عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا بَعْدَ التَّشَهُّدَ: « أَلِّفْ اللَّهُمَّ عَلَى الْخَيْرِ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُلُوبِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ، مُثْنِينَ بِهَا، قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» (رواه ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو تشہد کے بعد یہ دعا سکھایا کرتے تھے: “أَلِّفْ اللَّهُمَّ عَلَى الْخَيْرِ بَيْنَ قُلُوبِنَا الخ” (اے اللہ! خیر اور بھلائی پر ہمارے دلوں کو جوڑ دے اور ہمارے باہمی تعلقات کو درست کر دے اور ہمیں سلامتی کی راہوں پر چلا اور ہمیں اندھیروں سے نکال کے روشنی کی فضا میں لا اور ظاہر و باطن کی ساری گندگیوں سے ہمیں بچا اور دور رکھ۔ اور ہمارے کانوں، ہماری آنکھوں اور ہماری بیویوں اور ہماری نسل میں برکت دے اور ہم پر عنایت فرما، تو بڑا عنایت فرما اور مہربان ہے، اور ہمیں تو اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا اور شایانِ شان طریقے پر ان کا استقبال کرنے والا بنا اور نعمتوں کا ہم پر اتمام فرمای، یعنی اپنی نعمتیں بھرپور عطا فرما۔ (سنن ابی داؤد)
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، اجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ وَأَهْلِي فِي كُلِّ سَاعَةٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ اسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، اللَّهُمَّ نُورَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ»، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: «رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ» (رواه ابوداؤد)
حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد کرتے تھے: “اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ الخ” (اے میرے اللہ! اے ہمارے پروردگار! اور ہر چیز کے پروردگار! میں گواہی دیتا ہوں کہ صرف تو ہی اکیلا تو مالک اور پروردگار ہے، تیرا کوئی شریک ساجھی نہیں۔ اے میرے اللہ! اے ہمارے پروردگار! اور ہر چیز کے پروردگار! میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ تیرا بندہ اور تیرا رسول ہے۔ اے میرے اللہ! اے میرے پروردگار! اور ہر چیز کے پروردگار! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سارے بندے (بندگی کے رشتے سے) بھائی بھائی ہیں۔ اے میرے اللہ! اے ہمارے پروردگار! اور ہر چیز کے پروردگار! مجھے اور میرے گھر والوں کو ہمیشہ کے لئے دنیا اور آخرت کی ایک ایک ساعت کے لئے اپنا مخلص اور وفادار بندہ بنا لے۔ اے ذو الجلال والاکرام میری التجا سن لے، میری دعا قبول فرما لے، اللہ ہی سب سے بڑا ہے، وہی بزرگ و برتر ہے، اللہ زمین و آسما کا نور ہے (سارا جہان اسی کے نور سے قائم ہے اور منور ہے) اللہ ہی سب سے بڑا ہے وہی بزرگ و برتر ہے، میرا اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا میرا سہارا اور بھروسا ہے۔ اللہ ہی سب سے بڑا ہے، وہی بزرگ و برتر ہے)۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
دعائیں دو قسم کی ہوتی ہیں: ایک وہ جن میں اللہ تعالیٰ سے دنیا یا آخرت کی کوئی چیز طلب کی جائے، یا کسی شر اور بلا سے اس کی پناہ مانگی جائے۔ اور دوسری وہ جن میں بندہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور اس کے جلال و جبروت اور بے نہایت احسانات کو یاد کر کے اس کے حضور میں اپنی بندگی و نیازمندی اور مخلصانہ وفاداری و ممنونیت کا مظاہرہ کرے اور اس طرح اس کی رحمت و عنایت اور اس کا قرب چاہے۔ نماز کے بعد کی حضور ﷺ کی یہ دعا جو حضرت زید بن ارقمؓ کی روایت سے یہاں مذکور ہوئی اسی دوسری قسم کی ہے۔ اس سے پہلے جو دعائیں درج ہو چکی ہیں ان میں سے اکثر میں بھی یہی عنصر غالب ہے۔
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِي الله عَنهُ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ، يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ». (رواه البخارى)
حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ ہم جب رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم یہ چاہا کرتے تھے کہ آپ ﷺ کے داہنی جانت کھڑے ہوں آپ ﷺ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہماری طرف رخ فرماتے تھے تو میں نے سنا آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر رہے تھے: “رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ” (اے پروردگار! مجھے اپنے عذاب سے بچا اس دن جس دن کہ تو بندوں کو اٹھائے اور دوبارہ ان کو زندہ کرے)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حضرت براءؓ کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد داہنی جانب رخ کر کے بیٹھتے تھے۔ اور حضرت سمرہ بن جندبؓ کی ایک روایت سے جس کو امام بخاریؒ نے بھی روایت کیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ سلام کے بعد مقتدیوں کی جانب رخ کر کے بیٹھتے تھے۔ ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ آپ ﷺ مقتدیوں کی طرف رخ کر کے اس طرح بیٹھتے تھے کہ کسی قدر داہنی جانب کو بھی آپ ﷺ کا رخ ہوتا تھا، اس بناء پر یہ دونوں بیان بجائے خود صحی ہیں۔ واللہ اعلم۔
عَنْ أَبِي بَكَرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ، وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ» (رواه الترمذى)
حضرت ابو بکرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد دعا کرتے تھے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ، وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ” (اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں کفر سے، اور فقر و فاقہ سے اور قبر کے عذاب سے)۔ (جامع ترمذی)
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» (رواه ابوداؤد)
حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کا سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا کرتے تھے: “اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ الخ” (اے اللہ! میرے سارے گناہ معاف فرما دے جو میں نے پہلے جئے اور جو بعد میں کئے اور جو چھپا کے کئے اور جو اعلانیہ کئے اور جو بھی میں نے یادتی کی، اور وہ گناہ بھی معاف فرما دے جن کا تجھ کو مجھ سے زیادہ علم ہے، تو آگے بڑھانے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی مالک و معبود نہیں)۔ (سنن ابی داؤد)
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: فِي دُبُرِ الْفَجْرِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا» (رواه ابورزين)
حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز فجر کے بعد (کبھی کبھی) یہ دعا کرتے تھے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا” (اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس علم کا جو نفع مند ہو، اور ایسے اعمال کا جو تیری نگاہ میں قابل قبول ہوں، اور تجھ سے سائل ہوں حلال طیب روزی کا۔) (جامع زرین)
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَرَّ إِلَيْهِ فَقَالَ: " إِذَا انْصَرَفْتَ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَقُلْ: اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ قَبْلَ اَنْ تَكَلَّمَ اَحَدًا، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ ثُمَّ مِتَّ فِي لَيْلَتِكَ كُتِبَ لَكَ جِوَارٌ مِنْهَا، وَإِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَقُلْ ذَلِكَ، فَإِنَّكَ إِنْ مِتَّ فِي يَوْمِكَ كُتِبَ لَكَ جِوَارٌ مِنْهَا " (رواه ابوداؤد)
حضرت مسلم بن الحارث ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو خصوصیت کے ساتھ تلقین فرمائی کہ جب تم مغرب کی نماز ختم کرو تو کسی آدمی سے بات کرنے سے پہلے سات دفعہ یہ دعا کرو: “اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ” (اے اللہ! مجھے دوزخ سے پناہ دے) تم نے مغرب کے بعد اگر یہ دعا کی اور اسی رات میں تم کو موت آ گئی تو دوزخ سے تمہارے بچاؤ کا فیصلہ کر دیا جائے گا، اور اسی طرح جب تم صبح کی نماز پڑھو تو کسی آدمی سے بات کرنے سے پہلے سات دفعہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کرو: “اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ” (اے اللہ! مجھے دوزخ سے پناہ دے) اگر اس دن تمہاری موت مقدر ہو گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم کو دوزخ سے بچانے کا حکم ہو گا۔ (سنن ابی داؤد)
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: أَخَذَ بِيَدِىْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ لَأُحِبُّكَ أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لَا تَدَعَهُنَّ فِي كُلِّ صَلَاةٍ اَنْ تَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ " (رواه ابوداؤد والنسائى)
حضرت معاذ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کے فرمایا: “اے معاذ! مجھے تجھ سے محبت ہے، میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا ضرور کیا کر: “اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ” (اے اللہ! میری مدد فرما اور مجھے توفیق دے اپنے ذکر کی، اپنے شکر کی اور اپنی اچھی عبادت کی) ” (سنن ابی داؤد، سنن نسائی)
تشریح
نہایت مختصر ہونے کے باوجود یہ بڑی عظیم اور اہم دعا ہے۔ اس کی عظمت اور اہمیت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل کو اپنی محبت کا واسطہ دے کر تاکید کے ساتھ اس کی وصیت اور تلقین فرمائی۔ اسی طرح اس سے پہلی حدیث کی دعا “اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ” کی تلقین بھی آپ ﷺ نے مسلم بن الحارثؓ کو خصوصیت اور اہتمام سے فرمائی تھی اور وہ بھی نہایت مختصر ہے۔ اس غیر معمولی اہتمام کے ساتھ حضور ﷺ کی تعلیم و تلقین کے بعد ان دعاؤں کا اہتمام نہ کرنا بڑی ناقدری اور کم نصیبی کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔
ختم تہجد پر آپ ﷺ کی ایک نہایت جامع دعا
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْلَةً حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِكَ تَهْدِي بِهَا قَلْبِي، وَتَجْمَعُ بِهَا أَمْرِي، وَتَلُمُّ بِهَا شَعَثِي، وَتُصْلِحُ بِهَا غَائِبِي، وَتَرْفَعُ بِهَا شَاهِدِي، وَتُزَكِّي بِهَا عَمَلِي، وَتُلْهِمُنِي بِهَا رُشْدِي، وَتَرُدُّ بِهَا أُلْفَتِي، وَتَعْصِمُنِي بِهَا مِنْ كُلِّ سُوءٍ، اللَّهُمَّ أَعْطِنِي إِيمَانًا وَيَقِينًا لَيْسَ بَعْدَهُ كُفْرٌ، وَرَحْمَةً أَنَالُ بِهَا شَرَفَ كَرَامَتِكَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الفَوْزَ فِي الْقَضَاءِ، وَنُزُلَ الشُّهَدَاءِ، وَعَيْشَ السُّعَدَاءِ، وَالنَّصْرَ عَلَى الأَعْدَاءِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُنْزِلُ بِكَ حَاجَتِي، وَإِنْ قَصُرَ رَأْيِي وَضَعُفَ عَمَلِي، افْتَقَرْتُ إِلَى رَحْمَتِكَ، فَأَسْأَلُكَ يَا قَاضِيَ الأُمُورِ، وَيَا شَافِيَ الصُّدُورِ، كَمَا تُجِيرُ بَيْنَ البُحُورِ أَنْ تُجِيرَنِي مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ، وَمِنْ دَعْوَةِ الثُّبُورِ، وَمِنْ فِتْنَةِ القُبُورِ، اللَّهُمَّ مَا قَصُرَ عَنْهُ رَأْيِي، وَلَمْ تَبْلُغْهُ نِيَّتِي، وَلَمْ تَبْلُغْهُ مَسْأَلَتِي مِنْ خَيْرٍ وَعَدْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوْ خَيْرٍ أَنْتَ مُعْطِيهِ أَحَدًا مِنْ عِبَادِكَ، فَإِنِّي أَرْغَبُ إِلَيْكَ فِيهِ، وَأَسْأَلُكَهُ بِرَحْمَتِكَ رَبَّ العَالَمِينَ، اللَّهُمَّ ذَا الحَبْلِ الشَّدِيدِ، وَالأَمْرِ الرَّشِيدِ، أَسْأَلُكَ الأَمْنَ يَوْمَ الوَعِيدِ، وَالجَنَّةَ يَوْمَ الخُلُودِ، مَعَ الْمُقَرَّبِينَ الشُّهُودِ الرُّكَّعِ، السُّجُودِ الْمُوفِينَ بِالعُهُودِ، إِنَّكَ رَحِيمٌ وَدُودٌ، وإِنَّكَ تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا هَادِينَ مُهْتَدِينَ، غَيْرَ ضَالِّينَ وَلاَ مُضِلِّينَ، سِلْمًا لأَوْلِيَائِكَ، وَعَدُوًّا لأَعْدَائِكَ، نُحِبُّ بِحُبِّكَ مَنْ أَحَبَّكَ، وَنُعَادِي بِعَدَاوَتِكَ مَنْ خَالَفَكَ، اللَّهُمَّ هَذَا الدُّعَاءُ وَعَلَيْكَ الإِجَابَةُ، وَهَذَا الجُهْدُ وَعَلَيْكَ التُّكْلاَنُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَلْبِي، وَنُورًا فِي قَبْرِي، وَنُورًا مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَنُورًا مِنْ خَلْفِي، وَنُورًا عَنْ يَمِينِي، وَنُورًا عَنْ شِمَالِي، وَنُورًا مِنْ فَوْقِي، وَنُورًا مِنْ تَحْتِي، وَنُورًا فِي سَمْعِي، وَنُورًا فِي بَصَرِي، وَنُورًا فِي شَعْرِي، وَنُورًا فِي بَشَرِي، وَنُورًا فِي لَحْمِي، وَنُورًا فِي دَمِي، وَنُورًا فِي عِظَامِي، اللَّهُمَّ أَعْظِمْ لِي نُورًا، وَأَعْطِنِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا، سُبْحَانَ الَّذِي تَعَطَّفَ العِزَّ وَقَالَ بِهِ، سُبْحَانَ الَّذِي لَبِسَ الْمَجْدَ وَتَكَرَّمَ بِهِ، سُبْحَانَ الَّذِي لاَ يَنْبَغِي التَّسْبِيحُ إِلاَّ لَهُ، سُبْحَانَ ذِي الفَضْلِ وَالنِّعَمِ، سُبْحَانَ ذِي الْمَجْدِ وَالكَرَمِ، سُبْحَانَ ذِي الجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات نمازِ تہجد سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِكَ تَهْدِي بِهَا قَلْبِي الخ” (اے اللہ!میں تجھ سے دعا اور التجا کرتا ہوں تو محض اپنے فضل و کرم سے مجھ پر ایسی وسیع اور ہمہ گیر رحمت فرما جس سے میرا قلب تیری ہدایت سے بہرہ یاب ہو اور اپنے سارے معاملات میں مجھے تیری اس رحمت سے جمیعت نصیب ہو اور میری ظاہری و باطنی پراگندگی اور ابتری دور ہو اور مجھ سے تعلق رکھنے والی جو چیزیں میرے پاس نہیں دور اور غائب ہیں تیری رحمت سے ان کو صلاح و فلاح حاصل ہو اور جو میرے پاس حاضر و موجود ہیں ان کو تیری رحمت سے رفعت اور قدر افزائی نصیب ہو اور خود میرے اعمال کا تیری اس رحمت سے تزکیہ ہو اور تیری طرف سے میرے قلب میں وہی ڈالا جائے جو میرے لئے صحیح اور مناسب ہو اور جس چیز سے مجھے رغبت اور الفت ہو وہ مجھے تیری اس رحمت سے عطا ہو اور ہر برائی سے تو میری حفاظت فرما۔ اے میرے اللہ! میرے دل کو وہ یقین عطا فرما جس کے بعد کسی درجہ کا بھی کفر نہ ہو (یعنی کوئی بات بھی مجھ سے ایمان کے خلاف سرزد نہ ہو) اور مجھے اپنی اس رحمت سے نواز جس کے طفیل دنیا اور آخرت میں مجھے عزت و شرف کا مقام حاصل ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے التجا کرتا ہوں قضا و قدر کے فیصلوں میں کامیابی کی اور تجھ سے مانگتا ہوں تیرے شہید بندوں والا اعزاز، اور تیرے نیک بخت بندوں والی زندگی اور دشمنوں کے مقابلے میں تیری حمایت اور مدد۔ اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں اپنی حاجتیں لے کر حاضر ہوا ہوں، اگرچہ میری عقل و رائے کوتاہ اور میرا عمل اور جدو جہد ضعیف ہے۔ اے رحیم و کریم! میں تیری رحمت کا محتاج ہوں پس اے سارے اُمور کا فیصلہ فرمانے والے اور قلوب کے روگ دور کر کے ان کو شفا بخشنے والے مالک و مولا! جس طرح تو نے اپنی قدرتِ کاملہ سے (ایک سارھ بہنے والے) سمندروں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا ہے (کہ کھاری شیریں سے الگ رہتا ہے اور شیریں کھاری سے) اسی طرح تو مجھے آتش دوزخ سے اور اس عذاب سے جدا اور دور رکھ جس کو دیکھ کے آدمی موت کی دعا مانگے گا۔ اور اسی طرح مجھے عذابِ قبر سے بچا۔ اے میرے اللہ! تو نے جس خیر اور نعمت کا اپنے بندے کے لئے وعدہ فرمایا ہو، یا جو چیز اور نعمت تو کسی کو بغیر وعدے کے عطا فرمانے والا ہوا اور میری عقل و رائے اس کے شعور اور اس کی طلب سے قاصر رہی ہو اور میری نیت بھی اس تک نہ پہنچتی ہو اور میں نے تجھ سے اس کی استدعا بھی نہ کی ہو تو اے میرے اللہ! تیری رحمت سے میں اس کی بھی تجھ سے التجا کرتا ہوں، اور تیرے کرم کے بھروسے اس کا طالب اور شائق ہوں، تو اپنے رحم و کرم سے وہ خیر و نعمت بھی مجھے عطا فرما۔ اے میرے وہ اللہ! جس کا رشتہ مضبوط و محکم ہے اور جس کا ہر حکم اور کام صحیح اور درست ہے، میں تجھ سے استدعا کرتا ہوں کہ “یوم الوعید” یعنی قیامت کے دن مجھے امن و چین عطا فرما، اور “یوم الخلود” یعنی آخرت میں میرے لئے جنت کا فیصلہ فرما اپنے ان بندوں کے ساتھ جو تیرے مقرب اور تیری بارگاہ کے حاضر باش ہیں اور رکوع و سجود یعنی نماز و عبادت میں مشغور رہنا جن کا وظیفہ حیات ہے اور وفائے عہد جن کی خاص صفت ہے۔ اے میرے اللہ! تو بڑا مہربان اور بڑی عنایت و محبت فرمانے والا ہے اور “فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ” تیری شان ہے۔ اے اللہ! ہمیں ایسا کر دے کہ ہم دوسروں کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنیں، اور خود ہدایت یاب ہوں۔ نہ خود گم کردہ راہ ہوں اور نہ دوسروں کے لئے گمراہ کن۔ تیرے دوستوں سے ہماری صلح ہو، تیرے دشمنوں کے ہم دشمن ہوں، جو کوئی تجھ سے محبت رکھے ہم تیری اس محبت کی وجہ سے اس سے محبت کریں اور جو تیرے خلاف چلے اور عداوت کی راہ اختیار کرے، تیری عداوت کی وجہ سے ہم بھی اس سے عداوت اور بغض رکھیں۔ اے اللہ! یہ میری دعا ہے، اور قبول فرمانا تیرے ذمہ ہے، اور یہ میری حقیر کوشش ہے، اور اعتماد و بھروسہ اپنی کوشش اور دعا پر نہیں بلکہ صرف تیرے کرم پر ہے۔ اے اللہ! میرے قلب میں نور پیدا فرما، اور میری قبر کو نورانی کر دے، اور منور کر دے میرے آگے اور میرے پیچھے اور میرے دائیں اور میرے بائیں اور میرے اوپر اور میرے نیچے (یعنی میرے ہر طرف تیرا نور ہی نور ہو) اور اے اللہ! میرے نور کو بڑھا اور مجھے نور عطا فرما، اور نور کو میرا اور میرے ساتھ کر دے۔ پاک ہے وہ پروردگار جس نے عزت و جلال کی چادر اوڑھ لی ہے اور مجد و کرم اس کا لباس و شعار ہے، پاک ہے وہ رب قدوس جس کے سوا کسی کو تسبیح سزاوار نہیں، پاک ہے بندوں پر فضل و انعام فرمانے والا، پاک ہے جس کی خاص صفت عظمت و کرم ہے، پاک ہے رب ذوالجلال والاکرام۔ (جامع ترمذی)
تشریح
سبحان اللہ! کتنی بلند اور کس قدر جامع ہے یہ دُعا، تنہا اسی ای دعا سے (اور اس سے پہلے جو دعائیں درج ہوئیں ان سے بھی) اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے شُنُنون و صفات کی کتنی معرفت حاصل تھی، اور عبدیت جو بندے کا سب سے بڑا کمال ہے اس میں آپ ﷺ کا کیا مقام تھا، اور سید العالمین ﷺ اور محبوب رب العالمین ﷺ ہونے کے باوجود اپنے کو آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے کرم کا کتنا محتاج سمجھتے تھے، اور بندگی و نیاز مندی کی کس فقیرانہ شان کے ساتھ اس سے اپنی حاجتیں مانگتے تھے، نیز یہ بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دعا کے وقت آپ ﷺ کے قلب مبارک کی کیا کیفیت ہوتی تھی، اور اللہ تعالیٰ نے انسانی حاجتوں کا کتنا تفصیلی اور عمیق احساس آپ ﷺ کو عطا فرمایا تھا۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ جیسے رؤف اور رحیم و کریم ہیں اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان دعاؤں کے ایک ایک فقرے پر اللہ تعالیٰ کے دریارئے رحمت میں کیسا تلاطم اور دعا مانگنے والے پر کتنا پیار آتا ہو گا۔
پہلے لکھا جا چکا ہے کہ حضور ﷺ کی دعائیں امت کے لئے آپ کا عظیم ترین ورثہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس ورثہ کی قدر و قیمت سمجھیں اور اس سے پورا حصہ لینے کی کوشش کریں۔
مختلف اوقات و احوال کی دعائیں: صبح و شام کی دعائیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِكَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ إِذَا أَصْبَحْتُ، وَإِذَا أَمْسَيْتُ، قَالَ: " قُلْ: اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ «قَالَ» قُلْهَا إِذَا أَصْبَحْتَ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ، وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ " (رواه ابوداؤد والترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ: “مجھے ذکر و دعا کے وہ کلمے تعلیم فرما دیجئے جن کو میں صبح و شام کہہ لیا کروں”، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کرو۔ “اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ تا شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ” (اے زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے، غیب و شہود کا پورا علم رکھنے والے، ہر چیز کے مالک و پروردگار۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی قابلِ پرستش نہیں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں، اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اور اس کے شرک سے (یعنی اس بات سے کہ مجھے شرک میں مبتلا کرے دے۔) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اے ابو بکر! تم اللہ سے یہ دعا کیا کرو صبح کو اور شام کو اور سونے کے لئے بست پر لیٹتے وقت۔”)۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)
تشریح
مختلف اوقات و احوال کی دعائیں
اب تک جو دعائیں مذکور ہوئیں وہ سب نماز کے اندر کی یا نماز کے بعد کی تھیں، اور نماز چونکہ اپنی روح و حقیقت کے لحاظ سے خود دعا و مناجات بلکہ اس کی مکمل ترین صورت ہے، اور اس کا موضوع ہی اللہ تعالیٰ کے حضور میں اظہارِ عجز و نیاز اور دعاو و سوال ہے، اس لئے اس میں اس طرح کی دعائیں کامل معرفت اور کمالِ عبدیت کی علامت ہونے کے باوجود کوئی عجوبہ نہیں۔ لیکن جو دعائیں رسول اللہ ﷺ نے دوسرے اوقات خاص کر کھانے پینے، سونے جاگنے اور دوسرے بشری و حیوانی تقاضوں والے اعمال و اشغال کے اوقات کے لئے تعلیم فرمائی ہیں جن کے ذریعہ یہ اعمال و اشغال بھی سراسر روحانی و نورانی اور اللہ تعالیٰ کے تقریب کا وسیلہ بن جاتے ہیں، وہ رسول اللہ ﷺ کی ہدایت و تعلیم کا خاص الخاص معجزہ ہے ذیل میں انہی دعاؤں کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔
صبح و شام کی دعائیں
ہر آدمی کے لئے رات کے بعد صبح ہوتی ہے اور دن ختم ہونے پر شام آتی ہے، گویا ہر صبح اور ہر شام زندگی کی ایک منزل طے ہو کر اگلی منزل شروع ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات اور اپنے عملی نمونہ سے امت کو ہدایت فرمائی کہ وہ ہر صبح و شام اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو تازہ و مستحکم کرے، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرے، اپنے قصورون کے اعتراف کے ساتھ معافی مانگے، اور سائل و بھکاری بن کر رب کریم سے مناسب وقت دعائیں کرے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ أَصْحَابَهُ يَقُولُ: إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، وَإِذَا أَمْسَى فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ. (رواه ابوداؤد والترمذى واللفظ له)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کو تلقین فرماتے تھے کہ جب رات ختم ہو کر تمہاری صبح ہو تو اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کیا کرو: “اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا تا وَإِلَيْكَ النُّشُورُ” (اے اللہ! تیرے ہی حکم سے ہماری صبح ہوتی ہے، اور تیرے ہی حکم سے ہماری شام، تیرے ہی فیصلہ سے ہم زندہ ہیں،ا ور رتیرے ہی حکم سے ہم وقت آ جانے پر مریں گے، اور پھر تیری ہی طرف لوٹ کر جائیں گے) اسی طرح جب شام ہو تو عرض کرو: “اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا تا وَإِلَيْكَ النُّشُورُ” (اے اللہ! تیرے ہی حکم سے ہماری شام ہوتی ہے، اور تیرے ہی حکم سے ہماری صبح، تیرے ہی فیصلہ سے ہم زندہ ہیں،ا ور رتیرے ہی فیصلہ سے مریں گے، اور پھر اُٹھ کر تیرے ہی حضور حاضر ہوں گے)۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
رات کے اندھیرے کے بعد صبح کے اجالے کا نمودار ہونا اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔ انسان عموماً دن ہی میں اپنے سارے کام کاج کرتے ہیں، اگر رات کے بعد صبح نہ ہو تو گویا قیامت ہو جائے۔ اسی طرح دن کے ختم پر شام کا آنا اور رات کا شروع ہونا بھی بڑی نعمت ہے، شام آ کر کاموں سے چھٹی دلاتی ہے اور آرام و راحت کا پیام لاتی ہے، اگر ایک دن شام نہ آئے، تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ عام انسانون پر کیا گزر جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں ہدایت فرمائی ہے کہ جب صبح یا شام ہو تو اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا احساس و اعتراف کیا جائے۔ اسی کے ساتھ اس کو بھی یاد کیا جائے کہ جس طرح اللہ کے حکم سے دن کی عمر ختم ہو کر رات آتی ہے اور رات کی عمر ختم ہو کر دن نکلتا ہے۔ اسی طرح اس کے حکم سے ہماری زندگی چل رہی ہے، اور اس کے حکم سے مقررہ وقت پر موت آ جائے گی اور پھر اللہ کے حضور میں پیشی ہو گی۔ الغرض روزانہ صبح و شام اللہ کی نعمت کا اعتراف اور موت اور آخرت کو یاد کیا جائے۔ نہ صبح کو اس سے غفلت ہو نہ شام کو۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَمْسَى قَالَ: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَخَيْرِ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَسُوءِ الْكِبَرِ، وَفِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ»وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ الخ» (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب شام ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کرتے: “أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ الخ” (یہ شام اس حال میں ہو رہی ہے کہ ہم اور ساری کائنات اللہ ہی کے ہیں۔ ساری حمد و ستائش اسی اللہ کے لئے ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک ساجھی نہیں، راج اور ملک اسی کا ہے، وہی لائق حمد و ثنا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! یہ آنے والی رات اور جو کچھ اس رات میں ہونے والا ہے میں اس کے خیر کا تجھ سے سائل ہوں، اور اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ پروردگار! تیری پناہ سستی اور کاہلی سے (جو اُمورِ خیر سے محرومی کا سبب بنتی ہے) تیری پناہ بالکلک نکما کر دینے والے بڑھاپے سے، اور کبر سنی سے بُرے اثرات سے، تیری پناہ دُنیا کے ہر فتنہ سے (اور یہاں کی ہر آزمائش سے) تیری پناہ قبر کے عذاب سے۔ اور جب صبح ہوتی ہے تو رسول اللہ ﷺ بس ایک لفظ کی تبدیلی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں یوں عرض کرتے: “وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ الخ” (ہماری صبح اس حال میں ہو رہی ہے کہ ہم اور یہ ساری کائنات اللہ ہی کے ہیں الخ۔)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس دعا میں اپنی ذات اور ساری کائنات کے اوپر اللہ تعالیٰ کی ملکیت کا اقرار اور اس کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی توحید کا اعلان ہے۔ پھر رات یا دن میں جو خیر اور برکتیں ہوں ان کا سوال ہے، اور جو کمزوریاں خیر و سعادت سے محرورمی کا سبب بن جاتی ہیں ان سے پناہ طلبی ہے۔ اور آخر میں دنیا کے ہر فتنہ اور عذابِ قبر سے پناہ مانگی گئی ہے۔ سبحان اللہ! کیسی جامع دُعا ہے اور اس میں اپنی بندگی اور نیاز مندی کا کیسا اظہار ہے۔
عَنْ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ هَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ، حِينَ يُمْسِي، وَحِينَ يُصْبِحُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» (رواه ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب شام یا صبح ہوتی تو رسول اللہ ﷺ یہ دعا ضرور کرتے تھے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ الخ” (اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا طالب و سائل ہوں۔ اے میرے اللہ! میں اپنے دین اور دنیا اور اپنے اہل و عیال اور مال کے بارے میں معافی اور عافیت کا طلب گار ہوں۔ اے اللہ! میری شرم و عار والی باتوں کی پردہ داری فرما۔ میرے دل کی گھبراہٹ اور تشویشات دور فرما کر مجھے امن و اطمینان نصیب فرما۔ اے اللہ! میری حفاظت فرما میرے آگے سے اور پیچھے سے اور میرے دائیں بائیں اور میری اوپر کی جانب سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اس بات سے کہ نیچے کی جانب سے مجھ پر کوئی آفت آئے، مجھے ہمیشہ اس سے محفوظ رکھ۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کی صبح شام کی دعاؤں میں یہ دعا بھی بڑی جامع ہے، انسانی ضرورت کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو ان چند الفاظ میں نہ آ گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ قدر شناسی عطا فرمائے اور عمل کی توفیق دے۔
عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ اِذَا أَمْسَي وَاِذَا أَصْبَح ثَلَاثًا رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " (رواه احمد والترمذى)
حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان بندہ صبح اور شام تین دفعہ کہے: “رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا” (میں راضی ہوں اللہ کو اپنا مالک و پروردگار مان کر اور اسلام کو اپنا دین بنا کر اور محمدﷺ کو نبی مان کر) تو اللہ نے اس بندے کے لئے اپنے ذمہ کر لیا ہے کہ قیامت کے دن اس کو ضرور خوش کر دے گا۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)
تشریح
سبحان اللہ! کتنی عظیم بشارت ہے کہ جو مومن و مسلم بندہ اس مختصر کلمہ کو صبح شام تین تین دفعہ کہہ کے اللہ و رسول ﷺ اور ان کے دین کے ساتھ اپنے ایمانی تعلق کو تازہ اور مستحکم کرے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا حتمی فیصلہ ہے کہ میں قیامت کے دن اس کو راضی اور خوش کر دوں گا۔ اس بشارت کے معلوم ہو جانے کے بعد اس دولت کو حاصل کرنے سے غافل رہنا کتنا عظیم خسارہ اور کتنی بڑی محرومی ہو گی۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَنَّامٍ الْبَيَاضِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْكَ وَحْدَكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ، فَلَكَ الْحَمْدُ، وَلَكَ الشُّكْرُ، فَقَدْ أَدَّى شُكْرَ يَوْمِهِ، وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ حِينَ يُمْسِي فَقَدْ أَدَّى شُكْرَ لَيْلَتِهِ» (رواه ابوداؤد)
عبداللہ بن غنام بیاضی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو بندہ صبح ہونے پر اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کرے کہ: “اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ الخ” (اے میرے اللہ! اس صبح جو بھی نعمت مجھے نصیب ہے یا تیری مخلوق میں سے کسی کو بھی میسر ہے وہ تنہا تیرے ہی کرم کا نتیجہ ہے، تیرا کوئی شریک ساجھی نہیں، تیرے ہی لئے ساری حمد و ثنا اور اے کریم تیرا ہی شکر ہے) تو اس نے اس دن کی ساری نعمتوں کا شکر ادا کر دیا، اور جس نے شام ہونے پر اللہ تعالیٰ کے حضور میں اسی طرح عرض کیا تو اس نے پوری رات کی نعمتوں کا شکر اد اکر دیا۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
حق یہ ہے کہ بندہ اللہ کی نعمتوں کا کسی طرح شکر ادا نہیں کر سکتا۔ یہ رب کریم کا صرف کرم ہے کہ ایسے حقیر سے شکر کو بھی وہ کافی قرار دیتا ہے۔ منقول ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ: “اے پروردگار! تیری نعمتیں بےشمار ہیں میں کیسے ان کا شکر ادا کروں ”۔ ارشاد ہوا کہ: “تمہارا یہ محسوس کرنا کہ وہ نعمتیں میری ہی طرف سے ہیں، بس یہی شکر کافی ہے۔ ” لك الحمد ولك الشكر۔
عَنْ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ فَتْحَهُ، وَنَصْرَهُ، وَنُورَهُ، وَبَرَكَتَهُ، وَهُدَاهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ، ثُمَّ إِذَا أَمْسَى فَلْيَقُلْ مِثْلَ ذَلِكَ " (رواه ابوداؤد)
حضرت ابو مالک اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب صبح ہو تو کہو: “أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ تا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ” (صبح اس حالت میں ہوئی کہ ہم اور ساری کائنات اللہ رب العالمین کی ملک اور اس کے قبضہ میں ہیں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس دن کی خیر اور فتح و نصرت، نور و برکت اور ہدایت کا سائل ہوں اور اس دن اور اس کے بعد کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں) پھر جب شام ہو تو اسی طرح کہو۔ (سنن ابی داؤد)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ {فَسُبْحَانَ اللَّـهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ ﴿١٧﴾ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ ﴿١٨﴾ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ وَكَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ } أَدْرَكَ مَا فَاتَهُ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ، وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي أَدْرَكَ مَا فَاتَهُ فِي لَيْلَتِهِ " (رواه ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “جو کوئی (سورہ روم کی یہ تین آیتیں) صبح ہونے پر تلاوت کرے وہ اس دن کی وہ ساری خیر اور برکتیں پا لے گا جو اس سے فوت ہوئی ہوں گی۔ اور اسی طرح جو کوئی شام آنے پر یہ تین آیتیں تلاوت کرے وہ اس رات کی وہ ساری خیر و برکت پا لے گا جو اس سے فوت ہوئی ہوں گی۔ وہ آیات یہ ہیں:
فَسُبْحَانَ اللَّـهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ ﴿١٧﴾ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ ﴿١٨﴾ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ وَكَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ
اللہ کی پاکی بیان کرو جب تمہارئے لئے صبح ہو اور جب شام آئے۔ اور زمین و آسمان میں ہر وقت اس کی حمد و ثناء ہوتی ہے۔ اور چوتھے پہر اور دوپہر کے وقت بھی اس کی پاکی بیان کرو، وہی قادرِ مطلق زندہ کر مُردہ سے اور مُردہ کو زندہ سے برآمد کرتا ہے اور زمین پر مردگی طاری ہو جانے کے بعد اپنی رحمت سے اسے حیاتِ تازہ بخشتا ہے۔ اور تم بھی اسی طرح مرنے کے بعد زندہ کر دئیے جاؤ گے۔ (سنن ابی داؤد)
عَنْ عُثْمَانَ ابْنَ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ فِي صَبَاحِ كُلِّ يَوْمٍ وَمَسَاءِ كُلِّ لَيْلَةٍ: بِسْمِ اللهِ الَّذِي لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ العَلِيمُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَلَايَضُرَّهُ شَيْءٌ. (رواه ابوداؤد والترمذى)
حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص ہر دن کی صبح اور ہر رات کی شام کو تین دفعہ یہ دعا پڑھ لیا کرے اسے کوئی مضرت نہیں پہنچے گی اور وہ کسی حادثہ سے دوچار نہیں ہو گا۔ دعا یہ ہے: بِسْمِ اللهِ الَّذِي لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ العَلِيمُ (جامع ترمذی)
اس اللہ کے نام کے ساتھ زمین و آسمان کی کوئی چیز بھی ضرر نہیں پہنچا سکتی اور وہ سب سننے والا اور جاننے والا ہے۔
تشریح
حضرت عثمان بن عفان ؓ سے اس حدیث کے ر اوی ان کے صاحبزادے ابان ہیں۔ ان پر فالج کا حملہ ہو گیا تھا جس سے ان کا جسم متاثر تھا۔ ایک دفعہ جب وہ یہ حدیث بیان کر رہے تھے ایک آدمی خاص طرح کی نظر سے ان کی طرف دیکھنے لگا، وہ سمجھ گئے کہ اس کے دل میں یہ اعتراض پید اہو رہا ہے کہ جب آپ یہ حدیث اپنے والد ماجد حضرت عثمان ؓ سے سن چکے تھے تو پھر آپ پر فالج کا حملہ کیسے ہو گیا، اس حدیث میں تو اس دعا کے صبح و شام پڑھنے والے کے لئے ہر حادثہ سے حفاظت کی ضمانت بتائی گئی ہے۔ ابان نے اس آدمی سے کہا: “میاں دیکھتے کیا ہو، نہ میں غلط بیان کر رہا ہوں نہ حضرت عثمانؓ نے مجھ سے غلب طیان کیا تھا۔ حدیث بالکل صحیح ہے اور اس میں جو وعدہ ہے وہ بھی برحق ہے، اصل واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ کسی معاملہ کی وجہ سے مجھے سخت غصہ تھا، اس غصہ کی حالت میں اس دن وقت پر دعا پڑھنا بھول گیا، اسی دن یہ فالج کا حملہ ہوا۔ چونکہ تقدیر الہی میں فالج ہونا مقرر تھا اس لئے اس دن بھلا دیا گیا۔ حضرت ابان کا یہ بیان بھی حدیث کے ساتھ سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی میں مروی ہے۔ صبح شام تین دفعہ اس دعا کا پڑھنا اللہ کے نیک بندوں کے معمولات میں سے ہے، اور بلاشبہ اس میں آفاتِ ارضی و سماوی سے حفاظت کی ضمانت ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ قَالَ: قَالَ لِىْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِقْرَأْ «قُلْ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُمْسِي، وَحِينَ تُصْبِحُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ» (رواه ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن خبیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ تین بار پڑھ لیا کرو۔ یہ ہر چیز کے واسطے تمہارے لئے کافی ہوں گی۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اور معوذتین قرآن مجید کی بہت چھوٹی سورتوں میں ہیں، لیکن اپنے مضمون کے لحاظ سے بہت فائق اور بالاتر ہیں، جیسا کہ فضائل تلاوتِ قرآن کے سلسلہ میں کچھ ہی پہلے بیان بھی کیا جا چکا ہے۔ حدیث کا مفاد یہ ہے کہ جو لوگ اور زیادہ نہ پڑھ سکیں وہ صبح و شام کم از کم یہی تین سورتیں پڑھ لیا کریں، جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا ہے، یہی ان شاء اللہ کافی ہوں گی، ہر مسلمان کو یہ یاد بھی ہوتی ہیں۔
خاص سونے کے وقت کی دعائیں
عَنْ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا قَالَ: إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ «اللهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا، لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا، إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا، وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ الْعَافِيَةَ» فَقِيْلَ لَهُ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ عُمَرَ؟ قَالَ: مِنْ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ، مِنْ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو بتایا کہ جب تم سونے کے لئے بستر پر لیٹ جاؤ تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کرو: “اللهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِي تا أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ الْعَافِيَةَ ” (اے میرے اللہ! تو نے ہی مجھے پیدا کیا ہے اور تو ہی جب چاہے گا میری روح قبض کر لے گا، میرا مرنا اور جینا تیرے ہی اختیار میں ہے، اگر تو مجھے زندہ رکھے تو (ہربلا اور گناہ سے اور شر و فتنہ کی بہر بات سے) میری حفاظت فرما، اور اگر تیرا فیصلہ میری موت کا ہو تو میری مغفرت فرما اور مجھے بخش دے، اے میرے اللہ! مین تجھ سے معافی اور عافیت کا وسائل ہوں (تو میرے لئے معافی کا اور دنیا و آخرت میں عافیت کا فیصلہ فرما) حضرت عبداللہ بن عمر نے جب یہ دعا تلقین فرمائی تو کسی نے انؓ سے کہا کہ: “یہ آپ نے اپنے والد ماجد حضرت عمرؓ سے سنی ہو گی؟” انہوں نے فرمایا: “میں نے اس ہستی سے سنا ہے جو حضرت عمرؓ سے بھی بہتر تھی، میں نے یہ دعا براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔” (صحیح مسلم)
تشریح
نیند کو موت سے بہت مشابہت ہے۔ سونے والا مُردے ہی کی طرح دنیا ومافیہا سے بےخبر ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے نیند، بیداری اور موت کے درمیان کی ایک حالت ہے، اس لئے رسول اللہ ﷺ تاکید کے ساتھ ہدایت فرماتے تھے کہ جب سونے لگو تو اس سے پہلے دھیان اور اہتمام سے اللہ کو یاد کرو، گناہوں سے معافی مانگو اور اس سے مناسب وقت دعائیں کرو۔ اس سلسلہ میں جو دعائیں آپ ﷺ نے تلقین فرمائیں اور جو آپ ﷺ کے معمولات میں سے تھیں وہ ذیل میں پڑھی جائیں۔
تشریح ..... یہ مختصر دعا عبدیت کے جذبات سے بھرپور ہے اور اللہ کے حضور میں عبدیت و نیاز مندی اور اظہارِ عاجزی و بےبسی ہی سب سے زیادہ اس کی رحمت کو کھینچنے والی چیز ہے۔ خاص کر سوتے وقت کسی بندے کو اس طرح کی دعا کی توفیق ملنا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاص نظرِ عنایت و کرم اس کی طرف متوجہ ہے۔