عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: دُعَاءٌ حَفِظْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَدَعُهُ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعَظِّمُ شُكْرَكَ وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ، وَأَتَّبِعُ نَصِيحَتَكَ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ» (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے ایک دعا رسول اللہ ﷺ سے سن کر یاد کی تھی (وہ دعا میں برابر کیا کرتا ہوں) اس کو میں کبھی نہیں چھوڑتا (وہ یہ ہے) “اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعَظِّمُ شُكْرَكَ تا وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ” (اے اللہ! مجھے ایسا کر دے کہ میں تیری نعمتوں کے شکر کی عظمت و اہمیت کو سمجھوں (تا کہ پھر شکر میں کوتاہی نہ کروں) اور تیرا ذکر کثرت سے کروں اور تیری نصیحتوں کی پیروی کروں اور تیری وصیتوں اور حکموں کو یاد رکھوں (اور ان کی تعمیل سے غفلت نہ بررتوں)۔ (جامع ترمذی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو يَقُولُ: «رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الهُدَى لِي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا، لَكَ مِطْوَاعًا، لَكَ مُخْبِتًا، إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ صَدْرِي» (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: “رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ تا وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ صَدْرِي” (اے میرے رب! میری مدد فرما، میرے خلاف (میرے دشمنوں کی کارروائیوں میں ان کی) مدد نہ فرما، میری حمایت فرما (میرے مخالفین کی) میرے خلاف حمایت نہ فرما، اپنی لطیف خفیہ تدبیر میرے حق میں استعمال فرما، میرے خلاف استعمال نہ فرما۔ مجھے ٹھیک راستے پر چلا اور صراطِ مستقیم پر چلتے رہنا میرے لئے آسان فرما، جو کوئی مجھ پر ظلم و زیادتی کرے اس کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ اے پروردگار! مجھے بنا دے اپنا خوب شکر کرنے والا، خوب ذکر کرنے والا، اپنے سے بہت ڈرنے والا، سراپا اطاعت گزار و فرنبردار، اپنے حضور میں عاجزری اور نیاز مندی سے جھکنے والا، نرم دل اور تیری بارگاہِ کرم کی طرف رجوع ہونے اور پلٹنے والا۔ اے میرے رب! میری توبہ قبول فرما لے، میرے گناہوں کے میل کچیل کو دھو دے، میری دعا قبول فرما، میرا ایمان (جو آخرت مین میری حجت بننے والا ہے اس کو) مستحکم کر دے، میری زبان کو ٹھیک چلنے والا بنا دے، میرے دل کو ہدایت بخش دے اور میرے سینہ کے کینہ کپٹ اور ہر قسم کی کھوٹ نکال دے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
اس دعا کی جامعیت ظاہر ہے۔ مندرجہ بالا سب ہی دعاؤں کا خاص قابل غور پہلو یہ ہے کہ ہر دعا میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے کو اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس طرح پیش کیا ہے کہ میں زندگی کے ہر معاملہ میں تیرا محتاج ہوں، خود عاجز اور بےبس ہوں، یہاں تک کہ اپنے ظاہر و باطن اور زبان و قلب پر بھی میرا اختیار اور قابو نہیں۔ اپنے اخلاق و جذبات اور اعمال و احوال کی اصلاح میں بھی تیری نظرِ کرم کا محتاج ہوں۔ میری صحت اور بیماری بھی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، دشمنوں اور بدخواہوں کے شر سے تو ہی میری حفاظت فرما سکتا ہے، میں اس معاملہ میں بھی عاجز و بےبس ہوں، تو کریم رب اور داتا ہے اور میں سائل و منگتا ہوں۔
یہ رسول اللہ ﷺ کا کمالِ عبدیت ہے، اور بلاشبہ یہ کمال آپ ﷺ پر ختم ہے، اور یہ دوسرے تمام کمالات سے بالاتر ہے۔ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَاَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ
عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهَا هَذَا الدُّعَاءَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ تِقْضِيْهِ لِي خَيْرًا» (رواه ابن ابى شيبة وابن ماجه)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ جامع دعا تعلیم فرمائی: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ تا كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا” (یعنی اے اللہ! میں تجھ سے ہر قسم کی خیر اور بھلائی مانگتی ہوں، دنیا کی خیر بھی اور اخرت کی خیر بھی، وہ خیر بھی مانگتی ہوںٰ جس کو میں جانتی ہوں اور وہ بھی جس کو میں نہیں جانتی، اور میں تیری پناہ چاہتی ہوں ہر قسم کے شر اور برائی سے دنیا کے بھی شر سے اور آخرت کے بھی شر سے، اس شر سے بھی جس کو میں جانتی ہوں اور اس سے بھی جس کو میں نہیں جانتی۔ اے میرے اللہ! تیرے خاص بندے اور پیارے نبی ﷺ نے جس جس خیر کا بھی تجھ سے سوال کیا میں تجھ سے اس کی سائل ہوں، اور جس جس شر سے انہوں نے تیری پناہ چاہی اے اللہ میں بھی اس شر سے تیری پناہ چاہتی ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے مانگتی ہوں اور اس وقول و عمل کی توفیق کی سائل ہوں جو مجھے جنت سے قریب کر دے، اور میں تجھ سے دوزخ سے پناہ چاہتی ہوں اور ہر اس قول و عمل سے جو دوزخ سے قریب کرنے والا ہو۔ اور اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتی ہوں کہ جو فیصلہ تو میرے حق میں فرمائے وہ میرے لئے خیر اور بھلائی کا ضامن ہو)۔ (مصنف ابن ابی شیبہ و سنن ابن ماجہ)
تشریح
اس دعا کے ایک ایک جز پر غور کیا جائے، انسان کو دنیا اور آخرت میں جس چیز کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے یہ اس سب پر حاوی ہے۔ اسی حدیث کی ایک روایت میں یہ تفصیل بھی بیان کی گئی ہے کہ ایک دن حضرت ابو بکر صدیق ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آپ ﷺ کے گھر پر حاضر ہوئے اور کوئی بات بالکل تنہائی میں کرنا چاہتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اس وقت نماز پڑھ رہی تھیں، اور بہت طویل طویل دعائیں مانگ رہی تھیں۔ آنحضرت ﷺ نے جلدی تخلیہ کرانے کے لئے ان سے فرمایا کہ: جامع قسم کی دعائیں کر کے جلدی پوری کر لو۔ انہوں نے عرض کیا کہ: مجھے ایسی جامع دعا بتا دیجئے؟ اس وقت آپ ﷺ نے ان کو یہ دعا تلقین فرمائی۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: دَعَا النَّبِىُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُعَاءٍ كَثِيرٍ لَمْ نَحْفَظْ مِنْهُ شَيْئًا، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعَوْتَ بِدُعَاءٍ كَثِيرِ لَمْ نَحْفَظْ مِنْهُ شَيْئًا، فَقَالَ: " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَجْمَعُ ذَلِكَ كُلَّهُ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ المُسْتَعَانُ، وَعَلَيْكَ البَلَاغُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " (رواه الترمذى)
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بہت سی دعائیں فرمائیں جو ہمیں یاد نہیں رہیں، تو ہم نے آپ ﷺ نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! آپ نے بہت سی دعائیں فرمائی تھیں ان کو ہم یاد نہیں رکھ سکے (اور چاہتے یہ ہیں کہ اللہ سے وہ سب دعائیں مانگیں، تو کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں ایسی دعا بتائے دیتا ہوں جس میں وہ ساری دعائیں آ جائیں! الہ تعالیٰ کے حضور میں یوں عرض کرو کہ: “اے اللہ! ہم تجھ سے وہ سب مانگتے ہیں جو تیرے نبی محمد ﷺ نے تجھ سے مانگا، اور ہم ان سب چیزوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں جن سے تیرے نبی محمدﷺ نے تیری پناہ چاہی، بس تو ہی ہے جس سے مدد چاہی جائے اور تیرے ہی کرم پر موقوف ہے مقاصد اور مرادوں تک پہنچنا۔ اور کسی مقصد کے لئے سعی و حرکت اور اس کو حاصل کرنے کی قوت و طاقت بس اللہ ہی سے مل سکتی ہے”)۔ (جامع ترمذی)
تشریح
دنیا میں ایسے ہی بندوں کی تعداد زیادہ ہے جو رسول اللہ ﷺ سے منقول شدہ زیادہ دعائیں یاد نہیں رکھ سکتے۔ ان کے لیے اس حدیث میں نہایت آسان طریقہ بتا دیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح مانگا کریں کہ: اے اللہ! تجھ سے جو کچھ تیرے نبی حضرت محمد ﷺ نے مانگا میں وہ سب تجھ سے مانگتا ہوں، اور جن چیزوں سے انہوں نے تیری پناہ چاہی میں ان سب چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ ناچیز راقم السطور عرض کرتا ہے کہ اس میں بھی کوئی خسارہ اور مضائقہ نہیں ہے کہ یہ بات اپنی ہی زبان میں کہی جائے۔ مگر اللہ تعالیی کے حضور میں دل سے عرض کیا جائے، دراصل دعا ہی ہے جو دل سے ہو۔
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَرْفُوْعًا «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ، وَالنَّجَاةَ مِنَ النَّارِ» (رواه الحاكم)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ دعا روایت کی ہے: “اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ تا مِنَ النَّارِ” (اے اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں تیری رحمت کو واجب کر دینے والے، اور تیری مغفرت کو پکا کر دینے والے اعمال کا اور ہر گناہ سے محفوظ رہنے کا اور ہر نیکی کی توفیق کا اور تجھ سے مانگے ہیں جنت کا حصول اور دوزخ سے نجات)۔ (مستدرک حاکم)
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَرْفُوْعًا «اللَّهُمَّ احْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ قَائِمًا، وَاحْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ قَاعِدًا، وَاحْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ رَاقِدًا، وَلَا تُشْمِتْ بِي عَدُوًّا حَاسِدًا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ خَزَائِنُهُ بِيَدِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ شَرٍّ خَزَائِنُهُ بِيَدِكَ» (رواه الحاكم)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ دعا روایت کی ہے: “اللَّهُمَّ احْفَظْنِي تا خَزَائِنُهُ بِيَدِكَ” (اے اللہ! میری حفاظت فرما اسلام کے ساتھ کھڑے ہونے کی حالت مین اور بیٹھے ہانے کی حالت میں اور سونے کی حالت میں (یعنی میں کھڑے، بیٹھے اور سوتے ہر حال میں ایمان و اسلام کے ساتھ محفوظ رہوں) اور میرے دشمنوں اور حاسدوں کو تیرے کسی فیصلہ سے شماتت کا موقع نہ ملے۔ اے میرے اللہ! تیرے ہاتھ میں خیر کے جو خزانے ہیں میں تجھ سے ان کو مانگتا ہوں، اور تیرے قبضہ میں جو شر ہے اس سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (مستدرک حاکم)
عَنْ بُرَيْدَة مَرْفُوْعًا اللَّهُمَّ اجْعَلنِي شكُورًا اللَّهُمَّ اجْعَلنِي صبورا اللَّهُمَّ اجْعَلنِي فِي عَيْني صَغِيرا وَفِي أعين النَّاس كَبِيرا. (رواه البزار)
حضرت بریدہ ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “اللَّهُمَّ اجْعَلنِي تا كَبِيرا” (اے اللہ! مجھے اپنا شکر کرنے والا اور صبر کرنے والا بندہ بنا، اور مجھے اپنی نگاہ میں چھوٹا اور دوسرے لوگوں کی نگاہ میں بڑا بنا دے)۔ (مسند بزار)
تشریح
اس دعا کا آخری جزو خاص طور سے قابل غور ہے۔ بندے کو چاہئے کہ اپنے کو وہ چھوٹا اور حقیر و ذلیل سمجھے اور ساتھ ہی اللہ سے دعا کرتا رہے کہ دوسروں کی نگاہ میں وہ ذلیل نہ ہو۔
عن الأوزاعي" مرسلا "اللهم إني أسألك التوفيق لمحابك من الأعمال، وصدق التوكل عليك، وحسن الظن بك" (رواه ابونعيم فى الحلية)
امام اوزاعیؒ نے بطریق ارسال رسول اللہ ﷺسے روایت کی ہے: “اللهم إني أسألك تا وحسن الظن بك” (اے اللہ! میں تجھ سے استدعا کرتا ہوں تو مجھے توفیق دے ان اعمال کی جو تجھے محبوب ہیں، اور عطا فرما مجھے سچا توکل اور اپنی ذات پاک کے ساتھ حسن ظن)۔ (حلیہ ابی نعیم)
عَنْ عَلِيٍّ مَرْفُوْعًا «اللَّهُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِي لِذِكْرِكَ، وَارْزُقْنِي طَاعَتَكَ وَطَاعَةَ رَسُولِكَ، وَعَمَلًا بِكِتَابِكَ» (رواه الطبرانى فى الاوسط)
حضرت علی ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا روایت کی گئی ہے: “اللَّهُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِي تا وَعَمَلًا بِكِتَابِكَ” (اے اللہ! اپنے ذکر کے لئے اور اپنی نصیحت کے لئے میرے دل کے کان کھول دے، اور مجھے اپنی فرمانبرداری اور اپنے رسول پاکﷺ کی تابعداری نصیب فرما اور اپنی مقدس کتاب قرآن مجید پر عمل کی توفیق دے)۔ (معجم اوسط طبرانی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعًا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ صِحَّةً فِي إِيمَانٍ، وَإِيمَانًا فِي حُسْنِ خُلُقٍ، وَنَجَاةً تُتْبِعُهُ فَلَاحًا، وَرَحْمَةً مِنْكَ وَعَافِيَةً، وَمَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا. (رواه الطبرانى فى الاوسط)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا روایت کی گئی ہے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ صِحَّةً تا وَرِضْوَانًا” (اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں صحت و تندرستی ایمان کے ساتھ، اور استدعا کرتا ہوں ایمان کی حسن اخلاق کے ساتھ، اور سوال کرتا ہوں تجھ سے مقاصد میں کامیابی کا آخرت کی فلاح کے ساتھ اور سائل ہوں تجھ سے رحمت اور عافیت کا، اور تیری مغفرت اور رضامندی کا)۔ (معجم اوسط للطبرانی ومستدرک حاکم)
عن ابن عمر مَرْفُوْعًا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا يُبَاشِرُ قَلْبِي، وَيَقِينًا صَادِقًا حَتَّى أَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُنِي إِلَّا مَا كَتَبْتَ لِي، وَرِضًا بِمَا قَسَمْتَ لِي. (رواه البزار)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا روایت کی گئی ہے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تا بِمَا قَسَمْتَ لِي” (اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں ایسا ایمان جو میرے دل میں پیوست ہو جائے، اور ایسا یقین صادق جس کے بعد یہ حقیقت میرا علم بن جائے کہ مجھ پر صرف وہی تکلیف آئے گی جو تو نے میرے لئے لکھ دی ہے، اور اور میں تجھ سے استدعا کرتا ہوں کہ میرا یہ حال کر دے کہ زندگی کا جو سامان تو مجھے دے مین اس پر دل سے راضی ہوں)۔ (مسند بزار)
عن أبي هريرة مَرْفُوْعًا "اللهم الطف بي في تيسير كل عسير، فإن تيسير كل عسير عليك يسير، وأسألك اليسر والمعافاة في الدنيا والآخرة" (رواه الطبرانى فى الاوسط)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا روایت کی گئی ہے: “اللهم الطف بي تا في الدنيا والآخرة” (اے اللہ! میری ہر دشواری کو آسان فرما کے مجھ پہ مہربانی فرما، ساری دشواریوں اور مشکلوں کو آسان کرنا تیرے لئے بالکل آسان ہے۔ اور میں تجھ سے استدعا کرتا ہوں دنیا اور آخرت میں سہولت اور آسانی کے لئے اور کامل عافیت کے لئے)۔ (معجم اوسط للطبرانی)
عَنْ مَالِكٍ قَالَ: بلغنى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كان يدعوا "اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ" (مالك فى الموطا)
امام مالکؒ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: “اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تا غَيْرُ مَفْتُونٍ” (اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اچھے عمل کرنے کی توفیق اور برے اعمال کو چھوڑ دینے کی توفیق اور تیرے مکین بندوں کے ساتھ محبت کرنے کی توفیق۔ اور اے اللہ! جب تیرا فیصلہ کسی قوم کو فتنہ اور عذاب میں مبتلا کرنے کا ہو تو مجھے اس فتنہ میں مبتلا کئے بغیر اپنی طرف اُٹھا لے)۔ (مؤطا امام مالک)
تشریح
پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ جو تبع تابعین میں سے ہیں کبھی کبھی بعض حدیثیں سند کا ذکر کئے بغیر “بلغنی” کے عنوان سے بھی بیان کرتے ہیں۔ ان کو اصطلاح میں “بلاغات مالک” کہا جاتا ہے اور محدثین کے نزدیک یہ سب قابلِ قبول ہیں۔ یہ روایت بھی انہیں “بلاغات” میں سے ہے۔
عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ (مَرْفُوْعًا) " اللهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا، وَعَذَابِ الْآخِرَةِ " (رواه احمد وابن حبان والحاكم)
حضرت بسر بن ارطات ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ دعا نقل فرمائی: “اللهُمَّ أَحْسِنْ تا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ” (اے اللہ! ہمارے سارے کاموں کا انجام بہتر کر، اور دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے ہمیں بچا اور ہماری حفاظت فرما)۔ (مسند احمد، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم)
تشریح
یہ دعا بھی بہت ہی مختصر اور بہت جامع ہے۔
عَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ الْخِزَاعِيَّةِ مَرْفُوْعًا «اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ النِّفَاقِ، وَعَمَلِي مِنَ الرِّيَاءِ، وَلِسَانِي مِنَ الْكَذِبِ، وَعَيْنِي مِنَ الْخِيَانَةِ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ، وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ» (رواه الحكيم الترمذى والخطيب)
ام معبد خزاعیہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ دعا روایت کی ہے: “اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي تا وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ” (اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے، میرے اعمال کو ریاء کی آمیزش سے، میری زبان کو جھوٹ سے، اور میری آنکھوں کو نظر خیانت سے بالکل پاک صاف کر دے، تو آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے، تجھ سے میری کوئی چیز مخفی نہیں)۔ (نوادر حکیم ترمذی، تاریخ خطیب)
تشریح
ان سب دعاؤں کی جامعیت اور ہمہ گیری ظاہر ہے۔ ان کے مضامین بھی کسی خاص تشریح اور وضاحت کے محتاج نہیں۔ غور کرنے والوں اور سمجھنے والوں کے لئے ان کا ہر جز معرفت کا خزانہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ رسول اللہ ﷺ کے اس محفوظ اور نہایت قیمتی ورثہ کی قدر کریں۔ اور ان دعاوں کے ذریعہ دنیا اور آخرت کی برکتیں اور رحمتیں براہِ راست مالک الملک کے خزانہ سے حاصل کیا کریں۔
عَنْ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا أَنْ نَقُولَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الأَمْرِ، وَأَسْأَلُكَ عَزِيمَةَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ لِسَانًا صَادِقًا، وَقَلْبًا سَلِيمًا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ مِمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الغُيُوبِ»
حضرت شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں یہ تعلیم فرماتے تھے کہ ہم دعا میں اللہ تعالیٰ سے یوں عرض کیا کریں: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ تا إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الغُيُوبِ” (اے اللہ! میں مانگتا ہوں تجھ سے استقامت اور ثابت قدمی دین کے معاملہ میں اور طلب کرتا ہوں اعلیٰ صلاحیت اور سوجھ بوجھ میں پختگی اور تیری نعمتوں کے شکر کی اور حسن عبادت کی توفیق اور طالب ہوں تجھ سے لسان صادق اور قلب سلیم کا، اور تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس شر سے جس کا تجھے علم ہے۔ اور سائل ہوں ہر اس خیر اور بھلائی کا جو تیرے علم میں ہے اور معافی اور مغفرت چاہتا ہوں اپنے ان سب گناہوں سے جو تجھے معلوم ہیں، تو ساری پوشیدہ باتوں کو بھی خوب جانتا ہے)۔ (جامع ترمذی و سنن نسائی)
تشریح
اس دعا کے ایک ایک جز پر غور کیجئے، یہ ان تمام مقاصد پر حاوی ہے جو ایک مومن کو عزیز ہونے چاہئیں۔ اسی حدیث کو ابنِ عساکر نے بھی روایت کیا ہے اس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شداد بن اوس ؓ کو یہ دعا تلقین کرنے کے بعد فرمایا کہ:
“اے شداد بن اوس! جب تم دیکھو کہ لوگ سونے اور چاندی کو بطور خزانہ کے جمع کرتے ہیں تو تم اس دعا کو اپنا خزانہ سمجھو”۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ سَمِعْتُ دُعَاءَكَ اللَّيْلَةَ، فَكَانَ الَّذِي وَصَلَ إِلَيَّ مِنْهُ أَنَّكَ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي، وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي قَالَ: فَهَلْ تَرَاهُنَّ تَرَكْنَ شَيْئًا. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک صاحب نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ: “رات میں نے آپ ﷺ کو دعا کرتے سنا، اس دعا میں سے یہ الفاظ مجھے پوری طرح پہنچے، آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے عرض کر رہے تھے: “اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي تا وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي” (اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما دے اور میرے لئے میرے گھر میں وسعت عطا فرما، اور تو نے جو رزق مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لئے برکت دے)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تم نے دیکھا ان مختصر لفظوں نے کچھ بھی چھوڑا”۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس بندے کے رزق میں برکت دی جائے اس کو رہنے بسنے کے لئے ایسا مکان عطا ہو جس کو وہ اپنے لئے کافی سمجھے اور اس میں وسعت محسوس کرے اور آخرت کے لئے اس کی لغزشوں، گنوہوں کی مغفرت اور معافی کا فیصلہ ہو جائے تو اس کو سب ہی کچھ مل گیا۔ رسول اللہ ﷺ کے آخری جملہ “هَلْ تَرَاهُنَّ تَرَكْنَ شَيْئًا ” کا مطلب یہی ہے کہ بندے کو جو کچھ چاہئے وہ اس مختصر سی دعا میں سب آ گیا ہے، چھوٹے چھوٹے ان تین کلموں نے کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے۔
عَنْ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ قَالَ: "سَمِعْتُ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي؟ قَالَ: " قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي - وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْهَامَ - فَإِنَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعْنَ لَكَ دِينَكَ وَدُنْيَاكَ "
حضرت طارق اشجعی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا کہ: “مجھے بتا دیجئے کہ جب میں اپنے پروردگار سے مانگوں تو کس طرح عرض کروں اور کیا عرض کرو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یوں عرض کیا کرو۔ “اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي” (اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما دے اور مجھے بخش دے، مجھ پہ رحمت فرما مجھے عافیت اور آرام و چین نصیب فرما، اور مجھے روزی عطا فرما) اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کےی چاروں انگلیاں ملا کے ۴ کا اشارہ کیا اور فرمایا کہ: یہ چار کلمے تیری دینی اور دنیوی ساری ضرورتوں پر حاوی ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
تشریح
بلاشبہ جس کو دنیا میں بقدرِ ضرورت روزی اور چین و آرام اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو جائے اور آخرت میں اس کے لئے مغفرت اور رحمت کا فیصلہ ہو جائے اسے سب کچھ مل گیا یہ دعا بھی رسول اللہ ﷺ کی تعلیم فرمائی ہوئی نہایت جامع اور مختصر دعاؤں میں سے ہے۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ جب کوئی شخص اسلام لاتا تو رسول اللہ ﷺ اس کو نماز کی تعلیم فرماتے، اور اس دعا کی تلقین فرماتے: “وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي”
عن ابن عمر (مَرْفُوْعًا) "اللهم عافني في قدرتك، وأدخلني في رحمتك، واقض أجلي في طاعتك، واختم لي بخير عملي، واجعل ثوابه الجنة".
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی: “اللهم عافني تا واجعل ثوابه الجنة” (اے اللہ! مجھے اپنی قدرت سے عافیت عطا فرما اور مجھے اپنی رحمت کے سایہ میں لے لے، اور میری زندگی اپنی طاعت و عبادت میں پوری کرا دے (یعنی میں زندگی کے آخری لمحہ تک تیری طاعت و عبادت کرتا رہوں) اور میرے بہترین عمل پر میرا خاتمہ فرما اور اس کے صلے میں مجھے جنت عطا فرما)۔ (سنن کبریٰ للبیہقی)
عَنْ ابْنِ مَسْعُوْدٍ (مَرْفُوْعًا) «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ؛ فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهَا إِلَّا أَنْتَ» (رواه الطبرانى فى الكبير)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے: “اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تا إِلَّا أَنْتَ” (اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل اور تیری رحمت مانگتا ہوں، بس تو ہی فضل و رحمت کا مالک ہے)۔ (معجم کبیر طبرانی)
تشریح
اسی سلسلہ معارف الحدیث میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو دینوی اور مادی نعمتیں نصیب ہوں ان کو قرآن و حدیث کی زبان میں “فضل” سے تعبیر کیا جاتا ہے اور روحانی و اُخروی نعمتوں کو “رحمت” سے۔ اس بناء پر اس دعا کا مطلب یہ ہوا کہ: “اے اللہ! دنیوی و اُخروی اور مادی و روحانی سب نعمتوں کا مالک تو ہی ہے، تیرے سوا کوئی نہیں ہے جو کچھ بھی دے سکے، اس لیے میں تجھ ہی سے دونوں قسم کی نعمتوں کا طالب و سائل ہوں”۔