عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا السَّلاَمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي؟ قَالَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ " (رواه البخارى)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ہم نے عرض کیا حضرت! آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہم کو معلوم ہو گیا (یعنی تشہد کے ضمن میں بتا دیا گیا “السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ” اب ہمیں یہ بھی بتا دیا جائے کہ ہم آپ پر “صلوٰۃ” کس طرح بھیجا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے یوں عرض کیا کرو:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ (رواه البخارى)
اے اللہ! اپنی خاص عنایت و نوازش اور محبت و رحمت فرما اپنے خاص بندے اور رسول (حضرت) محمد پر، جیسی تو نے نوازش و عنایت اور محبت و رحمت فرمائی (اپنے خلیل حضرت) ابراہیم پر، اور خاص برکتیں نازل فرما حضرت محمد و آلِ محمد پر، جس طرح تونے برکتیں نازل فرمائیں حضرت ابراہیم و آلِ ابراہیم پر۔ (صحیح بخاری)
عَنْ طَلْحَةَأَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ. (رواه النسائى)
حضرت طلحہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اے پیغمبرِ خدا ہم آپ ﷺ پر کس طرح صلوٰۃ بھیجا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یوں کہا کرو اے اللہ! نوازش و عنایت اورمحبت و رحمت فرما محمد ﷺ پر جیسی نوازش و عنایت اور محبت و رحمت فرمائی تو نے ابراہیمؑ پر، تو حمد و ستائش کا سزاوار ہے اور ہر طرح کی عظمت و بزرگی تیرے لئے ہے۔ (سنن نسائی)
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فَكَيْفَ نُصَلِّى عَلَيْكَ؟ قَالَ: قُولُوا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا جَعَلْتَهَا عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» (رواه احمد)
حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ہم لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت آپ(ﷺ) پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو چکا ہے۔ اب بتا دیجئے کہ آپ(ﷺ) پر صلوٰۃ کس طرح بھیجی جائے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، اللہ کے حضور میں یوں عرض کیا کرو:
«اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا جَعَلْتَهَا عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ»
اے اللہ! اپنی خاص نوازشیںو عنایتیںاوراپنی مخصوص رحمت نازل فرما حضرت محمد اور ان کے گھرانے والوں پر جیسے تو نے نازل فرمائیں حضرت ابراہیم پر، تو ہر حمد و ستائش کا سزاوار ہے اور تیرے عظمت و کبریائی تیری ذاتی صفت ہے۔ (مسند احمد)
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَقُولُوا اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " (رواه احمد وابن حبان والدار قطنى والبيهقى فى السنن)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جب تم مجھ پر صلوٰۃ بھیجو تو اس طرح کہا کرو “اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ” (مسند احمد، صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی، سنن بیہقی)
(چونکہ دُرود پاک کے ان کلمات کا ترجمہ بار بار کیا جا چکا ہے اس لئے اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں سمجھی گئی)۔
تشریح
حضرت ابن مسعود ؓ کے روایت کردہ اس دُرود میں رسول اللہ ﷺ کا نام پاک آپ کی امتیازی صفت اور خاص لقب “النبی الامی” کے اضافہ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، قرآن مجید میں آپ ﷺ کی یہ صفت ایک خاص نشانی اور پہچان کے طور پر ذکر کی گئی ہے (الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ ..... الاعراف) اس آیت میں اشارہ ہے کہ تورات و انجیل میں آپ ﷺ کا ذکر اس صفت کے ساتھ کیا گیا تھا “امی” کے معنی ہیں “بے لکھے پڑھے” مطلب یہ ہے کہ جو علم و ہدایت آپ ﷺ لے کر آئے وہ آپ ﷺ نے کسی استاد یا کتاب سے حاصل نہیں کیا ہے، بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی تعلیم سے حاصل ہوا ہے۔ لکھنے پڑھنے کے لحاظ سے آپ ﷺ بالکل ویسے ہی ہیں جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے۔ ظاہر ہے آپ ﷺ کی اس صفت اور اس لقب میں ایک خاص محبوبیت ہے اور اس چھوٹے سے لفظ میں آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی ایک بڑی روشن دلیل پیش کر دی گئی ہے ؎
نگارِ من کہ بمکتب نہ رفت و خط نہ نوشت
بغمزہ مسئلہ آموز صد مدرس شُد
عَنْ زَيْدَ بْنَ خَارِجَةَ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ فَقَالَ: " صَلُّوا عَلَيَّ وَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، وَقُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " (رواه احمد والنسائى)
حضرت زید بن خارجہ انصاری ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ﷺ پر دُرود کس طرح بھیجی جائے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھ پر درود بھیجا کرو اور خوب اہتمام اور دِل لگا کے دعا کیا کرو اور یوں عرض کیا کرو: “اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ” (اے اللہ! حضرت محمد آلِ محمد پر اپنی خاص عنایت و رحمت اور برکت نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائیں، تو ہر حمد و ستائش کا سزاوار ہے اور عظمت و کبریائی تیری ذاتی صفت ہے)۔ (مسند احمد، سنن نسائی)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن خارجہ کے اس سوال کے جواب میں کہ آپ ﷺ پر دُرود کس طرح بھیجی جائے؟ دُرود کے کلمات بھی تلقین فرمائے اور اس سے پہلے ارشاد فرمایا “صَلُّوا عَلَيَّ وَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ” اس عاجز نے “وَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ” کا مطلب یہی سمجھا ہے کہ دُرود شریف جو دراصل اللہ تعالیٰ کے حضور میں رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک دعا ہے، صرف زبان سے سرسری طور پر نہیں، بلکہ اہتمام اور دل کی پوری توجہ سے مانگی جائے۔ واللہ اعلم۔
عَن أبي هُرَيْرَة، رَفَعَهُ " من قَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ على مُحَمَّد وعَلى آل مُحَمَّد، كَمَا صليت على إِبْرَاهِيم وعَلى آل إِبْرَاهِيم، وَبَارك على مُحَمَّد وعَلى آل مُحَمَّد، كَمَا باركت على إِبْرَاهِيم وعَلى آل إِبْرَاهِيم، وترحم على مُحَمَّد وعَلى آل مُحَمَّد، كَمَا ترحمت على إِبْرَاهِيم وعَلى آل إِبْرَاهِيم، شهِدت لَهُ يَوْم الْقِيَامَة بِشَهَادَة، وشفعت لَهُ بشفاعة ". (رواه الطبرى فى تهذيب الآثار فتح البارى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جس نے مجھ پر اس طرح دُرود بھیجا “من قَالَ: اللَّهُمَّ {صل على مُحَمَّد وعَلى آل مُحَمَّد، كَمَا صليت على إِبْرَاهِيم وعَلى آل إِبْرَاهِيم، وَبَارك على مُحَمَّد وعَلى آل مُحَمَّد، كَمَا باركت على إِبْرَاهِيم وعَلى آل إِبْرَاهِيم، وترحم على مُحَمَّد وعَلى آل مُحَمَّد، كَمَا ترحمت على إِبْرَاهِيم وعَلى آل إِبْرَاهِيم” تو میں قیامت کے دن اس کے لئے شہادت دوں گا اور اس کی شفاعت کروں گا۔ (تہذیب الآثار للطبرانی)
تشریح
حضرت ابو ہریرہؓ کی رایت کی ہوئی اور اس درود میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی آل کے لئے صلوٰۃ اور برکت کے علاوہ ترحم کی بھی دعا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بہت سے علماء اور فقہاء نے رسول اللہ ﷺ کے لئے رحمت کی دعا سے منع فرمایاکیوں کہ یہ دعا تو عام مومنین کے لئے بھی کی جاتی ہے لیکن اگر صلوٰۃ و سلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے رحمت و ترحم کی استدعا آپ ﷺ کے لئے کی جائے تو مضائقہ نہیں ہے۔ تشہد میں “السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ” ہر نما زمیں پڑھا جاتا ہے ار اس میں آپ ﷺ کے لئے سلام کے ساتھ رحمت کی دعا بھی ہے، اسی طرح حضرت ابو ہریرہ کے روایت کئے ہوئے اس دُرود میں صلوٰۃ اور برکت کی استدعا کے بعد ترحم کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ اس طرح ترحم کی استدعا صلوٰۃ و سلام کا تکملہ بن جاتی ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكْتَالَ بِالْمِكْيَالِ الْأَوْفَى، إِذَا صَلَّى عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " (رواه ابوداؤد)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جس کو اس سے خوشی ہو اور وہ چاہے کہ مجھ پر اور میرے گھر والوں پر درود بھیج کر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں زیادہ سے زیادہ ار بھرپور حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں یوں عرض کرے۔
“اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ” اے اللہ! اپنی خاص نوازش اور عنایت و رحمت فرما اُمی حضرت محمد ﷺ پر اور ان کی ازواجِ مطہرات امہات المومنین اور اُن کی نسل پر اور اُن کے سب گھر والوں پر، تو ہر حمد و ستائش کا مستحق و سزاوار ہے اور عظمت و کبریائی تیری ہی صفت ہے۔
تشریح
اس حدیث کی بنا پر بعض حضرات کا خیال ہے کہ درودوں میں یہ درودسب سے افضل ہے کیوں کہ فرمایا گیا ہے کہ جو زیادہ سے زیادہ اور بھرپور رحمت و برکت اور اجر و ثواب حاصل کرنا چاہے وہ یہ درود پڑھے اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ نماز میں تو وہ درود پڑھنا افضل ہے جو ابتدائی حدیثوں میں گزر چکا، اور نماز سے باہر یہ درود افضل ہے جس کو حضرت ابو ہریرہ ؓ نے اس حدیث میں روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
عَنْ عُمَرَ رَضِي الله عَنهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَدَّهُنَّ فِي يَدَيَّ جِبْرِيلُ وَقَالَ جِبْرِيلُ هَكَذَا أُنْزِلَتْ مِنْ عِنْدِ رَبِّ الْعِزَّةِ:
اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللهُمَّ وَتَرَحَّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا تَرَحَّمْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللهُمَّ وَتَحَنَّنْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا تَحَنَّنْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللهُمَّ وَسَلِّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا سَلَّمْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ (رواه البيهقى فى شعب الايمان والديلمى)
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جبرئیل امین نے میرے ہاتھ کی انگلیوں پر گن کر دُرود شریف کے یہ کلمات تعلیم فرمائے اور بتایا کہ رب العزت جل جلالہ کی طرف سے یہ اسی طرح اُترے ہیں وہ کلمات یہ ہیں۔
اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ..... الخ (مسند فردوس دیلمی، شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
اس دُرود میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے گھر والوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے صلوٰۃ اور برکت اور ترحم کی استدعا کے علاوہ سلام اور تحسنن کی استدعا کی گئی ہے۔ تحسنن کے مفہوم کو اردو زبان میں شفقت اور پیار دُلار سے ادا کیا جا سکتا ہے اور سلام کے معنی ہیں ہر برائی اور ناپسندیدہ چیز سے سلامتی ار حفاظت۔
اس حدیث کے بارے میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کنز العمال جلد اول میں جہاں یہ حدیث ذکر کی گئی ہے وہیں سند کے لحاظ سے اس کے ضعیف ہونے کی تصریح بھی کر دی گئی ے۔ پھر اسی کی دوسری جلد میں اسی مضمون کی ایک اور حدیث اور دُرود شریف کے یہی کلمات حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے بھی صاحب مستدرک ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری کی “معرفۃ علم الحدیث” کے حوالے سے ان کی مسلسل سند کے ساتھ نقل کئے گئے ہیں اور اس سند کے بھی بعض راویوں پر سخت جرح کی گئی ہے، ساتھ ہی سیوطی سے نقل کیا گیا ہے کہ انہیں اس حدیث کے بعض اور “طریقے” بھی ملے، نیز حضرت انس سے بھی قریبا اسی مضمون کی ایک حدیث روایت کی گئی ہے جو ابن عساکر کے حوالے سے کنز العمال میں بھی درج ہے اور اصحاب فن کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ ضعیف حدیث تعدد طرق کی وجہ سے قابلِ قبول ہو جاتی ہے۔ خاص کر فضائلِ اعمال میں ایسی حدیث سب کے نزدیک قابلِ عمل ہے۔ ملا علی قاریؒ نے شرح شفاء میں ھاکم کی روایت کردہ حضرت علی والی حدیث کے راویوں پر سخت جرح کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ “غایۃ الامر یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث کو بھی قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔ ” (شرح شفاء ص: ۴۷۳، ج:۳) انہی سب باتوں پر نظر رکھتے ہوئے یہ حدیث ضعیف ہونے کے باوجود یہاں درج کر دی گئی ہے۔
یہاں تک جو احادیث درج ہوئیں جن میں دُرود و سلام کے کلمات تلقین فرمائے گئے ہین، یہ سب مرفوع حدیثیں تھیں، یعنی رسول اللہ ﷺ کے ارشادات تھے۔ اور ان میں دُرود و سلام کے جو کلمات تعلیم فرمائے گئے ہیں۔ ان سب کی بنیاد وحی ربانی پر ہے۔ حضرت ابو مسعود انصاری ؓ کی حدیث کے ذیل میں اوپر گزر چکا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سے بشیر بن سعد نے دریافت کیا کہ ہم آپ پر درود کس طرح بھیجا کریں؟ تو آپ ﷺ کچھ دیر خاموش رہے، یہاں تک کہ وحی آئی اس کے بعد آپ ﷺ نے درودِ ابراہیمی تلقین فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دُرود شریف کے بارے میں آپ ﷺ کو بنیادی رہنمائی وحی سے ملی تھی، اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ دُرود و سلام کے جو کلمات بھی کسی وقت آپ ﷺ نے تلقین فرمائے ان کی بنیاد وحی پر ہے اور یہ فضیلت دُرود و سلام کے انہیں کلمات کو حاصل ہے جو کسی وقت آپ ﷺ نے تعلیم فرمائے۔ ان کے علاوہ بعض صحابہ کرام اور دوسرے سلف صالحین سے دُرود و سلام کے جو کلمات منقول ہیں ان کو یہ خصوصیت اور فضیلت ھاصل نہیں ہے، اگرچہ ان میں سے بعض لفظی اور معنوی لحاظ سے بہت ہی بلند ہیں اور ان کی مقبولیت میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ ان میں سے ایک جو کتبِ حدیث میں فقیہ الامۃ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کیاگیاہے، اور دوسرا جو حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے مروی ہے یہاں درج کئے جا رہے ہیں اور انہی پر روایات کا یہ سلسلہ ختم کیا جا رہا ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْسِنُوا الصَّلَاةَ عَلَيْهِ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ، لَعَلَّ ذَلِكَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالُوا لَهُ: فَعَلِّمْنَا، قَالَ، قُولُوا
«اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَاتَكَ، وَرَحْمَتَكَ، وَبَرَكَاتِكَ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ، وَإِمَامِ الْمُتَّقِينَ، وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ، مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، إِمَامِ الْخَيْرِ، وَقَائِدِ الْخَيْرِ، وَرَسُولِ الرَّحْمَةِ، اللَّهُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا، يَغْبِطَ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ.
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ. (رواه ابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: جب تم رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجو تو بہتر سے بہتر طریقہ پر درود بھیجنے کی کوشش کرو، تم جانتے نہیں ہو ان شاء اللہ تمہارا وہ درود آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔ لوگوں نے عرض کیا تو آپ ﷺ ہمیں بتا دیجئے اور سکھا دیجئے کہ ہم کس طرح درود بھیجا کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یوں عرض کیا کرو:
اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَاتَكَ، وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ ...... الى قوله .... إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ»
(اے اللہ! اپنی خاص عنایات اور رحمتیںاور برکتیں نازل فرما سید المرسلین، امام المتقین، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ پر جو تیرے خاص بندے اور رسول ہیں، نیکی اور بھلائی کے راستہ کے امام اور راہنما ہیں، رحمت والے پیغمبر ہیں (یعنی جن کا وجود ساری دنیا کے لئے باعث رحمت ہے) اے اللہ! ان کو اس “مقام محمود” پر فائز فرما جو اولین و آخرین کے لئے قابلِ رشک ہو۔ اے اللہ! حضرت محمد اور آلِ محمد پر اپنی خاص نوازشیں اور عنایتیں فرما جس طرح کہ تو نے حضرت ابراہیم و آلِ ابراہیمؑ پر نوازشیں اور عنایتیں فرمائیں اور حضرت محمد پر و آلِ محمد پر اپنی خاص برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیمؑو آلِ ابراہیمؑ پر برکتیں نازل فرمائیں، تیری ذات ہر حمد و ستائش کی سزاوار ہے اور عظمت و کبریائی تیری ذاتی صفت ہے۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
دُرود شریف کے یہ کلمات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اپنے لوگوں کو تعلیم فرمائے تھے۔ بلاشبہ بڑے مبارک اور مقبول کلمات ہیں اور اس میں وہ درود ابراہیمی بھی لفظ بہ لفظ شامل ہے جو کعب بن عجرہ کی اس روایت میں گزر چکا ہے جو صحیحین کے حوالہ سے سب سے پہلے درج کی جا چکی ہے۔
عَنْ عَلِيٍّ كَرَّمُ اللهُ وَجْهَهُ فِى الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ...... إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ.. صَلَوَاتُ اللَّهِ الْبَرِّ الرَّحِيمِ، وَالْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ، وَالنَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ، وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ، وَمَا سَبَّحَ لَكَ مِنْ شَيْءٍ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، وَسَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ، وَإِمَامِ الْمُتَّقِينَ، وَرَسُولِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الشَّاهِدِ الْبَشِيرِ، الدَّاعِي إِلَيْكَ بِإِذْنِكَ، السِّرَاجِ الْمُنِيرِ، وَعَلَيْهِ السَّلَامُ . (اورده القاضى عياض فى كتاب الشفا)
حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ پر اس طرح درود بھیجتے تھے۔ (پہلے سورہ احزاب کی یہ آیت تلاوت فرماتے جس میں رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے) إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا اس کے بعد کہتے لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ رَبِّي وَسَعْدَيْك اے میرے اللہ میں تیرے اس فرمان کی بسر و چشم تعمیل کرتاہوں اور عرض کرتا ہوں۔
صَلَوَاتُ اللَّهِ الْبَرِّ الرَّحِيمِ، وَالْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ، وَالنَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ، وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ..... الخ
اس خداوند تعالیٰ کی طرف سے جو بڑا احسان فرمانے والا اور نہایت مہربان ہے۔ خاص نوازشیں اور عنایتیں ہو ں، اور اس کے ملائکہ مقربین اور انبیاء و صدیقین اور شہداء و صالحین کی اور اس ساری مخلوقات کی جو اللہ کی تسبیح و حمد کرتی ہے۔ بہترین دعائیں اور نیک تمنائیں ہوں۔ حضرت محمد بن عبداللہ کے لئے جو خاتم النبیین، سید المرسلین اور رسول رب العالمین ہیں، جو اللہ کی طرف سے شہادت ادا کرنے والے ہیں، اللہ کے فرمانبردار بندوں کو رحمت و جنت کی بشارت سنانے والے اور مجرموں، نافرمانوں کو برے انجام سے اور اللہ کے عذاب سے آگاہی دینے والے ہیں، جو تیرے بندوں کو تیرے حکم سے تیری طرف دعوت دیتے ہیں اور تیرے ہی روشن کئے ہوئے چراغ ہیں، اور ان پر سلام ہو۔ (شفاء قاضی عیاض)
تشریح
یہ درود پاک جیسا کہ ظاہر ہے الفاظ و مطالب کے لحاظ سے نہایت بلند اور ایمان افروز ہے لیکن حدیث کی کسی کتاب میں اس کی روایت نظر سے نہیں گزری، البتہ پانچویں اور چھٹی صدی کے عالم اور محدث قاضی عیاضؒ نے اپنی کتاب “الشفاء بحقوق المصطفیٰ” میں اس کو حضرت علی مرتضی سے نقل کیا ہے (1) اور علامہ قسطلانی نے “مواھب لدنیہ” میں شیخ زین الدین بن الحسین مراغی کی کتاب “تحقیق النصرۃ فی دار الھجرۃ” کے حوالہ سے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز جنازہ میں حضرت علی مرتضی نے آپ ﷺ پر یہی درود پاک پڑھا تھا اور لوگوں کے دریافت کرنے پر ان کو بھی تعلیم فرمایا تھا (2) ..... بہرحال الفاظ و مطالب کے لحاظ سے بڑا پیا ر اور روح پروریہ درود ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی مرتضی ؓ سے دُرود و سلام کے جو کلمات یہاں نقل کئے گئے ان سے معلوم ہو گیا کہ امت کے لئے یہ پابندی نہیں ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ پر صرف آپ ﷺ کے تلقین فرمائے کلمات ہی کے ذریعہ دُرود و سلام بھیجے، بلکہ ارباب ذوق و محبت کے لئے دروازہ کھلا ہوا ہے۔ وہ حدود شریعت کے پابند رہتے ہوئے اپنے ذوق و شوق کے تقاضے کے مطابق دوسرے کلمات کے ذریعہ بھی آپ ﷺ پر صلوٰۃ و سلام بھیج سکتے ہیں۔ چنانچہ بہت سے اکابر امت، تابعین اور بعد کے علماء عارفین سے اور بھی کلمات منقول ہیں لیکن وہ سلسلہ معارف الحدیث کے دارئرہ سے باہر ہیں اس لئے ان کو یہاں درج کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا، اگر اللہ نے توفیق دی تو ان میں سے بھی چند منتخب کلمات کو ایک مستقل مضمون میں جمع کرنے اور ان پر کچھ لکھنے کا ارادہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے معارف الحدیث کی پانچویں جلد یہاں ختم ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے اور اس کے مولف اور ناظرین کے لئے وسیلہ رحمت و مغفرت بنائے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ العَلِيمُ
ماں باپ کی ابتدائی ذمہ داریاں: نو مولود بچہ کے کان میں اذان
عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلاَةِ. (رواه الترمذى وابوداؤد)
رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (اپنے نواسے حسن بن علی کے کان میں نماز والی اذان پڑھتے ہوئے دیکھا(جب آپ ﷺ کی صاحبزادی) فاطمہؓ کے ہاں ان کی ولادت ہوئی۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خاتم النبیین سیدنا حضرت محمد ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا یہ امتیاز ہے کہ اس میں انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ اس سلسلہ معارف الحدیث کی اس سے پہلی پانچ جلدوں میں رسول اللہ ﷺ کی جو احادیث اور آپ ﷺ کے جو ارشادات مرتب کر کے پیش کئے جا چکے ہیں ان کا تعلق یا عقائد و ایمانیات سے تھا یا اخلاق و جذبات اور قلب و روح کی کیفیات سے یا طہارت اور نماز، روزہ، حج و زکوٰۃ و عبادات اور اذکار و دعوات سے۔ اب ان احادیث کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے جن کا تعلق معاشرتی حقوق اور آداب اور معاشی معاملات سے ہے اور جن سے معلوم ہو گا کہ ہم اپنے ابناء جنس اور عزیزوں، قریبوں چھوٹوں اور بڑوں، اپنوں اور پرایوں کے ساتھ، جن سے زندگی میں ہمارا واسطہ پڑتا ہے کس طرح پیش آئیں، کیسا برتاؤ کریں اور کس کے کس پر کیا حقوق ہیں اور لین دین، خرید و فروخت، قرض و امانت، تجارت و زراعت، مزدوری و دستکاری، کارخانہ داری و کرایہ داری اور اسی طرح دوسرے معاشی مشغلوں کے بارے میں اللہ و رسول کے کیا احکام ہیں اور ان کی کون سی شکلیں جائز اور کون سی ناجائز ہیں۔
معاشرت و معاملات کی خصوصی اہمیت
یہ دونوں باب (معاشرت و معاملات) اس لحاظ سے شریعت کے نہایت اہم ابواب ہیں کہ ان میں ہدایتِ ربانی اور خواہشاتِ نفسانی اور احکام شریعت اور دنیوی مصلحت و منفعت کی کشمکش، عبادات وغیرہ دوسرے تمام ابواب سے زیادہ ہوتی ہے اس لئے اللہ کی بندگی و فرمانبرداری اور اس کے رسول ﷺ اور اس کی شریعت کی تابعداری کا جیسا امتحان ان میدانوں میں ہوتا ہے دوسرے کسی میدان میں نہیں ہوتا۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے بنی آدم کو فرشتوں پر نوعی فضیلت حاصل ہوئی، ورنہ ظاہر ہے کہ ایمان و یقین اور ہمہ وقتی ذکر و عبادت اور روح کی لطافت و طہارت میں انسان فرشتوں کی برابری بھی نہیں کر سکتا۔
معاشرت سے متعلق احکام و ہدایات
اس تمہید کے بعد ہم پہلے معاشرت کے سلسلہ کی حدیثیں پیش کرتے ہیں۔
نکاح و طلاق اور عدت و نفقہ وغیرہ سے متعلق اھادیث بھی اس ضمن میں درج ہوں گی۔
معاشرتی احکام و ہدایات کا سلسلہ بچے کی پیدائش ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔ اس لئے ہم انہی حدیثوں سے اس سلسلہ کا آغاز کر رہے ہیں جن میں پیدائشی ہی کے سلسلہ میں ہدایات دی گئی ہیں اور بتلایا گیا ہے کہ پیدا ہونے ولاے بچے کے بارے میں ماں باپ کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔
تشریح ..... حضرت ابو رافعؓ کی اس حدیث میں حضرت حسنؓ کے کان میں صرف اذان پڑھنے کا ذکر ہے لیکن ایک دوسری حدیث سے جو “کنز العمال” میں مسند ابو یعلی موصلی کی تخریج سے حضرت حسین بن علی ؓ سے روایت کی گئی ہے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے نومولود بچہ کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت پڑھنے کی تعلیم و ترغیب دی، اور اس برکت اور تاثیر کا بھی ذکر فرمایا کہ اس کی وجہ سے بچہ ام الصبیان کے ضرر سے محفوظ رہے گا (جو شیطانی اثرات سے بھی ہوتا ہے)۔
ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ نومولود بچہ کا پہلا حق گھر والوں پر یہ ہے کہ سب سے پہلے اس کے کانوں کو اور کانوں کے ذریعہ اس کے دل و دماغ کو اللہ کے نام اور اس کی توحید اور ایمان و نماز کی دعوت و پکار سے آشنا کریں۔ اس کا بہتر سے بہتر طریقہ یہی ہو سکتا ہے کہ اس کے کانوں میں اذان و اقامت پڑھی جائے۔ اذان و اقامت میں دین حق کی بنیادی تعلیم اور دعوت نہایت مؤثر طریقے سے دی گئی ہے نیز ان دونوں کی یہ تاثیر اور خاصیت بہت سی احادیث میں بیان کی گئی ہے کہ اس سے شیطان بھاگتا ہے اس لئے بچہ کی حفاظت کی بھی یہ ایک تدبیر ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے پیدائش کے وقت نومولود مسلمان بچے کے کان میں اذان و اقامت پڑھنے کی تعلیم دی، اور جب عمر پوری کرنے کے بعد اس کو موت آ جائے تو غسل دے کر اور کفنا کر اس پر نماز جنازہ پڑھنے کی ہدایت فرمائی۔ اس طرح یہ بتلا دیا اور جتلا دیا کہ مؤمن کی زندگی اذان اور نماز کے درمیان کی زندگی ہے اور بس اس طرح گزرنی چاہئے جس طرح اذان کے بعد نماز کے انتظار اور اس کی تیاری میں گزرتی ہے۔ نیز یہ کہ مسلمان بچے کا پہلا حق یہ ہے کہ پیدائش کے ساتھ ہی اس کے کان میں اذان دی جائے اور آخری حق یہ ہے کہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے۔
عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّكُهُمْ» (رواه مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا کرتے تھے آپ ﷺ ان کے لئے خیر و برکت کی دعا فرماتے تھے اور تحنیک فرماتے تھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کی معرفت اور صحبت کے نتیجہ میں صحابہ کرامؓ کو آپ ﷺ کے ساتھ عقیدت کا جو تعلق تھا اس کا ایک ظہور یہ بھی تھا کہ نومولود بچے آپ ﷺ کی خدمت میں لائے جاتے تھے تا کہ آپ ﷺ ان کے لئے خیر و برکت کی دعا فرمائیں اور کھجور یا ایسی ہی کوئی چیز چبا کر بچے کے تالو پر مل دیں اور اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈال دیں جو خیر و برکت کا باعث ہو۔ اس عمل کو تحنیک کہتے ہیں۔
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، قَالَتْ: فَوَلَدْتُ بِقُبَاءٍ، ثُمَّ «أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ، ثُمَّ حَنَّكَهُ بِالتَّمْرَةِ، ثُمَّ دَعَا لَهُ فَبَرَّكَ عَلَيْهِ» وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الإِسْلاَمِ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ وہ ہجرت سے پہلے مکہ میں حمل سے تھیں جب ہجرت کر کے مدینہ آئیں تو قباء میں ان کی ولادت ہوئی اور عبداللہ بن زبیر پیدا ہوئے کہتی ہیں کہ میں بچے کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے اس کو آپ ﷺ کی گود میں رکھ دیا۔ آپ ﷺ نے چھوہارا منگوایا اور اس کو چبایا پھر اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں دالا اور پھر اس کے تالو پر ملا، پھر اس کے لئے دعا کی اور برکت سے نوازا، اور یہ اسلام میں پہلا بچہ تھا (جو ہجرت کے بعد ایک مہاجر کے گھر پیدا ہوا)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
صحیح بخاری کی اس حدیث کی ایک روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے پیدا ہونے سے مسلمانوں کو خاص کر اس لئے بہت زیادہ خوشی ہوئی تھی کہ یہ بات مشہور ہو گئی تھی کہ یہودیوں نے مسلمانوں پر ایسا جادو کر دیا ہے کہ ان کے بچے پیدا ہی نہ ہوں گے۔ عبداللہ بن زبیرؓ کی پیدائش نے اس کو غلط ثابت کر دیا اور مسلمانوں کے جو دشمن یہ جادو والی بات مشہور کر رہے تھے وہ ذلیل ہوئے۔
کتب حدیث میں “تحنیک” کے بہت سے واقعات مروی ہیں۔ ان سے معلوم ہوا کہ جب کسی گھرانے میں بچہ پیدا ہو تو چاہئے کہ اللہ کے کسی مقبول اور صالح بندے کے پاس اس کو لے جائیں، اس کے لئے خیر و برکت کی دعائیں بھی کرائیں اور “تحنیک” بھی کرائیں۔ یہ ان سنتوں میں سے ہے جن کا رواج بہت ہی کم رہ گیا ہے۔
عَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ قَالَ: كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا وُلِدَ لِأَحَدِنَا غُلَامٌ ذَبَحَ شَاةً وَلَطَخَ رَأْسَهُ بِدَمِهَا، فَلَمَّا جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ كُنَّا «نَذْبَحُ شَاةً، وَنَحْلِقُ رَأْسَهُ وَنُلَطِّخُهُ بِزَعْفَرَانٍ» (رواه ابوداؤد)
حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ہم لوگوں کا یہ دستور تھا کہ جب کسی کے لڑکا پیدا ہوتا و وہ بکری یا بکرا ذبح کرتا اور اس کے خون سے بچے کے سر کو رنگ دیتا، پھر جب اسلام آیا تو (رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و ہدایت کے مطابق) ہمارا طریقہ یہ ہو گیا کہ ہم ساتویں دن عقیقہ کی بکری یا بکرے کی قربانی کرتے اور بچے کا سر صاف کرا کے اس کے سر پر زعفران لگا دیتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد)
اور اسی حدیث کی رزین کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ساتویں دن عقیقہ کے ساتھ ہم بچے کا نام بھی رکھتے ہیں۔
تشریح
دنیا کی قریب قریب سب ہی قوموں اور ملتوں میں یہ بات مشترکہ ہے بچہ پیدا ہونے کو ایک نعمت اور خوشی کی بات سمجھا جاتا ہے اور کسی تقریب کے ذریعہ اس خوشی کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔ یہ انسانی فطرت کا تقاضا بھی ہے اور اس میں ایک بڑی مصلحت یہ ہے کہ اس سے نہایت لطیف اور خوبصورت طریقے پر یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ باپ اس بچے کو اپنا ہی بچہ سمجھتا ہے، اور اس بارے میں اس کو اپنی بیوی پر کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس سے بہت سے فتنوں کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ عربوں میں اس کے لئے جاہلیت میں بھی عقیقہ کارواج تھا۔ دستور یہ تھا کہ پیدائش کے چند روز بعد نومولود بچے کے سر کے وہ بال جو وہ ماں کے پیٹ سے لے کے پیدا ہوا ہے صاف کرا دئیے جاتے اور اس دن خوشی میں کسی جانور کی قربانی کی جاتی (جو ملتِ ابراہیمیؑ کی نشانیوں میں سے ہے) رسول اللہ ﷺ نے اصولی طور پر اس کو باقی رکھتے ہوئے بلکہ اس کی ترغیب دیتے ہوئے اس کے بارے میں مناسب ہدایات دیں اور خود عقیقے کر کے عملی نمونہ بھی پیش فرمایا۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا عَقُّوا عَنِ الصَّبِيِّ خَضَبُوا قُطْنَةً بِدَمِ العقيقة, فإذا حلقوا رأس الصي, وَضَعُوهَا عَلَى رَأْسَهُ, فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اجعلوا مكان الدم خلوقا" (رواه ابن حبان فى صحيحه)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا یہ دستور تھا کہ جب وہ بچے کا عقیقہ کرتے تو روئی کے ایک پھوئے میں عقیقہ کے جانور کا خون بھر لیتے، پھر جب بچے کا سر منڈوا دیتے تو وہ خون بھرا پھویا اس کے سر پر رکھ دیتے (اور اس کے سر کو عقیقہ کے خون سے رنگین کر دیتے، یہ ایک جاہلانہ رسم تھی) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:“بچے کے سر پر خون نہیں بلکہ اس کی جگہ خلوق لگایا کرو”۔ (صحیح حبان)
تشریح
خلوق ایک مرکب خوشبو کا نام ہے جو زعفران وغیرہ سے تیار کی جاتی ہے۔ حضرت بریدہ اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ عقیقہ کا رواج عربوں میں زمانہ جاہلیت میں بھی تھا چونکہ اس میں بہت سی مصلحتیں تھیں جن کی طرف اوپر اشارہ کیا جا چکا ہے، اور یہ بنیادی طور پر شریعت اسلامی کے مزاج کے مطابق تھا، اور غالباً مناسکِ حج کی طرح ملتِ ابراہیمی کے بقایا میں سے تھا اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اس کی اصل کو باقی رکھا اور جاہلانہ رسوم کی اصلاح فرمائی۔
اسی طرح بیہقی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عقیقہ کا رواج یہود میں بھی تھا لیکن وہ صرف لڑکوں کی طرف سے عقیقہ کی قربانی کرتے تھے لڑکیوں کی طرف سے نہیں کرتے تھے جس کی وجہ سے غالباً لڑکیوں کی ناقدری تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی بھی اصلاح فرمائی اور حکم دیا کہ لڑکوں کی طرح لڑکیوں کی طرف سے بھی عقیقہ کیا جائے۔ (1) البتہ دونوں صنفوں میں قدرتی اور فطری فرق ہے (جس کا لحاظ میراث اور قانونِ شہادت وغیرہ میں بھی کیا گیا ہے) اس کی بناء پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ لڑکی کے عقیقہ میں ایک بکری اور لڑکے کے عقیقہ میں (اگر استطاعت اور وسعت ہو) تو دو بکریوں کی قربانی کی جائے۔
عَنْ أُمَّ كُرْزٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: عَنِ الغُلاَمِ شَاتَانِ، وَعَنِ الجَارِيَةِ شَاةٌ، وَلاَ يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا. (رواه الترمذى والنسائى)
ام کرز ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ (عقیقہ کے بارے میں) فرما رہے تھے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی طرف سے ایک بکری اور اس میں کوئی حرج نہیں کہ عقیقہ کے جانور نر ہوں یا مادہ۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی)
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: «مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ، فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ، عَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ ، فَلْيَنْسُكْ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ» (رواه ابوداؤد والنسائى)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے بچہ پیدا ہوا اور وہ اس کی طرف سے عقیقہ کی قربانی کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرے۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عقیقہ فرائض و واجبات کی طرح کوئی لازمی چیز نہیں ہے، بلکہ اس کا درجہ استحباب کا ہے جیسا کہ حدیث کے خط کشیدہ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ اسی طرح لڑکے کے عقیقہ میں دو بکریاں کرنا بھی کچھ ضروری نہیں ہے، ہاں اگر وسعت ہو تو دو کی قربانی بہتر ہے ورنہ ایک بھی کافی ہے۔
آگے درج ہونے والی ایک حدیث سے معلوم ہو گا کہ خود رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کے عقیقہ میں ایک ایک ہی بکری کی قربانی کی تھی۔
عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ وَيُسَمَّى» (رواه ابوداؤد والترمذى والنسائى)
حضرت حسن بصری نے حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ اپنے عقیقہ کے جانور کے عوض رہن ہوتا ہے جو ساتویں دن اس کی طرف سے قربانی کیا جائے اور اس کا سر منڈوا دیا جائے اور نام رکھا جائے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی)
تشریح
عقیقہ کے جانور کے عوض بچے کے رہن ہونے کے شارحین نے کئی مطلب بیان کئے ہیں۔ اس عاجز کے نزدیک دل کو زیادہ لگنے والی بات یہ ہے کہ بچہ اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے اور صاحب استطاعت کے لئے عقیقہ کی قربانی اس کا شکرانہ اور گویا اس کا فدیہ ہے۔ جب تک یہ شکریہ پیش پیش نہ کیا جائے اور فدیہ ادا نہ کر دیا جائے وہ بار باقی رہے گا اور گویا بچہ اس کے عوض رہن رہے گا۔
پیدائش ہی کے دن عقیقہ کرنے کا حکم غالبا اس لئے نہیں دیا گیا کہ اس وقت گھر والوں کو زچہ کی دیکھ بھال کی فکر ہوتی ہے علاوہ ازیں اسی دن بچے کا سر صاف کرا دینے میں طبی اصول پر ضرر کا بھی خطرہ ہے۔ ایک ہفتہ کی مدت ایسی ہے کہ اس میں زچہ بھی عموماً ٹھیک ہو جاتی ہے اور بچہ بھی سات دن تک اس دنیا کی ہوا کھا کے ایسا ہو جاتا ہے کہ اس کا سر صاف کرا دینے میں ضرر کا خطرہ نہیں رہتا۔ واللہ اعلم۔
اس حدیث سے اور بعض دوسری احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ عقیقہ کے ساتھ ساتویں دن بچے کا نام بھی رکھا جائے۔ لیکن بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض بچوں کا نام پیدائش کے دن ہی رکھ دیا تھا اس لئے ساتویں دن سے پہلے نام رکھ دینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے، ہاں اگر پہلے نام نہ رکھا گیا ہو تو ساتویں دن عقیقہ کے ساتھ بھی نام رکھ دیا جائے۔ جن حدیثوں میں ساتویں دن عقیقہ کے ساتھ نام رکھنے کا ذکر ہے ان کا مطلب یہی سمجھنا چاہئے۔
عَنْ سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَعَ الغُلاَمِ عَقِيقَةٌ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الأَذَى» (رواه البخارى)
حضرت سلمان بن عامر الضبی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بچے کے ساتھ عقیقہ ہے (یعنی اللہ تعالیٰ جس کو بچہ عطا فرمائے وہ عقیقہ کرے) لہذا بچے کی طرف سے قربانی کرو اور اس کا سر صاف کرا دو۔ (صحیح بخاری)
تشریح
عقیقہ میں جیسا کہ ان حدیثوں سے ظاہر ہے دو ہی کام ہوتے ہیں۔ ایک بچے کا سر منڈوا دینا اور دوسرا اس کی طرف سے شکرانہ اور فدیہ کے طور پر جانور قربان کر دینا۔ ان دونوں عملوں میں ایک خاص ربط اور مناسبت ہے اور یہ ملت ابراہیمیؑ کے شعائر میں سے ہیں۔ حج میں بھی ان دونوں کا اسی طرح جوڑ ہے اور حاجی قربانی کرنے کے بعد سر صاف کراتا ہے۔ اس لحاظ سے عقیقہ عملی طور پر اس کا بھی اعلان ہے کہ ہمارا رابطہ اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہے اور یہ بچہ بھی ملت ابراہیمیؑ کا ایک فرد ہے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ كَبْشًا كَبْشًا» (رواه ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنے نواسوں) حسن اور حسینؓ کا عقیقہ کیا اور ایک ایک مینڈھا ذبح کیا۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کے عقیقہ میں رسول اللہ ﷺ نے صرف ایک ایک مینڈھے کی قربانی غالبا اس لئے کی کہ اس وقت اتنی وسعت تھی۔ اور اس طرح ان لوگوں کے لئے جن کو زیادہ وسعت حاصل نہ ہو ایک نظیر بھی قائم ہو گئی۔ اس حدیث کی بعض روایات میں بجائے ایک ایک مینڈھے کے دو دو مینڈھوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن محدثین کے نزدیک سنن ابی داؤد کی یہی روایت قابلِ ترجیح ہے جس میں ایک ایک مینڈھے کا ذکر کیا گیا ہے۔