علم دین اور اس کے سیکھنے سکھانے والوں کا مرتبہ
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین میں رہنے والی ساری مخلوقات یہاں تک کہ چونٹیاں اپنے سوراخوں میں اور (پانی میں رہنے والی) مچھلیاں بھی اس بندے کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں جو لوگوں کو بھلائی اور دین کی تعلیم دیتا ہے۔ (جامع ترمذی)
علم دین اور اس کے سیکھنے سکھانے والوں کا مرتبہ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَجْلِسَيْنِ في مَسْجِدِهِ فَقَالَ: كِلاَهُمَا عَلَى خَيْرٍ وَأَحَدُهُمَا أَفْضَلُ مِنْ صَاحِبِهِ، أَمَّا هَؤُلاَءِ فَيَدْعُونَ اللَّهَ وَيُرَغِّبُونَ إِلَيْهِ فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَأَمَّا هَؤُلاَءِ فَيَتَعَلَّمُونَ الْفِقْهَ وَالْعِلْمَ وَيُعَلِّمُونَ الْجَاهِلَ فَهُمْ أَفْضَلُ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً ثُمَّ جَلَسَ فِيهِمْ. (رواه الدارمى)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر دو مجلسوں پر ہوا جو آپ کی مسجد میں قائم تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ دونوں مجلسیں خیر کی اور نیکی کی مبارک مجلسیں ہیں (ایک مجلس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ) یہ لوگ اللہ سے دعا اور مناجات میں مشغول ہیں، اللہ چاہے تو عطا فرما دے اور چاہے تو نہ عطا فرمائے (وہ مالک مختار ہے) اور (دوسری مجلس کے بارے میں فرمایا کہ) یہ لوگ علم دین حاصل کرنے میں اور نہ جاننے والوں کو سکھانے میں لگے ہوئے ہیں لہذا ان کا درجہ بالاتر ہے اور میں تو معلم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں پھر آپ انہیں میں بیٹھ گئے۔ (مسند دارمی)
علم دین اور اس کے سیکھنے سکھانے والوں کا مرتبہ
عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِيَ بِهِ الإِسْلاَمَ فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ في الْجَنَّةِ. (رواه الدارمى)
حضرت حسن بصری نے بطریق ارسال روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس بندے کو اس حالت میں موت آجائے کہ وہ اس نیت سے علم دین کی طلب وتحصیل میں لگا ہوں کہ اس کے ذریعہ اسلام کو زندہ کرے تو جنت میں اس کے اور پیغمبروں کے درمیان بس ایک درجہ کا فرق ہو گا (مسند دارمی)
علم دین اور اس کے سیکھنے سکھانے والوں کا مرتبہ
عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلَيْنِ كَانَا في بَنِي إِسْرَائِيلَ: أَحَدُهُمَا كَانَ عَالِماً يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فَيُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ، وَالآخَرُ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَضْلُ هَذَا الْعَالِمِ الذي يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فَيُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ عَلَى الْعَابِدِ الذي يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ. (رواه الدارمى)
حضرت حسن بصری نے بطریق سال روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایسے دو آدمیوں کے بارے میں دریافت کیا جن میں سے ایک کا معمول یہ تھا کہ وہ فرض نماز پڑھتا پھر بیٹھ کر لوگوں کو اچھی نیکی کی باتیں بتلاتا اور دین کی تعلیم دیتا اور دوسرے صاحب کا حال یہ تھا کہ وہ دن کو برابر روزہ رکھتے اور رات کو کھڑے ہو کر نوافل پڑھتے (آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا) کہ ان دونوں میں کون افضل اور اعلیٰ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ عالم جو فرض نماز ادا کرتا ہے پھر لوگوں کو دین اور نیکی کی باتیں سکھانے کے لیے بیٹھ جاتا ہے اس کو اس صائم النہار اور قائم اللیل عابد کے مقابلہ میں اس طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح کی تم میں سے کسی ادنیٰ آدمی پر مجھے فضیلت حاصل ہے۔ (مسند دارمی)
تشریح
مندرجہ بالا حدیثوں میں “علم”، “طالبین علم”، “علماء” اور “معلمین” کی جو غیر معمولی عظمتیں اور فضیلتیں بیان کی گئی ہیں ان کی لم اور ان کا راز یہی ہے کہ علم اللہ تعالی کا نازل فرمایا ہوا نور ہدایت ہے جو رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ آیا ہے اور دنیا سے آپ ﷺ کے اٹھا لئے جانے کے بعد آپ ﷺ کا لایا ہوا الہی علم (جو قرآن و حدیث میں ہے) امت کے لئے آپ ﷺ کی پیغمبرانہ ہستی کے قائم مقام ہے اور جو اس کے بعد حامل اور امین علما و معلمین ہیں وہ زندہ انسانوں کی شکل میں حضور صلی اللہ و علیہ وسلم کے قائم مقام ہے وہ نبی تو نہیں ہیں لیکن وارث انبیاء ہونے کی حیثیت سے کارنبوت سنبھالے ہوئے ہیں اور رسول پاک ﷺ ہی کا کام انجام دے رہے ہیں گویا آپ ﷺ کے دست و باز اور اعلی کار ہیں۔ اسی خصوصیت نے انکو اس مقام و مرتبہ پر پہنچا دیا ہے اور ان غیر معمولی انعامات الہیہ کا مستحق بنا دیا ہے جن کا مندرجہ بالا حدیثوں کے ذریعہ اعلان فرمایا گیا ہے لیکن جیسا کہ آگے درج ہونے والی متعدد حدیثوں سے معلوم ہوگا اس کی شرط یہ ہے کہ علم دین کی یہ طلب و تحصیل اور تعلیم و تدریس خالصا لوجہ اللہ اجر آخرت کے لئے ہو اگر خدانخواستہ یہ دنیوی اغراض کے لیے ہو تو بدترین معصیت ہے اور ایک صحیح حدیث کی صراحت کے مطابق ان لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اَللَّهُمَّ احْفَظْنَا
ایک ضروری وضاحت
اس سلسلہ میں یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے ہمارے اس زمانے میں دینی مدارس اور دارالعلوموں کی شکل میں علم دین کی تحصیل و تعلیم کا جو نظام قائم ہے اس کی وجہ سے جب ہمارے دینی حلقوں میں طالب علم کا لفظ بولا جاتا ہے تو ذہن ان دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں ہی کی طرف جاتا ہے اسی طرح عالم دین یا معلم دین کا لفظ سن کر ذہنی اصطلاحی و عرفی علماء اور دینی مدارس میں تعلیم دینے والے اساتذہ ہی کی طرف منتقل ہوتا ہے اور پھر اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہے کہ مندرجہ بالا حدیثوں میں اور اسی طرح اس باب کی دوسری حدیثوں میں علم دین کی طلب و تعلیم یا طالبان علم دین اور معلمین دین کے جو فضائل و مناقب بیان ہوئے ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے والے جن غیر معمولی انعامات کی بشارت دی گئی ہیں ان سب کا مقصد ان مدارس ہی کے تعلیمی سلسلہ کو اور ان کے طلبا اور معلمین ہی کو سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے عہد نبوی میں اور اسکے بعد صحابہ کرامؓ بلکہ تابعین کے دور میں بھی اس طرح کا کوئی تعلیمی اور تدریسی سلسلہ نہیں تھا نہ مدارس اور دارالعلوم تھے نہ کتابیں پڑھنے اور پڑھانے والے طلبہ اور اساتذہ کا کوئی طبقہ تھا بلکہ سرے سے کتابوں ہی کا وجود نہیں تھا بس صحبت و سماع ہی تعلیم و تعلم کا ذریعہ تھا صحابہ کرامؓ نے (ان کے درجہ اول کے علماء و فقہاء مثلا خلفاۓراشدین، معاذ بن جبل، عبداللہ بن مسعود، ابی بن کعب، زید بن ثابت وغیرہ ؓ اجمعین نے بھی) جو کچھ حاصل کیا صرف صحبت و سماع ہی کے ذریعہ حاصل کیا تھا اور بلاشبہ وہ حضرات ان حدیثوں اور بشارتوں کے اولین مصداق تھے۔ راقم سطور عرض کرتا ہے کہ آج بھی جو بندگان خدا کسی غیر رسمی طریقے سے مثلا صحبت و سماع ہی کے ذریعہ اخلاص کے ساتھ دین سیکھنے اور سکھانے کا اہتمام کریں وہ بھی یقینا ان حدیثوں کے مصداق ہیں اور بلاشبہ ان کے لیے بھی یہ سب بشارتیں ہیں۔ بلکہ ان کو اصطلاحی و عرفی طلباء اور معلمین پر ایک فضیلت و فوقیت حاصل ہے اور وہ یہ کہ ہمارے موجودہ مدارس اور دارالعلوموں میں پڑھنے اور پڑھانے والے طلبہ اور اساتذہ کے سامنے اس طلب و تعلیم کے کچھ دنیا بھی منافع بھی ہو سکتے ہیں (اور بس اللہ ہی جانتا ہے کہ اس لحاظ سے ہماری برادری کا کیا حال ہے) لیکن جو بے چارے اصلاح و ارشاد کی مجالس میں یا کسی بھی دینی حلقہ میں اپنی دینی اصلاح اور دین سیکھنے کی نیت سے شریک ہوتے ہیں یا دین سیکھنے سکھانے والے کسی جماعت کے ساتھ اس مقصد سے کچھ وقت گزارتے ہیں، ظاہر ہے کہ وہ اس سے کسی دنیوی منفعت کی توقع نہیں کر سکتے اس لئے ان کی غیر رسمی طالبعلمی یا معلمی بالکل بےغل و غش صرف اللہ ہی کے لئے اور آخرت ہی کے واسطے ہوتی ہے اللہ کے ہاں اسی عمل کی قدر و قیمت ہوتی ہے کیوں خالصا لوجہ اللہ ہو۔ اس عاجز نے اس زمانے میں بھی اللہ کے ایسے بندے دیکھے ہیں ان میں متعدد ایسے بھی پائے جن سے ہم جیسے لوگ (جن کو دنیا عالم فاضل سمجھتی ہے) حقیقت دین کا سبق لے سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وضاحت یہاں اس لئے ضروری سمجھی کہ ہمارے اس زمانے میں “عالم”، “معلم” اور طالب علم کے مصداق کے بارے میں مذکورہ بالا غلط فہمی بہت عام ہیں اگرچہ غیر شعوری طور پر ہے۔
دنیوی اغراض کے لیے علم دین حاصل کرنے والوں کا ٹھکانہ دوزخ وہ جنت کی خوشبو تک سے محروم
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لاَ يَتَعَلَّمُهُ إِلاَّ لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. يَعْنِي رِيحَهَا. (رواه احمد وابوداؤد وابن ماجه)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ علم جس سے اللہ کی رضا چاہی جاتی ہے (یعنی دین اور کتاب وسنت کا علم) اگر اس کو کوئی شخص دنیا کی دولت کمانے کیلئے حاصل کرے تو وہ قیامت میں جنت کی خوشبو سے محروم رہے گا۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)
دنیوی اغراض کے لیے علم دین حاصل کرنے والوں کا ٹھکانہ دوزخ وہ جنت کی خوشبو تک سے محروم
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا لِغَيْرِ اللَّهِ أَوْ أَرَادَ بِهِ غَيْرَ اللَّهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کسی نے علم دین کی رضا کے لئے نہیں بلکہ غیر اللہ کے لئے (یعنی اپنی دنیوی اور نفسانی اغراض کے لیے) حاصل کیا وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اللہ تعالی نے دین کا علم انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ اور آخر میں سیدنا حضرت محمد خاتم النبین ﷺ اور اپنی آخری مقدس کتاب قرآن مجید کے ذریعہ اس لیے نازل فرمایا کہ اس کی روشنی اور رہنمائی میں اسکے بندے اللہ کی رضا کے راستہ پر چلتے ہوئے اس کے دار رحمت جنت تک پہنچ جائیں اب جو بدنصیب آدمی اس مقدس علم کو اللہ تعالی کی رضا و رحمت کے بجائے اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل اور دنیوی دولت کمانے کا وسیلہ بناتا ہے اور اسی کے واسطے اس کی تحصیل کرتا ہے وہ اللہ تعالی کے نازل فرمائے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے لئے ہوئے اس مقدس علم پراور ظلم عظیم کرتا ہے یہ شدید ترین معصیت ہے اور ان حدیثوں میں رسول اللہ ﷺ نے اطلاع دی ہے کہ اس کی سزا جنت کی خوشبو تک سے محرومی اور جہنم کا عذاب الیم ہے۔ اَللَّهُمَّ احْفَظْنَا
بے عمل عالم اور معلم کی مثال اور آخرت میں اس کا حال
عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْعَالِمِ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ ويَنْسَى نَفْسَهُ كَمَثَلِ السِّرَاجِ يُضِيءُ لِلنَّاسِ ويَحْرِقُ نَفْسَهُ» (رواه الطبرانى والضياء)
حضرت جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس عالم کی مثال جو دوسرے لوگوں کو تو نیکی کی تعلیم دیتا ہے اور اپنے کو بھولے رہتا ہے اس چراغ کی سی ہے جو آدمیوں کو تو روشنی فراہم کرتا ہے لیکن اپنی ہستی کو بس جلاتا رہتا ہے۔ (معجم کبیر طبرانی مختار للضیاء المقدسی)
بے عمل عالم اور معلم کی مثال اور آخرت میں اس کا حال
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَالِمٌ لَمْ يَنْفَعْهُ عِلْمُهُ» (رواه الطيالسى فى مسنده وسعيد بن منصور فى سننه وابن عدى فى الكامل والبيهقى فى شعب الايمان)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس عالم کو ہوگا جس کو اس کے علم دین نے نفع نہیں پہنچایا (یعنی اس نے اپنی عملی زندگی کو علم کے تابع نہیں بنایا) (مسند ابو داود، طیالسی، سنن سعید بن منصور، کامل ابن عدی، شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
بعض گناہ ایسے ہیں جن کو بلا تفریق مومن و کافر سب ہی انسان شدید و سنگین جرم اور سخت سزا کا مستوجب سمجھتے ہیں جیسے ڈاکہ زنی، خون ناحق، زنا بالجبر، چوری، رشوت ستانی، یتیموں اور بیواؤں اور کمزوروں پر ظلم و زیادتی اور ان کی حق تلفی جیسے ظالمانہ گناہ، لیکن بہت سے گناہ ایسے ہیں جن کو عام انسانی نگاہ اس طرح شدید سنگین نہیں سمجھتی لیکن اللہ کے نزدیک اور فی الحقیقت وہ ان کبائر و فواحش کی طرح یا ان سے بھی زیادہ شدید و سنگین ہیں شرک و کفر بھی ایسے ہی گناہ ہیں اور علم دین (جو نبوت کی میراث ہے) اسکا بجائے دینی مقاصد کے دنیوی اغراض کے لیے سیکھنا اور دنیا کمانے کا وسیلہ بنانا علی ھٰذا اپنی عملی زندگی کو اس کے تابع نہ بنانا بلکہ اس کے خلاف زندگی گزارنا یہ بھی اس قبیل سے ہیں۔ پہلی قسم کی معصیتوں میں مخلوق کا مخلوق پر ظلم ہوتا ہے اس لیے اس کو خدا ناآشنا کافر بھی محسوس کرتا اور ظلم و پاپ سمجھتا ہے۔ لیکن دوسری قسم کے گناہوں میں اللہ و رسول اور ان کی ہدایت و شریعت اور اس کے مقدس علم کی حق تلفی اور ان پر ایک طرح کا ظلم ہوتا ہے اس کی سنگینی اور شدت کو وہی بندے محسوس کر سکتے ہیں۔ جن کے قلوب اللہ و رسول اور دین و شریعت اور ان کے علم کی عظمت سے آشنا ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ علم دین کو بجائے رضائے الہی اور اجر اخروی کے دنیوی اغراض کے لیے سیکھنا اور اس کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنانا اسی طرح خود اس کے خلاف زندگی گزارنا شرک و کفر اور نفاق کے قبیل کے گناہ ہیں اس لیے ان کی سزا وہ ہے جو مندرجہ بالا حدیثوں میں بیان فرمائی گئی ہے۔ (یعنی جنت کی خوشبو تک سے محروم رہنا اور دوزخ کا عذاب) اللہ تعالی حاملین علم دین کو توفیق عطا فرمائے کہ رسول اللہ ﷺ کے یہ ارشادات و تنبیہات ہمیشہ ان کے سامنے رہیں۔
کتاب اللہ اور تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پابندی اور بدعات سے اجتناب کی ہدایت و تاکید
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ. (رواه مسلم)
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (اثنائے خطبہ میں) ارشادفرمایاکہ امابعد .....سب سے بہتر بات اور سب سے اچھا کلام کتاب اللہ ہے اور سب سے بہتر طریقہ (اللہ کے رسول) محمد ﷺ کا طریقہ ہے اور بدترین امور وہ ہیں جو دین میں ایجاد کرلیے جائیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس دنیا سے رسول اللہ ﷺ کے رخصت ہو جانے کے بعد آپ ﷺ کی لائی ہوئی اللہ کی کتاب قرآن مجید اور آپ کی تعلیمات جن کا معروف عنوان سنت ہے اس دنیا میں ہدایت کا مرکز و سرچشمہ اور گویا آپ صلی اللہ وسلم کی مقدس شخصیت کے قائم مقام ہے اور امت کی صلاح و فلاح ان کی پیروی و پابندی سے وابستہ ہے رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں امت کو مختلف عنوانات سے ہدایت و آگاہی دی ہے اور محدثات و بدعات سے اجتناب کی تاکید فرمائی ہے اگلی امتیں اسی لیے گمراہ ہوئی کہ محدثات و بدعات کو اپنا دین بنا لیا اسی سلسلہ میں آپ ﷺ کے چند اہم ارشادات ذیل میں درج کیے جارہے ہیں۔
تشریح ..... حضرت جابر کی یہ حدیث صحیح مسلم میں خطبہ جمعہ کے باب میں متعدد سندوں سے روایت کی گئی ہے۔ روایت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے راوی حضرت جابر ؓٗ نے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے خطبہ جمعہ میں یہ ارشاد بار بار سنا تھا۔
آپ ﷺ کا یہ ارشاد جوامع الکلم میں سے ہے بہت مختصر الفاظ میں امت کو وہ ہدایت دے دی گئی ہے جو قیامت تک راہ راست پر قائم رکھنے اور ہر طرح کی گمراہی سے بچانے کے لئے کافی ہے۔ اعتقادات، اعمال، اخلاق اور جذبات وغیرہ کے بارے میں انسانوں کو جس مثبت یا منفی ہدایت (امربالمعروف یا نہی عن المنکر) کی ضرورت ہے یقینا کتاب اللہ اور سنت نبوی و طریق محمدی اسکے پورے کفیل ہیں اس کے بعد گمراہی کا ایک دروازہ جاتا ہے کہ اللہ و رسول نے جن باتوں کو دین قرار نہیں دیا ان کو دین کا رنگ دے کر دین میں شامل کیا جائے اور قرب و رضا الہی اور فلاح و اخروی کا وسیلہ سمجھ کر اپنا لیا جائے دین کے رہزن شیطان کا سب سے خطرناک جال یہی ہے ہیں اگلی امتوں کو اس نے زیادہ تر اسی راستہ سے گمراہ کیا ہے۔ مختلف امتوں کے مشرکوں میں بت پرستی عیسائیوں میں تثلیث اور حضرت مسیح کی ابنیت و ولدیت اور کفارہ کا عقیدہ اور احبار و رہبان کو “اربابا من دون الله” بنانے کی گمراہی یہ سب اسی راستے سے آئی تھی۔ اور رسول اللہ ﷺ پر منکشف کیا گیا تھا کہ اگلی امتوں میں جو گمراہیاں آئی تھی وہ سب آپ کی امت میں بھی آئینگی اور انہی راستوں سے آئینگی۔ جن سے پہلی امتوں میں آئی تھی اس لیے آپ ﷺ اپنے مواعظ و خطبات میں بار بار یہ آگاہی دیتے تھے کہ بس کتاب اللہ اور میری سنت کا اتباع کیا جائے اور اسی میں خیر و فلاح ہے۔ اور محدثات اور بدعات سے اپنی اور دین کی حفاظت کی جائے بدعت خواہ ظاہری نظر میں کیسی ہی حسین وجمیل معلوم ہو فی الحقیقت وہ صرف ضلالت اور ہلاکت ہے۔ آپ ﷺ کا یہ ارشاد جو بقول حضرت جابر ؓٗ آپ جمعہ کے خطبوں میں بار بار فرماتے تھے اس کا یہی پیغام ہے اور اس میں یہی آگاہی دی گئی ہے۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو اس کی وہ بات رد ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا آخری جملہ ہے “وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ” (ہر بدعت گمراہی ہے) بعض اکابر علماء و شارحین حدیث نے بدعت کے اصل لغوی معنیٰ کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سمجھا اور لکھا ہے کہ ہر وہ امر بدعت ہے جو عہد نبوی میں نہیں تھا اور قرآن و حدیث میں بھی اس کا ذکر نہیں ہے۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ ایسے بہت سے امور ہیں جو نہ تو عہدنبوی میں تھے اور نہ قرآن وحدیث میں ان کا ذکر ہے مگر دینی لحاظ سے وہ اشد ضروری اور ناگزیر ہیں اور امت کے علماء و فقہا میں سے کسی نے بھی ان کو بدعت اور ناجائز نہیں قرار دیا ہے۔ بلکہ دین کی ضروری خدمت اور موجب اجر و ثواب سمجھا ہے۔ مثلا قرآن مجید پر اعراب لگانا فصل و وصل اور وقف وغیرہ کی علامات کا لکھنا تاکہ عوام بھی قرآن پاک کی صحیح تلاوت کر سکیں اسی طرح حدیث اور فقہ کی تدوین اور کتابوں کی تالیف اور حسب ضرورت زبانوں میں دینی موضوعات پر تصانیف اور ان کی طباعت و اشاعت کا اہتمام اور دینی تعلیم کے لئے مکاتب و مدارس کا قیام وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب چیزیں ظاہر ہے کہ عہد نبوی میں نہیں تھیں اور قرآن و حدیث میں بھی ان کا کہیں ذکر نہیں ہیں تو بدعت کی مذکورہ بالا تشریح کے لحاظ سے یہ سب امور بدعت ہونے چاہیئیں۔ اسی طرح ساری نئی ایجادات اریل موٹر، ہوائی جہاز، تاربرقی اور ٹیلی فون وغیرہ کا استعمال بھی اس تشریح کے لحاظ سے بدعت اور ناجائز ہونا چاہیے حالانکہ یہ بات بداہۃً غلط ہے۔
اس مشکل کو حل کرنے کے لئے ان علماء و شارحین حدیث نے کہا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو کتاب وسنت اور اصول شریعت کے خلاف ہو وہ بدعات سیئہ ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے اسی کے بارے میں فرمایا ہے “وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ” ...... مطلب یہ ہے کہ ہر “بدعت سیئہ” گمراہی ہے اور دوسری قسم بدعت کی وہ ہے جو کتاب و سنت اور اصول شریعت کے خلاف نہ ہو بلکہ مطابق ہو وہ “بدعت حسنہ” ہے اور بدعت حسنہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے کبھی واجب ہوتی ہے کبھی مستحب اور کبھی مباح ہو جائز۔ پس قرآن مجید پر اعراب اور فصل و وصل وغیرہ کی علامات لکھنا اور حدیث و فقہ کی تدوین اور حسب تقاضائے ضرورت مختلف زبانوں میں دینی موضوعات پر کتابوں کی تصنیف و اشاعت اور مدارس کا قیام وغیرہ یہ سب بدعت حسنہ کے قبیل سے ہیں اسی طرح نئی ایجادات کا استعمال بھی یہ بدعت حسنہ ہی کے قبیل سے ہے ناجائز نہیں ہے مباح اور جائز ہے۔ لیکن علمائے محققین بدعت کی مذکورہ بالا تشریح اور حسنہ اور سیئہ کی طرف ان کی تقسیم کے اس نظریہ سے متفق نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایمان و کفر اور صلوۃ و زکاة وغیرہ کی طرح بدعت ایک خاص دینی اصطلاح ہے اور اس سے مراد ہر وہ عمل ہے جس کو دینی رنگ دے کر دین میں شامل کیا جائے اور اگر وہ کوئی عمل ہے تو اس کو دینی عمل کی حیثیت سے کیا جائے اور عبادات وغیرہ دینی امور کی طرح اس کو ثواب آخرت اور رضائے الہی کا وسیلہ سمجھائے اور شریعت میں اس کی کوئی دلیل نہ ہو نہ کتاب و سنت کی نص نہ قیاس اور اجتہاد وہ استحسان جو شریعت میں معتبر ہے۔
ظاہر ہے کہ بدعت کی اس تشریح کی بنا پر ان میں ایجادات کا استعمال اور وہ نئی باتیں جو عہدنبوی میں نہیں تھی اور جن کو امر دینی نہیں سمجھا جاتا بدعت کے دائرے ہی میں نہیں آتیں۔ جیسے کہ ریل موٹر ہوائی جہاز وغیرہ کے ذریعہ سفر اور اسی طرح کی دوسری جدید چیزوں کا استعمال اسی طرح جس زمانے میں دینی مقاصد کی تحصیل و تکمیل اور دینی احکام کی تعمیل کے لیے جن جدید وسائل کا استعمال کرنا ضروری ہو وہ بھی بدعت کی اس تشریح کی بنا پر اس کے دائرے میں نہیں آئیں گی جیسے قرآن مجید پر اعراب وغیرہ لگانا تاکہ عوام بھی صحیح تلاوت کرسکے اور کتب حدیث کی تالیف اور ان کی شرحیں لکھنا اور فقہ کی تدوین اور مختلف زبانوں میں حسب ضرورت دینی موضوعات پر کتابوں کی تصنیف و اشاعت کا اہتمام اور دینی مدارس اور کتب خانوں کا قیام وغیرہ یہ سب چیزیں بھی بدعت کیا اس تشریح کی بنا پر اس کے دائرے میں نہیں آئیں گی کیوں کہ اگرچہ یہ عہد نبوی میں نہیں تھیں لیکن جب اہم دینی مقاصد کی تحصیل و تکمیل اور دینی احکام کی تعمیل کے لیے یہ ضروری اور ناگزیر ہوگئیں تو یہ شرعا مطلوب اور مامور بہ ھی ہو گئیں۔ جس طرح وضو کرنا شریعت کا حکم ہے لیکن جب اس کے لیے پانی کا تلاش کرنا یا کنویں سے نکالنا ضروری ہو تو وہ بھی شرعا واجب ہوگا دین و شریعت کا مسلمہ اصول ہے کہ کسی فرض و واجب کے ادا کرنے کے لیے جو کچھ کرنا ضروری اور ناگزیر ہو وہ بھی واجب ہے لہذا اس طرح کے سارے امور جن کا اوپر ذکر کیا گیا بدعت کی اس تشریح کی بنا پر اس کے دائرے میں ہی نہیں آتے بلکہ یہ سب شرعی مطلوبات اور واجبات ہیں۔
بدعت یہی تشریح و تعریف صحیح ہیں اور اس بنا پر ہر بدعت ضلالت ہے جیسا کہ زیر تشریح حدیث میں فرمایا گیا ہے “وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ” (ہر بدعت گمراہی ہے)
اس موضوع پر نویں صدی ہجری کے ممتاز عالم و محقق امام ابو اسحاق ابراہیم شاطبی نے اپنی کتاب “الاعتصام” میں بڑی فاضلانہ اور محققانہ بحث کی ہے اور بدعت کی پہلی والی تشریح اور حسنہ اور سیئہ کی طرف اس کی تقسیم کے نظریہ کو بڑے محکم دلائل سے رد کیا ہے اس ضخیم کتاب کا یہی موضوع ہے۔ ہمارے اس ملک کے عظیم ترین عارف و مصلح امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی نے بھی اپنے بہت سے مکتوبات میں اس مسئلہ پر کلام کیا ہے اور بڑی شدت کے ساتھ اس رائے کا اظہار فرمایا ہے کہ جن علماء نے بدعات کو دو خانوں (حسنہ اور سیئہ) میں تقسیم کیا ہے ان سے بڑی علمی غلطی ہوئی ہے بدعت حسنہ کوئی چیز نہیں ہے بدعت ہمیشہ سیئہ اور ضلالت ہی ہوتی ہے اگر کسی کو کسی بدعت میں نورانیت محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے احساس و ادراک کی غلطی ہے بدعت میں صرف ظلمت ہوتی ہے۔ صحیح مسلم کی شرح فتح الملہم میں حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے بھی اسی موضوع پر شرح وبسط سے کلام کیا ہیں اور وہ اہل علم کے لئے لائق مطالعہ اور قابل استفادہ ہے۔
تشریح ..... بدعات ومحدثات کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بنیادی حیثیت رکھتا ہے اس میں ان محدثات اور نو ایجاد باتوں کو (خواہ وہ اعمال کے قبیلہ سے ہو یا عقائد کے قبیل سے) قابل رد اور مردود قرار دیا گیا ہے جو دین میں ایجاد کی جائیں اور ان کو امر دینی یعنی رضائے الہی اور ثواب اخروی کا وسیلہ سمجھ کر اپنایا جائے اور فی الواقع ان کی یہ حیثیت نہ ہو نہ اللہ رسول کی طرف سے صراحۃ و اشاراة ان کا حکم دیا گیا ہو نہ شرعی اجتہاد و استحسان اور قواعد شریعت پر انکی بنیاد ہو۔ حدیث کے لفظ “فِىْ اَمْرِنَا هَذَا” اور “مَا لَيْسَ مِنْهُ” کا مفاد اور مطلب یہی ہے کہ پس دنیا کی ساری ایجادات اور وہ تمام نئی چیزیں جن کو امر دینی اور وسیلہ رضائے الہی و ثواب اخروی نہیں سمجھا جاتا اس کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے اور شرعی اصطلاح کے لحاظ سے ان کو بدعت نہیں کہا جائے گا۔ جیسے نئی نئی قسم کے کھانے نئے طرز کے لباس جدید طرز کے مکانات اور سفر کے نئے ترقی کے ذرائع کا استعمال کرنا اسی طرح شادی وغیرہ کی تقریبات کے سلسلہ کے وہ خرافاتی رسوم اور لہو و لعب اور تفریحات کے وہ پروگرام جن کو کوئی بھی امر دینی نہیں سمجھتا ان سے بھی اس حدیث کا کوئی تعلق نہیں ہاں جن رسوم کو امر دینی سمجھا جائے اور ان سے ثواب آخرت کی امید کی جائے وہ اس حدیث کا مصداق قابل رد اور بدعت ہیں موت اور غمی کے سلسلہ کی زیادہ رسوم اسی قبیل سے ہیں جیسے تیجہ دسواں بیسواں چالیسواں برسی ہر جمعرات کو مردوں کی فاتحہ بڑے پیرصاحب کی گیارہویں بارہویں بزرگوں کی قبروں پر چادر وغیرہ چڑھانا اور عرسوں کے میلے ٹھیلے ان سب کو امر دینی سمجھا جاتا ہے اور ثواب آخرت کی ان سے امید رکھی جاتی ہے اس لئے یہ سب حضرت صدیقہ ؓ کی اس حدیث “من احدث فى امرنا هذا ما ليس منه فهو رد” کا مصداق اور مردود بدعات ومحدثات ہیں۔
پھر ان عملی بدعات سے زیادہ مہلک وہ بدعات ہیں جو عقائد کے قبیل سے ہیں جیسے رسول اللہ صلی اللہ وسلم اور اولیاء اللہ کو عالم الغیب اور حاضروناظر سمجھنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ دور دراز سے پکارنے والوں کی پکار و فریاد کو سنتے ہیں اور ان کی مدد اور حاجت روائی کرتے ہیں یہ عقیدہ بدعت ہونے کے ساتھ شرک بھی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی کا فیصلہ اور اس کی کتاب پاک کا اعلان ہے کہ اس جرم کے مجرم اللہ کی مغفرت و بخشش سے قطعی محروم ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ
عَنْ عِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا فَقَالَ: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلاَفًا كَثِيرًا فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ. (رواه احمد وابوداؤد والترمذى وابن ماجة الا انهما لم يذكر الصلوة)
حضرت عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی پھر آپ ہم لوگوں کی طرف متوجہ ہوگئے اور ہماری طرف رخ فرما لیا اور ایسا موثر وعظ فرمایا کہ اس کے اثر سے آنکھیں بہہ پڑیں اور دل خوفزدہ ہوکر دھڑکنے لگے تو ہم نے ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ یہ تو گویا ایسا وعظ ہے جیسے الوداع کہنے والے اور رخصت ہونے والے کا وعظ ہوتا ہے (پس اگر ایسی بات ہے) تو پھر آپ ہم کو (ضروری امور کی) وصیت فرمایئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں تم کو وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرتے رہنے اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہنے کی اور اولوالامر (خلیفہ یا امیر) کا حکم سننے اور ماننے کی اگرچہ وہ کوئی حبشی غلام ہی ہو اس لیے کہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بڑے اختلافات دیکھے گا (تو ایسی حالت میں) تم اپنے اوپر لازم کر لینا میرے طریقے اور میرے خلفائے راشدین مہدیین کے طریقے کی پیروی و پابندی اور مضبوطی سے اس کو تھام لینا اور دانتوں سے پکڑ لینا اور (دین میں) نئی نکالی ہوئی باتوں سے اپنے کو الگ رکھنا اس لئے کہ دین میں نئی نکالی ہوئی ہر بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (مسند احمد سنن ابوداؤد جامع ترمذی سنن ابن ماجہ)
تشریح
ظاہر ہے کہ یہ حدیث کسی وضاحت اور تشریح کی محتاج نہیں اس کے مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کے آخری دور حیات کا ہے آپ نے نماز کے بعد جو وعظ فرمایا اس کے غیر معمولی انداز سے اور اس میں آپ ﷺ نے جو ہدایات و آگاہیاں دیں ان سے صحابہ کرام نے اندازہ کیا کہ شاید آپ ﷺ پر منکشف ہوگیا ہے کہ اس دنیا سے آپ ﷺ کے رخصت ہونے کا وقت قریب ہے اس بنا پر آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ ہم کو بعد کے لئے وصیت فرمایئے! آپ ﷺ نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے وصیت فرمائی سب سے پہلے تقوی کی یعنی خدا سے ڈرتے رہنے اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہنے کی اس کے بعد دوسرے نمبر پر وصیت فرمائی کے خلیفہ اور امیر کے حکم کی بہرحال اطاعت کی جائے اگرچہ وہ کسی کمتر طبقہ کا آدمی ہو۔ دین میں تقوے کی اہمیت تو ظاہر ہے اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح اسی پر موقوف ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ دنیا میں امت کا اجتماعی نظام صحیح اور مضبوط طور پر قائم رہنے کے لئے ضروری ہے کہ خلیفہ اور امیر کی اطاعت کی جائے اگر ایسا نہیں ہوگا تو انتشار و افتراق پیدا ہوگا اور انارکی پھیلے گی اور نوبت خانہ جنگی تک پہنچے گی (لیکن رسول اللہ ﷺ نے مختلف موقعوں پر بار بار یہ وضاحت فرمائی ہے) اگر امیر و خلیفہ اور کوئی بالاتر شخصیت کسی ایسی بات کا حکم دیے جو اللہ و رسول کے کسی حکم کے خلاف ہو تو اس کی اطاعت نہیں کی جائے گی (لا طاعة لمخلوق فى معصية الخالق)
تقوی اور اولوالامر کی اطاعت کی ہدایت و وصیت کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی میرے بعد زندہ رہے گا وہ امت میں بڑے اختلافات دیکھے گا۔ ایسے حالات میں نجات کا راستہ یہی ہے کہ میرے طریقہ کو اور میرے خلفائے راشدین مہدیین کے طریقہ کو مظبوطی سے تھام لیا جائے اور بس اس کی پیروی کی جائے اور دین میں پیدا کی ہوئی نئی نئی باتوں اور بدعتوں سے بچا جاۓ کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے اور صرف گمراہی ہے۔
یہ حدیث شریف حضور ﷺ کے معجزات میں سے ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی حیات مقدسہ میں ایسی حالت میں جب کہ کسی کو آپ ﷺ کی امت میں اختلاف و افتراق کا تصور بھی نہیں ہوسکتا تھا فرما دیا تھا کہ تم میں سے جو لوگ میرے بعد زندہ رہیں گے وہ بڑے بڑے اختلافات دیکھیں گے یہی ظہور میں آیا کہ آپ کے وہ اصحاب اورفقاء جو آپ کے بعد پچیس تیس سال بھی زندہ رہے انہوں نے امت کا یہ اختلاف آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اور اس کے بعد اختلافات میں اضافہ ہی ہوتا رہا اور آج جبکہ چودھویں صدی ہجری ختم اور پندرویں صدی شروع ہو چلی ہے امت کے اختلافات کا جو حال ہے وہ ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں۔ اللہ تعالی حق و ہدایت اور آپ ﷺ کی سنت پر قائم رہنے کی توفیق دے۔
کتاب اللہ اور تعلیمات نبوی کی پابندی
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ» (رواه فى شرح السنة وقال النووى فى اربعينه هذا حديث صحيح رويناه فى كتاب الحجة باسناد صحيح مشكوة المصابيح)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی (حقیقی) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات میری لائی ہوئی ہدایت وتعلیم کے تابع نہ ہو جائیں۔ (اس حدیث کو امام محی السنہ بغوی نے شرح السنہ میں روایت کیا ہے اور امام نووی نے اپنی کتاب اربعین میں لکھا ہے کہ یہ حدیث اسناد کی رو سے صحیح ہے۔ ہم نے اسکو کتاب الحجہ میں صحیح اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے)
تشریح
حدیث کا پیغام اور مدعا یہ ہے کہ حقیقی مومن وہی ہے جس کا دل و دماغ اور جس کی خواہشات و رجحانات آپ کی لائی ہوئی ہدایت و تعلیم (کتاب و سنت) کے تابع ہو جائیں یہ آپ پر ایمان لانے اور آپ کو خدا کا رسول مان لینے کا لازمی اور منطقی نتیجہ بھی ہے اگر کسی کا یہ حال نہیں ہے تو سمجھنا چاہیے کہ اس کو حقیقی ایمان ابھی نصیب نہیں ہوا ہے وہ اس کی فکر اور اپنے کو اس معیار پر لانے کی کوشش کرے۔
کتاب اللہ اور تعلیمات نبوی کی پابندی
عَنْ مَالِكِ بْنِ اَنَسٍ مُرْسَلا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ رَسُولِهِ. (رواه فى المؤطا)
حضرت امام مالک بن انس سے بطریق ارسال روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے دو چیزیں تمہارے میں چھوڑی ہیں تم جب تک ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے (وہ ہیں) کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت (موطا امام مالک)
تشریح
حدیث کا مدعا یہ ہے کہ میرے بعد میری لائی ہوئی کتاب اللہ اور میری سنت میری قائم مقام ہوں گی امت جب تک ان کو مظبوطی سے تھامے رہے گی گمراہیوں سے محفوظ اور راہ ہدایت پر مستقیم رہے گی۔
اس سلسلہ معارف الحدیث میں یہ بات بار بار ذکر کی جاچکی ہے کہ کبھی کبھی کوئی تابعی یا تبع تابعی رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث اس طرح روایت کرتے ہیں کہ اس واسطہ کا ذکر نہیں کرتے جن سے ان کو وہ حدیث پہنچی ہے اس طرح روایت کرنے کو محدثین کی اصطلاح میں ارسال کہا جاتا ہے اور ایسی حدیث کو مرسل۔ یہ حدیث امام مالک نے اپنی موطا میں اسی طرح روایت کی ہے وہ خود تبع تابعین میں سے ہیں انہوں نے کسی صحابی کو بھی نہیں پایا ہاں تابعین کو پایا ہے اور انہیں کے ذریعہ ان کی حدیثیں پہنچی ہیں۔ یہ حدیث انہوں نے درمیانی راویوں کا ذکر کیے بغیر براہ راست رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے ایسا وہ جب ہی کرتے ہیں جب ان کے نزدیک حدیث روایت کے لحاظ سے صحیح اور قابل قبول ہوتی ہے لیکن حدیث کی بعض دوسری کتابوں میں یہی مضمون قریب قریب انہی الفاظ میں پوری سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا گیا ہے۔ کنزالعمال میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے سنن بیہقی کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا گیا ہے:
يا أيها الناس إني تارك فيكم ما إن اعتصمتم به لن تضلوا ابدا كتاب الله وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ
ترجمہ: اے لوگو! میں وہ (سامان ہدایت) چھوڑ کر جاؤں گا جس سے اگر تم وابستہ رہے تو ہر گز کبھی گمراہ نہ ہوگے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔
نیز اسی کنزالعمال میں اسی مضمون کی حدیث قریب قریب انہی الفاظ میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت سے بھی مستدرک حاکم کے حوالہ سے نقل کی گئی ہے۔
کتاب اللہ کی طرح سنت بھی واجب الاتباع ہے
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلاَ إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ أَلاَ يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلاَلٍ فَأَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ وَإِنَّ مَأ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ كَمَأ حَرَّمَ الله. (رواه ابوداؤد والدارمى وابن ماجه)
حضرت مقدام بن معدی کرب ؓٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کے سن لو اور آگاہ رہو کے مجھے اللہ تعالی کی طرف سے (ہدایت کے لیے) قرآن بھی عطا ہوا ہے اور اس کے ساتھ اس کے مثل اور بھی۔ آگاہ رہو کہ عنقریب بعض پیٹ بھرے لوگ (پیدا) ہونگے جو اپنے شاندار درخت (یا مسہری) پر (آرام کرتے ہوئے) لوگوں سے کہیں گے کہ بس اس قرآن ہی کو لے لو اس میں جس چیز کو حلال بنایا گیا ہے اس کو حلال جانو اور جو حرام قرار دیا گیا ہے اس کو حرام سمجھو (یعنی حلال و حرام بس وہی ہے جس کو قرآن میں حلال یا حرام بتلایا گیا ہے اس کے سوا کچھ نہیں)...... (اگر رسول اللہ ﷺ نے اس گمراہانہ نظریہ کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا) اور یہ واقعہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو اللہ کے رسول نے حرام قرار دیا ہے وہ بھی انہی چیزوں کی طرح حرام ہیں جن کو اللہ تعالی نے قرآن میں حرام قرار دیا ہے۔ (سنن ابی داود، مسند دارمی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
رسول اللہ ﷺ پر منکشف کیا گیا تھا کہ کسی زمانے میں کچھ کھاتے پیتے پیٹ بھرے بے فکرے فتنہ پرواز لوگ امت میں یہ گمراہی پھیلانے کی کوشش کریں گے کہ دینی حجت اور واجب الاتباع صرف کتاب اللہ ہے اس کے علاوہ کوئی چیز خود رسول اللہ ﷺ کی بھی کوئی تعلیم و ہدایت واجب الاتباع نہیں۔ آپ نے اس فتنہ کے بارے میں امت کو واضح آگاہی اور ہدایت دیں۔
تشریح ..... یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر جو وحی آتی تھی اس کی دو صورتیں تھیں ایک متعین الفاظ اور عبارت کی شکل میں اس کو وحی متلو کہا جاتا ہے (یعنی وہ وحی جس کی تلاوت کی جائے) یہ حیثیت قرآن پاک کی ہے۔ دوسری صورت وحی کی یہ ہوتی ہیں کہ آپکو مضمون کا القا اور الہام ہوتا تھا آپ اس کو اپنے الفاظ میں بیان فرماتے یا عمل کے ذریعہ تعلیم فرماتے تھے اس کو وحی غیر متلو کہا جاتا ہے (یعنی وہ وحی جس کی تلاوت نہیں کی جاتی) رسول اللہ ﷺ کی عام دینی ہدایات و ارشادات کی حیثیت یہی ہے الغرض ان کی بنیاد بھی وحی الہی پر ہے۔ اور وہ قرآن ہی کی طرح واجب الاتباع ہیں۔
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ پر یہ چیز منکشف فرما دی تھی کہ آپ کی امت میں ایسے لوگ اٹھیں جو یہ کہہ کر لوگوں کو گمراہ اور اسلامی شریعت کو معطل کریں گے کہ دینی احکام بس وہی ہیں جو قرآن میں ہیں اور جو قرآن میں نہیں ہے۔ وہ دینی حکم ہی نہیں ہیں رسول اللہ ﷺ نے زیر تشریح حدیث میں امت کو اس فتنہ سے باخبر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مجھے ہدایت کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے قرآن بھی عطا ہوا ہے اور اس کے ساتھ اس کے علاوہ بھی وحی غیر متلو کے ذریعہ احکام دیے گئے ہیں اور وہ قرآن ہی کی طرح واجب الاتباع ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ حدیث نبوی کے حجت دینی ہونے سے انکار کرتے ہیں وہ اسلامی شریعت کے پورے نظام سے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں..... قرآن مجید کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں صرف اصولی تعلیم اور احکام ہیں ان کے بارے میں وہ ضروری تفصیلات جن کے بغیر ان احکام پر عمل ہی نہیں ہو سکتا رسول اللہ ﷺ کی فعلی یا قولی احادیث ہی سے معلوم ہوتی ہیں مثلا قرآن پاک میں نماز کا حکم ہے لیکن نماز کس طرح پڑھی جائے؟ کن اوقات میں پڑھی جائے؟ اور کس وقت کی نماز میں کتنی رکعتیں پڑھی جائیں؟ یہ قرآن میں کہیں نہیں ہے یہ ساری تفصیلات احادیث ہی سے معلوم ہوتی ہیں اسی طرح مثلا قرآن مجید میں زکاة کا حکم ہے لیکن یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ زکوۃ کس حساب سے نکالی جائے اور ساری عمر میں ایک دفعہ نکالی جائے یا ہر سال ہر مہینے نکالی جائے یہی حال اکثروبیشتر قرآنی احکام کا ہے۔ الغرض حدیث کے حجت دینی ہونے کا انکار انجام کے لحاظ سے پورے نظام دینی کا انکار ہے۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں امت کو خاص طور پر آگاہی دی ہے۔ یہ حدیث اس حیثیت سے حضور ﷺ کا معجزہ بھی ہے کہ اس میں آپ ﷺ نے امت میں پیدا ہونے والے اس فتنہ (انکار حدیث) کی اطلاع دی ھے جس کا آپ ﷺ کے زمانے میں بلکہ صحابہ و تابعین اور تبع تابعین کے زمانوں میں بھی تصور تک نہیں کیا جاسکتا تھا۔
کتاب اللہ کی طرح سنت بھی واجب الاتباع ہے
عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الأَمْرُ مِنْ أَمْرِي مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ فَيَقُولُ لاَ نَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ. (رواه احمد والترمذى وابوداؤد وابن ماجه والبيهقى فى دلائل النبوة)
حضرت ابو رافع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تم میں سے کسی کو اس حال میں پاوں (یعنی اس کا یہ حال ہو) کہ وہ اپنے شاندار تخت پر تکیہ لگائے (متکبرانہ انداز میں) بیٹھا ہو اور اس کو میری کوئی بات پہنچے جس میں، میں نے کسی چیز کے کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیا ہو تو وہ کہیں کہ ہم نہیں جانتے، ہم تو بس اسی حکم کو مانیں گے جو ہم کو قران میں ملے گا (مسنداحمد سنن ابی داود جامع ترمذی سنن ابن ماجہ دلائل النبوہ بیہقی)
تشریح
اس حدیث کا مدعا اور پیغام بھی وہی ہے جو حضرت مقدام بن معدی کرب کی مندرجہ بالا حدیث کا ہے اور دونوں حدیثوں کے الفاظ و انداز سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس گمراہی (انکار حدیث) کے اصل علمبردار ایسے لوگ ہونگے جن کے پاس دنیا کے سازوسامان کی فراوانی ہوگی اور ان کے طور طریقے متکبرانہ ہونگے جو اس بات کی علامت ہوگی کہ عیش دنیا نے ان کو خدا سے غافل اور آخرت کی طرف سے بے فکر کر دیا ہے۔ اللہ تعالی ہر فتنے اور ہر گمراہی سے حفاظت فرمائے۔
امت کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل ہی اسوہ حسنہ ہے
عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ ثَلاَثَةُ رَهْطٍ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا فَقَالُوا وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ. فَقَالَ أَحَدُهُمْ أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا. وَقَالَ لْآخَرُ أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلاَ أُفْطِرُ. وَقَالَ لْآخَرُ أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا. فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا؟ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓٗ سے روایت ہے کہ (صحابہ کرامؓ میں سے) تین آدمی رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس آئے اور آپ کی عبادت کے بارے میں دریافت کرنے لگے (یعنی انہوں نے دریافت کیا کہ نماز روزہ وغیرہ عبادات کے بارے میں حضور ﷺ کا معمول کیا ہے؟) جب ان کو وہ بتلایا گیا تو (محسوس ہوا کہ) گویا انہوں نے اس کو بہت کم سمجھا اور آپس میں کہا کہ ہم کو رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم سے کیا نسبت! ان کے تو اگلے پچھلے سارے قصور اللہ تعالی نے معاف فرما دیے ہیں (اور قرآن میں اس کی خبر بھی دے دی گئی ہے لہٰذا آپ کو زیادہ عبادت ریاضت کی ضرورت ہی نہیں، ہاں ہم گناہگاروں کو ضرورت ہے کہ جہاں تک بن پڑے زیادہ سے زیادہ عبادت کریں) چنانچہ ایک نے کہا کہ اب میں تو ہمیشہ پوری رات نماز پڑھا کروں گا دوسرے صاحب نے کہا میں طے کرتا ہوں کہ ہمیشہ بلا ناغہ دن کو روزہ رکھا کرو گا تیسرے صاحب نے کہا میں عہد کرتا ہوں کہ ہمیشہ عورتوں سے بے تعلق اور دور رہوں گا، نکاح شادی کبھی نہیں کروں گا۔ (رسول اللہ ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی) تو آپ ان تینوں صاحبوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم ہی لوگوں نے یہ بات کہی ہے (اور اپنے بارے میں ایسے ایسے فیصلے کیے ہیں) سن لو! خدا کی قسم میں تم سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا اور اس کی نافرمانی اور ناراضی کی باتوں سے تم سب سے زیادہ پرہیز کرنے والا ہوں لیکن (اس کے باوجود) میرا حال یہ ہے کہ میں (ہمیشہ روزے نہیں رکھتا بلکہ) روزے سے بھی رہتا ہوں اور بلا روزے کے بھی رہتا ہوں اور (ساری رات نماز نہیں پڑھتا بلکہ) نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں (اور میں نے تجرد کی زندگی اختیار نہیں کی ہے) میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں اور ان کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارتا ہوں (یہ میرا طریقہ ہے) اب جو کوئی میرے اس طریقہ سے ہٹ کر چلے وہ میرا نہیں ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
جن تین صحابیوں کا اس حدیث میں ذکر ہے بظاہر ان کو یہ غلط فہمی تھی کہ اللہ تعالی کی رضا اور آخرت میں مغفرت و جنت حاصل کرنے کا راستہ یہ ہے کہ آدمی دنیا اور اس کی لذتوں سے بالکل کنارہ کشی اختیار کرلے اور بس اللہ کی عبادت میں لگا رہے اپنی اسی غلط فہمی کی بناء پر وہ سمجھتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہی حال ہوگا۔ لیکن جب ان کو ازواج مطہرات سے عبادت (نماز روزہ وغیرہ) کے بارے میں حضور ﷺ کا معمول معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے خیال کے لحاظ سے اس کو بہت کم سمجھا لیکن ازراہ عقیدت و ادب اس کی توجیہ یہ کی کہ آپ ﷺ کے لئے تو اللہ تعالی کی طرف سے مغفرت اور جنت میں درجات عالیہ کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس لئے آپ کو عبادت میں زیادہ مشغول رہنے کی ضرورت ہی نہیں۔ ہمارا معاملہ دوسرا ہے ہم کو اس کی ضرورت ہے اور اس بنا پر انہوں نے اپنے لیے وہ فیصلے کیے جن کا حدیث میں ذکر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی مثال پیش کرکے ان کی غلط فہمی کی اصلاح اور تنبیہ فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے تم سب سے زیادہ خدا کا خوف اور آخرت کی فکر ہے اس کے باوجود میرا حال یہ ہے کہ میں راتوں کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں دنوں میں روزے سے بھی رہتا ہوں اور بلا روزے کے بھی رہتا ہوں میری بیویاں ہیں ان کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارتا ہو زندگی کا یہی وہ طریقہ ہے جو میں بحیثیت نبی اور رسول کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آیا ہوں اب جو کوئی اس طریقہ سے ہٹ کر چلے اور اس سے منہ موڑے وہ میرا نہیں ہے۔
صرف عبادت اور ذکر و تسبیح میں مشغول رہنا فرشتوں کا حال ہے اللہ تعالی نے ان کو ایسا ہی پیدا کیا ہے کہ ان کے ساتھ نفس کا کوئی تقاضا نہیں ہے ان کے لیے ذکر و عبادت قریب قریب ایسے ہی ہے جیسے ہمارے لئے سانس کی آمد و رفت۔ لیکن ہم بنی آدم کھانےپینےکی جیسی بہت سی ضرورتیں اور نفس کے بہت سے تقاضے لے کر پیدا کیے گئے ہیں اور انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ ہم کو تعلیم دی گئی ہے کہ ہم اللہ تعالی کی عبادت بھی کریں اور اس کی مقرر کی ہوئی حدود و احکام کی پابندی کرتے ہوئے اپنی دنیوی ضرورتیں اور نفسانی تقاضے پورے کریں اور باہمی حقوق کو صحیح طور پر ادا کریں۔ یہ بڑا سخت امتحان ہے۔ انبیاء علیہ سلام کا طریقہ یہی ہے اور اسی میں کمال ہے اسی لیے وہ فرشتوں سے افضل ہیں اور ان میں بہترین نمونہ خاتم النبیین سیدنا حضرت محمد مصطفی ﷺ کا اسوہ حسنہ ہے۔ حدیث کا مقصد یہ نہیں ہے کہ کثرت عبادت کوئی غلط چیز ہے بلکہ اس کا مدعا اور پیغام یہ ہے کہ وہ ذہنیت اور وہ نقطہ نظر غلط اور طریقہ محمدی کے خلاف ہے جس بنیاد پر ان تین صاحبوں نے اپنے بارے میں وہ فیصلے کئے تھے۔ غالبا انہوں نے یہ بھی نہیں سمجھا کہ رسول اللہ ﷺ کا راتوں میں آرام فرمانا اور ہمیشہ روزہ نہ رکھنا اور ازدواجی زندگی اختیار کرنا اور اس طرح کے دوسرے مشاغل میں مشغول ہونا اپنے طرز عمل سے امت کی تعلیم کے لئے تھا اور یہ کار نبوت کا جز تھا اور یقینا آپ کے حق میں یہ نفلی عبادات سے افضل تھا۔ اس کے باوجود آپ کبھی کبھی اتنی عبادت فرماتے کہ پائے مبارک پر ورم آجاتا اور جب آپ سے عرض کیا جاتا کہ آپ کو اس قدر عبادت کی کیا ضرورت ہے؟
تو آپ فرماتے “اَفَلَا اَكُوْنُ عَبْدًا شَكُوْرًا” اسی طرح کبھی کبھی آپ مسلسل کئی کئی دن بلا افطار اور بلا سحری کے روزے رکھتے جس کو صوم وصال کہا جاتا ہے الغرض حضرت انس ؓ کی اس حدیث یا اسی مضمون کی دوسری حدیثوں سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہوگا کہ عبادت کی کثرت کوئی ناپسندیدہ چیز ہے۔ ہاں رہبانیت اور رہبانیت والی ذہنیت بلاشبہ ناپسندیدہ اور طریق محمدی اور تعلیم محمدی کے خلاف ہے۔
اس دور میں نجات کا واحد راستہ اتباع محمدی ہے
عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنُسْخَةٍ مِنَ التَّوْرَاةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ نُسْخَةٌ مِنَ التَّوْرَاةِ. فَسَكَتَ فَجَعَلَ يَقْرَأُ وَوَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: ثَكِلَتْكَ الثَّوَاكِلُ، أَمَا تَرَى مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَمِنْ غَضَبِ رَسُولِهِ، رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِيناً وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ بَدَا لَكُمْ مُوسَى فَاتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ، وَلَوْ كَانَ حَيًّا وَأَدْرَكَ نُبُوَّتِي لاَتَّبَعَنِي. (رواه الدارمى)
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دن) حضرت عمر بن الخطاب ؓ تورات کا ایک نسخہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ تورات کا ایک نسخہ ہے رسول اللہ ﷺ نے سکوت اختیار فرمایا (زبان مبارک سے کچھ ارشاد نہیں فرمایا) حضرت عمرؓ نے اس کو پڑھنا (اور حضور ﷺ کو سنانا) شروع کردیا اور رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہونے لگا (حضرت عمر ؓ پڑھتے رہے اور حضور ﷺ کے چہرہ مبارک کے تغیر سے بے خبر رہے) حضرت ابوبکرؓ نے (جو مجلس میں حاضر تھے حضرت عمرؓ کو ڈانٹا اور) فرمایا “ثكلتك الثواكل” حضور ﷺ کے چہرہ مبارک کی کیفیت تم نہیں دیکھ رہے ہو! تو حضرت عمرؓ نے حضور ﷺ کے چہرہ مبارک کی طرف نظر کی اور فورا بولے اللہ کی پناہ! اللہ کے غصہ سے اور اس کے رسول کے غصہ سے ہم (دل و جان سے) راضی ہیں اللہ کو اپنا رب مان کر اور اسلام کو اپنا دین بنا کر اور حضرت محمد کو نبی و رسول مان کر تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس خداوند عالم کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے اگر (اللہ کے پیغمبر) موسی (اس دنیا میں) تمہارے سامنے آجائیں اور تم مجھے چھوڑ کر انکی پیروی اختیار کر لو تو راہ حق اور صحیح راستہ سے بھٹک جاؤ گے اور گمراہ ہو جاؤ گے اور (سنو) اگر (اللہ کے نبی) موسی زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پاتے تو وہ بھی میری پیروی کرتے (اور میری لائی ہوئی شریعت پر چلتے)۔ (مسند دارمی)
تشریح
“نسخة من التوراة” کا مطلب ہے تورات کے عربی ترجمہ کا کوئی جز اور کچھ اوراق۔ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمرؓ کو رسول اللہ ﷺ کی ناگواری اور چہرہ مبارک پر اس کے اثر کی طرف متوجہ کرتے ہوئے جو جملہ فرمایا “ثكلتك الثواكل”اس کا لفظی ترجمہ ہے رونے والیاں تجھ کو روئیں۔ جب اظہار ناراضی کے موقع پر یہ جملہ بولا جاتا ہے تو اس کا مطلب صرف ناراضی کا اظہار ہوتا ہے لفظی معنیٰ مراد نہیں ہوتے ہر زبان میں ایسے محاورے ہوتے ہیں ہماری اردو زبان میں مائیں اپنے بچوں کو ڈانٹتے ہوئے کہتی ہیں (جس کے لفظی معنیٰ ہیں مرا ہوا) مقصد صرف ناراضی اور غصہ کا اظہار ہوتا ہے۔
حضرت عمر ؓ کے اس فعل پر حضور ﷺ کی ناراضی و ناگواری کی خاص وجہ یہ تھی کہ اس سے یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ “خاتم الکتب” قرآن مجید اور “خاتم الانبیاء” حضرت محمد ﷺ کی ہدایت و تعلیم کے بعد بھی تورات یا کسی قدیمی صحیفہ سے روشنی اور رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت رہتی ہے حالانکہ قرآن اور تعلیم محمدی نے معرفت الہی اور ہدایت کے باب میں ہر دوسری چیز سے مستغنی کردیا ہے اگلی کتابوں اور انبیاء سابقین کے صحیفوں میں جو ایسے حقائق اور مضامین واحکام تھے جن کی بنی آدم کو ہمیشہ ضرورت رہے گی وہ سب قرآن مجید میں محفوظ کر دیے گئے ہیں۔ “مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ” جو قرآن پاک کی صفت ہے اسکا مطلب یہی ہے۔ نیز تورات اور دوسرے اگلے صحیفوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ نزول قرآن اور بعثت محمدی کے بعد نجات اور رضائے الہی کا حصول، انہی کے اتباع پر موقوف ہے، اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے آپ نے قسم کھا کر فرمایا اگر بالفرض آج صاحب تورات موسی علیہ سلام زندہ ہوکر اس دنیا میں تمہارے سامنے آجائیں اور تم مجھے اور میری لائی ہوئی ہدایت و تعلیم کو چھوڑ کے ان کی پیروی اختیار کر لو تو راہ یاب نہیں ہوگے بلکہ گمراہ اور راہ حق سے دور ہو جاؤ گے۔ اس حقیقت پر اور زیادہ روشنی ڈالتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر آج حضرت موسی علیہ السلام زندہ ہوتے اور میری نبوت و رسالت کا یہ دور پاتے تو وہ خود بھی اسی ہدایت الہی اور اسی شریعت کا اتباع کرتے جو میرے ذریعہ اللہ تعالی کی طرف سے آئی ہے اور اس طرح میری اقتداء اور میری پیروی کرتے۔
حضرت عمر ؓ چوں کہ آپ ﷺ کے اخص الخواص اصحاب میں سے تھے اس لیے ان کا یہ ذرا سی لغزش بھی حضور ﷺ کے لئے ناگواری کا باعث ہوئی
جن کے رتبے ہیں سوا ان کو سوا مشکل ہے
اس دور میں نجات کا واحد راستہ اتباع محمدی ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ، وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لأَهْلِ الإِسْلاَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلاَ تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: {آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} الآيَةَ. (رواه البخارى)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ اہل کتاب مسلمانوں کے سامنے عبرانی زبان میں تورات پڑھتے اور عربی میں اس کی تفسیر و تشریح کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی کے اہل کتاب کی (ان باتوں کو جو وہ تورات کے حوالہ سے تم کو سناتے اور بتلاتے ہیں) نہ تصدیق کرو نہ تکذیب بس (اللہ تعالی کی ہدایت کے مطابق قرآن پاک کے الفاظ میں) یہ کہہ دیا کرو کہ:
آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (سورة البقره آيت 126)
ترجمہ: ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس کی اس کتاب پر جو ہماری طرف (اور ہماری ہدایت کے لئے) نازل کی گئی ہے، اور ان سب ھدایت نامو پر ایمان لائے جو نازل کئے گئے تھے (انبیاء سابقین) ابراہیم، اسمعٰیل، اسحاق اور اسباط پر اور جو نازل کیے گئے تھے موسی وعیسی پر اور (ان کے علاوہ) اور نبیوں کو جو ہدایت عطا ہوئی ان کے پروردگار کی طرف سے، ہم (نبی و رسول ہونے کی حیثیت سے) ان میں کوئی تفریق نہیں کرتے (ہم سب کو مانتے ہیں) اور ہم بس اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں۔
تشریح
واقعہ یہ ہے کہ تورات میں اور اسی طرح انجیل میں طرح طرح کی تحریفات ہوئی تھیں، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے یہ ہدایت فرمائی کہ ان کی سب باتوں کی نہ تصدیق کرو نہ تکذیب یہ عقیدہ رکھو اور دوسروں کے سامنے بھی اپنا یہ مؤقف واضح کر دو کہ اللہ کے سب نبیوں پر اور اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والے سب ہدایت ناموں پر ہمارا ایمان ہے ہم ان سب کو برحق مانتے ہیں اس لحاظ سے اللہ کے نبیوں میں ہم کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے بندے ہیں اسی کے حکموں پر چلتے ہیں اور اس دور کے لئے اس کا حکم یہ ہے کہ اس کی آخری کتاب قرآن اور اس کے لانے والے آخری نبی و رسول کی تعلیم و ہدایت کی پیروی کی جائے۔ اللہ تعالی کا حکم بھی یہی ہے اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایمان اللہ کے سب نبیوں پر اور اس کی نازل کی ہوئی سب کتابوں پر لایا جائے سب کا احترام اور سب کی عظمت کا احترام کیا جائے لیکن پیروی اپنے زمانے کے نبی و رسول کی اور اس کی لائی ہوئی شریعت کی کی جائے۔
اس دور میں نجات کا واحد راستہ اتباع محمدی ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلاَنِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلاَّ مِلَّةً وَاحِدَةً قَالُوا وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ میری امت میں وہ سب برائیاں آئینگی جو بنی اسرائیل میں آئی تھیں بالکل برابر برابر، یہاں تک کہ اگر بنی اسرائیل میں کوئی ایسا بدبخت ہوا ہوگا جس نے اعلانیہ اپنی ماں کے ساتھ منہ کالا کیا ہوگا تو میری امت میں بھی کوئی ایسا بدبخت ہوگا جو ایسا کرے اور بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی اور یہ سب جہنمی ہونگے سوائے ایک فرقہ کے (وہی جنتی ہوگا) صحابہؓ نے عرض کیا کہ حضرت وہ کونسا فرقہ ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو اس راستے پر ہو گا جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب ہیں۔ (جامع ترمذی)
(قریبا اسی مضمون کی ایک حدیث مسند احمد اور سنن ابی داود میں حضرت معاویہ ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے)
تشریح
اس حدیث میں جو کچھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ صرف ایک پیشن گوئی نہیں ہے بلکہ امت کے لئے بہت بڑی آگاہی ہے مقصد یہ ہے کہ ہر امتی اس کی فکر اور اس کا دھیان رکھے کہ وہ انہیں عقائد و نظریات اور اسی مسلک پر قائم رہے جس پر خود آنحضرت ﷺ اور آپ صلی للہ علیہ وسلم کے اصحاب کرام تھے نجات اور جنت کی ضمانت انہی کے لئے ہے۔
اس طبقہ نے اپنے لئے اہل السنة والجماعة کا عنوان اختیار کیا ہے (یعنی رسول اللہ ﷺ اور جماعت صحابہ کے طریقہ سے وابستگی رکھنے والے) دوسرے بہتر 72 فرقے جن کے بارے میں اس حدیث میں فرمایا گیا ہے “كُلُّهُمْ فِي النَّارِ”ان سب کی تعیین کے ساتھ نشاندہی نہیں کی جا سکتی بہرحال یہ وہ ہیں جن کا دینی طرز فکر اور اعتقادی مسلک “مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي”سے اصولی طور پر مختلف ہے مثال کے طور پر کہا جا سکتا ہے جیسے زیدیہ معتزلہ جہمیہ اور ہمارے زمانے کے منکرین حدیث اور وہ مبتدعین جن کے عقیدے کا فساد کفر تک نہیں پہنچا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ جن لوگوں نے ایسے عقائد اختیار کرلیا جن کی وجہ سے وہ دائرہ اسلام ہی سے خارج ہوگئے۔ جیسے قدیم زمانے میں مسیلمہ کذاب وغیرہ مدعیان نبوت کو نبی ماننے والے، یہاں مارے زمانے کے قادیانی، سو ایسے لوگ امت کے دائرہ ہی سے نکل گئے اس لیے یہ ان بہتر فرقوں میں شامل نہیں ہیں یہ بہتر فرقے وہ ہیں جو امت کے دائرہ میں ہیں مگر انہوں نے “مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي” کے راستہ سے ہٹ کر اعتقادی مسلک اور دینی طرز فکر اختیار کرلیا لیکن ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار اور کوئی ایسا عقیدہ اختیار نہیں کیا جس کی وجہ سے اسلام اور امت کے دائرہ ہی سے خارج ہوگئے ہوں ان کے بارے میں جو فرمایا گیا “كُلُّهُمْ فِي النَّارِ” (یہ سب جہنم میں جائیں گے) اس کا مطلب یہ ہے کہ عقیدے کے فساد اور گمراہی کی وجہ سے یہ عذاب جہنم کے مستحق ہونگے اسی طرح “مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي” کے مسلک سے وابستگی رکھنے والے تہترویں فرقے کے جنتی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اعتقادی استقامت کی وجہ سے نجات اور جنت کا مستحق ہوگا۔ بہرحال حدیث میں جس تفرق (فرقوں میں تقسیم ہونے کا) ذکر فرمایا گیا ہے انکا اعمال کی نیکی بدی اور اچھائی برائی سے تعلق ہے فرقہ بندی کا تعلق عقائد و انکار سے ہوتا ہے اعمال صالحہ اور اعمال سیئہ کی وجہ سے ثواب یا عذاب کا مستحق ہونا بھی برحق ہے اس حدیث کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
امت میں عمومی فساد و بگاڑ کے وقت سنت اور طریق محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستگی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَمَسِّكُ بِسُنَّتِي عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِي لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ» (رواه الطبرانى فى الاوسط)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص میری امت کے فساد و بگاڑ کے وقت میری سنت اور میرے طریقہ سے وابستہ اور اس کو مضبوطی سے پکڑے رہے اس کے لئے شہید کا اجر و ثواب ہے۔ (معجم اوسط لطبرانی)
تشریح
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی مندرجہ بالا حدیث سے بھی معلوم ہوا اور اس کے علاوہ دوسری متعدد حدیثوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر منکشف کیا گیا تھا کہ اگلی امتوں کی طرح آپ کی امت میں بھی فساد بگاڑ آئے گا اور ایسے دور بھی آئیں گے جب امت میں بے راہ روی اور نفس و شیطان کی پیروی بہت عام ہو جائے گی اور اس کی غالب اکثریت آپ کی ہدایت و تعلیم اور آپکے طریقہ کی پابند نہیں رہے گی۔ ظاہر ہے کہ ایسے فاسد ماحول اور ایسی ناموافق فضا میں آپ کی ہدایت اور سنت و شریعت پر قائم رہ کر زندگی گزارنا بڑی عزیمت کا کام ہے اور ایسے بندوں کو بڑی مشکلات کا سامنا اور بڑی قربانیاں دینی ہوں گی حضرت ابوہریرہ ؓٗ کی اس حدیث میں ان اصحاب عزیمت کو خوشخبری سنائی گئی ہے کہ آخرت میں اللہ تعالی کی طرف سے ان کو فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا درجہ اور اجر و ثواب عطا ہو گا۔
یہاں یہ بات خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ ہماری زبان میں سنت کا لفظ ایک مخصوص اور محدود معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے مگر حدیث میں سنت سے مراد آپ کا طریقہ اور آپ کی ہدایت ہے جس میں عقائد اور فرائض و واجبات بھی بھی شامل ہیں۔
فائدہ: “مشکوۃ المصابیح” میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے۔ “مَنْ تَمَسَّكَ بِسُنَّتِي عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أَجْرُ مِأَة شَهِيدٍ” اور اس کی تخریج کے لئے حدیث کی کسی کتاب کا حوالہ بھی نہیں دیا گیا بظاہر زیادہ قابل اعتماد معجم اوسط طبرانی کی وہی روایت ہے جو یہاں جمع الفوائد سے نقل کی گئی ہے اور جس میں “فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ” فرمایا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔