گناہوں کی سیاہی اور توبہ و استغفار سے اس کا ازالہ
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَّاءٌ، وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ» (رواه الترمذى وابن ماجه والدارمى)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر آدمی خطا کار ہے (کوئی نہیں ہے جس سے کبھی کوئی خطا اور لغزش نہ ہو) اور خطاکاروں میں وہ بہت اچھے ہیں جو (خطا و قصور کے بعد) مخلصانہ توبہ کریں، اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو جائیں۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی)
گناہوں کی سیاہی اور توبہ و استغفار سے اس کا ازالہ
عَنْ عَبْدِ اللهِ ابن مسعود قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ» (رواه ابن ماجه والبيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گناہ سے توبہ کر لینے والا گنہگار بندہ بالکل اس بندے کی طرح ہے جس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔ (سنن ابن ماجہ، شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ سچی توبہ کے بعد گناہ کا کوئی اثر اور داغ دھبہ باقی نہیں رہتا، اور بعض روایات میں ہے کہ آدمی گناہوں سے توبہ کے بعد ایسا بے گناہ ہو جاتا ہے جیسا کہ وہ اپنی پیدائش کے وقت بےگناہ تھا (كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ) اور وہ احادیث ان شاء اللہ آگے درج ہوں گی جن سے معلوم ہو گا کہ توبہ کا نتیجہ صرف اتنا ہی نہیں ہوتا کہ گناہ معاف ہو جائیں،اور معصیات کی ظلمت اور سیاہی کے داغ دھبے مٹا دئیے جائیں، بلکہ تائب بندہ اللہ کا محبوب اور پیارا بن جاتا ہے، اور اس کی توبہ سے اس کو بےحد خوشی ہوتی ہے۔ اللهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ التَّوَّابِينَ
غفاریت کے ظہور کے لئے گناہوں کی ضرورت
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ: كُنْتُ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَوْلَا أَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللهُ خَلْقًا يُذْنِبُونَ يَغْفِرُ لَهُمْ» (رواه مسلم)
حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی وفات کے قت فرمایا کہ: میں نے ایک بات رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی اور تم سے اب تک چھپائی تھی (اب جبکہ میرا ٓخری وقت ہے وہ میں تم کو بتاتا ہوں اور وہ امانت تمہارے سپرد کرتا ہوں) میں نے حضور ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے اگر بالفرض تم سب (ملائکہ کی طرح) بےگناہ ہو جاؤ اور تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو، تو اللہ اور مخلوق پیدا کرے گا جن سے گناہ بھی سرزد ہوں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کا فیصلہ فرمائے گا (اور اس طرح اسکی شانِ غفاریت کا اظہار ہو گا)
تشریح
اس حدیث سے یہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ کو معاذ اللہ گناہ مطلوب ہیں اور وہ گناہگاروں کو پسند فرماتا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد کے ذریعہ گناہوں اور گناہگاروں کی ہمت افزائی ہے، بڑی جاہلانہ غلط فہمی ہو گی۔ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہے کہ لوگوں کو گناہوں سے بچایا جائے اور اعمالِ صالحہ کی ترغیب دی جائے۔ دراصل حدیث کا منشاء اور مدعا اللہ تعالیٰ کی شانِ غفاریت کو ظاہر کرنا ہے، اور مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی صفتِ خالقیت کے ظہور کے لئے ضروری ہے کہ کوئی مخلوق پیدا کی جائے اور فرمائے۔ علیٰ ہذا جس طرح اللہ تعالیٰ کی صفتِ ہدایت کے لئے ضروری ہے کہ کوئی مخلوق ہو جس میں ہدایت لینے کی صلاحیت ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو ہدایت ملے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی شانِ غفاریت کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسی مخلوق ہو جس سے گناہ بھی سرزد ہوں پھر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں استغفار کرے اور گناہوں کی معافی اور بخشش چاہے، اور پھر اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت اور بخشش کا فیصلہ فرمائے۔ اس لئے ناگزیر ہے اور ازل سے طے ہے کہ اس دنیا میں گناہ کرنے والے بھی ہوں گے اُن میں سے جن کو توفیق ملے گی وہ استغفار بھی کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کا فیصلہ بھی فرمائے گا اور اس طرح اس کی صفتِ مغفرت اور شانِ غفاریت کا ظہور ہو گا۔
حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے حضور ﷺ کے اس ارشاد کا اپنی زندگی میں اس خیال سے کبھی تذکرہ نہیں کیا کہ کم فہم لوگ غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیں پھر اپنے آخری وقت میں اپنے خاص لوگوں سے اظہار فرما کر امانت گویا اُن کے سپرد کر دی۔
یہی مضمون الفاظ کے تھوڑے سے فرق کے ساتھ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے بھی مروی ہے۔
بار بار گناہ اور بار بار استغفار کرنے والے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَبْدًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ: رَبِّ أَذْنَبْتُ فَاغْفِرْهُ، فَقَالَ رَبُّهُ: أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ؟ غَفَرْتُ لِعَبْدِي، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا، َقَالَ: رَبِّ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ، فَقَالَ: أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ؟ غَفَرْتُ لِعَبْدِي، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا، قَالَ: قَالَ: أَذْنَبْتُ ذَنْبًا آخَرَ فَاغْفِرْهُ لِي، فَقَالَ: أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ؟ غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَفْعَلْ مَا شَاءَ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا:اللہ کے کسی بندے نے کوئی گناہ کیا پھر اللہ سے عرض کیا اے میرے مالک! مجھ سے گناہ ہو گیا، مجھے معاف فرما دے! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی مالک ہے جو گناہوں پر پکڑ بھی سکتا ہے، اور معاف بھی کر سکتا ہے۔ میں نے اپنے بندے کا گناہ بخش دیا اور اس کو معاف کر دیا۔ اس کے بعد جب تک اللہ نے چاہا وہ بندہ گناہ سے رُکا رہا، اور پھر کسی وقت گناہ کر بیٹھا اور پھر اللہ سے عرض کیا میرے مالک! مجھ سے گناہ ہو گیا تواس کو بخش دے اور معاف فرما دے، تو اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی مالک ہے جو گناہ و قصور معاف بھی کر سکتا ہے اور پکڑ بھی سکتا ہے۔ میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف کر دیا۔ اس کے بعد جب تک اللہ نے چاہا وہ بندہ گناہ سے رُکا رہا، اور کسی وقت پھر گناہ کر بیٹھا اور پھر اللہ تعالیٰ سے عرض کیا اے میرے مالک و مولیٰ! مجھ سے گناہ ہو گیا تو مجھے معاف فرما دے اور میرا گناہ بخش دے! تو اللہ تعالیٰ نے پھر ارشاد فرمایا کہ میرے بندے کو یقین ہے کہ اس کا کوئی مالک و مولیٰ ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے، اور سزا بھی دے سکتا ہے۔ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اب جو اس کا جی چاہا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے بار بار گناہ اور بار بار استغفار کرنے والے جس بندے کا واقعہ بیان فرمایا ہے، بعض شارحین نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ آپ ﷺ ہی کا کوئی امتی ہو اور ممکن ہے کہ انبیاء سابقین میں سے کسی کا امتی ہو، لیکن اس عاجز کے نزدیک زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ یہ کسی خاص اور معین واقعہ کا بیان نہیں ہے، بلکہ ایک کردار کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لاکھوں کروڑوں بندے ہوں گے جن کا حال اور کردار یہی ہے کہ اللہ اور آخرت پر ایمان کے باوجود اُن سے گناہ ہو جاتا ہے، اور پھر وہ نادم و پشیمان ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور میں استغفار کرتے ہیں، اور اس کے بعد بھی ان سے بار بار گناہ سرزد ہوتے ہیں، اور وہ ہر بار سچے دل سے استغفار کرتے ہیں، ایسے بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہی کریمانہ معاملہ ہے جو اس حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے۔
آخری دفعہ کے استغفار اور اس پر معافی کے اعلان کے ساتھ فرمایا گیا ہے: “غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَفْعَلْ مَا شَاءَ”(یعنی میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اب اس کا جو جی چاہے کرے) اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اب اس کو گناہوں کی بھی اجازت دیدی گئی ہے، بلکہ ان الفاظ میں بندے کے مالک و مولیٰ کی طرف سے صرف اس لطف و کرم کا اعلان فرمایا گیا ہے کہ: اے بندے تو جتنی بار بھی گناہ کر کے اس طرح استغفار کرتا رہے گا میں تجھے معافی دیتا رہوں گا اور تو اپنے اس صادق و مؤمنانہ استغفار کی وجہ سے گناہوں کے زہر سے ہلاک نہ ہو گا، بلکہ یہ استغفار ہمیشہ تریاق کا کام کرتا رہے گا۔
اللہ تعالیٰ نے جن بندوں کا کچھ ذوق نصیب فرمایا ہے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ مومن بندے کے ضمیر پر ایسے کریمانہ اعلان کا کیا اثر پڑے گا، اور اس کے دل میں مالک کی کامل وفاداری اور فرنبرداری کا کیسا جذبہ اُبھرے گا۔
اس حدیث کی صحیح مسلم کی روایت میں تصریح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیث کا یہ پورا مضمون اللہ تعالیٰ کے حوالہ سے بیان فرمایا۔ اس روایت کی بناء پر یہ “حدیث قدسی” ہے۔
بار بار گناہ اور بار بار استغفار کرنے والے
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ، وَإِنْ عَادَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةٍ» (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو بندہ (گناہ کر کے) استغفار کرے (یعنی سچے دل سے اللہ سے معافی مانگے) وہ اگر دن میں ستر دفعہ بھی پھر وہی گناہ کرے تو (اللہ کے نزدیک) وہ گناہ پراصرار کرنے والوں میں نہیں ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
گناہ پر اصرار، یعنی بےفکری اور بےخوفی کے ساتھ گناہ کرتے رہنا اور اس پر دائم و قائم رہنا بڑی بدبختی اور بہت برے انجام کی نشانی ہے، اور ایسا عادی مجرم گویا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق نہیں ہے۔ اس حدیث میں واضح فرمایا گیا ہے کہ اگر بندہ گناہ کے بعد اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے یعنی معافی مانگے تو پھر بار بار گناہ کرنے کے باوجود وہ “اصرار کرنے والوں” میں سے نہیں ہے۔ مگر ملحوظ رہے کہ استغفار صرف زبان سے نکلنے والے الفاظ کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ دل کی ایک طلب ہے، زبان اس کی صرف ترجمانی کرتی ہے، اگر استغفار اور معافی طلبی دل سے ہو تو بلاشبہ ستر دفعہ بلکہ ستر ہزار دفعہ گناہ کرنے کے بعد بھی آدمی رحمتِ الٰہی کا مستحق ہے، اور گناہ پر اصرار کرنے والے مجرموں میں سے نہیں ہے۔
کس وقت تک کی توبہ قابلِ قبول ہے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ» (رواه الترمذى وابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک غرغرہ کی کیفیت شروع نہ ہو۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
موت کے وقت جب بندے کی روح جسم سے نکلنے لگتی ہے تو حلق کی نالی میں ایک قسم کی آواز پیدا ہو جاتی ہے، جسے عربی میں “غرغرہ” اور اردو میں “خرہ چلنا” کہتے ہیں۔ اس کے بعد زندگی کی کوئی آس اور امید نہیں رہتی، یہ موت کی قطعی اور آخری علامت ہے۔ اس حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ غرغرہ کی اس کیفیت کے شروع ہونے سے پہلے پہلے بندہ اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ غرغرہ کی کیفیت شروع ہونے کے بعد آدمی کا رابطہ اور تعلق اس دنیا سے کٹ کر دوسرے عالم سے جُڑ جاتا ہے، اس لئے اس وقت اگر کوئی کافر اور منکر ایمان لائے یا کوئی نافرمان بندہ گناہوں اور نافرمانیوں سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے یہاں قابلِ قبول نہ ہو گا۔ ایمان اور توبہ اسی وقت تک کی معتبر اور قابلِ قبول ہے جب تک زندگی کی آس اور امید ہو، اور موت آنکھوں ے سامنے نہ آ گئی ہو۔ قرآنِ پاک میں بھی صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے:
وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّىٰ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ
ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں جو برابر گناہ کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سامنے موت آ کھڑی ہو تو کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں۔
حدیث کے مضمون کا ماخذ بظاہر یہی آیت ہے اور اس کا پیغام یہی ہے کہ:
بندے کو چاہئے کہ توبہ کے معاملہ میں ٹال مٹول نہ کرے، معلوم نہیں کس وقت موت کی گھڑی آ جائے اور خدانخواستہ توبہ کا وقت ہی نہ ملے۔
مرنے والوں کے لئے سب سے بہتر تحفہ استغفار
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا الْمَيِّتُ فِي الْقَبْرِ إِلَّا كَالْغَرِيقِ الْمُتَغَوِّثِ، يَنْتَظِرُ دَعْوَةً تَلْحَقُهُ مِنْ أَبٍ أَوْ أُمٍّ أَوْ أَخٍ أَوْ صَدِيقٍ، فَإِذَا لَحِقَتْهُ كَانَتْ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُدْخِلُ عَلَى أَهْلِ الْقُبُورِ مِنْ دُعَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، وَإِنَّ هَدِيَّةَ الْأَحْيَاءِ إِلَى الْأَمْوَاتِ الِاسْتِغْفَارُ لَهُمْ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قبر میں مدفون مُردے کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہے جو دریا میں ڈوب رہا ہو اور مدد کے لئے چیخ پکار رہا ہو۔ وہ بےچارہ انتظار کرتا ہے کہ ماں یا باپ یا بھائی یا کسی دوست آشنا کی طرف سے دعائے رحمت و مغفرت کا تحفہ پہنچے، جب کسی طرف سے اس کو دعا کا تحفہ پہنچتا ہے تو وہ اس کو دنیا ومافیہا سے زیادہ عزیز و محبوب ہوتا ہے۔ اور دنیا میں رہنے بسنے والوں کی دعاؤں کی وجہ سے قبر کے مُردوں کو اتنا عظیم ثواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے جس کی مثال پہاڑوں سے دی جا سکتی ہے۔ اور مُردوں کے لئے زندوں کا خاص ہدیہ ان کے لئے دعائے مغفرت ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
مرنے والوں کے لئے سب سے بہتر تحفہ استغفار
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَرْفَعُ الدَّرَجَةَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَّى لِي هَذِهِ؟ فَيَقُولُ: بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ " (رواه احمد)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں کسی مرد صالح کا درجہ ایک دم بلند کر دیا جاتا ہے تو وہ جنتی بندہ پوچھتا ہے کہ اے پروردگار! میرے درجہ اور مرتبہ میں یہ ترقی کس وجہ سے اور کہاں سے ہوئی؟ جواب ملتا ہے کہ تیرے واسطے تیری فلاں اولا کے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے۔ (مسند احمد)
تشریح
اس حدیث میں اولاد کی دعا سے درجہ میں ترقی کا ذکر صرف تمثیلا کیا گیا ہے، ورنہ دوسرے اہلِ ایمان کی دعائیں بھی اسی طرح نفع مند ہوتی ہیں۔ زندگی میں جس طرح سب سے بڑا حق اولاد پر والدین کا ہے اور ان کی خدمت و اطاعت فرائض میں سے ہے، اسی طرح مرنے کے بعد اولاد پر والدین کا خاص حق ہے کہ ان کے لئے رحمت و مغفرت کی دعا کرتے رہیں۔ مرنے کے بعد ان کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا یہی خاص راستہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور ابو ہریرہ ؓ کی ان دونوں حدیثوں کا مقصد صرف ایک حقیقت کی اطلاع دینا ہی نہیں ہے بلکہ ایک بلیغ انداز میں اولاد اور دوسرے اقارب و متعلقین کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ مرنے والوں کے لئے مغفرت و رحمت کی دعائیں کرتے رہیں۔ ان کے یہ تحفے قبروں میں اور جنت تک مرحومین کو پہنچتے رہیں گے۔
راقم السطور عرض کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی کبھی اپنے بعض بندوں کو اس کا مشاہدہ بھی کرا دیتا ہے کہ کسی کی دعاؤں سے کسی بندے کو اس عالم میں کیا ملا، اور اس کے حال اور درجہ میں کیسی ترقی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ان حقائق کا یقین نصیب فرمائے، اور ان سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔
عام مومنین کے لئے استغفار
عن عبادة بن الصامت قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "من استغفر للمؤمنين والمؤمنات كتب له بكل مؤمن ومؤمنة حسنة " (رواه الطبرانى فى الكبير)
حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بندہ عام ایمان والوں اور ایمان والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے گا اس کے لئے ہر مومن مرد و عورت کے حساب سے ایک ایک نیکی لکھی جائے گی۔ (معجم کبیر للطبرانی)
تشریح
قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ: “آپ اپنے لئے اور عام مومنین و مومنات کے لئے استغفار یعنی اللہ تعالیٰ سے معافی اور مغفرت کی استدعا کیا کریں (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ)
یہی حکم ہم امتیوں کے لئے بھی ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی بڑی ترغیب دی اور بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ اس سلسلہ کی دو حدیثیں ذیل میں پڑھئے:
تشریح ..... کسی صاحبِ ایمان بندے یا بندی کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور بخشش کی دعا کرنا، ظاہر ہے کہ اس کے ساتھ بہت بڑا احسان اور اس کی بہت بڑی خدمت ہے اس لئے جب کسی بندے نے عام اہلِ ایمان (مؤمنین و مؤمنات) کے لئے استغفار کیا اور ان کے لئے اللہ کی بخشش کی دعا کی تو فی الحقیقت اس ن ے اولین و آخرین، زندہ اور مردہ سب ہی اہل ایمان کی خدمت اور ان کے ساتھ نیکی کی اس لئے ہر ایک کے حساب میں اس کی یہ نیکی لکھی جائے گی۔ سبحان اللہ! ہمارے لئے لاتعداد نیکیوں کے کمانے کا کیسا راستہ کھولا گیا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔ جمیع مؤمنین و مؤمنات کے لئے دعائے مغفرت کے بہترین الفاظ وہ ہیں جو قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نقل کئے گئے ہیں:
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ
اے ہمارے رب! مجھے بخش دے، اور میرے ماں باپ کو بخش دے، اور تمام ہی ایمان والوں کی مغفرت فرما دے قیامت کے دن۔
عام مومنین کے لئے استغفار
عن أبي الدرداء قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "من استغفر للمؤمنين والمؤمنات كل يوم سبعا وعشرين مرة كان من الذين يستجاب لهم ويرزق بهم أهل الأرض" (رواه الطبرانى فى الكبير)
حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“جو بندہ عام مؤمنین و مؤمنات کے لئے (ہر روز ۲۷ دفعہ) اللہ تعالیٰ سے معافی اور مغفرت کی دعا کرے گا وہ اللہ کے اُن مقبول بندوں میں سے ہو جائے گا جن کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، اور جن کی برکت سے دنیا والوں کو رزق ملتا ہے ”۔ (معجم کبیر طبرانی)
تشریح
اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت ہی محبوب ہے کہ اس کے بندوں کی خدمت و خیر خواہی اور ان کو نفع پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ ایک حدیث میں ہے:
الْخَلْقُ عِيَالُ اللهِ، وَأَحَبُّ الْعِبَادِ إِلَى اللهِ أَنْفَعُهُمْ لِعِيَالِهِ
سب مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اس لئے لوگوں میں اللہ کو زیادہ محبوب وہ بندے ہیں جو اس کی مخلوق کو زیادہ نفع پہنچائیں۔
پھر جس طرح مخلوق کے لئے کھانے، کپڑے کے قسم کی زندگی کی ضروریات فراہم کرنا اور ان کو راحت و آرام پہنچانا وغیرہ اس دنیا میں ان کی خدمت اور نفع رسانی کی صورتیں ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ سے بندوں کے لئے مغفرت اور بخشش کی دعا کرنا بھی اُخروی زندگی کے لحاظ سے ان کی بہت بڑی خدمت اور ان کے ساتھ بہت بڑی نیکی ہے، اور اس کی قدر و قیمت آخرت میں اس وقت معلوم ہو گی جب یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی کہ کسی کے استغفار نے کسی کو کیا دلوایا اور کتنا نفع پہنچایا۔ پس جو مخلص بندے اخلاص اور دل کی گہرائی سے ایمان والے بندوں اور بندیوں کے لئے مغفرت اور بخشش کی دعائیں کرتے ہیں اور دن رات میں بار بار کرتے ہیں (جس کا کورس حدیث میں ۲۷ بتایا گیا ہے) وہ تمام مؤمنین و مؤمنات کے خاص الخاص محسن اور گویا آخرت کے لحاظ سے “اصحاب خدمت” ہیں اور اپنے اس عمل سے اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ایسے مقرب اور مقبول ہو جاتے ہیں کہ ان کی دعائیں سنی جاتی ہیں، اور ان کی دعاؤں کی برکت سے دنیا والوں کو اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے۔
لیکن یہ بات یہاں قابل لحاظ ہے کہ اس دنیا میں تو ہر انسان بلکہ ہر جاندار کی خدمت اور اس کو ضروری درجہ کا آرام پہنچانے کی کوشش نیکی اور کارِ ثواب ہے۔ حدیث پاک میں فرمایا گیا ہے: “كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ صَدَقَةٌ” لیکن اللہ سے مغفرت اور جنت کی دعا صرف اہلِ ایمان ہی کے لئے کی جا سکتی ہے۔ کفر و شرک والے جب تک اس سے توبہ نہ کریں مغفرت اور جنت کے قابل نہیں ہیں، اس لئے ان کے واسطے مغفرت اور جنت کی دعا بھی نہیں کی جا سکتی۔ ماں ان کے واسطے ہدایت اور توبہ کی توفیق کی دعا کرنی چاہئے، جس کے بعد ان کے لئے مغفرت اور جنت کا دروازہ کھل سکے۔ ان کے حق میں یہی دعا کرنا ان کے ساتھ بہت بڑی نیکی اور خیر خواہی ہے۔
توبہ و انابت سے بڑے سے بڑے گناہوں کی معافی: سو آدمیوں کا قاتل سچی توبہ سے بخش دیا گیا
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ: لَا، فَقَتَلَهُ، فَكَمَّلَ بِهِ مِائَةً، ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ عَالِمٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ، فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ؟ انْطَلِقْ إِلَى أَرْضِ كَذَا وَكَذَا، فَإِنَّ بِهَا أُنَاسًا يَعْبُدُونَ اللهَ فَاعْبُدِ اللهَ مَعَهُمْ، وَلَا تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ، فَإِنَّهَا أَرْضُ سَوْءٍ، فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا نَصَفَ الطَّرِيقَ أَتَاهُ الْمَوْتُ، فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ، فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ: جَاءَ تَائِبًا مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَى اللهِ، وَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ: إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ، فَأَتَاهُمْ مَلَكٌ فِي صُورَةِ آدَمِيٍّ، فَجَعَلُوهُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ: قِيسُوا مَا بَيْنَ الْأَرْضَيْنِ، فَإِلَى أَيَّتِهِمَا كَانَ أَدْنَى فَهُوَ لَهُ، فَقَاسُوهُ فَوَجَدُوهُ أَدْنَى إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي أَرَادَ، فَقَبَضَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ " (رواه البخارى ومسلم واللفظ له)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ تم سے پہلے کسی امت میں ایک آدمی تھا جس نے اللہ کے ننانوے بندے قتل کئے تھے (ایک وقت اس کے دل میں ندامت اور اپنے انجام اور آخرت کی فکر پیدا ہوئی) تو اس نے لوگوں سے دریافت کیا کہ اس علاقہ میں سب سے بڑا عالم کون ہے (تا کہ اس سے جا کر پوچھے کہ میری بخشش کی کیا صورت ہو سکتی ہے) لوگوں نے اس کو ایک راہب (کسی بزرک درویش) کے بارے میں بتایا۔ چنانچہ وہ ان کے پاس گیا اور ان سے عرض کیا کہ میں (ایسا بدبخت ہوں) جن نے ننانوے خون کئے ہیں، تو کیا ایسے آدمی کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ (اور وہ بخشا جا سکتا ہے؟) اس راہب بزرگ نے کہا: بالکل نہیں، تو ۹۹ آدمیوں کے اس اس قاتل نے اس بزرگ راہب کو بھی قتل کر ڈالا اور سو کی گنتی پوری کر دی (لیکن پھر اس کے دل میں وہی خلش اور فکر پیدا ہوئی) اور پھر اس نے کچھ لوگوں سے کسی بہت بڑے عالم کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے اس کو کسی بزرگ عالم کا پتہ بتا دیا، وہ ان کے پاس بھی پہنچا اور کہا کہ: میں نے سو خون کئے ہیں تو کیا ایسے مجرم کی توبہ بھی قبول ہو سکتی ہے (اور وہ بخشا جا سکتا ہے؟) انہوں نے کہا: ہاں ہاں! (ایسے کی توبہ بھی قبول ہوتی ہے) اور کون ہے جو اس کے اور توبہ کے درمیان حائل ہو سکے۔ (یعنی کسی مخلوق میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اس کی توبہ کو قبول ہونے سے روک دے۔ پھر انہوں نے کہا میں تجھے مشورہ دیتا ہوں کہ) تو فلاں بستی میں چلا جا، وہاں اللہ کے عبادت گزار کچھ بندے رہتے ہیں تو بھی (وہیں جا پڑ اور) ان کے ساتھ عبادت میں لگ جا (اس بستی پر خدا کی رحمت برستی ہے) اور پھر وہاں سے کبھی اپنی بستی میں نہ آ، وہ بڑی خراب بستی ہے۔ چنانچہ وہ اس دوسری بستی کی طرف چل پڑا۔ یہاں تک کہ جب آدھا راستہ اس نے طے کر لیا تو اچانت اس کو موت آ گئی۔ اب اس کے بارے میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں نزاع ہوا۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ توبہ کر کے آیا ہے اور اس نے صدقِ دل سے اپنا رخ اللہ کی طرف کر لیا ہے (اس لئے یہ رحمت کا مستحق ہو چکا ہے) اور عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے کبھی بھی کوئی نیک عمل نہیں کیا ہے (اور یہ سو خون کر کے آیا ہے اس لئے یہ سخت عذاب کا مستحق ہے) اس وقت ایک فرشتہ (اللہ کے حکم سے) آدمی کی شکل میں آیا، فرشتوں کے دونوں گروہوں نے اس کو حکم مان لیا۔ اس نے فیصلہ دیا کہ دونوں بستیوں تک کے فاصلہ کی پیمائش کر لی جائے (یعنی شر و فساد اور خدا کے عذاب والی وہ بستی جس سے وہ چلا تھا اور اللہ کے عبادت گزار بندوں والی وہ قابلِ رحمت بستی جس کی طرف وہ جا رہا تھا) پھر جس بستی سے وہ نسبتا ً اس بستی سے قریب ہو اس کو اسی کا مان لیا جائے، چنانچہ پیمائش کی گئی تو وہ نسبتاً اس بستی سے قریب پایا گیا جس کے ارادہ سے وہ چلا تھا، تو رحمت کے فرشتوں نے اس کو اپنے حساب میں لے لیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت بے حد وسیع ہے، اور اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ توبہ کرنے اور معافی مانگنے پر بڑے سے بڑا گناہ معاف فرما دیتا ہے، اور بڑے سے بڑے پاپیوں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے۔ اگرچہ اس میں قہر و جلال کی صفت بھی ہے، اور یہ صفت بھی اس کی شانِ عالی کے مطابق بدرجہ کمال ہے، لیکن وہ انہی مجرموں کے لئے ہے جو جرائم اور گناہ کرنے کے بعد بھی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع نہ ہوں اور اس سے معافی اور مغفرت نہ مانگیں، بلکہ اپنے مجرمانہ رویہ ہی پر قائم رہیں اور اسی حال میں دنیا سے چلے جائیں۔ مندرجہ ذیل حدیثوں کا یہی مدعا اور یہی پیغام ہے۔
تشریح ..... یہ حدیث دراصل صرف ایک جزئی واقعہ کا بیان نہیں ہے بلکہ اس پیرائے میں رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمت کی وسعت اور اس کے کمال کو بیان فرمایا ہے، اور اس کی روح اور اس کا خاص پیغام یہی ہے کہ بڑے سے بڑا گنہگار اور پاپی بھی اگر سچے دل سے اللہ کے حضور میں توبہ اور آئندہ کے لئے فرمانبرداری والی زندگی اختیار کرنے کا ارادہ کر لے تو وہ بھی بخش دیا جائے گا اور ارحم الراحمین کی رحمت بڑھ کر اس کو اپنے آغوش میں لے لے گی، اگرچہ اس توبہ و انابت کے بعد وہ فوراً ہی اس دنیا سے اُٹھا لیا جائے اور اسے اس کو اپنے آغوش میں لے لے گی، اگرچہ اس توبہ و انابت کے بعد وہ فوراً ہی اس دنیا سے اٹھا لیا جائے اور اسے کوئی نیک عمل کرنے کا موقع بھی نہ ملے اور اس کا اعمال نامہ اعمالِ صالحہ سے بالکل خالی ہو۔
اس حدیث کے مضمون پر ایک علمی اور اصولی اشکال بھی کیا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ “ناحق قتل” ان گناہوں میں سے ہے جن کا تعلق صرف اللہ ہی سے نہیں بلکہ حقوق العباد سے بھی ہے جس مجرم اور قاتل نے کسی بندے کو ناحق قتل کیا، اس نے اللہ کی نافرمانی کے علاوہ اس مقتول بندے پر اور اس کے بیوی بچوں پر بھی ظلم کیا اور مسلمہ اصول یہ ہے کہ اس طرح کے مظالم صرف توبہ سے معاف نہیں ہوتے، بلکہ ان کے لئے مظلوم بندوں سے معاملہ صاف کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ شارحین نے اس کا یہ جواب دیا ہے اور صحیح جواب دیا ہے کہ بےشک اصول اور قانون یہی ہے، لیکن مظلوموں کے حق کی ادائیگی اور ان سے معاملہ صاف کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں ان پر ظلم کرنے والے اور پھر اس ظلم سے سچی اور گہری توبہ کرنے والے بندوں کی طرف سے ان کے مظلوموں کو اپنے خزانہ رحمت سے دے کر راضی کر دے۔ اس حدیث میں سو خون کرنے والے جس تائب بندے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اس کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ یہی کرے گا، اور اس کی طرف سے اس کے مقتولوں اور سب مظلوموں کو کو اپنے خزانہ رحمت سے اتنا دے دے گا کہ وہ راضی ہو جائیں گے۔ اور یہ سو خون کرنے والا تائب بندہ اللہ کی رحمت سے سیدھا جنت میں چلا جائے گا۔
مشرکوں اور کافروں کے لئے بھی منشور رحمت
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِيَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَذِهِ الْآيَةِ: {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَنْ أَشْرَكَ؟ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «إِلَّا مَنْ أَشْرَكَ» ثَلَاثَ مَرَّاتِ. (رواه احمد)
حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے کہ مجھے اس آیت کے مقابلہ میں ساری دنیا (اور اس کی نعمتوں) کا لینا بھی پسند نہیں: يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ . (اے میرے بندو! جنہوں نے (گناہ کر کے) اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہے (اور اپنے کو تباہ کر لیا ہے) تم اللہ کی رحمت سے نااُمید مت ہو، اللہ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے) ایک شخص نے عرض کیا: حضرت! جن لوگوں نے شرک کیا ہے، کیا ان کے لیے بھی یہی ارشاد ہے؟ آپ ﷺ نے پہلے تو کچھ سکوت کیا، پھر تین دفعہ فرمایا: إِلَّا مَنْ أَشْرَكَ سن لو! مشرکوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کا یہی ارشاد ہے، سن لو مشرکوں کے لئے بھی یہی ارشااد ہے، ہاں! مرکوں کے لیے بھی میرے مالک کا یہی ارشاد ہے۔ (مسند احمد)
تشریح
اس حدیث میں جس آیت کا حوالہ ہے، وہ سورہ زمر کی آیت ہے۔ بلاشبہ اس میں ہر قسم کے گنہگاروں کے لئے بڑی بشارت ہے۔ خود ان کا مالک و پروردگار اُن ہی کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے کہ تم بھی میری رحمت سے ناامید نہ ہو۔ آگے اس کا تکملہ یہ ہے:
وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ ﴿٥٤﴾وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ﴿٥٥﴾
اور رخ کر لو اپنے پروردگار کی طرف قبل اس کے کہ تم عذاب میں گرفتار ہو جاؤ اور پھر کوئی تمہاری مدد اور حمایت نہ کر سکے، اور جو بہترین ہدایت تمہارے لئے تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اس کی پیروی اختیار کر لو اس وقت کے آنے سے پہلے جب اچانک خدا کا عذاب نازل ہو کر تم کو اپنی گرفت میں لے لے، اور تمہیں پہلے سے پتہ بھی نہ ہو گا۔
اس تکملہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہر قسم اور ہر درجہ کے مجرموں اور گنہگاروں کے لئے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلا ہوا ہے، کسی کے لئے بھی دروازہ بند نہیں ہے۔ شرط یہ ہے کہ عذاب یا موت کے آنے سے پہلے توبہ کر لیں، اور نافرمانی کی راہ چھوڑ کر ہدایت ربانی کی فرمانبرداری اختیار کر لیں۔
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ “رحمتِ خداوندی” کا جو “منشور عام” سب کے لئے ہے کافر اور مشرک بھی اس کے مخاطب ہیں۔
رسول اللہ ﷺچونکہ خود رحمۃ للعالمین تھے اس لئے آپ ﷺ کو اس “منشور رحمت” سے بےحد خوشی تھی، اور فرماتے تھے کہ مجھے اس آیت کے نزول کی اتنی خوشی ہے کہ اگر ساری دنیامجھے دیدی جائے تو اتنی خوشی مجھے نہ ہو گی۔
توبہ و استغفار کے خاص کلمات
عَنْ بِلاَلَ بْنَ يَسَارِ بْنِ زَيْدٍ، مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ قَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الحَيَّ القَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، غُفِرَ لَهُ وَإِنْ كَانَ فَرَّ مِنْ الزَّحْفِ. (رواه الترمذى وابوداؤد)
رسول اللہ ﷺکے ایک آزاد کردہ غلام تھے) نقل کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جس بندے نے ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں توبہ و استغفار کیا:
أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الحَيَّ القَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
میں اس اللہ سے معافی اور بخشش چاہتا ہوں جو حی و قیوم ہے، اور اس کے حضور میں توبہ کرتا ہوں تو وہ بندہ ضرور بخش دیا جائے گا، اگرچہ اس نے میدانِ جنگ سے بھاگنے کا گناہ کیا ہو۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
توبہ اور استغفار کی جو حقیقت بیان کی گئی ہے اس سے ناظرین نے سمجھ لیا ہو گا کہ اس میں اصل اہمیت اور بنیادی حیثیت معنی اور مقصد اور دل کی کیفیت کی ہے۔ بندہ جس زبان میں اور جن مناسب الفاظ میں توبہ و استغفار کرے، وہ اگر سچے دل سے ہے تو اللہ کے نزدیک حقیقی توبہ و استغفار ہے اور قابلِ قبول ہے۔ اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے توبہ و استغفار کے بعض کلمات بھی تلقین فرمائے ہیں اور ان کی خاص فضیلت اور برکت بیان فرمائی ہے۔ اس سلسلہ کی چند حدیثیں ذیل میں پڑھئے:
تشریح ..... جان بچانے کے لیے میدانِ جہاد سے بھاگنا بدترین کبیرہ گناہوں میں سے ہے، لیکن اس حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ اگر اس بدترین اور سخت ترین گناہ کا مرتکب بھی ان الفاظ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں استغفار اور توبہ کرے گا تو وہ بخش دیا جائے گا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اس طرح کی بات رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی وحی و الہام کے بغیر نہیں فرما سکتے، اس لئے سمجھنا چاہئے کہ گناہگاروں کے لئے معافی اور مغفرت کی درخواست کے یہ الفاظ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعلیم فرمائے گئے ہیں، اور ان الفاظ کے ساتھ درخواست کرنے والوں نے لئے بڑے سے بڑے گناہوں کی معافی اور مغفرت کا حتمی وعدہ بلکہ فیصلہ فرما دیا گیا ہے۔ قربان اس رحمت کے۔ لیکن یہ بات پھر بھی ملحوظ رہے کہ استغفار صرف الفاظ کا نام نہیں ہے، اللہ کے نزدیک حقیقی استغفار وہی ہے جو دل سے ہو۔
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ أَنْ تَقُولَ: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ " قَالَ: «وَمَنْ قَالَهَا مِنَ النَّهَارِ مُوقِنًا بِهَا، فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ قَبْلَ أَنْ يُمْسِيَ، فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ، وَمَنْ قَالَهَا مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ مُوقِنٌ بِهَا، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ، فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ» (رواه البخارى)
حضرت شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:“سید الاستغفار” (یعنی سب سے اعلیٰ استغفار) یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں یوں عرض کرے:
اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ
اے اللہ! تو ہی میرا رب (یعنی مالک مولا) ہے، تیرے سوا کوئی مالک و معبود نہیں، تو نے ہی مجھے پیدا فرمایا اور وجود بخشا۔ میں تیرا بندہ ہوں اور جہاں تک مجھ عاجز و ناتواں سے ہو سکے گا تیرے ساتھ کئے ہوئے (ایمانی) عہد و میثاق اور (اطاعت و فرمانبرداری کے) وعدے پر قائم رہوں گا۔ تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے عمل و کردار کے شر سے، میں اقرار کرتا ہوں کہ تو نے مجھے نعمتوں سے نوازا، اور اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے تیری نافرمانیاں کیں اور گناہ کئے۔ اے میرے مالک و مولا! تو مجھے معاف فرما دے اور میرے گناہ بخش دے، تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جس بندے نے اخلاص اور دل کے یقین کے ساتھ دن کے کسی حصے میں اللہ کے حضور میں یہ عرض کیا (یعنی ان کلمات کے ساتھ استغفار کیا) اور اسی دن رات شروع ہونے سے پہلے اس کو موت آ گئی تو وہ بلا شبہ جنت میں جائے گا اور اسی طرح اگر کسی نے رات کے کسی حصے میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہی عرض کیا اور صبح ہونے سے پہلے اس رات میں وہ چل بسا تو بلاشبہ وہ جنت میں جائے گا۔ (صحیح بخاری)
تشریح
مندرجہ ذیل حدیث سے استغفار کے ایک کلمہ کو رسول اللہ ﷺ نے “سید الاستغفار” بتایا ہے، اور اس کی غیر معمولی فضیلت بیان فرمائی ہے، اور بلاشبہ اپنے مضمون و مفہوم کے لحاظ سے بھی وہ ایسا ہی کلمہ ہے۔
تشریح ..... اس استغفار کی اس غیر معمولی فضیلت کا راز بظاہر یہی ہے کہ اس کے ایک ایک لفظ میں عبدیت کی روح بھری ہوئی ہے۔ سب سے پہلے عرض کیا گیا ہے:
اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ
اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی مالک و معبود نہیں، تو نے ہی مجھے وجود بخشا اور میں بس تیرا بندہ ہوں۔
اس کے بعد عرض کیا گیا ہے کہ:
وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ
یعنی میں نے ایمان لا کے تیری عبادت و اطاعت کا جو عہد میثاق اور وعدہکیا ہے جہاں تک مجھ سے بن پڑے گا اس پر قائم رہنے کی کوشش کروں گا۔
یہ بندے کی طرف سے اپنی کمزوری کا اعتراف کے ساتھ ایمانی عہد و میثاق کی تجدید ہے۔ اس کے آگے عرض کیا گیا ہے:
أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ
مجھ سے جو غلطیاں اور کوتاہیاں ہوئیں اور آئندہ ہوں، اس کے برے نتیجے سے اے میرے مالک و رب میں تیری پناہ کا طالب ہوں۔
اس میں اعترافِ قصور کے ساتھ اللہ کی پناہ بھی چاہی گئی ہے۔ اس کے بعد عرض کیا گیا ہے:
أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي
میں تیرے انعامات اور احسانات کا اور اپنی گناگاریوں اور خطاکاریوں کا اعتراف کرتا ہوں۔
آخر میں عرض کیا گیا ہے:
فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ
میرے مالک و مولا! تو اپنے رحم و کرم سے میرے جرائم، میرے گناہ بخش دے، جرموں اور گناہوں کو بخشنے والا بس تو ہی ہے۔
حق یہ ہے کہ جس صاحبِ ایمان بندے کو وہ معرفت و بصیرت نصیب ہو جس کے ذریعے وہ اپنی اور اپنے اعمال کی حقیقت کو سمجھتا ہو، اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت اور اس کے حقوق کو بھی کچھ جانتا ہو تو وہ خود کو صرف قصوروار اور گناہگار اور خیر اور بھلائی کے معاملہ میں بالکل مفلس ار تہی مایہ محسوس کرے گا اور پھر اس کے دِل کی آواز اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس کی التجا یہی ہو گی جو رسول اللہ ﷺ کے تعلیم فرمائے ہوئے اس استغفار میں محسوس ہوتی ہے۔ اس کو “سید الاستغفار” اسی خصوصیت کی وجہ سے کہا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث پہنچ جانے کے بعد آپ ﷺ پر ایمان رکھنے والے ہر اُمتی کو چاہئے کہ وہ اس کا اہتمام کرے کہ ہر دن اور رات میں کم از کم ایک دفعہ ضرور وہ سچے دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہ استغفار کر لیا کرے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ہمارے استاذ حضرت مولانا سراج احمد صاحب رشیدیؒ پر، اب سے ۴۵ سال پہلے دارالعلوم دیوبند میں ان ہی سے مشکوٰۃ شریف پڑھی تھی۔ جب سبق میں یہ حدیث آئی تو حضرت مولاناؒ نے پوری جماعت کو حکم دیا کہ یہ “سید الاستغفار” سب یاد کر لیں کل میں سب سے سنوں گا۔ چنانچہ اگلے دن قریب قریب سب طلباء سے سنا اور وصیت فرمائی کہ دن رات میں کم از کم ایک دفعہ اس کو ضرور پڑھ لیا کرو۔
عَنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي. اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي وَخَطَايَايَ وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بارگاہِ خداوندی میں اس طرح عرض کیا کرتے تھے: “اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي” تا “وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي” (اے اللہ! میری خطا، میرے قصور معاف کر دے، اور (علم و معرفت کے تقاضے کے خلاف) جو نادانی کا کام میں نے کیا ہو اس کو معاف فرما دے اور اپنے جس معاملہ میں بھی میں نے تیرے حکم اور تیری رضا کی حد سے تجاوز کیا ہو اس کو بخش دے۔ اے میرے اللہ! میرے وہ گناہ بھی معاف فرما دے جو ہنسی مذاق میں مجھ سے سرزد ہو گئے ہوں اور وہ بھی معاف کر دے جو میں نے سوچ سمجھ کے اور سنجیدگی سے کئے ہوں۔ میرے مالک! میری وہ خطائیں بھی معاف کر دے جو بلا ارادہ مجھ سے سرزد ہو گئی ہوں، اور وہ بھی معاف فرما دے جو میں نے جان بوجھ کے ارادہ سے کی ہوں۔ اور (اے میرے مالک! تو جانتا ہے کہ) یہ سب طرح کی خطائیں میں نے کی ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اللہ اکبر! سید المرسلین محبوبِ رب العٰلمین ْ جو یقیناً معصوم تھے، اُن کے احساسات اپنے بارے میں یہ تھے، اور وہ اپنے کو سر تا سر خطاکار اور قصوروار سمجھتے ہوئے بارگاہِ خداوندی میں اس طرح استغفار کرتے تھے۔ حق یہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کی جتنی معرفت ہو گفی وہ اتنا ہی زیادہ اپنے کو ادائے حق عبدیت کے بارے میں قصوروار سمجھے گا۔ “قریباں را بیش بود حیرانی”۔
رسول اللہ ﷺکے اس استغفار کے ایک ایک لفظ عبدیت کی روح بھری ہوئی ہے، اور ہم امتیوں کے لیے اس میں بڑا سبق ہے۔
عن ابن عمر قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم كثيرا ما يقول لنا: معاشر أصحابي ما يمنعكم أن تكفروا ذنوبكم بكلمات يسيرة؟ قالوا يا رسول الله: وما هي؟ قال تقولون مقالة أخي الخضر، قلنا يا رسول الله: ما كان يقول؟ قال كان يقول: اللهم إني أستغفرك لما تبت إليك منه، ثم عدت فيه، وأستغفرك لما أعطيتك من نفسي ثم لم أوف لك به، وأستغفرك للنعم التي أنعمت بها علي فتقويت بها على معاصيك وأستغفرك لكل خير أردت به وجهك فخالطني فيه ما ليس لك، اللهم لا تخزني فإنك بي عالم، ولا تعذبني فإنك علي قادر ". (رواه الديلمي)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں سے اکثر فرمایا کرتے تھے: اے میرے ساتھیوں! تمہارے لئے کیا چیز اس سے مانع ہو سکتی ہے کہ چند آسان کلموں کے ذریعے اپنے گناہوں کی صفائی کر لیا کرو! عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ کون سے کلمے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ کہا کرو جو میرے بھائی خضر کہا کرتے تھے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ کیا کہا کرتے تھے؟ فرمایا: وہ کہا کرتے تھے “اللهم إني أستغفرك لما تبت إليك منه، ثم عدت فيه تا اللهم لا تخزني فإنك بي عالم، ولا تعذبني فإنك علي قادر” (اے اللہ! میں تجھ سے معافی اور بخشش چاہتا ہوں اُن گناہوں کی جن سے میں نے تیرے حضور میں توبہ کی ہو (اور شامتِ نفس سے) پھر پلٹ کر وہی گناہ دوبارہ کئے ہوں، اور میں تجھ سے معافی اور بخشش چاہتا ہوں اس عہد کے بارے میں جو میں نے اپنی ذات کی طرف سے تجھ سے کیا ہو اور پھر میں نے اس کو وفا نہ کیا ہو، (بلکہ عہد شکنی کی ہو) اور میں تجھ سے معافی اور بخشش چاہتا ہوں اُن نعمتوں کے بارے میں جن سے طاقت و قوت حاصل کر کے میں نے تیری نافرمانیاں کی ہوں اور تجھ سے معافی اور بخشش کا سوال کرتا ہوں ہر اس نیکی کے بارے میں جو میں نے تیری رضا جوئی کی نیت سے کرنی چاہی ہو پھر اس میں تیرے ماسوا دوسرے اغراض کی آمیزش ہو گئی ہو۔ اے میرے اللہ! مجھے (دوسروں کے سامنے) رسوا نہ کرنا۔ بےشک تو مجھے خوب جانتا ہے، تجھ سے میرا کوئی راز ڈھکا چھپا نہیں ہے اور (میرے گناہوں پر) مجھے عذاب نہ دینا، تجھے مجھ پر ہر طرح قدرت حاصل ہے۔ (اور میں بالکل عاجز اور تیرے قبضہ و اختیار میں ہوں)۔ (مسند احمد دیلمی)
تشریح
بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اللہ کا بندہ پورے صدق و خلوص کے ساتھ کسی گناہ سے توبہ کرتا ہے لیکن پھر اس سے وہی گناہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد و میثاق کرتا ہے اور پھر کسی وقت اس کے خلاف کر بیٹھتا ہے۔ اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق اور راحت و آرام وغیرہ کی جو نعمتیں حاصل ہوتی ہیں ان کے استعمال سے وہ جو قوت و طاقت یا دولت حاصل کرتا ہے اس کو وہ بجائے طاعت کے معصیت کی راہ میں استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی نیک عمل خالص اللہ کے لئے اور اس کی رضا جوئی کے جذبہ کے ساتھ شروع کیا جاتا ہے لیکن بعد میں دوسرے غلط جذبات اور ناپسندیدہ اغراض کی اس میں آمیزش ہو جاتی ہے۔ یہ سب روزمرہ کے تجربے اور روزمرہ کی واردات ہیں اور اچھے اچھوں کو پیش آتی ہیں۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ سے تعلق اور آخرت کی فکر رکھنے والے بندوں کے دل و زبان کی استدعا کیا ہونی چاہئے؟ مندرجہ بالا استغفار کے کلمات میں اسی کی پوری رہنمائی اور تلقین فرمائی گئی ہے اور یہ کلمات اپنے مضمون کی گہرائی اور جامعیت کے لحاظ سے یقینا معجزانہ ہیں، اسی لئے اس حدیث کو یہاں درج کیا گیا ہے، اگرچہ “کنز الاعمال ” میں اس کی تخریج صرف دیلمی سے کی گئی ہے جو محدثین کے نزدیک سند کے لحاظ سے ضعیف ہونے کی علامت ہے۔ “کلمات استغفار” کے زیرِ عنوان یہاں صرف ان چار ہی حدیثوں پر اکتفا کیا گیا ہے، نماز کے متعلق دُعاؤں میں، اور اسی طرح مخصوص حالات و اوقات کی دعاؤں میں، اور علیٰ ہذا جامع اور ہمہ گیر دعاؤں میں ان کے علاوہ استغفار کے بیسیوں بلکہ پچاسوں کلمات گزر چکے ہیں۔ اس طرح استغفار کے ان کلمات کی مجموعی تعداد بہت زیادہ ہے جو رسول اللہ ﷺ سے کتب حدیث میں ماثور و منقول ہیں اور بلاشبہ وہ سب ہی بڑے بابرکت ہیں۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ، جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَمِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» (رواه احمد وابوداؤد وابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو بندہ استغفار کو لازم پکڑ لے (یعنی اللہ تعالیٰ سے برابر اپنے گناہوں کی معافی مانگتا رہے) تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر تنگی اور مشکل سے نکلنے اور رہائی پانے کا راستہ بنا دے گا۔اور اس کی ہر فکر اور ہر پریشانی کو دور کر کے کشادگی اور اطمینان عطا فرمائے گا، اور اس کو ان طریقوں سے رزق دے گا جن کا اس کو خیال و گمان بھی نہ ہو گا۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
استغفار کی اصل غرض و غایت اور اس کا موضوع تو اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کو معاف کرانا ہے تا کہ بندہ ان کے عذاب و وبال سے بچ جائے لیکن قرآن مجید سے بھی معلوم ہوتا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے زیادہ وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بتلایا ہے کہ استغفار بہت سے دنیوی برکات کا بھی باعث بنتا ہے اور بندے کو اس دنیا میں بھی اس کے طفیل بہت کچھ ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یقین و عمل نصیب فرمائے۔
ملحوظ رہے کہ یہ وعدہ صرف زبان سے کلماتِ استغفار پڑھنے پر نہیں ہے، بلکہ استغفار کی حقیقت پر ہے جس کی پہلے وضاحت کی جا چکی ہے، اللہ تعالیٰ شانہ نصیب فرمائے۔
عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طُوبَى لِمَنْ وَجَدَ فِي صَحِيفَتِهِ اسْتِغْفَارًا كَثِيرًا» (رواه ابن ماجه والنسائى)
حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: خوشی ہو اور مبارک ہو اس بندے کو جو اپنے اعمال نامہ میں بہت زیاادہ استغفار پائے (یعنی آخرت میں وہ دیکھے کہ اس کے اعمال نامہ میں استغفار بکثرت درج ہے)۔ (سنن ابن ماجہ، سنن نسائی)
تشریح
واضح رہے کہ اعمال نامہ میں جو حقیقی استغفار کے طور پر وہی استغفار درج ہو گا جو حقیقت کے لحاظ سے عنداللہ بھی استغفار ہو گا۔ اور جو صرف زبان سے استغفار ہو گا اگر درج ہو گا تو صرف زبانی اور لفظی استغفار کے طور پر درج ہو گا اور اگر اندراج پانے کے قابل نہ ہو گا تو درج ہی نہ ہو گا اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں یہ نہیں فرمایا کہ: “طُوبَى لِمَنْ اسْتَغْفَرَ كَثِيرًا” (خوشی اور مبارک ہو اس بندے کو جو اپنے اعمال نامہ میں بہت زیادہ استغفار پائے) بلکہ یہ فرمایا کہ: “طُوبَى لِمَنْ وَجَدَ فِي صَحِيفَتِهِ اسْتِغْفَارًا كَثِيرًا” (خوشی اور مبارک ہو اس بندے کو جو اپنے اعمال نامہ میں بہت زیادہ استغفار پائے) امت کی مشہور عارفہ حضرت رابعہ عدویہ قدس سرہا سے منقول ہے، وہ فرماتی تھیں کہ: ہمارا استغفار خود اس قابل ہوتا ہے کہ اللہ کی حضور میں اس سے بہت زیادہ استغفار کیا جائے۔
اس حدیث میں “طوبیٰ” کا لفظ بہت ہی جامع ہے، دنیا اور آخرت اور جنت کی ساری ہی مسرتیں اور نعمتیں اس میں شامل ہیں۔ بلاشبہ جس بندے کو حقیقی استغفار نصیب ہو اور خوب کثرت سے نصیب ہو وہ بڑا خوش نصیب ہے اور اس کو سب ہی کچھ نصیب ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔
استغفار پوری اُمت کے لئے امان
عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ أَمَانَيْنِ لأُمَّتِي {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ} فَإِذَا مَضَيْتُ تَرَكْتُ فِيهِمُ الاِسْتِغْفَارَ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لئے دو امانیں مجھ پر نازل فرمائیں (سورہ انفال میں ارشاد فرمایا گیا) “وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ الاية” (یعنی اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ تم ان کے درمیان موجود ہو اور ان پر عذاب نازل کر دے، اور اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا جب کہ وہ استغفار کرتے ہوں گے اور معافی و مغفرت مانگتے ہوں گے) آپ ﷺ نے فرمایا: پھر جب میں گزر جاؤں گا تو قیامت تک کے لئے تمہارے درمیان استغفار کو (بطور امان) چھوڑ جاؤں گا۔ (جامع ترمذی)
تشریح
سورہ انفال کی آیت نمبر ۳۳ “وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ” جس کا اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حوالہ دیا ہے اس کا مدعا اور مقتضا یہ ہے کہ ایک تو خود آپ ﷺ کے ذات اور آپ ﷺ کا وجود امت کے لئے عذاب سے امان ہے، جب تک آپ ﷺ ان میں موجود ہیں ان پر عذابِ عام نازل نہیں کیا جائے گا۔ اور دوسری چیز جو ان کے لئے وسیلہ امان ہے وہ خود ان کا استغفار ہے جب تک یہ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی اور مغفرت مانگتے رہیں گے اور استغفار کرتے رہیں گے عذابِ عام سے ہلاک نہیں کئے جائیں گے۔ گویا ایک امان خود آپ ﷺ کا وجود تھا، جس سے امت آپ ﷺ کی وفات کے بعد محروم ہو گئی۔ دوسری امام خود آپ ﷺ کی امت کو ہی کے ذریعہ ملا ہے، اور وہ قیامت تک باقی رہے گا۔ اور امت انتہائی بداعمالیوں کے باوجود عذابِ عام سے آج تک محفوظ ہے، یہ استغفار کرنے والے بندوں کے استغفار ہی کی برکت ہے۔
توبہ و استغفار سے اللہ کتنا خوش ہوتا ہے
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ، مِنْ رَجُلٍ فِي أَرْضٍ دَوِّيَّةٍ مَهْلِكَةٍ، مَعَهُ رَاحِلَتُهُ، عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَنَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ، فَطَلَبَهَا حَتَّى أَدْرَكَهُ الْعَطَشُ، ثُمَّ قَالَ: أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِيَ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ، فَأَنَامُ حَتَّى أَمُوتَ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى سَاعِدِهِ لِيَمُوتَ، فَاسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ رَاحِلَتُهُ وَعَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَاللهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ وَزَادِهِ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ ارشاد فرماتے تھے: خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی توبہ سے اس مسافر آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو (اثنائے سفر میں) کسی ایسی غیرا ٓباد اور سنسان زمین پر اُتر گیا ہو جو سامانِ حیات سے خالی اور اسبابِ ہلاکت سے بھرپور ہو اور اس کے ساتھ بس اس کی سواری کی اونٹنی ہو اسی پر اس کے کھانے پینے کا سامان ہو، پھر وہ (آرام لینے کے لئے) سر رکھ کے لیٹ جائے پھر اسے نیند آ جائے پھر اس کی آنکھ کھلے تو دیکھے کہ اس کی اونٹنی (پورے سامان سمیت) غائب ہے، پر وہ اس کی تلاش میں سرگرداں ہو، یہاں تک کہ گرمی اور پیاس وغیرہ کی شدت سے جب اس کی جان پر بن آئے تو وہ سوچنے لگے کہ (میرے لئے اب یہی بہتر ہے) کہ میں اسی جگہ جا کر پڑ جاؤں (جہاں سویا تھا) یہاں تک کہ مجھے موت آ جائے پھر وہ (اسی ارادہ سے وہاں آ کر) اپنے بازو پر سر رکھ کے مرنے کے لئے لیٹ جائے، پھر اس کی آنکھ کھلے تو وہ دیکھے کہ اس کی اونٹنی اس کے پاس موجود ہے اور اس پر کھانے پینے کا پورا سامان (جوں کا توں محفوظ) ہے تو جتنا خوش یہ مسافر اپنی اونٹنی کے ملنے سے ہو گا خدا کی قسم مؤمن بندے کے توبہ کرنے سے خدا اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
توبہ و استغفار سے متعلق احادیث و روایات کے سلسلہ کو مندرجہ ذیل حدیث پر ختم کیا جاتا ہے جو صحیحین میں بھی متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے، اور جس میں رسول اللہ ﷺ نے توبہ کرنے والے گناہگاروں کو وہ بشارت سنائی ہے جو کسی دوسرے بڑے سے بڑے عمل پر بھی نہیں سنائی گئی۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی شانِ رحمت کو سمجھنے کے لئے صرف یہی ایک حدیث ہوتی تو کافی تھی۔ حق یہ ہے کہ اس چند سطری حدیث میں معرفت کا ایک دفتر ہے۔ اللہ تعالیٰ فہم اور یقین نصیب فرمائے۔
تشریح ذرا تصور کیجئے اس بدو مسافر کا جو اکیلا اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر اور راستہ بھر کے لئے کھانے پینے کا سامان اسی پر لاد کر دور دراز کے سفر پر کسی ایسے راستہ سے چلا جس میں کہیں دانہ پانی ملنے کی امید نہیں، پھر اثنائے سفر میں وہ کسی دن دوپہر میں کہیں سایہ دیکھ کر اترا اور آرام کرنے کے ارادہ سے لیٹ گیا، اس تھکے ماندے مسافر کی آنکھ لگ گئی، کچھ دیر کے بعد جب آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ اونٹنی اپنے سازو سامان کے ساتھ غائب ہے، وہ بےچارہ حیران و سراسیمہ ہو کر اس کی تلاش میں دوڑا بھاگا، یہاں تک کہ گرمی اور پیاس کی شدت نے اس کو لبِ دم کر دیا، اب اس نے سوچا کہ شاید میری موت اسی طرح اس جنگل بیابان میں لکھی تھی، اور اب بھوک پیاس میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کے یہاں مرنا ہی میرے لئے مقدر ہے، اس لئے وہ اسی سایہ کی جگہ میں مرنے کے لئے آگے پڑ گیا اور موت کا انتظار کرنے لگا، اسی حالت میں اس کی آنکھ پھر جھپکی، اس کے بعد جب آنکھ کھلی تو دیکھا کہ اونٹنی اپنے پورے ساز و سامان کے ساتھ اپنی جگہ کھڑی ہے۔ ذرا اندازہ کیجئے کہ بھاگی ہوئی اور گم شدہ اونٹنی کو اس طرح اپنے پاس کھڑا دیکھ کے اس بدو کو جو مایوس ہو کر مرنے کے لئے پڑ گیا تھا کس قدر خوشی ہو گی۔ صادق مصدوق ﷺ نے اس حدیث پاک میں قسم کھا کے فرمایا کہ: خدا کی قسم! بندہ جب جرم و گناہ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا اور سچے دل سے توبہ کر کے اس کی طرف آتا ہے تو اس رحیم و کریم رب کو اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی کہ اس بدو کو اپنی بھاگی ہوئی اونٹنی کے ملنے سے ہو گی۔
قریب قریب یہی مضمون صحیحین میں حضرت ابن مسعودؓ کے علاوہ حضرت انسؓ کی روایت سے بھی مروی ہے۔ اور صحیح مسلم میں ان دونوں بزرگوں کے علاوہ حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت نعمان بن بشیر اور حضرت براء بن عازب ؓ سے بھی یہی مضمون مروی ہے، بلکہ حضرت انسؓ کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بدو مسافر کی فرطِ مسرت کا حال بیان کرتے ہوئے گرمایا کہ: اونٹنی کے اس طرح مل جانے سے وہ اتنا خوش ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس بے انتہا عنایت اور بندہ نوازی کے اعتراف کے طور پر وہ کہنا چاہتا تھا کہ “اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ” (خداوندا! بس تو ہی میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ) لیکن خوشی کی سرمستی میں اس کی زبان بہک گئی اور اس نے کہا “اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِىْ وَأَنَا رَبُّكَ” (میرے اللہ! بس تو میرا بندہ اور میں تیرا خدا۔) آنحضرتﷺ نے اس کی اس غلطی کی معذرت کرتے ہوئے فرمایا: “أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرْحِ” (فرطِ مسرت اور بےحد خوشی کی وجہ سے اس بےچارے بدو کی زبان بہک گئی)۔ (1)
بلا شبہ اس حدیث میں توبہ کرنے والے گناہگاروں کو اللہ تعالیٰ کی جو خوشنودی کی بشارت سنائی گئی ہے وہ جنت اور اس کی ساری نعمتوں سے بھی فائق ہے۔
شیخ ابن القیمؒ نے “مدارج السالکین” میں توبہ و استغفار ہی کے بیان میں اسی حدیث پر کلام کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اس خوشنودی کی وضاحت میں ایک عجیب و غریب مضمون لکھا ہے جس کو پڑھ کر ایمانی روح وجد میں آ جاتی ہے۔ ذیل میں اس کا صرف حاصل و خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔
“اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کی ہوئی ساری کائنات میں انسان کو خاص شرف بخشا ہے، دنیا کی ساری چیزیں اس کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور اس کو اپنی معرفت اور اطاعت و عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے، ساری مخلوقات کو اس کے لئے مسخر کیا، اور اپنے فرشتوں تک کو اس کا خادم اور محافظ بنایا، پھر اس کی ہادیت و رہنمائی کے لئے کتابیں نازل فرمائیں اور نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری فرمایا، پھر ان ہی میں سے کسی کو اپنا خلیل بنایا اور کسی کو شرفِ ہم کلامی بخشا اور بہت بڑی تعداد کو اپنی ولایت اور قربِ خصوصی کی دولت سے نوازا۔ اور انسانوں ہی کے لئے دراصل جنت و دوزخ کو بنایا۔ الغرض دنیا و آخرت میں عالمِ خلق و امر میں جو کچھ ہے اور ہو گا اس سب کا اصل مرکز و محور بنی نوع انسان ہی ہے، اس نے امانت کا بوجھ اٹھایا، اسی کے لیے شریعت کا نزول ہوا، اور ثواب و عذاب دراصل اسی کے لئے ہے۔ پس اس پورے کارخانہ عالم میں انسان ہی اصل مقصود ہے، اللہ نے اس کو اپنے کاص دستِ قدرت سے بنایا، اس میں اپنی روح ڈالی، اپنے فرشتوں سےئ اس کو سجدہ کرایا، اور ابلیس اس کو سجدہ ہی نہ کرنے کے جرم میں مردود بارگاہ ہوا اور اللہ نے اس کو اپنا دشمن قرار دیا۔ یہ سب اس لئے کہ اس خالق نے انسان ہی میں اس کی صلاحیت رکھی ہے کہ وہ ایک زمینی اور بادی مخلوق ہونے کے باوجود اپنے خالق و پروردگار کی (جو وراء الوراء اور غیب الغیب ہے) اعلیٰ درجہ کی معرفت حاصل کرے، ممکن حد تک اس کے اسرار اور اس کی حکمتوں سے آشنا ہو، اس سے محبت اور اس کی اطاعت کرے، اس کے لئے اپنے نفسانی مرغوبات اور اپنی ہر چیز کو قربان کرے، اور اس دنیا میں اس کی خلافت کی ذمہ داریوں کو ادا کرے، اور پھر اس کی خاص الخاص عنایتوں اور بےحساب بخششوں کا مستحق ہو کر اس کی رحمت و رافت، اس کے پیار و محبت اور اس کے بےانتہا لطف و کرم کا مورد بنے۔ اور چونکہ وہ ربِ کریم اپنی ذات سے رحیم ہے اور لطف و کرم اس کی ذاتی صفت ہے (جس طرح بلا تشبیہ مامتاں کی ذاتی صفت ہے) اس لئے اپنے وفادار اور نیک کردار بندوں کو انعامات و احسانات سے نوازنا اور اپنے عطیات سے ان کی جھولیوں کو بھر دینا اس کے لئے بلاتشبیہ اسی طرح بےانتہا خوشی کا باعث ہے جس طرح اپنے بچے کو دودھ پلانا اور نہلا دھلا کر اچھے کپڑے پہنانا مامتا والی ماں کے لئے انتہائی خوشی کا باعث ہوتا ہے۔ اب اگر بندے نے بدبختی سے اپنے اس خالق و پروردگار کی وفاداری اور فرمانبرداری کا راستہ چھوڑ کے بغاوت و نافرمانی کا طریقہ اختیار کر لیا اور اس کے دشمن اور باغی شیطان کے لشکر اور اس کے متبعین میں شامل ہو گیا اور رب کریم کی ذاتی صفت رحمت و رافت اور لطف و کرم کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے بجائے وہ اس کے قہر و غضب کو بھڑکانے لگا تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ میں (بلاتشبیہ) اس غصہ اور ناراضی کی سی کیفیت پیدا ہو گی جو نالائق اور ناخلف بیٹے کی نافرمانی اور بدکرداری دیکھ کر مامتا والی ماں کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر اگر اس بندے کو کبھی اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور وہ محسوس کرے کہ میں نے اپنے مالک و پروردگار کو ناراض کر کے خود کو اور اپنے مستقبل کو برباد کر لیا اور اس کے دامنِ رحم و کرم کے سوا میرے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے، پھر وہ اپنے کئے پر نادم و پشیمان ہوا اور مغفرت و رحمت کا سائل بن کر اس کی بارگاہِ کرم کی طرف رجوع کرے، سچے دل سے توبہ کرے، روئے اور گڑگڑائے اور معافی مانگے اور آئندہ کے لئے وفاداری اور فرمانبرداری کا عہد و ارادہ کر لے تو سمجھا جا سکتا ہے کہ اس کے اس کریم رب کو جس کی ذاتی صفت رحمت و رأفت اور جس کا پیار ماں کے پیار سے بھی ہزاروں گنا زیادہ ہے، اور جو بندوں پر نعمتوں کی بارش برسا کے اتنا خوش ہوتا ہے جتنا نعمتوں کو پا کر محتاج بندے خوش نہں ہوتے، تو سمجھا جا سکتا ہے کہ ایسے کریم پروردگار کو اپنے اس بندے کی اس توبہ و انابت سے کتنی خوشی ہو گی۔”
شیخ ابن القیمؒ نے اس سے بہت زیادہ وضاحت اور بسط کے ساتھ یہ مضمون لکھنے کے بعد آخر میں کسی عارف کا ایک واقعہ لکھا ہے جو شیطان یا نفسِ امارہ کے اغواء سے غلط راستے پر پڑ گئے تھے اور سرکشی و نافرمانی کے جراثیم ان کی روح میں پیدا ہونے لگے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
“وہ عارف ایک گلی سے گزر رہے تھے، انہوں نے دیکھا کہ ایک گھر کا دروازہ کھلا اور ایک بچہ روتا چلاتا ہوا اس میں سے نکلا، اس کی ماں اس کو گھر سے دھکے دے دے کر نکال رہی تھی، جب وہ دروازے سے باہر ہو گیا تو ماں نے اندر سے دروازہ بند کر لیا، بچہ اسی طرح روتا چلاتا بکتا بڑبڑاتا کچھ دور تک گیا، پھر ایک جگہ پہنچ کر کھڑا ہو گیا اور سوچنے لگا کہ میں اپنے ماں باپ کے گھر کے سوا کہاں جا سکتا ہوں اور کون مجھے اپنے پاس رکھ سکتا ہے، یہ سوچ کر ٹوٹے دل کے ساتھ وہ اپنے گھر کی طرف لوٹ پڑا۔ دروازہ پر پہنچ کر اس نے دیکھا کہ دروازہ اندر سے بند ہے تو وہ بےچارہ وہیں چوکھٹ پر سر رکھ کے پڑ گیا اور اسی حالت میں سو گیا۔ ماں آئی اس نے دروازہ کھولا اور اپنے بچے کو اس طرح چوکھٹ پر سر رکھ کے پڑا دیکھ کے اس کا دل بھر آیا اور مامتا کا جذبہ اُبھر آیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، بچے کو اٹھا کر سینے سے لگایا اور اس کو پیار کرنے لگی، اور کہہ رہی تھی: بیٹے تو نے دیکھا تیرے لئے میرے سوا کون ہے، تو نے نالائقی، نادانی اور نافرمانی کا راستہ اختیار کر کے اور میرا دل دکھا کے مجھے وہ غصہ دلایا جو تیرے لئے میری فطرت نہیں ہے، میری فطرت اور مامتا کا تقاضا تو یہی ہے کہ میں تجھ پر پیار کروں اور تجھے راحت و آرام پہنچانے کی کوشش کروں، تیرے لئے ہر خیر اور بھلائی چاہوں میرے پاس جو کچھ ہے تیرے ہی لئے ہے۔
ان عارف نے یہ سارا ماجرا دیکھا اور اس میں اُن کے لئے جو سبق تھا وہ لیا۔ ”
اس قصہ پر غور کرتے وقت رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد سامنے رکھئے: “اَللهُ اَرْحَمُ لِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا” (خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ کی ذات میں اپنے بندوں کے لئے اس سے زیادہ پیار اور رحم ہے جتنا کہ اس ماں میں اپنے بچے کے لئے ہے)۔
کیسے بدبخت اور محروم ہیں وہ بندے جنہوں نے نافرمانی کی راہ اپنا کے ایسے رحیم و کریم پروردگار کی رحمت سے اپنے کو محروم کر لیا ہے اور اس کے قہر و غضب کو بھڑکا رہے ہیں، حالانکہ توبہ کا دروازہ اُن کے لئے کھلا ہوا ہے اور وہ اس کی طرف قدم بڑھا کے اللہ تعالیٰ کا وہ پیار حاصل کر سکتے ہیں جس کے سامنے ماں کا پیار کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان حقائق کا فہم اور یقین نصیب فرمائے۔
يَا غَفَّارُ اغْفِرْ لِي، يَا تَوَّابُ تُبْ عَلَيَّ، يَا رَحْمَانُ ارْحَمْنِي، يَا رَءُوفُ ارْأُفْ بِي، يَا عَفُوُّ اعْفُ عَنِّي، يَا رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكَرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ، وَطَوِّقْنِي حُسْنَ عِبَادَتِكَ.