آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلَ الصَّمْتِ. (رواه فى شرح السنة)
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خاموشی طویل ہوتی تھی۔ (شرح السنہ) تشریح مطلب یہ کہ آپ ﷺ تعلیم و تربیت جیسی کسی ضرورت ہی سے گفتگو فرماتے تھے، اگر کچھ فرمانے کی ضرورت نہ ہوتی تو آپ ﷺ خاموش ہی رہتے، اسی سلسلہ معارف الحدیث (کتاب الایمان جلد اول) میں صحیح بخاری و صحیح مسلم کے حوالہ سے یہ حدیث درج کی جا چکی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ. ترجمہ: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ اچھی بات کرے (جس پر اجر و ثواب کی امید ہو) یا خاموش رہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و ہدایت تھی اور اسی پر آپ ﷺ کا عمل تھا، اللہ تعالیٰ ہم امتیوں کو بھی اس کا اتباع نصیب فرمائے۔ یہاں کتاب المناقب والفضائل میں رسول اللہ ﷺ کے اخلاق حسنہ سے متعلق صرف یہ دس حدیثیں درج کی گئی ہیں بلاشبہ یہ صرف “مشنے نمونہ از خروارے” ہے۔