تھا، اس لئے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی، رسول اللہ ﷺ نے خود ان کو اپنے مبارک ہاتھوں سے قبر مین اتارا اور رحمت خداوندی کے سپرد کیا۔ (ؓ وارضاھا) تشریح ..... حدیث کا مطلب واضح ہے کسی تشریح و وضاحت کا محتاج نہیں، لیکن اس میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ حضرت جبرئیل کی یہ آمد کہاں اور کب ہوئی، جس میں انہوں نے حضرت خدیجہؓ سے متعلق رسول اللہ ﷺ سے یہ بات کہی۔ فتح الباری میں حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے طبرانی کی ایک روایت کے حوالہ سے لکھا ہے: إِنَّ ذَالِكَ كَانَ وَهُوَ بِحِرَاءَ ...... یعنی جبرائیل کی یہ آمد اس وقت ہوئی تھی جب رسول اللہ ﷺ غار حرا میں تھے ..... اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ واقعہ غار حراء میں حضرت جبرئیل کی اس پہلی آمد کے بعد کا ہے جس کا ذکر اسی سلسلہ معارف الحدیث کتاب المناقب کے شروع میں “آغاز وحی و نبوت” کے تحت پوری تفصیل سے کیا جا چکا ہے ..... اسی سے ضمنی طور پر یہ بھی معلوم ہو گیا کہ حضرت جبرائیلؑ کی پہلی آمد اور آغاز نبوت کے بعد اس غار حرا میں آپ کی خلوت گزینی کا سلسلہ بالکل ختم اور منقطع نہیں ہو گیا تھا ..... یہ بات ناقابل فہم ہے، کہ جہاں آپ طویل مدت تک خلوت گزیں ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر و عبادت میں مشغول رہے ہوں اور جہاں اس کے عظیم المرتبہ حامل وحی فرشتے جبرئیل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا نزول آپ پر شروع ہوا ہو، اس کے بعد آپ کا اس مقدس مقام سے کوئی تعلق نہ رہا ہو ..... الغرض اس روایت سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ آغاز نبوت کے بعد بھی آپ غار حراء میں کبھی کبھی قیام فرماتے تھے، اسی دور میں یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت جبرئیل آئے اور آپ کو مطلع کیا کہ آپ کی زوجہ محترمہ خدیجہؓ آ رہی ہیں اور آپ کے لئے کھانے کا کچھ سامان لا رہی ہیں، جب وہ آئیں تو آپ ان کے پروردگار کی طرف سے اور میری طرف سے بھی ان کو سلام پہنچائیں اور ان کو موتیوں سے جنت میں بنے ہوئے ایک ایسے گھر کی بشارت دیں جس میں نہ شور و شغب ہو گا اور نہ کسی قسم کی زحمت اور نہ تکلیف ہو گی۔ اس حدیث سے حضرت خدیجہ ؓ کی تین خاص فضیلتیں معلوم ہوئیں۔ ۱۔وہ ایک معزز دولت مند اور بوڑھی خاتون ہونے کے باوجود حضور ﷺ کے لئے کھانے پینے کا سامان گھر پر تیار کر کے غار حراء تک خود لے کے گئیں، جو کہ اس وقت شہر مکہ مکرمہ کی آبادی سے قریباً ڈھائی تین میل کے فاصلہ پر تھا اور حراء کی بلندی کی وجہ سے اس پر چڑھنا اچھے طاقتور آدمی کے لئے بھی آسان نہیں، (راقم سطور کو خود بھی اس کا تجربہ ہے) بلاشبہ حضرت خدیجہؓ کا یہ عمل ایسا ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں اس کی خاص قدر ہو۔ ۲۔دوسری بڑی فضیلت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ ان کو رب العرش (اللہ تعالیٰ) کا سلام اور اسی کے ساتھ اس کے عظیم المرتبہ فرشتے جبرئیل امین کا سلام پہنچایا گیا ہے۔ ۳۔جنت میں ان کے لئے موتیوں سے بنے ہوئے بیت (گھر) کی بشارت دی گئی جس کی خاص صفت یہ بیان کی گئی کہ نہ تو اس میں کسی قسم کا شور و شغب ہو گا اور نہ کسی طرح کی زحمت و تکلیف اٹھانی پڑے گی، جیسا کہ دنیا کے گھروں میں عام طور سے اپنے گھر والوں کا یا پاس پڑوس کا شور و شغب آرام و یکسوئی میں خلل انداز ہوتا ہے اور جس طرح گھر کی صفائی اور درستی وغیرہ میں زحمت و تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔

2096Maarif-ul-Hadith

فضائل اہل بیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم (ازواجِ مطہرات اور ذریت طیّبہ): فضائل ام المومنین حضرت خدیجہؓ

عَنْ عَلِيِّ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ اس (دنیا) کی عورتوں میں سب سے بہتر مریم بنت عمران ہیں اور اس (دنیا) کی عورتوں میں سب سے بہتر خدیجہ بنت خویلد ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہماری اس دنیا کی تمام عورتوں میں سب سے بہتر اور بالا تر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت مریم بنت عمران اور رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ ہیں اگر حدیث کا مطلب یہی ہو تو یہ سمجھا جائے گا کہ یہ دونوں مرتبہ میں برابر ہیں ..... بعض شارحین نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ حضرت مریم پہلی امتوں کی تمام عورتوں میں بہتر اور بالاتر ہیں اور حضرت خدیجہؓ اس امت محمدیہ کی تمام عورتوں میں بہتر اور بالاتر ہیں اور چونکہ رسول اللہ ﷺ کی یہ امت خیر امم ہے یعنی پہلی تمام امتوں سے بہتر اور بالاتر ہے، اس لئے حضرت خدیجہؓ بہ نسبت حضرت مریم بنت عمران کے بہتر اور برتر ہوں گی۔ واللہ اعلم۔

2097Maarif-ul-Hadith

فضائل اہل بیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم (ازواجِ مطہرات اور ذریت طیّبہ): فضائل ام المومنین حضرت خدیجہؓ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَمَا رَأَيْتُهَا، وَلَكِنْ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَهَا، وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ ثُمَّ يُقَطِّعُهَا أَعْضَاءً، ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صَدَائِقِ خَدِيجَةَ، فَرُبَّمَا قُلْتُ لَهُ: كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي الدُّنْيَا امْرَأَةٌ إِلَّا خَدِيجَةُ، فَيَقُولُ «إِنَّهَا كَانَتْ، وَكَانَتْ، وَكَانَ لِي مِنْهَا وَلَدٌ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی بیویوں میں سے کسی پر ایسا رشک نہیں آیا جیسا کہ خدیجہؓ پر آیا حالانکہ میں نے ان کو دیکھا نہیں، لیکن آپ ان کو بہت یاد کرتے، اور بکثرت ان کا ذکر فرماتے، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ آپ ﷺ بکری ذبح فرماتے، پھر اس کے اعضاء الگ الگ ٹکڑے کرتے، پھر وہ ٹکڑے خدیجہؓ سے میل محبت رکھنے والیوں کے یہاں بھیجتے تو میں کس وقت کہہ دیتی دنیا میں بس خدیجہ ہی ایک عورت تھیں، اور آپ ﷺ فرماتے کہ وہ ایسی تھیں، ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہوئی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو جن اخلاق حسنہ سے نوازا تھا ان میں ایک احسان شناسی کا وصف بھی تھا۔ حضرت خدیجہ نے آنحضرت ﷺ کے نکاح میں آنے کے بعد آپ ﷺ کی جو خدمتیں کیں اور دور نبوت کے آغاز میں جس طرح وہ آپ ﷺ کے لئے تقویت اور تسلی کا ذریعہ بنیں، اور پھر دین حق کی دعوت کے وقت جس طرح وہ شدائد و مصائب میں آپ ﷺ کی شریک حال رہیں، اور ان کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے جو خصوصیات ان کو عطا فرمائی تھیں (جن میں سے کچھ کا ذکر اوپر آ چکا ہے) ان کا حق تھا کہ آنحضرت ﷺ ان کو کبھی فراموش نہ کرتے اور احسان شناسی کے جذبہ کا تقاضا تھا کہ آپ ﷺ ان کا اور ان کی خدمات و احسانات کا دوسروں کے خاص کر اپنی ازواج مطہرات کے سامنے ذکر فرماتے یہی آپ ﷺ کا عمل تھا، یہاں تک کہ اس سلسلہ میں آپ ﷺ کا یہ بھی معمول تھا کہ کبھی کبھی آپ ﷺ بکری ذبح کرتے تھے اس کے گوشت کے پارچے حضرت خدیجہؓ سے میل محبت کا تعلق رکھنے والی خواتین کو ہدیہ کے طور پر بھیجتے، آپ ﷺ کا یہی وہ طرز عمل تھا، جس کی بنا پر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ مجھے آپ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر ویسا رشک نہیں آیا جیسا کہ آپ ﷺ کی پہلی مرحومہ بیوی خدیجہؓ پر آتا تھا، ھالانکہ میں نے ان کو دیکھا بھی نہیں تھا (کیوں کہ ان کے پچپنے ہی میں وہ وفات پا گئیں تھیں) ..... اسی سلسلہ بیان میں حضرت صدیقہؓ نے کود ہی اپنی اس کمزوری کا ذکر فرمایا کہ میں ایسے وقت جب آپ ﷺ اپنی مرحومہ بیوی خدیجہؓ کی خوبیوں کا ذکر فرماتے تو کبھی کہہ دیتی کہ “دنیا میں بس خدیجہؓ ہی ایک عورت تھیں”۔ تو آپ ﷺ فرماتے کہ وہ ایسی تھیں ایسی تھیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان کی خدمات و احسانات اور خوبیوں کا ذکر فرماتے، اس سلسلہ میں آپ ﷺ ان کی اس خصوصیت کا بھی ذکر فرماتے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کے ذریعہ مجھے اولاد عطا فرمائی۔ کیوں کہ ان کے علاوہ دس بیویوں میں سے کسی سے بھی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ یہاں یہ بات قابل لحاظ ہے کہ حضرت ماریہ قبطیہؓ سے ایک صاحبزادے پیدا ہوئے تھے جن کا نام آپ نے ابراہیم رکھا تھا، وہ شیر خوارگی ہی کے ایام میں قریباً صرف ڈیڑھ سال کی عمر پا کر انتقال فرما گئے تھے لیکن حضرت ماریہؓ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے نہیں تھیں، بلکہ آپ ﷺ کی مملوکہ تھیں جن کو اسکندریہ کے صاحب حکومت مقوقس نے کچھ اور ہدایا کے ساتھ آپ ﷺ کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر بھیجا تھا، پھر وہ حضرت ابراہیم کی پیدائش کے بعد شریعت کے حکم کے مطابق “ام ولد” ہو گئی تا آنکہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے ۵ سال بعد حضرت عمر ؓ کے دور حکومت میں وفات پائی۔ (ؓ وارضاہا) ام المومنین حضرت سودہ صدیقہ ؓ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے جب رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قوم کو بت پرستی اور جاہلیت والی زندگی چھوڑ کر خدائے واحد کی پرستش اور اس کی فرمانبرداری والی زندگی کی دعوت کا کام شروع کیا، تو پوری قوم آپ کی دشمن بن کر کھڑی ہو گئی، لیکن چند ایسے سلیم الفطرت افراد بھی تھے، جن کے دلوں نے آپ کی دعوت حق کو ابتدائی دور ہی میں قبول کر لیا، ان میں ایک سودہ بنت زمعہ عامریہ بھی تھیں، ان کی شادی اپنے چچا زاد بھائی سکران سے ہوئی تھی، وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی دعوت اسلام کی دشمنی میں عام مشرکین قریش کے ساتھ تھا، حضرت سودہؓ نے مصلحت اس میں سمجھی کہ وہ اپنے اسلام کو ظاہر نہ کریں۔ جس وقت وہ مناسب سمجھتیں تو اپنے شوہر سکران کے سامنے ایسی باتیں کرتیں جن سے ان کا دل بھی رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور اسلام کی حقانیت کے بارے میں سوچنے لگے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کی توفیق سے ان کے شوہر سکران نے بھی کچھ مدت کے بعد اسلام قبول کر لیا اور پھر میاں بیوی دونوں نے اپنے اسلام و ایمان کا اعلانیہ اظہار بھی کر دیا، جس کے بعد ان دونوں پر بھی کفار قریش کی طرف سے ظلم و ستم کا سلسلہ شروع ہو گیا، جو بڑھتا ہی گیا ..... بالآخر مظالم سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ کے مشورہ پر ان دونوں نے بھی بہت سے دوسرے مظلوم اور ستم رسیدہ مسلمانوں کی طرح ملک حبشہ کی طرف ہجرت کی ..... چند برس کے بعد ان کے شوہر سکران کا حبشہ ہی میں انتقال ہو گیا، تو یہ بیوہ ہو کر مکہ مکرمہ واپس آ گئیں اور اپنے والد کے پاس رہیں۔ نبوت کے دسویں سال جب ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کی وفات ہوئی تو آپ ﷺ فطری طور پر ان کے مفارقت کی صدمہ سے سخت غمگین تھے، علاوہ اس کے ایک پریشان کن صورت ھال یہ پیدا ہو گئی کہ گھر میں صرف کم عمر چار بچیاں تھیں، جن کی دیکھ بھال کرنے والا اور خانہ داری کی دوسری ضرورتیں پوری کرنے والا کوئی نہ تھا ..... عثمان بن مظعون کی بیوی خولہ بنت حکیم نے اس صورت حال کو محسوس کر کے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ کو جلدی نکاح کر لینا چاہئے، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری نگاہ میں کون ایسی خاتون ہیں، جن کو تم ان حالات میں مناسب سمجھتی ہو؟ انہوں نے سودہ بنت زمعہؓ کا نام لیا، جو بیوہ اور سن رسیدہ تھیں، آپ ﷺ نے ایمان میں ان کی سابقیت، پھر حبشہ کی طرف ہجرت اور سکران کی وفات کے بعد ان کی بیوی کے صدمہ کا لحاظ کرتے ہوئے ان سے نکاح کرنے کا ارادہ فرما لیا، اور خولہ سے فرمایا: تم خود ہی ان کو میرا پیغام پہنچاؤ ..... خولہ کا بیان ہے کہ میں سودہ کے پاس پہنچی اور ان کو مبارک باد دیتے ہوئے آپ ﷺ نے پیغام پہنچایا، انہوں نے کہا کہ “میں دل و جان سے راضی ہوں“ التبہ بہتر یہ ہے کہ تم میرے والد زمعہ سے بھی اس سلسلہ میں بات کرو! میں اسی وقت ان کے پاس بھی گئی اور پیام پہنچایا، انہوں نے بھی اپنی رضامندی ظاہر کی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تم خود سودہ سے بھی دریافت کرو، میں نے بتایا کہ میں ان سے بات کر چکی ہوں، وہ بڑی خوش دلی کے ساتھ رضامند ہیں، بالآخر زمعہ نے خولہ بنت حکیم ہی کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کو بلوایا، اور آپ کے ساتھ اپنی بیٹی سودہ کا نکاح کر دیا، اس وقت حضرت سودہؓ کی عمر قریباً پچاس سال تھی ..... نکاح کے بعد آنحضرت ﷺ کے ہجرت فرمانے تک تین سال منکوحہ رفیقہ حیات کی حیثیت سے تنہا وہی آپ کے ساتھ رہیں ..... ان کے اوصاف و احوال میں ان کی سرچشمی، استغناء دنیا سے بےرغبتی، اور فیاضی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ ان کے مذکورہ بالا امتیازات کی وجہ سے ان کے ساتھ احترام کا خاص رویہ رکھتے تھے ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے درہموں سے بھری ہوئی ایک تھیلی، ان کی خدمت میں بھیجی، لانے والے سے پوچھا: کیا تھیلی میں کھجوریں ہیں، انہوں نے کہا نہیں! اس میں درہم ہیں، آپؓ نے فرمایا: کھجوریں ہوتیں تو کھانے کے کام آ جاتیں، یہ کہہ کر تھیلی لے لی، اور اس میں بھرے ہوئے سب درہم ضرورت مندوں پر تقسیم فرما دئیے۔ حضرت عمرؓ کے اخیر دور خلافت ۲۲ھ مین قریباً ۵۷ سال کی عمر میں وفات پائی۔ ؓ وارضاہا۔

2098Maarif-ul-Hadith

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرَةٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ وَفَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردوں میں تو بہت لوگ درجہ کمال کو پہنچے ہیں، مگر عورتوں میں صرف مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ ہی کامل ہوئی ہیں ..... اور عائشہؓ کی فضیلت تما عورتوں پر ایسی ہے جیسے کہ تمام کھانوں میں ثرید افضل و اعلیٰ ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح یہ بعثت کے چوتھے سال پیدا ہوئیں، جیسا کہ معلوم ہے وہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کی صاحبزادی ہیں جو اول المومنین ہیں، اور ان کی والدہ ماجدہ ام رومان بھی اولین مومنات میں سے ہیں، ازواج مطہرات میں سے یہ شرف تنہا انہیں کو حاصل ہے کہ ان کے والدین ان کی پیدائیش سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ کی دعوت ایمان کو قبول کر چکے تھے اور عنقریب ہی ناظرین کرام کو صحیح بخاری و صحیح مسلم اور جامع ترمذی کےک حوالہ سے معلوم ہو گا کہ خواب میں متعدد بار رسول اللہ ﷺ کو ان کی صورت دکھلائی گئی اور بتلایا گیا کہ یہ دنیا و آخرت میں آپ کی زوجہ ہونے والی ہیں۔ اوپر ام المومنین حضرت سودہ ؓ کے حالات میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ سے خصوصی درجہ کا ایمانی تعلق رکھنے والی خاتون خولہ بنت حکیم نے آپ سے نکاح کے بارے میں گفتگو کی، وہاں اس سلسلہ میں صرف وہی حصہ ذکر کیا گیا جس کا تعلق حضرت سودہ ؓ سے تھا ...... اسی موقع پر انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں بھی عرض کیا تھا، جن کی عمر اس وقت صرف چھ سات سال کے قریب تھی اور معلوم ہے کہ حضور ﷺ کی عمر شریف پچاس سال سے متجاوز ہو چکی تھی، اس حالت میں کولہ بنت حکیمؓ کی طرف سے حضرت عائشہؓ کے ساتھ نکاح کی تجویز پیش کرنے کے لئے توجیہہ اس کے سوا نہیں کی جا سکتی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فیصلہ اس بارے میں عالم غیب میں ہو چکا تھا، اس کے عمل میں آنے کا ذریعہ خولہ بنت حکیم کی اس تجویز کو بنایا جائے روایت کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خولہ کو حضور ﷺ کے خواب کے بارے میں علم نہیں تھا، اور واقعہ یہ ہے کہ یہ خواب ایسا ہی تھا کہ کسی سے بھی اس کا ذکر نہ فرمایا جاتا ..... بہرحال یہی ہوا خولہ نے حضور ﷺ کے سامنے سودہ بنت زمعہؓ کے ساتھ ہی حضرت عائشہؓ سے نکاح کی بھی تجویز پیش کی۔آپ ﷺ نے جس طرح حضرت سودہؓ کے بارے میں فرمایا تھا کہ تم ہی میری طرف سے پیام ان کو پہنچاؤ، اسی طرح حضرت عائشہؓ کے بارے میں بھی ان ہی کو مامور فرمایا کہ تم ہی ان کے والدین کو میری طرف سے پیام پہنچاؤ۔ چنانچہ وہ حضرت ابو بکرؓ کے مکان پر پہنچیں، لیکن اتفاق سے وہ اس وقت موجود نہیں تھے، ان کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہؓ کی والدہ ماجدہ ام رومانؓ موجود تھیں، خولہ نے مبارک باد دیتے ہوئے ان کی بیٹی عائشہ کے لئے رسول اللہ ﷺ کے پیغام کا ذکر کیا۔ انہوں نے سن کر بڑی خوشی کا اظہار کیا کچھ دیر کے بعد حضرت ابو بکرؓ بھی آ گئے ..... خولہ نے ان کے سامنے بھی ان کی بیٹی عائشہ کے لئے رسول اللہ ﷺ کے پیام کی بات کہی، حضرت ابو بکرؓ نے کہا “أَوْ تَصْلُحُ لَهُ وَهِىَ بِنْتُ اَخِيْهِ”؟ مطلب یہ تھا کہ کیا عائشہ کے ساتھ حضور ﷺ کا نکاح ہو سکتا ہے حالانکہ وہ ان کے بھائی کی بیٹی ہے، (حضرت ابو بکرؓ نے یہ بات اس بنیاد پر فرمائی کہ عربوں میں جس طرح پہلے منہ بولے بیٹے کی حیثیت حقیقی بیٹے کی تھی اسی طرح منہ بولے بھائی کی حیثیت حقیقی نسبی بھائی جیسی ہوتی تھی اور اسی طرح اس کی بیٹی سے نکاح کو جائز اور درست نہیں سمجھا جاتا تھا، جس طرح حقیقی نسبی بھتیجی سے نکاح کو درست اور جائز نہیں سمجھا جاتا تھا۔) خولہ نے حضرت ابو بکرؓ کی یہ بات آنحضرت ﷺ کو پہنچائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: “هُوَ اَخِىْ فِى الْاِسْلَامِ وَابْنَتُهُ تَحُلُّ لِىْ” مطلب یہ تھا کہ وہ اسلامی بھائی ہیں۔ نسبی بھائی نہیں ہیں، اس لئے ان کی بیٹی عائشہؓ سے میرا نکاح اللہ کی نازل فرمائی ہوئی شریعت میں جائز اور صحیح ہے، اگر بالفرض وہ میرے حقیقی نسبی بھائی ہوتے تو ان کی بیٹی سے نکاح کرنا میرے لئے جائز اور درست نہ ہو گا۔ خولہ نے ابو بکرؓ کو حضور ﷺ کا جواب پہنچایا تو فطری طور پر ان کو بڑی خوشی ہوئی، لیکن اس بارے میں ایک رکاوٹ یہ تھی کہ عائشہ کی نسبت بچپن ہی میں جبیر ابن مطعم سے ہو چکی تھی اور اس نسبت کو ایک طرھ کا معاہدہ سمجھا جاتا تھا، اس لئے انہوں نے اخلاقی طور سے ضروری سمجھا کہ جبیر کے والد مطعم سے بات کر کے ان کو اس کے لئے راضی کر لیں، تا کہ میری طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزی اور عہد سکنی نہ ہو، اس بارے میں گفتگو کرنے کے لئے وہ مطعم کے مکان پر پہنچے ..... یہاں یہ بات قابل لحاظ ہے کہ یہ بعثت نبوی کا گیارہوں سال تھا، جب کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی دعوت اسلام، اور اس کو قبول کرنے والوں کے ساتھ کفار مکہ کی دشمنی انتہائی درجہ کو پہنچ چکی تھی حضرت ابو بکرؓ نے مطعم کے مکان پر پہنچ کر اپنی بات شروع کی، اور کہا کہ میری بیٹی عائشہ کے بارے میں تمہارا اب کیا خیال ہے؟ اس وقت مطعم کی بیوی قریب ہی بیٹھی ہوئی تھیں، انہوں نے اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہا کہ “تم بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟” اس نے کہا کہ “میں نہیں چاہتی کہ اب وہ بچی (عائشہ ہمارے گھر میں آئے، اگر وہ آئے گی تو اس کے ساتھ اسلام کے قدم بھی ہمارے گھر میں آ جائیں گے، اور ہم اپنے باپ دادا کے جس دین پر اب تک چل رہے ہیں اس کے نظام میں گڑبڑ ہو جائے گی)”۔ مطعم کی بیوی کا یہ جواب سن کر حضرت ابو بکرؓ نے مطعم سے کہا کہ “تم بتاؤ تمہارا فیصلہ کیاہے؟ اس نے کہا: کہ تم نے اس (میری بیوی) کی بات سن لی میری بھی یہی رائے ہے” ..... حضرت ابو بکرؓ مطمئن ہو کر واپس تشریف لائے، اور خولہ سے کہا کہ “تم رسول اللہ ﷺ کو بلا لاؤ” وہ گئیں اور رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور اسی وقت نکاح ہو گیا۔ یہ شوال کا مہینہ تھا جس کے بعد قریباً تین سال رسول اللہ ﷺ کا قیام مکہ معظمہ ہی میں رہا ..... جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے اس پوری مدت میں حضرت سودہ بنت زمعہؓ ہی آپ ﷺ کی منکوحہ رفیقہ حیات کی حیثیت سے آپ ﷺ کے ساتھ رہیں اور وہی تنہا تمام امور خانہ داری انجام دیری رہیں ..... بعثت کی قریباً ۱۳ سال پورے ہو جانے پر آپ نے بحکم خداوندی مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی ..... جیسا کہ معلوم ہے یہ سفر رازداری کے ساتھ رات میں ہوا اور تنہا حضرت ابو بکرؓ ہی کو اپنےساتھ لیا، ان کے بیوی بچے سب مکہ مکرمہ ہی میں رہے، مدینہ طیبہ پہنچ کر قیام کے بارے میں ضروری انتظام کے بعد حضرت ابو بکرؓ نے ایک شخص (عبداللہ بن اریقط) کو مکہ معظمہ بھیج کر اپنی اہلیہ مکرمہ ام رومان اور دونوں صاحبزادیوں حضرت عائشہؓ اور ان کی بڑی بہن حضرت اسماء کو بھی بلوا لیا ..... اور رسول اللہ ﷺ نے زید بن حارثہؓ کو مکہ مکرمہ بھیج کر اپنے اہل و عیال حضرت سودہ بنت زمعہؓ اور دونوں صاحبزادیوں (حضرت ام کلثومؓ و حضرت فاطمہؓ) کو بلوا لیا، یہ وقت تھا، جب آپ ﷺ مسجد تعمیر کرا رہے تھے اور اس کے ساتھ اپنے لئے چھوٹے چھوٹے گھر بنوا رہے تھے، تو حضرت سودہؓ نے مکہ مکرمہ سے آ کر انہیں میں سے ایک گھر میں قیام فرمایا ..... حضرت عائشہؓ جن کے ساتھ آپ ﷺ کا نکاح تین سال پہلے مکہ مکرمہ میں ہو چکا تھا، اب قریباً ۹۔۱۰ سال کی ہو گئیں تھیں، حضرت ابو بکرؓ کو ان کی غیر معمولی صلاحیت کا پورا اندازہ تھا اور جانتے تھے کہ تعلیم و تربیت اور سیرت سازی کا بہترین اور سب سے زیادہ مؤثر ذریعہ صحبت ہے، اس لئے انہوں نے خود ہی حضور ﷺ سے عرض کیا کہ “اگر آپ کے نزدیک نامناسب نہ ہو تو یہ بہتر ہو گا کہ عائشہ آپ ﷺ کی اہلیہ اور شریک حیات کی حیثیت سے آپ کے ساتھ رہے۔ (1) آپ ﷺ نے اس کو منظور فرما لیا، اور وہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے بنوائے ہوئے ایک گھر مین مقیم ہو گیں، راجح روایت کے مطابق یہ ۱ ہجری شوال کے مہینہ میں ہوا ..... یہاں یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ چونکہ کبھی شوال کے مہینہ میں عرب میں طاعون کی شدید وبا آئی تھی، اس وجہ سے اس مہینہ کو نامبارک اور منحوس مہینہ سمجھا جاتا تھا اور اس میں شادی جیسی تقریبات نہیں کی جاتی تھیں، لیکن ام المومنین حضرت صدیقہ ؓ کا مکہ مکرمہ میں نکاح بھی شوال کے مہینہ میں ہوا تھا، اور جب ہجرت کے بعد مدینہ منورہ آ کر رفیقہ حیات کی حیثیت سے آپ ﷺ کے ساتھ مقیم ہوئی تو وہ بھی شوال کا مہینہ تھا، اس طرح حضرت صدیقہؓ کے مبارک نکاح اور مبارک رخصتی نے عربوں کی اس توہم پرستی کا خاتمہ کر دیا۔ بعض قابل ذکر خصوصیات ازواج مطہرات میں صرف انہیں کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ صغر سنی یعنی قریباً ۹۔۱۰ سال کی عمر سے رسول اللہ ﷺ کی صحبت و رفاقت، اور تعلیم و تریبت سے مستفید ہوتی رہیں، اسی طرح چند اور سعادتیں بھی تنہا انہیں کے حصہ میں آئیں جن کا وہ کود اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ ذکر فرمایا کرتی تھیں ..... فرماتی تھیں: تنہا مجھے ہی یہ شرف نصیب ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے عقد نکاح میں آنے سے پہلے سے ہی آپ ﷺ کو خواب میں میری صورت دکھلائی گئی اور فرمایا گیا کہ یہ دنیا اور آخرت میں آپ ﷺ کی زوجہ ہونے والی ہیں ..... اور آپ ﷺ کی ازواج میں تنہا میں ہی ہوں جس کا آپ ﷺ کی زوجیت میں آنے سے پہلے کسی دوسرے کے ساتھ یہ تعلق اور رشتہ نہیں ہوا ..... اور تنہا مجھی پر اللہ تعالیٰ کا یہ کرم تھا کہ آپ جب میرے ساتھ ایک لحاف میں آرام فرما ہوتے تو آپ ﷺ پر وحی آتی، دوسری ازواج میں سے کسی کو یہ سعادت میسر نہیں ہوئی اور یہ کہ میں ہی آپ ﷺ کی ازواج میں سے آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھی اور اس باپ کی بیٹی ہوں جو حضور ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھے ..... اور یہ شرف بھی آپ ﷺ کی ازواج میں سے مجھے ہی نصیب ہے کہ میرے والد اور میری والدہ دونوں مہاجر ہیں ..... اور یہ کہ بعض منافقین کی سازش کے نتیجہ میں جب مجھ پر ایک گندی تہمت لگائی گئی تو اللہ تعالیٰ نے میری برأت کے لئے قرآنی آیات نازل فرمائیں جن کی قیامت تک اہل ایمان تلاوت کرتے رہیں گے، اور ان آیات میں مجھے نبی پاک (طیب) کی پاک بیوی (طیبہ) فرمایا گیا، نیز اس سلسلہ کی آخری آیت میں “أُولَـٰئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ” فرما کر میرے لئے مغفرت اور رزق کریم کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں کبھی اپنی اس خوش نصیبی کا بھی ذکر فرماتیں کہ آپ ﷺ نے زندگی کا آخری پورا ایک ہفتہ میرے ہی گھر میں میرے ساتھ قیام فرمایا، اسی سلسلہ میں یہ بھی فرماتیں کہ حیاۃ مبارکہ کا آخری دن میری باری کا دن تھا، اور اللہ تعالیٰ کا خاص الخاص کرم مجھ پر یہ ہوا کہ اسی آخری دن میرا آب دہن آپ ﷺ کے آب دہن کے ساتھ آپ ﷺ کے شکم مبارک مین گیا اور آخری لمحات میں میں ہی آپ کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی تھی، اور جس وقت بحکم خداوندی روح مبارک نے جسد اطہر سے مفارقت اختیار کی اس وقت آپ ﷺ کے پاس میں ہی تھی، یا موت کا فرشتہ اور آخری بات یہ کہ میرا ہی گھر قیامت تک کے لئے آپ ﷺ کی آرام گاہ بنا یعنی اسی میں آپ کی تدفین ہوئی۔ تشریح ..... ظاہر ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام جن کی تعداد بعض روایات کے مطابق ایک لاکھ سے اوپر ہے، سبھی درجہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے، اسی طرح ان کے حواریین اور خلفاء جن کی تعداد اللہ ہی کے علم میں ہے، سب کامل ہی تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کی پیدا فرمائی ہوئی خواتین میں سے اس حدیث میں صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے بارے میں فرمایا گیا کہ بس وہی درجہ کمال کو پہنچ سکیں۔ ان دونوں کے اس امتیاز ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ قرآن پاک سورہ تحریم کے آخر میں ان دونوں کے مومنانہ کردار کو سب ایمان والوں کے لئے لائق تقلید مثال اور نمونہ کے طور پر پیش فرمایا گیا ہے۔ بعض شارحین نے اس کی شرح میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد کا تعلق صرف اگلی امتوں سے ہے، اس لئے اس حدیث سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ آپ ﷺ کی امت میں اللہ کی کوئی بندی درجہ کمال کو نہیں پہنچی ..... کچھ ہی پہلے حضرت خدیجہؓ کے فضائل کے بیان میں یہ حدیث گذر چکی ہے۔ “خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ” (دنیا کی سب عورتوں میں بہتر مریم بنت عمران ہیں، اور خدیجہ بنت خویلد۔) خود اسی زیر تشریح حدیث کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے “وَفَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ” اسکا مطلب یہ ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ کو اللہ تعالیٰ کی پیدا فرمائی ہوئی تمام خواتین پر ایسی فضیلت و برتری حاصل ہے جیسی ثرید کو تمام کھانوں پر ..... واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ثرید کو لذت اور نافعیت میں دوسرے سب کھانوں پر فوقیت و برتری حاصل تھی ..... ثرید کے بارے میں لغت کی کتابوں میں اور شروح حدیث میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے اس کی حقیقت کو نہیں سمجھا جا سکتا ..... اس عاجز (راقم سطور) کو حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے دسترخوان پر بار بار ثرید کھانا نصیب ہوا ہے ..... اس عاجز کا تجربہ اور احساس بھی یہی ہے کہ وہ لذت، کھانے میں سہولت سرعت ہضم اور نافیعت کے لحاظ سے ہمارے زمانہ کے ان تمام کھانوں سے بھی جو عام طور پر بہتر سمجھے جاتے ہیں، فائق ہے۔ بعض حضرات نے اس حدیث کی بنا پر یہ خیال ظاہر فرمایا ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کو تمام دنیا کی عورتوں پر، اگلی امتوں، اور امت محمدیہ کی بھی تمام خواتین پر فضیلت و برتری حاصل ہے ..... لیکن ان تمام حدیثوں پر غور کرنے کے بعد جن میں اس طرح کسی کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔ قرین صواب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ فضیلت کلی نہیں، بلکہ کسی خاص جہت سے ہے۔ مثلاً حضرت صدیقہؓ کو احکام شریعت کے علم، تفقہ جیسے کمالات کی بنا پر دوسری تمام خواتین پر فضیلت و برتری حاصل ہے، اور ام المومنین حضرت خدیجہؓ کو ان خصوصیات کی وجہ سے جو ان کے احوال و اوصاف کے بیان میں ذکر کی جا چکی ہیں، دوسری تمام خواتین پر فضیلت حاصل ہے، اور مثلاً سیدہ حضرت فاطمہؓ کو رسول اللہ ﷺ کی لخت جگر ہونے کے ساتھ ان کمالات کی وجہ سے جن کا بیان ان کے فضائل کے بیان میں قارئین کرام پڑھیں گے، جو شرف و فضیلت حاصل ہے، وہ بلاشبہ انہیں کا حصہ ہے۔ یہ حدیث ابو موسیٰ اشعریؓ کی روایت سے ہے، صحیح بخاری ہی میں حضرت انسؓ کی روایت سے حدیث کا صرف آخری حصہ (فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ) روایت کیا گیا ہے۔

2099Maarif-ul-Hadith

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِيْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ ثَلاَثَ لَيَالٍ جَاءَنِي بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ. فَأَكْشِفُ عَنْ وَجْهِكِ فَإِذَا أَنْتِ هِيَ فَقُلْتُ إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم مجھے دکھائی گئیں خواب میں تین رات، فرشتہ ریشمی کپڑے کے ایک ٹکڑے میں تمہیں لے کر آتا، اور مجھ سے کہتا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں، تو میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹایا، تو دیکھا کہ وہ تم ہو، تو میں نے دل میں کہا کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اس کو پور افرمائے گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث میں اس کا کوئی ذخر نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے یہ خواب کب اور کس زمانہ میں دیکھا؟ بظاہر قرین قیاس یہ ہے کہ حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد جب ان جیسی شریک ھیات کی مفارقت کا فطری طور پر آپ ﷺ کو سخت صدمہ تھا، اور مستقبل کے بارے میں فکر تھی تو اس وقت آپ ﷺ کی تسلی کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو یہ دکھایا گیا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ اگرچہ اس وقت قریباً چھ سال کی بچی تھیں، لیکن اس بچپن ہی میں ان کے جو احوال و اطوار تھے ان سے آنحضرت ﷺ کو ان کی ذہانت و فطانت اور غیر معمولی صلاحیت کا بخوبی اندازہ تھا، اس طرح آپ ﷺ کو منجانب اللہ بتلایا گیا کہ یہی آپ ﷺ کے لئے مستقبل میں حضرت خدیجہؓ کا بدل ثابت ہوں گی، واللہ اعلم ...... یہاں یہ بات قابل لحاظ ہے کہ نبوت کے ابتدائی دور میں آنحضرت ﷺ کو اپنی شریک حیات میں جن خصوصیات کی ضرورت تھی، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت خدیجہؓ کو بھرپور عطا فرمائی تھیں اور ہجرت کے بعد کے مدنی دور میں اپنی رفیقہ حیات میں آپ کو جن خاص صفات کی ضرورت تھی، وہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ کو بدرجہ کمال عطا فرمائی تھیں۔ حدیث شریف کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے خواب دیکھنے کے بعد اپنے دل میں کہا: “إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ.” (جس کا لفظی ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ اگرچہ یہ خواب منجانب اللہ ہے تو وہ اس کو پورا فرمائے گا) اس پر کسی کو اشکال ہو سکتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام خاص کر رسول اللہ ﷺ کا خواب تو وحی کی ایک قسم ہے تو اس کے بارے میں شک شبہ کی کیا گنجائش تھی ..... حقیقت یہ ہے کہ “إِنْ يَكُنْ” کا لفظ شبہ ظاہر کرنے کے لئے نہیں ہے، بلکہ یہ بالکل اس طرح ہے کہ کسی ملک کا بادشاہ کسی شخص سے راضی ہو کر کہے: اگر میں بادشاہ ہوں تو تمہارا یہ کام ضرور کیا جائے گا، ..... الغرض اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل میں اطمینان محسوس کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ضرور ایسا ہی ہو گا ..... اور ایسا ہی ہوا۔ آخر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جامع ترمذی کی روایت میں صراھت ہے کہ خواب میں حضرت عائشہ کی صورت لے کر آنے والے فرشتے حضرت جبرائیل تھے اور انہوں نے ؓحضور ﷺ سے کہا تھا: “هَذِهِ زَوْجَتُكَ فِى الدُّنْيَا وَالْاَخِرَةِ” (یہ آپ کی بیوی ہونے والی ہیں دنیا اور آخرت میں)

2100Maarif-ul-Hadith

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، قَالَتْ وَهُوَ يَرَى مَا لاَ أَرَى. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے بیان فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:“اے عائشہ! یہ جبرائیل ہیں جو تم کو سلام کہلوا رہے ہیں” تو میں نے عرض کیا “وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ” (ان پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمت) آگے حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ حضور ﷺ وہ دیکھتے تھے، جو ہم نہیں دیکھتے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت خدیجہؓ کے فضائل کے بیان میں یہ حدیث گذر چکی ہے کہ حضرت جبرائیل غار حراء میں آپ ﷺ کے پاس آئے، اور آپ ﷺ سے کہا کہ خدیجہؓ کھانے پینے کا کچھ سامان لے کر آ رہی ہیں ان کو اپنے رب کا سلام پہنچائیے اور میرا ..... اور یہاں اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ “یہ جبرائیل ہیں جو تم کو سلام کہلوا رہے ہیں” حضرت صدیقہؓ نے جواب میں عرض کیا “وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ” ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جبرائیل کو حضور دیکھ رہے تھے،میں نہیں دیکھ رہی تھی۔