عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: عَقَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الحَسَنِ بِشَاةٍ، وَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ، احْلِقِي رَأْسَهُ، وَتَصَدَّقِي بِزِنَةِ شَعْرِهِ فِضَّةً، قَالَ: فَوَزَنَتْهُ فَكَانَ وَزْنُهُ دِرْهَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ. (رواه الترمذى)
حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن کے عقیقہ میں ایک بکری کی قربانی کی اور آپ ﷺ نے (اپنی صاحبزادی سیدہ) فاطمہؓ سے فرمایا کہ اس کا سر صاف کر دو اور بالوں کے وزن بھر چاندی صدقہ کر دو ہم نے وزن کیا تو ایک درہم کے برابر یا اس سے بھی کچھ کم تھے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث میں عقیقہ کے سلسلے میں قربانی کے علاوہ بچے کے بالوں کے وزن بھر چاندی صدقہ کرنے کا بھی ذکر ہے، یہ بھی مستحب ہے۔
اس حدیث کے بیان کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صاحبزادہ حسنؓ کے بالوں کے وزن بھر چاندی صدقہ کرنے کا حضرت سیدہ فاطمہ ؓ کو جو حکم دیا تھا بعض حضرات نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ حضرت حسنؓ کی پیدائش کے دنوں میں ان کے ماں باپ (حضرت فاطمہ اور حضرت علی ؓ) کے ہاں اتنی وسعت نہیں تھی کہ وہ عقیقہ کی قربانی کر سکتے، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے بکری کی قربانی تو اپنی طرف سے کر دی، لیکن حضرت فاطمہؓ سے فرما دیا کہ بچے کے بالوں کے وزن بھر چاندی وہ صدقہ کر دیں، تا کہ ان کی طرف سے بھی کچھ شکرانہ صدقے کی شکل میں اللہ کے حضور میں گزر جائے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَقُّ الْوَلَدِ عَلَى وَالِدِهِ أَنْ يُحْسِنَ اسْمَهُ، وَيُحْسِنَ أَدَبَهُ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: باپ پر بچے کا یہ بھی حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو حسن ادب سے آراستہ کرے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
بچے کا اچھا نام رکھنا بھی ایک حق ہے۔ احادیث نبویﷺ میں اس بارے میں بھی واضح ہدایات وارد ہوئی ہیں۔
عن أبي هريرة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أول ما ينحل الرجل ولده اسمه فليحسن أسمه. (رواه أبو الشيخ)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: آدمی اپنے بچے کو سب سے پہلا تحفہ نام کا دیتا ہے اس لئے چاہئے کہ اس کا نام اچھا رکھے۔ (ابو الشیخ)
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ، فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَكُمْ» (رواه احمد وابوداؤد)
حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے آباء کے نام کے ساتھ پکارے جاؤ گے (یعنی پکارا جائے گا فلاں بن فلاں) لہذا تم اچھے نام رکھا کرو۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللهِ عَبْدُ اللهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ» (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: تمہارے ناموں میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
عبداللہ اور عبدالرحمن کے زیادہ پسندیدہ ہونے کی وجہ ظاہر ہے اس میں بندے کی عبدیت کا اعلان ہے اور وہ چیز اللہ کو پسند ہے۔ اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے نام بھی پسندیدہ ناموں میں سے ہیں وہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ نسبت کو ظاہر کرتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صاحبزادے کا نام ابراہیم رکھا تھا۔ اور سنن ابی داؤد وغیرہ میں آپ ﷺ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے: “سَمُّوْا بِاَسْمَاءِ الْاَنْبِيَاء” (یعنی پیغمبروں کے نام پہ نام رکھو) اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے بعض بچوں کے نام ایسے رکھے جو معنوی لحاظ سے اچھے ہیں، اگرچہ وہ پیغمبروں کے معروف ناموں میں سے نہیں ہیں مثلاً اپنے نواسوں کا نام حسن اور حسین رکھا، اور ایک انصاری صحابی کے بچے کا نام مُنذِر رکھا۔ الغرض اس باب میں رسول اللہ ﷺ کے طرز عمل اور آپ کے ارشادات سے یہی رہنمائی ملتی ہے کہ باپ کی ذمہ داری ہے کہ بچے کا اچھا نام رکھے یا اپنے کسی بزرگ سے رکھوائے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: افْتَحُوا عَلَى صِبْيَانِكُمْ أَوَّلَ كَلِمَةٍ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَقِّنُوهُمْ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ. (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بچوں کی زبان سے سب سے پہلے “لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ” کہلواؤ، اور موت کے وقت ان کو اسی کلمہ “لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ” کی تلقین کرو۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
اللہ کے سارے پیغمبروں نے اور ان سب کے آخر میں ان کے خاتم سیدنا حضرت محمدﷺ نے اس چند روزہ دنیوی زندگی کے بارے میں یہی بتایا ہے کہ یہ دراصل آنے والی اس اخروی زندگی کی تمہید اور اس کی تیاری کے لئے ہے جو اصل اور حقیقی زندگی ہے اور جو کبھی ختم نہ ہو گی۔ اس نقطہ نظر کا قدرتی اور لازمی تقاضا ہے کہ دنیا کے سارے مسئلوں سے زیادہ آخرت کو بنانے اور وہاں فوز و فلاح حاصل کرنے کی فکر کی جائے، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ہر صاحبِ اولاد پر اس کی اولاد کا یہ حق بتایا ہے کہ وہ بالکل شروع ہی سے اس کی دینی تعلیم و تربیت کی فکر کرے، اگر وہ اس میں کوتاہی کرے گا تو قصوروار ہو گا۔
اس سلسلہ کی چند حدیثیں ذیل میں پڑھئے:
انسانی ذہن کی صلاحیتوں کے بارے میں جدید تجربات اور تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے اور اب گویا تسلیم کر لی گئی ہے کہ پیدائش کے وقت ہی سے بچے کے ذہن میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ جو آوازیں وہ کان سے سنے اور آنکھوں سے جو کچھ دیکھے اس سے اثر لے، اور وہ اثر لیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے پیدا ہونے کے بعد یہ بچے کے کان میں (خاص کان میں) اذان و اقامت پڑھنے کی جو ہدایت فرمائی ہے (جیسا کہ حضرت ابو رافع اور حضرت حسین بن علی کی متذکرہ بالا روایات سے معلوم ہو چکا ہے) اس سے بھی یہ صاف اشارہ ملتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی اس حدیث میں ہدایت فرمائی گئی ہے کہ بچے کی زبان جب بولنے کے لئے کھلنے لگے تو سب سے پہلے اس کو کلمہ “لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ” کی تلقین کی جائے اور اسی سے زبانی تعلیم و تلقین کا افتتاح ہو۔ آگے بھی یہ ہدایت فرمائی گئی کہ جب آدمی کا وقتِ آخر آئے تو اس وقت بھی اس کو اسی کلمہ کی تلقین کی جائے۔ بڑا خوش نصیب ہے اللہ کا وہ بندہ جس کی زبان سے دنیا میں آنے کے بعد سب سے پہلے یہی کلمہ نکلے اور دنیا سے جاتے وقت یہی اس کا آخری کلمہ ہو۔
اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدَهُ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ» (رواه الترمذى)
حضرت سعید بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: کسی باپ نے اپنی اولاد کو کوئی عطیہ اور تحفہ حسن ادب اور اچھی سیرت سے بہتر نہیں دیا۔ (جامع ترمذی)
تشریح
یعنی باپ کی طرف سے اولاد کے لئے سب سے اعلیٰ اور بیش بہا تحفہ یہی ہے کہ ان کی ایسی تربیت کرے کہ وہ شائستگی اور اچھے اخلاق و سیرت کے حامل ہوں۔
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْرِمُوا أَوْلَادَكُمْ وَأَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ» (رواه ابن ماجه)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اپنی اولاد کا اکرام کرو، اور (اچھی تربیت کے ذریعہ) ان کو حسنِ ادب سے آراستہ کرو۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
اولاد کا اکرام یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کا عطیہ اور اس کی امانت سمجھ کر ان کی قدر اور ان کا لحاظ کیا جائے حسبِ استطاعت ان کی ضروریات حیات کا بندوبست کیا جائے۔ ان کو بوجھ اور مصیبت نہ سمجھا جائے۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا، وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ» (رواه ابوداؤد و رواه فى شرح السنة عن ابن معبد)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے بچے جب سات سال کے ہو جائیں تو ان کو نماز کی تاکید کرو اور جب دس سال کے ہو جائیں تو نماز مین کوتاہی کرنے پر ان کو سزا دو اور ان کے بستر بھی الگ کر دو۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
عام طور سے بچے سات سال کی عمر میں سمجھدار اور باشعور ہو جاتے ہین، اس وقت سے ان کو خدا پرستی کے راستے پر ڈالنا چاہئے، اور اس کے لے ان سے نماز کی پابندی کرانی چاہئے۔ دس سال کی عمر میں ان کا شعور کافی ترقی کر جاتا ہے اور بلوغ کا زمانہ قریب آ جاتا ہے، اس وقت نماز کے بارے میں ان پر سختی کرنی چاہئے اور اگر وہ کوتاہی کریں تو مناسب طور پر ان کو سرزنش بھی کرنی چاہئے۔ نیز اس دعمر کو پہنچ جانے پر ان کو الگ الگ سلانا چاہئے۔ ایک ساتھ اور ایک بستر پر نہ سلانا چاہئے (دس سال سے پہلے اس کی گنجائش ہے)۔
حدیث کا مدعا یہ ہے کہ ماں باپ پر یہ سب اولاد کے حقوق ہیں، لڑکوں کے بھی اور لڑکیوں کے بھی اور قیامت کے دن ان سب کے بارے میں باز پرس ہو گی۔
خاص کر لڑکیوں کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وُلِدَتْ لَهُ ابْنَةٌ، فَلَمْ يُؤْذِهَا، وَلَمْ يُهِنْهَا، وَلَمْ يُؤْثِرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا - يَعْنِي الذُّكُوْرَ - أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ» (رواه احمد والحاكم فى المستدرك)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے ہاں لڑکی پیدا ہو، پھر وہ نہ تو اسے کوئی ایذاء پہنچائے اور نہ اس کی توہین اور ناقدری کرے، اور نہ محبت اور برتاؤ میں لڑکوں کو اس پر ترجیح دے (یعنی اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرے جیسا کہ لڑکوں کے ساتھ کرتا ہے) تو اللہ تعالیٰ لڑکی کے ساتھ اس حسنِ سلوک کے صلے میں اس کو جنت عطا فرمائے گا۔ (مسند احمد، مستدرک حاکم)
تشریح
آج تک بھی بہت سے علاقوں میں لڑکی کو ایک بوجھ اور مصیبت سمجھا جاتا ہے، اور اس کے پیدا ہونے پر گھر میں بجائے خوشی کے افسردگی اور غمی کی فضاء ہو جاتی ہے۔ یہ حالت تو آج ہے لیکن اسلام سے پہلے عربوں میں تو بےچاری لڑکی کو باعث ننگ و عار تصور کیا جاتا تھا اور اس کا یہ حق بھی نہیں سمجھا جاتا تھا کہ اس کو زندہ ہی رہنے دیا جائے۔ بہت سے شقی القلب خود اپنے ہاتھوں سے اپنی بچی کا گلا گھونٹ کر اس کا خاتمہ کر دیتے تھے، یا اس کو زندہ زمین میں دفن کر دیتے تھے۔
ان کا یہ حال قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ ﴿٥٨﴾ يَتَوَارَىٰ مِنَ الْقَوْمِ مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ ۚأَيُمْسِكُهُ عَلَىٰ هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ (النحل 59:16)
جب ان میں سے کسی کو لڑکی پیدا ہونے کی خبر سنائی جاتی ہے تو وہ دل مسوس کر رہ جاتا ہے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے، ان کو منہ نہیں دکھانا چاہتا، اس برائی کی وجہ سے جس کی اسے خبر ملی ہے، سوچتا ہے کیا اس نومولود بچی کو ذلت کے ساتھ باقی رکھے یا اس کو کہیں لے جا کر مٹی میں دبا دے۔
یہ تھا لڑکیوں کے بارے میں ان عربوں کا ظالمانہ رویہ جن میں رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے۔ اس فضا اور اس پس منظر کو پیش نظر رکھ کے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کے مندرجہ ذیل ارشادات پرھئے:
خاص کر لڑکیوں کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ، فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ، كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس بندے یا بندی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیٹیوں کی ذمہ داری ڈالی گئی (اور اس نے اس ذمہ داری کو ادا کیا) اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا، تو یہ بیٹیاں اس کے لئے دوزخ سے بچاؤ کا سامان بن جائیں گی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت صدیقہؓ کی اسی حدیث کی ایک روایت میں وہ واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے جس کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی۔ اور وہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس ایک نہایت غریب عورت کچھ مانگنے کے لئے آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بچیاں بھی تھیں، اتفاق سے ان کے پاس اس وقت صرف ایک کھجور تھی۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے وہی کھجور اسی بےچاری کو دے دی۔ اس نے اس ایک کھجور کے دو ٹکڑے کر کے دونوں بچیوں میں تقسیم کر دئیے، اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا اور چلی گئی۔ کچھ دیر کے بعد رسول اللہ ﷺ گھر میں تشریف لائے تو میں نے آپ سے یہ واقعہ بیان کیا۔ اس پر اپﷺ نے فرمایا کہ: جس بندے یا بندی پر بیٹیوں کی ذمہ داری پڑے، اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے، تو یہ بیٹیاں آخرت میں اس کی نجات کا سامان بنیں گی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ آدمی اگر بالفرض اپنے کچھ گناہوں کی وجہ سے سزا اور عذاب کے قابل ہو گا تو لڑکیوں کے ساتھ حسن سلوک کے صلہ میں اس کی مغفرت فرما دی جائے گی اور وہ دوزخ سے بچا دیا جائے گا۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی ایک دوسری روایت میں جس کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ایک بےچاری مسکین عورت اپنی دو بچیوں کو گود میں لئے ان کے پاس آئی اور سوال کیا، تو حضرت عائشہؓ نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس نے ایک ایک دونوں بچیوں کو دے دی، اور ایک خود کھانے کے لئے اپنے منہ میں رکھنے لگی، بچیوں نے اس تیسری کھجور کو بھی مانگا تو اس نے خود نہیں کھائی، بلکہ وہ بھی آدھی آدھی کر کے دونوں بچیوں کو دے دی۔ حضرت عائشہؓ اس کے اس طرز عمل سے بہت متاثر ہوئیں اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: “اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے اسی عمل کی وجہ سے اس کے لئے جنت کا اور دوزخ سے رہائی کا فیصلہ فرما دیا ”۔
ہو سکتا ہے کہ حضرت صدیقہ کے ساتھ یہ دونوں واقعے الگ الگ پیش آئے ہوں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ واقعہ ایک ہی ہو اور راویوں کے بیان میں اختلاف ہو گیا ہو۔
خاص کر لڑکیوں کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت
عَنْ أَنَسِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ» وَضَمَّ أَصَابِعَهُ. (رواه مسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو بندہ دو لڑکیوں کا بار اٹھائے اور ان کی پرورش کرے، یہاں تک کہ وہ سنِ بلوغ کو پہنچ جائیں تو وہ اور میں قیامت کے دن اس طرح ساتھ ہوں گے۔ راوی حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو بالکل ملا کر دکھایا۔ (یعنی یہ کہ جس طرح یہ انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں، اسی طرح میں اور وہ شخص بالکل ساتھ ہوں گے)۔ (صحیح مسلم)
خاص کر لڑکیوں کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثَ أَخَوَاتٍ، أَوْ أُخْتَيْنِ، أَوْ بِنْتَيْنِ، فَأَدَّبَهُنَّ، وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ، وَزَوَّجَهُنَّ، فَلَهُ الْجَنَّةُ» (رواه ابوداؤد والترمذى)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس بندے نے تین بیٹیوں یا تین بہنوں یا دو ہی بیٹیوں یا بہنوں کا بار اٹھایا اور ان کی اچھی تربیت کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور پھر ان کا نکاح بھی کر دیا تو اللہ تعالیی کی طرف سے اس بندے کے لئے جنت کا فیصلہ ہے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)
تشریح
ان حدیثوں میں رسول اللہ ﷺ نے حسن سلوک کو لڑکیوں کا صرف حق ہی نہیں بتلایا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر داخلہ جنت اور عذاب دوزخ سے نجات کا آپ نے اعلان فرمایا، اور یہ انتہائی خوش خبری سنائی کہ لڑکیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے اہل ایمان قیامت میں اس طرح میرے قریب اور بالکل میرے ساتھ ہوں گے جس طرح ایک ہاتھ کی باہم ملی ہوئی انگلیاں ساتھ ہوتی ہیں۔
داد و دہش میں مساوات و برابری بھی اولاد کا حق ہے
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا كَانَ لِي، فَقَالَ «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا؟» قَالَ: لَا، قَالَ «فَارْجِعْهُ» وِفِى رِوَايَةٍ «أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءٌ» قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَلَا إِذًا وِفِى رِوَايَةٍ أعطاني أبي عطية فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فأتى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فقال: "إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله ، قال:" أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟ قال: لا، قال: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم قال: فرجع فرد عطيته وِفِى رِوَايَةٍ إنه قال: لا أشهد على جور. " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے (بعض روایات میں ہے کہ گود میں لے کر حاضر ہوئے) اور عرض کیا کہ میں نے اس بیٹے کو ایک غلام ہبہ کر دیا ہے۔ بعض روایات میں بجائے غلام کے باغ ہبہ کرنے کا ذکر ہے، بہرحال آنحضرتﷺ نے ان سے پوچھا: کیا تم نے اپنے سب بچوں کو اتنا ہی اتنا دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ: نہیں (اوروں کو تو نہیں دیا، صرف اسی لڑکے نعمان کو دیا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: پھر یہ تو ٹھیک نہیں اور فرمایا کہ: اس کو واپس لے لو۔ اور ایک روایت میں ہے کہ: کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہاری سب اولاد یکساں طور پر تمہاری فرمانبردار اور خدمت گزار بنے؟ انہوں نے رض کیا کہ: ہاں! حضرتﷺ یہ تو ضرور چاہتا ہوں! تو آپ ﷺ نے فرمایا پھر ایسا ن کرو (کہ ایک دو دو اور دوسروں کو محروم رکھو) اور نعمان بن بشیرؓ ہی کی ایک دوسری روایت میں (یہی واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ میرے والد نے(میری والدہ کے اصرار پر) میرے لئے کچھ ہبہ کیا تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہؓ نے کہا کہ میں جب خوش اور مطمئن ہوں گی جب تم رسول اللہ ﷺ کو اس ہبہ کا گواہ بنا دو گے۔ چنانچہ میرے والد نعمان حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری بیوی عمرہ بنت رواحہ سے میرا جو بچہ (نعمان) ہے میں نے اس کے لئے کچھ ہبہ کیا ہے، تو اس کی ماں نے مجھ سے تاکید کی ہے کہ حضور ﷺ کو اس کا گواہ بنا دوں اور اس طرح حضور ﷺ کی منظوری بھی حاصل کر کے ہبہ کو پکا کر دوں) آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ: کیا تم نے اپنے اور سب بچوں کے لئے بھی اتنا ہبہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں (اوروں کے لئے تو نہیں کیا) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم (یعنی خدا سے ڈرو اور اپنی اولاد کے ساتھ مساوات اور برابری کا سلوک کرو) حضرت نعمان بن بشیرؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کے اس فرمانے پر والد صاحب نے رجوع کر لیا اور ہبہ واپس لے لیا۔ اور ایک روایت میں ہے: حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ: میں بےانصافی کے معاملہ کا گواہ نہیں بن سکتا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے بارے میں یہ بھی ہدایت فرمائی ہے کہ داد و دہش میں سب کے ساتھ انصاف اور برابری کا برتاؤ کیا جائے یہ نہ ہو کہ کسی کو زیادہ نوازا جائے اور کسی کو محروم رکھا جائے یا کم دیا جائے۔ یہ چیز بذات خود بھی مطلوب ہے اور اس عدل و انصاف کا بھی تقاضا ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے۔ اس کے علاوہ اس میں یہ بھی حکمت و مصلحت ہے کہ اگر اولاد میں سے کسی کو زیادہ نوازا جائے اور کسی کو کم تو ان میں باہم بغض و حسد پیدا ہو گا جو دین اور تقوے کے لئے تباہ کن اور ہزار فتنوں کی جڑ ہے۔ نیز اولاد میں جس کے ساتھ ناانصافی ہو گی اس کے دل میں باپ کی طرف سے میل آئے گا اور شکایت کدورت پیدا ہو گی اور ظاہر ہے کہ اس کا انجام کتنا خراب ہو گا۔ ان سب وجوہ سے رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں سخت تاکیدیں فرمائی ہیں اور اس رویہ کو ایک طرح کا ظلم قرار دیا ہے۔ اس باب میں مندرجہ ذیل حدیثیں پڑھئے:
تشریح ..... جیسا کہ ظاہر ہے اس حدیث میں اس بات سے ممانعت فرمائی گئی ہے اور اس کو جور یعنی بےانصافی قرار دیا گیا ہے کہ اولاد میں سے کسی کے ساتھ داد و دہش میں ترجیحی سلوک کیا جائے۔ بعض فقہاء نے اس کو حرام تک کہا ہے لیکن اکثر فقہاء نے اور ائمہ اربعہ میں امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ نے (بعض دوسرے دلائل اور قرائن کی بناء) پر اس کو حرام تو نہیں، لیکن مکروہ اور سخت ناپسندیدہ قرار دیا ہے مگر واضح رہے کہ یہ حکم اسی صورت میں ہے جب کہ ترجیحی سلوک کسی ایسی وجہ کے جو شرعاً معتبر ہو، لیکن اگر کوئی ایسی وجہ موجود ہو تو پھر اس وجہ کے بقدر ترجیحی سلوک درست ہو گا۔ مثلاً اولاد میں سے کسی کی صحت مستقل طور پر خراب ہے اور دوسرے بھائیوں کی طرح معاشی جدوجہد نہیں کر سکتا تو اس کے ساتھ خصوصی سلوک عدل و انصاف کے خلاف نہ ہو گا بلکہ ایک درجہ میں ضروری اور باعث اجر ہو گا۔ اسی طرح اگر اولاد میں سے کسی نے اپنے کو دین و ملت کی خدمت میں اس طرح لگا دیا ہے کہ معاشی جدو جہد میں زیادہ حصہ نہیں لے سکتا تو اس کےساتھ بھی مناسب حد تک خصوصی سلوک جائز ہے بلکہ باعث اجر ہو گا۔ علیٰ ہذا اگر کسی ایک بھائی کے ساتھ خصوصی اور ترجیحی سلوک پر دوسرے بھائی رضامند ہوں تب بھی یہ جائز ہو گا۔
داد و دہش میں مساوات و برابری بھی اولاد کا حق ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَوُّوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ فِي الْعَطِيَّةِ فَلَوْ كُنْتُ مُفَضِّلًا أَحَدًا فَضَّلْتُ النِّسَاءَ» (رواه سعيد بن منصور فى سننه والطبرانى فى الكبير)
داد و دہش میں اپنی سب اولاد کے ساتھ مساوات اور برابری کا معاملہ کرو۔ اگر میں اس معاملہ میں کسی کو ترجیح دیتا تو عورتوں (یعنی لڑکیوں) کو ترجیح دیتا۔ (یعنی مساوات اور برابری ضروری نہ ہوتی تو میں حکم دیتا کہ لڑکیوں کو لڑکوں سے زیادہ دیا جائے)۔ (سنن سعید ابن منصور، معجم کبیر للطبرانی)
تشریح
اس حدیث سے فقہاء کی ایک جماعت نے یہ سمجھا ہے کہ ماں باپ کے انتقال کے بعد میراث میں اگرچہ لڑکیوں کا حصہ لڑکوں سے نصف ہے، لیکن زندگی میں ان کا حصہ بھائیوں کے برابر ہے، لہذا ماں باپ کی طرف سے جو کچھ اور جتنا کچھ لڑکوں کو دیا جائے وہی اور اتنا ہی لڑکیوں کو دیا جائے۔
نکاح اور شادی کی ذمہ داری
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَلْيُحْسِنِ اسْمَهُ وَأَدَبَهُ، فَإِذَا بَلَغَ فَلْيُزَوِّجْهُ فَإِنْ بَلَغَ وَلَمْ يُزَوِّجْهُ فَأَصَابَ إِثْمًا، فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى أَبِيهِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جس کو اللہ تعالیٰ اولاد دے تو چاہئے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو اچھی تربیت دے اور سلیقہ سکھائے، پھر جب وہ سن بلوغ کو پہنچے تو اس کے نکاح کا بندوبست کرے، اگر (اس نے اس میں کوتاہی کی اور) شادی کی عمر کو پہنچ جانے پر بھی (اپنی غفلت اور بےپروائی سے) اس کی شادی کا بندوبست نہیں کیا اور وہ اس کی وجہ سے حرام میں مبتلا ہو گیا تو اس کا باپ اس گناہ کا ذمہ دار ہو گا۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے باپ کی یہ بھی ذمہ داری بتلائی ہے کہ جب بچہ یا بچی نکاح کے قابل ہو جائے تو اس کے نکاح کا بندوبست کیا جائے اور تاکید فرمائی کہ اس میں غفلت نہ برتی جائے۔
تشریح ..... اس حدیث میں اولاد کے قابل شادیہ ہو جانے پر ان کے نکاح اور شادی کے بندوبست کو بھی باپ کا فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس بارے میں بڑی کوتاہی ہو رہی ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے دوسروں کی تقلید میں نکاح شادی کو بےحد بھاری اور بوجھل بنا لیا ہے اور ان کے رسم و رواج کی بیڑیاں اپنے پاؤں میں ڈال لی ہیں۔ اگر ہم اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کریں اور نکاح شادی اس طرح کرنے لگیں جس طرح رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے اور اپنی صاحبزادیوں کے نکاح کئے تھے تو یہ کام اتنا ہلکا پھلکا ہو جائے جتنا ایک مسلمان کےھ لئے جمعہ کی نماز ادا کرنا اور پھر اس نکاح اور شادی میں وہ برکتیں ہوں جن سے ہم بالکل محروم ہو گئے ہیں۔
ماں باپ کے حقوق اولاد پر: ماں باپ اولاد کی جنت اور دوزخ ہیں
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا حَقُّ الْوَالِدَيْنِ عَلَى وَلَدِهِمَا؟ قَالَ: «هُمَا جَنَّتُكَ وَنَارُكَ» (رواه ابن ماجه)
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: حضرت (ﷺ)! اولاد پر ماں باپ کا کتنا حق ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: وہ تمہاری جنت اور دوزخ ہیں۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے جس طرح ماں باپ پر اولاد کے حقوق اور اس سلسلہ کی ان کی ذمہ داریاں بیان فرمائیں اسی طرح اولاد پر ماں باپ کے حقوق اور اس سلسلہ کے ان کے فرائض بھی بتلائے، بلکہ اس کو آپ ﷺ نے اپنی تعلیم و ہدایت میں جزو ایمان کا درجہ دیا۔ قرآن مجید جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ پر نازل کیا ہوا صحیفہ ہدایت ہے، اس میں ماں باپ کی خدمت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم اللہ تعالیٰ کی توحید اور عبادت کے ساتھ ساتھ اس طرح دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے اعمال میں خدا کی عبادت کے بعد ماں باپ کی خدمت اور راحت رسانی کا درجہ ہے۔ سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا گیا ہے:
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (بنى اسرائيل 23:17)
اور تمہارے رب کا قطعی حکم ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور پرستش کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھے سے اچھا برتاؤ اور ان کی خدمت کرو۔
اور دوسری جگہ سورہ لقمان میں ماں باپ کا حق بیان کرتے ہوئے یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ اگر بالفرض کسی کے ماں باپ کافر و مشرک ہوں اور اولاد کو بھی کفر و شرک کے لئے مجبور کریں تو اولاد کو چاہئے کہ ان کے کہنے سے کفر و شرک تو نہ کرے لیکن دنیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک اور ان کی خدمت پھر بھی کرتی رہے۔
وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖوَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا (سوره لقمان 15:31)
آگے درج ہونے والی حدیثوں میں رسول اللہ ﷺ نے ماں باپ کے حقوق اور ان سے متعلق اولاد کے فرائض کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے وہ دراصل قرآن مجید کی ان آیات ہی کی تشریح تفسیر ہے۔
تشریح ..... مطلب یہ ہے کہ اگر تم ماں باپ کی فرمانبرداری و خدمت کرو گے اور ان کو راضی رکھو گے تو جنت پا لو گے اور اس کے برعکس اگر ان کی نافرمانی اور ایذاء رسانی کر کے انہیں ناراض کرو گے اور ان کا دل دکھاؤ گے تو پھر تمہارا ٹھکانہ دوزخ میں ہو گا۔
اللہ کی رضا والدین کی رضامندی سے وابستہ ہے
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ کی رضامندی والد کی رضامندی میں ہے اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
حدیث کا مطلب اور مدعا یہ ہے کہ جو اپنے مالک و مولا کو راضی رکھنا چاہے وہ اپنےوالد کو راضی اور خوش رکھے۔ اللہ کی رضا حاصل ہونے کے لئے والد کی رضا جوئی شرط ہے اور والد کی ناراضی کا لازمی نتیجہ اللہ کی ناراضی ہے، لہذا جو کوئی والد کو ناراض کرے گا وہ رضائے الہی کی دولت سے محروم ہو گا۔
اس حدیث میں والد کا لفظ آیا ہے جو عربی زبان میں باپ ہی کے لیے استعماقل ہوتا ہے۔ (ماں کے لئے والدہ کا لفظ بولا جاتا ہے) اس بناء پر اس حدیث میں ماں کا ذخر صراحۃً نہیں آیا ہے۔ لیکن چونکہ دوسری احادیث میں جو عنقریب درج ہوں گی اس بارے میں ماں کا درجہ باپ سے بھی بلند اور بالا تر بتایا گیا ہے، اس لئے ماں کی خوشی اور ناخوشی کی بھی وہی اہمیت ہو گی اور اس کا بھی وہی درجہ ہو گا جو اس حدیث میں باپ کی رضامندی اور ناراضی کا بتایا گیا ہے۔
ماں کا حق باپ سے بھی زیادہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: «أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ أَبُوكَ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ مجھ پر حسن و سلوک کا سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: تمہاری ماں، پھر میں کہتا ہوں تمہاری ماں، پھر میں کہتا ہوں تمہاری ماں، اس کے بعد تمہارے باپ کا حق ہے، اس کے بعد جو تمہارے قریبی رشتہ دار ہوں پھر جو ان کے بعد قریبی رشتہ دار ہوں۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت ابو ہریرہ ؓ کی اس روایت میں سوال کرنے والے صحابی کا نام مذکور نہیں ہے، لیکن جامع ترمذی اور سنن ابی داؤد میں بہز بن حکیم بن معاویہ قشیری سے روایت کیا ہے کہ میرے دادا معاویہ بن حیدہ قشیری نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا کہ “مَنْ أَبَرُّ” (مجھے کس کی خدمت اور کس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہئے؟) یعنی اس بارے میں سب سے زیادہ اور سب سے مقدم حق کس کا ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: “أُمَّكَ” (تمہاری ماں کا) انہوں نے پوچھا “ثُمَّ مَنْ” (پھر کس کا حق ہے۔) آپ ﷺ نے پھر فرمایا “أُمُّكَ” (تمہاری ماں کا) انہوں نے پھر پوچھا “ثُمَّ مَنْ” (اس کے بعد کس کا حق ہے) آپ ﷺ نے پھر فرمایا: “ أُمُّكَ” انہوں نے اس کے بعد پھر پوچھا “ثُمَّ مَنْ” (پھر ماں کے بعد کس کا حق ہے؟) تو چوتھی دفعہ میں آپ ﷺ نے فرمایا: “ أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ ” یعنی ماں کے بعد تمہارے باپ کا حق ہے، اس کے بعد درجہ بدرجہ اہل قرابت اور رشتہ داروں کا حق ہے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔
ان دونوں حدیثوں کا مضمون بلکہ سوال جواب کے الفاظ بھی قریب قریب یکساں ہیں اس لئے اس کا بہت امکان ہے کہ صحیحین کی حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت میں جس شخص کے سوال کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہی معاویہ بن حیدہ قشیری ہوں جن کی حدیث ان کے پوتے بہز بن حکیم نے امام ترمذی اور امام ابو داؤد نے روایت کی ہے۔
ان دونوں حدیثوں کا صریح مدعا یہ ہے کہ خدمت اور حسن سلوک کے بارے میں ماں کا حق باپ سے زیادہ اور مقدم ہے۔ قرآن مجید سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کیوں کہ کئی جگہ اس میں ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کے ساتھ خاص طور سے ماں کی ان تکلیفوں اور مصیبتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو حمل اور ولادت میں اور پھر دودھ پلانے اور پالنے میں خصوصیت کے ساتھ ماں کو اُٹھانی پڑتی ہیں۔
بوڑھے ماں باپ کی خدمت میں کوتاہی کرنے والے بدبخت اور محروم
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَغِمَ أَنْفُهُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ» قِيلَ: مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا، ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ» (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ آدمی ذلیل ہو وہ خوار ہو، وہ رسوا ہو۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ کون؟ (یعنی کس کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: وہ بدنصیب جو ماں باپ کو یا دونوں میں سے کسی ایک ہی کو بڑھاپے کی حالت میں پائے پھر (ان کی خدمت اور ان کا دل خوش کر کے) جنت حاصل نہ کر لے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حضرت ابو امامہ ؓ کی وہ حدیث اوپر درج ہو چکی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ماں باپ تمہاری جنت اور تمہاری دوزخ ہیں (یعنی ماں باپ کی خدمت اور راحت رسانی جنت حاصل کرنے کا خاص وسیلہ ہے اور اس کے برعکس ان کی نافرمانی اور ایذاء رسانی آدمی کو دوزخی بنا دیتی ہے) پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ جب ماں باپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کے اذکار رفتہ ہو جائین تو اس وقت وہ خدمت اور راحت رسانی کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں، اور اس حالت میں ان کی خدمت اللہ کے نزدیک نہایت محبوب اور مقبول عمل اور جنت تک پہنچنے کا سیدھا زینہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ جس بندے کو اس کا موقع میسر فرمائے اور وہ ماں باپ کا یا دونوں میں سے کسی ایک ہی کا بڑھاپا پائے اور پھر ان کی خدمت کر کے جنت تک نہ پہنچ سکے بلاشبہ وہ بڑا بدنصیب اور محروم ہے اور ایسوں کے حق میں رسول اللہ ﷺ کا فرمانا ہے کہ وہ نامراد ہوں، ذلیل و خوار ہوں، رسوا ہوں۔