Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 68 of 106

1341Maarif-ul-Hadith

صلوٰۃ و سلام: احادیث میں درود و سلام کی ترغیبات اور فضائل و برکات

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً وَاحِدَةً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا» (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو بندہ مجھ پر ایک دفعہ صلوٰۃ بھیجے، اللہ تعالیٰ اس پر دس بار صلوٰۃ بھیجتا ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح “صلوٰۃ و سلام” دراصل اللہ تعالیٰ کے حضور میں کی جانے والی بہت اعلیٰ اور اشرف درجہ کی ایک دعا ہے جو رسول اللہ ﷺکی ذاتِ پاک سے اپنی ایمانی وابستگی اور وفا کیشی کے اظہار کے لئے آپ ﷺ کے حق میں کی جاتی ہے، اور اس کا حکم ہم بندوں کو خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآنِ کریم میں دیا گیا ہے، اور بڑے پیارے اور مؤثر انداز میں دیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: “ إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ” (الاحزاب ع: ۷) اس آیت میں اہلِ ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ وہ اللہ کے نبی ﷺ پر صلوٰۃ و سلام بھیجا کریں (اور یہی آیت کا اصل موضوع اور مدعا ہے) لیکن اس خطاب اور حکم میں خاص اہمیت اور وزن پیدا کرنے کے لئے پہلے بطورِ تمہید فرمایا گیا ہے کہ: “إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ” یعنی نبی ﷺ پر صلوٰۃ (جس کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے) خدا وند قدوس اور اس کے پاک فرشتوں کا معمول و دَستور ہے، تم بھی اس کو اپنا معمول بنا کے اس محبوب و مبارک عمل میں شریک ہو جاؤ۔ حکم اور خطاب کا یہ انداز قرآن پاک میں صرف صلوٰۃ و سلام کے اس حکم ہی کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔ دوسرے کسی اعلیٰ سے اعلیٰ عمل کے لئے بھی نہیں کہا گیا کہ خدا اور اس کے فرشتے یہ کام کرتے ہیں تم بھی کرو۔ بلاشبہ صلوٰۃ و سلام کا یہ بہت بڑا امتیاز ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے مقامِ محبوبیت کے خصائص میں سے ہے۔ صلوٰۃ علی النبی کا مطلب اور ایک اشکال کا حل سورہ احزاب کی اس آیت میں بہت سے لوگوں کو یہ اشکال محسوس ہوتا ہے کہ اس میں اللہ اور فرشتوں کی نسبت سے بھی “صلوٰۃ” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اور مومن بندوں کی نسبت سے بھی وہی لفظ استعمال فرمایا گیا ہے، حالانکہ حقیقت کے لحاظ سے ان میں سے ہر ایک کا عمل دوسرے سے یقینا مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ جپر صلوٰۃ کا جو عمل ہوتا ہے (جسکو اس آیت میں فرشتوں کے عمل کے ساتھ جوڑ کر “يُصَلُّونَ ” کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے) وہ ہرگز فرشتوں اور مؤمنین کا عمل نہیں ہو سکتا۔ اور اسی طرح ایمان والے بندوں سے جس عملِ صلوٰۃ کا مطالبہ “صَلُّوا” کے لفظ سے کیا گیا ہے وہ ہرگز خدا کا فعل نہیں ہو سکتا۔ اس کو حل کرنے کے لئے اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ نسبت بدلنے سے صلوٰۃ کے معنی بدل جاتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کی طرف اُس کی نسبت ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے رحمت نازل کرنا، اور جب ملائکہ یا مومنین کی طرف نسبت ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے اللہ سے رحمت کی دعا کرنا۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ صلوٰۃ کے معنی میں بہت وسعت ہے۔ تکریم و تشریف، مدح و ثناء، رفعِ مراتب، محبت و عطوفت، برکت و رحمت، پیار دُلار، ارادہ خیر و دعائے خیر، ان سب کو صلوٰۃ کا مفہوم حاوی ہے۔ اس لئے اس کی نسبت اللہ اور اس کے فرشتوں کی طرف ایمان والے بندوں کی طرف یکساں طور پر کی جا سکتی ہے۔ البتہ یہ فرق ہو گا کہ رسول اللہ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی صلوٰۃ اس کی شانِ عالی کے مطابق ہو گی، اور فرشتوں کی طرف سے ان کے مرتبہ کے مطابق اور مومنین کی طرف سے اُن کی حیثیت کے مطابق۔ اس بناء پر آٰت کا مطلب یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے نبی ﷺ پر خاص الخاص عنایت و نوازش اور پیار دُلار سے، اور وہ ان کی مدح و ستائش کرتا اور عظمت و شرف کے بلند ترین مقام تک انکو پہنچانا چاہتا ہے، اور فرشتے بھی ان کی تکریم و تعظیم اور مدح و ثناء کرتے ہین اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بیش از بیش الطاف و عنایات اور رفع درجات کی دعائیں کرتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ایسا ہی کرو، اور آپ ﷺ کے لئے اللہ تعالیٰ سے خاص الخاص لطف و عنایت، محبت و عطوفت، مراتب اور درجات کی رفعت، پورے عالم کی سیادت و امامت اور مقامِ محمود و قبولیت شفاعت کی دعا کیا کرو اور آپ ﷺ پر سلام بھیجا کرو۔ صلوٰۃ و سلام کی عظمت و اہمیت اس آیت میں جیسی شاندار تمہید اور جس اہتمام کے ساتھ اہلِ ایمان کو صلوٰۃ و سلامکا حکم دیا گیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی کتنی اہمیت و عظمت ہے اور وہ کیسا محبوب عمل ہے۔آگے درج ہونے والی حدیثوں سے معلوم ہو گا کہ اس میں اہلِ ایمان کے لئے کس قدر خیر، کتنی رحمت اور کیسی برکات ہیں۔ صلوٰۃ و سلام کے بارے میں فقہاء کے مسالک امت کے فقہاء اس پر تقریباً متفق ہیں کہ سورہ احزاب کی اس آیت کی رو سے رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجنا ہر فردِ امت پر فرض ہے، پھر ائمہ امت میں سے امام شافعیؒ اور ایک روایت کے مطابق امام احمدؒ بھی اس کے قائل ہیں کہ خاص کر ہر نماز کے قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد درود شریف پڑھنا واجباتِ نماز میں سے ہے، اگر نہ پڑھی تو ان ائمہ کے نزدیک نماز ہی نہ ہو گی۔ لیکن امام مالک اور امام ابو حنیفہ اور اکثر دوسرے فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ قعدہ میں تشہد تو بےشک واجب ہے جس کے ضمن میں رسول اللہ ﷺ پر سلام بھی آ جاتا ہے لیکن اس کے بعد مستقلا درود شریف پڑھنا فرض یا واجب نہیں بلکہ ایک اہم اور مبارک سنت ہے جس کے چھوٹ جانے سے نماز میں بڑا نقص رہ جاتا ہے۔ مگر اس اختلاف کے باوجود اس پر تقریبا اتفاق ہے ک اس آیت کے حکم کی تعمیل میں رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ و سلام بھیجنا ہر مسلمان پر اسی طرح فرضِ عین ہے جس طرح مثلا آپ ﷺ کی رسالت کی شہادت دینا، جس کے لئے کسی وقت اور تعداد کا تعین نہیں کیا گیا ہے اور اس کا ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک دفعہ پڑھ لے اور پھر اس پر قائم رہے۔ آگے بعض وہ حدیثیں آئیں گی جن سے معلوم ہو گا کہ جب جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر آئے آپ ﷺ پر لازما درود بھیجا جائے اور اس میں کوتاہی کرنے والوں کے لئے سخت وعیدیں بھی آئیں گی۔ ان احادیث کی بناء پر بہت سے فقہاء اس کے بھی قائل ہیں کہ جب کوئی آپ ﷺ کا ذکر کرے یا کسی دوسرے سے سنے تو اس وقت آپ ﷺ پر درود بھیجنا واجب ہے۔ پھر ایک رائے یہ ہے کہ اگر ایک ہی نشست اور ایک ہی سلسلہ کلام میں بار بار آپ ﷺ کا ذکر آئے تو ہر دفعہ درود پڑھنا واجب ہو گا اور دوسری رائے یہ ہے کہ اس صورت میں ایک دفعہ درود پڑھنا واجب ہو گا اور ہر دفعہ پڑھنا مستحب ہو گا اور محققین نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ واللہ اعلم درود شریف کی امتیازی خاصیت اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہماری اس مادی دنیا میں پھلوں اور پھولوں کو الگ الگ رنگتیں دی ہیں اور ان میں مختلف قسم کی خوشبوئیں رکھی ہیں (ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر ست) اسی طرح مختلف عبادات اور اذکار و دعوات کے الگ الگ خواص اور برکات ہیں۔ درود شریف کی امتیازی خاصیت یہ ہے کہ خلوصِ دل سے اس کی کثرت، اللہ تعالیٰ کی خاص نظر رحمت، رسول اللہ ﷺ کے روحانی قرب اور آپ ﷺ کی خصوصی شفقت و عنایت حاصل ہونے کا خاص الخاص وسیلہ ہے۔ آگے درج ہونے والی بعض حدیثوں سے یہ بھی معلوم ہو گا کہ ہر اُمتی کا درود سلام اس کے نام کے ساتھ رسول اللہ ﷺ تک پہنچایا جاتا ہے اور اس کے لئے فرشتون کا ایک پورا عملہ ہے۔ ذرا غور کریں! اگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کا فلاں بندہ آپ کے لئے اور آپ کے گھر والوں اور سب متعلقین کے لئے اچھی سے اچھی دعائیں برابر کرتا رہتا ہے، اپنے لئے اللہ تعالیٰ سے اتنا نہیں مانگتا جتنا آپ کے لئے مانگتا ہے اور یہ اس کا محبوب ترین مشغلہ ہے تو آپ کے دل میں اس کی کیسی قدر و محبت اور خیرخواہی کا کیسا جذبہ پیدا ہو گا۔ پھر جب کبھی اللہ کا وہ بندہ آپ سے ملے گا اور آپ کے سامنے آئے گا تو آپ کس طرح اس سے ملیں گے۔ اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اللہ کا جو بندہ ایمان و اخلاص کے ساتھ رسول اللہ ﷺ پر کثرت سے درود و سلام پڑھے اس پر آپ کی کیسی نظر عنایت ہو گی اور قیامت و آخرت میں اس کے ساتھ آپ کا معاملہ کیا ہو گا۔ اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کا جو مقام حاصل ہے اس کو پیش نظر رکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس بندے سے اللہ تعالیٰ کتنا خوش ہو گا اور اس پر اس کا اکیسا کرم ہو گا۔ درود و سلام کا مقصد یہاں ایک بات یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ درود و سلام اگرچہ بظاہر رسول اللہ ﷺ کے حق میں اللہ تعالیٰ سے ایک دعا ہے لیکن جس طرح کسی دوسرے کے لئے دعا کرنے کا اصل مقصد اس کو نفع پہنچانا ہوتا ہے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا مقصد آپ ﷺ کی ذات پاک کو نفع پہنچانا نہیں ہوتا، ہماری دعاؤں کی آپ ﷺ کو قطعاً کوئی احتیاج نہیں۔ بادشاہوں کو فقیروں، مسکینوں کے تحفوں اور ہدیوں کی کیا ضرورت۔ بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا ہم بندوں پر حق ہے کہ اس کی عبادت اور حمد و تسبیح کے ذریعہ اپنی عبدیت اور عبودیت کا نذرانہ اس کے حضور میں پیش کریں اور اس سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نفع نہیں پہنچتا بلکہ وہ خود ہماری ضرورت ہے، اور اس کا نفع ہم ہی کو پہنچتا ہے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے محاسن و کمالات، آپ ﷺ کی پیغمبرانہ خدمات اور امت پر آپ ﷺ کے عظیم احسانات کا یہ حق ہے کہ امتی آپ ﷺ کے حضور میں عقیدت و محبت اور وفاداری و نیاز مندی کا ہدیہ اور ممنویت و سپاس گزاری کا نذرانہ پیش کریں، اسی کے لئے درود و سلام کا یہ طریقہ مقرر کیا گیا ہے۔ اور جیسا کہ عرض کیا گیا اس کا مقصد آپ ﷺ کو کوئی نفع پہنچانا نہیں ہوتا۔ بلکہ اپنے ہی نفع کے لئے یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا و ثوابِ آخرت اور اس کے رسولِ پاک کا روحانی قرب اور ان کی خاص نظرِ عنایت حاصل کرنے کے لئے درود و سلام پڑھا جاتا ہے اور پڑھنے والے کا اصل مقصد بس یہی ہوتا ہے۔ پھر یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ وہ ہمارا درود و سلام کا یہ ہدیہ اپنے رسولِ پاک تک فرشتوں کے ذریعہ پہنچواتا ہے اور بہت سوں کا آپ ﷺ کو قبرِ مبارک میں براہ راست بھی سنوا دیتا ہے (جیسا کہ آگے درج ہونے والی احادیث سے معلوم ہو گا) نیز ہمارے اس درود و سلام کے حساب میں بھی رسول اللہ ﷺ پر اپنے الطاف و عنایات اور تکریم و تشریف میں اضافہ فرماتا ہے۔ درود و سلام کی خاص حکمت انبیاء علیہم السلام اور خاص کر سید الانبیاء ﷺ کی خدمت میں عقیدت و محبت اور وفاداری و نیاز مندی کا ہدیہ اور ممنونیت و سپاس گزاری کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے درود و سلام کا طریقہ مقرر کرنے کی سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ اس سے شرک کی جڑ کٹ جاتی ہے، اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے مقدس اور محترم ہستیاں انبیاء علیہم السلام ہی کی ہیں اور ان میں سب سے اکرم و افضل خاتم النبیین سیدنا حضرت محمدﷺ ہیں۔ جب ان کے بارے میں یہ حکم دے دیا گیا کہ ان پر درود و سلام بھیجا جائے (یعنی اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے خاص الخاص عنایت و رحمت اور سلامتی کی دعا کی جائے) تو معلوم ہوا کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت اور نظر کرم کے محتاج ہیں، اور ان کا حق اور مقام عالی یہی ہے کہ ان کے واسطے اللہ تعالیٰ سے اعلیٰ سے اعلیٰ دعائیں کی جائیں اس کے بعد شرک کے لئے کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ کتنا بڑا کرم ہے رب کریم کا کہ اس کے اس حکم نے ہم بندوں اور اُمتیوں کو نبیوں اور رسولوں کا اور خاص کر سید الانبیاء ﷺ کا دعاگو بنا دیا۔ جو بندہ ان مقدس ہستیوں کا دعاگو ہو وہ کسی مخلوق کا پرستار کیسے ہو سکتا ہے۔ اس تمہید کے بعد ہو حدیثیں پڑھئے جن میں رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام کی ترغیب دی گئی ہے، اور اس کی فضیلت اور برکات کا بیان فرمایا گیا ہے۔ تشریح ..... اوپر عرض کیا جا چکا ہے کہ صلوٰۃ کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی جو تکریم و تشریف اور آپ ﷺ پر جو خاص الخاص عنایت و نوازش ہوتی ہے اس کو بھی صلوٰۃ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور عام ایمان والے بندوں کے ساتھ رحمت و کرم کا جو معاملہ ہوتا ہے اس کے لئے بھی صلوٰۃ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس لئے اس حدیث میں اس رحمت و عنایت کے لئے بھی جو رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے والے بندے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے صلوٰۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے فرمایا گیا ہے “صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا” (یعنی حضور ﷺ پر ایک دفعہ صلوٰۃبھیجنے والے بندے پر اللہ تعالیٰ دس دفعہ صلوٰۃ بھیجتا ہے) مگر ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی صلوٰۃ میں اور دوسرے کسی ایمان والے بندے پر اس کی صلوٰۃ میں وہی فرق ہو گا جو رسول اللہ ﷺ کے مقامِ عالی اور اس بندے کے درجہ میں ہو گا۔ آگے درج ہونے والی بعض حدیثوں سے یہ معلوم ہو گا کہ رسول اللہ ﷺ پر ہم بندوں کے صلوٰۃبھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے آپ پر صلوٰۃ بھیجنے کی استدعا کریں۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اس حدیث کا مقصد و مدعا صرف ایک حقیقت اور واقعہ کی اطلاع دینا نہیں ہے بلکہ اس مبارک عمل (الصَّلَوةُ عَلَى النَّبِيِّ) کی ترغیب دینا ہے جو اللہ تعالیٰ کی صلوٰۃ یعنی خصوصی رحمتوں اور عنایتوں کے حاصل کرنے اور خود رسول اللہ ﷺ کے قربِ روحانی کی برکات سے بہرہ ور ہونے کا خاص الخاص وسیلہ ہے۔ اسی طرح آگے درج ہونے والی حدیثوں کا مقصد و مدعا بھی یہی ہے۔

1342Maarif-ul-Hadith

احادیث میں درود و سلام کی ترغیبات اور فضائل و برکات

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ، وَحُطَّتْ عَنْهُ عَشْرُ خَطِيئَاتٍ، وَرُفِعَتْ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ» (رواه النسائى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو بندہ مجھ پر ایک صلوٰۃ بھیجے اللہ تعالیٰ اس پر دس صلواتیں بھیجتا ہے اور اس کی دس خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں اور اس کے دس درجے بلند کر دئیے جاتے ہیں۔ (سنن نسائی)

1343Maarif-ul-Hadith

احادیث میں درود و سلام کی ترغیبات اور فضائل و برکات

عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مِنْ أُمَّتِي صَلَاةً مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرَ صَلَوَاتٍ، وَرَفَعَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ، وَكَتَبَ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سيئاتٍ» (رواه النسائى)

ابو بردہ بن نیار ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا جو اُمتی خلوصِ دل سے مجھ پر صلوٰۃ بھیجے، اللہ تعالیٰ اس پر دس صلواتیں بھیجتا ہے اور اس کے صلہ میں اس کے دس درجے بلند کرتا ہے، اور اس کے حساب میں دس نیکیاں لکھاتا ہے، اور اس کے دس گناہ محو فرما دیتا ہے۔ (سنن نسائی) تشریح حضرت ابو ہریرہ ؓ والی پہلی حدیث میں رسول اللہ ﷺ پر ایک دفعہ صلوٰۃ بھیجنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دس صلوٰتوں کے بھیجے جانے کا ذکر تھا۔ اس کے بعد حضرت انس ؓ والی دوسری حدیث میں دس صلوٰتوں کے علاوہ دس درجوں کی بلندی اور دس گناہوں کی معافی کا بھی ذکر فرمایا گیا۔ اور ابو بردہ بن نیار ؓ والی اس تیسری حدیث میں ان سب کے علاوہ اس بندے کے نامہ اعمال میں مزید دس نیکیوں کے لکھے جانے کی بشارت بھی سنائی گئی۔ اس عاجز کے نزدیک یہ صرف اجمال اور تفصیل کا فرق ہے، یعنی دوسری اور تیسری حدیث میں جو کچھ فرمایا گیا ہے، وہ پہلی حدیث کے اجمال کی تفصیل ہے۔ واللہ اعلم۔ تیسری حدیث سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ صلہ پانے کے لئے شرط ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ“اخلاص قلب” سے بھیجی جائے۔

1344Maarif-ul-Hadith

احادیث میں درود و سلام کی ترغیبات اور فضائل و برکات

عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِي الله عَنهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: " إِنَّهُ جَاءَنِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَّ يَقُوْلُ أَمَا يُرْضِيكَ يَا مُحَمَّدُ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا، وَلَا يُسَلِّمَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا " (رواه النسائى والدارمى)

حضرت ابو طلحہ انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن تشریف لائے اور آپ کے چہرہ انور پر خوشی اور بشاشت کے آثار نمایاں تھے (اس کا سبب بیان کرتے ہوئے) آپ ﷺ نے فرمایا کہ: آج جبرئیل امین آئے اور انہوں نے بتایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے کہ اے محمدﷺ! کیا یہ بات تمہیں راضی اور خوش نہیں کر دے گی کہ تمہارا جو امتی تم پر صلوٰۃ بھیجے اس پر دس صلوٰتیں بھیجوں، اور جو تم پر سلام بھیجے اس پر دس سلام بھیجوں۔ (سنن نسائی، مسند دارمی) تشریح قرآن پاک میں ارشاد فرمایا گیا ہے “وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ” (اے نبیﷺ تمہارا رب تم کو اتنا عطا فرمائے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے) اس وعدہ کا پورا ظہور تو آخرت میں ہو گا، لیکن یہ بھی اس کی ایک قسط ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا اتنا اکرام فرمایا، اور محبوبیت کبریٰ کا وہ مقامِ عالی آپ ﷺ کو عطا فرمایا کہ جو بندہ آپ ﷺ کی محبت اور آپ ﷺ کے احترام میں خَالِصًا لله آپ ﷺ پر صلوٰۃ و سلام بھیجے، اللہ تعالیٰ نے اس پر دس صلوٰتیں اور دس سلام بھیجنے کا دستور اپنے لئے مقرر فرمایا اور جبرائیل امینؑ کے ذریعہ آپ ﷺ کو اس کی اطلاع دی اور اس پیارے انداز میں دی: “إِنَّ رَبَّكَّ يَقُوْلُ أَمَا يُرْضِيكَ يَا مُحَمَّدُ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) ” (تمہارا رب فرماتا ہے اے محمد (ﷺ)! کیا تمہیں ہمارا یہ فیصلہ راضی اور خوش نہیں کر دے گا)۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے تو ان احادیث سے رسول اللہ ﷺ کے مقامِ محبوبیت کو کچھ سمجھا جا سکتا ہے۔

1345Maarif-ul-Hadith

احادیث میں درود و سلام کی ترغیبات اور فضائل و برکات

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى دَخَلَ نَخْلًا فَسَجَدَ، فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ تَوَفَّاهُ قَالَ: فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ» قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قال: فَقَالَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ قَالَ لِي: أَلا أُبَشِّرُكَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لَكَ: مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ، وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ " (رواه احمد)

حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ آبادی سے نکل کر کھجوروں کے ایک باغ میں پہنچے اور سجدے میں گر گئے اور بہت دیر تک اسی طرح سجدے میں پڑے رہے، یہاں تک کہ مجھے خطرہ ہوا کہ آپ ﷺ وفات تو نہیں پا گئے۔ میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور غور سے دیکھنے لگا۔ آپ ﷺ نے سر مبارک سجدے سے اٹھایا اور مجھ سے فرمایا کیا بات ہے اور تمہیں کیا فکر ہے؟ میں نے عرض کیا کہ (آپ کے دیر تک سجدے سے سر نہ اٹھانے کی وجہ سے) مجھے ایسا شبہ ہوا تھا اس لئے میں آپ کو دیکھ رہا تھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اصل واقعہ یہ ہے کہ جبرائیل نے آ کر مجھ سے کہا تھا کہ میں تمہیں بشارت سناتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جو بند تم پر صلوٰۃ بھیجے میں اس پر صلوٰۃ بھیجوں گا، اور جو تم پر سلام بھیجے میں اس پر سلام بھیجوں گا۔ (مسند احمد) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ و سلام بھیجنے والے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے صلوٰۃ و سلام بھیجے جانے کا ذکر ہے، لیکن دس کا عدد اس روایت میں مذکور نہیں ہے، مگر اس سے پہلی حضرت ابو طلحہ ؓ والی روایت سے معلوم ہو چکا ہے کہ حضرت جبرئیلؑ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دس دفعہ صلوٰۃ بھیجے جانے کی بشارت دی تھی۔ پھر یا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کو بتاتے وقت دس کا عدد کا ذکر ضروری نہیں سمجھا، یا بعد کے کسی راوی کے بیان کرنے سے رہ گیا۔ اسی حدیث کی مسند احمد کی ایک روایت میں یہ لفظ بھی ہے کہ: “فَسَجَدْتُّ للهِ شُكْرًا” (یعنی میں نے اس بشارت کے شکر میں یہ سجدہ کیا تھا) امام بیہقی نے اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سجدہ شکر کے ثبوت میں میری نظر میں یہ سب سے زیادہ صحیح حدیث ہے۔ واللہ اعلم۔ 297) قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عمر ؓ سے بھی روایت کی ہے، اس میں بھی رسول اللہ ﷺ کے ایک غیر معمولی قسم کے سجدے کا ذکر ہے، اس کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے سجدے سے اُٹھ کر مجھے بتایا کہ: " إِنَّ جِبْرَئِيْلَ اَتَانِىْ فَقَالَ مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ مِنْ اُمَّتِكَ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ عَشْرًا، وَرُفِعَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ " (معجم اوسط للطبرانى وسنن سعيد بن منصور) جبرئیلؑ میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ پیغٖام پہنچایا کہ تمہارا جو اُمتی تم پر ایک صلوٰۃ بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس صلوٰتیں بھیجے گا اور اس کے دس درجے بلند فرمائے گا۔ ان سب حدیثوں کا مقصد و مدعا ہم امتیوں کو یہی بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صلوٰۃ و سلام کا تمغہ اور اس کی بے انتہا عنایتیں اور رحمتیں حاصل کرنے کا ایک کامیاب اور بہترین ذریعہ خلوص قلب سے رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ و سلام بھیجنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک دفعہ کے صلوٰۃ و سلام کے صلہ میں دس دفعہ صلوٰۃ و سلام بھیجتا ہے دس درجے بلند فرماتا ہے، نامہ اعمال میں سے دس گناہ محو کر دئیے اور مٹا دئیے جاتے ہیں اور دس نیکیاں لکھا دی جاتی ہیں۔ مثلاً اگر کوئی بندہ رسول اللہ ﷺپر روزانہ صرف سو دفعہ درودِ پاک پڑھتا ہے تو ان احادیث کی بشارت کے مطابق (جو ایک دو نہیں بلکہ بہت سے صحابہ کرامؓ (1) سے صحاح اور سنن و مسانید کی قریبا سب ہی کتابوں میں قابلِ اعتماد سندوں کے ساتھ مروی ہیں) اس پر اللہ تعالیٰ ایک ہزار صلوٰتیں بھیجتا ہے، یعنی رحمتیں اور نوازشیں فرماتا ہے، اس کے مرتبہ میں ایک ہزار درجے ترقی دی جاتی ہے، اس کے اعمال نامہ سے ایک ہزار گناہ محو کئے جاتے ہیں اور ایک ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اللہ اکبر۔ کتنا ارزاں اور نفع بخش سودا ہے۔ اور کتنے خاسر اور بےنصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس سعادت اور کمائی سے خود کو محروم کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ یقین نصیب فرمائے اور عمل کی توفیق دے۔

1346Maarif-ul-Hadith

آپ ﷺ کے ذِکر کے وقت بھی درود سے غفلت کرنے والوں کی محرومی اور ہلاکت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ، وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ، وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهُ أَبَوَاهُ الكِبَرَ أَوْ أَحَدُهُمَا فَلَمْ يُدْخِلاَهُ الجَنَّةَ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ذلیل و خوار ہو وہ آدمی جس کے سامنے میرا ذکر آئے اور وہ اس وقت بھی مجھ پر صلوٰۃ یعنی درود نہ بھیجے، اور اس طرح ذلیل و خوار ہو وہ آدمی جس کے لئے رمضان (رحمت و مغفرت والا) مہینہ آئے اور اس کے گزرنے سے پہلے اس کی مغفرت کا فیصلہ نہ ہو جائے (یعنی رمضان کا مبارک مہینہ بھی وہ غفلت و خدا فراموشی میں گزار دے اور توبہ و استغفار کر کے اپنی مغفرت کا فیصلہ نہ کرا لے) اور ذلیل و خوار ہو وہ آدمی جس کے ماں باپ یا دونوں میں سے کوئی ایک اس کے سامنے بڑھاپے کو پہنچیں اور وہ (ان کی خدمت کر کے) جنت کا استحقاق حاصل نہ کر لے۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث میں تین قسم کے جن آدمیوں کے لئے ذلت و خواری کی بددعا ہے ان کا مشترک سنگین جرم یہ ہے کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص عنایت اور رحمت و مغفرت حاصل کرنے کے بہترین مواقع فراہم کئے، لیکن انہوں نے خدا کی رحمت و مغفرت کو حاصل کرنا ہی نہیں چاہا اور اس سے محروم رہنا ہی اپنے لئے پسند کیا، بےشک وہ بدبخت ایسی ہی بددعا کے مستحق ہیں اور آگے درج ہونے والی حدیث سے معلوم ہو گا کہ ایسے محروموں کے لئے اللہ کے مقرب ترین فرشتے حضرت جبرئیل امینؑ نے بھی بڑی سخت بددعا کی ہے، اللہ کی پناہ!

1347Maarif-ul-Hadith

آپ ﷺ کے ذِکر کے وقت بھی درود سے غفلت کرنے والوں کی محرومی اور ہلاکت

عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْضُرُوا فَحَضَرْنَا، فَلَمَّا ارْتَقَى الدَرَجَةَ قَالَ: " آمِينَ "، فَلَمَّا ارْتَقَى الدَّرَجَةَ الثَّانِيَةَ قَالَ: " آمِينَ "، فَلَمَّا ارْتَقَى الدَّرَجَةَ الثَّالِثَةَ قَالَ: " آمِينَ "، فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ مِنَ الْمِنْبَرِ قَالَ: فَقُلْنَا له يَا رَسُولَ اللهِ سَمِعْنَا الْيَوْمَ مِنْكَ شَيْئًا مَا كُنَّا نَسْمَعُهُ فَقَالَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ عَرْضَ لِي فَقَالَ: بَعُدَ مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَقُلْتُ: آمِينَ فَلَمَّا رَقِيتُ الثَّانِيَةَ قَالَ: بَعُدَ مَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَقُلْتُ: آمِينَ، فَلَمَّا رَقِيتُ الثَّالِثَةَ قَالَ: بَعُدَ مَنْ أَدْرَكَ اَبَوَيْهِ الْكِبَرَ عِنْدَهُ أَوْ أَحَدُهُمَا، فلَمْ يُدْخِلِ الْجَنَّةَ فَقُلْتُ: آمِينَ " (رواه الحاكم فى المستدرك وقال صحيح الاسناد)

حضرت کعب بن عجر انصاری ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کو فرمایا: میرے پاس آ جاؤ؟ ہم لوگ حاضر ہو گئے (آپ ﷺ کو جو کچھ ارشاد فرمانا تھا اس کے لئے آپ ﷺ منبر پر جانے لگے) جب منبر کے پہلے درجے پر آپ ﷺ نے قدم رکھا تو فرمایا: آمین۔ پھر جب دوسرے درجے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا: آمین۔ اسی طرح جب تیسرے درجے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا: آمین۔ پھر جو کچھ آپ ﷺ کو فرمانا تھا جب اس سے فارغ ہو کر آپ ﷺ منبر سے نیچے اُتر آئے تو ہم لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج ہم نے آپ سے ایک ایسی چیز سنی جو ہم پہلے نہیں سنتے تھے (یعنی منبر کے ہر درجے پر قدم رکھتے وقت آج آپ آمین۔ کہتے تھے، یہ نئی بات تھی) آپ نے بتایا کہ: “جب میں منبر پر چڑھنے لگا تو جبرئیل امین آ گئے۔ انہوں نے کہا کہ: “بَعُدَ مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ” (تباہ و برباد ہو وہ محروم جو رمضان مبارک پائے اور اس میں بھی اس کی مغفرت کا فیصلہ نہ ہو) تو میں نے کہا آمین۔ پھر جب میں نے منبر کے دوسرے درجے پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا: “بَعُدَ مَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ” (تباہ و برباد ہو وہ بےتوفیق اور بےنصیب جس کے سامنے تمہارا ذکر آئے اور وہ اس وقت بھی تم پر درود نہ بھیجے) تو میں نے اس پر بھی کہا آمین۔ پھر جب میں نے منبر کے تیسرے درجے پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا: “بَعُدَ مَنْ أَدْرَكَ اَبَوَيْهِ الْكِبَرَ عِنْدَهُ أَوْ أَحَدُهُمَا، فلَمْ يُدْخِلِ الْجَنَّةَ” (تباہ و برباد ہو وہ بدبخت آدمی جس کے ماں باپ یا اُن دونوں میں سے ایک اس کے سامنے بوڑھے ہو جائیں، اور وہ (اُن کی خدمت کر کے اور ان کو راضی کر کے) نت کا مستحق نہ ہو جائے) اس پر بھی میں نے کہا آمین۔ (مستدرک حاکم) تشریح اس حدیث کا مضمون بھی قریب قریب ہی ہے جو اس سے پہلی حضرت ابو ہریرہ ؓ والی حدیث کا تھا، فرق اتنا ہے کہ اس میں اصل بددعا کرنے والے حضرت جبرئیل علیہ السلام ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی ہر بددعا پر آمین کہا ہے۔ حضرت جبرئیلؑ کی بددعا اور رسول اللہ ﷺ کے آمین کہنے کا یہی واقعہ الفاظ کے تھوڑے سے فرق کے ساتھ حضرت کعب بن عجرہ انصاری کے علاوہ حضرت ابن عباس، حضرت جابر بن سمرہ، حضرت مالک بن الحویرث اور عبداللہ بن الحارث ؓ سے بھی حدیث کی مختلف کتابوں میں روایت کیا گیا ہے۔ان میں سے بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ حضرت جبرئیلؑ بددعا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کرتے تھے کہ آپ آمین کہئے تو آپ آمین کہتے تھے۔ ان سب حدیثوں میں مذکورہ بالا تین قسم کے محروموں کے لئے رسول اللہ ﷺ اور حضرت جبرئیلؑ کی طرف سے سخت ترین بددعا کے انداز میں جس طرح انتہائی ناراضی اور بیزاری کا اظہار کیا گیا ہے، یہ دراصل ان تینوں کوتاہیوں کے بارے میں سخت ترین انتباہ ہے۔ نیز اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کی وجہ سے فرشتوں کی دنیا اور ملاءِ اعلیٰ میں عظمت و محبوبیت کا وہ بلند ترین مقام حاصل ہے کہ جو شخص آپ کے حق کی ادائیگی کے معاملہ میں صرف اتنی کوتاہی اور غفلت کرے کہ آپ ﷺ کے ذکر کے وقت آپ ﷺ پر درود نہ بھیجے تو اس کے لئے سارے ملاءِ اعلیٰ کے امام اور نمائندے حضرت جبرئیل کے دل سے اتنی سخت بددعا نکلتی ہے اور وہ اس پر رسول اللہ ﷺ سے بھی آمین کہلواتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس قسم کی ہر تقصیر اور کوتاہی سے محفوظ رکھے، اور آنحضرتﷺ کی حق شناسی اور حق کی ادائیگی کی توفیق دے۔ ان ہی احادیث کی بناء پر فقہا نے یہ رائے قائم کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کا ذِکر آئے تو آپ ﷺ پر درود بھیجنا ذِکر کرنے والے پر بھی اور سننے والے پر بھی واجب ہے، جیسا کہ پہلے ذِکر کیا جا چکا ہے۔

1348Maarif-ul-Hadith

آپ ﷺ کے ذِکر کے وقت بھی درود سے غفلت کرنے والوں کی محرومی اور ہلاکت

عَنْ عَلِيِّ رَضِي الله عَنهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: البَخِيلُ الَّذِي مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ. (رواه الترمذى)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اصل بخیل اور کنجوس وہ آدمی ہے جس کے سامنے میرا ذِکر آئے اور وہ (ذرا سی زبان ہلا کے) مجھ پر درود بھی نہ بھیجے۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ عام طور پر سے بخیل ایسے آدمی کو سمجھا جاتا ہے جو دولت کے خرچ کرنے میں بخل کرے، لیکن اس سے بھی بڑا بخیل اور بہت بڑا بخیل وہ آدمی ہے جس کے سامنے میرا ذکر آئے اور وہ زبان سے درود کے دو کلمے کہنے میں بھی بخل کرے۔ حالانکہ آپ ﷺ نے امت کے لئے وہ کیا ہے اور امت کو آپ کے ہاتھوں سے وہ دولتِ عظمیٰ ملی ہے کہ اگر ہر اُمتی اپنی جان بھی آپ ﷺ کے لئے قربان کر دے تو حق ادا نہ ہو سکے گا۔ ؎ مرحبا اے پیک مشتاقاں بدہ پیغامِ دوست تاکنم جاں اَز سرِ رغبت فدائے نامِ دوست

1349Maarif-ul-Hadith

مسلمانوں کی کوئی نشست ذِکر اللہ اور صلوٰۃ علی النبی ﷺ سے خالی نہ ہونی چاہئے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ، وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ» (رواه الترمذى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو لوگ کہیں بیٹھے اور انہوں نے اس نشست میں نہ اللہ کو یاد کیا اور نہ اپنے نبیﷺ پر درود بھیجا (یعنی ان کی وہ مجلس اور نشست ذِکر اللہ اور صلوٰۃ علی النبیﷺ سے بالکل خالی رہی) تو قیامت میں یہ اُن کے لئے حسرت و خسران کا باعث ہو گی۔ پھر چاہے اللہ ان کو عذاب دے اور چاہے معاف فرما دے اور بخش دے۔ (جامع ترمذی) تشریح معلوم ہوا کہ مسلمان کی کوئی نشست اور مجلس ایسی نہ ہونی چاہئے جو اللہ کے ذکر سے اور رسول پاکﷺ پر درود و سلام سے خالی رہے۔ اگر زندگی میں ایک نشست بھی ایسی ہوئی تو قیامت میں اس پر باز پرس ہو گی۔ اور اس وقت سخت حسرت اور پشیمانی ہو گی پھر چاہے اللہ کی طرف سے معافی مل جائے یا سزا دی جائے۔ یہی مضمون قریب قریب ان ہی الفاظ میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کے علاوہ حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو امامہ باہلی اور حضرت واثلہ بن الاسقع ؓ سے بھی حدیث کی مختلف کتابوں میں مروی ہے۔

1350Maarif-ul-Hadith

درود شریف کی کثرت قیامت میں حضور ﷺ کے خصوصی قُرب کا وسیلہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ القِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلاَةً. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مجھ سے قریب ترین اور مجھ پر زیادہ حق رکھنے والا میرا وہ امتی ہو گا جو مجھ پر زیادہ صلوٰۃ بھیجنے والا ہو گا۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ ایمان اور ایمان والی زندگی کی بنیادی شرط کے ساتھ میرا جو امتی مجھ پر زیادہ سے زیادہ صلوٰۃ و سلام بھیجے گا، اس کو قیامت میں میرا خصوصی قرب اور خاص تعلق حاصل ہو گا۔ اللہ تعالیٰ یہ دولت و سعادت حاصل کرنے کی توفیق دے۔

1351Maarif-ul-Hadith

درود شریف کی کثرت قیامت میں حضور ﷺ کے خصوصی قُرب کا وسیلہ

رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ أَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي " (رواه احمد)

حضرت رویفع بن ثابت انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا جو امتی مجھ پر صلوٰۃ بھیجے اور ساتھ ہی یہ دعا کرے کہ: “اللَّهُمَّ أَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ” (اے اللہ! ان کو یعنی اپنے نبی محمدﷺ کو قیامت کے دن اپنے قریب کی نشست گاہ (کرسی) عطا فرما) اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گی۔ (مسند احمد) تشریح اس حدیث کو طبرانی نے بھی معجم کبیر میں روایت کیا ہے اور اس کے یہ الفاظ ہیں: “اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي” اس میں صلوٰۃ اور دعا کے پورے الفاظ آ گئے ہیں اور بہت مختصر ہیں۔ یوں تو رسول اللہ ﷺ اپنے سب ہی امتیوں کی ان شاء اللہ شفاعت فرمائیں گے، لیکن جو اہلِ ایمان آپ ﷺ پر ان الفاظ میں درود بھیجیں اور اللہ تعالیٰ سے آپ کے لئے یہ دعا کریں۔ ان کی شفاعت کا آپ ﷺ اپنے پر خصوصی حق سمجھیں گے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کی سفارش اُمید ہے کہ اہتمام سے فرمائیں گے۔

1352Maarif-ul-Hadith

اگر کوئی اپنے مقصد کے لئے دعاؤں کی جگہ بھی درود ہی پڑھے تو اس کے سارے مسائل غیب سے حل ہوں گے

عَنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلاَةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلاَتِي؟ فَقَالَ: مَا شِئْتَ. قَالَ: قُلْتُ: الرُّبُعَ، قَالَ: مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، قُلْتُ: النِّصْفَ، قَالَ: مَا شِئْتَ، فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، قَالَ: قُلْتُ: فَالثُّلُثَيْنِ، قَالَ: مَا شِئْتَ، فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، قُلْتُ: أَجْعَلُ لَكَ صَلاَتِي كُلَّهَا قَالَ: إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ، وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ. (رواه الترمذى)

حضرت اُبی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ آجپﷺ پر درود زیادہ بھیجا کروں (یعنی اللہ تعالیٰ سے آپ ﷺ پر صلوٰۃ کی استدعا زیادہ کیا کروں) آپ ﷺ مجھے بتا دیجئے کہ اپنی دعا میں سے کتنا حصہ آپ ﷺ پر صلوٰۃ کے لئے مخصوص کر دوں؟ (یعنی میں اپنے لئے دعا کرنے میں جو وقت صرف کیا کرتا ہوں اس میں سے کتنا آپ ﷺ پر صلوٰۃ کے لئے مخصوص کر دوں) آپ نے فرمایا: جتنا چاہو۔ میں نے عرض کیا کہ: میں اس وقت کا چوتھائی حصہ آپ پر صلوٰۃ کے لئے مخصوص کر دوں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا جتنا تم چاہو اور اگر اور زیادہ کر دو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہو گا۔ میں نے عرض کیا کہ: تو پھر میں آدھا وقت اس کے لئے مخصوص کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جتنا چاہو اور اگر اور زیادہ کرو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہو گا۔ میں نے عرض کیا کہ: تو پھر میں اس میں سے دو تہائی وقت آپ ﷺ پر صلوٰۃ کے لئے مخصوص کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جتنا تم چاہو کر دو، اور اگر زیادہ کر دو گے تو تمہارے لئے خیر ہی کا باعث ہو گا۔ میں نے عرض کیا: پھر تو میں اپنی دعا کا سارا ہی وقت آپ پر صلوٰۃکے لئے مخصوص کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری ساری فکروں اور ضرورتوں کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفایت کی جائے گی (یعنی تمہارے سارے دینی و دنیاوی مہمات غیب سے انجام پائیں گے) اور تمہارے گناہ و قصور معاف کر دئیے جائیں گے۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب سمجھنے کے لئے جتنی تشریح کی ضرورت تھی وہ ترجمہ میں کر دی گئی ہے۔ عام طور سے شارحین نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں “صلوٰۃ” دعا کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جو اس کے اصل معنی ہیں۔ حضرت ابی بن کعب کثیر الدعوات تھے، اللہ تعالیٰ سے بہت دعائیں مانگا کرتے تھے۔ ان کے دِل میں آیا کہ میں اللہ تعالیٰ سے جو دعائیں مانگتا ہوں اور جتنا وقت اس میں صرف کرتا ہوں اس میں سے کچھ وقت رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ کے لئے (یعنی اللہ تعالیٰ سے آپ کے واسطے مانگنے کے لئے) مخصوص کر دوں۔ اس بارے میں انہوں نے خود حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ میں کتنا وقت اس کے لئے مخصوص کر دوں۔ آپ ﷺ نے اپنی طرف سے وقت کی کوئی تحدید و تعین مناسب نہیں سمجھی، بلکہ ان ہی کی رائے پر چھوڑ دیا، اور یہ اشارہ فرما دیا کہ اس کے لئے جتنا بھی زیادہ وقت دو گے تمہارے لئے بہتر ہی ہو گا۔ آخر میں انہوں نے طے کیا کہ میں سارا وقت جس میں اپنے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتا ہوں، رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ بھیجنے ہی میں یعنی اللہ تعالیٰ سے آپ ﷺ کے لئے مانگنے میں صرف کروں گا۔ اُن کے اس فیصلہ پر رسول اللہ ﷺ نے بشارت سنائی کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارے وہ سارے مسائل و مہمات جن کے لئے تم دعائیں کرتے ہو اللہ تعالیٰ کے کرم سے آپ سے آپ حل ہوں گے، اور تم سے جو گناہ و قصور ہوئے ہوں گے وہ بھی ختم کر دئیے جائیں گے، اُن پر کوئی مواخذہ نہ ہو گا۔ “معارف الحدیث” کی اسی جلد میں تلاوتِ قرآن مجید کے فضائل کے بیان میں وہ حدیث قدسی گزر چکی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے: “مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ عَنْ ذِكْرِي وَمَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِينَ” جس کا مطلب یہ ہے کہ جو بندہ تلاوتِ قرآن میں اتنا مشغول رہے کہ اس کے علاوہ اللہ کے ذکر کے لئے اور اپنے مقاصد کے واسطے دعا کرنے کے لئے اسے وقت ہی نہ ملے، تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی طرف سے اس سے بھی زیادہ اور بہتر دے گا جتنا دعا کرنے والوں اور مانگنے والوں کو دیتا ہے۔ جس طرح اس حدیث میں اُن بندوں کے لئے جو تلاوتِ قرآن میں اپنا سارا وقت صرف کر دیں، اور بس اسی کو اپنا وظیفہ بنا لیں، اللہ تعالیٰ کی اس خاص عنایت و نوازش کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ ان کو دعائیں کرنے والوں اور مانگنے والوں سے بھی زیادہ اور بہتر عطا فرمائے گا۔ اسی طرح حضرت ابی بن کعب والی اس زیرِ تشریح حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے لئے وقف کر دیں، اور اپنے ذاتی مسائل و مقاصد کے لئے دعاؤں کی جگہ بھی بس آپ ﷺ پر صلوٰۃ بھیجیں، بتایا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص الخاس کرم ہو گا کہ ان کے مسائل و مہمات غیب سے حل کئے جائیں گے اور ان کے گناہ دُھو ڈالے جائیں گے۔ اس کا راز یہ ہے کہ جس قرآن مجید کی تلاوت سے خاص شغف اور بس اسی کو اپنا وؓظیفہ بنا لینا اللہ کی مقدس کتاب پر ایمان اور اس سے محبت و تعلق کی خاص نشانی ہے، اور اس لئے ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے خاص الخاص فضل کے مستحق ہیں۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ و سلام سے ایسا شغف کہ اپنے ذاتی مقاصد و مسائل کے لئے دعا کی جگہ بھی بس آپ ﷺ پر صلوٰۃ بھیجی جائے، اور اپنے لئے کچھ مانگنے کی جگہ بس آپ ﷺ ہی کے لئے خدا سے مانگا جائے۔ اللہ کے محبوب رسول ﷺ پر صادق ایمان اور سچے ایمانی تعلق اور قلبی محبت کی علامت ہے اور ایسے مخلص بندے بھی اس کے مستحق ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے سارے مسائل اپنی رحمت سے بِلا اُن کے مانگے حل فرمائے۔ علاوہ ازیں وہ احادیث ابھی گزر چکی ہیں جن میں بیان فرمایا گیا ہے کہ جو بندہ رسول اللہ ﷺ پر ایک صلوٰۃ بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر دس صلوٰتیں بھیجی جاتی ہیں۔ اس کے اعمال نامے میں دس نیکیاں درج کی جاتی ہیں، دس گناہ مِٹا دئیے جاتے ہیں اور دس درجے بلند کر دئیے جاتے ہیں۔ ذرا غور کیا جائے جس بندے کا حال یہ ہو کہ وہ اپنی ذاتی دعاؤں کی جگہ بھی بس رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ بھیجے، اللہ سے اپنے لئے کچھ بھی نہ مانگے، صرف حضور ﷺ کے لئے صلوٰۃ کی استدعا کرے، اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صلوٰۃ و برکات اور رحمتوں عنایتوں کی کیسی موسلادھار بارش ہو گی، جس کا لازمی اثر اور انجام یہی ہو گ کہ اللہ کی رحمت بِلا مانگے اس کی چاہتیں اور ضرورتیں پوری کرے گی، اور گناہوں کے اثرات سے وہ بالکل پاک صاف کر دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان حقائق کا یقین اور عمل نصیب فرمائے۔

1353Maarif-ul-Hadith

درود شریف دُعا کی قبولیت کا وسیلہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِي الله عَنهُ قَالَ: إِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوفٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ لاَ يَصْعَدُ مِنْهُ شَيْءٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ عَلَى نَبِيِّكَ. (رواه الترمذى)

حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: دعا آسمان اور زمین کے درمیان ہی رکی رہتی ہے اوپر نہیں جا سکتی جب تک کہ نبی پاکﷺ پر درود نہ بھیجا جائے۔ (جامع ترمذی) تشریح وہ حدیث “آداب دعا” کے ذیل میں (صفحہ ۹۹پر) گزر چکی ہے۔ جس میں ہدایت فرمائی گئی ہے کہ دُعا کرنے والے کو چاہئے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرے اور رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنی حاجت عرج کرے۔ حضرت عمر ؓ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ دعا کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ بھیجنی چاہئے، وہ دعا کی قبولیت کا خاص وسیلہ ہے۔ “حصن حصین” میں شیخ ابو سلیمان دارانیؒ سے نقل کیا گیا ہے انہوں نے فرمایا کہ درود شریف (جو رسول اللہ ﷺ کے حق مین ایک اعلیٰ و اشرف دعا ہے) وہ تو اللہ تعالیٰ ضرور ہی قبول فرماتا ہے، پھر جب بندہ اپنی دعا سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ سے حضور ﷺ کے حق میں دعا کرے اور اس کے بعد بھی دعا کرے تو اس کے کرم سے یہ بہت ہی بعید ہے کہ وہ اول و آخر کی دعائیں تو قبول کر لے اور درمیان کی اس بےچارے کی دعا رد کر دے، اس لئے پوری امید رکھنی چاہئے کہ جس دعا کے اول و آخر رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ بھیجی جائے گی وہ ان شاء اللہ ضرور قبول ہو گی۔ مندرجہ بالا روایت میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے یہ بات (جو انہوں نے دعا کی قبولیت کے بارے میں فرمائی) رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی، لیکن چونکہ یہ ایسی بات ہے کہ کوئی شخص اپنی رائے اور فہم سے ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا، بلکہ اللہ کے پیغمبر ﷺ سے سُن کے ہی ایسی بات کہی جا سکتی ہے، اس لئے محدثین کے مسلمہ اصول کے مطابق یہ روایت حدیث مرفوع ہی کے حکم میں ہے۔

1354Maarif-ul-Hadith

دنیا میں کہیں بھی درود بھیجا جائے ، رسول اللہ ﷺ کو پہنچتا ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا، وَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ» (رواه النسائى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے گھروں کو قبریں نہ بنا لو، اور میری قبر کو میلہ نہ بنا لینا ہاں مجھ پر صلوٰۃ بھیجا کرنا، تم جہاں بھی ہو گے مجھے تمہاری صلوٰۃ پہنچے گی۔ (سنن نسائی) تشریح اس حدیث میں تین ہدایتیں فرمائی گئی ہیں: پہلی یہ کہ: “اپنے گھروں کو قبر نہ بنا لو”۔ اس کا مطلب عام طور سے شارحین نے یہ بیان کیا ہے کہ جس طرح قبروں میں مُردے ذِکر و عبادت نہیں کرتے، اور قبریں ذکر و عبادت سے خالی رہتی ہیں، تم اپنے گھروں کو ایسانہ بنا لو کہ وہ ذِکر و عبادت سے خالی رہیں، بلکہ ان کو ذکر و عبادت سے معمور رکھو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن گھروں میں اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت نہ ہو وہ زندوں کے گھر نہیں، بلکہ مُردوں کے قبرستان ہیں۔ دوسری ہدایت یہ فرمائی گئی ہے کہ “میری قبر کو میلہ نہ بنا لینا” یعنی جس طرح سال کے کسی معین دن میں میلوں میں لوگ جمع ہوتے ہیں اس طرح میری قبر پر کوئی میلہ نہ لگایا جائے۔ بزرگانِ دین کی قبروں پر عرسوں کے نام سے جو میلے ہوتے ہیں اُن سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر خدانخواستہ رسول اللہ ﷺ کی قبر شریف پر کوئی میلہ اس طرح کا ہوتا تو اس سے روح پاک کو کتنی شدید اذیت پہنچتی۔ تیسری ہدایت یہ فرمائی گئی ہے کہ تم مشرق یا مغرب میں خشکی یا تری میں جہاں بھی ہو، مجھ پر صلوٰۃ بھیجو، وہ مجھے پہنچے گی۔ یہی مضمون قریب قریب ان ہی الفاظ میں طبرانی نے اپنی سند سے حضرت حسن بن علی ؓ سے بھی روایت کیا ہے، اس کے الفاظ ہیں: “حَيْثُمَا كُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي” اللہ تعالیٰ نے جن بندوں کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قلبی تعلق کا کچھ حصہ عطا فرمایا ہے اُن کے لئے یہ کتنی بڑی بشارت اور تسلی کی بات ہے کہ خواہ وہ ہزاروں میل دور ہوں، اُن کا صلوٰۃ و سلام آپ ﷺ کو پہنچتا ہے۔ ؎ قرب جانی چو بودِ بُعد مکانی سہل اَست

1355Maarif-ul-Hadith

دنیا میں کہیں بھی درود بھیجا جائے ، رسول اللہ ﷺ کو پہنچتا ہے

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ، يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ» (رواه النسائى والدارمى)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ کے کچھ فرشتے ہیں جو دنیا میں چکر لگاتے رہتے ہیں اور میرے امتیوں کا سلام و صلوٰۃ مجھے پہنچاتے ہیں۔ (سنن نسائی، مسند دارمی) تشریح ایک دوسری حدیث میں جس کو طبرانی وغیرہ نے حضرت عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا ہے، یہ بھی تفصیل ہے کہ صلوٰۃ و سلام پہنچانے والا فرشتہ بھیجنے والے امتی کے ام کے ساتھ صلوٰۃ و سلام پہنچاتا ہے، کہتا ہے: “يا محمد صلى عليك فلان كذا وكذا” (اے محمدﷺ! تمہارے فلاں اُمتی نے تم پر اس طرح صلوٰۃ و سلام بھیجا ہے) اور حضرت عمار بن یاسر ؓ کی اسی حدیث کی بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ وہ فرشتہ صلوٰۃ و سلام بھیجنے والے امتی کا نام اس کی ولدیت کے ساتھ ذکر کرتا ہے یعنی حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کرتا ہے: “يا محمد صلى عليك فلان كذا وكذا” کتنی خوش قسمتی ہے اور کتنا اَرزاں سودا ہے کہ جو امتی اخلاص کے ساتھ صلوٰۃ و سلام عرض کرتا ہے، وہ حضور ﷺ کی خدمت میں اس کے نام اور ولدیت کے ساتھ فرشتے کے ذریعہ پہنچتا ہے، اور اس طرح آپ ﷺ کی بارگاہِ عالی میں اُس بےچارے مسکین اُمتی اور اس کے باپ کا ذِکر بھی آ جاتا ہے۔ ؎ جاں میدہم در آرزو اے قاصد آخر باز گو در مجلس آں نازنیں حرفے کہ اَز ما مے رَوَد

1356Maarif-ul-Hadith

دنیا میں کہیں بھی درود بھیجا جائے ، رسول اللہ ﷺ کو پہنچتا ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ» (رواه ابو دؤد والبيهقى فى الدعوات الكبير)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جب کوئی مجھ پر سلام بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھ پر واپس فرمائے گا تا کہ میں اس کے سلام کا جواب دے دوں۔ (سنن ابی داؤد دعوات کبیر للبیہقی) تشریح حدیث کے ظاہری الفاظ “إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي” سے یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی روحِ مبارک جسدِ اطہر سے الگ رہتی ہے، جب کوئی سلام عرض کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے جسد اطہر میں روحِ مبارک کو لوٹا دیتا ہے تا کہ آپ سلام کا جواب دے سکیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بات کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتی، اگر اس کو تسلیم کر لیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ ایک دن میں لاکھوں کروڑوں دفعہ آپ ﷺ کی روحِ مبارک جسمِ اقدس میں ڈالی اور نکالی جاتی ہے، کیوں کہ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کے لاکھوں کروڑوں اُمتی آپ ﷺ پر صلوٰۃ و سلام نہ بھیجتے ہوں۔ روضہ اقدس پر حاضر ہو کر سلام عرض کرنے والوں کا بھی ہر وقت تانتا بندھا رہتا ہے، اور عام دنوں میں بھی ان کا شمار ہزاروں سے کم نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں انبیاء علیہم السلام کا اپنی قبور میں زندہ ہونا ایک مسلم حقیقت ہے۔ اگرچہ اس حیات کی نوعیت کے بارے میں علماء امت کی رائیں مختلف ہیں، لیکن اتنی بات سب کے نزدیک مسلم اور دلائل شرعیہ سے ثابت ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور خاص کر سید الانبیاء ﷺ کو اپنی قبور میں حیات حاصل ہے اس لئے حدیث کا یہ مطلب کسی طرح نہیں ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ کا جسدِ اطہر روح سے خالی رہتا ہے اور جب کوئی سلام عرض کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ جواب دلوانے کے لئے اس میں روح ڈال دیتا ہے۔ اس بناء پر اکثر شارحین نے “رد روح” کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ قبرِ مبارک میں آپ ﷺ کی روحِ پاک کی تمام تر توجہ دوسرے عالم کی طرف اور اللہ تعالیٰ کی جمالی و جلالی تجلیات کے مشاہدہ میں مصروف رہتی ہے (اور یہ بات بالکل قرین قیاس ہے) پھر جب کوئی اُمتی سلام عرض کرتا ہے اور وہ فرشتہ کے ذریعہ یا براہ راست آپ ﷺ تک پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اذن سے آپ ﷺ کی روح اس طرف بھی متوجہ ہوتی ہے اور آپ ﷺ سلام کا جواب دیتے ہین، بس اس روحانی توجہ و التفات کو “رد روح” سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ عاجز راقم السطور عرض کرتا ہے کہ اس بات کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو عالمِ برزخ کے معاملات و احوال سے کچھ مناسبت رکھتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان حقائق کی معرفت نصیب فرمائے۔ اس حدیث کا خاص پیغام یہ ہے کہ جو امتی بھی اخلاصِ قلب سے آپ ﷺ پر سلام بھیجتا ہے، آپ ﷺ عادی اور سرسری طور پر صرف زبان سے نہیں بلکہ روح اور قلب سے متوجہ ہو کر اس کے سلام کا جواب عنایت فرماتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ اگر عمر بھر کے صلوٰۃ و سلام کا کچھ بھی اجر و ثواب نہ ملے صرف آپ ﷺ کا جواب مل جائے تو سب کچھ مل گیا۔ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ

1357Maarif-ul-Hadith

دنیا میں کہیں بھی درود بھیجا جائے ، رسول اللہ ﷺ کو پہنچتا ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي سَمِعْتُهُ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ نَائِيًا أَبْلَغْتُهُ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو آدمی میری قبر کے پاس مجھ پر درود بھیجے گا (یا سلام عرض کرے گا) وہ میں خود سنوں گا، اور جو کہیں دور سے بھیجے گا تو وہ مجھے پہنچایا جائے گا۔ (شعب الایمان للبیہقی) تشریح اس حدیث سے یہ تفصیل معلوم ہو گئی کہ فرشتوں کے ذریعہ آپ ﷺ کو صرف وہی درود و سلام پہنچتا ہے جو کوئی دور سے بھیجے، لیکن اللہ تعالیٰ جن کو قبرِ مبارک کے پا پہنچا دے اور وہ وہاں حاضر ہو کر صلوٰۃ و سلام عرض کریں تو آپ ﷺ اس کو بنفسِ نفیس سنتے ہین، اور جیسا کہ ابھی معلوم ہو چکا ہے ہر ایک کو جواب بھی عنایت فرماتے ہیں۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ بندے جو روزان سینکڑوں یا ہزاروں بار صلوٰۃ و سلام عرض کرتے ہیں اور آپ ﷺ کا جواب پاتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ اگر ساری عمر کے صلوٰۃ و سلام کا ایک ہی دفعہ جواب مل جائے تو جن کو محبت کا کوئی ذرہ نصیب ہے اُن کے لئے وہی دو جہاں کی دولت سے زیادہ ہے۔ کسی محبّ نے کہا ہے۔ ؎ بہر سلام مکن رنجہ دَر جواب آں لب کہ صد سلام مرا بس یکے جواب از تو اللهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَآلِهِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ كَمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى عَدَدَ مَا تُحِبُّ وَتَرْضَى

1358Maarif-ul-Hadith

درود شریف کے خاص کلمات

عَنْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، فَقَالَ: أَلاَ أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: بَلَى، فَأَهْدِهَا لِي، فَقَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ الصَّلاَةُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ البَيْتِ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ عَلَّمَنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكُمْ؟ قَالَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " (رواه البخارى ومسلم)

مشہور جلیل القدر تابعی عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ میری ملاقات کعب بن عجرہ ؓ سے ہوئی (جو اصحاب بیعت رضوان میں سے ہیں) اُنہوں نے مجھ سے فرمایا میں تمہیں ایک خاص تحفہ پیش کروں (یعنی ایک بیش بہا حدیث سناؤں) جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، میں نے عرض کیا مجھے وہ تحفہ ضرور دیجئے! انہوں نے بتایا کہ ہم لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ تو ہم کو بتا دیا کہ ہم آپ ﷺ پر سلام کس طرح بھیجا کریں (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ نے ہم کو بتا دیا ہے کہ ہم تشہد میں “السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ” کہہ کر آپ ﷺ پر سلام بھیجا کریں) اب آپ ہمیں یہ بھی بتا دیجئے کہ ہم آپ پر صلوٰۃ (درود) کیسے بھیجا کریں، آپ ﷺ نے فرمایا یوں کہا کرو: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اے اللہ! اپنی خاص نوازش اور عنایت و رحمت فرما حضرت محمدﷺ پر اور حضرت محمد ﷺ کے گھر والوں پر جیسے کہ تو نے نوازش اور عنایت و رحمت فرمائی حضرت ابراہیم پر اور حضرت ابراہیم کے گھر والوں پر، بےشک تو حمد و ستائش کا سزاوار اور عظمت و بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! خاص برکتیں نازل فرما حضرت حمدﷺ پر اور حضرت محمد ﷺ کے گھر والوں پر جیسے کہ تو نے برکتیں نازل فرمائیں حضرت ابراہیم پر اور حضرت ابراہیم کے گھرانے والوں پر، تو حمد و ستائش کا سزاوار اور عظمت و بزرگی والا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولِ پاک ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا ہم بندوں کو حکم دیا اور بڑے مؤثر اور پیارے انداز میں حکم دیا، اور خود رسول اللہ ﷺ نے مختلف پیرایوں میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے اس کے وہ برکات اور فضائل بیان فرمائے جو ناظرین کو مندرجہ سابق احادیث سے معلوم ہو چکے ہیں۔ پھر صحابہ کرام کے دریافت کرنے پر رسول اللہ ﷺ نے درود و سلام کے خاص کلمات بھی تعلیم فرمائ۔ اپنے امکان کی حد تک کتبِ حدیث کی پوری چھان بین کے بعد اس سلسلہ کی مستند روایات جمع کر کے ذیل میں درج کی جا رہی ہیں۔ تشریح ..... حضرت کعب بن عجرہ نے عبدالرحمن ابن ابی لیلیٰ کو یہ حدیث جس طرح اور جس تمہید کے ساتھ سنائی اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس حدیث کو اور اس درود شریف کو کتنا عظیم اور کیسا بیش بہا تحفہ سمجھتے تھے۔ اور طبری کی اسی حدیث کی روایت میں یہ بھی ہے کہ کعب بن عجرہ نے یہ حدیث عبدالرحمن ابن ابی لیلیٰ کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے سنائی تھی۔ (1) اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے دل میں اس کی کتنی عظمت تھی۔ اسی حدیث کی بیہقی کی روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ صلوٰۃ یعنی درود کے طریقہ کے بارے میں یہ سوال رسول اللہ ﷺ سے اس وقت کیا گیا جب سورہ احزاب کی یہ آیت نازل ہوئی (2) إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا اس آیت میں صلوٰۃ و سلام کا جو حکم دیا گیا ہے اس کے بارے میں تفصیل سے پہلے لکھا جا چکا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سوال کے جواب میں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر صلوٰۃ و سلام بھیجنے کا ہم کو جو حکم دیا ہے اس کا کیا طریقہ ہے اور کس طرح ہم آپ ﷺ پر صلوٰۃ بھیجا کریں؟ صلوٰۃ کے جو کلمات اس حدیث میں اور اس کے علاوہ بھی بہت سی دوسری حدیثوں میں تلقین فرمائے یعنی اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ الخ ان سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ پر ہمارے صلوٰۃ بھیجنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اللہ سے التجا اور استدعا کریں کہ وہ آپ ﷺ پر صلوٰۃ بھیجے اور برکتیں نازل فرمائے۔ یہ اس لئے کہ ہم خود چونکہ محتاج و مفلس اور تہی مایہ ہیں، ہرگز اس لائق نہیں ہیں کہ اپنے محسنِ اعظم اور اللہ کے نبی محترم ﷺ کی بارگاہ میں کچھ پیش کر سکیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے حضور میں استدعا اور التجا کرتے ہیں کہ وہ آپ ﷺ پر صلوٰۃ اور برکت بھیجے یعنی آپ ﷺ کی تشریف و تکریم آپ پر نوازش و عنایت، رحمت و رأفت، پیار دُلار میں اور مقبولیت کے درجات و مراتب میں اضافہ فرمائے اور آپ ﷺ کو اپنی خاص برکتوں سے نوازے، نیز آپ ﷺ کے گھر والوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ فرمائے۔ استدعاء “صلوٰۃ” کے بعد “برکت” مانگنے کی حکمت صلوٰۃ کے بارے میں پہلے بقدرِ ضرورت کلام کیا جا چکا ہے اور بتایا جا چکا ہے کہ اس کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ تشریف و تکریم، مدح و ثنا، رحمت و رأفت، محبت و عطوفت، رفع مراتب، ارادہ خیر، اعطاء خیر، اور دعائے خیر سب ہی کو صلوٰۃ کا مفہوم حاوی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بندہ پر “برکت” ہونے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس کے لئے بھرپور نوازش و عنایت اور خیر و نعمت کا اور اس کے دوام اور اس میں برابر اضافہ و ترقی کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ ہے۔ بہرحال برکت کسی ایسی چیز کا نام نہیں ہے جس کو “صلوٰۃ” کا وسیع مفہوم حاوی نہ ہو۔ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں رسول اللہ ﷺ کے لئے صلوٰۃ کی استدعا کرنے کے بعد آپ ﷺ کے واسطے برکت یا رحمت کی دعا اور التجا کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا اور سوال کے موقع پر یہی مستحسن ہے کہ مختلف الفاظ و عبارات میں بار بار عرض و معروض کی جائے، اس سے بندہ کی شدید محتاجی اور صدقِ طلب کا اظہار ہوتا ہے اور سائل اور منگتا کے لئے یہی مناسب ہے۔ اس لئے اس درود شریف میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی آل کے لئے اللہ تعالیٰ سے صلوٰۃ کی استدعا کے بعد برکت کی التجا بھی کی گئی ہے اور بعض دوسری روایات میں (جو عنقریب درج ہوں گی) صلوٰۃ اور برکت کے بعد ترحم کا بھی سوال کیا گیا ہے۔ دُرود شریف میں لفظ “آل” کا مطلب اس دُرود شریف میں “آل” کا لفظ چار دفعہ آیا ہے، ہم نے اس کا ترجمہ “گھرانے والوں کا کیا ہے۔ عربی زبان اور خاص کر قرآن حدیث کے استعمالات میں کسی شخص کی آل ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو ان لوگوں کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے ہوں، خواہ یہ تعلق نسب اور رشتہ کا ہو، جیسے اس کے بیوی بچے یا رفاقت اور عقیدت و محبت اور اتباع و اطاعت کا، جیسے کہ اس کے مشن کے خاص ساتھی اور محبین و متبعین (1) اس لئے نفس لغت کے لحاظ سے یہاں آل کے دونوں معنی ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگلے ہی نمبر پر اسی مضمون کی حضرت ابو حمید ساعدی کی جو حدیث درج کی جا رہی ہے اس میں دُرود شریف کے جو الفاظ ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں “آل” سے “گھرانے والے” ہی مراد ہیں۔ یعنی آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات اور آپ ﷺ کی نسل و اولاد، اور جس طرح ان کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خصوصی قرابت و جزئیت اور زندگی میں شرکت کا خاص شرف حاصل ہے (جو دوسرے حضرات کو حاصل نہیں ہے اگرچہ وہ درجہ میں ان سے افضل ہوں) اسی طرح یہ بھی ان کا ایک مخصوص شرف ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان پر بھی درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ اور اس سے ہرگز یہ لازم نہیں آتا کہ ازواجِ مطہرات وغیرہ جو لفظ “آل” کے مصداق ہیں، امت میں سب سے افضل ہوں، عنداللہ افضلیت کا مدار ایمان اور ایمان والے اعمال اور ایمانی کیفیات پر ہے جس کا جامع عنوان تقویٰ ہے۔ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ اس کو بالکل یوں سمجھنا چاہئے کہ ہماری اس دنیا میں بھی جب کوئی مخلص محبّ اپنے کسی محبوب بزرگ کی خدمت میں کوئی خاص مرغوب تحفہ اور سوغات پیش کرتا ہے تو اس کے پیش نظر خود وہ بزرگ اور ان کے ذاتی تعلق کی بناء پر ان کے گھر والے ہوتے ہیں اور اس مخلص کی یہ خوشی ہوتی ہے کہ یہ تحفہ ان بزرگ کے ساتھ ان کے گھر والے یعنی اہل و عیال بھی استعمال کریں، کسی کے ساتھ تعلق و محبت کا دراصل یہ فطری تقاضا ہے۔ دُرود شریف بھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک تحفہ اور سوغات ہے، اس میں آپ ﷺ کے ساتھ ساتھ آپ کے خاص متعلقین یعنی اہل و عیال کو بھی شریک کرنا بلا شبہ آپ ﷺ کی محبت کا تقاضا ہے، اور اس سے آپ ﷺ کے قلبِ مبارک کا بہت زیادہ خوش ہونا بھی ایک فطری بات ہے۔ اس کی بنیاد پر افضلیت اور مفضولیت کی کلامی بحث کرنا کوئی خوش ذوقی کی بات نہیں ہے۔ بہرحال اس عاجز کے نزدیک راجح یہی ہے کہ دُرود شریف میں آل محمدﷺ سے آپ کے گھر والے یعنی ازواجِ مطہرات اور ذریت مراد ہیں، اور اسی طرح سے آل ابراہیم علیہ السلام سے حضرت ابراہیمؑ کے گھر والے! قرآن مجید میں حضرت ابراہیمؑ کی زوجہ مطہرہ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے۔ رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ۚ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ بلاشبہ آلِ ابراہیمؑ وہی ہیں جن کو اس آیت میں اہل البیت فرمایا گیا ہے۔ دُرود شریف میں تشبیہ کی حقیقت اور نوعیت رسول اللہ ﷺ کے تلقین فرمائے ہوئے اس دُرود شریف میں اللہ تعالیٰ سے رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی آل پر صلوٰۃ اور برکت نازل کرنے کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا گیا ہے کہ ایسی صلوٰۃ اور برکت نازل فرما جیسی کہ تو نے حضرت ابراہیمؑ اور اُن کی آل پر نازل فرمائی۔ اس تشبیہ کے بارے میں ایک مشہور علمی اشکال ہے کہ تشبیہ میں مشبہ، مشبہ بہ کے مقابلہ میں کمتر ہوتا ہے اور مشبہ بہ اعلیٰ اور برتر ہوتا ہے۔ مثلاً ٹھنڈے پانی کو برف سے تشبیہ دی جاتی ہے تو پانی خواہ کتنا ہی ٹھنڈا ہو، ٹھنڈک میں بہرحال برف سے کمتر ہوتا ہے اور برف میں اس سے زیادہ ٹھنڈک ہوتی ہے۔ اس اُصول پر دُرود شریفکی مذکورہ بالا تشبیہ سے لازم آتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ اور آلِ ابراہیمؑ پر نازل ہونے والی صلوٰۃ و برکات ان صلوٰۃ و برکات سے اعلیٰ اور افضل ہوں جن کی اس دُرود پاک میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کی آل کے لئے استدعا اور التجا کی گئی ہے۔ شارحین حدیث نے اس اشکال کے بہت سے جوابات دئیے ہیں جو فتح الباری وغیرہ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس عاجز کے نزدیک سب سے زیادہ تسلی بخش جواب یہ ہے کہ تشبیہ کبھی صرف نوعیت کی تعین کے لئے بھی ہوتی ہے مثلاً ایک شخص کسی خاص قسم کے کپڑے کا ایک پرانا ٹکڑا لے کر کپڑے کی بڑی دکان پر جاتا ہے کہ مجھے ایسا کپڑا چاہئے، حالانکہ جس ٹکڑے کو وہ نمونے کے طور پر دکھا رہا ہے اور جو مشبہ بہ ہے وہ ایک پرانا اور بےقیمت ٹکڑا ہے اور اسی قسم کا جو کپڑا وہ دکاندار سے چاہتا ہے وہ ظاہر ہے کہ نیا اور قیمتی ہو گا اور اس لحاظ سے نمونہ والے ٹکڑے سے بہتر ہو گا۔ پس دُرود شریف میں تشبیہ اسی قسم کی ہے اور مطلب یہ ہے کہ جس خاص نوعیت کی صلوٰۃ و برکات سے سیدنا ابراہیمؑ و آل ابراہیمؑ کو نوازا گیا، اسی نوعیت کی صلوٰۃ و برکات سیدنا محمد ﷺ و آلِ محمد پر نازل فرمائی جائیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تمام نبیوں بلکہ ساری مخلوق میں یہ امتیازات حاصل ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنا خلیل بنایا (وَاتَّخَذَ اللَّـهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا) ان کو امامتِ کبریٰ کے عظیم شرف سے مشرف اور سرفراز فرمایا (إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا) ان کو بیت اللہ کا بانی بنایا۔ ان کے بعد سے قیامت تک کے لئے نبوت و رسالت کا سلسلہ اُن ہی کی نسل اور ان ہی کے اخلاف میں منحصر کر دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سوا کسی پر بھی اللہ تعالیٰ کی یہ نوازشیں اور عنایتیں نہیں ہوئیں اور کسی کو بھی محبوبیت و مقبولیت کا یہ مقام عالی عطا نہیں ہوا۔ پس دُرود شریف میں اللہ تعالیٰ سے یہی دعا اور التجا کی جاتی ہے کہ اسی قسم کی اور اسی نوع کی عنایتیں اور نوازشیں اپنے حبیب حضرت محمدﷺ اور ان کی آل پر بھی فرما اور محبوبیت و مقبولیت کا ویسا ہی مقام ان کو بھی عطا فرما۔ الغرض یہ تشبیہ صرف نوعیت کی تعین اور وضاحت کے لئے جس میں بسا اوقات مشبہ، مشبہ بہ کے مقابلہ میں اعلیٰ و برتر ہوتا ہے اور اس کی مثال وہی ہے جو اوپر کپڑے کی دی گئی ہے۔ دُرود شریف کا اول و آخر اللَّهُمَّ ......... إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ دُرود شریف کو اللَّهُمَّ سے شروع کر کے اللہ تعالیٰ کے دو مبارک اور پاک ناموں حمید و مجید پر ختم کیا گیا ہے۔ بعض جلیل القدر ائمہ سلف سے نقل کیا گیا ہے کہ اللَّهُمَّ اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء حسنیٰ کے قائم مقام ہے۔ اور اس کے ذریعہ دعا کرنا ایسا ہے جیسا کہ تمام اسماء حسنیٰ کے ذریعہ دعا کی جائے۔ “جلاء الافہام” میں اس پر بڑی نفیس فاضلانہ بحث کی ہے جو اہلِ علم کے لئے قابلِ دید ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ یہ معنی اللَّهُمَّ کی میم مشدد سے پیدا ہوتے ہیں اور اس کو فلسفہ لغت سے ثابت کیا ہے۔ پھر اس دعوے کی تائید میں چند ائمہ سلف کے اقوال بھی نقل کئے ہیں (1) اور حمید و مجید اللہ تعالیٰ کے یہ دو مبارک نام اس کی تمام صفاتِ جلال و جمال کے آئینہ دار ہیں حمید وہ ہے جس کی ذات میں سارے وہ محاسن و کمالات ہوں جن کی بناء پر وہ ہر ایک کی حمد و ستائش کا مستحق و سزاوار ہو۔ اور مجید وہ ہے جس کو ذاتی جلال و جبروت اور عظمت کبریائی بدرجہ کمال حاصل ہو۔ اس بناء پر إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ کا مطلب یہ ہوا کہ اے اللہ تو تمام صفاتِ جمال و کمال اور شانِ جلال کا جامع ہے اس لئے سیدنا محمدﷺ اور آلِ محمد پر صلوٰۃ اور برکت بھیجنے کی تجھ ہی سے استدعا ہے۔ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے گھر والوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت و برکت کا جہاں ذکر کیا گیا ہو وہاں بھی اللہ کے ان دونوں ناموں کی اسی خصوصیت اور امتیاز کی وجہ سے انہی کو بالکل اسی طرح خاتمہ کلام بنایا گیا ہے۔ سورہ ھود میں فرشتوں کی زبانی فرمایا گیا ہے رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ۚ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ الغرض اللَّهُمَّ سے درود شریف کا آغاز اور إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ پر اس کا اختتام اپنے اندر بڑی معنویت رکھتا ہے اور ان دونوں کلموں کی اس معنویت کا لحاظ کرنے سے درود شریف کا کیف بےحد بڑھ جاتا ہے۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيْدٌ اس دُرود شریف کے الفاظ کی روایتی حیثیت حضرت کعب بن عجرہ کی روایت سے دُرود شریف کے جو الفاظ اوپر نقل کئے گئے ہیں وہ امام بخاریؒ نے صحیح بخاری کی کتاب الانبیاء میں روایت کئے ہیں (جلد اول ص ۴۴۷) اس کے علاوہ کم سے کم دو جگہ اور یہ حدیث امام بخاریؒ نے روایت کی ہے۔ ایک سورہ احزاب کی تفسیر میں (ص ۷۰۸، ج ۲)اور دوسرے کتاب الدعوات میں ص ۹۴۱، ج: ۲) ان دونوں جگہوں پر دُرود شریف میں “كَمَا صَلَّيْتَ” اور “كَمَا بَارَكْتَ” کے بعد “عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ” کی جگہ صرف “عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ” روایت کیا ہے اور صحیح مسلم کی روایت میں بھی اسی طرح ہے لیکن حافظ ابنِ حجرؒ نے اس حدیث کی صحیحین اور غیر صحیحین کی تمام روایات کو سامنے رکھتے ہوئے فتح الباری میں اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ کعب بن عجرہ کی روایت میں دُرود شریف کے پورے الفاظ یہی ہیں جو یہاں نقل کئے گئے ہیں اور جن روایات میں صرف “عَلَى إِبْرَاهِيمَ” یا “عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ” وارد ہوا ہے وہاں بعض راویوں کے حافظہ کے فرق سے ایسا ہو گیا ہے۔ (1) (فتح الباری جزء ۲۶، ص ۵۱) حضرت کعب بن عجرہ کے علاوہ اور بھی متعدد صحابہ کرام سے قریب قریب یہی مضمون اور درود شریف کے قریباً یہی الفاظ کتبِ حدیث میں روایت کئے گئے ہیں۔ وہ تمام روایات آگے پیش کی جا رہی ہیں۔

1359Maarif-ul-Hadith

درود شریف کے خاص کلمات

عَنْ أَبِيْ حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ قَالَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " (رواه البخارى)

ضرت ابو حمید ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ حضرت! ہم آپ پر صلوٰۃ (درود) کس طرح پڑھا کریں؟ آپ صﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے یوں عرض کیا کرو۔ “اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ” اے اللہ! اپنی خاص نوازش اور عنایت و رحمت فرما حضرت محمدﷺ پر اور آپ کی (پاک) بیبیوں اور آپ ﷺ کی نسل پر جیسے کہ آپ نے نوازش اور عنایت و رحمت فرمائی آلِ ابراہیم پر، اور خاص برکت نازل فرما حضرت محمدﷺ پر اور آپ ﷺکی (پاک) بیبیوں اور آپ ﷺ کی نسل پر جیسے کہ آپ نے برکتیں نازل فرمائی آلِ ابراہیم پر، اے اللہ تو ساری حمد و ستائش کا سزاوار ہے اور تیرے ہی لئے ساری عظمت و بڑائی ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں دُرود شریف کے جو الفاظ تلقین فرمائے گئے ہیں وہ کعب بن عجرہؓ والی پہلی حدیث سے کچھ مختلف ہیں۔ پہلی حدیث میں “اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ” اور “اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ” فرمایا گیا تھا، اور اس حدیث میں دونوں جگہ “وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ” کے بجائے “وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ” فرمایا گیا ہے، اسی بناء پر اس عاجز نے پہلی حدیث کی تشریح میں ان حضرات کے قول کو راجح قرار دیا تھا جنہوں نے کہا ہے کہ دُرود شریف میں آلِ محمد سے مراد ازواجِ مطہرات اور آپ ﷺ کی ذریت طیبہ ہے۔ ایک دوسرا خفیف لفظی فرق یہ بھی ہے کہ پہلی حدیث میں “كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ” اور “كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ” فرمایا گیا تھا اور اس حدیث میں دونوں جگہ صرف “عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ” ہے۔ اور حضرت ابو حمید ساعدی کی اس روایت کے علاوہ دوسرے اکثر صحابہ کی حدیثوں میں بھی جو آگے درج ہوں گی، اسی طرح صرف “عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ” وارد ہوا ہے۔ لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا یہ صرف لفظی فرق ہے۔ اس سے معنی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ عربی محاورات میں جب کسی کا نام لے کر اس کی آل کا ذکر کیا جائے اور خود اس کا ذکر نہ کیا جائے تو وہ بھی اس میں شامل ہوتا ہے مثلاً قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے “ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ” (اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ساری قوموں میں برگزیدہ کیا آدمؑ کو اور نوحؑ کو اور آل ابراہیم) کو ظاہر ہے کہ یایہاں آلِ ابراہیم میں کود حضرت ابراہیم بھی شامل ہیں۔ اسی طرح “وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ” اور “أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ” میں خود فرعون بھی شامل ہے۔ بہرحال ان دونوں حدیثوں میں دُرود شریف کے جو کلمات وارد ہوئے ہیں ان میں خفیف سا فرق صرف الفاظ میں ہے۔ اسی لئے علماء و فقہا نے تصریح کی ہے کہ ان میں سے ہر ایک دُرود نماز میں پڑھا جا سکتا ہے۔ اور اسی طرح دوسرے صحابہ کرام کی روایتوں سے آئندہ درج ہونے والی حدیثوں میں دُرود شریف کے جو کلمات آ رہے ہیں جن میں الفاظ کی کچھ کمی بیشی ہے، وہ سب بھی نماز میں پڑھے جا سکتے ہیں۔

1360Maarif-ul-Hadith

درود شریف کے خاص کلمات

عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللهُ تَعَالَى أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُولُوا اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ» (رواه مسلم)

حضرت ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ ہم کچھ لوگ سعد بن عبادہ کی نشست گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے، وہیں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے تو (حاضرین مجلس میں سے) بشیر بن سعد نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو آپ پر صلوٰۃ بھیجنے کا حکم دیا ہے (ہمیں بتائیے کہ) ہم کس طرح آپ ﷺ پر صلوٰۃ بھیجا کریں؟ حدیث کے راوی ابو مسعود انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کچھ دیر تک خاموش رہے اور آپ ﷺ نے بشیر بن سعد کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا (جس سے ہمیں یہ شبہ ہو کہ شاید یہ سوال آپ کو اچھا نہیں لگا) یہاں تک کہ ہمارے دل میں آیا کہ کاش یہ سوال نہ کیا گیا ہوتا پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد (اس سوال کا جواب دیتے ہوئے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یوں کہا کرو: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ اے اللہ! اپنی خاص نوازش اور عنایت و رحمت فرما حضرت محمدپر اور ان کے گھرانے والوں پر جس طرح تو نے نوازش و عنایت اور رحمت فرمائی حضرت ابراہیم کے گھرانے پر، اور اپنی خاص برکتیں نازل فرما حضرت محمداور ان کے گھرانے پر، جسطرح تونے برکتیں نازل فرمائیںحضرت ابراہیم کے گھرانے پر، ساری حمد و ستائش کا سزاوار ہے اور تیرے ہی لئے ساری عظمت و بزرگی ہے اور سلام اس طرح جس طرح کہ تمہیں معلوم ہو چکا ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح حضرت ابو مسعود انصاری کی اس حدیث کی طبری کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جب بشیر بن سعد نے آپ ﷺ سے سوال کی اکہ ہم آپ ﷺ پر کس طرح درود بھیجا کریں؟ تو آپ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ پر وحی آئی (فَسَكَتَ حَتَّى جَاءَهُ الْوَحْىُ) اس کے بعد آپ ﷺ نے مندرجہ بالا دُرود تلقین فرمایا۔ اس اضافہ سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ آپ کی خاموشی وحی کے انتظار میں تھی اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ دُرود شریف کے کلمات آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعلیم فرمائے گئے تھے۔ اور مزید یہ بھی معلوم ہو گیا کہ دُرود کے بارے میں آپ ﷺ سے پہلی دفعہ سعد بن عبادہ کی مجلس ہی میں کیا گیا تھا جس کے جواب میں آپ ﷺ کو وحی کا انتظار کرنا پڑا۔ دوسرے بعض صحابہ (کعب بن عجرہ اور ابو حمید ساعدی وغیرہ) کی روایات میں جو اسی طرح کے سوال کا ذکر ہے وہ یا تو اسی مجلس کے واقعہ کا بیان ہے یا مختلف حضرات نے مختلف موقعوں پر رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تھا اور آپ ﷺ نے جواب میں ان کو دُرود شریف کے وہ کلمات تلقین فرمائے جو ان کی روایات میں وارد ہیں۔ اکثر احادیث کے سیاق اور الفاظ و کلمات کے فرق سے اسی دوسرے احتمال کی تائید ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت ابو سعید انصاری کی اس حدیث کی امام احمد اور ابن خزیمہ اور حاکم وغیرہ کی روایات میں ایک اضافہ یہ بھی ہے کہ بشیر بن سعد نے دُرود بھیجنے کے بارے میں سوال کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا تھا: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ اِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا عَلَيْكَ فِىْ صَلَاتِنَا جب ہم نماز میں آپ ﷺ پر درود بھیجیں تو کس طرح بھیجا کریں؟ اس سے معلوم ہوا کہ یہ سوال خاص طور سے نماز میں دُرود پڑھنے کے بارے میں کیا گیا تھا اور یہ دُرود ابراہیمی رسول اللہ ﷺ نے خصوصیت سے نماز میں پڑھنے کے لئے تلقین فرمایا۔ حضرت ابو مسعود انصاریؓ کی اس روایت میں بھی ابو حمید ساعدی کی حدیث کی طرح “كَمَا صَلَّيْتَ” اور “كَمَا بَارَكْتَ” کے بعد “عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ” روایت کیا گیا ہے اور آخر میں “إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ” سے پہلے “فِى الْعَالَمِيْنَ” کا اضافہ بھی ہے۔