کسی مجلس سے اُٹھنے کے وقت کی دعا
عَنْ عَبْدِاللهِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنْ مَجْلِسٍ حَتَّى يَدْعُوَ بِهَؤُلاَءِ الدَّعَوَاتِ لأَصْحَابِهِ: اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ، وَمِنَ اليَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مُصِيبَاتِ الدُّنْيَا، وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا، وَاجْعَلْهُ الوَارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا، وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا، وَلاَ تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا، وَلاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلاَ تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لاَ يَرْحَمُنَا. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کسی مجلس سے اٹھیں اور اپنے ساتھ اپنے اصحاب کے لئے بھی یہ دعا نہ فرمائیں۔
“اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ تا وَلاَ تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لاَ يَرْحَمُنَا” (اے اللہ! ہمیں اپنے خوف اور خشیت سے اتنا حصہ دے جو ہمارے درمیان اور تیری نافرمانیوں کے درمیان حائل ہو جائے (یعنی تیرے اس خوف کی وجہ سے ہمارے قدم تیری نافرمانیوں کے لئے نہ اُٹھ سکیں۔)
اور اپنی طاعت و عبادت سے اتنا حصہ عطا فرما جس سے تو ہمیں اپنی جنت میں پہنچا دے (یعنی جو ہمارے لئے داخلہ جنت کا وسیلہ بن جائے)۔
اور (قضا و قدر) کے یقین سے اتنا حصہ دے جو ہمارے لئے دنیاوی مصائب کو ہلکا کر دے، اور جب تک تو ہمیں زندہ رکھے اس لائق رکھ کہ اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں اور اپنی دوسری قوتوں سے کام لیتے رہیں (یعنی مرتے دم تک ہم آنکھ، کان وغیرہ تیری بخشی ہوئی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں) اور ان کو ہمارے مرنے کے بعد بھی باقی رکھ (یعنی ان سے ہم کچھ ایسے کام کر جائیں جو ہمارے مرنے کے بعد بھی کام آئیں)۔
اور اے ہمارے مالک و مولا! جو کوئی ہم پر (یعنی تیرے ایمان والے بندوں پر) ظلم ڈھائے تو تو اس سے ہمارا بدلہ لے، اور جو کوئی ہماری دشمنی پر کمر بستہ ہو تو، تو اس کے مقابلے میں ہماری مدد فرما، اور ہمیں اس کے مقابلہ میں غالب اور منصور فرما۔ اور ہمارے دین میں کوئی مصیبت نہ آئے (یعنی دینی مصائب اور فتنوں سے خاص طور پر ہماری حفاظت فرما) اور اے اللہ ایسا نہ ہو کہ دنیا ہمارا مقصدِ اعظم اور ہمارے علم و نظر کا منتہا بن جائے۔ اور اے اللہ! ہم پر کبھی بےرحم دشمنوں کو مسلط نہ فرما۔ (جامع ترمذی)
تشریح
یہ دعا بھی رسول اللہ ﷺ کی نہایت جامع و بلیغ خاص معجزانہ دعاؤں میں سے ہے۔ حق یہ ہے کہ اپنے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جن کے ذریعہ ان دعاؤں کی قدر و قیمت ظاہر کی جا سکے۔
اللہ تعالیٰ ان صحابہ کرامؓ اور زمانہ مابعد کے ان سب بزرگوں کی قبروں کو منور فرمائے جنہوں نے اہتمام سے ان دعاؤں کو محفوظ رکھا اور امت کو پہنچایا اور ہمیں قدر و استفادہ کی توفیق دے۔
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ السُّوقَ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ السُّوقِ وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُصِيبَ فِيهَا صَفْقَةً خَاسِرَةً. (رواه البيهقى فى الدعوات الكبير)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ جب آپ بازار جاتے تو کہتے: “بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تا صَفْقَةً خَاسِرَةً” (میں اللہ کا نام لے کر بازار جاتا ہوں۔ اے اللہ! اس بازار میں اور اس کی چیزوں میں جو خیر اور بھلائی ہو اس کا میں تجھ سے سائل ہوں اور اس میں اور اس کی چیزوں میں جو شر ہو میں اس سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس بات سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں اس بازار میں کوئی گھاٹے کا سودا کروں)۔ (دعوات کبیر للبیہقی)
تشریح
انسان اپنی ضروریات اور خرید و فروخت کے لئے بازار بھی جاتا ہے جہاں اس کے لئے نفع اور نقصان دونوں کے امکانات ہیں اور ہر دوسری جگہ سے زیادہ خدا سے غافل کرنے والی چیزیں ہیں اور اسی واسطے اس کو “شر البقاع” (بدترین جگہ) قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ جب ضرورت سے بازار تشریف لے جاتے تو اللہ کے ذکر اور اس سے دعا کا خاص اہتمام فرماتے۔
بازار کی ظلمانی فضاؤں میں اللہ کے ذکر کا غیر معمولی ثواب
عَنْ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ دَخَلَ السُّوقَ، فَقَالَ: لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ حَيٌّ لاَ يَمُوتُ، بِيَدِهِ الخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ، وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ، وَرَفَعَ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ وبنى له بيتا في الجنة. (رواه الترمذى وابن ماجه)
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو بندہ بازار گیا اور اس نے (بازار کی غفلت اور شور و شر سے بھرپور فضا میں دل کے اخلاص سے کہا “لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ تا وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لئے ہزاروں ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور ہزاروں ہزار گناہ محو کر دئیے جائیں گے اور ہزاروں ہزار درجے اس کے بلند کر دئیے جائیں گے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لئے جنت میں ایک شاندار محل تیار ہو گا۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
بازار بلاشبہ غفلت اور معصیات کے مراکز اور شیاطین کے اڈے ہیں۔ پس اللہ کا جو باتوفیق بندہ وہاں کی ظلمانی اور شیطانی فضاؤں میں ایسے طریقے پر اور ایسے کلمات کے ساتھ اللہ کا ذکر کرے جن کے ذریعہ وہاں کے ظلمتوں کا پورا توڑ ہوتا ہو، وہ بلاشبہ اس کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس پر بےحد و حساب عنایت ہو۔ اس کے لئے ہزار نیکیوں کا لکھا جانا، ہزاروں ہزار گناہوں کا محو کیا جانا، اور ہزاروں ہزار درجے بلند ہونا، اور جنت میں ایک شاندار محل عطا ہونا اسی عنایتِ الٰہی کی تفصیلی تعبیر ہے۔
بازار میں آدمی کی نگاہ کے سامنے طرح طرح کی وہ چیزیں آتی ہیں جن کو دیکھ کر وہ خدا کو اور اپنے اور ساری دنیا کے فانی ہونے کو بھول جاتا ہے۔ یہ چیزیں اس کے دل کو اپنی طرف کھینچے لگتی ہیں۔ کسی چیز کو وہ سمجھتا ہے کہ یہ بڑی دلکش اور بڑی حسین ہے، کسی کو سمجھتا ہے کہ یہ بڑی نفع بخش ہے، کسی بڑے کامیاب تاجر یا صاحب دولت و حکومت کو دیکھ کر دل میں سوچنے لگتا ہے کہ اگر اس سے تعلق قائم کر لیا جائے تو سارے کام بن جائیں گے۔ بازار کی فضاؤں میں یہی وہ خیالات و وساوس ہوتے ہیں جو دلوں اور نگاہوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے علاوہ اور تحفظ کے لئے ہدایت فرمائی کہ بازار جاؤ تو یہ کلمہ توحید تمہاری زبانوں پر ہو:
لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ حَيٌّ لاَ يَمُوتُ، بِيَدِهِ الخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اللہ کے سوا کوئی قابلِ پرستش نہیں، اکیلا وہی معبود برحق ہے، کوئی اس کا شریک اور ساجھی نہیں، صرف اسی کا راج اور اسی کی فرمانروائی ہے، وہی حمد ستائش کے لائق ہے سب کی زندگی اور موت اسی کے قبصہ میں ہے اور وہ زندہ جاوید ہے، اسی کبھی فنا نہیں، ساری خیر اور بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اور سب کچھ اسی کی قدرت میں ہے۔
یہ کلمہ ان گمراہانہ خیالات اور ان شیطانی وسوسوں پر براہِ راست ضرب لگاتا ہے جو بازار میں انسان کے دل و دماغ کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کلمہ میں ان حقائق پر یقین کو تازہ کیا جاتا ہے:
1. الٰہ جو اس کا مستحق ہے کہ اس کو دل و جان سے چاہا جائے، اس کی عبادت کی جائے اور اپنا مطلوب و مقصودِ حقیقی بنایا جائے صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس استحقاق میں کوئی چیز اور کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
2.ساری کائنات میں صرف اسی کی فرمانروائی ہے، بلاشرکت غیرے اسی کا حکم چلتا ہے، وہی ساری کائنات کا مالک اور حاکم حقیقی ہے۔
3. حمد و ستائش کے لائق بھی صرف وہی ہے، اس کے علاوہ اس کی مخلوق میں جو چیزیں دل یا نگاہ کو اچھی اور قابلِ تعریف نظر آتی ہیں وہ اس کی مخلوقات اور مصنوعات ہیں، ان کا حسن و جمال اسی کا عطیہ ہے۔
4.اس کی اور صرف اسی کی شان “حی لا یموت” ہے، اس کے علاوہ ہر چیز فانی ہے، اور ہر ایک کی موت و حیات اور فنا و بقاء اسی کے ہاتھ میں ہے۔
5. ہر خیر اور بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے، اس کے سوا کسی کے اختیار اور قبضہ میں کچھ نہیں۔
6.وہ اور صرف وہی قادرِ مطلق ہے، ہر چیز اور ہر تبدیلی اسی کی قدرت میں ہے۔ بازارکی فضاؤں میں جو بندہ اللہ کو اس طرح یاد کرتا ہے وہ گویا شیاطین کی سرزمین میں اللہ کے نام کا علم بلند کرتا ہے اور گمراہی کی گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ہدایت کی شمع جلا جاتا ہے۔ اس لئے بلاشبہ وہ اس غیر معمولی عنایت اور رحمت کا مستحق ہے جس کا اس حدیث پاک میں ذکر کیا گیا ہے۔
حدیث کے لفظ “الفِ الف” کا ترجمہ ہم نے بجائے دس لاکھ کے “ہزاروں ہزار” کیا ہے۔ ہمارے نزدیک ان شارحین کی رائے زیادہ قرینِ قیاس ہے جنہوں نے کہا ہے کہ یہاں یہ لفظ معین عدد کے لئے استعمال نہیں کیا گیا ہے بلکہ غیر معمولی کثرت کے لئے کنایہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔
کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھنے کے وقت کی دُعا
عَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ رَأَى مُبْتَلًى، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا، عُوفِيَ مِنْ ذَلِكَ الْبَلَاءِ، كَائِنًا مَا كَانَ " (رواه الترمذى وراه ابن ماجه عن ابن عمر)
امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب اور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس آدمی کی نظر کسی مبتلائے مصیبت اور دکھی پر پڑے اور وہ کہے: “الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تا تَفْضِيلًا” (حمد اس اللہ کے لئے جس نے مجھے عافیت دی اور محفوظ رکھا اس بلا اور سے سے جس میں تجھ کو مبتلا کیا گیا اور اپنی بہت سے مخلوقات پر اس نے مجھے فضیلت بخشی) تو وہ اس بلا اور مصیبت سے محفوظ رہے گا خواہ کوئی بھی مصیبت ہو۔ (جامع ترمذی)
(اور سنن ابن ماجہ میں یہی حدیث حضرت ابنِ عمرؓ سے روایت کی گئی ہے)
تشریح
بسا اوقات ہماری نگاہ اللہ کے ایسے بندوں پر پڑتی ہے جو بےچارے کسی دکھ اور مصیبت میں مبتلا اور برے حال میں ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسے وقت کے لئے ہدایت فرمائی کہ بندہ ایسا کوئی منظر دیکھے تو اس بات پر اللہ کی حمد اور اس کا شکر کرے کہ اس نے مجھے اس مصیبت میں مبتلا نہیں کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اس حمد و شکر کی برکت سے وہ اس مصیبت سے محفوظ رکھا جائے گا۔
تشریح ..... امام ترمذیؒ نے اس حدیث کے ساتھ ہی گویا اس کی تشریح کے طور پر امام زین العابدینؓ کے صاحبزادے امام باقرؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ: “جب بندہ کسی مبتلائے مصیبت کو دیکھے تو پہلے اس مصیبت سے اللہ کی پناہ چاہے اس کے بعد یہ دعا اس طرح آہستہ پڑھے کہ وہ بےچارہ مبتلائے مصیبت سُن نہ سکے۔ ظاہر ہے کہ اگر سُن لے گا تو اس سے اس کا دل دکھے گا۔”
حضرت شیخ شبلی علیہ الرحمۃ سے نقل کیا گیا ہے کہ: جب وہ کسی ایسے آدمی کو دیکھتے جو خدا سے غافل اور آخرت سے بےفکر ہو کر دنیا میں پھنسا ہو تو یہی دعا پڑھتے: “الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلاَكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلاً”
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ: الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ. (رواه ابوداؤد والترمذى)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کچھ کھاتے پیتے تو کہتے: “الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ ” (حمد و شکر اس اللہ کے لئے جس نے ہمیں کھانے اور پینے کو دیا اور (اس سے بھی بڑا کرم یہ فرمایا کہ) ہمیں اپنے مسلم بندوں میں سے بنایا۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)
تشریح
کھانا پینا انسان کے لوازمِ حیات میں سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو جب کچھ کھانے یا پینے کو میسر ہوتا تو آپ ﷺ اس کو اللہ کی طرف سے اور اس کا عطیہ یقین کرتے ہوئے اس کی حمد اور اس کا شکر ادا کرتے اور دوسروں کو بھی اس کی ہدایت فرماتے۔
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ، وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ» (رواه الترمذى)
حضرت معاذ بن انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو بندہ کھانا کھائے اور پھر کہے: “الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ، وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ” (ساری حمد اس اللہ کے لئے جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا،ا ور میری اپنی سعی و تدبیر اور قوت و طاقت کے بغیر محض اپنے فضل سے مجھے یہ عطا فرمایا) تو اس حمد و چکر کی برکت سے اس کے پہلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
بعض اعمال بظاہر بڑے چھوٹے سے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نگاہ میں وہ بہت بڑے اور اس کی میزان میں بہت بھاری ہوتے ہیں اور ان کا نتیجہ بڑا غیر معمولی نکلتا ہے۔ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جو بندہ کھانے کے بعد صدقِ دل سے یہ اعتراف کرے کہ یہ کھانا مجھے میرے پروردگار اور پالنہار نے عطا فرمایا، میرے کسی ہنر اور کسی صلاحیت اور استحقاق کو اس میں کوئی دخل نہیں تھا، جو کچھ عطا فرمایا وہ اس نے صرف اپنے کرم سے عطا فرمایا، اور وساری حمد و ستائش کا مستحق وہی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی اس حمد کی اتنی قدر فرمائے گا کہ اس کے سارے پہلے گناہ اس کی برکت سے بخش دے گا اور سنن ابی داؤد کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جس بندے نے کپڑا پہنا اور پھر اس طرح اللہ کی حمد کی: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي، وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ.
ساری حمد و ستائش اس اللہ کے لئے جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا،اور بغیر میری سعی و تدبیر اور قوت و طاقت کے مجھے یہ عطا فرمایا۔ تو اس کے پہلے اور پچھلے سب گناہ بخش دئیے جائیں گے۔
دراصل بندے کا یہ اعتراف و احساس کہ اس کے پاس جو کچھ ہے اس کے رب کا عطیہ ہے وہ خود کسی لائق نہیں ہے، عبدیت کا جوہر ہے، اور اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑی قدر و قیمت رکھتا ہے۔ اور ان اعمال میں سے ہے جن کے صدقہ میں عمر بھر کی خطائیں معاف کر دی جائیں۔ اللہ تعالیٰ ان حقائق کا فہم اور ان پر یقین نصیب فرمائے اور عمل کی توفیق دے۔
کسی کے یہاں کھانا کھا کر کھلانے والے کے لئے دعا
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: صَنَعَ أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيْهَانِ طَعَامًا فَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ فَلَمَّا فَرَغُوا قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَثِيبُوا أَخَاكُمْ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا إِثَابَتُهُ؟ قَالَ «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا دُخِلَ بَيْتُهُ فَأُكِلَ طَعَامُهُ، وَشُرِبَ شَرَابُهُ، فَدَعَوْا لَهُ فَذَلِكَ إِثَابَتُهُ» (رواه ابوداؤد)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ابو الہیثم بن التیہان نے اپنے ہاں کھانا تیار کرایا اور رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی دعوت کی جب سب کھانا کھا کے فارغ ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “اپنے بھائی کو بدلہ دو۔ عرض کیا گیا کہ: حضور ﷺ! ان کو کیا بدلہ دیا جا سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “جب کسی بھائی کے گھر جائیں اور وہاں کھائیں پیئں اور پھر اس کے لئے خیر و برکت کی دعا کریں تو بس یہی بندوں کی طرف سے اس کا بدلہ ہے”۔ (سنن ابی داؤد)
کسی کے یہاں کھانا کھا کر کھلانے والے کے لئے دعا
عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَجَاءَهُ بِخُبْزٍ وَزَيْتٍ، فَأَكَلَ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ» (رواه ابوداؤد)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت سعد بن عبادہؓ کے ہاں تشریف لائے انہوںؓ نے آپ ﷺ کی خدمت میں پکی ہوئی روٹی اور روغنِ زیتون پیش کیا۔ آپ ﷺ نے اس کو تناول فرمایا اور پھر ان کے لئے اس طرح دعا فرمائی:
أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ
اللہ کے روزہ دار بندے تمہارے ہاں افطار کیا کریں اور ابرار و صالحین تمہارے ہاں کھانا کھایا کریں اور اللہ کے فرشتے تمہارے لئے دعائے خیر کیا کریں۔ (سنن ابی داؤد)
کسی کے یہاں کھانا کھا کر کھلانے والے کے لئے دعا
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي، قَالَ: فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً، فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ، وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ، فَقَالَ أَبِي: وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ، ادْعُ اللهَ لَنَا، فَقَالَ: «اللهُمَّ، بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ» (رواه مسلم)
عبداللہ بن بسر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے والد بسر اسلمی کے مہمان ہوئے تو میرے والد نے آپ ﷺ کی خدمت میں کھانا اور وطبہ (ایک قسم کا مالیدہ) پیش کیا۔ آپ ﷺ نے اس میں سے تناول فرمایا۔ پھر آپ ﷺ کی خدمت میں کھجوریں پیش کی گئیں، آپ ﷺ ان کو کھاتے تھے اور کلمہ والی انگلی اورا درمیانی انگلی دونوں کو ملا کر کھجور کی گٹھلیاں ان میں لے کر پھینکتے جاتے تھے۔ پھر آپ ﷺ کی خدمت میں پینے کے لئے کوئی مشروب پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس کو بھی نوش فرمایا، پھر آپ ﷺ تشریف لے جانے لگے تو میرے والد نے آپ ﷺ کی سواری کی لگام تھام کے عرض کیا کہ ہمارے لئے دعا فرما دیجئے تو آپ ﷺ نے دعا کی:
«اللهُمَّ، بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ» (صحيح مسلم)
اے اللہ تو نے ان کو روزی کا جو سامان عطا فرمایا ہے اس میں ان کے لئے برکت دے اور ان کو اپنی مغفرت اور رحمت سے نوازا۔
تشریح
ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ جس طرح کھانے پینے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکر ادا کرنا چاہئے اسی طرح جب اللہ کا کوئی بندہ کھلائے پلائے تو اس کے لئے بھی دعا کرنی چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبادہ ؓ کے یہاں کھانا کھانے کے بعد ان کے لئے جو دعا فرمائی جس کا حضرت انسؓ کی اوپر والی حدیث میں ذکر ہے، یعنی: “أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ” اور بسر اسلمیؓ کے ہاں کھانے کے بعد ان کے لئے آپ ﷺ نے جو دعا فرمائی جس کا عبداللہ بن بسر والی اس حدیث میں ذکر ہے یعنی: “اللهُمَّ، بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ” ان دعاؤں کے مضمونوں میں فرق غالباً حضرت سعد بن عبادہؓ اور بسر اسلمیؓ کے دینی مقام اور درجہ کے لحاظ سے ہے۔ حضرت سعد بن عبادہؓ آپ ﷺ کے خاص فیض یافتہ اور صفِ اول کے اصحاب کرامؓ میں سے تھے، انؓ کو آپ ﷺ نے دعا دی کہ: “اللہ تعالیٰ ایسا کرے کہ ہمیشہ تمہارے ہاں اللہ کے روزہ دار بندے افطار کیا کریں، اور اس کے صالح اور متقی بندے کھانا کھایا کریں اور فرشتے تمہاے لئے دعائے خیر کریں، حضرت سعد بن عبادہؓ کے دینی مقام کے لئے ایسی ہی دعا مناسب تھی۔ اور بسر اسلمیؓ جو اس درجہ کے نہیں تھے ان کے لئے خیر و برکت اور مغفرت و رحمت کی وہی دعا زیادہ مناسب تھی جو آپ ﷺ نے انؓ کو دی”۔ واللہ اعلم۔
نیا لباس پہننے کے وقت کی دعا
عَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ فَتَصَدَّقَ بِهِ كَانَ فِي كَنَفِ اللَّهِ، وَفِي حِفْظِ اللَّهِ، وَفِي سِتْرِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا "
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “جو بندہ نیا کپڑا پہنے اور کہے: “الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي” (حمد و شکر اس اللہ کے لئے جس نے مجھے وہ لباس عطا فرمایا جس سے میں اپنی پردہ داری کرتا ہوں اور زندگی میں وہ میرے لئے سامانِ زینت بنتا ہے) پھر وہ بندہ اپنا وہ لباس جو اس نے پرانا کر کے اتار دیا ہے صدقہ کر دے تو وہ زندگی میں اور مرنے کے بعد اللہ کی حفاظت و نگہہبانی میں رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کی پردہ داری فرمائے گا”۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
لباس بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، اور کھانے پینے ہی کی طرح انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ: “جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو نیا کپڑا نصیب فرمائے اور وہ اس کو زیبِ تن کرے تو اللہ تعالیٰ کے احسان کے استحضار کے ساتھ اس کی حمد اور اس کا شکر ادا کرے، اور جو پہنا ہوا کپڑا اس نے پرانا کر کے اتارا ہے اس کو صدقہ کر دے۔، آپ ﷺ نے بشارت دی کہ ایسا کرنے والے بندے کو زندگی میں اور مرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور پردہ داری نصیب رہے گی”۔
آئینہ دیکھنے کے وقت کی دعا
عَن أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم إِذَا نَظَرَ فِي الْمِرْآةِ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَوَّى خَلْقِي وَأَحْسَنَ صُورَتِي وَأَزَانَ مِنِّي مَا شَانَ مِنْ غَيْرِي. (رواه البزار)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ جب آپ ﷺ آئینہ دیکھتے تو کہتے: “الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تا مِنْ غَيْرِي” (حمد و شکر اس اللہ کے لئے جس نے میرے جسم کو برابر موزوں بنایا اور مجھے اچھی شکل و صورت عطا فرمائی اور مجھے اس خوشنمائی سے نوازا جس سے دوسرے بہت سے بندوں کو نہیں نوازا گیا)۔ (مسند بزار)
تشریح
دوسری اکثر دعاؤں کی طرح اس دعا کی روح بھی یہی ہے کہ بندہ اپنے اندر جو حسن و خوبی اور جو جمال و کمال محسوس کرے وہ اس کو اللہ کی دین یقین کرتے ہوئے اس کی حمد اور اس کا شکر کرے، اس طرز عمل سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی محبت اور جذبہ عبودیت میں برابر ترقی ہوتی رہے گی اور وہ خود پسندی اور کبر نفس جیسے مہلک امراض سے محفوظ رہے گا۔
نکاح اور شادی سے متعلق دعائیں
عَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً أَوِ اشْتَرَى خَادِمًا، فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ. (رواه ابوداؤد وابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ: “جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو اپنے نکاح میں لائے اور بیوی بنائے یا خدمت کے لئے غلام یا باندی خریدے تو یہ دعا کرے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ ” (اے اللہ! اس مین اور اس کی فطرت مین جو خیر اور بھلائی ہو۔ میں تجھ سے اس کی استدعا کرتا ہوں، اور اس میں اور اس کی فطرت میں جو شر اور برائی ہو اس سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں)۔ (سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
نکاح اور شادی بھی انسانی زندگی کے لوازم میں سے ہے اور بظاہر اس کا تعلق انسان کے صرف ایک بہیمی اور نفسانی تقاضا سے ہے، اور اس وقت خدافراموشی کا بڑا امکان ہے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے امت کو ہدایت فرمائی کہ اس موقع پر بھی تمہاری نگاہ خدا پر رہے اور یہ یقین رکھتے ہوئے کہ اس سلسلہ کا خیر و شر بھی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، اس سے دعا کیا کرو، اس طرح آپ ﷺ نے زندگی کے اس شعبہ کو بھی خدا پرستی کے رنگ میں رنگ دیا۔
نکاح اور شادی سے متعلق دعائیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَّأَ إِنْسَانًا إِذَا تَزَوَّجَ، قَالَ: " بَارَكَ اللهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ " (رواه احمد والترمذى وابوداؤد وابن ماجه)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ شادی کرنے والے آدمی کو ان الفاظ کے ساتھ دعا اور مبارک باد دیا کرتے تھے: “بَارَكَ اللهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ” (اللہ تعالیٰ تمہارے لئے مبارک کرے، اور تم پر برکتیں نازل کرے، اور تم دونوں (میاں اور بیوی) کو خیر اور بھلائی پر جوڑے رکھے) یعنی دنیا اور آخرت کی ہر چیز اور بھلائی کے معاملہ میں تم دونوں کے درمیان باہم اتفاق اور تعاون رہے، اور شیطان کوئی فتنہ انگیزی نہ کر سکے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب تم میں سے کوئی بیوی کے پاس جاتے وقت اللہ کے حضور میں یہ عرض کر لیا کرے: “بِاسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا” (بسم اللہ، اے اللہ! تو شیطان کے شر سے ہم کو بچا، اور ہم کو جو اولاد دے اس کو بھی بچا) تو اگر اس مباشرت کے نتیجہ میں ان کے لئے بچہ مقدر ہو گا تو شیطان اس کو کبھی نقصان نہ پہنچا سکے گا اور وہ ہمیشہ شر شیطان سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ: “اس حدیث سے مفہوم ہوتا ہے کہ اگر مباشرت کے وقت اللہ تعالیٰ سے اس طرح کی دعا نہ کی (اور خدا کی طرف سے بالکل غافل ہو کر بہائم کی طرح بس اپنے نفس کا تقاضا پورا کر لیا)” تو ایسی مباشرت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی اولاد شر شیطان سے محفوظ رہے گی ”۔ اس کے بعد فرماتے ہیں: “از نیجاست فساد احوال اولاد و تباہ کاری ایشاں” (یعنی اس زمانہ میں پیدا ہونے والی نسل کے احوال، اخلاق و عادات جو عام طور سے خراب و برباد ہیں تو اس کی خاص بنیاد یہی ہے)۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی ان ہدایات کی قدر شناسی اور ان سے فائدہ اٹھانے کی پوری توفیق دے۔
سفر پر جانے اور واپس آنے کے وقت کی دعائیں
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ، كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: «سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ»، وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ جب آپ ﷺ سفر پر جاتے وقت اونٹ پر سوار ہوتے تو پہلے تین دفعہ “اللہ اکبر” کہتے، اس کے بعد کہتے “سبحان الله تا فى الاهل والمال” (پاک اور مقدس ہے وہ ذات جس نے ہماری سواری کے لئے اپنی اس مخلوق کو مسخر اور ہمارے قابو میں کر دیا ہے، اور خود ہم میں اس کی طاقت نہ تھی کہ اپنی ذاتی تدبیر و طاقت سے اس طرح قابو یافتہ ہو جاتے (بلکہ اللہ ہی نے اپنے فضل و کرم سے ایسا کر دیا ہے) اور ہم بالآخر اپنے اس مالک کے پاس لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اے اللہ! ہم استدعا کرتے ہیں تجھ سے اپنے سفر میں نیکوکاری اور پرہیزگاری، اور ان اعمال کی جو تیری رضا کے باعث ہوں۔ اے اللہ! اس سفر کو ہم پر آسان کر دے اور اس کی طوالت کو اپنی قدرت و رحمت سے مختصر کر دے۔ اے اللہ! بس تو ہی ہمارا رفیق اور ساتھی ہے اس سفر میں (اور سب سے بڑا سہارا تیری ہی رفاقت کا ہے) اور ہمارے پیچھے تو ہی ہمارے اہل و عیال اور مال و جائیداد کی دیکھ بھال اور نگرانی کرنے والا ہے (اس سلسلہ میں بھی ہمارا اعتماد اور بھروسہ بس تجھ ہی پر ہے) اے اللہ! میں تیری پنام چاہتا ہوں سفر کی مشقت اور زحمت سے اور اس بات سے کہ اس سفر میں کوئی رنج دِہ بات دیکھوں، اور اس سفر سے لوٹ کر اہل و عیال یا مال و جائیداد میں کوئی بری بات پاؤں) اور جب آپ ﷺ سفر سے واپس ہوتے تب بھی اس کے حضور میں یہی دعا کرتے۔ اور آخر میں ان کلمات کا اضافہ کرتے “آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ”(ہم واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اپنے پروردگار کی حمد و ستائش کرنے والے ہیں)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
دیس سے پردیس جانے والے کے لئے بہت سے خطرات اور طرح طرح کے امکانات ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ: سفر کے لئے روانہ ہوتے وقت اللہ سے کیا کیا مانگنا چاہئے نیز یہ کہ ہر سفر کے موقع پر یقینی پیش آنے والے آخرت کے سب سے اہم سفر کو بھی یاد کرنا چاہئے، اور اس کی تیاری سے غافل نہ ہونا چاہئے۔
تشریح ..... اس دعا کا ایک ایک جز اپنے اندر بڑی معنویت رکھتا ہے۔ پہلی بات اس حدیث میں یہ بتائی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اونٹ پر سوار ہونے کے بعد سب سے پہلے تین دفعہ “اللہ اکبر” کہتے تھے۔ اس زمانہ میں خاص کر اونٹ جیسے سواری پر سوار ہونے کے بعد خود سوار کو اپنی بلندی و برتری کا جو احساس یا وسوسہ پیدا ہو سکتا تھے اسی طرح دیکھنے والوں کے دلوں میں اس کی عظمت و بڑائی کا جو خیال آ سکتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ تین دفعہ “اللہ اکبر” کہہ کے اس پر تین ضربیں لگاتے تھے اور خود اپنے کو اور دوسروں کو جتاتے تھے کہ عظمت و کبریائی بس اللہ کے لئے ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کہتے تھے: “سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ” (پاک اور مقدس ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے اس سواری کو مسخر کر دیا، ورنہ ہم میں وہ طاقت نہ تھی کہ ایسا کر سکتے) اس میں اس کا مترادت اور اظہار ہے کہ اس سواری کو ہمارے لئے مسخر کر دینا اور ہم کو اس طرح اس کے استعمال کی قدرت دینا بھی اللہ ہی کا کرم ہے، ہمارا کوئی کمال نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ فرماتے ہیں: “وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ” (یعنی جس طرح آج ہم یہ سفر کر رہے ہیں اسی طرح ایک دن اس دنیا سے سفر کر کے ہم اپنے خدا کی طرف جائیں گے جو اصل مقصود و مطلوب ہے، وہی سفر حقیقی سفر ہو گا اور اس کی فکر اور تیاری سے بندے کو کبھی غافل نہ رہنا چاہئے اس کے بعد سب سے پہلی دعا آپ یہ کرتے کہ: “اے اللہ! اس سفر میں مجھے نیکی اور پرہیزگاری کی اور ان اعمال کی توفیق دے جن سے تو راضی ہو”۔ بلاشبہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے بندوں کے لئے سب سے اہم مسئلہ یہی ہے، اس لئے ان کی اولین دعا یہی ہونی چاہئے۔ اس کے بعد آپ ﷺ سفر میں سہولت کی اور سفر جلدی پورا ہو جانے کی دعا کرتے۔ اس کے بعد آپ اللہ کے حضور میں عرض کرتے: “اللهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ” (یعنی اے اللہ تو ہی سفر مین میرا حقیقی رفیق و ساتھی ہے اور تریر ہی رفاقت و مدد پر میرا اعتماد ہے اور گھر بار اور اہل و عیال جن کو میں چھوڑ کر جا رہا ہوں ان کا نگہبان اور نگران بھی تو ہی ہے اور تیری ہی نگہبانی پر بھروسہ ہے۔ ان مثبت دعاؤں کے بعد آپ ﷺ سفر کی مشقت سے یا دورانِ سجر میں یا واپسی پر کسی تکلیف دہ حدثہ کے سامنے آنے سے پناہ مانگتے جس کا حاصل یہی ہے کہ سفر میں بھی تیری رحمت سے عافیت و سہولت نصیب رہے اور واپس آ کر بھی خیر و عافیت دیکھوں)۔
حدیث کے آخر میں بیان کیا گیا ہے کہ جب واپسی کے لئے آپ ﷺ سفر شروع فرماتے اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے حضور میں آپ ﷺ یہی سب کچھ عرض کتے اور آخر میں یہ کلمات مزید کہتے: “آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ” (یعنی اب ہم واپس ہو رہے ہیں، اپنے قصوروں اور لغزشوں سے توبہ کرتے ہیں، ہم اپنے پروردگار اور مالک ومولا کی عبادت اور حمد و ثناء کرتے ہیں) ذرا غور کیا جائے کہ جب سفر کے لئے سواری پر سوار ہوتے وقت رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کی یہ واردات ہوتی تھیں، جو ان کلمات ے قالب میں زبانِ مبارک پر جاری ہوتی تھیں، تو خلوتوں کے خاص اوقات میں کیا حال ہوتا ہو گا۔
کیسی خوش نصیبی ہے اس امت کی جس کے پاس اس کے نبی کا چھوڑا ہوا ایسا خزانہ محفوظ ہے، اور کیسی قابلِ عبرت بدنصیبی ہے اس اُمت کے جس کے ۹۹ فیصد افراد یا اس سے بھی زیادہ اس سے بےخبر اور اس لئے اس استفادہ سے محروم ہیں۔
سفر پر جانے اور واپس آنے کے وقت کی دعائیں
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ، يُرِيدُ سَفَرًا أَوْ غَيْرَهُ، فَقَالَ حِينَ يَخْرُجُ: بِسْمِ اللهِ، آمَنْتُ بِاللهِ، اعْتَصَمْتُ بِاللهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ، لَا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، إِلَّا رُزِقَ خَيْرَ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ، وَصُرِفَ عَنْهُ شَرُّ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ " (رواه احمد)
حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو مسلمان اپنے گھر سے نکلے خواہ بارادہ سفر ہو یا بغیر ارادہ سفر، گھر سے روانگی کے وقت کہے: “آمَنْتُ بِاللهِ تا لَا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ” (میں اللہ پر ایمان لایا، میں نے اللہ کو مضبوطی سے تھام لیا، میں نے اللہ پر بھروسا کر لیا اور میں یقین کرتا ہوں کہ کوئی سعی و حرکت اور کوئی قوت و طاقت کام نہیں کر سکتی اللہ کے حکم کے بغیر) تو اس مسلمان کو گھر سے اس نکلنے کا خیر ضرور حاصل ہو گا، اور اس کے شر سے وہ محفوظ رکھا جائے گا۔ (مسند احمد)
سفر میں منزل پر اترنے کے وقت کی دعا
عَنْ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ، حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ. (رواه مسلم)
خولہ بنت حکیم ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے: جو شخص اثنائے سفر میں کسی منزل پر اترے اور اس وقت یہ دعا کرے: “أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ” (میں اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ لیتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے) تو جب تک وہ اس منزل سے روانہ ہو ہو جائے گا اس کو کوئی چیز ضرر نہ پہنچا سکے گی۔ (صحیح مسلم)
کسی بستی میں داخل ہونے کے وقت کی دعا
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَأَى الْقَرْيَةَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَهَا قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا جَنَاهَا، وَحَبِّبْنَا إِلَى أَهْلِهَا، وَحَبِّبْ صَالِحِي أَهْلِهَا إِلَيْنَا» (رواه الطبرانى فى الاوسط)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کرتے تھے۔ آپ ﷺ کا معمول تھا کہ جب وہ بستی دکھائی دیتی جس میں آپ ﷺ جانے کا ارادہ رکھتے تو پہلے تین دفعہ کہتے: “اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهَا” (اے اللہ ہمارے لئے اس بستی کو مبارک کر دے) اس کے بعد یہ دعا فرماتے: “اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا جَنَاهَا تا وَحَبِّبْ صَالِحِي أَهْلِهَا إِلَيْنَا” (اے اللہ! اس بستی کی اچھی پیداوار کو ہمارا رزق بنا، اور ہماری محبت اس بستی والوں کے دل میں ڈال دے اور اس میں جو تیرے صالح بندے ہوں ان کی محبت ہمارے دلوں میں پیدا فرما دے)۔ (معجم اوسط للطبرانی)
تشریح
کسی نئی بستی میں جانے والے کے لئے سب سے اہم یہی تین باتیں ہو سکتی ہیں۔ سبحان اللہ! کتنی مختصر، برمحل اور جامع دعا ہے۔
سفر پر جانے والے کو وصیت اور اس کے لئے دعا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَجُلاً قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُسَافِرَ فَأَوْصِنِي، قَالَ: عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ، فَلَمَّا أَنْ وَلَّى الرَّجُلُ، قَالَ: اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ البُعْدَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ: میرا ارادہ سفر کا ہے، حضور ﷺ مجھے کچھ وصیت اورا نصیحت فرمائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پہلی وصیت تو یہ ہے کہ اللہ کا خوف اور اس کی ناراضی سے بچنے کی فکر کو لازم پکڑ لو (اس بارے میں ادنیٰ تساہل اور غفلت نہ ہو) اور دوسری بات یاد رکھو کہ اثناءِ سفر میں جب کسی بلندی پر پہنچنا ہو تو “اللہ اکبر” کہو۔ پھر جب وہ آدمی روانہ ہو گیا تو آپ ﷺ نے دعا دی: “اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ البُعْدَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ” (اے اللہ! اس کے طولِ مسافت کو سمیٹ کر مختصر کر دے، اور سفر کو اس کے واسطے آسان فرما دے)۔ (جامع ترمذی)
سفر پر جانے والے کو وصیت اور اس کے لئے دعا
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُرِيدُ سَفَرًا فَزَوِّدْنِي. قَالَ: زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى، قَالَ: زِدْنِي، قَالَ: وَغَفَرَ ذَنْبَكَ قَالَ: زِدْنِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: وَيَسَّرَ لَكَ الخَيْرَ حَيْثُمَا كُنْتَ. (رواه الترمذى)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: “یا رسول اللہ! میرا ارادہ سفر کا ہے، آپ ﷺ مجھے “زاد سفر” عنایت فرما دیجئے؟ (یعنی ایسی دعائیں کر دیجئے جو سفر میں میرے کام آئیں) آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تقویٰ کو تمہارا زاد سفر بنائے (اور تمہیں پورے سفر میں یہ دولت نصیب رہے) اس شخص نے عرض کیا: حضرت ﷺ! اس میں اور اضافہ فرمائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اور تمہارے گناہوں کی اللہ مغفرت فرمائے۔ اس نے پھر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان , اس میں اور اجافہ فرمائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اور جہاں بھی تم پہنچو، اللہ تعالیٰ خیر اور بھلائی تمہارے لئے میسر فرمائے”۔ (جامع ترمذی)