Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 62 of 106

1221Maarif-ul-Hadith

سفر پر جانے والے کو وصیت اور اس کے لئے دعا

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْخَطْمِيِّ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَوْدِعَ الْجَيْشَ قَالَ: «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ» (رواه ابوداؤد)

حضرت عبداللہ الخطمی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ﷺ لشکر کو رخصت کرتے وقت فرماتے: “أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ” (میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں تمہارے دین کو اور تمہاری صفت امانت کو، اور تمہارے آخری اعمال کو)۔ (سنن ابی داؤد) تشریح یہاں “امانت” سے مراد انسان کے دل کی وہ خاص صفت اور کیفیت ہے، جو اس سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ اللہ کے اور اس کے بندوں کے حقوق صحیح طور پر ادا کرے۔ مختصر لفظوں میں اس کو “بندگی کی ذمہ داریوں کے احساس” سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ مؤمن کی خاص پونجی اس کی یہ صفت امانت اور اس کا دینی اور اعمال ہیں، اس لئے رسول اللہ ﷺ لشکر کو رخصت کرتے وقت مجاہدین کی ان چیزوں کو خاص طور سے اللہ کی سپردگی میں دیتے تھے اور دعا فرماتے تھے کہ وہ ان کی حفاظت فرمائے۔ اسی طرح کسی شخص کو رخصت کرتے وقت بھی آپ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ﷺ اس کا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لے لیتے اور فرماتے: “أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَآخِرُ عَمَلِكَ” (تمہارے دین تمہارے امانت اور خاتمہ والے اعمال کو میں خدا کے سپرد کرتا ہوں، وہ ان کی حفاظت فرمائے)۔ رواہ الترمذی عن ابن عمر۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی کو رخصت کرنے کے وقت مصافحہ فرمانا بھی آپ ﷺ کا معمول تھا۔ واللہ اعلم۔

1222Maarif-ul-Hadith

سخت خطرے کے وقت کی دعا

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قُلْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ مِنْ شَيْءٍ نَقُولُهُ؟ فَقَدْ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ، قَالَ: " نَعَمْ، اللهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا "، قَالَ: " فَضَرَبَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وُجُوهَ أَعْدَائِهِ بِالرِّيحِ، هَزَمَ اللهُ بِالرِّيحِ " (رواه احمد)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ہم لوگوں نے غزوہ خندق کے دن رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: حضرتﷺ! کیا اس نازک وقت کے لئے کوئی خاص دعا ہے، جو ہم اللہ کے حضور میں عرض کریں، حالت یہ ہے کہ ہمارے دل مارے دہشت کے اچھل اچھل کے گلوں میں آ رہے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! اللہ کے حضور میں یوں عرض کرو: “اللهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا” (اے اللہ! ہماری پردہ داری فرما اور ہماری گھبراہٹ کو بےخوفی اور اطمینان سے بدل دے) ابو سعید ؓ کہتے ہیں کہ: پھر اللہ نے آندھی بھیج کر دشمنوں کے منہ پھیر دئیے اور اس آندھی ہی سے اللہ نے ان کو شکست دی۔ (مسند احمد) تشریح رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحابِ کرام ؓ پر جو سخت سے سخت دن گزرے ہیں ان میں غزوہ خندق کے بعض ایام بھی تھے، جن کا ذِکر قرآن مجید میں بھی اس طرح کیا گیا ہے: إِذْ جَاءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّـهِ الظُّنُونَا ﴿١٠﴾ هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا (الاحزاب،۳۳:۱۰،۱۱) جب آ گئے دشمنوں کے لشکر تمہارے اوپر کی جانب سے اور نیچے کی طرف سے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل مارے دہشت کے گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے اس وقت اہلِ ایمان بڑی آزمائش میں پڑے اور سخت طریقے سے ہلا ڈالے گئے۔ انہی حالات میں ایک دن حضرت ابو سعید خدری ؓ نے حضور ﷺ سے وہ درخواست کی تھی جس کا حدیث میں ذکر کیا گیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے یہ مختصر دعا تلقین فرمائی تھی: “اللهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا” اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی آندھی بھیجی گئی جس نے سارے لشکر کو تِتر بِتر کر دیا، اور وہ بھاگنے پر مجبور ہوئے۔

1223Maarif-ul-Hadith

سخت خطرے کے وقت کی دعا

عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا قَالَ: " اللهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُبِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ " (رواه احمد وابوداؤد)

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کسی دشمن گروہ کے حملہ کا خطرہ ہوتا تھا تو آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے: “اللهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ” اے اللہ! ہم تجھے ان دشمنوں کے مقابلے میں کرتے ہیں تو ان کو دفع فرما، اور ان کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیحں۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد)

1224Maarif-ul-Hadith

فکر اور پریشانی کے وقت کی دعا

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ: لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ، وَرَبُّ الأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو زبانِ مبارک پر یہ کلمات جاری ہوتے: “لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ تا رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ” (کوئی مالک و معبود نہیں اللہ کے سوا، وہ بڑی عظمت والا اور حلیم ہے، کوئی مالک و معبود نہیں اللہ کے سوا، وہ رب العرش العظیم ہے، کوئی مالک و معبود نہیں اللہ کے سوا، وہ رب السمٰوات والارض اور رب العرش الکریم ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

1225Maarif-ul-Hadith

فکر اور پریشانی کے وقت کی دعا

عَنْ أَنَس قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَرَبَهُ أَمْرٌ قَالَ: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ. وقَالَ: أَلِظُّوابِيَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ. (رواه الترمذى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی فکر اور پریشانی لاحق ہوتی تو آپ ﷺ کی یہ دعا ہوتی تھی: “يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ” (اے حی و قیوم! بس تیری رحمت سے مدد چاہتا ہوں) اور دوسروں سے فرماتے: “أَلِظُّوابِيَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ” (یا ذالجلال والاکرام سے چمٹے رہو) یعنی اس کلمہ کے ذریعہ اللہ سے استغاثہ اور فریاد کرتے رہو۔ (جامع ترمذی)

1226Maarif-ul-Hadith

فکر اور پریشانی کے وقت کی دعا

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلاَ أُعَلِّمُكِ كَلِمَاتٍ تَقُولِينَهُنَّ عِنْدَ الْكَرْبِ أَوْ فِي الْكَرْبِ اللَّهُ اللَّهُ رَبِّي لاَ أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا. (رواه ابوداؤد)

حضرت اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: “میں تمہیں ایسے کلمے بتا دوں جو پریشانی اور فکر کے وقت تم کہا کرو۔ (ان شاء اللہ وہ تمہارے لئے باعث سکون ہوں گے) “اللَّهُ اللَّهُ رَبِّي لاَ أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا” (اللہ اللہ وہی میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی)”۔

1227Maarif-ul-Hadith

فکر اور پریشانی کے وقت کی دعا

عَنِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَثُرَ هَمُّهُ فَلْيَقُلْ "اللهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، وَفِىْ قَبْضَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِيْ مَكْنُوْنٍ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ الْعَظِيْمِ رَبِيعَ قَلْبِي، وَجِلَاءَ هَمِّي وَغَمِّىْ مَا قَالَهَا عَبْدٌ قَطُّ إِلَّا أَذْهَبَ اللهُ هَمَّهُ، أَبْدَلَهُ بِهِ فَرَجًا" (رواه ابن رزين)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس آدمی کو پریشانی اور فکر زیادہ ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اللہ کے حضور میں اوس طرح عرض کرے: “اللهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ تا وَجِلَاءَ هَمِّي وَغَمِّىْ” (اے اللہ! میں بندہ ہوں تیرا اور بیٹا ہوں تیرے ایک بندے کا اور تیری ایک بندی کا، اور بالکل تیرے قبضہ میں ہوں اور ہمہ تن تیرے دست قدرت میں ہوں، نافذ ہے میرے بارے میں تیرا حکم اور عین عدل ہے میرے بارے میں تیرا ہر فیصلہ، میں تجھ سے تیرے ہر اس اسم پاک کے واسطے سے جس سے تو نے اپنی مقدس ذات کو موسوم کیا ہے یا اپنی کسی کتاب میں اس کو نازل فرمایا ہے، یا اپنے خاص مخفی خزانہ غیب ہی میں اس کو محفوظ رکھا ہے۔ استدعا کرتا ہوں کہ قرآنِ عظیم کو میرے دل کی بہار بنا دے، اور میری فکروں اور میرے غموں کو اس کی برکت سے دور فرما دے) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمای کہ: “جو بندہ بھی ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی فکروں اور پریشانیوں کو دور فرما کر ضرور بالضرور اس کو کشادگی عطا فرما دے گا”۔ (رزین) تشریح رسول اللہ ﷺ کی تعلیم فرمودہ اس دعا کی ایک ایک کلمہ عبدیت کی کیفیت سے لبریز ہے۔ سب سے پہلے اپنی اور اپنے ماں باپ کی بندگی اور عبدیت کا اظہار و اعتراف کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں، میرا باپ بھی تیرا بندہ اور میری ماں بھی تیری بندی تھی یعنی میں تیرا پشیتنی بندہ ہوں، تو میرا مالک و رب ہے اور میرے ماں باپ کا بھی مالک و رب ہے۔ اور میں ہمہ تن تیرے قبضہ میں ہوں میرے لیے جو بھی تیرا فیصلہ ہے وہ برحق ہے اور نافذ ہونے والا ہے، مجھے اور کسی کو بھی چون و چرا کی مجال نہیں ہے۔ اس کے بعد کہا گیا ہے کہ میرے پاس کوئی ایسا عمل اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنا پر تجھ سے کچھ مانگنے کا مجھے حق ہو، اس لئے تیرے ہی ان اسماء پاک کے واسطے سے جن سے تو نے اپنی ذاتِ پاک کو موسوم کیا ہے یا جو تیری کتابوں میں بتائے گئے ہیں یا جو صرف تیرے ہی علم میں ہیں اور جنہیں تیرے سوا کوئی نہیں جانتا، تجھ سے استدعا کرتا ہوں کہ اپنے قرآنِ پاک کو میرے دل کی بہار بنا دے اور میری فکریں اور پریشانیاں اس کی برکت سے دور فرما دے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ: “جب بندہ اس طرح دعا کرے گا تو اس کی فکریں اور پریشانیاں ضرور بالضرور دور فرما دی جائیں گی”۔

1228Maarif-ul-Hadith

مصائب اور مشکلات کے وقت کی دعائیں

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِيْ وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْوَةُ ذِي النُّونِ الَّذِىْ دَعَا وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ. فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلاَّ اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ. (رواه احمد والترمذى والنسائى)

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ذوالنون (اللہ کے پیغمبر یونس علیہ السلام) جب سمندر کی ایک مچھلی کا لقمہ بن کر اس کے پیٹ میں پہنچ گئے تھے تو اس وقت اللہ کے حضور میں ان کی دعا اور پکار یہ تھی: “لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ” (میرے مولا تیرے سوا کوئی معبود نہیں جس سے رحم و کرم کی درخواست اور مدد کی التجا کروں تو پاک اور مقدس ہے تیری طرف سے کوئی ظلم و زیادتی نہیں میں ہی ظالم اور پاپی ہوں) جو مسلمان بندہ اپنے کسی معاملہ اور مشکل میں ان کلمات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو قبول ہی فرمائے گا۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن نسائی) تشریح اس دنیا میں انسانوں کو بعض اوقات بڑے مصائب اور مشکلات سے سابقہ پڑتا ہے، اس میں خیر کا خاص پہلو یہ ہے کہ ان ابتلاءات اور مجاہدات کے ذریعہ اہل ایمان کی تربیت ہوتی ہے اور یہ ان کے لئے انابت الی اللہ اور رتعلق باللہ میں ترقی کا وسیلہ بنتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسے مواقع کے لئے جو دعائیں تعلیم فرمائیں ہیں وہ مصائب و مشکلات سے نجات کا وسیلہ بھی ہیں اور قرب خداوندی کا ذریعہ بھی۔ ان میں سے شند دعائیں ذیل میں پڑھئے۔ تشریح ..... حضرت یونس علیہ السلام کی یہ دعا قرآن مجید (سورہ انبیاء) میں انہی الفاظ میں مذکور ہوئی ہے۔ بظاہر تو اس مین صرف اللہ کی توحید و تسبیح اور اپنے قصور وار، خطاکار ہونے کا اعتراف ہے لیکن فی الحقیقت یہ اللہ کے حضور میں اظہارِ ندامت اور استغفار و انابت کا بہترین انداز ہے، اور اس میں اللہ کی رحمت کو کھینچ لینے کی خاص تاثیر ہے۔

1229Maarif-ul-Hadith

مصائب اور مشکلات کے وقت کی دعائیں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا وَقَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ الْعَظِيْمِ فَقُوْلُوْا: حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ. (رواه ابن مردويه)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب کوئی بھاری اور بہت مشکل معاملہ پیش آ جائے تو کہو “حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ” (اور وہی سب کام سپرد کرنے کے لیے اچھا ہے)۔ (ابن مردویہ) تشریح یہ بھی قرآن مجید کا خاص کلمہ ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب ان کی قوم کے بت پرستوں نے آگ کے ڈھیر میں ڈالا تو ان کی زبانِ مبارک پر یہی کلمہ تھا: “حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ” مصائب و مشکلات کے موقع پر ہر بندہ مومن کا یہی نعرہ ہونا چاہئے۔

1230Maarif-ul-Hadith

مصائب اور مشکلات کے وقت کی دعائیں

عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا قَالَ عَبْدٌ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، اكْفِنِي كُلَّ هَمٍّ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ، وَكَيْفَ شِئْتَ، وَمِنْ أَيْنَ شِئْتَ، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ تَعَالَى هَمَّهُ " (رواه الخرائطي في مكارم الأخلاق)

حضرت علی المرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بندہ (کسی سخت مشکل اور پریشانی میں مبتلا ہو اور) اللہ کے حضور میں عرض کرے: “اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، اكْفِنِي كُلَّ هَمٍّ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ، وَكَيْفَ شِئْتَ، وَمِنْ أَيْنَ شِئْتَ” (اے میرے اللہ! ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کے مالک! میری مہمات و مشکلات حل کرنے کے لئے تو کافی ہو جا اور حل کر دے جس طرح تو چاہے اور جہاں سے تو چاہے) تو اللہ اس کی مشکل کو حل کر کے پریشانی سے اس کو نجات عطا فرما دے گا۔ (مکارم الاخلاق خرائطی)

1231Maarif-ul-Hadith

مصائب اور مشکلات کے وقت کی دعائیں

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ لِىْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِىُّ: اللَّهُمَّ احرسني بِعَيْنِك الَّتِي لَا تنام واكنفني بركنك الَّذِي لَا يرام واغفر لي بقدرتك عَليّ فَلَا أهلك وَأَنت رجائي رب كم من نعْمَة أَنْعَمت بهَا عَليّ قل لَك عِنْدهَا شكري وَكم من بلية ابتليتني بهَا قل عِنْد لَك عِنْدهَا صبري فيا من قل نعْمَته شكري فَلم يحرمني وَيَا من قل عِنْد بليته صبري فَلم يخذلني وَيَا من رَآنِي على الْخَطَايَا فَلم يفضحني يَا ذَا الْمَعْرُوف الَّذِي لَا ينقضني أبدا وَيَا ذَا النعماء الَّتِي لَا تحصى أبدا أَسأَلك أَن تصلي على مُحَمَّد وعَلى آل مُحَمَّد بك أدرأ فِي نحور الْأَعْدَاء والجبارين. (رواه الديلمى فى مسند الفردوس)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: اے علیؓ! جب تمہیں کسی پریشانی اور مصیبت کا سامنا ہو تو اللہ سے اس طرح دعا کرو: “اللَّهُمَّ احرسني بِعَيْنِك الَّتِي تا فِي نحور الْأَعْدَاء والجبارين” (اے اللہ! اپنی اس آنکھ سے میری نگہبانی فرما جو کبھی نیند اور اونگھ سے آشنا نہیں ہوتی، اور مجھے اپنی اس حفاظت میں لے لے جس کے قریب جانے کا بھی کوئی ارادہ نہیں کر سکتا، اور مجھ مسکین و گناہگار بندے پر تجھے جو قدرت اور دسترس حاصل ہے اس کے صدقہ میں تو میرے گناہ معاف فرما دے کہ میں ہلاکت و بربادی سے بچ جاؤں تو ہی میری امیدوں کا مرکز ہے۔ اے میرے مالک و پروردگار! تو نے مجھے کتنی ہی ایسی نعمتوں سے نوازا جن کا شکر مجھ سے بہت ہی کم ادا ہو سکا، اور کتنی ہی آزمائشوں میں مبتلا کیا گیا اور ان آزمائشوں کے وقت مجھ سے صبر میں بڑی کمی اور کوتاہی ہوئی۔ پس اے میرے وہ کریم رب، جس کی نعمتں کا شکر ادا کرنے میں میں نے کوتاہی کی وت اس نے مجھے نعمتوں سے محروم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا (بلکہ میری اس کوتاہی کے باوجود اپنی نعمتیں مجھ پر انڈیلتا رہا) اور آزمائشوں میں صبر سے میرے قاصر رہنے کے باوجود اس نے مجھے اپنی نگاہِ کرم سے نہیں گرایا (بلکہ میری بےصبری کے باوجود مجھ پر کرم فرماتا رہا) اور اے میرے وہ کریم رب جس نے مجھے معصیتیں کرتے ہوئے خود دیکھا مگر اپنی مخلوق کے سامنے مجھے رسوا نہیں کیا (بلکہ مجھ گنہگار کی پردہ داری فرمائی) اے ہمیشہ اور تا ابد احسان و کرم فرمانے والے اور بےشمار و بےحساب نعمتوں سے نوازنے والے پروردگار! میں تجھ سے استدعا کرتا ہوں کہ اپنے بندے اور پیغمبر حضرت محمدﷺ پر اور ان کے خاص متعلقین پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔ خداوندا! میں تیرے ہی زور پر اور تیرے ہی بھروسہ پر مقابلہ میں آتا ہوں دشمنوں اور جباروں کے۔ (مسند فردوس دیلمی) تشریح رسول اللہ ﷺ کی تعلیم فرمائی ہوئی اس دعا کے ایک ایک کلمہ میں غور کیا جائے، اس کا ہر جملہ عبدیت کی روح سے لبریز ہے۔ اللہ تعالیٰ ان حقائق کا فہم اور ان کی قدر اور نفع اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

1232Maarif-ul-Hadith

حاکم وقت کے ظلم سے حفاظت کی دعا

عَنِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَخَوَّفَ أَحَدُكُمُ السُّلْطَانَ فَلْيَقُلِ: اللهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَأَتْبَاعِهِمْ، أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ. (رواه ابوداؤد)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو حاکمِ وقت کے ظلم و عدوان کا خطرہ ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اللہ سے یوں دعا کرے: “اللهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ تا وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ” (اے اللہ! ہفت افلاک اور عرشِ عظیم کے مالک! فلاں ابن فلاں (حاکم) کے شر سے اور سارے شریر انسانوں اور جنوں اور ان کے چیلوں کے شر سے میری حفاظت فرما، اور مجھے اپنی پناہ میں لے، کہ ان میں سے کوئی مجھ پر ظلم و زیادتی نہ کر سکے۔ جو تیری پناہ میں ہے وہ باعزت ہے، تیری ثناء و صفت باعظمت ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف تو ہی معبودِ برحق ہے)۔ (معجم کبیر طبرانی) تشریح بسا اوقات انسان خاص کر حق پرست انسان کو ایسے مواقع پیش آتے ہیں کہ وہ وقت کے اربابِ اقتدار کے غصہ اور ناراضی کا نشانہ بن جاتا ہے، اور ان کے ظلم و عدوان کا خطرہ فطری طور پر اس کے لئے فکر و پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے مستقل طور سے دعا تعلیم فرمائی۔

1233Maarif-ul-Hadith

قرض اور تنگ حالی سے نجات کی دعا

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ فَقَالَ: يَا أَبَا أُمَامَةَ مَا لِي أَرَاكَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلاَةِ. قَالَ هُمُومٌ لَزِمَتْنِي وَدُيُونٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: أَفَلاَ أُعَلِّمُكَ كَلاَمًا إِذَا أَنْتَ قُلْتَهُ أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمَّكَ وَقَضَى عَنْكَ دَيْنَكَ. قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: قُلْ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ. قَالَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمِّي وَقَضَى عَنِّي دَيْنِي.

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لائے تو ایک انصاری کو (جن کا نام ابو امامہ تھا) آپ ﷺ نے مسجد میں بیٹھے دیکھا، آپ ﷺ نے انؓ سے فرمایا: کیا بات ہے کہ تم اس وقت جب کہ کسی نماز کا وقت نہیں ہے مسجد میں بیٹھے ہو؟ انہوںؓ نے عرض کیا: حضرتﷺ مجھ پر بہت سے قرضوں کا بوجھ ہے اور فکروں نے مجھے گھیر رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں ایسا دعائیہ کلمہ بتا دوں جس کے ذریعے دعا کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں ساری فکروں سے نجات دے دے اور تمہارے قرضے بھی ادا کر دے؟ (ابو امامہؓ نے بیان کیا کہ) میں نے عرض کیا: حضرتﷺ! ضرور بتا دیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: تم صبح و شام اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کیا کرو: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ تا وَقَهْرِ الرِّجَالِ” (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکر اور غم سے اور نکمے پن اور ٹھول پنے سے، اور سستی و کاہلی سے، اور بزدلی و کنجوسی سے، اور پناہ مانگتا ہوں قرضے کے بار کے غالب آ جانے سے اور لوگوں کے دباؤ سے) ابو امامہؓ نے بیان کیا ککہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کی اس ہدایت پر عمل کیا (اور اس دعا کو اپنا صبح و شام کا معمول بنا لیا) تو خدا کے فضل سے میری ساری فکریں ختم ہو گئیں، اور میرا قرض بھی ادا ہو گیا۔ (سنن ابی داؤد) تشریح یہ صاحب واقعہ ابو امامہ مشہور صحابی ابو امامہ باہلیؓ کے علاوہ دوسرے صحابی ہیں۔

1234Maarif-ul-Hadith

قرض اور تنگ حالی سے نجات کی دعا

عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ جَاءَهُ مُكَاتَبٌ فَقَالَ إِنِّي قَدْ عَجَزْتُ عَنْ كِتَابَتِي فَأَعِنِّي. قَالَ أَلاَ أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ صِيرٍ دَيْنًا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْكَ قَالَ: قُلِ اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ. (رواه الترمذى والبيهقى فى الدعوات الكبير)

حضرت علی المرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ ایک مکاتب ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ: میں زرِ کتابت ادا کرنے سے عاجز ہو رہا ہوں آپ اوس میں میری مدد کر دیجئے؟ آپ نے فرمایا: میں تم کو وہ دعائیہ کلمات نہ بتا دوں جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے تعلیم فرمائے تھے، اگر تم پر کسی بڑے پہاڑ کے برابر بھی قرضہ ہو گا تو اس دعا کی برکت سے اور اللہ کے حکم سے وہ ادا ہو جائے گا (وہ مختصر دعا یہ ہے): “اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ” (اے میرے اللہ! مجھے حلال طریقے سے اتنی روزی دے جو میرے لئے کافی ہو اور حرام کی ضرورت نہ ہو، اور اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنے ماسوا سے بےنیاز کر دے)۔ (جامع ترمذی، دعوات کبیر للبیہقی) تشریح “مکاتب” اس غلام کو کہا جاتا ہے جس کے آقا نے اس کے بارے میں طے کر دیا ہو کہ تم اتنی رقم ادا کر دو تو آزاد ہو، ایسا غلام جب وہ معینہ رقم ادا کر دے گا تو آزاد ہو جائے گا۔ حضرت علی ؓ کی خدمت م یں اسی طرح کوئی بےچارہ مکاتب آیا تھا جو زرِ کتابت ادا کرنے سے عاجز ہو رہا تھا، آپؓ اس وقت رقم سے تو اس کی کوئی مدد نہیں کر سکے لیکن اسی مقصد کے لئے ایک خاص دعا آپؓ نے اس کو تعلیم فرما دی جو رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کو تعلیم فرمائی تھی۔ معلوم ہوا کہ ضرورت مند سائل کی اگر روپیہ پیسہ سے کسی وقت مدد نہ کی جا سکے تو اس کو اس طرح کی دعا ہی کی طرف رہنمائی کر دی جائے، یہ بھی اعانت اور خدمت کی ایک صورت ہے۔

1235Maarif-ul-Hadith

خوشی اور غم کے وقت کی دعا

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: إِذَا رَأَى مَا يَسُرُّ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ» ، وَإِذَا رَأَى شَيْئًا مِمَّا يَكْرَهُ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ» (رواه ابن النجار)

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کوئی ایسی بات دیکھتے جس سے آپ ﷺ کو مسرت اور خوشی ہوتی تو کہتے: “الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ” (حمد و ستائش اس اللہ کے لئے جس کے فضل و احسان سے اچھائیاں تکمیل پاتی ہیں) اور جب کوئی ایسی بات دیکھتے جو آپ ﷺ کو ناپسند اور ناگوار ہوتی تو کہتے: “الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ” (ہر حال میں اللہ کی حمد اور اس کا شکر)۔ (ابن النجار) تشریح اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے چاہے اس میں ہمارے لئے مسرت اور خوشی کا سامان ہو یا رنج و غم کا وہ سب بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اس کے حکم سے ہوتا ہے، اور وہ حکیم مطلق ہے اس کا کوئی فیصلہ حکمت سے خالی نہیں، اس لئے وہ ہر حال میں حمد و ستائش کا مستحق ہے۔

1236Maarif-ul-Hadith

غصہ کے وقت کی دعا

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِ أَحَدِهِمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ غَضَبُهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم. (رواه الترمذى)

حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں دو آدمیوں کے درمیان کچھ سخت کلامی ہو گئی، یہاں تک کہ ان میں سے ایک کے چہرہ پر غصہ کے آثار محسوس ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں جانتا ہوں ایک دعائیہ کلمہ، اگر یہ آدمی اس وقت وہ کہہ لے تو اس کا غصہ ٹھنڈا پڑ جائے گا، وہ کلمہ ہے۔ “أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم”۔ (جامع ترمذی) تشریح بلاشبہ اگر آدمی شعور اور دعا کی کیفیت کے ساتھ غصہ کی حالت میں بھی یہ کلمہ کہے اور اللہ سے پناہ طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے غصہ کی آگ کو ٹھنڈا کر دے گا، اور وہ غصہ کے نتائج بد سے محفوظ رہے گا۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے: وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ ۖإِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ اور اگر (کسی وقت شیطان کی طرف سے وسوسہ اندازی ہو (اور اس سے تمہارے اندر غصہ کی آگ بھڑک اٹھے) تو اللہ کی پناہ مانگو، وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے (وہ تمہیں پناہ دے گا)۔ لیکن یہ بھی واقعہ ہے کہ غصہ کی بحرانی کیفیت میں جب آدمی سنجیدگی اور توازن اور اچھائی برائی کا احساس کھو بیٹھتا ہے تو بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ یہ باتیں اسے یاد آئیں۔ ایسے وقت میں خیر خواہوں کو چاہئے کہ وہ حکمت سے اس کو اس طرف متوجہ کریں اور رسول اللہ ﷺ کی یہ زریں ہدایت یاد دلائیں۔

1237Maarif-ul-Hadith

عیادت کے وقت کی دعائیں

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ: أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ جب ہم میں سے کوئی آدمی بیمار ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اپنا داہنا ہاتھ اس کے جسم پر پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے: “أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ الخ” (اے سب آدمیوں کے پروردگار! اس بندے کی تکلیف دور فرما دے اور شفا عطا فرما دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، بس تیری ہی شفا شفا ہے، ایسی کامل شفا عطا فرما جو بیماری کا اثر بالکل نہ چھوڑے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح بیماروں کی عیادت اور خدمت کو رسول اللہ ﷺ نے اونچے درجہ کی نیکی اور ایک طرح کی مقبول ترین عبادت قرار دیا ہے اور اس کی بڑی ترغیب دی ہے، نیز اپنے عمل اور ارشادات سے اس کی تعلیم دی ہے کہ جب کسی مریض کی عیادت کی جائے تو اس کے لئے دعائے صحت بھی کی جائے۔ ظاہر ہے کہ اس سے اس کو تسلی بھی ہو گی اسی سلسلہ معارف الحدیث کی تیسری جلد میں “کتاب الجنائز” کے ذیل میں اس سلسلہ کی متعدد حدیثیں درج کی جا چکی ہیں یہاں کتاب الدعوات میں بھی بعض حدیثوں کے اضافہ کے ساتھ ان کو درج کیا جا رہا ہے۔

1238Maarif-ul-Hadith

عیادت کے وقت کی دعائیں

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ: إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اشْتَكَيْتَ فَقَالَ: ((نَعَمْ)). قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شيء يُؤْذِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ. (رواه مسلم)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ (رسول اللہ ﷺ ایک دفعہ کچھ بیمار ہوئے تو) جبرئیل امینؑ نے یہ دعا پڑھ کے جھاڑا: “بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شيء يُؤْذِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ” (میں اللہ کے نام سے تمہیں جھاڑتا ہوں، ہر اس چیز سے جو تمہیں ایذا پہنچائے، اور ہر نفس اور ھاسد کے شر سے اللہ تم کو شفا دے، میں اللہ کے نام سے تمہیں جھاڑتا پھونکتا ہوں)۔ (صحیح مسلم)

1239Maarif-ul-Hadith

عیادت کے وقت کی دعائیں

عَنْ عَائِشَةَ رَضِي الله عَنهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ، فَلَمَّا اشْتَكَى وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، كُنْتُ أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ الَّتِي كَانَ يَنْفِثُ، وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب خود بیمار ہوتے تو معوذاب پڑھ کر اپنے اوپر دم فرماتے اور خود اپنا دستِ مبارک اپنے جسم پر پھیرتے پھر جب آپ ﷺ کو وہ بیماریی لاحق ہوئی جس میں آپ ﷺ نے وفات پائی تو میں وہی معوذات پڑھ کر آپ پر دم کرتی جن کو پڑھ کر آپ ﷺ دم کیا کرتے تھے، اور آپ ﷺ کا دستِ مبارک آپ ﷺ کے جسم پر پھیرتی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں “معوذات” سے مراد بظاہر سورہ “قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ” اور “قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ” ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دعائیں مراد ہوں جن میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگی جاتی ہے اور جو آپ ﷺ بیماروں پر پڑھ کر اکثر دم کیا کرتے تھے۔ اس طرح کی بعض دعائیں اوپر بھی بعض حدیثوں میں آ چکی ہیں۔

1240Maarif-ul-Hadith

چھینک آنے کے وقت کی دعا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ. وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فَإِذَا قَالَ لَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فَلْيَقُلْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ. (رواه البخارى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اس کو چاہئے کہ کہے: “الحمدلله” (اللہ کی حمد اور اس کا شکر) اور جو بھائی اس کے پاس ہوں، انہیں جواب میں کہنا چاہئے: “يَرْحَمُكَ اللهُ” (تم پر اللہ کی رحمت ہو) اور جب وہ یہ کہیں تو چھینکنے والے کو چاہئے کہ وہ جواب الجواب کے طور پر کہے: “يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ” (اللہ تم کو صحیح راہ پر چلائے اور تمہارا حال درست فرمائے)۔ (صحیح بخاری) تشریح آدمی کو چھیک آ جانے کی بظاہر کوئی اہمیت نہیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس موقع کے لئے بھی دعا تلقین فرمائی، اور اس کو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق بڑھانے کا ذریعہ بنا دیا۔ چھینک اگر زکام وغیرہ کسی بیماری کی وجہ سے نہ ہو تو دماغ کی صفائی اور اس کے ہلکے ہونے کا ذریعہ ہے۔ جو مادہ چھینک کے ذریعہ خارج ہوتا ہے اگر وہ خارج نہ ہو تو طرح طرح کی دماغی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں، اس لئے بندے کو چاہئے کہ چھینک آنے پر اللہ کی حمد اور اس کا شکر ادا کرے، اور کم از کم الحمدللہ کہے۔ بعض روایات میں اس موقع کے لئے “الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ” اور بعض دوسری روایات میں “الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ” بھی وارد ہوا ہے۔ اس لئے ان میں سے ہر کلمہ کہا جا سکتا ہے۔ سننے والوں کو اس کے جواب میں “يَرْحَمُكَ اللَّهُ” کہنا چاہئے۔ یہ چھینکنے والے کے حق میں دُعائے خیر ہو گی، اس کا جواب چھینکنے والے کو بھی دعائے خیر سے دینا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے “يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ” تعلیم فرمایا۔ قربان اس تعلیم کے، ایک چھینک کو خود چھینکنے والے کے لئے اور اس کے پاس والوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو تازہ کرنے کا اور بڑھانے کا کیسا ذریعہ بنایا۔ اگر کسی کو نزلہ اور زکام کی وجہ سے مسلسل چھینکیں آتی ہوں تو اس صورت میں نہ چھینکنے والا ہر دفعہ “الْحَمْدُ لِلَّهِ” کہنے کا مکلف ہے، نہ سننے والے کو ہر دفعہ “يَرْحَمُكَ اللَّهُ” کہنے کا حکم ہے۔