Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 66 of 106

1301Maarif-ul-Hadith

جامع اور ہمہ گیر دعائیں

عن جابر قال: قال لى رسول الله صلى الله عليه وسلم قل: اللهم أنت الخلاق العظيم، اللهم إنك سميع عليم، اللهم إنك غفور رحيم، اللهم إنك رب العرش العظيم، اللهم إنك أنت الجواد الكريم، فاغفر لي وارحمني وعافني وارزقني واسترني واجبرني وارفعني واهدني ولا تضلني وأدخلني الجنة برحمتك يا أرحم الراحمين، تعلمهن، وعلمهن عقبك من بعدك" (رواه الديلمي)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نے مجھے یہ دعا تلقین فرمائی: “اللهم أنت الخلاق العظيم تا برحمتك يا أرحم الراحمين” (اے میرے اللہ! تو خالق کل اور خلاق عظیم ہے تو سمیع و علیم (سب کچھ سننے والا اور جاننے والا) ہے۔ تو غفور و رحیم (بخشنے والا اور نہایت مہربان) ہے۔ تو مالکِ عرشِ عظیم ہے، تو نہایت فیاض اور کریم ہے۔ اپنی ان عالی صفات کے صدقہ میں، تو مجھے بخش دے، مجھ پر رحمت فرما، مجھے عافیت عطا فرما، مجھے رزق نصیب فرما، میری پردہ داری فرما، میری شکستگی کو جوڑ دے، مجھے عزت و رفعت عطا فرما، مجھے اپنی راہ پر چلا، مجھے گمراہی سے بچا اور اے ارحم الراحمین (مرنے کے بعد آخرت میں) اپنی رحمت سے مجھے جنت میں داخلہ نصیب فرما)۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا تلقین فرمائی اور مجھ سے ارشاد فرمایا: اس کو ایکھ لو اور اپنے بعد والوں کو سکھاؤ۔ (مسند فردوس دیلمی) تشریح کس قدر جامع دعا ہے! اس کو نہ سیکھنا اور اس سے فائدہ نہ اُٹھانا بلاشبہ بڑے خسارے کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ان انمول جواہرات کی قدر نصیب فرمائے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔

1302Maarif-ul-Hadith

دعوتِ استعاذہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جَهْدِ البَلاَءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ القَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ کی پناہ مانگو بلاؤں کی سختی سے، اور بدبختی کے لاحق ہونے سے اور بری تقدیر سے اور دشمنوں کی شماتت سے ”۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح ذخیرہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے جو دعائیں ماثور و منقول ہیں جو آپ ﷺ نے مختلف اوقات میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں خود کیں یا امت کو ان کی تعلیم و تلقین فرمائی ان میں زیادہ تر وہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ سے کسی دنیوی یا اُخروی، روحانی یا جسمانی، انفرادی یا اجتماعی نعمت اور بھلائی کا سوال کیا گیا ہے اور مثبت طور پر کسی حاجت اور ضرورت کے لئے استدعا کی گئی ہے۔ ڈیڑھ سو سے کچھ اوپر جو دعائیں اس سلسلہ میں اب تک درج ہو چکی ہیں وہ سب اسی قبیل کی تھیں۔ ان کے علاوہ بہت سی ایسی دعائیں بھی آپ ﷺ سے مروی ہیں جن میں کسی خیر و نعمت اور کسی مثبت حاجت و ضرورت کے سوال کے بجائے دنیا یا آخرت کے کسی شر سے اور کسی بلا اور آفت سے پناہ مانگی گئی ہے اور حفاظت و بچاؤ کی استدعا کی گئی ہے۔ پھر جس طرح پہلی قسم کی دعاؤں کو مجموعی طور پر سامنے رکھ کر یہ کہنا برحق ہے کہ دنیا اور آخرت کی کوئی خیر اور بھلائی اور کوئی حاجت و ضرورت ایسی نہیں ہے جس کی دعا رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے نہ کی ہو، اور امت کو تلقین نہ فرمائی ہو۔ اسی طرح دوسری قسم کی دعاؤں کو پیشِ نظر رکھ کر یہ کہنا بھی بالکل صحیح ہے کہ دنیا اور آخرت کا کوئی شر، کوئی فساد، کوئی فتنہ اور کوئی بلا اور آفت اس عالم وجود میں ایسی نہیں ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی پناہ نہ مانگی ہو اور امت کو اس کی تلقین نہ فرمائی ہو۔ غور کرنے اور سمجھنے والوں کے لئے رسول اللہ ﷺ کا نہایت روشن معجزہ ہے کہ آپ ﷺ کی دعائیں انسانوں کی دنیوی و اخروی، روحانی اور جسمانی، انفرادی اور اجتماعی ظاہری اور باطنی، مثبت اور منفی ساری ہی حاجتوں اور ضرورتوں پر حاوی ہیں اور کوئی خفی سے خفی اور دقیق سے دقیق حاجت نہیں بتائی جا سکتی جس کو آپ ﷺ نے بہتر سے بہتر پیرائے میں اللہ تعالیٰ سے نہ مانگا ہو، اور امت کو اس کے مانگنے کا طریقہ نہ سکھایا ہو۔ قرآن مجید میں بھی ان دونوں ہی قسموں کی یعنی مثبت اور منفی دعائیں موجود ہیں اور بالکل آخر کی دو مستقل سورتیں “قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ” اور “قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ” اول سے آخر تک منفی قسم کی دعا یعنی استعاذہ ہی پر مشتمل ہیں، اور اسی لئے ان کو “معوذتین” کہا جاتا ہے اور ان ہی پر قرآن مجید ختم ہوا ہے۔ قرآن پاک کے اس طریقے ہی کی پیروی میں یہ مناسب سمجھا گیا کہ جو احادیث ایسی دعاؤں پر مشتمل ہیں جن میں شرور و فتن اور بلیات سے اور برے اعمال و اخلاق اور ہر قسم کی ناپسندیدہ باتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے، اُن کو آخر میں درج کیا جائے اور ان ہی کو اس سلسلہ کا خاتمہ بنایا جائے۔ اب ذیل میں وہی حدیثیں پڑھئے: اس حدیث میں بظاہر تو چار چیزوں سے پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، لیکن فی الحقیقت دنیا اور آخرت کی کوئی برائی اور کوئی تکلیف اور کوئی مصیبت اور کوئی پریشانی ایسی نہیں سوچی جا سکتی جو ان چار عنوانوں کے احاطہ سے باہر ہو۔ ان میں سب سے پہلی چیز ہے: “جُهْدُ الْبَلَاءِ” (کسی بلا کی مشقت اور سختی) بلا ہر اس حالت کا نام ہے جو انسان کے لئے باعث تکلیف اور موجبِ پریشانی ہو، اور جس میں اس کی آزمائش ہو، یہ دینوی بھی ہو سکتی ہے اور دینی بھی، روحانی بھی ہو سکتی ہے اور جسمانی بھی، انفرادی بھی ہو سکتی ہے اور اجتماعی بھی۔ الغرض یہ ایک ہی لفظ تمام مصائب اور تکالیف اور ا ٓفات و بلیات کو حاوی ہے۔ اس کے بعد دوسری چیز جس سے پناہ مانگنے کی اس حدیث میں تلقین فرمائی گئی ہے، وہ ہے “دَرْكُ الشَّقَاءِ” (بدبختی کا لاحق ہونا) اور تیسری چیز ہے: “سُوْءُ الْقَضَاءِ” (بری تقدیر) ان دونوں کی جامعیت بھی بالکل ظاہر ہے، جس بندے کو ہر نوع کی بدبختی سے اور بری تقدیر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ اور حفاظت حاصل ہو گئی بلاشبہ اسے سب کچھ مل گیا۔ آخری چیز جس سے پناہ مانگنے کی اس حدیث میں تلقین فرمائی گئی ہے وہ ہے “شَمَاتَةُ الْاَعْدَاءِ” (یعنی کسی مصیبت اور ناکامی پر دشمنوں کا ہنسنا) بلاشبہ دشمنوں کی شماتت اور طعنہ زنی بعض اوقات بڑی روحانی تکلیف و اذیت کا باعث ہوتی ہے، اس لئے اس سے خصوصیت کے ساتھ پناہ مانگنے کے لئے فرمایا، اگرچہ اس سے پہلے تین جامع عنوانات اس کو بھی حاوی تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کی تعمیل میں ان چاروں چیزوں سے پناہ مانگنے کے لئے صحیح اور مناسب الفاظ یہ ہوں گے: اللهم إنى أعوذ بك مِنْ جَهْدِ البَلاَءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ القَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بلا کی سختی سے اور بدبختی لاحق ہونے سے اور بری تقدیر سے اور دشمنوں کے ہنسنے اور ان کی طعنہ زنی سے۔

1303Maarif-ul-Hadith

دعوتِ استعاذہ

عَنْ أَنَسَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس طرح دعا کیا کرتے تھے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ تا غَلَبَةِ الرِّجَالِ” (اے میرے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکر سے اور غم سے اور کم ہمتی اور کاہلی و بزدلی سے اور بخیلی و کنجوسی اور قرضہ کے بار سے اور لوگوں کے دباؤ سے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس دعا میں جن آٹھ چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے، ان میں سے چار (فکر و غم، قرضہ کا بار اور مخالفین کا غلبہ) ایسی چیزیں ہیں جو حساس و صاحبِ شعور آدمی کے لئے زندگی کے لطف سے محرومی اور سخت روحانی اذیت کا باعث ہوتی ہیں اور اس کی قوتِ کار اور صلاحیتوں کو معطل کر کے رکھ دیتی ہیں جس کے نتیجہ میں وہ دنیا اور آخرت کی بہت سی کامیابیوں اور سعادتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔ اور باقی چار (کم ہمتی، کاہلی، کنجوسی اور بزدلی) ایسی کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے آدمی وہ جرأت مندانہ اقدامات اور محنت و قربانی والے وہ اعمال نہیں کر سکتا جن کے بغیر نہ دنیا میں کامرانی حاصل کی جا سکتی ہے اور نہ آخرت میں فوز و فلاح اور نہ اللہ کی رضا کا مقام حاصل ہو سکتا ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ ان سب چیزوں سے اللہ کی پناہ چاہتے تھے، اور اپنے عمل سے امت کو بھی اس کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔

1304Maarif-ul-Hadith

دعوتِ استعاذہ

عَنْ عَائِشَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الكَسَلِ وَالهَرَمِ، وَالمَغْرَمِ وَالمَأْثَمِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ القَبْرِ وَعَذَابِ القَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الفَقْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ المَشْرِقِ وَالمَغْرِبِ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کرتے تھے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الكَسَلِ تا بَاعَدْتَ بَيْنَ المَشْرِقِ وَالمَغْرِبِ” (اے میرے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی، کاہلی سے اور انتہائی بڑھاپے سے (جو آدمی کو بالکل ہی اذکار رفتہ کر دے) اور قرضہ کے بوجھ سے، اور ہر گناہ سے۔ اے میرے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں دوزخ کے عذاب سے او ر دوزخ کے فتنہ سے اور فتنہ قبر سے، اور عذابِ قبر سے، اور دولت و ثروت کے فتنہ کے شر سے، اور مفلسی و محتاجی کے فتنہ کے شر سے اور فتنہ دجال کے شر سے۔ اے میرے اللہ! میرے گناہوں کے اثرات دھو دے اولے اور برف کے پانی سے اور میرے دل کو (گندے اعمال و اخلاق کی گندگیوں سے) اس طرح پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اور میری اور گناہوں کے درمیان اتنی دوری پیدا کر دے جتنی دوری تو نے مشرق و مغرب کے درمیان کر دی ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس دعا میں علاوہ اور چیزوں کے “ھرم” یعنی بڑھاپے سے بھی پناہ مانگی گئی ہے۔ عمر کی اس حد تک درازی کہ ہوش و حواس صحیح سالم رہیں (اور آخرت کی کمائی کا سلسلہ جاری رہے) اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، لیکن ایسا بڑھاپا جو بالکل ہی اذکار رفتہ کر دے جس کو قرآن پاک میں “اَرْذَلُ الْعُمُرِ” فرمایا گیا ہے۔ ایسی ہی چیز ہے جس سے اللہ کی پناہ مانگی جائے “ھرم” بڑھاپے کا وہی درجہ ہے۔ اس دعا میں “عذابِ نار” کے ساتھ “فتنہ نار” سے اور “عذابِ قبر” کے ساتھ “فتنہ قبر” سے بھی پناہ مانگی گئی ہے۔ عذابِ نار سے مراد بظاہر دوزخ کا وہ عذاب ہے جو ان دوزخیوں کو ہو گا جو کفر و شرک جیسے سنگین جرائم کی وجہ سے دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ اسی طرح عذابِ قبر سے مراد بظاہر قبر کا وہ عذاب ہے جو اسی طرح کے بڑے مجرموں کو قبر می ہو گا۔ لیکن جو ان سے کم درجہ کے مجرمین ہیں ان کو اگرچہ دوزخیوں کی طرح دوزخ میں نہیں ڈالا جائے گا اور قبر میں بھی ان پر درجہ اول کے ان مجرمین والا وہ سخت عذاب مسلط نہیں کیا جائے گا، لیکن دوزخ اور قبر کی کچھ تکلیفوں سے ان لوگوں کو بھی گزرنا پڑے گا اور بس یہی سزا ان کے لئے کافی ہو گی۔ اس عاجز کے نزدیک “فتنہ نار” اور “عذابِ قبر” کے ساتھ اس “فتنہ نار” اور “فتنہ قبر” سے بھی پناہ چاہی اور اپنے عمل سے ہم کو بھی اس کی تلقین فرمائی ہے۔ دجال کا فتنہ بھی ان عظیم ترین فتنوں میں سے ہے جن سے رسول اللہ ﷺ بکثرت پناہ مانگتے تھے، اور اہلِ ایمان کو اس کی تلقین فرماتے تھے۔ اللہ تعالی دجالِ اکبر کے فتنہ سے (جس کی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے) اور ہر دجالی فتنہ سے اپنی پناہ میں رکھے۔ اس دعا میں دولت مندی کے فتنہ سے اور اس کے ساتھ فقر و محتاجی کے فتنہ سے بھی اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے۔ دولت و ثروت بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، اگر اس کا حق ادا کرنے اور اس کو صحیح طور پر استعمال کرنے کی توفیق ملے۔ حضرت عثمان ؓ نے اپنی دولت ہی سے وہ مقام پایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں اعلان فرمایا کہ: “عثمان اس کے بعد جیسا بھی عمل کریں ان پر کوئی عتاب نہ ہو گا اور ان سے کوئی باز پرس نہ ہو گی (مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمَلَ بَعْدَ مَرَّتَيْنِ) (1) ” اسی طرح فقر کے ساتھ اگر صبر و قناعت نصیب ہو تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے فقر ہی کی زندگی پسند فرمائی، اور فقر اور اہلِ فقر کے بڑے فضائل بیان فرمائے۔ لیکن اگر بدقسمتی سے دولت مندی و خوش حالی تکبر و غرور پیدا کرے اور مال و دولت کے صحیح استعمال کی توفیق نہ ملے تو پھر وہ قارونیت ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اسی طرح اگر فقر و محتاجی کے ساتھ صبر و قناعت نہ ہو اور اس کی وجہ سے آدمی ناکردنی کرنے لگے تو وہ خدا کا ایک عذاب ہے، اور اسی کے برے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا” (محتاجی اور مفلسی آدمی کو کفر تک بھی پہنچا سکتی ہے) اس دعا میں غنا اور فقر (دولت مندی اور ناداری)کے جس شر و فتنہ سے پناہ مانگی گئی ہے وہ یہی ہے، اور وہ ایسی ہی چیز ہے کہ اس سے ہزار بار پناہ مانگی جائے۔ اس دعا کے آخر میں گناہوں کے اثرات دھونے کی اور دل کی صفائی کی اور گناہوں سے بہت دور کئے جانے کی جو دعا کی گئی ہے وہ اگچہ بظاہر مثبت دعاؤں میں سے ہے، لیکن غور کیا جائے تو وہ بھی ایک طرح کہ سلبی دعا ہے اور گویا استعاذہ ہی ہے۔

1305Maarif-ul-Hadith

دعوتِ استعاذہ

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ، وَعَذَابِ، الْقَبْرِ اللهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا» (رواه مسلم)

حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے: “اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ تا وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا” (اے میرے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں کم ہمتی سے اور سستی و کاہلی اور بزدلی سے، اور بخیلی و کنجوسی سے اور انتہائی درجہ کے بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے میرے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما دے اور اس کا تزکیہ فرما کے اس کو مصفیٰ بنا دے تو ہی سب سے اچھا تزکیہ فرمانے والا ہے، تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے میرے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نفع مند نہ ہو، اور ایسے دل سے جس میں خشوع نہ ہو اور اس (ہوسناک) نفس سے جس کی سیری نہ ہو، اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو)۔ (صحیح مسلم) تشریح علم غیر نافع، قلب غیر خاشع اور ہوسناک نفس جس کی ہوسناکی ختم ہی نہ ہو اور وہ دعا جس کی اللہ کے ہاں سماعت نہ ہو۔ ان چاروں چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے کا مطلب یہی ہو گا کہ اللہ تعالیٰ علم نافع عطا فرمائے، قلب کو خشوع کی صفت مرحمت فرمائے، نفس کو ہوسناکی سے پاک فرما کر اس کو قناعت سے آراسشتہ فرمائے اور دعاؤں کو قبولیت سے نوازے۔

1306Maarif-ul-Hadith

دعوتِ استعاذہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ» (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی تھی: “اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ تا وَجَمِيعِ سَخَطِكَ” (اے میرے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیری نعمتوں کے زائل ہو جانے سے، اور تیری بخشی ہوئی عافیت کے چلے جانے سے، اور تیرے عذاب کے ناگہانی آ جانے سے، اور تیری ہر قسم کی ناراضی اور ناخوشی ہے)۔ (صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ کی اس دعا سے بلکہ اس سلسلہ کی ساری ہی دعاؤں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نبوت رسالت بلکہ مقامِ محبوبیت پر بھی جائز ہونے کے باوجود قضاء و قدر کے فیصلوں سے آپ ﷺ کتنے لرزاں و ترساں رہتے تھے، اور اپنے کو اللہ تعالیٰ کی نگاہِ کرم اور اس کی حفاظت و پناہ کا کتنا محتاج سمجھتے تھے، صحیح ہے۔ “قریبان را بیش بود حیرانی”

1307Maarif-ul-Hadith

دعوتِ استعاذہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشِّقَاقِ، وَالنِّفَاقِ، وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ» (رواه ابوداؤد والنسائى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشِّقَاقِ، وَالنِّفَاقِ، وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ” (اے میرے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔ شقاق یعنی آپس کے سخت اختلاف اور نفاق سے اور برے اخلاق سے)۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی) تشریح “شقاق” اس شدیدی اختلاف کو کہتے ہیں جس کے نتیجہ میں فریقین ایک دوسرے سے بالکل جدا ہو جائیں اور ان کی راہیں الگ الگ ہو جائیں۔ نفاق کے معنی ہیں ظاہر و باطن کا فرق، یہ اعتقادی نفاق کے علاوہ عملی زندگی میں منافقانہ رویہ کو بھی شامل ہے، یہ تینوں چیزیں جن سے اس دعا میں اللہ کی پناہ چاہی گئی ہے (یعنی خلاف و شقاق، نفاق اور برے اخلاق) آدمی کے دین کو بلکہ اس کی دنیا کو بھی برباد کر دیتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ اگرچہ معصوم اور قطعاً محفوظ تھے لیکن ان کے باوجود ان مہلکات کی ہلاکت خیزی ہی کی وجہ سے ان سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ان چیزوں سے اپنے کو محفوظ رکھنے کی اُتنی فکر کریں جتنی ایک مومن کو ہونی چاہئے اور ہمیشہ ان سے اللہ کی پناہ مانگتے رہیں۔

1308Maarif-ul-Hadith

دعوتِ استعاذہ

عَنْ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللهِ عَلِّمْنِي تَعَوُّذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ. فَأَخَذَ بِكَفِّي وَقَالَ: " قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي " (رواه ابوداؤد والترمذى والنسائى)

شکل بن حمید ؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ: یا رسول اللہ! مجھے کوئی تعوذ تعلیم فرما دیجئے (یعنی کوئی ایسی دعا بتا دیجئے) جس کے ذریعہ میں اللہ سے پناہ و حفاظت طلب کیا کروں؟ آپ ﷺ نے میرا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں تھام کر فرمایا: کہو “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي تا وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي” (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کانوں کے شر سے، اپنی نگاہ کے شر سے، اور اپنی زبان کے شر سے، اور اپنے قلب کے شر سے، اور اپنے مادہ شہوت کے شر سے)۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی) تشریح سمع و بصر اور زبان و قلب اور اسی طرح جنسی خواہش کا شر یہ ہے کہ یہ چیزیں احکامِ خداوندی کے خلاف استعمال ہوں، جس کا انجام اللہ کا غضب اور اس کا عذاب ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس شر سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے اور اس کی پناہ مانگی جائے، وہی اگر بچائے گا تو بندہ بچ سکے گا ورنہ مبتلا ہو کر ہلاک ہو جائے گا۔

1309Maarif-ul-Hadith

دعوتِ استعاذہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ، فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ، فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ» (رواه ابوداؤد والنسائى وابن ماجه)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ تا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ” (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں بھوک اور فاقہ سے، وہ بڑا تکلیف دہ رفیقِ کواب ہے اور خیانت کے جرم سے، وہ بہت بری ہمراز ہے)۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) تشریح جب آدمی کو بھاک اور فاقہ کی تکلیف ہو تو نیند نہیں آتی، بس اسی احساس کے ساتھ کروٹیں بدلتا رہتا ہے۔ اسی لحاظ سے بھوک کو “رفیقِ خواب” (یعنی بستر کا ساتھی) کہا گیا ہے۔ اور خیانت ہمیشہ چوری چھپے ہی کی جاتی ہے اور اس کا راز بس خیانت کرنے والے ہی کو معلوم ہوتا ہے، اس لئے خیانت کو “بِطَانَةُ” (ہمراز) کہا گیا ہے۔ بھوک اور خیانت جیسی چیزوں سے رسول اللہ ﷺ کا پناہ مانگنا کمالِ عبدیت کا وہ آخری اور انتہائی مقام ہے جو بلاشبہ آپ ﷺ کا طرہ امتیاز ہے اور اس مین ہمارے لئے بڑا سبق ہے۔

1310Maarif-ul-Hadith

دعوتِ استعاذہ

عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ البَرَصِ، وَالْجُذَامِ، وَالْجُنُونِ، وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ» (رواه ابوداؤد والنسائى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ تا وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ” (اے میرے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، برص، جذام اور پاگل پن سے، اور سب خراب بیماریوں سے)۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی) تشریح برص، جذام، جنون اور اس طرح کی وہ بس بیماریاں جن کی وجہ سے لوگ مریض سے نفرت اور گھن کریں اور جن کی وجہ سے آدمی زندگی ہر موت کو ترجیح دینے لگے۔ بلاشبہ ان سے ہر آدمی کو پناہ مانگنی چاہئے، لیکن ہلکی اور معمولی قسم کی بیماریاں بعض پہلوؤں سے یقیناً خدا کی رحمت ہوتی ہیں۔

1311Maarif-ul-Hadith

دعوتِ استعاذہ

عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، أَنَّ رَسُولَ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْحَرَقِ، وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا» (رواه ابوداؤد والنسائى)

ابوالیسر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ تا وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا” (اے اللہ! میں تیری پناہ مانگیا ہوں (اپنے اوپر کسی عمارت وغیرہ کے) ڈھے جانے سے اور (کسی بلندی کے اوپر) گر پڑنے سے اور (دریا وغیرہ میں) ڈوب جانے سے، اور آگ میں جل جانے سے، اور انتہائی بڑھاپے سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں، اس بات سے کہ موت کے وقت شیطان مجھے وسوسوں میں مبتلا کردے اور تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ میں میدانِ جہاد میں پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہوا مروں، اور پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ کسی زہریلے جانور کے ڈسنے سے مجھے موت آ جائے)۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی) تشریح کسی دیوار وغیرہ کے نیچے دب کر مر جانا، اور اسی طرح کسی بلندی سے نیچے گر کر، یا دریا وغیرہ میں ڈوب کے، یا آگ میں جل کر یا کسی زہریلے جانور سانپ وغیرہ کے ڈسنے سے ختم ہو جانا، یہ سب صورتیں مفاجاتی اور ناگہانی موت کی ہیں۔ علاوہ اس کے کہ انسانی روح موت کی ان سب صورتوں سے فطری طور پر بہت زیادہ گھراتی ہے، ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان صورتوں میں مرنے والے کو موت کی تیاری، تجدید ایمان اور توبہ و استغفار وغیرہ کا موقع نہیں ملتا (جو موت کی دوسری عام شکلوں میں عموماًً مل جاتا ہے) اس لئے ایک مومن کو موت کی ان سب ناگہانی صورتوں سے پناہ ہی مانگنا چاہئے۔ اسی طرح اس سے بھی پناہ مانگنا چاہئے کہ میدانِ جہاد میں پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے موت آئے ’ اللہ کی نگاہ میں یہ نہایت سنگین جرم ہے، علیٰ ہذا اس سے بھی پناہ مانگتے رہنا چاہئے کہ موت کے وقت شیطان وسوسہ اندازی کے ذریعہ ہم کو گڑبڑا سکے اور گمراہ کر سکے۔ خاتمہ ہی کے اچھے یا برے ہونے پر سارا دار و مدار ہے۔ موت کی جن ناگہانی صورتوں سے اس دعا میں پناہ مانگی گئی ہے، دوسری حدیثوں میں اس قسم کے حوادث سے مرنے والوں کو شہادت کی بشارت سنائی گئی ہے، اور ان کو شہید قرار دیا گیا۔ ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد اور منافات نہیں ہے۔ اپنی بشری کمزوری کے لحاظ وسے موت کی ان سب صورتوں سے ہمیں اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے لیکن جب تقدیر الٰہی سے کسی بندے کو اس طرح سے موت آ جائے تو ارحم الراحمین کی رحمت پر نگاہ رکھتے ہوئے توقع رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ مفاجاتی موت ہی کی وجہ سے اس کو “اعزازی شہادت” کا مقام عطا فرمائے گا۔ اور اگر عقائد و اعمال کے حساب سے کچھ بھی گنجائش ہو گی تو یقینا رب کریم کی طرف سے ایسا ہی ہو گا۔ “إِنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ”

1312Maarif-ul-Hadith

دعوتِ استعاذہ

عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الأَخْلَاقِ، وَالأَعْمَالِ وَالأَهْوَاءِ» (رواه الترمذى)

قطبہ بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الأَخْلَاقِ، وَالأَعْمَالِ وَالأَهْوَاءِ” (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں برے اخلاق ’ برے اعمال اور بری خواہشات سے)۔ (جامع ترمذی)

1313Maarif-ul-Hadith

دعوتِ استعاذہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ َانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ» (رواه مسلم)

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے: “اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ” (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ان اعمال کے شر سے جو میں نے کئے ہیں، اور ان اعمال کے شر سے جو میں نے نہیں کئے)۔ (صحیح مسلم) تشریح کسی برے عمل کا سرزد ہو جانا اور اسی طرح کسی اچھے عمل کا فوت ہو جانا، دونوں ایسی چیزیں ہیں جن کے شر سے ہم جیسے عامی بھی پناہ مانگتے ہیں، لیکن عارفین اچھے سے اچھے عمل کرنے اور برے اور گندے اعمال سے دامن بچانے کے بعد بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں ہمارے اندر اس کی وجہ سے عجب و غرور اور نیکی و پاکدامنی کا پندرانہ پیدا ہو جائے (جو اللہ کی نگاہ میں جرمِ عظیم ہے) اس لئے وہ اپنے اچھے اعمال کے شر اور برے اعمال کے ترک کے شر سے بھی اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ سچ ہے “حسنات الأبرار سيئات المقربين”

1314Maarif-ul-Hadith

بیماری اور برے اثرات سے تحفظ کے لئے استعاذہ

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الحَسَنَ وَالحُسَيْنَ يَقُولُ: «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ»، وَيَقُولُ: «هَكَذَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يُعَوِّذُ إِسْحَاقَ وَإِسْمَاعِيلَ» (رواه الترمذى وابوداؤد)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (اپنے دونوں نواسوں) حضرت حسن و حسین پر دم کیا کرتے تھے (یہ کلمات پڑھ کے دم فرماتے تھے): “أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ” (میں تم کو اللہ کے پورے پورے کلموں کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان کے اثر سے، اور ڈَسنے والے ہر زہریلے کیڑے سے، اور لگنے والی ہر نظرِ بد سے)۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد) تشریح یہ کلمات پڑھ کر بچوں پر دم کرنا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے، اور آپ ﷺ سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بھی سنت ہے۔ بلاشبہ بڑے بابرکت ہیں یہ کلمات۔

1315Maarif-ul-Hadith

بیماری اور برے اثرات سے تحفظ کے لئے استعاذہ

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ مُنْذُ أَسْلَمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي تَأَلَّمَ مِنْ جَسَدِكَ، وَقُلْ بِاسْمِ اللهِ ثَلَاثًا، وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ» (رواه مسلم)

حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنی تکلیف عرض کی کہ: جب سے میں اسلام لایا ہوں جسم کے فلاں حصہ میں درد رہتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس جگہ درد ہے اس جگہ اپنا ہاتھ رکھو اور تین دفعہ بسم اللہ پڑھ کر سات دفعہ کہو: “أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ” (میں اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کاملہ کی پناہ چاہتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو مجھے لاحق ہے اور اس سے بھی جس کا مجھے خطرہ ہے)۔ (صحیح مسلم) تشریح ہر جسمانی تکلیف کے لئے یہ عمل اور تعوذ رسول اللہ ﷺ کا خاص عطیہ ہے اور بہت مجرب ہے۔

1316Maarif-ul-Hadith

توبہ و استغفار بلند ترین مقام: توبہ و استغفار کے باب میں رسول اللہ ﷺ کا اسوہ حسنہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي اليَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً» (رواه البخارى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “خدا کی قسم میں دن میں ستر دفعہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں توبہ و استغفار کرتا ہوں”۔ (صحیح بخاری) تشریح دُعا ہی کی ایک خاص قسم استغفار ہے، یعنی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں اور قصوروں کی معافی اور بخشش مانگنا اور تونہ کرنا گویا اس کے لوازم میں سے ہے، بلکہ یہ دونوں ہی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ جو گناہ اور نافرمانی یا ناپسندیدہ عمل بندے سے سرزد ہو جائے اس کے برے انجام کے خوف کے ساتھ اس پر اسے دِلی رنج و ندامت ہو، اور آئندہ کے لئے اس سے بچے رہنے اور دور رہنے کا اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اس کی رضاس جوئی کا وہ عزم اور فیصلہ کرے۔ ظاہر ہے کہ جب یہ توبہ والی کیفیت نصیب ہو گی تو جو گناہ سرزد ہو چکے ہیں بندہ اللہ تعالیٰ سے ان کی معافی اور بخشش کی استدعا بھی ضرور کرے گا، تا کہ ان کی سزا اور برے انجام سے بچ سکے۔ اور اسی طرح جب سزا اور عذاب کے خوف سے معافی اور بخشش مانگے گا تو اس کو گناہ پر رنج و افسوس اور آئندہ کے لئے اس کے پاس نہ جانے کا عزم بھی ضرور ہو گا۔ اسی بناء پر کہا گیا ہے کہ فی الحقیقت یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ توبہ و استغفار کی حقیقت اس مثال سے اچھی طرح سمجھی جا سکتی ہے کہ کوئی آدمی مثلاً غصہ کی حالت میں خودکشی کے ارادہ سے زہر کھا لے، اور جب وہ زہر اندر پہنچ کر اپنا عمل شروع کرے اور آنتیں کٹنے لگیں اور وہ ناقابل برداشت تکلیف اور بےچینی ہونے لگے جو زہر کے نتیجہ میں ہوتی ہے، اور موت سامنے کھڑی نظر آ ئے تو اس کو اپنی اس احمقانہ حرکت پر رنج و افسوس ہو اور اس وقت وہ چاہے کہ کسی بھی قیمت پر اس کی جان بچ جائے، اور جو دوا حکیم یا داکٹر اسے بتائیں وہ اسے استعمال کرے اور اگر قے کرنے کے لئے کہیں تو قے لانے کے لئے بھی ہر تدبیر اختیار کرے۔ یقیناً اس وقت وہ پوری صدق دلی کے ساتھ یہ بھی فیصلہ کرے گا کہ اگر میں زندہ بچ گیا تو آئندہ کبھی ایسی حماقت نہیں کروں گا۔ بالکل اسی طرح سمجھنا چاہئے کہ کبھی کبھی صاحبِ ایمان بندہ غفلت کی حالت میں اغواءِ شیطانی یا خود اپنے نفسِ امارہ کے تقاضے سے گناہ کر بیٹھتا ہے، لیکن جب اللہ کی توفیق سے اس کا ایمانی حاسہ بیدار ہوتا ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے اپنے مالک و مولیٰ کی نافرمانی کر کے اپنے کو ہلاک کر ڈالا، اوراللہ کی رحمت و عنایت اور اس کی رضا کے بجائے میں اس کے غضب اور عذاب کا مستحق ہو گیا اور اگر میں اسی حالت میں مر گیا تو قبر میں اور اس کے بعد حشر میں مجھ پر کیا گزرے گی اور وہاں اپنے مالک کو کیا منہ دکھاؤں گا اور آخرت کا عذاب کیسے برداشت کر سکوں گا۔ الغرض جب توفیقِ الٰہی سے اس کے اندر یہ فکر و احساس پیدا ہوتا ہے تو وہ یہ یقین و عقیدہ رکھتے ہوئے کہ میرا مالک و مولیٰ بڑا رحیم و کریم ہے، معافی مانگنے پر بڑے سے بڑے گناہوں، قصوروں کو وہ بڑی خوشی سے معاف فرما دیتا ہے، وہ اس سے معافی اور بخشش کی استدعا کرتا ہے اور اسی کو گناہ کے زہر کا علاج سمجھتا ہے۔ نیز اس کے ساتھ وہ آئندہ کے فیصلہ کرتا ہے کہ اب کبھی اپنے مالک کی نافرمانی نہیں کروں گا اور کبھی اس گناہ کے پاس نہیں جاؤں گا۔ بس بندے کے اسی عمل کا نام استغفار اور توبہ ہے۔ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ مقبولین و مقربین کے مقامات میں سب سے بلند مقام عبدیت اور بندگی کا ہے، اور دعا چونکہ عبدیت اور بندگی کا سب سے اعلیٰ مظہر ہے، بلکہ ارشادِ نبویﷺ کے مطابق “مُخُّ العِبَادَةِ” (یعنی بندگی اور عبادت کا مغز اور جوہر ہے) اس لئے انسانی اعمال و احوال میں سب سے اکرم و اشرف دعا ہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد اپنے موقع پر درج ہو چکا ہے: “لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللهِ مِنَ الدُّعَاءِ” (اللہ کے یہاں کوئی چیز دعا سے زیادہ عزیز اور قیمتی نہیں ہے)۔ اور استغفار و توبہ کے وقت بندہ چونکہ اپنی گنہگاری اور تقصیر کے احساس کی وجہ سے انتہائی ندامت اور احساسِ پستی کی حالت میں ہوتا ہے، اور گناہ کی گندگی کی وجہ سے مالک کو منہ دکھانے کے قابل نہیں سمجھتا، اور اپنے کو مجرم اور خطاوار سمجھ کر معافی اور بخشش مانگتا اور آئندہ کے لئے توبہ کرتا ہے، اس لئے بندگی اور تذلل اور گنہگاری و قصورواری کے احساس کی جو کیفیت استغفار و توبہ کے وقت میں ہوتی ہے وہ کسی دوسری دعا کے وقت میں نہیں ہوتی بلکہ نہیں ہو سکتی اس بناء پر استغفار و توبہ دراصل اعلیٰ درجہ کی عبادت اور قربِ الٰہی کے مقامات میں بلند ترین مقام ہے، اور توبہ و استغفار کرنے والے بندوں کے لئے صرف معافی اور بخشش ہی کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت و محبت اور اس کے پیار کی بشارت سنائی گئی ہے۔ وہ حدیثیں آگے آئیں گی جن سے معلوم ہو گا کہ خود رسول اللہ ﷺ ہر وقت توبہ و استغفار کرتے تھے۔ اوپر کی سطروں میں توبہ و استغفار کے متعلق جو کچھ عرض کیا گیا اس کی روشنی میں آنحضرتﷺ کے اس کثرتِ استغفار کی وجہ آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔ دراصل یہ خیال بہت ہی عامیانہ اور غلط ہے کہ استغفار و توبہ عاصیوں اور گنہگاروں ہی کا کام ہے، اور انہی کو اس کی ضرورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اللہ کے خاص مقرب بندے یہاں تک کہ انبیاء علیہم السلام جو گناہوں سے محفوظ و معصوم ہوتے ہیں ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی وہ محسوس کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا حق بالکل ادا نہ ہو سکا، اس لئے وہ برابر توبہ و استغفار کرتے ہیں، اور اپنے ہر عمل کو حتیٰ کہ اپنی نمازوں تک کو قابلِ استغفار سمجھتے ہیں۔ اس سلسلہ کی تیسری جلد “کتاب الصلوٰۃ” میں حضرت ثوبان ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کا سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ کہتے تھے: “أَسْتَغْفِرُ اللهَ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ ” (یعنی اے اللہ میں تجھ سے بخشش و معافی چاہتا ہوں) نماز کے بعد آپ ﷺ کا یہ استغفار اسی بنیاد پر ہوتا تھا کہ آپ ﷺ محسوس کرتے تھے کہ نماز کا حق ادا نہیں ہوا۔ واللہ اعلم۔ بہرحال توبہ و استغفار عاصیوں اور گنہگاروں کے لئے مغفرت و رحمت کا ذریعہ اور مقربین و معصومین کے لئے درجاتِ قرب و محبوبیت میں بےانتہا ترقی کا وسیلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان حقائق کا فہم و یقین اور ان سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔ اس تمہید کے بعد استغفار و توبہ سے متعلق احادیث پڑھئے۔ اور سب سے پہلے وہ احادیث پڑھئے جن میں توبہ و استغفار کے باب میں خود رسول اللہ ﷺ کا معمول ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور جلال و جبروت کے بارے میں جس بندے کو جس درجہ کا شعور و احساس ہو گا وہ اسی چرجہ میں اپنے آپ کو اداءِ حقوقِ عبودیت میں قصوروار سمجھے گا، اور رسول اللہ ﷺ کو چونکہ یہ چیز بدرجہ کمال حاصل تھی اس لئے آپ ﷺ پریہ احساس غالب رہتا تھا کہ عبودیت کا حق ادا نہ ہو سکا، اسی واسطے آپ ﷺ بار بار اور مسلسل توبہ و استغفار فرماتے تھے۔ اور اس کا اظہار فرما کر دوسروں کو بھی اس کی تلقین فرماتے تھے۔

1317Maarif-ul-Hadith

توبہ و استغفار بلند ترین مقام: توبہ و استغفار کے باب میں رسول اللہ ﷺ کا اسوہ حسنہ

عَنِ الْأَغَرِّ الْمُزْنِىِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تُوبُوا إِلَى اللهِ وَاسْتَغْفِرُوا، فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ» (رواه مسلم)

حضرت اغر مزنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو! اللہ کے حضور میں توبہ کرو، میں خود دن میں سو سو دفعہ اس کے حضور میں توبہ کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم) تشریح پہلی حدیث میں “أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً” (دو دفعہ) دراصل صرف کثرت کے بیان کے لئے ہیں، اور قدیم عربی زبان کا یہ عام محاورہ ہے، ورنہ حضور ﷺ کے استغفار و توبہ کی تعداد یقیناً اس سے بہت زیادہ ہوتی تھی۔ جیسا کہ آگے درج ہونے والی حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کی حدیث سے ظاہر ہوتا ہے۔

1318Maarif-ul-Hadith

توبہ و استغفار بلند ترین مقام: توبہ و استغفار کے باب میں رسول اللہ ﷺ کا اسوہ حسنہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: إِنَّا كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ الْوَاحِدِ مِائَةَ مَرَّةٍ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ» (رواه احمد والترمذى وابوداؤد وابن ماجه)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کی ایک ایک نشست میں شمار کر لیتے تھے کہ آپ ﷺ سو سو دفعہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کرتے تھے: “رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ” (اے میرے رب مجھے معاف کر دے، بخش دے اور میری توبہ قبول فرما کر مجھ پر عنایت فرما، بےشک تو بہت ہی عنایت فرمانے اور بہت ہی بخشنے والا ہے)۔(مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے اس بیان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ بطورِ ورد و وظیفہ کے استغفار و توبہ کا یہ کلمہ ایک نشست میں سو دفعہ پڑھتے تھے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ مجلس میں تشریف فرما ہوتے، ہم لوگ بھی حاضر رہتے، بات چیت کا سلسلہ بھی جاری رہتا اور آپ ﷺ اسی درمیان میں بار بار اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر ان کلمات کے ساتھ استغفار و توبہ بھی کرتے رہتے، اور ہم اپنے طور پر اس کو شمار کرتے رہتے تو معلوم ہوتا کہ ایک نشست میں آپ ﷺ نے سو دفعہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہ عرض کیا۔ واللہ اعلم۔

1319Maarif-ul-Hadith

توبہ و استغفار بلند ترین مقام: توبہ و استغفار کے باب میں رسول اللہ ﷺ کا اسوہ حسنہ

عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " اللهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا، وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا " (رواه ابن ماجه والبيهقى فى الدعوات الكبير)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے: “اللهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا، وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا” (اے اللہ! مجھے اپنے اُن بندوں میں سے کر دے جو نیکی کریں تو خوش ہوں، اور ان سے جب کوئی غلطی اور برائی سرزد ہو جائے تو تیرے حضور میں استغفار کریں)۔ (سنن ابن ماجہ، دعوات کبیر للبیہقی) تشریح کسی بندے کو ان اچھے اعمال کی توفیق ملنا جن کے صلہ میں جنت اور رضائے الٰہی کا وعدہ ہے اس بات کی علامت اور نشانی ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت ہے، اس لئے اس کا حق ہے کو اس کو چاہئے کہ وہ اعمالِ حسنہ کی اس توفیق پر خوش ہو اور شکر ادا کرے۔ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا گیا ہے: قُلْ بِفَضْلِ اللَّـهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا اللہ کے فضل اور اس کی رحمت و عنایت پر اس کے بندوں کو خوش ہونا چاہئے۔ اسی طرح جب کسی بندے سے کوئی چھوٹی بڑی معصیت یا لغزش ہو جائے تو اسے اس کا رنج اور دکھ ہونا چاہئے، اور فوراً اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنا چاہئے۔ جس بندے کو یہ دونوں باتیں حاصل ہوں وہ بڑا خوش نصیب ہے۔ رسول اللہ ﷺ خود اپنے لئے دعا فرماتے تھے کہ: اللہ تعالیٰ مجھے بھی یہ دونوں باتیں نصیب فرمائے۔

1320Maarif-ul-Hadith

گناہوں کی سیاہی اور توبہ و استغفار سے اس کا ازالہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ، فَإِنْ تَابَ وَاسْتَغْفَرَ، صُقِلَ قَلْبُهُ، وَإِنْ زَادَ، زَادَتْ حَتَّى تَعْلُوْا قَلْبَهُ، فَذَلِكُمُ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى: {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} (رواه احمد والترمذى وابن ماجه)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے نتیجہ میں اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے، پھر اگر اس نے اس گناہ سے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں معافی اور بخشش کی التجا و استدعا کی تو وہ سیاہ نقطہ زائل ہو کر قلب صاف ہو جاتا ہے، اور اگر اس نے گناہ کے بعد توبہ و استغفار کے بجائے مزید گناہ کئے اور گناہوں کی وادی میں قدم بڑھائے تو دل کی وہ سیاہی اور بڑھ جاتی ہے، یہاں تک کہ قلب پر چھا جاتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: یہی وہ زنگ اور سیاہی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر فرمایا ہے: كَلَّا ۖ بَلْ ۜرَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) تشریح قرآن مجید میں ایک موقع پر بد انجام کافروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے “كَلَّا ۖ بَلْ ۜرَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ” جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی بدکرداریوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ اور سیاہی آ گئی ہے۔رسول اللہ ﷺ کی مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ گناہوں اور بدکرداریوں کی وجہ سے صرف کافروں ہی کے دل سیاہ نہیں ہوتے، بلکہ مسلمان بھی جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں بھی گناہ کی نحوست سے ظلمت پیدا ہوتی ہے، لیکن اگر وہ سچے دل سے توبہ و استغفار کر لے تو یہ سیاہی اور ظلمت ختم ہو جاتی ہے اور دل حسبِ سابق صاف اور نورانی ہو جاتا ہے، لیکن اگر گناہ کے بعد توبہ و استغفار نہ کرے یا کہ معصیت و نافرمانی ہی کے راستہ پر آگے بڑھتا ہے تو پھر یہ ظلمت برابر بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتی ہے، اور کسی مسلمان کے لئے بلاشبہ یہ انتہائی بدبختی کی بات ہے کہ گناہوں کی ظلمت اس کے دل پر چھا جائے، اور اس کے قلب میں اندھیرا ہی اندھیرا ہو جائے۔ اعاذنا اللہ منہ