Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 57 of 106

1121Maarif-ul-Hadith

دُعا کا مقام اور اس کی عظمت

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الدُّعَاءُ مُخُّ العِبَادَةِ. (رواه الترمذى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “دعا عبادت کا مغز اور جوہر ہے”۔ (جامع ترمذی) تشریح عبادت کی حقیقت ہے اللہ کے حضور میں خضوع تذلل اور اپنی بندگی و محتاجی کا مظاہرہ، اور دعا کا جزو و کل اور اول و آخر اور ظاہر و باطن یہی ہے، اس لئے دعا بلاشبہ عبادت کا مغز اور جوہر ہے۔

1122Maarif-ul-Hadith

دُعا کا مقام اور اس کی عظمت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللهِ مِنَ الدُّعَاءِ. (رواه الترمذى وابن ماجة)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “اللہ کے یہاں کوئی چیز اور کوئی عمل دعا سے زیادہ عزیز نہیں۔ ” (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) تشریح جب یہ معلوم ہو چکا کہ دعا عبادت کا مغز اور جوہر ہے اور عبادت ہی انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ہے تو یہ بات خود بخود متعین ہو گئی کہ انسانوں کے اعمال و احوال میں دعا ہی سب سے زیادہ محترم اور قیمتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کو کھینچنے کی سب سے زیادہ طاقت اسی میں ہے۔

1123Maarif-ul-Hadith

دُعا کا مقام اور اس کی عظمت

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فُتِحَ لَهُ مِنْكُمْ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ، وَمَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا يَعْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ العَافِيَةَ. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے جس کے لئے دعا کا دروازہ کھل گیا اس کے لئے رحمت کے دروازے کھل گئے۔ اور اللہ کو سوالوں اور دعاؤں میں سب سے زیادہ محبوب یہ ہے کہ بندے اس سے عافیت کی دعا کریں، یعنی کوئی دعا اللہ تعالیٰ کو اس سے زیادہ محبوب نہیں۔” (جامع ترمذی) تشریح عافیت کا مطلب ہے تمام دنیوی و اُخروی اور ظاہری و باطنی آفات اور بلیات سے سلامتی اور تحفظ۔ تو جو شخص اللہ تعالیٰ سے عافیت کی دعا مانگتا ہے وہ برملا اس بات کا اعتراف اور اظہار کرتا ہے کہ اللہ کی حفاظت اور کرم کے بغیر وہ زندہ اور سلامت بھی نہیں رہ سکتا اور کسی چھوٹی یا بڑی مصیبت اور تکلیف سے اپنے کو نہیں بچا سکتا۔ پس ایسی دعا اپنی کامل عاجزی و بےبسی اور سراپا محتاجی کا مظاہرہ ہے اور یہی کمالِ عبدیت ہے، اسی لئے عافیت کی دعا اللہ تعالیٰ کو سب دعاؤں سے زیادہ محبوب ہے۔ دوسری بات حدیث میں یہ فرمائی گئی ہے کہ جس کے لئے دعا کا دروازہ کھل گیا یعنی جس کو دعا کی حقیقت نصیب ہو گئی اور اللہ سے مانگنا آ گیا اس کے لئے رحمتِ الٰہی کے دروازے کھل گئے۔ دعا دراصل ان دعائیہ الفاظ کا نام نہیں ہے جو زبان سے ادا ہوتے ہیں، ان الفاظ کو تو زیادہ سے زیادہ دعا کا لباس یا قالب کہا جا سکتا ہے۔ دعا کی حقیقت انسان کے قلب اور اس کی روح کی طلب اور تڑپ ہے اور حدیث پاک میں اس کیفیت کے نصیب ہونے ہی کو بابِ دعا کے کھل جانے سے تعبیر کیا گیا ہے، اور جب بندے کو وہ نصیب ہو جائے تو اس کے لئے رحمت کے دروازے کھل ہی جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے۔

1124Maarif-ul-Hadith

دُعا کا مقام اور اس کی عظمت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ مَنْ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو اللہ سے نہ مانگے اس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے”۔ (جامع ترمذی) تشریح دنیا میں کوئی نہیں ہے جو سوال نہ کرنے سے ناراض ہوتا ہو، ماں باپ تک کا یہ حال ہوتا ہے کہ اگر بچہ ہر وقت مانگے اور سوال کرے تو وہ بھی چِڑ جاتے ہیں۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ ایسا رحیم و کریم اور بندوں پر اتنا مہربان ہے کہ جو بندہ اس سے نہ مانگے وہ اس سے ناراض ہوتا ہے اور مانگنے پر اسے پیار آتا ہے۔ اوپر حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ کی نگاہ میں بندے کا سب سے عزیز اور قیمتی عمل دعا اور سوال ہے۔ لك الحمد يارب العالمين و يا ارحم الرا حمين!

1125Maarif-ul-Hadith

دُعا کا مقام اور اس کی عظمت

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَلُوا اللهَ مِنْ فَضْلِهِ، فَإِنَّ اللهَ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ مِنْ فَضْلِهِ، وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ " (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ سے اس کا فضل مانگو (یعنی دعا کرو کہ وہ فضل و کرم فرمائے) کیوں کہ اللہ کو یہ بات محبوب ہے کہ اس کے بندے اس سے دعا کریں اور مانگیں! اور فرمایا کہ: اللہ کے کرم سے امید رکھتے ہوئے) اس بات کا انتظار کرنا کہ وہ بلا اور پریشانی کو اپنے کرم سے دور فرمائے گا اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے۔ (کیوں کہ اس میں عاجزانہ اور سائلانہ طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ ہے)۔ (جامع ترمذی)

1126Maarif-ul-Hadith

دعا کی مقبولیت اور نافعیت

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ، فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللهِ بِالدُّعَاءِ. (رواه الترمذى ورواه احمد عن معاذ بن جبل)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “دعا کارآمد اور نفع مند ہوتی ہے اور ان حوادث میں بھی جو نازل ہو چکے ہیں اور ان میں بھی جو ابھی نازل نہیں ہوئے، پس اے خدا کے بندو! دعا کا اہتمام کرو”۔ (جامع ترمذی) (اور امام احمد نے مسند میں اس حدیث کو بجائے عبداللہ بن عمر کے معاذ بن جبل سے روایت کیا ہے) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو بلا اور مصیبت ابھی نازل نہیں ہوئی، بلکہ اس کا صرف خطرہ اور اندیشہ ہے اس سے حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے ان شاء اللہ نفع مند ہو گی۔ اور جو بلا یا مصیبت نازل ہو چکی ہے اس کے دفعیہ کے لئے بھی دعا کرنی چاہئے، ان شاء اللہ وہ بھی نافع ہو گی، اور اللہ تعالیٰ اس کو دور فرما کر عافیت نصیب فرمائے گا۔

1127Maarif-ul-Hadith

دعا کی مقبولیت اور نافعیت

عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ، يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا» (رواه الترمذى وابوداؤد)

حضرت سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “تمہارے پروردگار میں بدرجہ غایت حیا اور کرم کی صفت ہے، جب بندہ اس کے آگے مانگنے کے لئے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اس کو شرم آتی ہے کہ ان کو خالی واپس کرے ”۔ (کچھ نہ کچھ عطا فرمانے کا فیصلہ ضرور فرماتا ہے)۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد) تشریح دعاو بندے کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں معروضہ کی پیشی ہے، اور وہ مالکِ کل اور قادر مطلق ہے، چاہے تو اسی لمحہ دعا کرنے والے بندے کو وہ عطا فرما دے جو وہ مانگ رہا ہے لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ وہ ظلوم و جہال بندے کی خواہش کی ایسی پابندی کرے بلکہ بسا اوقات خود اس بندے کی مصلحت اسی میں ہوتی ہے کہ اس کی مانگ جلد پوری نہ ہو۔ لیکن انسان کے خمیر میں جو جلد بازی ہے اس کی وجہ سے وہ چاہتا ہے کہ جو میں مانگ رہا ہوں وہ مجھے فوراً مل جائے، اور جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ مایوس ہو کر دعا کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ یہ انسان کی وہ غلطی ہے جس کی وجہ سے وہ قبولیتِ دعا کا مستحق نہیں رہتا اور گویا اس کی یہ جلد بازی ہی اس کی محرومی کا باعث بن جاتی ہے۔

1128Maarif-ul-Hadith

دعا کی مقبولیت اور نافعیت

عَنْ جَابِرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُنْجِيكُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَيَدِرُّ لَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ؟ تَدْعُونَ اللَّهَ فِي لَيْلِكُمْ وَنَهَارِكُمْ، فَإِنَّ الدُّعَاءَ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ» (رواه ابويعلى فى مسنده)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کیا میں تمہیں وہ عمل بتاؤں جو تمہارے دشمنوں سے تمہارا بچاؤ کرے اور تمہیں بھرپور روزی دلائے۔ وہ یہ ہے کہ اپنے اللہ سے دُعا کیا کرو رات میں اور دن میں، کیوں کہ دعا مومن کا خاص ہتھیار یعنی اس کی خاص طاقت ہے۔ ” (مسند ابو یعلی موصلی) تشریح دعا دراصل وہی ہے جو دل کی گہرائی سے اور اس کے یقین کی بنیاد پر ہو کہ زمین و آسمان کے سارے خزانے صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہ و اختیار میں ہیں، اور وہ اپنے در کے سائلوں، مانگنے والوں کو عطا فرماتا ہے، اور مجھے جب ہی ملے گا جب وہ عطا فرمائے گا، اس کے در کے سوا میں کہیں سے نہیں پا سکتا۔ اس یقین اور اپنی سخت محتاجی اور کامل بےبسی کے احساس سے بندے کے دل میں جو خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کو قرآن مجید میں “اضطرار” سے تعبیر کیا گیا ہے۔ وہ دعا کی روح ہے، اور یہ واقعہ ہے کہ کوئیبندہ جب اس اندرونی کیفیت کے ساتھ کسی دشمن کے حملہ سے یا کسی دوسری بلا اور آفت سے بچاؤ کے لئے یا وسعتِ رزق یا اس قسم کی کسی دوسری عام و خاص حاجت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے تو اس کریم کا عام دستور ہے کہ وہ دعا قبول فرماتا ہے اس لئے بلاشبہ دعا ان بندوں کا بہت بڑا ہتھیار اور میگزین ہے جن کو ایمان و یقین کی دولت اور دعا کی روح و حقیقت نصیب ہو۔

1129Maarif-ul-Hadith

دُعا سے متعلق ہدایات

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالإِجَابَةِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لاَهٍ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب اللہ سے مانگو اور دعا کرو تو اس یقین کے ساتھ کرو کہ وہ ضرور قبول کرے گا اور عطا فرمائے گا، اور جان لو اور یاد رکھو کہ اللہ اس کی دعا قبول نہیں کرتا جس کا دل (دعا کے وقت) اللہ سے غافل اور بےپرواہ ہو”۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ ﷺ نے دعا کے بارے میں کچھ ہدایات بھی دی ہیں، ضروری ہے کہ دعا کرنے والے بندے ان کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔ تشریح ..... مطلب یہ ہے کہ دعا کے وقت دل کو پوری طرح اللہ کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اور اس کی کریمی پر نگاہ رکھتے ہوئے یقین کے ساتھ قبولیت کی امید رکھنی چاہئے، تذبذب اور بےیقینی کے ساتھ جو دعا ہو گی وہ بےجان اور روح سے خالی ہو گی۔

1130Maarif-ul-Hadith

دُعا سے متعلق ہدایات

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، وَلَكِنْ لِيَعْزِمْ بِالْمَسْأَلَةِ، فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ " (رواه البخارى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اس طرح نہ کہے کہ: “اے اللہ! تو اگر چاہے تو مجھے بخش دے اور تو چاہے تو مجھ پر رحمت فرما اور تو چاہے تو مجھے روزی دے۔” بلکہ اپنی طرف سے عزم اور قطعیت کے ساتھ اللہ کے حضورمیں اپنی مانگ رکھے۔ بےشک وہ کرے گا وہی جو چاہے گا۔ کوئی ایسا نہیں جو زور ڈال کر اس سے کرا سکے۔ ” (صحیح بخاری) تشریح مطلب یہ ہے کہ عاجزی اور محتاجی اور فقیری اور گدائی کا تقاضا یہی ہے کہ بندہ اپنے رب کریم سے بغیر کسی شک اور تذبذب کے اپنی حاجت مانگے، اس طرح نہ کہے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو ایسا کر دے، اس میں استغنا کا شائبہ ہے اور یہ مقامِ عبدیت اور دعا کے منافی ہے، نیز ایسی دعا کبھی جاندار دعا نہیں ہو سکتی۔ اس لئے بندے کو چاہئے کہ اپنی طرف سے اس طرح عرض کرے کہ: “میرے مولا! میری یہ حاجت تو پوری کر ہی دے۔ بےشک اللہ تعالیٰ جو کچھ کرے گا وہ اپنے ارادہ اور مشیت سے کرے گا، کوئی ایسا نہیں ہے جو زور ڈال کر اس کی مشیت کے خلاف اس سے کچھ کرا لے۔

1131Maarif-ul-Hadith

دُعا سے متعلق ہدایات

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْتَجِيبَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ الشَّدَائِدِ فَلْيُكْثِرِ الدُّعَاءَ فِي الرَّخَاءِ. (رواه الترمذى)

جو کوئی یہ چاہے کہ پریشانیوں اور تنگیوں کے وقت اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے، تو اس کو چاہئے کہ عافیت اور خوشحالی کے زمانہ میں دعا زیادہ کیا کرے۔ (جامع ترمذی) تشریح یہ تجربہ اور واقعہ ہے کہ جو لوگ صرف پریشانی اور مصیبت کے وقت ہی خدا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اسی وقت ان کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھتے ہیں، ان کا رابطہ اللہ کے ساتھ بہت ضعیف ہوتا ہے، اور خدا کی رحمت پر ان کو وہ اعتماد نہیں ہوتا جس سے دعا میں روح اور جان پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جو بندے ہر حال میں اللہ سے مانگنے کے عادی ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا رابطہ قوی ہوتا ہے اور اللہ کے کرم اور اس کی رحمت پر ان کو بہت زیادہ اعتماد اور بھروسہ ہوتا ہے، اس لئے ان کی دعا قدرتی طور پر جاندار رہتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں یہی ہدایت دی ہے کہ بندوں کو چاہئے کہ عافیت اور خوش حالی کے دنوں میں بھی وہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ دعا کیا کریں اور مانگا کریں، اس سے ان کو وہ مقام حاصل ہو گا کہ پریشانیوں اور تنگیوں کے پیش آنے پر جب وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو ان کی دعا خاص طور سے قبول ہو گی۔

1132Maarif-ul-Hadith

دُعا میں عجلت طلبی کی ممانعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، فَيَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي " (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “تمہاری دعائیں اس وقت تک قابلِ قبول ہوتی ہیں جب تک کہ جلد بازی سے کام نہ لیا جائے۔” (جلد بازی یہ ہے) کہ بندہ کہتے لگے کہ میں نے دُعا کی تھی مگر وہ قبول ہی نہیں ہوئی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ بندہ اس جلد بازی اور مایوسی کی وجہ سے قبولیت کا استحقاق کھو دیتا ہے، اس لئے چاہئے کہ بندہ ہمیشہ اس کے در کا فقیر بنا رہے اور مانگتا رہے، یقین کرے کہ ارحم الراحمین کی رحمت دیر سویر ضرور اس کی طرف متوجہ ہو گی۔ کبھی کبھی بہت سے بندوں کی دعا جو وہ بڑے اخلاص و اضطرار سے کرتے ہیں اس لئے بھی جلدی قبول نہیں کی جاتی کہ اس دعا کا تسلسل ان کے لئے ترقی اور تقرب الی اللہ کا خاص ذریعہ ہوتا ہے، اگر ان کی منشاء کے مطابق ان کی دعا جلدی قبول کر لی جائے تو اس عظیم نعمت سے وہ محروم رہ جائیں۔

1133Maarif-ul-Hadith

حرام کھانے اور پہننے والے کی دُعا قبول نہیں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا، إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} [المؤمنون: 51] وَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} [البقرة: 172] ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ، يَا رَبِّ، يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟ " (رواه مسلم عن ابى هريره)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “لوگو اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ صرف پاک ہی کو قبول کرتا ہے، اور اس نے اس بارے میں جو حکم اپنے پیغمبروں کو دیا ہے وہی اپنے سب مومن بندوں کو دیا ہے۔ پیغمبروں کے لئے اس کا ارشاد ہے: “اے رسولو! تم کھاؤ پاک اور حلال غذا، اور عمل کرو صالح، میں خوب جانتا ہوں تمہارے اعمال”۔ اور اہل ایمان کو مخاطب کر کے اس نے فرمایا ہے کہ: “اے ایمان والو! تم ہمارے رزق میں سے حلال اور طیب کھاؤ(اور حرام سے بچو)” اس کے بعد حضور ﷺ نے ذکر فرمایا ایک ایسے آدمی کا جو طویل سفر کر کے (کسی مقدس مقام پہ) ایسی حالت میں جاتا ہے کہ اس کے بال پراگندہ ہیں اور جسم اور کپڑوں پر گرد غبار ہے، اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کے دیا کرتا ہے: “سے میرے رب! اے میرے پروردگار!” اور حالت یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام ہے، اس کا پینا حرام ہے، اس کا لباس بھی حرام ہے، اور حرام غذا سے اس كا نشوونما ہوا ہے، تو ایسے آدمی کی دعا کیسے قبول ہو گی۔ (صحیح مسلم) تشریح آج بہت سے دعا کرنے والوں کے دلوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب دعا اور اس کی قبولیت برحق ہے اور دعا کرنے والوں کے لئے اللہ کا وعدہ ہے: “ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ”(تم دعا کرو میں قبول کروں گا) تو پھر ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتی؟ اس حدیث میں اس کا پورا پورا جواب ہے آج دعا کرنے والوں میں کتنے ہیں جن کو اطمینان ہے کہ وہ جو کھا رہے ہیں جو پی رہے ہیں جو پہن ررہے ہیں وہ سب حلال اور طیب ہے اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔

1134Maarif-ul-Hadith

وہ دُعائیں جن کی ممانعت ہے

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَوْلَادِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ، لَا تُوَافِقُوا مِنَ اللهِ سَاعَةً يُسْأَلُ فِيهَا عَطَاءٌ، فَيَسْتَجِيبُ لَكُمْ» (رواه مسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کم کبھی اپنے حق میں یا اپنی اولاد اور مال و جائیداد کے حق میں بد دعا نہ کرو، مبادا وہ وقت دعا کی قبولیت کا ہو اور تمہاری و دعا اللہ تعالیٰ قبول فرما لے۔ (جس کے نتیجہ میں خود ت پر یا تمہاری اولاد یا مال و جائیداد پر کوئی آفت آ جائے)۔ (صحیح مسلم) تشریح انسان بےصبر اور جلد گھبرا جانے والا ہے، اور اس کا علم بھی بہت محدود اور ناقص ہے اس لئے بعض اوقات وہ اللہ تعالیٰ سے ایسی دعائیں بھی کرنے لگتا ہے جو اگر قبول ہو جائیں تو اس میں خود اسی کا خسارہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسی دعاؤں سے منع فرمایا ہے۔

1135Maarif-ul-Hadith

وہ دُعائیں جن کی ممانعت ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ، وَلَا يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ، إِنَّهُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ، وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلَّا خَيْرًا» (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے کوئی اپنی موت کی تمنا نہ کرے، نہ جلدی موت آنے کے لئے اللہ سے دعا کرے، کیوں کہ جب موت آ جائے گی تو عمل کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا (اور اللہ کی رضا و رحمت حاصل کرنے والال کوئی عمل بندہ نہیں کر سکے گا، جو عمل بھی کیا جا سکتا ہے جیتے جی ہی کیا جا سکتا ہے) اور بندہ مومن کی عمر تو اس کے لئے خیر ہی میں اضافہ اور ترقی کا وسیلہ ہے (اس لئے موت کی تمنا و دعا کرنا بڑی غلطی ہے)۔ ” (صحیح مسلم)

1136Maarif-ul-Hadith

وہ دُعائیں جن کی ممانعت ہے

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَدْعُوا بِالْمَوْتِ وَلَا تَتَمَنَّوْهُ، فَمَنْ كَانَ دَاعِيًا لَا بُدَّ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " (رواه النسائى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “تم لوگ موت کی دعا اور تمنا نہ کرو، اور کوئی آدمی ایسی دعا کے لئے مضطر ہی ہو (اور کسی وجہ سے زندگی اس کے لئے دو بھر ہو) تو اللہ کے حضور میں یوں عرض کرے: “اے اللہ! جب تک میرے لئے زندگی بہتر ہے مجھے زندہ رکھ، اور جب میرے لئے موت بہتر ہو تو دنیا سے مجھے اٹھا لے”۔ (سنن نسائی) تشریح ان حدیثوں میں دراصل موت کی اس دعا اور تمنا سے ممانعت فرمائی گئی ہے جو کسی تکلیف اور پریشانی سے تنگ آ کر زبان پر آ جاتی ہے۔ بعض حدیثوں کے الفاظ میں اس کی صراحت بھی ہے۔ چنانچہ صحیحین میں حضرت انس ؓ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: “لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمُ المَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ” الحدیث (تم میں سے کوئی کسی پیش آ جانے والی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے) اس صورت میں موت کی تمنا اور دعا سے ممانعت کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ صبر کی صفت کے خلاف ہے اور دوسری اس سے بھی اہم وجہ یہ ہے کہ آدمی جب تک زندہ ہے اس کے لئے توبہ و استغفار کے ذریعہ اپنے کو پاک صاف کرنے کا اور حسنات و طاعات کے ذریعہ اپنے ذخیرہ آخرت میں اضافہ اور اللہ تعالیٰ کا مزید تقرب حاصل کرنے کا راستہ کھلا ہوا ہے پس موت کی دعا اس کھلے دروازے کو بند کرنے کی دعا ہے، اور ظاہر ہے کہ اس میں بندہ کے لئے خسارہ ہی خسارہ ہے۔ البتہ اللہ کے خاص مقرب بندے جب ان کا وقتِ موعود قریب آتا ہے تو لقاءِ الٰہی کے غلبہ شوق کی وجہ سے کبھی کبھی ان سے موت کی تمنا اور دعا کا ظہور بھی ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کی دُعا: (1) “ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ” اور آخر وقت میں رسول اللہ ﷺ کی دعا: “اللهم الرفيق الاعلى” (اے اللہ! میں رفیق اعلیٰ کا طالب و سائل ہوں) اسی قبیل سے ہیں۔ واللہ اعلم۔

1137Maarif-ul-Hadith

دعا کے چند آداب: دوسرے سے پہلے اپنے لئے دعا

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا ذَكَرَ أَحَدًا فَدَعَا لَهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ. (رواه الترمذى)

حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کو یاد فرماتے اور اس کے لئے دعا کرنا چاہتے تو پہلے اپنے لئے مانگتے، پھر اس شخص کے لئے دعا فرماتے۔ (جامع ترمذی) ہاتھ اٹھا کر دُعا کرنا تشریح دعا کا ایک ادب یہ ہے کہ جب کسی دوسرے کے لئے دعا کرنی ہو تو پہلے اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے مانگے اس کے بعد دوسرے کے لئے۔ اگر صرف دوسرے کے لئے مانگے گا تو اس کی حیثیت محتاج سائل کی نہ ہو گی، بلکہ صرف “سفارشی” کی سی ہو گی اور یہ بات دربارِ الٰہی کے کسی منگتا کے لئے مناسب نہیں ہے، اس لئے رسول اللہ ﷺ کا بھی یہی دستور تھا کہ جب آپ کسی دوسرے کے لئے دعا فرمانا چاہتے تو پہلے اپنے لئے مانگتے۔ عبدیت کاملہ کا تقاضا یہی تھا۔

1138Maarif-ul-Hadith

دوسرے سے پہلے اپنے لئے دعا

عَنِ ابْنُ عَبَّاسٍ سَلُوا اللَّهَ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ، وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا، فَإِذَا فَرَغْتُمْ، فَامْسَحُوا بِهَا وُجُوهَكُمْ. (رواه ابوداؤد)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ سے اس طرح ہاتھ اٹھائے مانگا کرو کہ ہتھیلیوں کا رُخ سامنے ہو ہاتھ الٹے کر کے نہ مانگا کرو، اور جب دُعا کر چکو تو اٹھے ہاتھ چہرے پر پھیر لو۔ ” (سنن ابی داؤد) تشریح دوسری بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب آنے والی اور نازل ہونے والی کسی بلا کو رکوانے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تو ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف ہوتی تھی، اور جب دنیا یا آخرت کی کوئی خیر اور بھلائی مانگتے تھے تو سیدھے ہاتھ پھیلا کے مانگتے تھے جس طرح کسی سائل اور منگتا کو ہاتھ پسار کے اور پھیلا کے مانگنا چاہئے۔ اس کی روشنی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اس حدیث کو مطلب یہی ہے کہ جب اللہ سے اپنی کوئی حاجت مانگی جائے تو اس کے سامنے فقیروں کی طرح ہاتھ سیدھے پھیلا کے مانگی جائے اور آکر میں وہ پھیلے ہوئے ہاتھ منہ پر پھیر لئے جائیں۔ اس تصور کے ساتھ کہ یہ پھیلے ہوئے ہاتھ خالی نہیں رہے ہیں، رب کریم کی رحمت و برکت کا کوئی حصہ ان کو ضرور ملا ہے۔

1139Maarif-ul-Hadith

دوسرے سے پہلے اپنے لئے دعا

عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ، مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ» (رواه ابوداؤد والبيهقى)

سائب بن یزید تابعی اپنے والد یزید بن سعید بن ثمامہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ جب آپ ﷺ ہاتھ اٹھا کے دعا مانگتے تو آخر میں اپنے ہاتھ چہرہ مبارک پر پھیر لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد، دعوات کبیر للبیہقی) تشریح دعا میں ہاتھ اُٹھانا اور آخر میں ہاتھ منہ پر پھیرنا رسول اللہ ﷺ سے قریب قریب بتواتر ثابت ہے۔ جن لوگوں نے اس سے انکار کیا ہے ان کو حضرت انس ؓ کی ایک روایت سے صرف غلط فہمی ہوئی ہے۔ امام نوویؒ نے شرح مہذب میں قریباً تیس حدیثیں اس کے متعلق یکجا کر دی ہیں اور تفصیل سے ان حضرات کی غلط فہمی کی حقیقت واضح کی ہے۔

1140Maarif-ul-Hadith

دُعا سے پہلے حمد و صلوٰۃ

عَنْ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ قَالَ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَجِلَ هَذَا»، ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ: - أَوْ لِغَيْرِهِ - «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيَبْدَأْ بِتَمْجِيدِ رَبِّهِ، وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَدْعُو بَعْدُ بِمَا شَاءَ» (رواه الترمذى وابوداؤد و النسائى)

فضالہ بن عبید راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو سنا اس نے نماز میں دعا کی جس میں نہ اللہ کی حمد کی نہ نبی ﷺ پر درود بھیجا تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ: اس آدمی نے دعا میں جلد بازی کی۔ پھر آپ ﷺ نے اس کو بلایا اور اس سے یا اس کی موجودگی میں دوسرے آدمی کو مخاطب کر کے آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو (دعا کرنے سے پہلے) اس کو چاہئے کہ اللہ کی حمد و ثناء کرے، پھر اس کے رسول ﷺ پر درود بھیجے، اس کے بعد جو چاہے اللہ سے مانگے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی)