Maarif-ul-Hadith 1168

کتاب الاذکار والدعوات

1168Maarif-ul-Hadith

نماز کے بعد کی دعائیں

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: أَخَذَ بِيَدِىْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ لَأُحِبُّكَ أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لَا تَدَعَهُنَّ فِي كُلِّ صَلَاةٍ اَنْ تَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ " (رواه ابوداؤد والنسائى)

حضرت معاذ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کے فرمایا: “اے معاذ! مجھے تجھ سے محبت ہے، میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا ضرور کیا کر: “اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ” (اے اللہ! میری مدد فرما اور مجھے توفیق دے اپنے ذکر کی، اپنے شکر کی اور اپنی اچھی عبادت کی) ” (سنن ابی داؤد، سنن نسائی) تشریح نہایت مختصر ہونے کے باوجود یہ بڑی عظیم اور اہم دعا ہے۔ اس کی عظمت اور اہمیت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل کو اپنی محبت کا واسطہ دے کر تاکید کے ساتھ اس کی وصیت اور تلقین فرمائی۔ اسی طرح اس سے پہلی حدیث کی دعا “اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ” کی تلقین بھی آپ ﷺ نے مسلم بن الحارثؓ کو خصوصیت اور اہتمام سے فرمائی تھی اور وہ بھی نہایت مختصر ہے۔ اس غیر معمولی اہتمام کے ساتھ حضور ﷺ کی تعلیم و تلقین کے بعد ان دعاؤں کا اہتمام نہ کرنا بڑی ناقدری اور کم نصیبی کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔