عَنْ أَبِي زُهَيْرٍ النُّمَيْرِيِّ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَلَحَّ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْتَمِعُ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْجَبَ إِنْ خَتَمَ»، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: بِأَيِّ شَيْءٍ يَخْتِمُ؟ قَالَ: «بِآمِينَ، فَإِنَّهُ إِنْ خَتَمَ بِآمِينَ فَقَدْ أَوْجَبَ» (رواه ابوداؤد)
ابو زہیر نمیری ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ باہر نکلے۔ ہمارا گزر اللہ کے ایک نیک بندے پر ہوا جو بڑے الحاح سے اللہ سے مانگ رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر اس کی دعا اور اللہ کے حضور میں اس کا مانگنا، گڑگڑانا سننے لگے۔ پھر آپ ﷺ نے ہم لوگوں سے فرمایا کہ: “اگر اس نے دعا کا خاتمہ صحیح کیا اور مہر ٹھیک لگائی تو جو اس نے مانگا ہے اس کا اس نے فیصلہ کرا لیا ”۔ ہم میں سے ایک نے پوچھا کہ: “حضور ﷺ! صحیح کاتمہ اور مُہر ٹھیک لگانے کا طریقہ کیا ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “آخر میں آمین کہہ کے دعا ختم کرے ” (تو اگر اس نے ایسا کیا تو بس اللہ سے طے کرا لیا) (سنن ابی داؤد)
تشریح
ختم کے معنی ختم کرنے کے بھی ہیں اور مہر لگانے کے بھی ہیں، بلکہ یہ دونوں دراصل ایک ہی حقیقت کی دو تعبیریں ہیں، اس لئے ترجمہ میں دونوں ہی لفظوں کو استعمال کیا گیا ہے۔ حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ ہر دعا کے خاتمہ پر بندے کو آمین کہنا چاہئے جس کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! میری یہ دعا قبول فرما! اسی پر ہر دعا کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ اس کی حکمت عنقریب ہی پہلے لکھی جا چکی ہے۔
اپنے چھوٹوں سے بھی دُعا کی درخواست
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ، فَأَذِنَ لِي، وَقَالَ: «لَا تَنْسَنَا يَا أُخَيَّ مِنْ دُعَائِكَ»، فَقَالَ كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا. (رواه ابوداؤد والترمذى)
حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت ہے، بیان فرماتے ہیں کہ: “ایک دفعہ میں نے عمرہ کرنے کے لئے مکہ معظمہ جانے کی رسول اللہ ﷺ سے اجازت چاہی، تو آپ ﷺ نے مجھے اجازت عطا فرما دی، اور ارشاد فرمایا: “بھیا ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شامل کرنا اور ہم کو بھول نہ جانا؟” حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ: “آپ ﷺ نے مجھے مخاطب کر کے یہ بھیا کا جو کلمہ کہا، اگر مجھے اس کے عوض ساری دنیا دے دی جائے تو میں راضی نہ ہوں گا۔” (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دعا ایسی چیز ہے جس کی استدعا بڑوں کو بھی اپنے چھوٹوں سے کرنی چاہئے۔ بالخصوص اس وقت جب کہ وہ کسی ایسے مقبول عمل کے لئے یا ایسے مقدس مقام کو جا رہا ہوں جہاں قبولیت کی خاص امید ہو۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو “اُخَىَّ” کے لفظ سے خطاب فرمایا جو “أُخَيَّ” کی تصغیر ہے، اور جس کا لفظی ترجمہ “بھیا” ہے۔ اس سے حضرت عمر ؓ کو جتنی خوشی ہوئی (جس کا انہوں نے اظہار بھی فرمایا ہے) وہ بالکل برحق ہے۔ اس کے ساتھ اس حدیث سے حضرت عمر ؓ کے مقام کی رفعت اور بارگاہِ الٰہی میں ان کی مقبولیت کی جو شہادت ملتی ہے وہ بجائے خود بہت بڑی سند ہے۔
وہ دُعائیں جو خصوصیت سے قبول ہوتی ہیں
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْوَةُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتَجَابَةٌ، عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ، قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ: آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ " (رواه مسلم)
حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کسی مسلمان کی اپنے بھائی کے لئے غائبانہ دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کے پاس ایک فرشتہ ہے جس کی یہ ڈیوٹی ہے کہ جب وہ اپنے کسی بھائی کے لئے (غائبانہ) کوئی اچھی دعا کرے تو وہ فرشتہ کہتا ہے کہ: “تیری یہ دعا للہ قبول کرے، اور تیرے لئے بھی اسی طرح کا خیر عطا فرمائے”۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
غائبانہ دعا کی جس خصوصی قبولیت اور برکت کا اس حدیث میں ذکر ہے اس کی خاص وجہ بظاہر یہ ہے کہ ایسی دعا میں اخلاص زیادہ ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
وہ دُعائیں جو خصوصیت سے قبول ہوتی ہیں
عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْوَالِدِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ " (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجة)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تین دعائیں ہیں جو خاص طور سے قبول ہوتی ہیں، ان کی قبولیت میں شک ہی نہیں ہے۔ ایک اولاد کے حق میں ماں باپ کی دعا۔ دوسرے مسافر اور پردیسی کی دعا۔ تیسرے مظلوم کی دعا۔” (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
ان دعاؤں کی مقبولیت کا خاص راز بھی یہی ہے کہ یہ دعائیں اخلاص سے اور دل سے ہوتی ہیں۔ اولاد کے لئے ماں باپ کا خلوص تو ظاہر ہے۔ اسی طرح بےچارےپردیسی اور مظلوم کا دل شکستہ ہوتا ہے، اور دل کی شکستگی میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو کھینچنے کی خاص طاقت ہے۔
وہ دُعائیں جو خصوصیت سے قبول ہوتی ہیں
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسُ دَعْوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُنَّ دَعْوَةُ الْمَظْلُوْمِ حَتَّى يَنْتَصِرَ وَ دَعْوَةُ الْحَاجِّ حَتَّى يَصْدِرَ وَ دَعْوَةُ الْمُجَاهِدِ حَتَّى يُفْقَدَ وَ دَعْوَةُ الْمَرِيْضِ حَتَّى يَبْرَأَ وَ دَعْوَةُ الْأَخِ لِأَخِيْهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ , ثُمَّ قَالَ: وَأَسْرَعُ هَذِهِ الدَّعْوَاتِ إِجَابَةُ دَعْوَةُ الْأَخِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ. (رواه البيهقى فى الدعوات الكبير)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “پانچ آدمیوں کی دعائیں خاص طور پر قبول ہوتی ہیں۔ مظلوم کی دعا جب تک وہ بدلہ نہ لے لے۔ اور حج کرنے والے کی دعا جب تک وہ لوٹ کے اپنے گھر واپس نہ آئے اور راہِ خدا میں جہاد کرنے والے کی دعا جب تک وہ شہید ہو کے دنیا سے لاپتہ نہ ہو جائے، اور بیمار کی دعا جب تک وہ شفایاب نہ ہو اور ایک بھائی کی دوسرے بھائی کے لئےغائبانہ دُعا۔ یہ سب بیان فرمانے کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اور ان دعاؤں میں سب سے جلدی قبول ہونے والی دعا کسی بھائی کے لئے غائبانہ دعا ہے۔ ” (دعوات کبیر للبیہقی)
تشریح
دُعا اگر حقیقۃً دعا ہو اور خود دعا کرنے والے کی ذات اور اس کے اعمال میں کوئی ایسی چیز نہ ہو جو قبولیت میں مانع ہوتی ہے تو دعا عموماً قبول ہی ہوتی ہے لیکن بندہ مومن کے بعض خاص احوال یا اعمال ایسے ہوتی ہیں کہ ان کی وجہ سے رحمتِ الٰہی خصوصیت سے متوجہ ہوتی ہے اور دعا کی قبولیت کا خصوصی استحقاق پیدا ہو جاتا ہے۔ اس حدیث میں جن پانچ آدمیوں کی دعاؤں کا ذکر ہے ان میں سے مظلوم کی دعا اور غائبانہ دعا کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اور حج اور جہاد ایسے اعمال ہیں کہ جب تک بندہ ان میں مشغول ہو وہ گویا اللہ کی بارگاہ میں ہے اور اس سے قریب تر ہے۔ اس طرح مرد مومن کی بیماری گناہوں سے اس کی تطہیر کا ذریعہ اور قربِ الہی کی راہ میں اس کی غیرمعمولی ترقی کا وسیلہ ہوتی ہے۔ اور بیماری کے بستر پر وہ ولایت کی منزلیں طے کرتا ہے اس لئے اس کی دعا بھی خاص طور پر قبول ہوتی ہے۔
قبولیت دُعا کے خاص احوال و اوقات
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاةَ فَرِيضَةٍ فَلَهُ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، وَمَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ فَلَهُ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ» (رواه الطبرانى فى الكبير)
حضرت عرباص بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو بندہ فرض نماز پڑھے (اور اس کے بعد دل سے دعا کرے) تو اس کی دعا قبول ہو گی، اسی طرح جو آدمی قرآن مجید ختم کرے (اور دعا کرے) تو اس کی دعا بھی قبول ہو گی ”۔ (معجم کبیر للطبرانی)
تشریح
دُعا کی قبولیت میں بنیادی دخل تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دعا کرنے والے کے تعلق اور اس کی اندرونی کیفیت کو ہوتا ہے جس کو قرآن مجید میں “اضطرار” اور “ابتہال” سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ خاص احوال اور اوقات بھی ایسے ہوتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کی خاص طور سے امید کی جاتی ہے۔ مندرجہ ذٰل حدیثوں میں رسول اللہ ﷺ نے ان احوال و اوقات کی خاص طور سے نشاندہی فرمائی ہے۔
تشریح ..... نماز اور خاص کر فرض نماز میں اور قرآن پاک کی تلاوت کے وقت بندہ اللہ تعالیٰ سے قریب تر اور اس سے ہم کلام ہوتا ہے، بشرطیکہ نماز اور تلاوت کی صرف صورت نہ ہو، بلکہ حقیقت ہو۔ گویا یہ دونوں عمل بندہ مومن کی معراج ہیں۔ پس ان دونوں کے ختم پر بندہ اللہ تعالیٰ سے جو دعا کرے وہ اس کی مستحق ہے کہ رحمتِ الٰہی خود آگے بڑھ کے اس کا استقبال کرے۔
قبولیت دُعا کے خاص احوال و اوقات
عَنْ أَنَسِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ» (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “اذان اور اقامت کے درمیان دعا رَد نہیں ہوتی قبول ہی ہوتی ہے۔” (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
قبولیت دُعا کے خاص احوال و اوقات
عَنْ أَبِي أُمَامةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيُسْتَجَابُ الدُّعَاءُ فِي أَرْبَعَةِ مَوَاطِنَ: عِنْدَ الْتِقَاءِ الصُّفُوفِ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَعِنْدَ نُزُولِ الْغَيْثِ، وَعِنْدَ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ، وَعِنْدَ رُؤْيَةِ الْكَعْبَةِ " (رواه الطبرانى فى الكبير)
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “چار موقعے ہیں جن میں دعا خصوصیت سے قبول ہوتی ہے: راہِ خدا میں جنگ کے وقت، اور جس وقت آسمان سے بارش ہو رہی ہو (اور رحمت کا سماں ہو) اور نماز کے وقت اور جب کعبۃ اللہ نظر کے سامے ہو۔” (معجم کبیر طبرانی)
قبولیت دُعا کے خاص احوال و اوقات
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلاثَةُ مَوَاطِنَ لا تُرَدُّ فِيهَا دَعْوَةٌ: رَجُلٌ يَكُونُ فِي بَرِيَّةٍ حَيْثُ لا يَرَاهُ أَحَدٌ، فَيَقُومُ، وَيُصَلِّي، وَرَجُلٌ تَكُونُ مَعَهُ فِئَةٌ، فَيَفِرُّ عَنْهُ أَصْحَابُهُ فَيَثْبُتُ، وَرَجُلٌ يَقُومُ مِنَ آخِرِ اللَّيْلِ. (رواه ابن منذة فى مسنده)
حضرت ربیعہ بن وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تین موقعے ایسے ہیں کہ ان میں دعا کی جائے تو وہ رد نہیں ہو گی (بلکہ لازماً قبول ہی ہو گی) ایک یہ کہ کوئی آدمی ایسے جنگل بیابان میں ہو جہاں خدا کے سوا کوئی اسے دیکھنے والا نہ ہو وہاں وہ خدا کے حضور میں کھڑے ہو کر نماز پڑھے (اور پھر دعا کرے) دوسے یہ کہ کوئی شخص میدانِ جہاد میں (دشمن کی فوج کے سامنے) ہو، اس کے ساتھی میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ہوں، مگر دشمنوں کے نرغہ میں ثابت قدم رہا ہو (اور اس حال میں دعا کرے) تیسرے وہ آدمی جو رات کے آخری حصہ میں (بستر چھوڑ کے) اللہ کے حضور میں کھڑا ہو (اور پھر دعا کرے تو ان بندوں کی یہ دعائیں ضرور قبول ہوں گی)۔”
قبولیت دُعا کے خاص احوال و اوقات
عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ، يَسْأَلُ اللهَ خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ» (رواه مسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، بیان فرماتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی ہے کہ: “رات میں ایک خاص وقت ہے جو مومن بندہ اس وقت میں اللہ تعالیٰ سے دنیا یا آخرت کی کوئی خیر اور بھلائی مانگے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور عطا فرما دے گا۔ اور اس میں کسی خاص رات کی خصوصیت نہیں بلکہ اللہ کا یہ کرم ہر رات میں ہوتا ہے،” (صحیح مسلم)
تشریح
حضرت ابو ہریرہ ؓ کی وہ حدیث (معارف الحدیث کی جلد سوم میں) تہجد کے بیان میں صحیحین کے حوالہ سے ذکر کی جا چکی ہے جس میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ سماء دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں اور خود ان کی طرف سے پکار ہوتی ہے کہ کوئی ہے مانگنے والا کہ میں اس کو عطا کروں، کوئی ہے بخشش چاہنے والا کہ میں اس کی بخشش کا فیصلہ کروں، کوئی ہے مجھ رات کا آخری حصہ ہے۔ واللہ اعلم۔
مندجہ بالا حدیثوں سے دعا کی قبولیت کے جو خاص احوال و اوقات معلوم ہوئے ہیں وہ یہ ہیں:
فرض نمازوں کے بعد، ختم قرآن کے بعد، اذان اور اقامت کے درمیان، میدانِ جہاد میں جنگ کے وقت، بارانِ رحمت کے نزول کے وقت، جس وقت کعبۃ اللہ آنکھوں کے سامنے ہو، ایسے جنگل بیابان میں نماز پڑھ کے جہاں خدا کے سوا کوئی دیکھنے والا نہ ہو، میدانِ جہاد میں، جب کمزور ساتھیوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا ہو، اور رات کے آخری حصے میں۔
وہ حدیثیں اپنے موقع پر پہلے ذِکر کی جا چکی ہیں جن میں شبِ قدر میں اور عرفہ کے دن میدانِ عرفات میں اور جمعہ کی خاص ساعت میں اور روزہ کے افطار کے وقت، اور سفرِ حج اور سفر جہاد میں اور بیماری اور مسافری کی حالت میں دعاؤں کی قبولیت کی خاص توقع دلائی گئی ہے۔
لیکن یہ بات برابر ملحوظ رہنی چاہئے کہ دعا کا مطلب دعا کے الفاظ اور صرف اس کی صورت نہیں ہے بلکہ اس کی وہ حقیقت ہے جو پہلے ذکر کی جا چکی ہے، پودا اسی دانے سے اگتا ہے جس میں مغز ہو۔ اسی طرح آگے درج ہونے والی احادیث سے دعا کی قبولیت کا مطلب بھی سمجھ لینا چاہئے۔
دعا قبول ہونے کا مطلب اور اس کی صورتیں
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ إِلَّا أَعْطَاهُ اللهُ إِحْدَى ثَلَاثٍ، إِمَّا يُعَجِّلُ لَهُ دَعْوَتَهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يَدْفَعَ عَنْهُ مِنَ السَّوْءِ مِثْلَهَا "قَالُوْا اِذَا نُكْثِرُ قَالَ اللهُ اَكْثَرُ. (رواه احمد)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو مومن بندہ کوئی دعا کرتا ہے جس میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو اور نہ قطع رحمی ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز ضرور عطا ہوتی ہے: یا تو جو اس نے مانگا ہے وہی اس کو ہوہاتھ کے ہاتھ عطا فرما دیا جاتا ہے، یا اس کی دعا کو آخرت میں اس کا ذخیرہ بنا دیا جاتا ہے یا آنے والی کوئی مصیبت اور تکلیف اس دعا کے حساب میں روک دی جاتی ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: جب بات یہ ہے (کہ ہر دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور اس کے حساب میں کچھ نہ کچھ ضرور ملتا ہے) تو ہم بہت زیادہ دعائیں کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے پاس اس سے بھی زیادہ ہے۔ (مسند احمد)
تشریح
بہت سے لوگ ناواقفیت سے قبولیتِ دعا کا مطلب صرف یہ سمجھتے ہیں کہ بندہ اللہ سے جو کچھ مانگے وہ اس کو مل جائے اور اگر وہ نہیں ملتا تو سمجھتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہوئی۔ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ بندے کا علم بےحد ناقص ہے، بلکہ اپنی خلقت کے لحاظ سے وہ ظلوم و جہول ہے۔ بہت سے بندے ہیں جن کے لئے دولتمندی نعمت ہے، اور بہت سے ہیں جن کے لئے دولت فتنہ ہے۔ بہت سے بندے ہیں جن کے لئے حکومت اور اقتدار قربِ خداوندی کا وسیلہ ہے۔ اور حجاج اور ابنِ زیاد کی طرح بہت سے ہیں جن کے لئے حکومتی اقتدار خدا سے دوری اور اس کے غضب کا سبب بن جاتا ہے۔ بندہ نہیں جانتا کہ کیا میرے لئے بہتر ہے اور کیا مریے لئے فتنہ اور زہر ہے۔ اس لئے بسا اوقات وہ ایسی چیز اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے جو اس کے لئے بہتر نہیں ہوتی، یا اس کا عطا کرنا حکمتِ الہی کے خلاف ہوتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ جو حکیم و دانا ہے، یہ بات اس کے علم و حکم کے خلاف ہے کہ ہر بندہ جا مانگے وہ اس کو ضرور عطا فرما دے۔ دوسری طرف اس کی کریمی کا یہ تقاضا ہے کہ جب اس کا بندہ ایک محتاج اور مسکین کی طرح اس کے حضور میں ہاتھ پھیلائے اور دعا کرے تو وہ اس کو خالی ہاتھ نہ لوٹائے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ وہ دعا کرنے والے بندے کو محروم نہیں لوٹاتا کبھی تو اس کو وہی عطا فرما دیتا ہے جو دعا میں اس نے مانگا اور کبھی اس کی دعا کے عوض آخرت کی بیش بہا نعمتوں کا فیصلہ فرما دیتا ہے اور اس طرح اس کی یہ دعا اس کے لئے ذخیرہ آخرت بن جاتی ہے، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اسباب و مسببات کا جو سلسلہ ہے اس کے حساب سے اس دعا کرنے والے بندے پر کئی آفت اور مصیبت نازل ہونے والی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی اس دعا کے نتیجے میں اس آنے والی بلا اور مصیبت کو روک دیتا ہے۔ بہرحال دعا کے قبول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دعا رائیگاں نہیں جاتی، اور دعا کرنے والا محروم نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت کے مطابق مذکورہ بالا صورتوں میں سے کسی نہ کسی طرح اس کو ضرور نوازتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔
تشریح ..... مطلب یہ ہے کہ اللہ کا خزانہ لا انتہا اور غیر فانی ہے اگر سارے بندے ہر وقت اس سے مانگیں اور وہ ہر ایک کے لئے عطا فرمانے کا فیصلہ کرے تو اس کے خزانہ میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ مستدرک حاکم میں حضرت جابر ؓ کی ایک ھدیث ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ: اللہ تعالیٰ جب اس بندے کو جس نے دنیا میں بہت سی ایسی دعائیں کی ہوں گی جو بظاہر دنیا میں قبول نہیں ہوئی ہوں گی ان دعاؤں کے حساب میں جمع شدہ ذخیرہ آخرت میں عطا فرمائیں گے تو بندے کی زبان سے نکلے گا:
يَالَيْتَهُ لَمْ يُعَجَّلْ لَهُ شَيْئٌ مِنْ دِعَائِهِ. (كنز العمال: ص 57، جلد 2)
اے کاش! میری کوئی بھی دعا دنیا میں قبول نہ ہوئی ہوتی اور ہر دعا کا پھل مجھے یہیں ملتا۔
رسول اللہ ﷺ کی دعائیں: تکبیرِ تحریمہ کے بعد کی بعض افتتاحی دُعائیں
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ. اَللَّهُمَّ اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَقِنِي سَيِّئَ الْأَعْمَالِ وَسَيِّئَ الْأَخْلَاقِ لَا يَقِي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ» (رواه النسائى)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو پہلے تکبیر تحریمہ کہتے، پھر اللہ تعالیٰ کے حضور میں یوں عرض کرتے: “میری نماز اور میری ہر عبادت اور میرا جینا مرنا سب اللہ کے لئے ہے جو رب العالمین ہے اس کا کوئی شریک ساجھی نہیں، مجھے اسی کا حکم ہے اور میں سب سے پہلے اس کی فرمانبرداری کرنے والا ہوں، اے میرے اللہ! مجھے بہترین اعمال و اخلاق کی ہدایت فرما، یہ ہدایت صرف تجھ ہی سے مل سکتی ہے، اور برے اعمال و اخلاق سے مجھے بچا اور میری حفاظت فرما، یہ حفاظت بھی تو ہی فرما سکتا ہے۔ (سنن نسائی)
تشریح
دعا سے متعلق جو حدیثیں یہاں تک مذکور ہوئیں ان میں یا تو دعا کی ترغیب اور اس کی عظمت و برکات کا بیان تھا یا دعا کے آداب اور اس سے متعلق ہدایات اور موجبات قبولیت بیان فرمائے گئے تھے۔ یہ سب مضامین گویا تمہیدی تھے۔ اب رسول اللہ ﷺ کی وہ اصل دعائیں اور سوز و گداز سے بھری ہوئی بارگاہِ خداوندی میں آپ ﷺ کی وہ مناجاتیں پڑھئے جو آپ کے مقامِ معرفت اور قلبی کیفیات و واردات کو ممکن حد تک جاننے کا بہترین وسیلہ اور امت کے لئے آپ ﷺ کا عظیم ترین ورثہ ہیں اور جن کو پورے ذخیرہ حدیث کا بجا طور پر گل سرسبد کہا جا سکتا ہے۔ نبوی ﷺ دعاؤں کے اس پورے ذخیرے کو تین حصوں میں تقسم کیا جا سکتا ہے۔
ایک وہ جن کا تعلق خاص اوقات اور مخصوص حالات سے ہے مثلاً صبح نمودار ہونے کے وقت کی دعا، شام کے وقت کی سونے کے وقت کی دعا، نیند سے بیدار ہونے کے وقت کی دعاو، آندھی یا بارش کے وقت کی دعا، کسی مصیبت اور پریشانی کے وقت کی دعا وغیرہ وغیرہ۔
ٍدوسری وہ دعائیں جو عام نوعیت کی ہیں، کسی خاص وقت اور مخصوص حالات سے ان کا تعلق نہیں۔ یہ دعائیں اکثر جا مع قسم کی ہیں۔
تیسری قسم کی دعائیں وہ ہیں جو رسول اللہ ﷺ نماز میں یہا نماز سے فارغ ہو کر یعنی سلام کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور میں کیا کرتے تھے۔ یہاں پہلے یہی تیسری قسم کی نماز والی دعائیں درج کی جا رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے اس عظیم ترین اور بیش بہا ورثہ کی شایانِ شان قدر اور اس سے فائدہ اٹھانے کی پوری توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تشریح ..... اس دعا میں شروع میں تو جیسا کہ چاہئے توحید کی شہادت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کئے حضور میں اپنی بندگی و نیاز مندی اور مخلصانہ فدویت و وفاداری کا اقرار و اظہار ہے اور آخر میں اللہ تعالیٰ سے اچھے اعمال و اخلاق کی ہدایت توفیق اور برے اعمال و اخلاق سے حفاظت اور بچاؤ کی التجا اور استدعا کی گئی ہے، اور دراصل اسی ہدایت اور حفاظت پر انسان کی سعادت اور فلاح کا دار ومدار ہے۔ معارف الحدیث جلد سوم میں (صفحہ .... سے ...... تک) حضرت علی ؓ کی ایک طویل حدیث صحیح مسلم کے حوالہ سے درج کی جا چکی ہے، اس میں تکبیر تحریمہ کے بعد یہی افتتاحی دعا کافی اضافہ کے ساتھ مذکور ہو چکی ہے اور وہ اضافہ بڑا دلگداز ہے۔ نیز اس میں اس افتتاحی دعا کے علاوہ رکوع اور قومہ اور سجدہ، اور پھر جلسہ اور قعدہ اخیرہ کی خاص پرسوز دعائیں بھی ذکر کی گئی ہیں۔ اور بلاشبہ نماز کی دعاؤں کے بار میں وہ بڑی جامع حدیث ہے۔ اس کی تشریح میں یہ بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس قسم کی دعائیں زیادہ تر رات کے نوافل میں پڑھتے تھے۔ حضرت علی ؓ نے اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کی جو دعائیں تفصیل سے ذکر کی ہیں ان میں آپ ﷺ کی نماز کی باطنی کیفیات کا عکس ممکن حد تک دیکھا جا سکتا ہے۔ حدیث کے زیادہ طویل ہونے کی وجہ سے یہاں اس کو مکرر درج نہیں کیا جا رہا ہے۔ ان چیزوں کا ذوق و شوق رکھنے والے حضرات اس کو معارف الحدیث جلد سوم میں پڑھ لیں۔
تکبیرِ تحریمہ کے بعد کی بعض افتتاحی دُعائیں
عَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ: " اللَّهُمَّ لَكَ الحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الحَمْدُ لَكَ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الحَمْدُ أَنْتَ الحَقُّ وَوَعْدُكَ الحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ المُقَدِّمُ، وَأَنْتَ المُؤَخِّرُ، لاَ إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو تہجد پڑھنے کھڑے ہوتے تو یہ دعا کرتے: “اللَّهُمَّ لَكَ الحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ الخ” (اے میرے اللہ! ساری حمد و ستائش تیرے ہی لئے ہے اور تو ہی اس کا مستحق ہے، تو ہی قائم رکھنے والا ہے زمین و آسمان کا اور ان سب چیزوں کا جو ان میں ہیں (یعنی سارے عالم علوی اور سفلی کا وجود تیرے ہی ارادہ سے قائم ہے) مولا! ساری حمد و ستائش کا تو ہی مستحق ہے، تو ہی نور ہے زمین و آسمان کا اور ان سب کا جو زمین و آسمان میں ہیں (یعنی سارے عالم میں جہاں بھی نور کی کوئی کرن ہے وہ تیرے ہی نور سے ہے) اور ساری حمد و ستائش تیرے ہی لئے ہے، تو فرمانروا ہے زمین و آسمان اور اس ساری کائنات کا جو زمین و آسمان میں ہے، ساری حمد و ستائش تیرے ہی لئے سزاوار ہے، تو حق ہے تیرا وعدہ حق ہے، مرنے کے بعد تیرے حضور حاضری اور تیری ملاقات حق ہے، اور تیرا فرمان حق ہے اور جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے اور سارے نبی برحق ہیں اور محمد ﷺ بھی برحق ہیں اور قیامت کا آنا برحق ہے، اے اللہ! میں نے اپنے کو تیرے سپرد کر دیا اور میں تجھ پر ایمان لایا اور میں نے تیرا سہارا پکڑ لیا اور پورا بھروسہ تجھ پر کر لیا اور اپنا رخ تیری طرف کر دیا اور (مخالفین حق سے) تیری ہی مدد سے میری ٹکر ہے، اور میں نے اپنا مقدمہ فیصلے کے لئے تیری ہی بارگاہ میں پیش کر دیا ہے، پس اے میرے اللہ! بخش دے میرے وہ سب قصور جو مجھ سے پہلے سرزد ہوئے اور جو پیچھے ہوئے اور جو میں نے پوشیدہ کئے اور جو اعلانیہ کئے اور جن کے بارے میں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو جسے چاہے آگے بڑھانے والا ہے اور جسے چاہے پیچھے ڈال دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں۔ صرف تو ہی معبود برحق ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہ بھی رسول اللہ ﷺ کی ان دعاؤں میں سے ہے جن سے آپ ﷺ کے مقامِ معرفت اور آپ ﷺ کی باطنی کیفیات و واردات کا کچھ اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
تکبیرِ تحریمہ کے بعد کی بعض افتتاحی دُعائیں
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ: «اللهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» (رواه مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو نمازِ تہجد کے لئے کھڑے ہوتے تو بالکل شروع میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کرتے: “اللهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ، وَمِيكَائِيلَ الخ” اے امیرے اللہ! جبرائیل و میکائیل اور اسرافیل کے پروردگار! زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے غیب اور شہود کو یکساں جاننے والے، تو ہی فیصلہ فرمائے گا بندوں کے درمیان ان کے اختلافات کے بارے میں، مجھے اپنی خاص توفیق سے اس راہِ حق و ہدایت پر چلا جس کے بارے میں لوگوں میں اختلاف ہو گیا ہے، تو ہی جسے چاہے گا سیدھے راستہ پر چلائے گا۔ (صحیح مسلم)
عَنْ عَوْفِ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: قُمْتُ مَعَ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَكَعَ مَكَثَ قَدْرَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» (رواه النسائى)
حضرت عوف بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ میں ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں کھڑا ہو گیا۔ جب آپ ﷺ رکوع میں گئے تو آپ ﷺ نے اتنی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر میں سورہ بقرہ پڑھی جائے۔ اس رکوع میں آپ ﷺ کی زبانِ مبارک پر یہ کلمات جاری تھے:
«سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ»
پاک ہے اللہ زور و قوت اور فرمانروائی والا، اور عظمت و کبریائی والا۔ (سنن نسائی)
تشریح
معارف الحدیث جلد سوم میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا عام معمول رکوع میں “سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ” اور سجدے میں “سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى” پڑھنے کا تھا، اور آپ ﷺ نے اسی کی تعلیم فرمائی۔ لیکن کبھی کبھی ان کے علاوہ دوسرے تسبیح و تقدیس کے کلمات اور دوسری دعائیں بھی آپ ﷺ رکوع و سجود میں کرتے تھے۔ اس سلسلہ کی متعدد اھادیث وہاں ذکر کی جا چکی ہیں۔ نیز یہ بھی وہاں ذکر کیا جا چکا ہے کہ آپ ﷺ نفل نماز میں خاص کر رات کے نوافل میں کبھی کبھی طویل رکوع و سجود بھی کرتے تھے۔ یہ نماز جس میں عوف بن مالکؓ حضور ﷺ کے شریک ہو گئے اور جس میں آپ ﷺ نے بقدر سورہ بقرہ کے طویل رکوع کیا یہ نفلی نماز تھی۔ اللہ تعالیٰ ہم امتیوں کو کوئی ذرہ اس کیفیت کا نصیب فرمائے جو اس رکوع میں آپ ﷺ کے قلبِ مبارک پر طاری رہی ہو گی۔
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ: «اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» (رواه مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات کو (میری آنکھ کھلی تو) میں نے رسول اللہ ﷺ کو بستر پر نہ پایا، پس میں (اندھیرے میں) آپ ﷺ کو ٹٹولنے لگی تو میرا ہاتھ آپ کے پاؤں کے تلوؤں پر پڑا، اس وقت آپ ﷺ سجدے میں تھے اور آپ ﷺ کے دونوں پاؤں کھڑے تھے (جیسے کہ سجدے کی حالت میں ہوتے ہیں) اور آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کر رہے تھے: “اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ الخ” (اے میرے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضامندی کی پناہ لیتا ہوں، اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ لیتا ہوں اور تیری پکڑ سے تیری پناہ لیتا ہوں، میں تیری ثنا و صفت پوری طرح بیا نہیں کر سکتا (بس یہی کہہ سکتا ہوں کہ) تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے اپنی ذاتِ اقدس کے بارے میں بتلایا ہے۔ (صحیح مسلم)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي الله عَنهُ قَالَ كَانَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِي سُجُودِهِ اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ، وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ» (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سجدے میں (کبھی کبھی) یہ دعا بھی کرتے تھے: “اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ الخ” (اے میرے اللہ! میرے سارے گناہ بخش دے، چھوٹے بھی، بڑے بھی، پہلے بھی، پچھلے بھی، کھلے بھی اور ڈھکے چھپے بھی)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت عائشہؓ کی یہ دونوں حدیثیں معارف الحدیث جلد سوم میں بھی ذکر کی جا چکی ہیں۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلاَةِ يَقُوْلُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا، وَفِتْنَةِ المَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ المَأْثَمِ وَالمَغْرَمِ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نما زمیں یہ دعا بھی کرتے تھے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ الخ” (اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں قبر کے عذاب سے اور دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کے سارے فتنوں سے اور گناہ کے ہر کام سے اور قرضہ کے بار سے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اس حدیث کے ساتھ متصلاً حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد عذابِ نار، عذابِ قبر، فتنہ دجال اور زندگی اور موت کے سارے فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کی اس حدیث سے یہ بات متعین ہو گئی کہ یہ دعا آخری قعدہ میں سلام سے پہلے کی جائے۔ حضرت ابو ہریرہ کی یہ حدیث صحیح مسلم ہی کے حوالہ سے معارف جلد سوم میں ذکر کی جا چکی ہے۔
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا، وَلِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ " (رواه النسائى)
حضرت شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں یوں عرض کرتے تھے: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ الخ” (اے میرے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں دین مین ثابت قدمی اور حق و ہدایت پر استواری و مضبوطی اور تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری نعمتوں کی شکر گزاری کا اور اچھی طرح تیری عبادت گزاری کا، اور مانگتا ہوں تجھ سے وہ دل جس میں روگ نہ ہو اور وہ زبان جو صداقت شعار ہو، اور تجھ سے سائل ہوں اس خیر اور بھلائی کا جو تیرے علم میں ہے، اور پناہ چاہتا ہوں اس شر اور برائی سے جس کا تجھے علم ہے، اور معافی اور مغفرت مانگتا ہوں ان گناہوں کے لئے جو تجھے معلوم ہیں۔ (سنن نسائی)
عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: صَلَّى عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ بِالْقَوْمِ صَلَاةً أَخَفَّهَا، فَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوهَا، فَقَالَ: أَلَمْ أُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: أَمَا إِنِّي دَعَوْتُ فِيهَا بِدُعَاءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ: «اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي، وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَكَلِمَةَ الْإِخْلَاصِ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بِالْقَضَاءِ، وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَفِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ» (رواه النسائى)
قیس بن عباد (تابعی) سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی حضرت عمار بن یاسر ؓ نے کچھ ہلکی اور مختصر نماز پڑھائی تو لوگوں نے اس پر کچھ چہ میگوئیاں کیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “کیا بات ہے؟ کیا میں نے رکوع اور سجدے (اور دوسرے ارکان) پوری طرح ادا نہیں کئے؟” لوگوں نے کہا: “یہ بات تو نہیں، لیکن ہم نے محسوس یہی کیا کہ آپ نے (اس وقت) بہت ہلکی نماز پڑھی۔” حضرت عمارؓ نے فرمایا: “میں نے تو رکوع و سجود اور دوسرے ارکان پوری طرح ادا کرنے کے علاوہ نماز میں (اچھی خاصی طویل) وہ خاص دعا بھی کی تھی جو رسول اللہ ﷺ کبھی کبھی کیا کرتے تھے (اور وہ یہ ہے): “اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ الخ” (اے میرے اللہ! تو عالم الغیب ہے، اور تجھے اپنی مخلوق پر پوری قدرت حاصل ہے۔ تو اپنے اس علم غیب اور اس قدرت مطلقہ سے مجھے اس وقت تک دنیا میں رکھ جب تک تیرے علم میں میری زندگی میرے لئے باعث خیر ہو اور مجھے اس وقت دنیا سے اٹھا لے جب اٹھایا جانا میرے لئے بہتر ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں تیرا خوف اور تیری خشیت خلوت میں اور جلوت میں، اور مانگتا ہوں تجھ سے بےلاگ اور خدا لگتی مخلصانہ بات کرنے کی توفیق رضامندی کی حالت میں اور سخت ناراضی کی حالت میں (یعنی مجھے توفیق دے کہ کسی کی رضامندی یا ناراضی کی وجہ سے حق و انصاف کے خلاف کوئی بات نہ کہوں) اور اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں میانہ روی، تنگدستی میں اور خوش حالی میں اور میں سائل ہوں رضا بالقضا کی صفت کا، اور سوال کرتا ہوں تجھ سے آخرت کے جاودانی عیش و آرام کا اور آنکھووں کی اس ٹھنڈک کا جو کبھی منقطع نہ ہو، اور تجھ سے مانگتا ہوں مرنے کے بعد ٹھنڈی اور چین و سکون کی زندگی اور تیرے دیدار کی لذت اور تیری ملاقات کا اشتیاق، بغیر اس کے کہ کوئی ضرر رساں کیفیت پیدا ہو، اور بغیر اس کے کہ کسی گمراہ کن فتنہ میں ابتلا ہو۔ اے میرے اللہ! ہم کو ایمان کی زینت سے آراستہ فرما اور ہمیں ہدایت یافتہ اور دوسرے کے لئے ذریعہ ہدایت بنا۔ (سنن نسائی)
تشریح
حضرت عمار بن یاسر ؓ کی اس حدیث اور اس سے پہلے والی حدیث میں صراحت کے ساتھ یہ مذکور نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعائیں نماز میں کس موقع پر کرتے تھے لیکن دوسری حدیثوں کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے کہ آپ ﷺ یہ دعائیں نماز کے آخری قعدہ میں سلام سے پہلے کرتے تھے، نماز میں اس قسم کی دعاؤں کا خاص موقع و محل یہی ہے۔ اس موقع کے لئے رسول اللہ ﷺ نے حضرت صدیق اکبرؓ کی درخواست پر جو دعا ان کو تعلیم فرمائی تھی: “اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا الخ” وہ معارف الحدیث کی جلد سوم میں ذکر کی جا چکی ہے اور اسی کی تشریح میں وہ دلائل اور قرائن لکھے جا چکے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دعاؤں کا موقع اور محل تشہد کے بعد اور سلام سے پہلے ہے۔