Maarif-ul-Hadith 2066

کتاب المناقب والفضائل

2066Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قِيْلَ لَهُ نَرَاكَ فِي الْحَرِّ الشَّدِيدِ وَعَلَيْهِ ثِيَابُ الشِّتَاءِ، وَنَرَاكَ فِي الشِّتَاءِ وَعَلَيْكَ ثِيَابُ الصَّيْفِ، وَتَمْسَحُ الْعَرَقَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَزَقَ فِىْ عَيْنِىْ وَأَنَا أَرْمَدُ، فَمَا اشْتَكَيْتُهُمَا حَتَّى السَّاعَةِ، وَدَعَا لِي فَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ» ، فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا حَتَّى يَوْمِي هَذَهِ. (رواه الطبرانى فى الاوسط)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے بعض لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کو شدید گرمی کے زمانہ میں دیکھتے ہیں کہ آپ سردی کے موسم کے کپڑے پہنے ہوتے ہیں، اور اسی طرح ہم کبھی جاڑوں کے زمانہ میں آپ کو دیکھتے ہیں کہ آپ گرمی کے موسم کے کپڑے پہنے ہوتے ہیں اور پسینہ پونچھتے ہیں! تو حضرت علیؓ نے جواب میں فرمایا کہ ایک دفعہ میری آنکھ میں تکلیف تھی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا آب دہن ڈالا (تھوک دیا) اس کے بعد سے اب تک کبھی مجھے آنکھ کی وہ تکلیف نہیں ہوئی۔ اور آنحضرت ﷺ نے میرے لئے دعا فرمائی تھی۔ اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ (اے اللہ گرمی اور جاڑے کو اس سے دور رکھ) تو اس کے بعد سے نہ تو میں نے آج تک گرمی محسوس کی اور نہ سردی۔ (معجم اوسط للطبرانی) تشریح حدیث کسی تشریح و وضاحت کی محتاج نہیں، ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعا کا یہ اثر آپ کے معجزات میں سے ہے۔