Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 71 of 106

1401Maarif-ul-Hadith

ماں باپ کی خدمت بعض حالات میں ہجرت اور جہاد سے بھی مقدم

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُجَاهِدُ؟ قَالَ: «أَلَكَ أَبَوَانِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ» (رواه ابوداؤد)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا تمہارے ماں باپ ہیں؟ اس نے کہا۔ ہاں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر ان کی خدمت اور راحت رسانی میں جدو جہد کرو۔ یہی تمہارا جہاد ہے۔ (سنن ابی داؤد) تشریح غالباً رسول اللہ ﷺ پریہ بات منکشف ہو گئی تھی یا کسی وجہ سے اس کے بارے میں شبہ ہو گیا تھا کہ اس آدمی کے ماں باپ اس کی خدمت کے محتاج ہیں، اور یہ ان کو چھوڑ کے ان کی اجازت کے بغیر جہاد کے لئے آ گیا ہے، اس لئے آپ ﷺ نے اس کو یہ حکم دیا کہ وہ گھر واپس جا کر ماں باپ کی خدمت کرے، کیوں کہ ایسی حالت میں اس کے لئے ماں باپ کی خدمت مقدم ہے۔ اس حدیث سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہو گا کہ جس کسی کے ماں باپ ہوں وہ جہاد اور دین کی کسی خدمت کے لئے کبھی گھر سے باہر نہ نکلے، اور صرف وہی لوگ جہاد میں اور دین کی خدمت میں لگیں جن کے ماں باپ نہ ہوں۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو صحابہ کرام ؓ جہاد کرتے تھے اور ان میں بڑی تعداد انہی کی ہوتی تھی جن کے ماں باپ زندہ ہوتے تھے۔

1402Maarif-ul-Hadith

ماں باپ کی خدمت بعض حالات میں ہجرت اور جہاد سے بھی مقدم

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ: «هَلْ لَكَ أَحَدٌ بِالْيَمَنِ؟»، قَالَ: أَبَوَايَ، قَالَ: «أَذِنَا لَكَ؟» قَالَ: «لَا»، قَالَ: «ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَاسْتَأْذِنْهُمَا، فَإِنْ أَذِنَا لَكَ فَجَاهِدْ، وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا» (رواه ابوداؤد احمد)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن سے ہجرت کر کے حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا یمن میں تمہارا کوئی ہے؟ اس نے عرض کیا کہ: ہاں! میرے والدین ہیں۔ آپ نے دریافت فرمایا کیا: انہوں نے تم کو اجازت دی ہے؟ (اور تم ان کی اجازت سے یہاں آئے ہو؟) اس نے عرض کیا: کہ ایسا تو نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر ماں باپ کے پاس جاؤ اور یہاں آنے کی (اور جہاد اور دین کی محنت میں لگنے کی) ان سے اجازت مانگو، پھر وہ اگر تمہیں اجازت دے دیں تو آؤ اور جہاد میں لگ جاؤ اور اگر وہ اجازت نہ دیں تو ان کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہو۔ (سنن ابی داؤد، مسند احمد) تشریح ہجرت کر کے آنے والوں اور جہاد میں شرکت کرنے والوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا جو عام مستقل رویہ اور اسوہ حسنہ تھا اس کی روشنی میں اس قسم کی تمام احادیث کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کا تعلق اس صورت سے ہے جب ماں باپ خدمت کے سخت محتاج ہوں اور اگر دوسرا ان کی خبر گیری کرنے والا نہ ہو اور اس وجہ سے وہ اجازت بھی نہ دیں تو پھر بلاشبہ ان کی خدمت اور خبر گیری ہجرت اور جہاد سے بھی مقدم ہو گی۔

1403Maarif-ul-Hadith

جنت ماں کے قدموں میں ہے

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ، فَقَالَ: «هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلِهَا» (رواه احمد والنسائى)

معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہے کہ میرے والد جاہمہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ: “میرا ارادہ جہاد میں جانے کا ہے اور میں آپ ﷺ سے اس بارے میں مشورہ لینے کے لئے حاضر ہوا ہوا۔” آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: کیا تمہاری ماں ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: “ہاں! ہیں”۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر انہی کے پاس اور انہی کی خدمت مین رہو، ان کے قدموں میں تمہاری جنت ہے۔ (مسند احمد، سنن نسائی)

1404Maarif-ul-Hadith

جنت ماں کے قدموں میں ہے

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِمْتُ، فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَسَمِعْتُ فِيْهَا قِرَاءَةً، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ " «كَذَلِكُمُ الْبِرُّ، كَذَلِكَ الْبِرُّ» وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ. (رواه البغوى والبيهقى فى شعب الايمان)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: میں سویا تو میں نے خواب دیکھا کہ میں جنت میں ہوں، وہیں میں نے کسی کے قرآن پڑھنے کی آواز سنی تو میں نے دریافت کیا کہ: “اللہ کا یہ کون بندہ ہے جو یہاں جنت میں قرآن پڑھ رہا ہے؟ ” تو مجھے بتایا گیا کہ “یہ حارثہ بن النعمان ہیں” ماں باپ کی خدمت و اطاعت شعاری ایسی ہی چیز ہے، ماں باپ کی خدمت و اطاعت شعاری ایسی ہی چیز ہے۔ (رسول اللہ ﷺ نے اپنا یہ خواب بیان فرمانے کے بعد فرمایا کہ) حارثہ بن النعمان اپنی ماں کے بہت ہی خدمت گزار اور اطاعت شعار تھے (یعنی اس عمل نے ان کو اس مقام تک پہنچایا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنت میں ان کی قرأت سنی)۔ (شرح السنہ للبغوی و شعب الایمان)

1405Maarif-ul-Hadith

ماں کی خدمت بڑے سے بڑے گناہ کی معافی کا ذریعہ

عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ ذَنْبًا عَظِيمًا فَهَلْ لِي تَوْبَةٌ؟ قَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟ قَالَ: لاَ، قَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ خَالَةٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَبِرَّهَا. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ: حضرت! میں نے ایک بہت بڑا گناہ کیا ہے، تو کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے (اور مجھے معافی مل سکتی ہے) آپ ﷺ نے پوچھا: تمہاری ماں زندہ ہے؟ اس نے عرض کیا کہ: ماں تو نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو کیا تمہاری کوئی خالہ ہے؟ اس نے عرض کیا کہ: ہاں خالہ موجود ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو اس کی خدمت اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو (اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے تمہاری توبہ قبول فرما لے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا)۔ (جامع ترمذی) تشریح توبہ کیا ہے؟ گناہ پر دل سے نادم و پشیمان ہو کر اللہ سے معافی مانگنا، تا کہ اللہ کے غضب اور اس عذاب سے بچ جائے جس کا وہ گناہ کی وجہ سے مستحق ہو چکا ہے، اور توبہ کی قبولیت یہ ہے کہ اللہ پاک اس کو معاف فرما دے اور اس سے راضی ہو جائے۔ یوں تو سارے ہی اعمال صالحہ میں یہ خاصیت ہے کہ وہ گناہوں کے گندے اثرات کو مٹاتے ہیں اور اللہ کی رجا و رحمت کو کھینچتے ہیں (إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ) لیکن بعض اعمال صالحہ اس بارے میں معمولی امتیازی شان رکھتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی خدمت اور اسی طرح خالہ اور نانی کی خدمت بھی انہی اعمال میں سے ہے جن کی برکت سے اللہ تعالیٰ بڑے بڑے گناہگاروں اور سیاہ کاروں کی توبہ قبول فرما لیتا ہے اور ان سے راضی ہو جاتا ہے۔

1406Maarif-ul-Hadith

خدمت اور حسن سلوک کافر و مشرک ماں کا بھی حق ہے

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ، إِذْ عَاهَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُدَّتِهِمْ مَعَ أَبِيهَا، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ صِلِيهَا» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور قریش مکہ کے (حدیبیہ والے) معاہدے کے زمانہ میں میری ماں جو اپنے مشرکانہ مذہب پر قائم تھی (سفر کر کے مدینے میں) میرے پاس آئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری ماں میرے پاس آئی ہے اور وہ کچھ خواہش مند ہے، تو کیا میں اس کی خدمت کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! اس کی خدمت کرو (اور اس کے ساتھ وہ سلوک کرو جو بیٹی کو ماں کے ساتھ کونا چاہئے) (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت اسماء صدیق ؓ کی صاحبزادی اور دوسری ماں سے حضرت عائشہؓ کی بڑی بہن تھیں، ان کی ماں کا نام روایات میں قتیلہ بنت العزی ذکر کیا گیا ہے (جن کو حضرت ابو بکرؓ نے زمانہ جاہلیت ہی میں طلاق دے کر الگ کر دیا تھا، بہرحال اسلام کے دور میں یہ ان کی بیوی نہیں رہیں اور اپنے مشرکانہ طریقے ہی پر قائم رہیں۔ صلح حدیبیہ کے زمانہ میں جب مشرکین مکہ کو مدینہ آنے کی اور مدینہ کے مسلمانوں کو مکہ جانے کی آزادی حاصل ہو گئی تو حضرت اسماء کی یہ ماں اپنی بیٹی کے پاس مدینے آئیں۔ حضرت اسماءؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ: “مجھے ان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے، کیا ان کے کافر و مشرک ہونے کی وجہ سے میں ان سے “ترک موالات” کروں یا ماں کے رشتے کا لحاظ کر کے ان کی خدمت اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کروں؟ ” آپ نے حکم دیا کہ: ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو جو ماں کا حق ہے۔ حدیث میں “رَاغِبَةٌ” کا لفظ ہے جس کا ترجمہ اس عاجز نے خواہش مند کیا ہے، اس بناء پر مطلب یہ ہو گا کہ حضرت اسماء نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میری ماں جو مشرک ہیں کچھ خواہش مند ہو کر یہاں آئی ہیں یعنی وہ اس کی طالب و متوقع ہیں کہ میں ان کی مالیل خدمت کروں۔ بعض شارحین نے اس کا ترجمہ منحرف اور بیزار بھی کیا ہے اور لغت کے لحاظ سے اس کی بھی گنجائش ہے۔ اس بناء پر مطلب یہ ہو گا کہ میری ماں ملنے تو آئی ہیں لیکن ہمارے دین سے منحرف اور بےزار ہیں، ایسی صورت میں ان کے ساتھ میرا رویہ کیا ہو نا چاہئے؟ کیا ماں ہونے کی وجہ سے ان کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کروں، یا بے تعلقی اور بےرخی کا رویہ اختیار کروں بہرحال رسول اللہ ﷺ نے ان کو ہدایت فرمائی کہ ان کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرو، جو ماں کا حق ہے۔ (نَعَمْ صِلِيهَا) اوپر قرآن مجید کی وہ آیت ذکر کی جا چکی ہے جس میں مسلمانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کسی کے ماں باپ کافر و مشرک ہوں، اور وہ اولاد کو بھی کفر شرک کے لئے مجبور کریں اور دباؤ ڈالیں تو اولاد ان کی یہ بات تو نہ مانے لیکن ان کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک برابر کرتی ہے۔

1407Maarif-ul-Hadith

ماں باپ کے مرنے کے بعد ان کے خاص حقوق

عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا؟ قَالَ: «نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا، وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا، وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا» (رواه ابوداؤد وابن ماجه)

ابو اُسید ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ ایک وقت جب ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے بنی سلمہ میں سے ایک شخص آئے اور انہوں نے دریافت کیا کہ: یا رسول اللہ! کیا میرے ماں باپ کے مجھ پر کچھ ایسے بھی حق ہیں جو ان کے مرنے کے بعد مجھے ادا کرنے چاہئیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! ان کے لئے خیر و رحمت کی دعا کرتے رہنا، ان کے واسطے اللہ سے مغفرت اور بخشش مانگنا، ان کا اگر کوئی عہد معاہدہ کسی سے ہو تو اس کو پورا کرنا، ان کے تعلق سے جو رشتے ہوں ان کا لحاظ رکھنا اور ان کا حق ادا کرنا، اور ان کے دوستوں کا اکرام و احترام کرنا۔ (سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح اولاد پر ماں باپ کے حقوق کا سلسلہ ان کی زندگی کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتا بلکہ ان کے مرنے کے بعد ان کے کچھ اور حقوق عائد ہو جاتے ہیں جن کا ادا کرتے رہنا سعادت مند اولاد کی ذمہ داری اور اللہ تعالیٰ کی خاص رضا اور رحمت کا وسیلہ ہے۔

1408Maarif-ul-Hadith

ماں باپ کے مرنے کے بعد ان کے خاص حقوق

عَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصِلَ أَبَاهُ فِي قَبْرِهِ فَلْيَصِلْ إِخْوَانَ أَبِيهِ بَعْدَهُ" (رواه ابن حبان)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو کوئی یہ چاہے کہ قبر میں اپنے باپ کو آرام پہنچائے اور خدمت کرے تو باپ کے انتقال کے بعد اس کے بھائیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھے، جو رکھنا چاہئے۔ (صحیح ابن حبان)

1409Maarif-ul-Hadith

ماں باپ کے مرنے کے بعد ان کے خاص حقوق

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ صِلَةَ الرَّجُلِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ» (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: باپ کی خدمت اور حسن سلوک کی ایک اعلیٰ قسم یہ ہے کہ ان کے انتقال کے بعد ان کے دوستوں کے ساتھ (اکرام و احترام کا) تعلق رکھا جائے اور باپ کی دوستی و محبت کا حق ادا کیا جائے۔ (صحیح مسلم) تشریح حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی ان دونوں حدیثوں میں صرف باپ کے بھائیوں اور اہل محبت کا ذخر کیا گیا ہے۔ اور یہ بات پہلے معلوم ہو چکی ہے کہ اس باب میں ماں کا حق باپ سے بھی زیادہ ہے۔ علاوہ ازیں ابھی اوپر حضرت ابو اسید ساعدی کی روایت سے جو حدیث ذکر کی جا چکی ہے اس میں ماں باپ دونوں کے اہل قرابت کے ساتھ حسن سلوک اور اہل محبت کے اکرام و احترام کو اولاد پر ماں باپ کے مرنے کے بعد ان کا حق بتایا گیا ہے۔

1410Maarif-ul-Hadith

ماں باپ کے مرنے کے بعد ان کے خاص حقوق

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَمُوتُ وَالِدَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا، وَإِنَّهُ لَهُمَا لَعَاقٌّ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو لَهُمَا، وَيَسْتَغْفِرُ لَهُمَا حَتَّى يَكْتُبَهُ اللهُ بَارًّا " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی آدمی کے ماں باپ کا یا دونوں میں سے کسی کا انتقال ہو جاتا ہے اور اولاد زندگی میں ان کی نافرمان اور ان کی رضامندی سے محروم ہوتی ہے، لیکن یہ اولاد ان کے انتقال کے بعد (سچے دل) سے ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے خیر و رحمت کی دعا اور مغفرت و بخشش کی استدعا کرتی ہے (اور اس طرح اپنے قصور کی تلافی کرنا چاہتی ہے) تو اللہ تعالیٰ نافرمان اولاد کو فرمانبردار قرار دے دیتا ہے (پھر وہ ماں باپ کی نافرمانی کے وبال اور عذاب سے بچ جاتی ہے) (شعب الایمان للبیہقی) تشریح جس طرح زندگی میں ماں باپ کی فرمانبرداری و خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک اعلیٰ درجے کا عمل صالح ہے جو بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اسی طرح ان کے مرنے کے بعد ان کے لئے اخلاص اور الحاح سے رحمت و مغفرت کی دعا ایسا عمل ہے جو ایک طرف تو ماں باپ کے لئے قبر میں راحت و سکون کا وسیلہ بنتا ہے اور دوسری طرف اس سے اولاد کے ان قصورون کی تلافی ہو جاتی ہے جو ماں باپ کی فرمانبرداری اور خدمت میں ان سے ہوئی ہو اور وہ خود اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کی مستحق ہو جاتی ہے۔ قرآن پاک میں اولاد کو خاص طور سے ہدایت فرمائی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ماں باپ کے لئے رحمت اور مغفرت مانگا کرے۔ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا (بنی اسرائیل ع ۲) اور اللہ سے یوں عرض کیا کرو کہ: اے پروردگار! میرے ماں باپ پر رحمت فرما جس طرح انہوں نے مجھے پچپنے میں (شفقت کے ساتھ) پالا تھا۔

1411Maarif-ul-Hadith

ماں باپ کی خدمت اور فرمانبرداری کی دنیوی برکات

عن جابر قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إن الله تعالى يزيد في عمر الرجل ببره والديه. " (رواه ابن منيع وابن عدى)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ ماں باپ کی خدمت و فرمانبرداری اور حسن سلوک کی وجہ سے آدمی کی عمر بڑھا دیتا ہے۔ (مسند ابن منبع،کامل ابن عدی) تشریح ماں باپ کی خدمت اور فرمانبرداری کی اصل جزاء تو جنت اور رضائے الٰہی ہے جیسا کہ ان احادیث سے معلوم ہو چکا ہے جو “ماں باپ کے حقوق” کے زیر عنوان پہلے درج ہو چکی ہیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے بتلایا ہے کہ ماں باپ کی خدمت اور فرمانبرداری کرنے والی اولاد کو اللہ تعالیٰ کچھ خاص برکتوں سے اس دنیا میں بھی نوازا جاتا ہے۔ اس طرح کی احادیث کا تقدیر کے مسئلہ سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کو ازل سے معلوم تھا اور معلوم ہے کہ فلاں آدمی ماں باپ کی خدمت اور فرمانبرداری کرے گا اسی لحاظ سے اس کی عمر اس سے زیادہ مقرر فرمائی گئی جتنی کہ اس کو ماں باپ کی خدمت اور فرمانبرداری نہ کرنے کی صورت میں دی جاتی۔ اسی طرح ان سب حدیثوں کو سمجھنا چاہئے جن میں کسی اچھے عمل پر رزق میں وسعت اور برکت وغیرہ کی خوش خبری سنائی گئی ہے۔ حالانکہ رزق کی تنگی اور وسعت بھی مقدر ہے۔

1412Maarif-ul-Hadith

ماں باپ کی خدمت اور فرمانبرداری کی دنیوی برکات

عن ابن عمر قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِرُّوا آبَاءَكُمْ يَبِرُّكُمْ أَبْنَاؤُكُمْ وَعِفُّوا تَعِفُّ نِسَاؤُكُمْ. (رواه الطبرانى فى الاوسط)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے آباء (ماں باپ) کی خدمت و فرمانبرداری کرو، تمہاری اولاد تمہاری فرمانبردار اور خدمت گزار ہو گی اور تم پاک دامنی کے ساتھ رہو تمہاری عورتیں پاک دامن رہیں گی۔ (معجم اوسط للطبرانی) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو اولاد ماں باپ کی فرمانبرداری اور خدمت کرے گی اللہ تعالیٰ اس کی اولاد کو اس کا فرمانبردار اور خدمت گزار بنا دے گی، اسی طرح جو لوگ پاکدامنی کی زندگی گزاریں گے، اللہ تعالیٰ ان کی بیویوں کو پاک دامنی کی توفیق دے گا۔

1413Maarif-ul-Hadith

والدین کی نافرمانی و ایذاء رسانی عظیم ترین گناہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الكَبَائِرِ، فَقَالَ: «الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ» (رواه البخارى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کبیرہ (یعنی بڑے بڑے) گناہوں کے بارے میں دریافت کیا گیا (کہ وہ کون کون سے گناہ ہیں) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: خدا کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی و ایذاء رسانی، کسی بندے کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ (صحیح بخاری) تشریح رسول اللہ ﷺنے جس طرح ماں باپ کی فرمانبرداری اور راحت رسانی کو اعلیٰ درجہ قرار دیا ہے (جو جنت اور رضائے الٰہی کا خاص وسیلہ ہے) اسی طرح ان کی نافرمانی اور ایذاء رسانی کو “اکبر الکبائر” یعنی بدترین اور خبیث ترین گناہوں میں سے بتلایا ہے۔ صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت میں ان گناہوں کو “اکبر الکبائر” (یعنی کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ) بتایا ہے، اور جس ترتیب سے آپ ﷺ نے ان کا ذکر فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کے بعد والدین کے حقوق (یعنی ان کی نافرمانی اور ایذاء رسانی) کا درجہ ہے، حتی کہ قتل نفس کا درجہ بھی اس کے بعد ہے۔

1414Maarif-ul-Hadith

والدین کی نافرمانی و ایذاء رسانی عظیم ترین گناہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ، وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ» (رواه البخارى)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اپنے ماں باپ کو گالی دینا بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ عرض کیا گیا کہ: یا رسول اللہ کیا کوئی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی کے ماں باپ کو گالی دے، پھر وہ جواب میں اس کے ماں باپ کو گالی دے، (تو گویا اس نے خود ہی اپنے ماں باپ کو گالی دلوائی)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی آدمی کا کسی دوسرے کو ایسی بات کہنا یا ایسی حرکت کرنا جس کے نتیجہ میں دوسرا آدمی اس کے ماں باپ کو گالی دینے لگے اتنی ہی بری بات ہے جتنی کہ خود اپنے ماں باپ کو گالی دینا، اور یہ گناہِ کبیرہ کے درجہ کی چیز ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم میں ماں باپ کے احترام کا کیا مقام ہے، اور اس بارے میں آدمی کو کتنا محتاط رہنا چاہئے۔

1415Maarif-ul-Hadith

دوسرے اہل قرابت کے حقوق اور صلہ رحمی کی اہمیت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الرَّحِمَ شَجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: مَنْ وَصَلَكِ وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَكِ قَطَعْتُهُ " (رواه البخارى)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: رحم (یعنی حق قرابت) مشتق ہے رحمن سے (یعنی خداوند رحمٰن کی رحمت کی ایک شاخ ہے اور اس نسبت سے) اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا کہ جو تجھے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا، اور جو تجھے توڑے گا میں اس کو توڑوں گا۔ (صحیح بخاری) تشریح اسلامی تعلیم میں والدین کے علاوہ دوسرے اہل قرابت کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی پر بھی بہت زیادہ زور دیا گیا ہے اور “صلہ رحمی” اس کا خاص عنوان ہے۔ قرآن مجید میں جہاں والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی گئی ہے وہیں “وَذِى الْقُرْبَى” فرما کر دوسرے اہل قرابت کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوقِ قرابت کی ادائیگی کی بھی وصیت فرمائی گئی ہے۔ ابھی چند صفحے پہلے صحیح بخاری و صحیح مسلم کے حوالہ سے ایک سائل کے جواب میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے کہ: خدمت اور حسن سلوک کا سب سے پہلا حق تم پر تمہاری ماں کا ہے، اس کے بعد باپ کا، اس کے بعد درجہ بدرجہ دوسرے اہلِ قرابت کا۔ اب یہاں چند وہ حدیثیں اور پڑھ لیجئے جن میں صلہ رحمی کی اہمیت اور اس کے فضائل و برکات بیان فرمائے گئے ہیں، یا اس کے برعکس قطع رحمی کے برے انجام سے خبردار کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسانوں کی باہم قرابت اور رشتہ داری کے تعلق کو اللہ تعالیٰ کے اسم پاک رحمن سے اور اس کی صفت رحمت سے خاص نسبت ہے اور وہی اس کا سرچشمہ ہے، اور اسی لیے اس کا عنوان رحم مقرر کیا گیا ہے۔ اس خصوصی نسبت ہی کی وجہ سے عنداللہ اس کی اتنی اہمیت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ جو صلہ رحمی کرے گا (یعنی قرابت اور رشتہ داری کے حقوق ادا کرے گا، اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا) اس کو اللہ تعالیٰ اپنے سے وابستہ کر لے گا، اور اپنا بنا لے گا، اور جو کوئی اس کے برعکس قطع رحمی کا رویہ اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سے کاٹ دے گا اور دور اور بے تعلق کر دے گا۔ اسی ایک حدیث سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم میں صلہ رحمی کی (یعنی رشتہ داروں اور اہلِ قرابت کے ساتھ حسن سلوک کی) کتنی اہمیت ہے، اور اس میں کوتاہی کتنا سنگین جرم اور کتنی بڑی محرومی ہے۔ آگے درج ہونے والی حدیثوں کا مضمون بھی اس کے قریب ہی قریب ہے۔

1416Maarif-ul-Hadith

دوسرے اہل قرابت کے حقوق اور صلہ رحمی کی اہمیت

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا اللَّهُ، وَأَنَا الرَّحْمَنُ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنْ اسْمِي، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ. (رواه ابوداؤد)

حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسولِ خدا ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے کہ: اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ “میں الرحمٰن ہوں، میں نے رشتہ قرابت کو پیدا کیا ہے اور اپنے نام رحمٰن کے مادہ سے نکال کر اس کو رحم کا نام دیا ہے، پس جو اسے جوڑے گا میں اس کو جوڑوں گا اور جو اس کو توڑے گا مین اس کو توڑوں گا۔”(سنن ابی داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور مشیت سے پیدائش کا ایسا نظام بنایا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا رشتوں کے بندھنوں میں بندھا ہوتا ہے، پھر ان رشتوں کے کچھ فطری تقاضے اور حقوق ہیں جن کا عنوان اللہ تعالیٰ نے رحم مقرر کیا ہے، جو اس کے نام پاک رحمٰن سے گویا مشتق ہے (یعنی دونوں کا مادہ ایک ہی ہے) پس جو بندہ انسان کی فطرت میں رکھے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے ان حقوق اور تقاضوں کو ادا کرے گا (یعنی صلہ رحمی کرے گا) اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ وہ اس کو جوڑے گا (یعنی اس کو اپنا بنا لے گا اور فضل و کرم سے نوازے گا) اور اس کےبرعکس جو قطع رحمی کا رویہ اختیار کرے گا اور قرابت کے ان حقوق کو پامال کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں اور انسان کی فطرت میں رکھے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو توڑ دے گا، یعنی اپنے قرب اور اپنی رحمت و کرم سے محروم کر دے گا۔ آج دنیا میں مسلمان جن حالات سے دو چار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت سے محرومی کا منظر جو ہر جگہ نظر آ رہا ہے، بلاشبہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ہماری بہت سی بداعمالیوں کا نتیجہ ہے، لیکن ان احادیث کی روشنی میں یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اس بربادی اور محرومی میں بڑا دخل ہمارے اس جرم کو بھی ہے کہ صلہ رحمی کی تعلیم و ہدایت کو ہماری غالب اکثریت نے بالکل ہی بھلا دیا ہے اور اس باب میں ہمارا طرز عمل غیر مسلموں سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے۔

1417Maarif-ul-Hadith

صلہ رحمی کے بعض دنیوی برکات

عَنْ أَنَسِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو کوئی یہ چاہے کہ اس کے رزق میں فراخی اور کشادگی ہو، اور دنیا میں اس کے آثار قدم تا دیر رہیں (یعنی اس کی عمر دراز ہو) تو وہ (اہل قرابت کے ساتھ) صلہ رحمی کرے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح خاندانی زندگی میں بکثرت ایسا پیش آتا ہے کہ ایک آدمی رشتہ اور قرابت کے حقوق ادا نہیں کرتا۔ اہل قرابت کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی ہے کہ ایسے آدمیوں کے ساتھ بھی صلہ رحمی کا معاملہ کیا جائے۔ اللہ کی کتاب قرآن پاک اور رسول اللہ ﷺکی احادیث میں یہ حقیقت جا بجا بیان فرمائی گئی ہے کہ بعض نیک اعمال کے صلہ میں اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی برکتوں سے نوازتا ہے۔ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ صلہ رحمی یعنی اہل قرابت کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ حسن سلوک وہ مبارک عمل ہے جس کے صلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق میں وسعت اور عمر میں زیادتی اور برکت ہوتی ہے۔ صلہ رحمی کی دو ہی صورتیں ہیں، ایک یہ کہ آدمی اپنی کمائی سے اہل قرابت کی مالی خدمت کرے، دوسرے یہ کہ اپنے وقت اور اپنی زندگی کا کچھ حصہ ان کے کاموں میں لگائے اس کے صلہ میں رزق و مال میں وسعت اور زندگی کی مدت میں اضافہ اور برکت بالکل قرین قیاس اور اور اللہ تعالیٰ کی حکمت و رحمت کے عین مطابق ہے۔ اسبابی نقطہ نظر سے بھی یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے یہ واقعہ اور عام تجربہ ہے کہ خاندانی جھگڑے اور خانگی الجھنیں جو زیادہ تر حقوق قرابت ادا نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں آدمی کے لئے دلی پریشانی اور اندرونی کڑھن اور گھٹن کا باعث بنتی ہیں اور کاروبار اور صحت ہر چیز متاثر کرتی ہیں لیکن جو لوگ اہل خاندان اور اقارب کے ساتھ نیکی اور صلہ رحمی کا برتاؤ کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اچھا سلوک رکھتے ہیں ان کی زندگی انشراح و طمانیت اور خوش دلی کے ساتھ گزرتی ہے اور ہر لحاظ سے ان کے حالات بہتر رہتے ہیں اور فضل خداوندی ان میں شامل حال رہتا ہے۔

1418Maarif-ul-Hadith

قطع رحمی کے راستے میں رکاوٹ

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت جیبر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: قطع رحمی کرنے والا (یعنی رشتہ داروں اور اہلِ قرابت کے ساتھ برا سلوک کرنے والا) جنت میں نہ جا سکے گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس ایک حدیث سے سمجھا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم میں اور اللہ کے نزدیک صلہ رحمی کی کتنی اہمیت ہے اور قطع رحمی کس درجہ کا گناہ ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قطع رحمی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنا سخت گناہ ہے کہ اس گناہ کی گندگی کے ساتھ کوئی جنت میں نہیں جا سکے گا، ہاں جب اس کو سزا دے کے پاک کر دیا جائے گا یا کسی وجہ سے اس کو معاف کر دیا جائے گا تو جا سکے گا، جب تک ان دونوں میں سے ایک بات نہ ہو جنت کا دروازہ اس کے لئے بند رہے گا۔

1419Maarif-ul-Hadith

قطع رحمی کرنے والوں کے ساتھ بھی صلہ رحمی

عَنِ ابْنِ عَمْرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا» (رواه البخارى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ آدمی صلہ رحمی کا حق ادا نہیں کرتا جو (صلہ رحمی کرنے والے اور اپنے اقرباء کے ساتھ) بدلہ کے طور پر صلہ رحمی کرتا ہے۔ صلہ رحمی کا حق ادا کرنے والا دراصل وہ ہے جو اس حالت میں صلہ رحمی کرے (اور قرابت داروں کا حق ادا کرے) جب وہ اس کے ساتھ قطع رحم (اور حق تلفی) کا معاملہ کریں۔ (صحیح بخاری) تشریح ظاہر ہے کہ قطع رحمی اور حق تلفی کرنے والوں کے ساتھ جبجوابی طور پر قطع رحمی کا برتاؤ کیا جائے گا تو یہ ہماری اور گندگی معاشرے میں اور زیادہ بڑھے گی اور اس کے برعکس جب ان کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ کیا جائے گا تو انسانی فطرت سے امید ہے کہ دیر سویر ان کی اصلاح ہو گی اور معاشرے میں صلہ رحمی کو فروغ ہو گا۔

1420Maarif-ul-Hadith

میاں بیوی کے باہمی حقوق اور ذمہ داریاں: بیوی پر سب سے بڑا حق اس کے شوہر کا ہے

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أعظم الناس حقا على المرأة زوجها، وأعظم الناس حقا على الرجل أمه. (رواه الحاكم فى المستدرك)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت پر سب سے بڑا حق اس کے شوہر کا ہے اور مرد پر سب سے بڑا حق اس کی ماں کا ہے۔ (مستدرک حاکم) تشریح انسانوں کے باہمی تعلقات میں ازدواجی تعلق کی جو خاص نوعیت اور اہمیت ہے اور اس سے جو عظیم مصالح اور منافع وابستہ ہیں وہ کسی وضاحت کے محتاج نہیں، نیز زندگی کا سکون اور قلب کا اطمینان بڑی حد تک اسی کی خوشگواری اور باہمی الفت و اعتماد پر موقوف ہے۔ پھر جیسا کہ ظاہر ہے اس کا خاص مقصد یہ ہے کہ فریقین کو پاکیزگی کے ساتھ زندگی کی وہ مسرتیں اور راحتیں نصیب ہوں جو اس تعلق ہی سے حاصل ہو سکتی ہیں اور آدمی آوارگی اور پراگندگی سے محفوظ رہ کر زندگی کے فرائض و وظائف ادا کر سکے اور نسلِ انسانی کا وہ تسلسل بھی انسانی عظمت اور شرف کے ساتھ جاری رہے جو اس دنیا کے خالق کی مشیت ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ مقصد بھی اسی صورت میں بہتر طریقے پر پورے ہو سکتے ہیں جبکہ فریقین میں زیادہ سے زیادہ محبت و یگانگت اور تعلق میں زیادہ سے زیادہ خوشگواری ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے میاں بیوی کے باہمی حقوق اور ذمہ داریوں کے بارے میں جو ہدایات دی ہیں ان کا خاص مقصد یہی ہے کہ یہ تعلق فریقین کے لئے زیادہ سے زیادہ خوش گوار اور مسرت و راحت کا باعث ہو، دل جڑے رہیں اور وہ مقاصد جن کے لئے یہ تعلق قائم کیا جاتا ہے بہتر طریقے سے پورے ہوں۔ اس باب میں آنحضرتﷺ کی تعلیم و ہدایت کا خلاصہ یہ ہے کہ بیوی کو چاہئے کہ وہ اپنے شوہر کو اپنے لئے سب سے بالاتر سمجھے، اس کی وفادار اور فرمانبردار رہے، اس کی خیر خواہی اور اضا جوئی میں کمی نہ کرے، اپنی دنیا اور آخرت کی بھلائی اس کی خوشی سے وابستہ سمجھے۔ اور شوہر کو چاہئے کہ وہ بیوی کو اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت سمجھے، اس کی قدر اور اس سے محبت کرے، اگر اس سے غلطی ہو جائے تو چشم پوشی کرے، صبر و تحمل و دانش مندی سے اس کی اصلاح کی کوشش کرے، اپنی استطاعت کیحد تک اس کی ضروریات اچھی طرح پوری کرے، اس کی راحت رسانی اور دل جوئی کی کوشش کرے۔ ان تعلیمات کی صحیح قدر و قیمت سمجھنے کے لئے اب سے قریبا ۱۴۰۰ سو سال پہلے پوری انسانی دنیا اور خاص کر عربوں کے اس ماحول کو سامنے رکھنا چاہئے جس میں بےچاری بیوی کی حیثیت ایک خرید کردہ جانور سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھی اور اس غریب کا کوئی حق نہ سمجھا جاتا تھا۔ اس مختصر تمہید کے بعد اس سلسلہ کے رسول اللہ ﷺ کے ارشادات پڑھئے: