عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْوَاقِعَةِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ لَمْ تُصِبْهُ فَاقَةٌ " وَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَأْمُرُ بَنَاتِهِ يَقْرَأْنَ بها كُلَّ لَيْلَةٍ. (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص ہر رات سورہ واقعہ پڑھا کرے اسے کبھی فقر و فاقہ کی نوبت نہیں آئے گی۔ (نیچے کے راوی بیان کرتے ہیں) کہ خود حضرت ابنِ مسعودؓ کا یہ معمول تھا کہ وہ اپنی صاحبزادیوں کو اس کی تاکید فرماتے تھے اور وہ ہر رات کو سورہ واقعہ پڑھتی تھیں۔” (شعب الایمان للبیہقی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ سُورَةً مِنَ القُرْآنِ ثَلاَثُونَ آيَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ، وَهِيَ سُورَةُ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ. (رواه احمد والترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجه)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “قرآن کی ایک سورت نے جو صرف تیس آیتوں کی ہے اس نے ایک بندے کے حق میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں سفارش کی، یہاں تک کہ وہ بخش دیا گیا اور وہ سورۃ ہے: تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ. (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لاَ يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الْم تَنْزِيلُ، وَتَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ. (رواه احمد والترمذى والدارمى)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک کہ الم تَنْزِيلُ اور تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ نہ پڑھ لیتے۔ (یعنی رات کو سونے سے پہلے یہ دونوں سورتیں پڑھنے کا حضور ﷺ کا معمول تھا) (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن دارمی)
عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى" (رواه احمد)
حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ سورۃ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى) خاص طور سے محبوب تھی۔ (مسند احمد)
تشریح
کتاب الصلوٰۃ میں وہ حدیثیں گزر چکی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کی نماز میں اور اسی طرح عیدین کی نماز میں اکثر پہلی رکعت میں “سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى” پڑھتے تھے آپ ﷺ کا یہ معمول اسی لئے تھا کہ یہ سورۃ اپنے خاص مضمون اور پیغام کے لحاظ سے آپ ﷺ کو زیادہ محبوب تھی۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ؟ " قَالُوا: وَمَنْ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقْرَأَ أَلْفَ آيَةٍ؟ قَالَ: " مَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ؟ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کیا تم میں سے کوئی یہ نہیں کر سکتا کہ روزانہ ایک ہزار آیتیں قرآن پاک کی پڑھ لیا کرے؟” صحابہؓ نے عرض کیا: “حضور ﷺ! کس میں یہ طاقت ہے کہ روزانہ ایک ہزار آیتیں پڑھے” (یعنی یہ بات ہماری استطاعت سے باہر ہے) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “کیا تم میں کوئی اتنا نہیں کر سکتا کہ سورہ “أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ” پڑھ لیا کرے”۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
قرآن مجید کی بعض بہت چھوٹی سورتیں ایسی ہیں جو اپنے مضمون اور پیغام کی اہمیت کی وجہ سے سینکڑوں اور ہزاروں آیتوں کے برابر ہیں۔ انہی میں سورہ التکاثر بھی ہے۔ اس میں دنیا پرستی اور آخرت فراموشی پر سخت ضرب لگائی گئی ہے، اور آخرت کے محاسبہ اور دوزخ کے عذاب کا تذکرہ اس طرح کیا گیا ہے کہ اگر دل بالکل مُردہ نہ ہو گیا ہو تو اس میں فکر اور بیداری پیدا ہو جانا لازمی ہے۔ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے غالباً اسی لحاظ سے اس کے پڑھنے کو ہزار آیتیں پڑھنے کے قائم مقام بتایا ہے۔ آگے درج ہونے والی بعض حدیثوں میں جن دوسری چھوٹی چھوٹی سورتوں کو نصف قرآن یا تہائی قرآن یا چوتھائی قرآن کے برابر بتایا گیا ہے، ان کے بارے میں بھی اسی طرح سمجھ لینا چاہئے اور ممکن ہے ان کی تلاوت کا ثواب بھی اسی حساب سے زیادہ عطا فرمایا جائے۔ اللہ کا خزانہ ہمارے وہم و گمان سے زیادہ وسیع ہے۔
سورہ زلزال ، سورہ کافرون ، سورہ اخلاص
ثَنَا عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا زُلْزِلَتْ تَعْدِلُ نِصْفَ القُرْآنِ، وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ القُرْآنِ، وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الكَافِرُونَ تَعْدِلُ رُبُعَ القُرْآنِ. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ ابن عباس اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سورہ “اِذَا زُلْزِلَتِ” نصف قرآن کے برابر ہے اور “قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ” تہائی قرآن کے برابر ہے اور “قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ” چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
سورہ “اِذَا زُلْزِلَتِ” میں قیامت کا بیان اور اس کی منظر کشی نہایت ہی مؤثر انداز میں کی گئی ہے اور اسی طرح اس کی آخری آیت: “فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗؕ۰۰۷ وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗؒ۰۰۸” میں جزا و سزا کا بیا اختصار کے باوجود ایسے مؤثر پیرایہ میں کیا گیا ہے کہ اگر اس موضوع پر پوری کتاب بھی لکھی جائے تو اس سے زیادہ مؤثر نہ ہو گی۔ غالباً اس سورت کی اسی خصوصیت کی وجہ سے اس حدیث میں اس کو نصف قرآن کے برابر بتایا گیا ہے۔ اسی طرح سورہ اخلاص (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ) میں انتہائی اختصار کے ساتھ اللہ کی توحید، اس کی تنزیہ اور اس کی صفاتی کمال جس معجزانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے وہ بھی اس سورت کی خصوصیت ہے، اور غالباً اسی کی وجہ سے اس کو تہائی قرآن کے برابر فرمایا گیا ہے۔ اور “قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ” میں واشگاف طریقے پر شرک اور اہلِ شرک سے براءت ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابو داؤد، سنن نسائی)
شرک سے براءت اور بیزاری کا اعلان کر کے جس طرح خالص توحید کی تعلیم دی گئی ہے (جو دین کی جڑ، بنیاد ہے) وہ اس سورت کی خصوصیت ہے اور غالباً اسی کی وجہ سے اس سورت کو اس حدیث میں چوتھائی قرآن کے برابر کہا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔
سورہ زلزال ، سورہ کافرون ، سورہ اخلاص
عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ اَبِيْهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَوَيْتُ إِلَى فِرَاشِي، قَالَ: اقْرَأْ: قُلْ يَا أَيُّهَا الكَافِرُونَ فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ. (رواه الترمذى وابو داؤد والنسائى)
فروہ بن نوفل اپنے والد ماجد نوفل ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا مجھے کوئی ایسی چیز پڑھنے کو بتا دیجئے جس کو میں سوتے وقت بستر پر پڑھ لیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ” پڑھ لیا کرو اس میں شرک سے براءت ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابو داؤد، سنن نسائی)
سورہ زلزال ، سورہ کافرون ، سورہ اخلاص
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟» قَالُوا: وَكَيْفَ يَقْرَأْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: «قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ» (رواه مسلم والبخارى عن ابى سعيد وروى الترمذى عن ابي ايوب الانصارى بمعناه)
حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کیا تم میں سے کوئی اس سے بھی عاجز ہے کہ ایک رات میں تہائی قرآن پڑھ لیا کرے؟” صحابہ نے عرض کیا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کیسے پڑھا جا سکتا ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: “قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ” تہائی قرآن کے برابر ہے ” (تو جس نے رات میں وہی پڑھی اس نے گویا تہائی قرآن پڑھ لیا)۔ (صحیح مسلم)
اور امام بخاریؒ نے یہی حدیث حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کی ہے، اور امام ترمذی نے اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت کی ہے۔
سورہ زلزال ، سورہ کافرون ، سورہ اخلاص
عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ. فَقَالَ: إِنَّ حُبَّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الجَنَّةَ. (رواه الترمذى ورى البخارى معناه)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ:
“حضرت ﷺ! مجھے یہ سورۃ “قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ” خاص طور سے محبوب ہے؟ ” آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “اس سورت کے ساتھ تمہاری یہ محبت تم کو جنت میں پہنچا دے گی ”۔ (جامع ترمذی)
(الفاظ و عبارت کے کچھ فرق کے ساتھ اسی مضمون کی ایک حدیث امام بخارؒ نے بھی روایت کی ہے)۔
سورہ زلزال ، سورہ کافرون ، سورہ اخلاص
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلاً يَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ فَقَالَ: وَجَبَتْ. قُلْتُ: مَا وَجَبَتْ؟ قَالَ: الجَنَّةُ. (رواه مالك والترمذى والنسائى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو “قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ” پڑھتے ہوئے سنا تو آپ ﷺ نے فرمایا: “اس کے لئے واجب ہو گئی ہے” میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “جنت”۔ (موطا امام مالک، جامع ترمذی، سنن نسائی)
تشریح
صحابہ کرام ؓ جنہوں نے تعلیم و تربیت براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے حاصل کی تھی اور جو ہر عمل میں آپ ﷺ کی تقلید اور پیروی کے حریص تھے، ظاہر ہے کہ جب وہ قرآنِ پاک کی اور خاص کر ان سورتوں اور آیتوں کی تلاوت کرتے ہوں گے جن میں اللہ کی توحید اور صفات کا بیان نہایت موثر انداز میں کیا گیا ہے تو دوسروں کو بھی صاف محسوس ہوتا ہو گا کہ یہ ان کے دل کا حال ہے اور ان کی زبان پر اللہ بول رہا ہے۔ اس حدیث میں جن صحابیؓ کے (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ) پڑھنے کا ذکر ہے ان کا حال اس وقت یہی ہو گا اور حضور ﷺ کو محسوس ہوا ہو گا کہ یہ پوری ایمانی کیفیت اور ایمانی ذوق کے ساتھ (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ) پڑھ رہے ہیں۔ ایسے شخص کے لئے جنت واجب ہونے میں کیا شبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس نعمت کا کچھ حصہ ہم کم نصیبوں کو بھی نصیب فرمائے۔
سورہ زلزال ، سورہ کافرون ، سورہ اخلاص
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ عَلَى فِرَاشِهِ ثُمَّ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مِائَةَ مَرَّةٍ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ القِيَامَةِ يَقُولُ لَهُ الرَّبُّ: يَا عَبْدِيَ ادْخُلْ عَلَى يَمِينِكَ الجَنَّةَ. (رواه الترمذى)
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص بستر پر سونے کا ارادہ کرے، پھر وہ (سونے سے پہلے) سو دفعہ سورہ “قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ” پڑھے تو، جب قیامت قائم ہو گی تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: “اے میرے بندے! اپنے داہنے ہاتھ پر جنت میں چلا جا”۔ (جامع ترمذی)
تشریح
“عَلَى يَمِينِكَ” (اپنے داہنے ہاتھ پر) کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بندہ حساب کے موقف میں جہاں ہو گا وہاں سے جنت اس کے داہنی جانب ہو گی اور اس سے فرمایا جائے گا کہ: “اپنے داہنے رخ پر چل کر جنت میں چلا جا” دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود جنت کا جو داہنی جانب کا حصہ ہو گا وہ بائیں جانب کے حصہ سے افضل ہو گا، اور اس بندے سے فرمایا جائے گا کہ: “تو داہنی جانب والی جنت میں چلا جا” بلاشبہ بڑا سستا ہے یہ سودا کہ سونے سے پہلے صرف سو دفعہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ شریف پڑھنے پر یہ دولت نصیب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ توفیق دے کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اللہ کے بعض بندوں کو دیکھا ہے کہ ان کا رات کو سونے سے پہلے کا روزمرہ کا معمول اس سے بہت زیادہ ہے۔
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتِ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» (رواه مسلم)
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کیا تمہیں معلوم نہیں آج رات جو آیتیں مجھ پر نازل ہوئی ہیں (وہ ایسی بےمثال ہیں کہ ان کی مثل نہ کبھی دیکھی گئیں نہ سنی گئیں: “قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ”اور “قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ” (صحیح مسلم)
تشریح
یہ دونوں سورتیں اس لحاظ سے بےمثال ہیں کہ ان میں اول سے آخرت تک تعوذ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ لی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ شرور سے بھی اور باطن کے شرور سے بھی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان میں شرور سے حفاظت کی بےپناہ تاثیر رکھی ہے، گویا ہر قسم کے شرور سے حفاظت کے لئے یہ حصن حصین ہیں، اور دونوں اختصار کے باوجود نہایت جامع اور کافی وافی ہیں۔
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْجُحْفَةِ، وَالْأَبْوَاءِ، إِذْ غَشِيَتْنَا رِيحٌ، وَظُلْمَةٌ شَدِيدَةٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِأَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَأَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، وَيَقُولُ: يَا عُقْبَةُ، تَعَوَّذْ بِهِمَا فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا. (رواه ابوداؤد)
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا جحفه اور ابواء کے درمیان (یہ دونوں دو مشہور مقام تھی مدینہ اور مکہ کے درمیان) اچانک سخت آندھی آ گئی اور سخت اندھیری چھا گئی رسول اللہ ﷺ یہ دونوں سورتیں (معوذتین) پڑھ کر اللہ سے پناہ مانگنے لگے اور مجھ سے ارشاد فرمانے لگے: “عقبہ تم بھی دو سورتیں پڑھ کر اللہ کی پناہ لو۔ کسی پناہ لینے والے نے ان کے مثل پناہ نہیں لی” (یعنی اللہ کی پناہ لینے کے لئے کوئی دعا ایسی نہیں ہے جو ان دونوں سورتوں کے مثل ہو، اس خصوصیت میں یہ بے مثل اور بےمثال ہیں)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کسی مصیبت اور خطرے کا سامنا ہو تو معوذتین پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی پناہ لینی چاہئے، اس سے بہتر بلکہ اس جیسا بھی کوئی دوسرا تعوذ نہیں ہے۔
عَنْ عَائِشَةَ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى إِلَى فِرَاشِهِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، فَقَرَأَ فِيهِمَا: قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ مَسْحَ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ، يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا (3) أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ ہر رات کو جب آرام فرمانے کے لئے اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا لیتے (جس طرح دعا کے وقت دونوں ہاتھ ملائے جاتے ہیں) پھر ہاتھوں پر پھونکتے اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھتے، پھر جہاں تک ہو سکتا اپنے جسم مبارک پر اپنے دونوں ہاتھ پھیرتے، سر مبارک اور چہرہ مبارک اور جسدِ اطہر کے سامنے کے حصے سے شروع فرماتے (اس کے بعد باقی جسم پر جہاں تک آپ کے ہاتھ جا سکتے وہاں تک ہاتھ پھیرتے)۔ یہ آپ تین دفعہ کرتے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
رات کو سونے سے پہلے کا یہ معمولِ نبیﷺ تو بہت آسان ہے، کم از کم اس کا اہتمام ہم سب کو کرنا چاہئے، اس کی برکات بیان سے باہر ہیں۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔
چند مخصوص آیات کی فضیلت اور امتیاز: آیۃ الکرسی
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ تَعَالَى مَعَكَ أَعْظَمُ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ تَعَالَى مَعَكَ أَعْظَمُ؟» قَالَ: قُلْتُ: {اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: «وَاللهِ لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ»(رواه مسلم)
حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ان کی کنیت ابو المنذر سے مخاطب کرتے ہوئے) ان سے فرمایا: “اے ابوالمنذر! تم جانتے ہو کہ کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے پاس سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟” میں نے عرض کیا کہ: “اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے”۔ آپ ﷺ نے (مکرر) فرمایا: “اے ابوالمنذر! تم جانتے ہو کہ کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے پاس سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟” میں نے عرض کیا کہ: “اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ”تو آپ ﷺ نے میرا سینہ ٹھونکا (گویا اس جواب پر شاباش دی) اور فریاما: “اے ابوالمنذر! تجھے یہ علم موافق آئے ار مبارک ہو”۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مندرجہ بالا احادیث میں جس طرح خاص خاص سورتوں کے فضائل بیان ہوئے ہیں، اسی طرح بعض احادیث میں بعض مخصوص آیات کی فضیلت اور ان کا امتیاز بھی بیان فرمایا گیا ہے۔ اس سلسلہ کی چند حدیثیں ذیل میں پڑھی جائیں۔
تشریح ..... رسول اللہ ﷺ کے اس جواب مین ابی بن کعب نے پہلے عرض کیا کہ “اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ” (اللہ اور اس کے رسول کو اس کا علم زیادہ ہے کہ کون سی آیت کتاب اللہ میں زیادہ عظمت والی ہے) یہ جواب ادب کے تقاضے کے مطابق تھا، لیکن جب رسول اللہ ﷺ نے دوبارہ وہی سوال فرمایا تو ابی بن کعب نے اپنے علم و فہم کے مطابق جواب دیا کہ میرے خیال میں تو “اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ” یعنی آیۃ الکرسی قرآن مجید کی سب سے زیادہ عظمت والی آیت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس جواب کی تصویب فرمائی اور شاباش دی، اور اس شاباش میں ان کا سینہ آپ ﷺ نے غالباً اس لئے ٹھوکا کہ قلب (جو محلِ علم و معرفت ہے) وہ سینہ ہی میں ہوت ہے۔ بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آیاتِ قرآنی میں آیۃ الکرسی سب سے زیادہ باعظمت آیت ہے، اور یہ اس لئے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید و تنزیہ اور صفاتِ کمال اور اس کی شانِ عالی کی عظمت و رفعت جس طرح بیان کیا گئی ہے وہ اس میں منفرد اور بےمثال ہے۔
سورہ بقرہ کی آخری آیتیں
عَنْ أَيْفَعَ بْنِ عَبْدِ الْكَلَاعِي، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّ سُورَةِ الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ». قَالَ: فَأَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: " آيَةُ الْكُرْسِيِّ {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} ". قَالَ: فَأَيُّ آيَةٍ يَا نَبِيَّ اللَّهِ تُحِبُّ أَنْ تُصِيبَكَ وَأُمَّتَكَ؟ قَالَ: «خَاتِمَةُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَإِنَّهَا مِنْ خَزَائِنِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى، مِنْ تَحْتِ عَرْشِهِ، أَعْطَاهَا هَذِهِ الْأُمَّةَ، لَمْ تَتْرُكْ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ» (رواه الدارمى)
ایفع بن عبدالکلاعی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! قرآن کی کون سی سورت سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ” اس نے عرض کیا: “اور آیتوں میں قرآن کی کون سی آیت زیادہ عظمت والی ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “آیۃ الکرسی اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ” اس نے عرض کیا: اور قرآن کی کون سی آیت ہے جس کے بارے میں آپ ﷺ کی خاص طور سے خواہش ہے کہ اس کا فائدہ اور اس کی برکات آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی امت کو پہنچیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “سورہ بقرہ کی آخری آیتیں (آمَنَ الرَّسُوْلُ سے ختم سورہ تک)” پھر آپ ﷺ نے فرمایا: “یہ آیتیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان خاص الخاص خزانوں میں سے ہیں جو ان کے عرش عظیم کے تحت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیاتِ رحمت اس امت کو عطا فرمائی ہیں، یہ دنیا اور آخرت کی ہر بھلائی اور ہر خیر کو اپنے اندر لئے ہوئے ہیں۔ ”(مسند دارمی)
تشریح
تشریح ..... قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اور آیۃ الکرسی کی عظمت اور امتیاز کے بارے میں اوپر عرض کیا جا چکا ہے۔ سورہ بقرہ کی آخری آیات کے متعلق جیسا کہ اس حدیث میں فرمایا گیا ہے بلاشبہ یہ آیتیں اللہ تعالیٰ کے خاص الخاص خزائن رحمت میں سے ہیں۔ شروع میں “آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ” سے “لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ” تک ایمان کی تلقین فرمائی گئی ہے، اس کے بعد “سَمِعْنَا وَأَطَنَعْا” میں اسلام اور اطاعت و فرمانبرداری کا عہد لیا گیا ہے، اس کے بعد “غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ” میں ان کوتاہیوں کی معافی اور مغفرت کی استدعا ہے جو ایمان اور عہدِ اطاعت کے بعد بھی ہم بندوں سے سرزد ہوتی ہیں۔ اس کے بعد “لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا” میں کمزور بندوں کو تسلی دی گئی ہے اور اطمینان دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا بوجھ بندوں پر نہیں ڈالا جاتا اور کسی ایسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا جاتا جو ان کی استطاعت سے باہر ہو۔ اس کے بعد “رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا” سے آخر سورت تک نہایت جامع دعا کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ بلاشبہ یہ آیتیں بجائے خود رحمتِ الٰہی کا خزانہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قدر شناسی اور ان سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔
سورہ بقرہ کی آخری آیتیں
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ خَتَمَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ بِآيَتَيْنِ أُعْطِيتُهُمَا مِنْ كَنْزِهِ الَّذِي تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَعَلَّمُوهُنَّ وَعَلِّمُوهُنَّ نِسَاءَكُمْ، فَإِنَّهُمَا صَلَاةٌ وَقُرْآنٌ وَدُعَاءٌ» (رواه الدارمى)
جبیر بن نفیر تابعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کو ایسی دو آیتوں پر ختم فرمایا ہے جو اس نے اپنے اس خاص خزانے سے مجھے عطا فرمائی ہیں جو اس کے عرشِ عظیم کے تحت ہے۔ تم لوگ ان کو سیکھو اور اپنی خواتین کو سکھاؤ، کیوں کہ یہ آیتیں سراپا رحمت ہیں اور اللہ تعالیٰ کے تقرب کا خاص وسیلہ ہیں، اور ان میں بڑی جامع دُعا ہے۔ (مسند دارمی)
تشریح
واضح رہے کہ جبیر بن نفیر جنہوں نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے تابعی ہیں، انہوں نے ان صحابی کا ذکر نہیں کیا جن سے ان کو یہ حدیث پہنچی۔ اس لئے یہ حدیث مرسل ہے۔ اسی طرح پہلی حدیث بھی مرسل ہے کیوں کہ اس کے روای ایفع بن عبد کلاعی بھی تابعی ہیں، انہوں نے بھی کسی صحابی کا حوالہ دئیے بغیر اس کو روایت کیا ہے۔
سورہ بقرہ کی آخری آیتیں
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ البَقَرَةِ مَنْ قَرَأَ بِهِمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “سورہ بقرہ کے آخر کی دو آیتیں جو کوئی کسی رات میں ان کو پڑھے گا وہ اس کے لئے کافی ہوں گی”۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ جو شخص رات کو بقرہ کی یہ آخری آیتیں پڑھ لے گا وہ ان شاء اللہ ہر شر سے محفوظ رہے گا۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص تہجد میں صرف یہی آیتیں پڑھ لے تو اس کے لئے اتنا ہی کافی ہو گا۔ واللہ اعلم۔
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: «مَنْ قَرَأَ آخِرَ آلِ عِمْرَانَ فِي لَيْلَةٍ، كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ» (رواه الدارمى)
حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ: “جو شخص کسی رات کو آل عمران کی آخری آیات پڑھے گا اس کے لئے پوری رات کی نماز کا ثواب لکھا جائے گا”۔ (مسند دارمی)
تشریح
“آخر آل عمران” سے مراد “إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ” سے ختم سورت تک کی آیات ہیں۔ صحیح روایات میں وارد ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد کے لئے اٹھتے تو سب سے پہلے (وضو کرنے سے بھی پہلے) یہی آیات پڑھتے تھے۔
آل عمران کا یہ آخری رکوع بھی سورہ بقرہ کے آخری رکوع کی طرح نہایت جامع دعا پر مشتمل ہے، اور غالباً اس رکوع کی خاص فضیلت کا راز ان دعائیہ آیات ہی میں مضمر ہے۔ کائنات کی تخلیق میں تفکر کرنے والے اور ہر حال میں اللہ کو یاد کرنے والے بندوں کی زبان سے یہ جامع دعا اس رکوع میں اس طرح ذکر کی گئی ہے:
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (191) رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ (192) رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ (193) رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ.
اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ کارخانہ ہستی بےمقصد نہیں پیدا کیا، تو اس بات سے پاک اور مقدس ہے کہ کوئی عبث کام کرے (یقیناً اس دنیوی زندگی کے بعد جزا و سزا برحق ہے) سو تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب! جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا بےشک اس کو تو نے رسوا کر دیا اور ایسے ظالموں کا کوئی بھی حمایتی اور مددگار نہیں ہو گا۔ اے ہمارے رب ہم نے ایک داعی اور منادی کو سنا کہ وہ ایمان کی دعوت دیتا ہے کہ لوگو! اپنے رب پر ایمان لاؤ۔ تو ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب! ہمارے گنوہوں کو بخش دے ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے، اور ہمیں اپنا وفادار نیکو کار بندوں کے ساتھ دنیا سے اٹھا، اور اے ہمارے رب ہمیں وہ سب عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں کی زبانی اہلِ ایمان کے لئے وعدہ فرمایا ہے، اور ہمیں قیامت کے دن کی رسوائی سے بچا۔ بےشک تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا۔
سورہ آل عمران کے آخری رکوع کی یہ دعا قرآنِ مجید کی جامع ترین دو تین دعاؤں میں سے ہے، اور جیسا کہ عرض کیا گیا اس رکوع کی خاص فضیلت ان دعائیہ آیات ہی کی وجہ سے ہے۔ واللہ اعلم۔
حضرت عثمان غنی ؓ نے جو یہ فرمایا کہ: “جو شخص رات کو یہ آیتیں پڑھے اس کے لئے پوری رات کے نوافل کا ثواب لکھا جائے گا۔” ظاہر ہے کہ یہ بات انہوں نے رسول اللہ ﷺ ہی سے سنی ہو گی۔ حضور ﷺ سے سنے بغیر کوئی صحابیؓ اپنی طرف سے ایسی بات نہیں کہہ سکتے، اس لئے حضرت عثمانؓ کا یہ ارشاد حدیثِ مرفوع ہی کے حکم میں ہے۔
فائدہ ...... امتِ مسلمہ مرحومہ پر اللہ تعالیٰ کی جو خاص رحمتیں ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تھوڑے عمل پر بڑے اجر و ثواب کی بہت سی صورتیں اور بہت سے طریقے رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ اس امت کو بتلائے گئے ہیں، تا کہ جو لوگ اپنے خاص حالات کی وجہ سے بڑے بڑے عمل نہ کر سکیں وہ یہ چھوٹے چھوٹے عمل کر کے ہی اللہ تعالیٰ کی خاص عنایات کے مستحق ہو سکیں۔
مندرجہ بالا حدیثیں جن میں رسول اللہ ﷺ نے خاص خاص سورتوں اور مخصوص آیتوں کے فضائل بیان فرمائے ہیں، یہ اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ ان کا مقصد یہی ہے کہ بہت سے بندے جو اپنے خاص حالات کی وجہ سے قرآنِ مجید کی بہت زیادہ تلاوت نہیں کر سکتے وہ ان مخصوص سورتوں اور آیتوں کی تلاوت کے ذریعے بڑے اجر و ثواب اور اللہ تعالیٰ کی خاص عنایات کے قابل ہو جائیں۔ اس لئے ان حدیثوں کا حق ہے کہ ان پر یقین کر کے ان سورتوں اور آیات کی تلاوت کا ہم خاص طور سے اہتمام کریں، تا کہ اللہ تعالیٰ کے خاص الطاف و عنایات میں ہمارا بھی حصہ ہو۔ بلاشبہ ہم بڑے محروم ہیں اگر اتنا بھی نہ کر سکیں۔
یہاں تک جو ستر حدیثیں درج ہوئیں وہ “ذکر اللہ” اور “تلاوتِ قرآنِ مجید” سے متعلق تھیں۔
آگے وہ حدیثیں پیش کی جا رہی ہیں جن کا تعلق بابِ دُعا سے ہے، ان میں وہ بھی ہیں جن میں دُعا سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں، وہ بھی ہیں جن میں اللہ کے حضور میں رسول اللہ ﷺ کی دعائیں محفوظ کر کے پیش کی گئی ہیں، جو امت کے لئے آپ ﷺ کی عظیم ترین میراث ہیں۔ آخر میں استغفار اور درود شریف سے متعلق احادیث ہیں۔
دُعا کا مقام اور اس کی عظمت
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ» ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَقَالَ رَبُّكُمْ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} (رواه احمد والترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجه)
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “دعا عین عبادت ہے”۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے سند کے طور پر یہ آیت پڑھی: “وَقَالَ رَبُّكُمْ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ” (تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو اور مانگو میں قبول کروں گا اور تم کو دوں گا، جو لوگ میری عبادت سے متکبرانہ روگردانی کریں گے ان کو ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جانا ہو گا)۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابو داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو جن کمالات و امتیازات سے نوازا ان میں سب سے بڑا امتیاز و کمال وعبدیت کاملہ کا مقام ہے۔
عبدیت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے حضور میں انتہائی تذلل، بندگی و سرافگندگی عاجزی و لاچاری اور محتاجی و مسکینی کا پورا پورا اظہار، اور یہ یقین کرتے ہوئے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ و اختیار میں ہے، اس کے دَر کی فقیری و گدائی۔ اس سب کے مجموعہ کا عنوان مقامِ عبدیت ہے، جو تمام مقامات میں اعلیٰ و بالا ہے اور بلاشبہ سیدنا حضرت محمدﷺ اس صفت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں کامل ترین اور سب پر فائق ہیں، اور اسی لئے افضل مخلوقات اور اشرف کائنات ہیں۔ قاعدہ ہے کہ ہر چیز اپنے مقصد کے لحاظ سے کامل یا ناقص سمجھی جاتی ہے۔ مثلاً گھوڑا جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے یعنی سواری اور تیز رفتاری، اس کو بڑھیا یا گھٹیا اسی مقصد کے پیمانے سے سمجھا جائے گا۔ اسی طرح گائے یا بھینس کا جو مقصد ہے یعنی دوددھ کا حاصل ہونا اس کی قدر و قیمت دودھ کی کمی یا زیادتی ہی کے حساب سے لگائی جائے گی۔ وقس علیٰ ہذا۔ انسان کی تخلیق کا مقصد اس کے پیدا کرنے والے نے عبدیت اور عبادت بتایا ہے: “ وما خلقت الجن والانس الا ليعبدون ”
اس لئے سب سے افضل و اشرت انسان وہی ہو گا جو اس مقصد میں سب سے اکمل و فائق ہو۔ پس سیدنا حضرت محمدﷺ چونکہ کمالِ عبدیت میں سب سے فائق ہیں اس لئے آپ ﷺ افضلِ مخلوقات اور اشرفِ کائنات ہیں اور اسی وجہ سے قرآنِ مجید جہاں جہاں آپ ﷺ کے بلند ترین خصائص و کمالات اور اللہ تعالیٰ کے آپ ﷺ پر خاص الخاص انعامات کا ذکر کیا گیا ہے وہاں معزز ترین لقب کے طور پر آپ ﷺ کو عبد ہی کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ معراج کا ذکر کرتے ہوئے سورہ اسراء میں فرمایا گیا ہے: “سُبْحانَ الَّذِي أَسْرى بِعَبْدِهِ” پھر اسی سفر معراج کی آخری منزلوں کا ذکر کرتے ہوئے سورۃ النجم میں فرمایا گیا: “فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى” اور سب سے بڑی نعمت و دولت قرآنِ حکیم کی تنزیل کا ذکر کرتے ہوئے سورہ فرقان میں ارشاد فرمایا گیا: “تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ” اور سورہ کہف میں فرمایا گیا: “الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ”
حاصلِ کلام یہ ہے کہ بندوں کے مقامات میں سب سے بلند عبدیت کا مقام ہے م اور سیدنا حضرت محمد ﷺ اس مقام کے امام یعنی اس وصف خاص میں سب پر فائق ہیں۔ اور دعا چونکہ عبدیت کا جوہر اور خاص مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے وقت (بشرطیکہ حقیقی دعا ہو) بندے کا ظاہر و باطن عبدیت میں ڈوبا ہوتا ہے، اس لئے رسول اللہ ﷺ کے احوال و اوصاف میں غالب ترین وصف اور حال دُعا کا ہے، اور امت کو آپ کے ذریعہ روحانی دولتوں کے جو عظیم خزانے ملے ہیں ان میں سب سے بیش قیمت خزانہ ان دُعؤں کا ہے جو مختلف اوقات میں اللہ تعالیٰ سے خود آپ ﷺ نے کیں یا امت کو ان کی تلقین فرمائی۔
ان میں سے کچھ دعائیں ہیں جن کا تعلق خاص حالات یا اوقات اور مخصوص مقاصد و حاجات سے ہے، اور زیادہ تر وہ ہیں جن کی نوعیت عمومی ہے۔ ان دُعاؤں کی قدر و قیمت اور افادیت کا ایک عام عملی پہلو تو یہ ہے کہ ان سے دعا کرنے اور اللہ سے اپنی حاجتیں مانگنے کا سلیقہ اور طریقہ معلوم ہوتا ہے اور اس باب میں وہ رہنمائی ملتی ہے جو کہیں سے نہیں مل سکتی۔ اور ایک دوسرا خاص عملی اور اور عرفانی پہلو یہ ہے کہ ان سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی روحِ پاک کو اللہ تعالیٰ سے کتنی گہری اور ہمہ وقتی وابستگی تھی اور آپ کے قلب پر اس کا جلال و جمال کس قدر چھایا ہوا تھا، اور اپنی اور ساری کائنات کی بےبسی اور لاچاری اور اس مالک الملک کی قدرتِ کاملہ اور ہمہ گیر رحمت و ربوبیت پر آپ کو کس درجہ یقین تھا کہ گویا یہ آپ کے لئے غیب نہیں شہود تھا۔ حدیث کے ذخیرے میں رسول اللہ ﷺ کی جو سینکڑوں دعائیں محفوظ ہیں ان میں اگر تفکر کیا جائے تو کھلے طور پر محسوس ہو گا کہ ان میں سے ہر دعا معرفت الہی کا شاہکار اور آپ کے کمالِ روحانی و خدا آشنائی اور للہ تعالیٰ کے ساتھ آپ ﷺ کلے صدقِ تعلق کا مستقل برہان ہے، اور اس لحاظ سے ہر ماثور دُعا بجائے خود آپ کے ایک روشن معجزہ ہے۔صلی اللہ علیہ والہ وبارک وسلم۔
اس عاجز راقم سطور کا دستور ہے کہ جب کبھی پڑھے لکھے اور سمجھ دار غیر مسلموں کے سامنے رسول اللہ ﷺ کا تعارف کرانے کا موقع ملتا ہے تو آپ ﷺ کی کچھ دعائیں ان کو ضرور سناتا ہوں۔ قریب قریب سو فیصد تجربہ ہے کہ وہ ہر چیز سے زیادہ آپ ﷺ کی دعاؤں سے متاثر ہوتے ہیں اور آپ ﷺ کے کمالِ خدا رسی و خدا شناسی میں ان کو شبہ نہیں رہتا۔
اس تمہید کے بعد پہلے چند وہ حدیثیں پڑھئے جن میں رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کی ترغیب دی ہے اور اس کی برکتیں بیان فرمائی ہیں، یا دعا کے آداب بتائے ہیں، یا اس کے بارے میں کچھ ہدایتیں دی ہیں۔ ان کے بعد ایک خاص ترتیب کے ساتھ وہ حدیثیں درج کی جائیں گی جن میں وہ دعائین مذکور ہیں جو مختلف موقعوں پر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں کیں، یا امت کو جن کی تلقین فرمائی۔
تشریح ..... اصل حدیث صرف اتنی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: “دعا عین عبادت ہے۔” غالباً حضور ﷺ کے اس ارشاد کا منشاء یہ ہے کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ بندے جس طرح اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کے لئے دوسری محنتیں اور کوششیں کرتے ہیں اسی طرح کی ایک کوشش دُعا بھی ہے، جو اگر قبول ہو گئی تو بندہ کامیاب ہو گیا اور اس کو کوشش کا پھل مل گیا، اور اگر قبول نہ ہوئی تو وہ کوشش بھی رائیگاں گئی۔ بلکہ دعا کی ایک مخصوص نوعیت ہے اور وہ یہ کہ وہ حصولِ مقصد کا ایک مقدس عمل ہے جس کا پھل اس کو آخرت میں ضرور ملے گا۔
جو آیت آپ ﷺ نے سند کے طور پر تلاوت فرمائی اس سے یہ بات صراحۃً معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دُعا عین عبادت ہے۔ آگے درج ہونے والی دوسری حدیث میں دُعا کو عبادت کا مغز اور جوہر فرمایا گیاہے۔