Maarif-ul-Hadith 1910

دعوت الی الخیر امربالمعروف نہی عن المنکر

1910Maarif-ul-Hadith

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاکید اور اس میں کوتاہی پر سخت تہدید

عَنْ جَرِيرِ ابْنِ عَبْدِاللهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي، يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ، وَلَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا أَصَابَهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ قَبْلَ أَنْ يَمُوتُوا» (رواه ابوداؤد وابن ماجه)

حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ کسی قوم (اور جماعت) میں کوئی آدمی ہوں جو ایسے اعمال کرتا ہو جو گناہ اور خلاف شریعت ہیں اور اس قوم اور جماعت کے لوگ اس کی قدرت اور طاقت رکھتے ہوں کہ اس کی اصلاح کر دیں اور اس کے باوجود اصلاح نہ کریں (اسی حال میں اس کو چھوڑے رکھیں) تو ان لوگوں کو اللہ تعالی مرنے سے پہلے کسی عذاب میں مبتلا فرمائے گا۔ (سنن ابی داؤد سنن ابن ماجہ) تشریح مطلب یہ ہے کہ استطاعت اور قدرت کے باوجود غلط کار اور بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح و ہدایت کی کوشش نہ کرنا اور بے پروائی کا رویہ اختیار کرنا اللہ کے نزدیک ایسا گناہ ہے جس کی سزا آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی دی جاتی ہے۔ اللهم اغفر لنا وارحمنا ولا تعذبنا