عَنْ سَلَمَةُ بْنِ الأَكْوَعِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ: ((يَرْحَمُكَ اللَّهُ)). ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((الرَّجُلُ مَزْكُومٌ. (رواه مسلم وفى رواية للترمذى انه قال له فى الثالثة انه مزكوم)
حضرت سلمہ بن الاکوع ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے چھینک آئی تو آپ ﷺ نے “يَرْحَمُكَ اللَّهُ” فرمایا۔ وہ پھر چھینکا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس آدمی کو زکام ہے (اس لئے ہر دفعہ يَرْحَمُكَ اللَّهُ کہنا ضروری نہیں)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اور جامع ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ یہ بات حضور ﷺ نے اس وقت فرمائی جب اس آدمی کو تیسری دفعہ چھینک آئی۔
ایک دوسرے صحابی عبید ابن ابی رفاعہ سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے۔
شَمِّتِ العَاطِسُ ثَلَاثًا، فَمَا زَادَ فَإِنْ شِئْتَ فَشَمِّتْهُ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا
چھینکنے والے کو تین دفعہ تک تو یرحمک اللہ کہو اس کے آگے کہو چاہے نہ کہو۔ (رواہ ابو داؤد والترمذی)
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ رَجُلاً عَطَسَ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلاَمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلاَمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَلَيْسَ هَكَذَا عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا أَنْ نَقُولَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمر کے خادم نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر کے پاس ایک شخص بیٹھا تھا، اسے چھینک آئی تو اس نے کہا: “الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلاَمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ” تو حضرت ابن عمر نے فرمایا: میں بھی کہتا ہوں “الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلاَمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ” یعنی یہ کلمہ فی نفسہ بڑا مبارک ہے، اس میں اللہ کی حمد ہے اور رسول اللہ ﷺ پر سلام ہے، لیکن اس موقع پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس موقع کے لئے ہمیں تعلیم دی ہے کہ “الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ” کہیں۔ (جامع ترمذی)
تشریح
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے اس ارشاد ایک بڑی اہم اور اصولی بات معلوم ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ نے خاص مواقع کے لئے جو اذکار تعلیم فرمائے ہیں ان میں صلوٰۃ و سلام کا اضافہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اگرچہ وہ فی نفسہ بہت مبارک ہے۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی پوری قدر شناسی و احسان مندی اور کامل اتباع نصیب فرمائے۔
بادل گرجنے اور بجلی چمکنے کے وقت کی دعا
عَنِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَمِعَ صَوْتَ الرَّعْدِ وَالصَّوَاعِقِ قَالَ: اللَّهُمَّ لاَ تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلاَ تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ. (رواه احمد والترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بادلوں کی گرج اور بجلیوں کی کڑک سنتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے: “اللَّهُمَّ لاَ تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلاَ تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ” (اے اللہ! ہمیں اپنے غضب سے ختم نہ کر، اور اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک نہ کر، اور ہمیں اس سے پہلے عافیت دے)۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)
تشریح
بلاشبہ بادل کی گرج اور بجلی کی کڑک اور چمک اللہ تعالیٰ کے جلال کے مظہر ہیں، اور جب خدا پرست بندہ ان سے دوچار ہو تو پوری عاجزی کے ساتھ اس کو اللہ تعالیٰ سے رحم و کرم اور عافیت کی دعا کرنی چاہئے۔ یہی رسول اللہ ﷺ کی تعلیم اور آپ ﷺ کا اسوہ حسنہ ہے۔
آندھی اور تیز و تند ہوا کے وقت کی دعا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا هَبَّتْ رِيحٌ قَطُّ إِلَّا جَثَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رَحْمَةً وَلَا تَجْعَلْهَا عَذَابًا، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رِيَاحًا وَلَا تَجْعَلْهَا رِيحًا» (رواه الشافعى والبيهقى فى الدعوات الكبير)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب کبھی تیز ہوا چلتی تھی تو رسول اللہ ﷺ اپنے زانوؤں کے بل اللہ تعالیٰ کے حضور میں جھک جاتے اور دعا کرتے تھے کہ: “اے اللہ! یہ ہوا ہمارے حق میں رحمت اور سامانِ حیات ہو، عذاب اور سامانِ ہلاکت نہ ہو۔ یہ وہ نہ ہو جس کو قرآن نے “ریح” کہا ہے، وہ ہو جس کو “ریاح” کہا ہے”۔ (مسند شافعی والبیہقی فی الدعوات الکبیر)
تشریح
تیز و تند ہوائیں اور آندھیاں کبھی عذاب بن کر آتی ہیں اور کبھی رحمت الٰہی (یعنی بارش کا مقدمہ بن کر، اس لئے خداشناس اور خدا پرست بندوں کو چاہئے کہ جب اس طرح کی ہوائیں چلیں تو وہ جلالِ خداوندی کے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے دعا کریں کہ یہ ہوائیں شر اور ہلاکت کا ذریعہ نہ بنیں بلکہ رحمت کا وسیلہ بنیں۔ یہی رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا۔
قرآن مجید کی بعض آیات میں اس ہوا کو جو کسی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی گئی “ریح” کے لفظ سے تعبیر کیا گیا، اور بعض دوسری آیات میں ان ہواؤں کے لئے جو رحمت بن کر آتی ہیں “ریاح” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اسی بناء پر رسول اللہ ﷺ تیز ہوا کے وقت یہ دعا بھی فرماتے تھے کہ۔ “اے اللہ! یہ “ریح” یعنی عذاب والی ہوا نہ ہو بلکہ “ریاح” یعنی رحمت والی ہوا ہو”۔
آندھی اور تیز و تند ہوا کے وقت کی دعا
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ. قَالَتْ وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ. قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا جب تیز و تند ہوا چلتی اور آندھی کی کیفیت ہوتی تو اس طرح دعا کرتے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ” (اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس ہوا کی خیر و برکت اور اس ہوا میں جو کچھ مضمر ہے اور جس کے ساتھ وہ بھیجی جا رہی ہے اس کی خیر و برکت اور میں پناہ مانگتا ہوں تجھ سے اس ہوا کے شر سے اور جو کچھ اس میں مضمر ہے اور جس کے ساتھ وہ بھیجی گئی ہے اس کے شر اور برے اثرات سے) اور جب آسمان پر ابر گھر کے آتا (جس میں خیر و شر اور رحمت و عذاب کے دونوں پہلو ہو سکتے ہیں) تو اللہ کے قہر و جلال کے خوف سے رسول اللہ ﷺ کا یہ حال ہو جاتا کہ آپ ﷺ کا رنگ بدل جاتا، کبھی باہر جاتے کبھی اندر آتے، کبھی آگے بڑھتے کبھی پیچھے ہٹتے۔ پھر جب خیریت سے بارش ہو جاتی تو آپ ﷺ کی یہ کیفیت ختم ہوتی۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اس کیفیت کو محسوس کیا تو آپ ﷺ سے پوچھا کہ: “آپ ﷺ کا یہ حال کیوں ہو جاتا ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا کہ: “آسمان پر ابر دیکھ کے مجھے خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ اس قسم کا اَبر نہ ہو جسے اپنی وادیوں کی طرف بڑھتا دیکھ کر قومِ عاد نے کہا تھا کہ یہ بادل ہمارے علاقے پر برس کے ہماری کھیتیوں کو شاداب کرے گا (حالانکہ وہ عذاب کا بادل تھا جو ان کی مکمل تباہی و بربادی کا سامان لے کر آیا تھا)”۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
بادل اور بارش کے وقت کی دعا
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَبْصَرْنَا شَيْئًا فِي السَّمَاءِ، تَعْنِي السَّحَابَ، تَرَكَ عَمَلُهُ، وَاسْتَقْبَلَهُ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ» فَإِنْ كَشَفَهُ اللَّهُ حَمِدَ اللَّهَ، وَإِنْ مَطَرَتْ قَالَ: «اللَّهُمَّ سَقْيًا نَافِعًا» (رواه ابوداؤد والنسائى وابن ماجه والشافعى واللفظ له)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ جب ہم لوگ آسمان پر بادل چڑھتا دیکھتے تو رسول اللہ ﷺ کا حال یہ ہو جاتا کہ جس کام میں آپ ﷺ مشغول ہوتے اس کو چھوڑ کے بادل کی طرف رخ کر لیتے اور اللہ سے دعا کرتے کہ: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ” (اے اللہ! اس بادل میں جو شر ہو اس سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں) پھر اگر وہ بادل گھٹ کر آسمان صاف ہو جاتا تو آپ ﷺ اللہ کی حمد اور اس کا شکر ادا کرتے، اور اگر وہ بادل برستے لگتا تو دعا فرماتے کہ: “اللَّهُمَّ سَقْيًا نَافِعًا” (اے اللہ! اس بارش سے پوری سیرابی کر دے، اور اس کو نفع مند بنا)۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند شافعی)
بادل اور بارش کے وقت کی دعا
عَنْ عَائِشَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ: اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا. (رواه البخارى)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بارش ہوتی دیکھتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا فرماتے: “اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا” (اے اللہ! بھرپور اور نفع مند بارش ہو)۔ (صحیح بخاری)
تشریح
بارش کا حال بھی یہی ہے کہ اس کے ذریعہ تباہیاں اور بربادیاں بھی آتی ہیں اور مخلوق کے لئے وہ سامانِ حیات بن کر بھی برستی ہے، اس لئے جب بارش ہو تو خدا پر ایمان رکھنے والے بندوں کو دعا کرنی چاہئے کہ بارش نفع مند ارو رحمت بن کر بَرسے۔ رسول اللہ ﷺ جب بارش کی ضرورت محسوس کر کے اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرماتے جب بھی آپ ﷺ کی دعا یہی ہوتی۔
عَنْ جَابِرِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَوَاكِي، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيئًا مَرِيعًا، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ، عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ»، قَالَ: فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ. (رواه ابوداؤد)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک دفعہ ہاتھ اٹھائے بارش کے لئے اس طرح دعا کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ بارگاہِ خداوندی میں عرض کر رہے تھے: “اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيئًا مَرِيعًا، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ، عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ” (اے اللہ! ہم پر ایسی بھرپور بارش نازل فرما جو زمین کے لئے موافق اور سازگار ہو، کھیتوں میں سرسبزی اور شادابی لائے۔ اس سے نفع ہی نفع ہو نقصان بالکل نہ ہو۔ اے اللہ! جلدی نازل فرما دیر نہ ہو) حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کے دعا کرتے کرتے آسمان پر گھٹا چھا گئی اور بھرپور بارش ہوئی۔ (سنن ابی داؤد)
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَسْقَى، قَالَ: «اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ، وَبَهِيْمَتَكَ، وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ، وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ» (رواه مالك وابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بارش کے لئے دعا فرماتے تو اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس طرح عرض کرتے: “اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ، وَبَهِيْمَتَكَ، وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ، وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ” (اے اللہ! اپنے بندوں اور اپنے پیدا کئے ہوئے بےزبان چوپایوں اور جانوروں کو سیراب فرما، اپنی رحمت بھیج اور تیری جو بستیاں بارش نہ ہونے کی وجہ سے مُردہ ہو گئی ہیں بارش نازل فرما کر ان میں جان ڈال دے)۔ (موطا امام مالک، سنن ابی داؤد)
تشریح
غور کیا جائے اس دعا میں کیسی اپیل ہے، اور رحمت الٰہی کو متوجہ کرنے کی کتنی طاقت ہے۔
مہینہ کا نیا چاند دیکھنے کے وقت کی دعا
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلالَ، قَالَ: " اللهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلامَةِ وَالْإِسْلامِ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ " (رواه الترمذى)
حضرت طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی مہینہ کا چاند دیکھتے تو اس طرح دعا کرتے: “اللهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلامَةِ وَالْإِسْلامِ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ” (اے اللہ یہ چاند ہمارے لئے امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کا چاند ہو۔ اے چاند تیرا رب اور میرا رب اللہ ہے)۔ (جامع ترمذی)
تشریح
ہر مہینہ زندگی کا ایک مرحلہ ہے۔ جب ایک مہینہ ختم ہو کے دوسرے مہینے کا چاند آسمان پر نمودار ہوتا ہے تو گویا اعلان ہو جاتا ہے کہ ہر آدمی کی زندگی کا ایک مرحلہ پورا ہو کے آگے کا مرحلہ شروع ہو رہا ہے، ایسے موقع کے لئے مناسب ترین دعا یہی ہو سکتی ہے کہ: “اے اللہ! یہ شروع ہونے والا مرحلہ یعنی مہینہ بھی امن و امان اور ایمان و اسلام کے ساتھ گزرے اور تیری فرمانبرداری نصیب رہے”۔ چونکہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو چاند کو ایک رب اور دیوتا مانتے ہیں، اس لئے رسول اللہ ﷺ مندرجہ بالا دعا کے ساتھ یہ بھی اعلان فرماتے تھے کہ چاند اللہ کی صرف ایک مخلوق ہے، اور جس طرح ہمارا رب اللہ ہے اسی طرح اس کا رب بھی اللہ ہے۔
مہینہ کا نیا چاند دیکھنے کے وقت کی دعا
عَنْ قَتَادَةُ أَنَّ النَّبِيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ: «هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ، هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ، هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ، آمَنْتُ بِالَّذِي خَلَقَكَ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يَقُولُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَهَبَ بِشَهْرِ كَذَا، وَجَاءَ بِشَهْرِ كَذَا. (رواه ابوداؤد)
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مہینہ کا نیا چاند دیکھتے تو تین دفعہ کہتے: “هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ” (خیر و برکت اور رشد و ہدایت کا چاند ہے) پھر تین ہی دفعہ کہتے: “آمَنْتُ بِالَّذِي خَلَقَكَ” (میرا ایمان ہے اس اللہ پر جس نے تجھے پیدا کیا) اس کے بعد فرماتے حمد و شکر اس اللہ کے لئے جس کے حکم سے فلاں مہینہ ختم ہوا اور فلاں مہینہ شروع ہوا۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
رویت ہلال کے وقت کی یہ دوسری دعا ہے۔ سمجھنا چاہئے کہ آپ ﷺ نیا چاند دیکھ کے کبھی مندرجہ بالا حدیث والی دعا کرتے تھے اور کبھی یہ دوسری دعا۔
تین دفعہ “هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ” کہنے کا منشاء غالبا یہ تھا کہ بہت سے طبقے بعض مہینوں کو منحوس اور نامبارک سمجھتے ہیں، اس کلمہ سے اس توہم پرستی کلی تردید کر کے یہ بتانا مقصود ہوتا تھا کہ ہر مہینہ خیر و برکت اور رشد و ہدایت کا مہینہ ہے۔
“آمَنْتُ بِالَّذِي خَلَقَكَ” تین دفعہ کہہ کے آپ ﷺ ان گمراہوں کے مشرکانہ عقیدہ پر ضرب لگاتے تھے جو چاند کو رب اور دیوتا مانتے ہیں۔
قتادہ، جو اس حدیث کے راوی ہیں یہ غالبا قتادہ بن وعامہ سدوسی تابعی ہیں، انہوں نے یہ حدیث کسی صحابی سے سنی ہو گی، بعض تابعین اور اسی طرح بعض تبع تابعین بھی کبھی درمیانی راوی کا ذکر کئے بغیر اس طرح روایت کرتے ہیں کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے۔ محدثین کی اصطلاح میں ایسی حدیث کو بلاغات کہا جاتا ہے۔ امام مالکؒ کی موطا میں ان کی اچھی خاصی تعداد ہے۔
عَنْ عَائِشَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا أَدْعُو بِهِ؟ قَالَ: " قَوْلِي: اللهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي " (رواه الترمذى)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: حضرتﷺ! اگر میں شبِ قدر کو پا لوں تو کیا دعا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے حضور میں یوں عرض کرو: “اللهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي” (اے اللہ! تو قصور والوں کو بہت معاف فرمانے والا ہے، اور معاف کر دینا تجھے پسند ہے، پس تو مجھے معاف فرما دے)۔ (جامع ترمذی)
تشریح
قبولیت دعا کے لحاظ سے شبِ قدر کو جو امتیاز حاصل ہے اس کے بارے میں حدیثیں “معارف الحدیث جلد چہارم” کتاب الصوم میں درج ہو چکی ہیں۔ اس رات کے لئے رسول اللہ ﷺ کی تعلیم فرمائی ہوئی ایک مختصر ترین دعا یہاں بھی درج کی جا رہی ہے۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اَفْضَلُ الدُّعَاءِ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَاَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ قَبْلِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عرفہ کے دن کی بہترین دعا اور بہترین کلمہ جو میری زبان سے اور مجھ سے پہلے نبیوں کی زبان سے ادا ہوا یہ کلمہ ہے: “لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی ایک معبود ہے، کوئی اس کا ساجھی اور شریک نہیں، اسی کی فرمانروائی ہے، صرف اسی کے لئے حمد و ستائش سزاوار ہے اور ہر چیز اس کے زیرِ قدرت ہے)۔ (جامع ترمذی)
تشریح
۹؍ذی الحجہ کو عرفات کے میدان میں جب اللہ کے خصوصی مہمان، حجاج بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوتے ہیں تو جیسا کہ کتاب الحج میں درج ہونے والی حدیثوں سے معلوم ہو چکا ہے اس دن وہاں رحمتِ خداوندی کی موسلا دھار بارش ہوتی ہے، وہ قبولیت دعا کا خاص الخاص موقع ہے۔ اس موقع کی جو دعائیں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہیں وہ ذیل میں پڑھئے:
تشریح ..... اس کلمہ میں اگرچہ بظاہر دعا اور سوال نہیں ہے لیکن یہ کہنا کہ “بس وہی رب اور معبود ہے اور ہر چیز پر اس کو قدرت ہے اور اس کی ا ور صرف اس کی فرمانروائی ہے”۔ یہ بھی دعا ہی کی ایک صورت ہے اور بڑی بلیغ صورت ہے اور بلاشبہ بعض حیثیتوں سے اور بعض پہلوؤں سے یہی افضل ترین کلمہ ہے۔ کلماتِ ذکر کے سلسلہ میں جہاں اس کلمہ سے متعلق درج کی گئی ہے وہاں اس کی کچھ وضاحت بھی کی جا چکی ہے۔
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: أَكْثَرُ مَا دَعَا بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي المَوْقِفِ: «اللَّهُمَّ لَكَ الحَمْدُ كَالَّذِي نَقُولُ وَخَيْرًا مِمَّا نَقُولُ، اللَّهُمَّ لَكَ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي، وَإِلَيْكَ مَآبِي، وَلَكَ رَبِّ تُرَاثِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ وَوَسْوَسَةِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الأَمْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا يَجِيءُ بِهِ الرِّيحُ» (رواه الترمذى)
حضرت علی المرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ عرجہ کے دن وقوف کے وقت رسول اللہ ﷺ نے سب سے زیادہ یہ دعا کی: “اللَّهُمَّ لَكَ الحَمْدُ تا مِنْ شَرِّ مَا يَجِيءُ بِهِ الرِّيحُ” (اے اللہ! تیرے ہی لئے ساری حمد و ستائش سزاوار ہے، اس طرح جس طرح تو فرماتا ہے، اس سے بہتر جو ہم تیری حمد و ثناء میں کہتے ہیں! اے اللہ! میری نماز اور میرا حج اور میری ساری عبادات اور میرا جینا مرنا سب تیرے ہی لئے ہے، اور مجھے زندگی ختم کر کے تیرے ہی حضور میں واپس جانا ہے، اور جو کچھ میں چھوڑ کے جاؤں تو ہی اس کا وارث ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، عذابِ قبر سے اور دل کے وسوسوں سے اور پراگندہ حالی سے اور پناہ مانگتا ہوں ہواؤں کے شر سے اور ان کے برے اثرات اور عواقب سے)۔ (جامع ترمذی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ «اللهُمَّ إِنَّكَ تَسْمَعُ كَلَامِي، وَتَرَى مَكَانِي، وَتَعْلَمُ سِرِّي وعلانيتِي، لَا يَخْفَى عَلَيْكَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِي، أَنَا الْبَائِسُ الْفَقِيرُ الْمُسْتَغِيثُ الْمُسْتَجِيرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنَبِهِ، أَسْأَلُكَ مَسْأَلَةَ الْمستكينِ وأَبْتَهِلُ إِلَيْكَ ابتهالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِيلِ، وَأَدْعُوكَ دُعَاءَ الْخَائِفِ الضَّرِيرِ مَنْ خَضَعَتْ لَكَ رَقَبَتُهُ وَفَاضَتْ لَكَ عَيْنَاهُ وذلَّ جَسَدُهُ وَرَغِمَ أَنْفُهُ لَكَ، اللهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي بدُعائِكَ شَقِيًّا، وَكُنْ بِي دَوْمًا رَحِيمًا، يَا خَيْرَ الْمَسْئُولينَ وَيَا خَيْرَ الْمُعْطِينَ» (رواه الطبرانى فى الكبير)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع میں عرفہ کی شام کو میدانِ عرفات میں رسول اللہ ﷺ کی خاص دعا یہ تھی: “اے اللہ! تو میری بات سنتا ہے، اور میں جہاں اور جس حال میں ہوں تو اس کو دیکھتا ہے، اور میرے ظاہر و باطن سے تو باخبر ہے، تجھ سے میری کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں۔ میں دُکھی ہوں، محتاج ہوں، فریادی ہوں، پناہ جو ہوں، ترساں ہوں، ہراساں ہوں، اپنے گناہوں کا اقراری ہوں۔ تجھ سے سوال کرتا ہوں جیسے کوئی عاجز مسکین بندہ سوال کرتا ہے۔ تیرے آگے گڑگڑاتا ہوں جیسے گنہگار ذلل و خوار گڑگڑاتا ہے، اور تجھ سے دعا کرتا ہوں جیسے کوئی خوف زدہ آفت زدہ آفت رسیدہ دعا کرتا ہے۔ اور اس بندے کی طرح مانگتا ہوں جس کی گردن تیرے سامنے جھکی ہوئی ہو اور آنسو بہہ رہے ہوں اور تن بدن سے وہ تیرے آگے فروتنی کئے ہوئے ہو اور اپنی ناک تیرے سامنےرگڑ رہا ہو۔ اے اللہ! تو مجھے اس دعا مانگنے میں ناکام اور نامراد نہ رکھ اور میرے حق میں بڑا مہربان نہایت رحیم ہو جا۔ اے ان سب سے بہتر و برتر جن سے مانگنے والے مانگتے ہیں اور جو مانگنے والوں کو دیتے ہیں”۔ (معجم کبیر للطبرانی)
تشریح
اس دعا کا ایک ایک لفظ عبدیت کی روح سے لبریز اور کمالِ معرفت کا ترجمان ہے۔ دنیا بھر کے دینی و مذہبی ادب میں اور کسی بھی زبان کی دعاؤں اور مناجاتوں میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ اس عاجز کو زندگی میں کئی دفعہ اس کا موقع ملا کہ بعض خدا پرست غیر مسلموں کو میں نے رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا سنائی اور اس کا ترجمہ کر کے بتایا تو وہ اپنا یہ تاثر ظاہر کرنے پر مجبور ہو گئے کہ یہ دعا اسی دل سے نکل سکتی ہے جسے اللہ نے اپنے علم کا خاص حصہ دیا ہو اور اس کو معرفتِ نفس اور معرفتِ رب کا اعلیٰ سے اعلیٰ مقام حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے اس قیمتی ورثہ کی قدر شناسی اور اس سے استفادہ کی توفیق دے۔
خاص اوقات و مقامات اور خاص مواقع کی دعاؤں کا سلسلہ یہاں ختم ہوا۔
وَالْحَمْدُلِلهِ عَلَى ذَالِكَ.
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اللهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي، وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ» (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: “اللهُمَّ أَصْلِحْ لِي تا رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ ” (اے اللہ! میری دینی حالت درست فرما دے جس پر میری خیریت اور سلامتی کا دار و مدار ہے اور میری دنیا بھی درست فرما دے جس میں مجھے یہ زندگی گزارنا ہے، اور میری آخرت بھی درست فرما دے جہاں مجھے لوٹ کر جانا ہے اور ہمیشہ رہنا ہے، اور میری زندگی کو خیر اور بھلائی میں اضافہ اور زیادتی کا ذریعہ بنا دے، اور میری موت کو ہر شر سے راحت اور حفاظت کا وسیلہ بنا دے)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
عرض کیا گیا تھا کہ کتبِ حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے جو دعائیں ماثور اور منقول ہیں اگر ان کو مضامین اور موقع محل کے لحاظ سے تقسیم کیا جائے تو وہ تین قسم کی ہیں: ایک وہ جن کا تعلق نماز سے ہے، دوسری وہ جن کا تعلق خاص اوقات یا مواقع اور حالات سے ہے تیسری وہ جن کا تعلق نہ نماز سے ہے نہ خاص اوقات یا مواقع سے بلکہ وہ عمومی قسم کی ہیں۔ پہلی دو قسم کی دعائیں درج کی جا چکیں، تیسری قسم کی اب پیش کی جا رہی ہے۔ ان میں زیادہ تر مضامین کے لحاظ سے ہمہ گیر اور جامع قسم کی ہیں، اسی لئے ائمہ حدیث نے اپنی مؤلفات میں ان دعاؤں کو “جامع الدعوات” کے زیرِ عنوان درج کیا ہے۔ یہ دعائیں امت کے لئے رسول اللہ ﷺ کا خاص الخاص عطیہ اور بیش بہا تحفہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم امتیوں کو قدر شناسی اور تشکر کی اور ان دعاؤں کو اپنے دل کی آواز اور دھڑکن بنا لینے کی توفیق دے۔ جس بندے کو یہ دولت مل گئی اسے سب کچھ مل گیا۔
اس تمہید کے بعد اس سلسلہ کی احادیث ذیل میں پڑھئے:
تشریح ..... جیسا کہ ظاہر ہے یہ بہت سی جامع دعا ہے، اس کا پہلا جز یہ ہے:
اللهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي
اے اللہ! میری دینی حالت درست فرما دے جس پر میری خیریت اور میری ہر چیز کی سلامتی اور تحفظ کا دار و مدار ہے دراصل دین ہی وہ چیز ہے اگر وہ درست اور سلامت ہو تو آدمی اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور لعنت اور اس کے غضب و عذاب سے مامون و محفوظ ہو کر اس کے لطف و کرم کا مستحق ہو جاتا ہے اور اسلامی قانون کی رو سے اس کے جان و مال اور عزت و آبرو کو ایک خاص درجہ کی حرمت و عصمت حاصل ہو جاتی ہے اس لئے اسی پر آدمی کی سلامتی ٰخیریت اور صلاح و فلاح کا دار و مدار ہے۔ اسی چیز کو اس دعاء نبوی ﷺ میں “عِصْمَةُ أَمْرِي” کہا گیا ہے۔ دین کی درستی کا مطلب یہ ہے کہ بندے کا ایمان و یقین صحیح ہو، اس کے افکار و جذبات اور اعمال و اخلاق درست ہوں، وہ زندگی کے ہر شعبہ میں نفس کی خواہش کے بجائے اللہ کے احکام پر چلنے والا ہو، اور ظاہر ہے کہ اس کا دار و مدار اللہ کی توفیق پر ہے، اس لئے ہر بندہ مومن کے دل کی اولین مانگ اور پکار یہی ہونا چاہئے۔ اس دعا کا دوسرا جز ہے:
وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي
اور میری دنیا درست فرما دے جس میں مجھے یہ زندگی گزارنا ہے۔
دنیا کی درستی کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کی رزق وغیرہ کی ضرورتیں حلال اور جائز راستوں سے پوری ہوتی رہیں۔ بلاشبہ ہر مومن بندے کی دوسری مانگ اللہ تعالیٰ سے یہی ہونا چاہئے۔ تیسرا جز دعا کا یہ ہے:
وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي
اور میری آخرت اچھی بنا دے، جہاں مجھے لوٹ کے جانا اور ہمیشہ رہنا ہے۔
اگرچہ دین کی درستی کا لازمی نتیجہ آخرت کی صلاح و فلاح ہے، اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے مستقل طور سے آخرت کی درستی کی یہ دعا کی۔ ایک تو غالباً اس لئے کہ آخرت کی غیر معمولی اہمیت کا یہ حق ہے، دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ دینی لحاظ سے اچھی حالت ہونے کے باوجود بندے کو آخرت کے بارے میں مطمئن اور بےفکر نہیں ہونا چاہئے۔ قرآن مجید میں اچھے بندوں کی شان یہی بتائی گئی ہے: “وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوا وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَىٰ رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ” (المومنون: ۶۰) (1)
چوتھا اور پانچواں جز دعا کا یہ ہے:
وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ
اور زندگی کو میرے نیکی اور بھلائی میں اضافہ اور زیادتی کا ذریعہ بنا دے، اور موت کو ہر شر اور برائی سے راحت اور حفاظت کا وسیلہ بنا دے۔
ہر آدمی کو اس دنیا میں اپنی زندگی کا وقت پورا کر کے مرنا یقینی ہے۔ اللہ کی دی ہوئی عمر سے آدمی نیکی بھی کما سکتا ہے اور بدی بھی، وہ اس کے لئے سعادت میں ترقی کا وسیلہ بھی بن سکتی ہے اور شقاوت میں اضافہ کا ذریعہ بھی، اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ دین و دنیا اور آخرت کی صلاح و فلاح کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کرتے تھے کہ اے اللہ! میری حیات کو خیر اور سعادت میں اضافہ اور ترقی کا وسیلہ بنا دے یعنی مجھے توفیق دے کہ میں عمر کے لمحات اور زندگی کے اوقات کو تیری رضا والے کاموں میں صرف کر کے سعادت کے راستہ میں آگے بڑھتا چلوں، اور میری موت کو شرور و فتن کی اذیتوں سے راحت کا ذریعہ بنا دے، یعنی مستقبل کے جو شر اور فتنے میرے لئے اذیت کا باعث ہو سکتے ہیں تیرے حکم سے آنے والی میری موت ان سے میری حفاظت کا ذریعہ بن کر ان سے مجھے راحت دے دے۔
یہ دعا بھی “جوامع الکلم” اور دریا بکوزہ کی بہترین مثال ہے، الفاظ کتنے مختصر اور مضامین کتنے وسیع!
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکثر و بیشتر یہ دعا کیا کرتے تھے: “اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ” (اے میرے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آتشِ دوزخ کے عذاب سے بچا)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
سبحان اللہ! کتنی مختصر اور کتنی جامع دعا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ سے اس دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت کی کبھی ختم نہ ہونے والی زندگی میں بھی بھلائی مانگی گئی ہے۔ ظاہر ہے اس میں دنیا اور آخرت کی ساری ہی اچھی مرغوبات اور مطلوبات آ گئیں۔ اور آخر میں عذاب دوزخ سے بچانے اور محفوظ رکھنے کی استدعا کی گئی ہے۔ الغرض دنیا اور آخرت میں ایک بندے کو جو کچھ چاہئے وہ سب ہی اس مختصر ترین دعا میں مانگ لیا گیا ہے۔ پھر اس کی ایک یہ بھی خصوصیت ہے کہ یہ دراصل قرآن مجید کی دعا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ قرآن پاک مین اس کا پہلا لفظ “رَبَّنَا” ہے اور حدیث میں اس کی جگہ پہلا لفظ “اَللَّهُمَّ” ہے۔ حاصل ایک ہی ہے۔
حضرت انسؓ کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا بہ کثرت کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہم امتیوں کو بھی رسول اللہ ﷺ کے اس اکثری معمول کی پیروی کی توفیق دے۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى، وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى» (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے: “اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تا وَالْغِنَى” (اے میرے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں ہدایت اور تقویٰ اور پاک دامنی اور مخلوق کی نامحتاجی)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس دعا میں اللہ تعالیٰ سے چار باتوں کا سوال ہے: ایک ہدایت یعنی راہِ حق پر چلنا، اور استقامت کے ساتھ چلتے رہنا۔ دوسرے تقویٰ اور پرہیزگاری یعنی اللہ سے ڈرتے ہوئے معاصی و منکرات سے بچنا۔ تیسرے عفت و پاک دامنی۔ چوتھے غنی، یعنی دل کی یہ حالت کہ بندہ اپنے اندر کسی مخلوق کی محتاجی اور درست نگری محسوس نہ کرے، اپنے مالک کی عطا پر مطمئن ہو۔ یہ دعا بھی “جوامع الکلم” کی اعلیٰ مثال ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ، وَالْعِفَّةَ، وَالْأَمَانَةَ، وَحُسْنَ الْخُلُقِ، وَالرِّضَا بِالْقَدَرِ» (رواه البيهقى فى الدعوات الكبير)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ تا وَالرِّضَا بِالْقَدَرِ” (اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں صحت و تندرستی اور عفت و پاکدامنی اور امانت کی صفت اور اچھے اخلاق اور راضی بہ تقدیر رہنا) (دعوات کبیر للبیہقی)
تشریح
اس دعا میں رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے صحت مانگی ہے۔ صحت و تندرستی دین و دنیا دونوں کے لحاظ سے بلاشبہ بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی قدر اس وقت معلوم ہوتی ہے جب کسی وقت بندہ اس سے محوررم کر دیا جاتا ہے اور کسی بیماری اور تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے، اس وقت اسے معلوم ہوتا ہے کہ صحت کا ایک ایک لمحہ کتنی بڑی دولت اور اللہ تعالیٰ کی کتنی عظیم نعمت ہے۔ عارفین کو اس کا احساس اس لئے اور بھی زیادہ ہوتا ہے کہ صحت کی خرابی کی حالت میں اکثر و بیشتر عبادت کا نظام بھی درہم برہم ہو جاتا ہے اور توجہ الی اللہ کا ذوق و کیف بھی متاثر ہوتا ہے، اور یہ چیز ان کے لئے شدید روحانی کرب اور بےچینی کا باعث بنتی ہے۔
امانت، قرآنی اور دینی زبان کا نہایت اہم اور وسیع المعنی لفظ ہے اس سے مراد انسان کے اندرون کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی نسبت سے اور بندوں کے تعلق سے جو ذمہ داریاں ہیں وہ ان کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے کی فکر اور کوشش کرے۔ حسن اخلاق اور راضی بہ تقدیر رہنا کسی تشریح کے محتاج نہیں۔ اس دعا میں رسول اللہ ﷺ نے صحت کے علاوہ عفت، امانت، حسن اخلاق اور رضا بالقدر کا سوال کیا ہے یہ سب ایمانی صفات اور ایمان کے اہم شعبے ہیں اور ان سے محرومی بلاشبہ بڑی محرومی ہے، اور ساری دینی اور دنیوی نعمتوں کی طرح یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عطا ہی سے کسی کو مل سکتے ہیں۔؎
ایں سعادت بزورِ بازو نیستگر نہ بخشد خدائے بخشندہ
عَنْ عُمَرَ رَضِي الله عَنهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قُلْ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ سَرِيرَتِي خَيْرًا مِنْ عَلَانِيَتِي، وَاجْعَلْ عَلَانِيَتِي صَالِحَةً، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ صَالِحِ مَا تُؤْتِي النَّاسَ مِنَ المَالِ وَالأَهْلِ وَالوَلَدِ، غَيْرِ الضَّالِّ والْمُضِلِّ " (رواه الترمذى)
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک دعا تعلیم فرمائی، اور مجھ سے ارشاد فرمایا: “اللَّهُمَّ اجْعَلْ سَرِيرَتِي تا غَيْرِ الضَّالِّ وَلَا المُضِلِّ” (اے اللہ! میرا باطن میرے ظاہر سے اچھا کر دے اور میرے ظاہر کو بھی اصلاح سے آراستہ فرما دے۔ اے اللہ! تو اپنے بندوں کو (اپنے فضل و کرم سے) جو ایسے صالح گھر والے، صالح مال اور صالح اولاد عطا فرماتا ہے جو نہ خود گمراہ ہوں اور نہ دوسروں کے لئے گمراہ ک ہوں۔ میں بھی تجھ سے ان چیزوں کا سائل ہوں (مجھے بھی اپنے فضل و کرم سے یہ چیزیں عطا فرما)۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس دعا کا پہلا جز یہ ہے کہ اے اللہ! مجھے ایسا بنا دے کہ میرا ظاہر بھی صالح ہو اور میرا باطن بھی صالح ہو، اور باطن کی حالت ظاہر سے بھی بہتر ہو۔ اور دوسرا جز یہ ہے کہ میرے اہل خانہ اور میری اولاد اور میرا مال و منال یہ سب بھی صالح ہوں، نہ خود ان میں ضلال و فساد ہو، نہ دوسروں کے لئے یہ باعث ضلال و فساد بنیں۔