عن ابن عمر (مَرْفُوْعًا) اللهم إني أسألك عيشة نقية، وميتة سوية، ومردا غير مخز، ولا فاضح. (رواه البزار والحاكم والطبرانى فى الكبير)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “اللهم إني أسألك تا ولا فاضح” (اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں پاک صاف زندگی اور ڈھنگ کی موت (جس میں کوئی بدنمائی نہ ہو) اور (اصلی وطن آخرت کی طرف) ایسی مراجعت جس میں رسوائی اور فضیحت نہ ہو)۔ (مسند بزار، مستدرک حاکم، معجم کبیر طبرانی)
تشریح
آدمی کے لئے تین ہی مرحلے ہیں: ایک اس دنیا کی زندگی کا مرحلہ، دوسرا موت کا مرحلہ اور تیسرا دارِ آخرت کا مرحلہ۔ اس مختصر دعا میں تینوں مرحلوں کے لئے بڑے سادہ انداز میں بہترین دعا موجود ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ حَالِ أَهْلِ النَّارِ» (رواه الترمذى وابن ماجة)
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “اللَّهُمَّ انْفَعْنِي تا مِنْ حَالِ أَهْلِ النَّارِ” (اے اللہ! جو کچھ علم تو نے مجھے عطا فرمایا اس کو میرے لئے نفع مند بنا دے (یعنی مجھے اس پر عمل کرنے کی توفیق دے) اور مجھے وہ علم عطا فرما جو میرے لئے نافع ہو اور میرے علم میں اضافہ فرما۔ اللہ کے لئے حمد و ستائش ہر حال میں، اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں دوزخیوں کے حال سے)۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
عن ابن عمر (مَرْفُوْعًا) "اللهم لا تكلني إلى نفسي طرفة عين، ولا تنزع عني صالح ما أعطيتني".(رواه البزار)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “اللهم لا تكلنيتا ما أعطيتني” (اے اللہ! مجھے پل بھر کے لئے میرے نفس کے حوالے نہ کر، اور جو کوئی اچھی چیز (اچھا عمل یا اچھا حال) تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس کو مجھ سے واپس نہ لے)۔ (مسند بزار)
تشریح
بندوں کے پاس جو کچھ خیر ہے وہ صرف اللہ کی توفیق اور اس کی عطا سے ہے، اگر اللہ تعالیٰ ایک لمحہ کے لئے بھی نگاہِ کرم پھیر لے اور بندے کو اس کے نفس کے حوالے کر دے تو وہ محروم ہو کے رہ جائے گا۔ اس لئے ہر عارف بندے کے دل کی یہ صدا ہوتی ہے کہ: “اے اللہ! ایک لمحہ کے لئے مجھے میرے نفس کے حوالہ نہ کر، ہر دم میری نگرانی اور مجھ پر نظرِ کرم فرما”۔
عَنْ عَائِشَةَ (مَرْفُوْعًا) «اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِكَ عَلَيَّ عِنْدَ كِبَرِ سِنِّي، وَانْقِطَاعِ عُمُرِي» (رواه الحاكم)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “اللَّهُمَّ اجْعَلْ تا وَانْقِطَاعِ عُمُرِي” (اے اللہ! میرے بڑھاپے کے دنوں میں اور میری عمر کے آخری حصے میں میری روزی میں زیادہ سے زیادہ وسعت فرما)۔ (مستدرک حاکم)
تشریح
بڑھاپے میں اور عمر کے آخری حصے میں رزق کی تنگی زیادہ تکلیف دہ ہو سکتی ہے، کیوں کہ آدمی اس وقت دوڑ بھاگ اور جدوجہد کے قابل نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں موت کے قرب کا زمانہ ہوتا ہے، اور ہر مومن کی آرزو یہ ہونی چاہئے کہ اس زمانہ میں آدمی اللہ کی یاد اور آخرت کی تیاری کے لئے دوسری تمام فکروں سے فارغ اور آزاد ہو، اس لئے یہ مسنون دعا ہر مومن کے دل کی دھڑکن ہونی چاہیے: “اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِكَ عَلَيَّ عِنْدَ كِبَرِ سِنِّي، وَانْقِطَاعِ عُمُرِي”
عَنْ أَنَسٍ (مَرْفُوْعًا) «اللَّهُمَّ اجْعَلْ خَيْرَ عُمُرِي آخِرَهُ، وَخَيْرَ عَمَلِي خَوَاتِيْمَهُ، وَخَيْرَ أَيَّامِى يَوْمَ أَلْقَاكَ» (رواه الطبرانى)
حضرت انس ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “اللَّهُمَّ اجْعَلْ خَيْرَ عُمُرِي تا يَوْمَ أَلْقَاكَ فِيْهِ ” (اے اللہ! میری عمر کے آخری حصے کو میری زندگی کا بہترین حصہ کر دے، اور میرے آخری عمل میری زندگی کے بہترین عمل ہوں، اور میرا سب سے اچھا دن وہ ہو جو تیرے حضور میں میری حاضری کا دن ہو)۔ (معجم کبیر طبرانی)
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ (مَرْفُوْعًا) " اللهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا، وَارْضَ عَنَّا وَتَقَبَّلْ مِنَّا وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ، وَأَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ " قِيْلِ زِدْنَا قَالَ :«أَوَ لَيْسَ قَدْ جَمَعْنَا الْخَيْرَكُلَّهُ» (رواه احمد وابن ماجه والطبرانى فى الكبير)
حضرت ابو امامہ ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “اللهُمَّ، اغْفِرْ لَنَا تا شَأْنَنَا كُلَّهُ” (اے اللہ! ہم کو بخش دے، ہم پر رحمت فرما اور دوزخ سے ہمیں بچا لے، اور ہمارے حالات اور جملہ معاملات درست فرما دے) آپ سے عرض کیا گیا: حضور (ﷺ) ہمارے لئے اور زیادہ دعا فرمائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا (اس دعا میں جو میں نے ابھی کی) ساری خیر کو ہم نے جمع نہیں کر لیا۔ (مسند احمد، سنن ابن ماجہ، معجم کبیر طبرانی)
تشریح
اس دعا میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور بخشش مانگی گئی ہے، رحمت مانگی گئی ہے اللہ کی رضا اور قبولیت مانگی گئی ہے، جنت کا داخلہ اور دوزخ سے نجات مانگی گئی ہے، اور سب سے آخر میں استدعا کی گئی ہے کہ ہمارے جملہ معاملات اور سارے حالات درست فرمادے (وَأَصْلِحْ شَأْنَنَا كُلَّهُ) ظاہر ہے کہ اس کے بعد کوئی بھی انسانی حاجت اور ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اس سے زیادہ جو کچھ مانگا جائے گا وہ اسی اجمال کی تفصیل ہو گی۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “أَوَ لَيْسَ قَدْ جَمَعْنَا الْخَيْرَكُلَّهُ” (یعنی اس دعا میں ہم نے وہ سب مانگ لیا ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت میں مطلوب ہو سکتا ہے)۔
عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الوَحْيُ يَوْمًا ...... فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلا تَنْقُصْنَا، وَأَكْرِمْنَا وَلا تُهِنَّا، وَأَعْطِنَا وَلا تَحْرِمْنَا، وَآثِرْنَا وَلا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَارْضَ عَنَّا وَأَرْضِنَا» (رواه احمد والترمذى)
حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی (اور اس وقت آپ ﷺ کی وہ کیفیت ہو گئی جو نزولِ وحی کے وقت ہو جایا کرتی تھی، جب وہ کیفیت ختم ہوئی) تو آپ ﷺ قبلہ رو ہو گئے اور ہاتھ اُٹھا کے یہ دعا فرمائی: “اللَّهُمَّ زِدْنَا تا وَارْضَ عَنَّا” (اے اللہ! ہماری تعداد میں زیادتی اور اضافہ فرما، کمی نہ فرما، اور ہمیں عزت و عظمت عطا فرما، ہماری اہانت و ذلت نہ فرما، ہمیں اپنی ہر طرح کی نعمتیں عطا فرما، ہمیں محروم نہ فرما ہمیں اپنا لے، ہمارے مقابلے میں دوسروں کو ترجیح نہ دے، ہم سے راضی ہو جا اور ہمیں خوش کر دے)۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث میں آگے یہ بھی ہے کہ اس وقت آپ ﷺ پر سورہ مومنون کی ابتدائی دس آیتیں نازل ہوئی تھیں، ان کا آپ ﷺ کے قلبِ مبارک پر غیر معمولی اثر تھا، اسی تاثر کے ماتحت آپ ﷺ نے کاص اہتمام سے اپنی جماعت اور امت کے لئے یہ دعا فرمائی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کوئی دعا زیادہ اہتمام سے کرنی ہو تو بہتر ہے کہ قبلہ رو ہو کر اور ہاتھ اُٹھا کر کی جائے۔
عن ابن مسعود" (مَرْفُوْعًا) «اللهُمَّ أَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ لَنَا وَمَا بَطَنَ، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُلُوبِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا؛ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ، مُثْنِينَ بِهَا قَائِلِيهَا، وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» (رواه الطبرانى فى الكبير والحاكم فى المستدرك)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “اللهُمَّ أَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا تا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا ” (اے اللہ! ہمارے آپس کے تعلقات درست فرما دے اور ہمارے دلوں کو جوڑ دے، اور ہمیں سلامتی کے راستوں پر چلا، اور ہر طرح کی گمراہیوں سے نکال کر ہمیں نور کی طرف لا، اور ظاہری و باطنی قسم کی ساری بےحیائیوں سے ہمیں بچا۔ اے اللہ! ہماری سماعت و بصارت اور ہمارے قلوب میں اور اسی طرح ہمارے بیوی بچوں میں برکت عطا فرما، اور ہماری توبہ قبول فرما کر ہم پر عنایت فرما، تو بڑا عنایت فرمانے والا بڑا مہربان ہے اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار اور ثناء خواں اور قدر کے ساتھ قبول کرنے والا بنا اور ہمیں اپنی وہ نعمتیں بھرپور عطا فرما۔ (معجم کبیر طبرانی، مستدرک حاکم)
تشریح
اس جامع ترین ععا میں سب سے پہلے آپس کے تعلقات کی درستی اور دِلوں کے جوڑ کی استدعا کی گئی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اگر دِلوں میں پھوٹ اور سینوں میں بغض و عداوت ہو تو دین بھی برباد ہوتا ہے اور دنیا بھی۔ اللہ تعالیٰ کی دینی و دنیوی اور مادی و روحانی ساری نعمتوں سے صحیح طور پر فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ معاشرہ بغض و عداوت کے عذاب سے محفوظ ہو۔ علاوہ ازیں اہلِ ایمان کے دلوں کا باہمی جوڑ اور ان کے تعلقات کی خوش گواری بجائے خود اہم مطلوبات میں سے ہے۔
آنکھوں، کانوں اور بیوی بچوں وغیرہ میں برکت کا مطلب یہ ہے کہ یہ نعمتیں برابر نصیب رہیں، اور ان سے وہ فوائد وبرکات حاصل ہوتے رہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان میں رکھے ہیں۔
نعمتوں کی قدر اور ان پر شکر و حمد کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے اور ان سے محرومی بہت بڑی محرومی ہے، اس لئے اس کو بھی اللہ سے مانگنا چاہئے اور ایک محتاج بندے کی حیثیت سے ہر نعمت کے اتمام کی بھی اس سے استدعا کرنی چاہئے۔
عَنْ عَائِشَةَ (مَرْفُوْعًا) «رَبِّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، زَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا» (رواه احمد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “رَبِّ أَعْطِ نَفْسِي تا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا” (اے میرے رب! میرے نفس کو تقویٰ سے آراستہ فرما اور (اس کی گندگیاں دور فرما کر) اس کو پاکیزہ بنا دے، تو ہی سب سے اچھا پاکیزہ بنانے والا ہے، تو ہی اس کا والی اور مالک و مولیٰ ہے)۔ (مسند احمد)
عن أبي أُمَامَةَ (مَرْفُوْعًا) قُلْ «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا بِكَ مُطْمَئِنَّةً، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ، وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ» (رواه الضياء فى المختاره والطبرانى فى الكبير)
حضرت ابو امامہ ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تا تَقْنَعُ بِعَطَائِكَ ” (اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں “نفس مطمئنہ” یعنی ایسا نفس جس کو تیری طرف سے اطمینان اور جمیعت کی دولت نصیب ہو، اور مرنے کے بعد تیرے حضور میں حاضری کا اس کو کامل یقین ہو اور تیرے فیصلوں پر وہ راضی و مطمئن ہو، اور تیری طرف سے جو کچھ ملے وہ اس پر قانع ہو)۔ (مختارہ للضیاء المقدسی، معجم کبیر طبرانی)
تشریح
“نفسِ مطمئنہ” وہی ہے جس میں یہ صفائی پائی جائیں اور یہ وہ نعمت ہے جو خاص ہی خاص بندوں کو عطا ہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔
عَنِ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ لِىْ عَلِيٌّ أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً عَلَّمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: قُلْ: «اللَّهُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِي لِذِكْرِكَ، وَارْزُقْنِي طَاعَتَكَ وَطَاعَةَ رَسُولِكَ، وَعَمَلًا بِكِتَابِكَ» (رواه الطبرانى فى الاوسط)
حارث اعور سے روایت ہے کہ حضرت علی ؓ نے مجھ سے فرمایا کہ: “میں تم کو ایک دعا بتاؤں جو مجھے رسول ﷺ نے بتائی تھی! مین نے عرض کیا: ضرور بتائیے! آپ نے فرمایا: یوں عرض کیا کرو۔ “اللَّهُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِي تا وَعَمَلًا بِكِتَابِكَ” (اے اللہ! تو اپنے ذکر کے لئے (یعنی اپنی ہدایت و نصیحت قرآن پاک کے لئے) میرے دل کے کان کھول دے، اور مجھے اپنی اور اپنے رسولِ پاک ﷺ کی تابعداری کی اور اپنی کتابِ پاک قرآن مجید پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما)۔ (معجم اوسط للطبرانی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (مَرْفُوْعًا) اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أَخْشَاكَ حَتَّى كَأَنِّي أَرَاكَ أَبَدًا حَتَّى أَلْقَاكَ، وَأَسْعِدْنِي بِتَقْوَاكَ، وَلَا تُشْقِنِي بِمَعْصِيَتِكَ. (رواه الطبرانى فى الاوسط)
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي تا وَلَا تُشْقِنِي بِمَعْصِيَتِكَ” (اے اللہ! میرا حال ایسا کر دے کہ تیرے حضور میں حاضر ہونے تک (یعنی مرتے دم تک) تیرے قہر و جلال سے میں ہر وقت اس طرح ترساں و لرزاں رہوں کہ گویا ہر دم تجھے دیکھ رہا ہوں، اور اپنے خوف و تقویٰ کی دولت نصیب فرما کر مجھے خوش بخت کر دے، اور ایسا نہ ہو کہ تیری نافرمانی کر کے میں بدبختی میں مبتلا ہو جاؤں)۔ (معجم اوسط طبرانی)
تشریح
غور کیا جائے مندرجہ بالا دعاؤں میں خاص کر اس دعا میں کتنے مختصر الفاظ میں کتنی عظیم نعمتوں کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ دعائیں آنحضرتﷺ کی خاص میراث میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ان کی قدر و قیمت کو سمجھیں۔
عن ابن عمر (مَرْفُوْعًا) "اللهم ارزقني عينين هطالتين، تشفيان القلب بذروف الدمع من خشيتك قبل أن تكون الدموع دما، والأضراس جمرا" (رواه ابن عساكر)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “اللهم ارزقني تا والأضراس جمرا ” (اے اللہ! مجھے وہ آنکھیں نصیب فرما جو تیرے عذاب اور غضب کے خوف سے آنسوؤں کی بارش برسا کر دل کو سیراب کر دیں، اس گھڑی کےک آنے سے پہلے جب بہت سی آنکھیں خون کے آنسو روئیں گی اور بہت سے مجرمین کی داڑھیں انگارہ ہو جائیں گی)۔ (ابن عساکر)
تشریح
جن کو اللہ نے حقائق کی معرفت دی ہے ان کے نزدیک وہی آنکھ زندہ اور بینا ہے جو اللہ کے خوف سے روئے اور آنسوؤں کی بارش برسائے ان کے دل اسی بارش سے سیراب ہوتے ہیں، اس لئے وہ اللہ سے رونے والی آنکھیں مانگتے ہیں۔
عن الهيثم الطائي (مَرْفُوْعًا) اللَّهُمَّ اجْعَل حبك أحب الْأَشْيَاء إِلَيّ وَاجعَل خشيتك أخوف الْأَشْيَاء عِنْدِي واقطع عني حاجات الدُّنْيَا بالشوق إِلَى لقائك وَإِذا أَقرَرت أعين أهل الدُّنْيَا من دنياهم فأقرر عَيْني من عبادتك. (رواه ابو نعيم فى الحلية)
ھیثم بن مالک طائی ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “اللَّهُمَّ اجْعَل حبك تا من عبادتك” (اے اللہ! ایسا کر دے کہ کائنات کی ساری چیزوں سے زیادہ مجھے تیری محبت ہو، اور ساری چیزوں سے زیادہ مجھے تیرا خوف ہو اور اپنی ملاقات کے شوق کو مجھ پر اتنا طاری کر دے کہ دنیا کی ساری حاجتوں کا احساس اس کی وجہ سے فنا ہو جائے اور جہاں تو بہت سے اہلِ دنیا کو ان کی مرغوبات دے کر ان کی آنکھین ٹھنڈی کرتا ہے تو میری آنکھیں طاعت و عبادت سے ٹھنڈی کر (یعنی مجھے عبادت کا وہ ذوق و شوق بخش دے کہ اس میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو اور پھر مجھے عبادت کی بھرپور توفیق دے)۔ (حلیہ ابی نعیم)
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ دَاوُدَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي، وَمِنَ الْمَاءِ البَارِدِ قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ دَاوُدَ يُحَدِّثُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ أَعْبَدَ البَشَرِ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو الدرداء ؓ نے رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ: “اللہ کے پیغمبر داؤد علیہ السلام جو دعائیں کرتے تھے ان مین ایک خاص دعا یہ بھی تھی: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تا وَمِنَ الْمَاءِ البَارِدِ” (اے میرے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں تیری محبت (یعنی مجھے اپنی محبت عطا فرما) اور اپنے ان بندوں کی محبت بھی مجھے عطا فرما جو تجھ سے محبت کرتے ہین، اور ان اعمال کی بھی محبت مجھے عطا فرما جو تیری محبت کے مقام تک پہنچاتے ہوں۔ اے اللہ! ایسا کر دے کہ اپنی جان اور اہل و عیال کی محبت اور ٹھنڈے پانی کی چاہت سے بھی زیادہ مجھے تیری محبت اور چاہت ہو) حضرت ابو الدرداء ؓ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکر فرماتے تو ان کے متعلق یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ “وہ بہت ہی زیادہ عبادت گزار بندے تھے”۔ (جامع ترمذی)
تشریح
حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ دعا جو ان کے جذبہ محبت اور عشق الٰہی کی آئینہ دار تھی رسول اللہ ﷺ کو بہت ہی پسند تھی، اسی لئے آپ ﷺ نے خاص طور سے صحابہ کرامؓ کو بتلائی۔ وصفِ نبوت اگرچہ تمام انبیاء علیہم السلام کا مشترک شرف ہے، لیکن اس کے علاوہ بعض انبیاء علیہم السلام کے کچھ خصائص بھی ہوتے ہین جن میں وہ دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کثرتِ عبادت حضرت داؤد علیہ السلام کی امتیازی خصوصیت تھی۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الخَطْمِيِّ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: «اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يَنْفَعُنِي حُبُّهُ عِنْدَكَ، اللَّهُمَّ مَا رَزَقْتَنِي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِي فِيمَا تُحِبُّ، اللَّهُمَّ وَمَا زَوَيْتَ عَنِّي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ فَرَاغًا لِي فِيمَا تُحِبُّ» (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن یزید خطمی انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دعا یہ بھی کیا کرتے تھے: “اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي تا فِيمَا تُحِبُّ” (اے اللہ! مجھے اپنی محبت عطا فرما اور اپنے ان بندوں کی محبت عطا فرما جن کی محبت میرے لئے تیرے تیرے نزدیک نفع مند ہو۔ اے اللہ! میری چاہت اور رغبت کی جو چیزیں تو نے مجھے عطا فرمائی ہیں ان سے مجھے ان کاموں میں تقویت پہنچا جو تجھے محبوب ہیں، اوری میری رغبت و چاہت کی جو چیزیں تو نے مجھے عطا نہیں فرمائیں (اور میرے اوقات کو ان سے فارغ رکھا) تو مجھے توفیق دے کہ میں اس فراغ کو ان کاموں میں استعمال کروں جو تجھے محبوب ہیں)۔ (جامع ترمذی)
تشریح
آدمی کو اس کی مرغوبات دے دی جائیں تو اس کا بھی امکان ہے کہ وہ ان میں مست اور منہمک ہو کر خدا سے غافل ہو جائے، یا وہ ان کو اس طرح استعمال کرے کہ معاذاللہ خدا سے اور دور ہو جائے۔ اسی طرح مرغوبات نہ ملنے کی صورت میں بھی امکان ہے کہ وہ دوسری قسم کی خرافات میں اپنا وقت برباد کرے۔ اس لئے بندے کو برابر یہ دعا کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اگر اس کی مرغوبات عطا فرمائے تو اس کو اس کی بھی توفیق دے کہ وہ مرغوبات کو تقربِ الی اللہ کا وسیلہ بنائے، اور اگر مرغوبات نہ ملیں اور اس کی وجہ سے فرصت و فراغ حاصل ہو تو اس کو توفیق ملے کہ فارغ اور خالی وقت کو اللہ تعالیٰ کی مرضیات ہی میں لگائے۔ رسول اللہ ﷺ کی ہر دعا اور اس کا ہر جزو بلاشبہ معرفت کا خزانہ ہے۔
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ: اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي، وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي. (رواه الترمذى)
حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ دعا تلقین فرمائی: “اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي، وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي” (اے اللہ! میرے دل میں وہ ڈال جس میں میرے لئے بھلائی اور بہتری ہو، اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا، اور اپنی پناہ میں رکھ)۔ (جامع ترمذی)
عَنْ أُمَّ سَلَمَةَ أَنَّ أَكْثَرَ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ عِنْدَهَا يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ. (رواه الترمذى)
ام المومنین حضرت امِ سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب ان کے پاس ہوتے تو اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے: “يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ” (اے دلوں کو پلٹنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت و قائم رکھ)۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس روایت میں آگے حضرت امِ سلمہؓ کا یہ بیان بھی ہے کہ میں نے ایک دن حضور ﷺ سے عرض کیا کہ: کیا بات ہے کہ آپ ﷺ اکثر و بیشتر یہ دعا کرتے ہیں؟ (حضرت امِ سلمہؓ کا مطلب غالبا اس سوال سے یہی ہو گا کہ آپ ﷺ تو لغزشوں سے محفوظ رہیں پھر آپ ﷺ یہ دعا کیوں کرتے ہیں) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ہر آدمی کا دل اللہ کے ہاتھ میں ہے اسی کے اختیار میں ہے جس کا دل چاہے سیدھا رکھے اور جس کا چاہے ٹیڑھا کر دے۔ آپ ﷺ کے اس جواب کا مطلب یہ ہوا کہ میرا معاملہ بھی اللہ کی مشیت پر موقوف ہے اسی لئے مجھے بھی اس سے دعا مانگنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ جس بندے کو اپنے نفس کی اور ساتھ ہی اپنے رب کی معرفت نصیب ہو گی اس کا یہی حال ہو گا اور وہ کبھی اپنے کو مامون و محفوظ نہیں سمجھے گا۔ بندوں کے حق میں یہی بلندی اور کمال ہے۔
“قریباں را بیش بود حیرانی”
عن ابن عمر (مَرْفُوْعًا) «قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي، وَخُذْ إِلَى الْخَيْرِ بِنَاصِيَتِي، وَاجْعَلِ الْإِسْلَامَ مُنْتَهَى رِضَائِي، اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّنِي، وَإِنِّي ذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي، وَإِنِّي فَقِيرٌ فَارْزُقْنِىْ» (رواه الطبرانى فى الكبير)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ تا وَإِنِّي فَقِيرٌ فارزقني” (اے میرے اللہ! میں تیرا ایک کمزور بندہ ہوں تو اپنی رضاطلبی کی راہ میں میری کمزوری کو قوت سے بدل دے (تا کہ میں پوری تندہی اور تیز رفتاری سے تیری رضا کے لئے کام کر سکوں) اور میری پیشانی پکڑ کے میرا رُخ خیر کی طرف کر دے، اور اسلام کو میرا منتہائے رضا بنا دے (یعنی میری انتہائی خوشی یہ ہو کہ میں پورا پورا مسلم ہو جاؤں) اے میرے اللہ! میں ضعیف و ناتواں ہوں، تو میری ناتوانی کو توانائی سے بدل دے اور میں ذلت و پستی کے حال میں ہوں تو مجھے عزت بخش دے، اور میں فقیر و نادار ہوں تو مجھے میری ضرویات عطا فرما دے)۔ (معجم کبیر طبرانی)
عن ابن مسعود (مَرْفُوْعًا) "إليك ربي فحببني، وفي نفسي لك ربي فذللني، وفي أعين الناس فعظمني، ومن سيء الأخلاق فجنبني"
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “إليك ربي فحببني تا فجنبني ” (اے میرے پروردگار! مجھے اپنا پیارا بنا لے اور مجھے ایسا کر دے کہ میں اپنے کو تیرے حضور میں ذلیل سمجھوں اور دوسرے بندوں کی نگاہ میں مجھے باعظمت بنا دے، اور برے اخلاق سے مجھے بالکل بچا اور دور رکھ)۔ (مکارم الاخلاق ابنِ ہلال)
تشریح
کسی بندہ سے اللہ تعالیٰ کا محبت فرمانا عظیم ترین دولت ہے جس کی ہر مومن کو دلی آرزو ہونی چاہئے، اس دعا میں سب سے پہلے یہی نعمت مانگی گئی ہے۔ اسی طرح یہ بھی بندے پر اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہے کہ وہ خود کو تو ذلیل و حقیر سمجھے لیکن اللہ کے بندے اس کو عزت کی نگاہ میں دیکھیں اور اس کا احترام و اکرام کریں۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا پہلے گزر چکی ہے: “اللَّهُمَّ اجْعَلنِي فِي عَيْني صَغِيرا اللَّهُمَّ اجْعَلنِي فِي أعين النَّاس كَبِيرا”