خاص سونے کے وقت کی دعائیں
عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ لَهُ» (رواه مسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ جب آرام کے لئے بستر پر تشریف لاتے تو اس طرح اللہ کی حمد اور اس کا شکر ادا کرتے “الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تا وَلَا مُؤْوِيَ لَهُ” (اس اللہ کی حمد اور اس کا شکر جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور ہماری پوری ضرورتیں عطا فرمائیں اور آرام کے لئے ہمیں ٹھکانہ دیا، کتنے ہی ایسے بندے ہیں جن کی نہ کوئی ضروریات پوری کرنے والا ہے نہ کوئی انہیں ٹھکانا دینے والا ہے)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ہم جو کھاتے پیتے ہیں ار جو کچھ ہمیں ملتا ہے وہ سب رب کریم کا عطیہ ہے۔ ہمارے کسی ہنر اور کرتب کو اس میں دخل نہیں، اس لیے وہی لائقِ حمد و شکر ہے۔ جس نے سوتے وقت یہ دعا کی اس نے کھانے پینے اور ان سب نعمتوں کا جن سے اس نے فائد اٹھایا شکر ادا کر دیا۔
خاص سونے کے وقت کی دعائیں
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ، وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ خَدِّهِ، ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا» وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: «الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ» (رواه البخارى ورواه مسلم عن البراء بن عازب)
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو آرام فرمانے کے لئے بستر پر لیٹتے تو اپنا ہاتھ رخسار مبارک کے نیچے رکھ لیتے (یعنی داہنا ہاتھ داہنے رخسار کے نیچے رکھ کر داہنی کروٹ پر قبلہ رو لیٹ جاتے، جیسا کہ دوسری احادیث میں تفصیل ہے) اور پھر اللہ کے حضور میں عرض کرتے “اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا” (اے اللہ! تیرے ہی نام پہ مجھے مرنا اور تیرے ہی نام پر مجھے جینا ہے) اور جب سو کر اٹھتے تو اللہ کا شکر اس طرح ادا کرتے۔ “الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ” (حمد و شکر اس اللہ کے لئے جس نے موت طاری کرنے کے بعد ہم کو جلایا اور بالآخر ہمیں اسی کے پاس جانا ہے)۔ (صحیح بخاری)
تشریح
چونکہ نیند میں بہت کچھ مشابہت موت کی ہے اس لئے اس دعا میں نیند کو مرنے اور بیدار ہونے کو زندہ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور اس طرح روزمرہ کے سونے جاگنے کو حیات بعد الموت کی یاد دہانی اور اس کی تیاری کی فکر کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ سونے اور جاگنے کے وقت کی دعاؤں میں سے یہ دعا بہت مختصر ہے اور اس کا یاد کرنا بہت آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو توفیق عطا فرمائے۔
خاص سونے کے وقت کی دعائیں
عَنِ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ لِىْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ، فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاَةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ، فَأَنْتَ عَلَى الفِطْرَةِ، وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَتَكَلَّمُ بِهِ ". قَالَ: فَرَدَّدْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَلَغْتُ: اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، قُلْتُ: وَرَسُولِكَ، قَالَ: «لاَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: “جب تم بستر پر سونے کا ارادہ کرو تو پہلے وضو کرو (جس طرح نماز کے لئے وضو کرتے ہو) پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹ جاؤ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرو: “اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَتا وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ” (اے اللہ! میں نے اپنی ہستی کو بالکل تیرے سپرد کر دیا اور اپنے سب امور تیرے حوالہ کر دئیے اور تجھ ہی کو اپنا پشت بناہ بنا دیا، یا تیرے جلال سے ڈرتے ہوئے اور تیرے رحم و کرم کی طلب و امید کرتے ہوئے میرے مولا تیرے سوا کوئی جائے پناہ اور بچاؤ کی جگہ نہیں، میں ایمان لایا تیری مقدس کتاب پر جو توے نازل فرمائی اور تیرے نبیﷺ پاک پر جن کو تو نے پیغمبر بنا کر بھیجا) آپ نے یہ دعا تلقین فرمانے کے بعد براء بن عازب سے ارشاد فرمایا کہ “رات کو سونے سے پہلے یہ دعا تمہارا آخری بول ہو، یعنی اس دعا کے بعد کوئی بات نہ کرو اور بس سو جاؤ، اگر اللہ کے حکم سے اسی حال میں تم کو موت آ گئی تو تمہاری موت بڑی مبارک اور دین فطرت پر ہو گی۔ براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ میں حضور کے سامنے ہی اس دعا کو یاد کرنے لگا تو میں نے آخری جملہ میں “نَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ” کی جگہ “بِرَسُوْلِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ” کہا (جو بالکل اس کے ہم معنی تھا، صرف ایک لفظ کا فرق تھا) تو آپ ﷺ نے فرمایا: “نَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ” کہو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس دعا میں اللہ پر اعتماد اور تسلیم و تفویض کی روح بھری ہوئی ہے، اور ساتھ ہی ایمان کی تجدید بھی ہے۔ اس مضمون کے لئے دنیا کا بڑے سے بڑا ادیب بھی اس سے بہتر الفاظ تلاش نہیں کر سکتا۔ بلاشبہ یہ دعا بھی رسول اللہ ﷺ کی معجزانہ دعاؤں میں سے ہے۔
خاص سونے کے وقت کی دعائیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا، إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَنَامَ، أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ يَقُولُ: «اللهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو ہدایت فرماتے تھے کہ جب ہم میں کوئی سونے کا ارادہ کرے تو اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے اور اللہ سے یوں دعا کرے: “اللهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ تا وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ” (اے میرے اللہ! آسمان و زمین کے مالک اور عرش عظیم کے مالک، ہمارے اور ہر چیز کے مالک، دانے اور گھٹلی کو اپنی قدرت سے پھاڑ کر اس سے پودا نکالنے ولے، تورات و انجیل اور قرآن کے نازل فرمانے والے! میں تیری پناہ مانگتا ہوں زمین میں چلنے یا رینگنے والی تیری ہر مخلوق سے شر سے جس پر تیرا مکمل قابو ہے۔ اے اللہ! تو ہی اول (سب سے پہلا) ہے، کوئی چیز تجھ سے پہلی نہیں، تو ہی آخر (سب کے بعد باقی رہنے والا) ہے، کوئی چیز نہیں جو تیرے بعد ہو (اے مالک کل اور قادرِ مطلق اور اول و آخر) مجھ پر جو قرض ہے اسے ادا کرا دے، اور فقر و محتاجی دور فرما کر مجھے غنی اور خوشحال کر دے)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں بھی سونے کے لئے داہنی کروٹ پر لیٹنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے اور خود حضور ﷺ کا بھی یہی معمول تھا۔ اس کروٹ پر لیٹنے کی صورت میں قلب جو بائیں پہلو میں ہے اوپر معلق رہتا ہے، اور اللہ والوں کا تجربہ ہے کہ لیٹتے وقت ذکر و دعا اور توجہ الی اللہ کے لئے یہی شکل زیادہ مناسب ہوتی ہے۔ یہ دعا اُن بندگانِ خدا کے زیادہ حسب حال ہے جو مقروض اور معاشی پریشانیوں میں مبتلا ہوں۔ بندہ یہ دعا کر کے سوئے اور رب کریم سے امید رکھے کہ وہ رزق میں کشائش کی کوئی صورت پیدا فرمائے گا۔
خاص سونے کے وقت کی دعائیں
عَنْ حَفْصَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ، عِبَادَكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ. (رواه ابوداؤد)
حضرت حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ جب آپ ﷺ سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ رخسار مبارک کے نیچے رکھ کر لیٹ جاتے اور تین دفعہ یہ دعا کرتے: “اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ، عِبَادَكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ” (اے میرے اللہ! مجھے اپنے عذاب سے بچا قیامت کے دن جب کہ سارے بندے دوبارہ زندہ کئے جائیں گے)۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
خاص سوتے وقت اس دعا کی ایک کھلی وجہ تو یہی ہے کہ سونے کو موت سے جو ایک خاص مشابہت ہے اس کی وجہ سے آپ ﷺ سونے کے لئے بستر پر لیٹتے وقت موت اور قیامت اور وہاں کے حساب اور ثواب و عذاب کو یاد کرتے تھے، اور جس بندے کو اللہ کی معرفت حاصل ہو گئی اس کو جب موت و قیامت یاد آئے گی تو قدرتی طور پر اس کی سب سے اہم فکر اور دل کی پکار یہی ہو گی کہ وہاں عذاب سے نجات نصیب ہو۔
خاص سونے کے وقت کی دعائیں
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الحَيَّ القَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، غَفَرَ اللَّهُ ذُنُوبَهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ البَحْرِ، وَإِنْ كَانَتْ عَدَدَ وَرَقِ الشَّجَرِ، وَإِنْ كَانَتْ عَدَدَ رَمْلِ عَالِجٍ، وَإِنْ كَانَتْ عَدَدَ أَيَّامِ الدُّنْيَا. (رواه الترمذى)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص سونے کے لئے بستر پر لیٹتے وقت اللہ کے حضور میں اس طرح توبہ و استغفار کرے، اور تین دفعہ عرض کرے: “أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الحَيَّ القَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ” (میں مغفرت و بخشش چاہتا ہوں اس اللہ سے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور وہ حی و قیوم ہے ہمیشہ رہنے والا اور سب کا کارساز ہے، اور اس کے حضور میں توبہ کرتا ہوں) تو اس کے سب گناہ بخش دئیے جائیں گے، اگرچہ وہ درختوں کے پتوں اور مشہور ریگستان عالج کے ذروں اور دنیا کے دِنوں کی طرح بےشمار ہوں۔” (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث میں سوتے وقت مذکورہ بالا الفاظ کے ساتھ توبہ و استغفار کرنے پر سارے گناہ بخش دئیے جانے کا مژدہ جانفرا سنایا گیا ہے۔ کتنی بڑی محرومی ہو گی اگر حضور ﷺ کی اس ہدایت پر عمل کا اہتمام نہ کیا جائے۔ ہاں یہ استغفار و توبہ سچے دل سے ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ دلوں کا حال دیکھنے والا ہے، اس کو زبان سے دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔
خاص سونے کے وقت کی دعائیں
عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَن لِاَبِىْ: «اقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثُمَّ نَمْ، عَلَى خَاتِمَتِهَا، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ» (رواه ابوداؤد والترمذى)
فروہ بنت نوفل سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے والد نوفل سے فرمایا کہ: جب تم سونے کا ارادہ کرو تو سورہ “قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ” پڑھ لیا کرو، اس کے بعد سو جایا کرو، اس سورت کے مضمون میں شرک سے پوری براءت ہے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)
تشریح
ترمذی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ نوفل نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ مجھے کوئی چیز بتا دیجئے جو میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں، اس کے جواب میں آپ ﷺ نے ان کو یہ بتلایا کہ: “قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ” پڑھ لیا کرو۔
خاص سونے کے وقت کی دعائیں
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، وَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ: يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " (رواه ابوداؤد والترمذى)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا دوامی معمول تھا کہ جب رات کو سونے کے لئے لیٹتے تو “قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ” و “قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ” اور “قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ” یہ تینوں سورتیں پڑھ کے دونوں پڑھ کر ہاتھوں پر دم کرتے، اور جہاں تک آپ ﷺ کے ہارتھ پہنچ سکتے ان کو جسم مبارک پر پھیرتے، پہلے سر اور چہرے پر اور جسم کے سامنے کے حصے پر پھیرتے، تین دفعہ یہ عمل کرتے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث کی ایک روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ آخری مرض میں جب رسول اللہ ﷺ کو تکلیف زیادہ ہو گئی تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسی طرح تینوں سورتیں پڑھ کے اور اپنے ہاتھوں پر دم کر کے آپ ﷺ کے جسمِ مبارک پر پھیروں، اور میں ایسا ہی کرتی تھی۔
فائدہ ..... ممکن ہے بعض لوگوں کے لئے سونے کے وقت کی بعض دوسری ماثورہ دعائیں یاد کرنا مشکل ہوں، وہ کم از کم “قُلْ يَآيُّهَا الْكَافِرُوْنَ، قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ” تو پڑھ ہی سکتے ہیں، ان کے لئے یہی سب کچھ ہے۔ کم از کم یہ معمول تو مقرر ہی کر لینا چاہئے، جو اتنا بھی اہتما نہ کر سکے اس کی محرومی قابلِ عبرت ہے۔
نیند نہ آنے کی شکایت کی دعا
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: شَكَا خَالِدُ بْنُ الوَلِيدِ الْمَخْزُومِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَا يَنَامُ اللَّيْلَ مِنَ الأَرَقِ، فَقَالَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَقُلْ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ كُلِّهِمْ جَمِيعًا أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَنْ يَبْغِيَ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ، وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ. (رواه الترمذى)
حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ خالد بن ولیدؓ نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ مجھے رات کو نیند نہیں آتی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب تم بستر پر لیٹو تو اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر لیا کرو، “اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ تا لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ” (اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے اور ان سب چیزوں کے مالک جو اس کے نیچے واقع ہیں، اور شیاطین اور ان کی گمراہ کن سرگرمیوں کے مالک، اپنی ساری مخلوق کے شر سے مجھے اپنی پناہ اور حفاظت میں لے لے، کوئی مجھ پر زیادتی اور ظلم نہ کر پائے۔ باعزت اور محفوظ ہے وہ جس کو تیری پناہ حاصل ہے۔ تیری حمد و ثنا کا مقام بلند ہے، تیرے سوا کوئی لائق پرستش نہیں، بس تو ہی معبود برحق ہے۔ (جامع ترمذی)
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَزِعَ أَحَدُكُمْ فِي النَّوْمِ فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعَذَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ. فَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، يُلَقِّنُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ، وَمَنْ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهُمْ كَتَبَهَا فِي صَكٍّ ثُمَّ عَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ. (رواه ابوداؤد والترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی (ڈراؤنا خواب دیکھ کے) سوتے میں ڈر جائے تو یوں دعا کرے: “أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ تا وَأَنْ يَحْضُرُونِ” (میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے کلمات تامات کے ذریعہ خود اس کے غضب اور عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانی وساوس و اثرات سے اور اس بت سے کہ شیاطین میرے پاس آئیں اور مجھے ستائیں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “پھر شیاطین اس بندے کو کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔” (حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے یہ حدیث ان کے صاحبزادے شعیب نے روایت کی ہے) ان کا بیان ہے کہ ہمارے والد ماجد عبداللہ بن عمروؓ کا یہ دستور تھا کہ ان کی اولاد میں جو بڑے اور بالغ ہو جاتے وہ یہ دعا ان کو تلقین فرماتے تا کہ وہ اس کو اپنا معمول بنا لیں۔اور جو بچے چھوٹے ہوتے تو یہی دعا ایک کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں (بطور تعویذ کے) ڈال دیتے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ڈراؤنے اور پریشان کن خواب شیطانی اثرات سے ہوتے ہیں، اور اگر اس دعا کو معمول بنا لیا جائے تو ان شاء اللہ ان اثرات سے حفاظت ہو گی۔ صحابی رسول ﷺ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کے اس عمل سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا نام یا اس کا کلام یا کوئی دعا کاغذ پر لکھ کر بطور تعویذ گلے وغیرہ میں ڈال دینا کوئی غلط کام نہیں ہے۔
سو کر اٹھنے کے وقت کی دعا
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ، اللَّهُمَّ أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْبِي، وَأَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ، اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا، وَلَا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنِي، وَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً، إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ» (رواه ابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو نیند سے بیدار ہوتے تو اللہ کے حضور میں عرض کرتے: “لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تا إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ” (اے اللہ! تو ہی معبود برحق ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، ہر حمد و ثناء کا تو ہی سزاوار ہے، میں اپنے گناہوں کی تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور تیری رحمت کا سائل ہوں، اے میرے اللہ! میرے علم و معرفت میں اضافہ فرما اور میرے دل کی حفاظت فرما کہ تیری طرف سے ہدایت ملنے کے بعد وہ کج روی اختیار نہ کرے، اور اپنے کرم سے مجھے اپنی رحمت سے نواز تو بڑا بخشش والا اور بہت عطا فرمانے والا ہے۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
یہ دعا مختصر ہونے کے باوجود کتنی جامع ہے اور اس کے ایک ایک جز میں عبدیت کی کیسی روح بھری ہوئی ہے، اس کا کچھ اندازہ ہر وہ شخص کر سکتا ہے جو بندہ کے اور اللہ کے تعلق کو کچھ جانتا سمجھتا ہو۔ بلاشبہ جب بندہ نیند سے بیدار ہو کر اخلاص اور حضور قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہ عرض کرے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت و عنایت اور اس کے بڑے پیار کا مستحق ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنی اس عنایت و رحمت کی سچی طلب اور اس کے حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سو کر اٹھنے کے وقت کی دعا
عَنْ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، الحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، أَوْ دَعَا ، اسْتُجِيبَ لَهُ ، فَإِنْ تَوَضَّأَ قُبِلَتْ صَلاَتُهُ" (رواه البخارى)
حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب رات کو سو کر کسی کی آنکھ کھلے اور وہ اس وقت کہے: “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، الحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ” اس کے بعد کہے۔ “اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي” (اے اللہ! میری مغفرت فرما اور مجھے بخش دے) یا کوئی اور دعا کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی یہ دعا و التجا قبول فرمائی جائے گی۔ اس کے بعد اگر (وہ ہمت کر کے اٹھ اجائے اور) وضو کر کے نماز پڑھے تو اس کی یہ نماز بھی ضرور قبول ہو گی۔ (صحیح بخاری)
تشریح
حدیث کا مندرجہ بالا متن صحیح بخاری سے نقل کیا گیا ہے۔ اس میں کلمہ “الحمدللہ، سبحان اللہ” سے پہلے ہے۔ لیکن امام بخاریؒ کے علاوہ امام ابو داؤد اور امام ترمذی وغیرہ جن ائمہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ان سب کی روایات میں “سبحان اللہ” پہلے اور “الحمدللہ” بعد میں ہے، جیسا کہ کلمہ تمجید میں ہے۔ اسی لئے حافظ ابن حجرؒ وغیرہ شارحین بخاری نے کہا ہے کہ بخاری کی روایت میں “الحمدللہ” کا مقدم ہو جانا کسی راوی کا تصرف ہے۔ بہرحال ان شارحین کے نزدیک بھی ان کلمات کی صحیح ترتیب وہی ہے جو سنن ابی داؤد اور ترمذی کی روایت میں ہے۔ اسی بنا پر ترجمہ میں اسی ترتیب کے مطابق لکھ دیا گیا ہے۔
اس حدیث میں بشارت سنائی گئی ہے کہ جو بندہ رات کو آنکھ کھلنے پر اللہ تعالیٰ کی توحید تمجید اور تسبیح و تحمید اور اس کی مدد کے بغیر اپنی عاجزی و بےبسی کے اعتراف کے یہ کلمے پڑھے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے اپنی مغفرت و بخشش کی دعا مانگے، یا کوئی اور دعا کرے تو وہ ضرور قبول فرمائی جائے اسی طرح اس وقت وضو کر کے جو نماز پڑھی جائے گی وہ بھی قبول ہو گی۔ بعض اکابر کا یہ ارشاد ہے کہ جس بندے کو یہ حدیث پہنچے وہ رسول اللہ ﷺ کا خاص الخاص عطیہ سمجھے اور آپ ﷺ کی اس بشارت پر یقین کرتے ہوئے اس کے مطابق عمل کر کے استغفار و دعا کی قبولیت کی یہ دولت حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے۔ بلاشبہ حضور ﷺ کے ایسے عطیات کی ناقدری بڑی محرومی ہے۔ امام بخاریؒ سے صحیح بخاری کو روایت کرنے والے امام ابو عبداللہ فربریؒ فرماتے ہیں کہ: “ایک دن رات کو سوتے سے میری آنکھ کھلی اور میں نے اللہ کی توفیق سے یہ کلمے اپنی زبان سے ادا کئے۔ اس کے بعد میری آنکھ لگ گئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی میرے پاس آیا اور اس نے یہ آیت تلاوت کی: “وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَهُدُوا إِلَىٰ صِرَاطِ الْحَمِيدِ ” (1) (اور ان کو توفیق و ہدایت ملی بہت اچھی بات کی اور وہ لگا دئیے گئے اللہ کے راستے پر)۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ " (رواه ابوداؤد وابن ماجة)
حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ قضائے حاجت کے مقامات (شیاطین اور موذی چیزوں کے) اڈے ہیں، لہذا جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لئے ان میں جانا چاہے تو اللہ کے حضو ر میں پہلے عرض کرے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ” (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں خبیثوں سے اور خبیثنیوں سے)۔ (سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
سونے اور کھانے پینے کی طرح بول و براز بھی انسانی زندگی کے لوازم میں سے ہے، اور بلاشبہ وہ خاص وقت (جب کہ آدمی اس گندگی کے اخراج میں مشغول ہو) ایسا ہوتا ہے کہ اس وقت اللہ کا نام لینا اور اس سے دعا کرنا بےادبی کی بات ہو گی۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ جب کوئی بندہ قضائے حاجت کو جائے تو مشغول ہونے سے پہلے اللہ سے یہ دعا کرے، اور فارغ ہونے کے بعد اس کے حضور میں یہ عرض کرے:
تشریح ..... جس طرح مکھیاں اور دوسرے غلاظت پسند کیڑے مکوڑے غلاظت پر گرتے ہیں اسی طرح خبیث شیاطین اور بعض دوسری موذی مخلوقات غلاظت کے مقامات سے خاص دلچسپی اور مناسبت رکھتے ہیں۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان مقامات میں جانے کے وقت کے لئے یہ دعا فرمائی اور (صحیح بخاری و صحیح مسلم میں آپ ﷺ کے خادم خاص حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ خود رسول اللہ ﷺرسول اللہ ﷺکا معمول تھا کہ بیت الخلاء جانے کے وقت دعا کرتے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ”
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّي الْأَذَى وَعَافَانِي» (رواه ابن ماجه)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حاجت سے فارغ ہو کر بیت الخلاء سے باہر آتے تو کہتے: “الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّي الْأَذَى وَعَافَانِي” (حمد و شکر اس اللہ کے لئے جس نے میرے اندر سے گندگی اور تکلیف والی چیز دور فرما دی اور مجھے عافیت و راحت دی)۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
پیشاب یا پاخانہ خدانخواستہ رک جائے اور فطری طریقے سے خارج نہ ہو تو اللہ کی پناہ! کیسی تکلیف ہوتی ہے اور اس کے خارج کرنے کے لئے اسپتالوں میں کیا کیا تدبیریں کی جاتی ہیں اگر بندہ اس کا دھیان کرے تو محسوس ہو کرے گا کہ فطری طریقے سے پیشاب یا پاخانہ کا خارج ہونا اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت اور کتنا عظیم احسان ہے۔ رسول اللہ ﷺ اسی احساس اور دھیان کے تحت اس موقع پر اس کلمہ کے ذریعہ اللہ کی حمد اور اس کا شکر ادا کرتے تھے: “الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّي الْأَذَى وَعَافَانِي” سبحان اللہ! کیسی برمحل اور کتنی عارفانہ دعا ہے۔
گھر سے نکلنے اور گھر میں آنے کے وقت کی دعا
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْتِهِ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، قَالَ: يُقَالُ حِينَئِذٍ: هُدِيتَ، وَكُفِيتَ، وَوُقِيتَ، فَتَتَنَحَّى لَهُ الشَّيَاطِينُ. (رواه ابوداؤد والترمذى واللفظ له)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے گھر سے نکلے اور نکلتے وقت کہے: “بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ” (میں اللہ کا نام لے کر نکل رہا ہوں، اللہ ہی پر میرا بھروسا ہے، کسی خیر کے حاصل کرنے یا کسی شر سے بچنے میں کامیابی اللہ ہی کے حکم سے ہو سکتی ہے) تو عالمِ غیب میں اس آدمی سے کہا جاتا ہے (یعنی فرشتے کہتے ہیں): “اللہ کے بندے تیرا یہ عرض کرنا تیرے لئے کافی ہے، تجھے پوری رہنمائی مل گئی اور تیری حفاظت کا فیصلہ ہو گیا ” اور شیطان مایوس و نامراد ہو کر اس سے دور ہو جاتا ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
آدمی کے لئے صبح و شام کے آنے جانے اور سونے جاگنے کی طرح گھر سے باہر نکلنا اور باہر سے گھر میں آنا بھی زندگی کے لوازم میں سے ہے اور بندہ قدم قدم پر اللہ کے رحم و کرم اور اس کی حفاظت و نگہبانی کا محتاج ہے، اس لئے جب گھر سے باہر قدم نکالے یا باہر سے گھر مین آئے تو برکت و استعانت کے لئے خدئے پاک کا نام لے اور اس سے دعا کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس موقع کے لئے ذکر و دعا کے جو کلمے تعلیم فرمائے وہ مندرجہ ذیل حدیثوں میں پڑھئے:
تشریح ..... اس مختصر حدیث کا پیغام اور روح یہ ہے کہ جب بندہ گھر سے باہر قدم نکالے تو اپنی ذات کو بالکل عاجز ناتواں اور خدا کی حفاظت و مدد کا محتاج سمجھتے ہوئے اپنے کو اس کی پناہ میں دے دے۔ اللہ تعالیٰ اس کو اپنی پناہ اور حفاظت میں لے لے گا اور شیطان اسے کوئی گزند نہ پہنچا سکے گا۔
گھر سے نکلنے اور گھر میں آنے کے وقت کی دعا
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ، قَالَ: " بِسْمِ اللهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نَضِلَّ، أَوْ نَظْلِمَ (2) أَوْ نُظْلَمَ، أَوْ نَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا " (رواه احمد والترمذى والنسائى)
حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ جب گھر سے نکلتے تو کہتے: “بِسْمِ اللهِ، تَوَكَّلْتُ تا أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا” (میں اللہ کا نام لے کر نکل رہا ہوں، اللہ ہی پر میرا بھروسا ہے۔اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے اس سے کہ ہمارے قدم بہکیں اور ہم غلط راہ پر چلیں (یا ہم دوسروں کی گمراہی اور غلط روی کا ذریعہ بنیں) یا ہم کسی پر ظلم و زیادتی کریں، یا ہمارے ساتھ ظلم و زیادتی کی جائے یا ہم کسی کے ساتھ جہالت سے پیش آئیں یا کوئی ہمارے ساتھ جہالت سے پیش آئے)۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)
تشریح
آدمی جب کسی کام سے گھر سے نکلتا ہے تو مختلف حالات اور مختلف لوگوں سے اس کا سابقہ پڑتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مدد و توفیق اس کے شامل حال نہ ہو اور اس کی دستگیری اور حفاظت نہ کی جائے تو ہو سکتا ہے کہ وہ ظلوم و جہول بہک جائے اور کسی ناکردنی میں مبتلا ہو جائے، یا کسی دوسرے بندے کی گمراہی اور بےراہ روی کا سبب بن جائے، یا کسی سے کوئی جھگڑا ہو جائے اور اس میں وہ کوئی ظالمانہ یا جاہلانہ حرکت کر بیٹھے، یا خود کسی کے ظلم و ستم اور جہل و نادانی کا نشانہ بن جائے۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلتے وقت اللہ کا نام پاک لینے اور اس پر اپنا ایمان اور اعتماد و توکل تازہ کرنے کے علاوہ ان سب خطرات سے بھی اس کی پناہ مانگتے تھے اور اپنے عمل سے گویا اس کی شہادت دیتے تھے کہ آپ بھی قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی مدد و توفیق اور حفاظت و دستگیری کے حاجت مند ہیں۔ حضرت انس ؓ کی اس سے پہلے حدیث میں مختصر کلمہ “لَا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ” بھی ان سب خطرات سے پناہ جائی کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے، اس لئے اس مقصد کے لئے وہ بھی کافی ہے۔
گھر سے نکلنے اور گھر میں آنے کے وقت کی دعا
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلَجَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلَجِ، وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ، بِسْمِ اللَّهِ وَلَجْنَا، وَبِسْمِ اللَّهِ خَرَجْنَا، وَعَلَى اللَّهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ عَلَى أَهْلِهِ " (رواه ابوداؤد)
حضرت ابو مالک اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہو تو اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہ عرض کرتا ہوا داخل ہو “اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تا تَوَكَّلْنَا” (اے خدا میں تجھ سے مانگتا ہوں گھر میں داخل ہونے اور گھر سے نکلنے کا خیر(یعنی میرا گھر میں داخل ہونا اور باہر نکلنا میرے واسطے خیر اور بھلائی کا وسیلہ بنے) ہم اللہ کا نام پاک لے کر داخل ہوتے ہیں اور اسی طرح اس کا نام پاک لے کر باہر نکلتے ہیں، اور اسی پر ہمارا بھروسا ہے، وہی کارساز ہے) اللہ کے حضور میں یہ عرض کرنے کے بعد داخل ہونے والا آدمی گھر والوں کو سلام کرے اور کہے: “السلام عليكم” (سنن ابی داؤد)
تشریح
اس تعلیم ہدایت کی روح یہی ہے کہ گھر میں آنے اور گھر سے نکلنے کے وقت بھی بندے کے دل کی نگاہ اللہ تعالیٰ پر ہو، زبان پر اس کا بابرکت نام ہو، اور یہ یقین کرتے ہوئے کہ ہر خیر و برکت اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اس سے دعا اور سوال ہو اور اسی کی کریمی و کارسازی کا بھروسا اور اعتماد ہو۔ پھر گھر کے بڑوں اور چھوٹوں پر سلام ہو، جو درحقیقت ان کے لئے اللہ تعالیٰ ہی سے خیر اور سلامتی کی دعا ہے۔
مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کے وقت کی دعا
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيَقُلْ: اللهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ، فَلْيَقُلْ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ ". (رواه مسلم)
حضرت ابو اسید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرے: “اللهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ” (اے اللہ! میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب مسجد سے باہر آنے لگے تو عرض کرے: “اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ” (اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مسجد گویا خانہ خدا اور دربارِ الٰہی ہے۔ آنے والے وہاں اس لئے آتے ہیں کہ عبادت کے ذریعہ ان کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور رحمت حاصل ہو۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ کوئی بندہ غفلت کے ساتھ نہ مسجد میں جائے اور نہ مسجد سے نکلے، بلکہ جانے کے وقت بھی اور آنے کے وقت بھی اس کے دل و زبان پر مناسب دعا ہو۔ اللہ کے دربار کی حاضری کا یہ لازمی ادب ہے۔
قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ “رحمت” کا لفظ خاص طور سے روحانی اور اُخروی نعمتوں کے لئے بولا جاتا ہے، جیسے کہ نبوت، ولایت، مقامِ قرب و رضا اور نعماء جنت وغیرہ۔ چنانچہ سورہ زخرف میں فرمایا گیا ہے: “وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ ” (1) اور “فضل” کا لفظ خصوصیت کے ساتھ دنیوی نعمتوں کے لئے بولا جاتا ہے، جیسے رزق کی وسعت اور خوشحالی کی زندگی وغیرہ۔ چنانچہ سورہ جمعہ میں فرمایا گیا ہے: “فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّـهِ ” (2) پس مسجد چونکہ ان اعمال کی مخصوص جگہ ہے جن کے صلہ میں روحانی اور اُخروی نعمتیں ملتی ہیں اس لئے مسجد میں داخل کے وقت کے لئے فتح ابواب رحمت کی اور مسجد سے نکلنے کے وقت کے لئے اللہ سے اس کا فضل مانگنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔
کسی مجلس سے اُٹھنے کے وقت کی دعا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي الله عَنهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا كَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَالِكَ "سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ" إِلَّا غَفَرَ اللهُ لَهُ مَا كَانَ فِىْ مَجْلِسِهِ ذَالِكَ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص کسی مجلس میں بیٹھا جس میں اس سے بہت سی قابلِ مواخذہ فضول و لایعنی باتیں سرزد ہوئیں، مگر اس نے اس مجلس سے اٹھتے وقت کہا:
“سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ” (اے اللہ! میں تیری حمد کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتا ہوں، گواہی دیتا ہوں کہ صرف تو ہی معبود برحق ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں اپنے گناہوں کی تجھ سے بخشش چاہتا ہوں، اور تیرے حضور میں توبہ کرتا ہوں) تو اللہ تعالیٰ اس کی ان سب لغزشوں کو معاف کر دے گا جو اس مجلس میں اس سے سرزد ہوئیں۔ (جامع ترمذی)
تشریح
جب آدمی کسی مجلس میں بیٹھتا ہے تو بسا اوقات اس میں ایسی باتیں کہتا یا سنتا ہے جو ایک مومن کے لئے مناسب نہیں ہوتیں، اور ان پر مواخذہ ہو سکتا ہے۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ جب مجلس سے اٹھو تو اللہ کی حمد و تسبیح، شہادتِ توحید اور توبہ و استغفار کا کلمہ پڑھو، یہ مجلس کی بےاحتیاطیوں کا کفارہ ہو جائے گا۔
کسی مجلس سے اُٹھنے کے وقت کی دعا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَلِمَاتٌ لَا يَتَكَلَّمُ بِهِنَّ أَحَدٌ فِي مَجْلِسِهِ عِنْدَ قِيَامِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا كُفِّرَ بِهِنَّ عَنْهُ، وَلَا يَقُولُهُنَّ فِي مَجْلِسِ خَيْرٍ وَمَجْلِسِ ذِكْرٍ إِلَّا خُتِمَ لَهُ بِهِنَّ عَلَيْهِ كَمَا يُخْتَمُ بِالْخَاتَمِ عَلَى الصَّحِيفَةِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " (رواه ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چند مختصر سے کلمے ہیں اگر کوئی بندہ کسی مجلس سے اٹھتے وقت اخلاص سے کہہ لے تو وہ اس مجلس کی ساری لغزشوں کا کفارہ ہو جائیں گے، اور اگر یہی کلمے کسی مجلس خیر یا مجلس ذکر کے خاتمے پر کہے جائیں تو اس مجلس کی روئداد کے نوشتہ پر ان کلموں کی مہر لگا دی جائے گی، جس طرح اہم کاغذات اور دستاویزوں پر مہر لگا دی جاتی ہے، وہ کلمے یہ ہیں: “سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ” (سنن ابی داؤد)
تشریح
یہ بڑا ہی مختصر اور جامع کلمہ ہے۔ س میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و حمد بھی ہے، اس کی توحید کی شہادت بھی ہے، اور اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار بھی ہے۔ اللہ کے بعض مقبول بندوں کو دیکھا کہ ہر تھوڑی دیر کے بعد اور خاص کر ہر سلسلہ کلام کے ختم پر دل کی ایسی گہرائی سے جو اس وقت ان کے چہرے پر اور ان کی آواز میں بھی محسوس کی جاتی تھی یہی کلمے کہتے تھے جس سے سننے والوں کے دل بھی متاثر ہوتے تھے۔
بلا شبہ یہ کلمہ اپنی معنویت اور خاص ترتیب کے لحاظ سے ایسا ہی ہے کہ جب اخلاص کے ساتھ بندہ اللہ کے حضور میں یہ عرض کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت اس کی طرف ضرور بالضرور متوجہ ہو گی۔ یہ کلمہ بھی رسول اللہ ﷺ کے عطا فرمائے ہوئے خاص تحفوں میں سے ہے، اللہ تعالیٰ اس کی قدر اور استفادہ کی توفیق دے۔