عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى الْمَسْجِدِ وَرَجُلٌ يُصَلِّي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ، بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، أَسْأَلُكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ، الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى» (رواه الترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجه)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ میں ایک دن مسجد میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا اور ایک بندہ وہاں نماز پڑھ رہا تھا، اس نے اپنی دعا میں عرض کیا: “اے اللہ! میں تجھ سے اپنی حاجت مانگتا ہوں بوسیلہ اس کے کہ ساری حمد و ستائش تیرے ہی لئے سزاوار ہے، کوئی معبود نہیں تیرے سوا، تو نہایت مہربان اور بڑا محسن ہے، زمین و آسمان کا پیدا فرمانے والا ہے، میں تجھ ہی سے مانگتا ہوں، اے ذوالجلال والاکرام! اے حی اے قیوم! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “اس بندے نے اللہ کے اُس اسمِ اعظم کے وسیلہ سے دعا کی ہے کہ اس نے وسیلہ سے جب خدا سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے، اور جب اس کے وسیلہ سے مانگا جائے تو عطا فرماتا ہے”۔ (جامع ترمذی، سنن ابو داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اسْمُ اللهِ الأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ {وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ} وَفَاتِحَةِ آلِ عِمْرَانَ {الم اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الحَيُّ القَيُّومُ}. (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجه والدارمى)
اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “اسْمُ اللهِ الأَعْظَمُ” ان دو آیتوں میں موجود ہے۔ ایک “وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ”اور دوسری آل عمران کی ابتدائی آیت “الم اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الحَيُّ القَيُّومُ” (جامع ترمذی، سنن ابو داؤد، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی)
تشریح
ان احادیث میں غور کرنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی ایک مخصوص نام پاک کو اسم اعظم نہیں فرمایا گیا ہے، بلکہ یہ بات زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ آخری حدیث میں جن دو آیتوں کا حوالہ دیا گیا، اور اس سے پہلی دونوں حدیثوں مین دو شخصوں کی جو دو دُعائیں نقل کی گئی ہیں ان میں سے ہر ایک میں متعدد اسماءِ الٰہیہ کی خاص ترکیب سے اللہ تعالیٰ کا جو مرکب اور جامع وصف مفہوم ہوتا ہے اس کو “اسم اعظم” سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ جن کو اللہ تعالیٰ نے اس نوع کے علوم و معارف سے خاص طور پر نوازا ہے، انہوں نے ان احادیث سے یہی سمجھا ہے۔ واللہ اعلم۔
قرآن مجید کی عظمت و فضیلت
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ عَنْ ذِكْرِي وَمَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِينَ، وَفَضْلُ كَلاَمِ اللهِ عَلَى سَائِرِ الكَلاَمِ كَفَضْلِ اللهِ عَلَى خَلْقِهِ. (رواه الترمذى والدارمى والبيهقى فى شعب الايمان)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس شخص کو قرآن نے مشغول رکھا میرے ذکر سے اور مجھ سے سوال اور دعا کرنے سے میں اس کو اس سے افضل عطا کروگا جو سائلوں اور دعاکرنے والوں کوعطا کرتاہوں،اور دوسرے اور کلاموں کے مقابلے میں اللہ کے کلام کو ویسی ہی عظمت و فضلیت حاصل ہے جیسی اپنی مخلوق کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کو۔ (جامع ترمذی، سنن دارمی، شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
ذکر کیا جا چکا ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت بھی “ذکراللہ” کی ایک قسم ہے، اور بعض حیثیتوں سے سب سے افضل اور اعلیٰ قسم ہے۔ اس میں بندے کی مشغولیت اللہ تعالیٰ کو بےحد محبوب ہے۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ تشبیہ اور مثال سے وراء الورا ہے، لیکن ناچیز راقم سطور نے اس حقیقت کو اپنے اس ذاتی تجربہ سے خوب سمجھا ہے کہ جب کبھی کسی کو اس حال میں دیکھا کہ وہ میری لکھی ہوئی کوئی کتاب قدر اور توجہ سے پڑھ رہا ہے تو دل سرور سے بھر گیا اور اس شخص سے ایک خاص تعلق اور لگاؤ پیدا ہو گیا، ایسا تعلق اور لگاؤ جو بہت سے قریبی عزیزوں، دوستوں سے بھی نہیں ہوتا۔ بہرحال میں نے تو اپنے اسی تجربہ سے یہ سمجھا کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اپنے پاک کلام قرآن مجید کی تلاوت کرتے سنتا اور دیکھتا ہو گا، تو اس بندہ پر اس کو کیسا پیار آتا ہو گا (الا یہ کہ اپنے کسی شدید جرم کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے پیار اور نظرِ کرم کا مستحق ہی نہ ہو)
رسول اللہ ﷺ نے امت کو قرآن مجید کی عظمت سے آشنا کرنے اور اس کی تلاوت وغیرہ کی ترغیب دینے کے لئے مختلف عنوانات استعمال فرمائے ہیں۔ ہم نے بھی اسی سلسلہ کی احادیث کو مختلف عنوانات میں تقسیم کر دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے ان ارشادات سے وہ نفع اٹھانے کی توفیق دے جو ان کا اصل مقصد ہے۔
قرآن مجید کی عظمت و فضیلت
قرآن مجید کی بےانتہا عظمت کے لئے بس اتنا کافی ہے کہ وہ کلام اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی حقیقی صفت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ بھی ہے، یہاں تک کہ زمینی مخلوقات میں کعبۃ اللہ اور انبیاء علیہم السلام کی مقدس ہستیاں، اور عالم بالا و عالم غیب کی مخلوقات میں عرش، کرسی، لوح و قلم، جنت اور جنت کی نعمتیں اور اللہ کےئ مقرب ترین فرشتے، یہ سب اپنی معلوم و مسلم عظمت کے باوجود غیراللہ اور مخلوق ہیں۔ لیکن قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی اور اس سے الگ اور اس سے الگ کی کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ اس کی حقیقی صفت ہے جو اس کی ذاتِ عالی کے ساتھ قائم ہے۔ یہ اللہ پاک کا بےانتہا کرم اور اس کی عظیم تر نعمت ہے کہ اس نے اپنے رسولِ امین کے ذریعے وہ کلام ہم تک پہنچایا اور ہمیں اس لائق بنایا کہ اس کی تلاوت کر سکیں اور اپنی زبان سے اس کو پڑھ سکیں پھر اس کو سمجھ کر اپنی زندگی کا راہنما بنا سکیں۔
قرآن مجید مین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طویٰ کی مقدس وادی میں ایک مبارک درخت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلام سنوایا تھا۔ کتنا خوشقسمت تھا وہ بےجان درخت جس کو حق تعالیٰ نے اپنا کلام سنوانے کے لئے بطور آلہ کے استعمال فرمایا تھا۔ جو بندہ اخلاص اور عظمت و احترام کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے اس کو اس وقت شجرہ موسوی والا یہ شرف نصیب ہوتا ہے، اور گویا وہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے کلامِ مقدس کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ حق یہ ہے کہ انسان اس سے آگے کسی شرف کا تصور بھی نہیںٰ کر سکتا۔
اس مختصر تمہید کے بعد قرآن مجید کی عظمت و فضیلت کے بیان میں رسول اللہ ﷺ کی مندرجہ ذیل چند حدیثیں پڑھئے:
تشریح ..... اس سلسلہ معارف الحدیث میں پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب کسی حدیث میں رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حوالہ سے کوئی بات فرمائیں اور وہ بات قرآن مجید میں نہ ہو تو خاص عرف و اصطلاح میں ایسی حدیثوں کو “حدیث قدسی” کہتے ہیں۔ حضرت ابو سعید خدریؓ کی یہ حدیث بھی اسی طرح کی ہے۔ اس میں دو باتیں فرمائی گئی ہیں: ایک یہ لہ اللہ کے جس بندے کو اللہ تعالیٰ کے کلام پاک سے ایسا شغف ہو کہ وہ دن رات اسی میں لگا لپٹا رہتا ہو، یعنی اس کی تلاوت میں اس کے یاد کرنے میں، اس کے تدبر اور تفکر میں، یا اس کے سیکھنے سکھانے میں اخلاص کے ساتھ مشغول رہتا ہو، اور قرآن پاک میں اس ہمہ وقتی مشغولیت کی وجہ سے اس کے علاوہ اللہ کے ذکر اس کی حمد و تسبیح اور اس سے دعائیں کرنے کا موقع ہی اس کو نہ ملتا ہو، تو وہ یہ نہ سمجھے کہ وہ کچھ خسارے مین رہے گا اور ذکر و دعا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جو کچھ عطا فرماتا ہے وہ اس کو نہ پا سکے گا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: “اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ ایسے بندوں کو میں اس سے زیادہ اور اس سے بہتر دوں گا جو ذکر کرنے والے اور دعائین مانگنے والے اپنے بندوں کو دیتا ہوں۔دوسری بات اس حدیث میں یہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ کے کلام کو دوسرے کلاموں کے مقابلے میں ویسی ہی عظمت و فضیلت حاصل ہے جیسی کہ خود اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق کے مقابلہ میں، اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفتِ قائمہ ہے۔
قرآن مجید کی عظمت و فضیلت
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ. قُلْتُ: مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: كِتَابُ اللهِ فِيهِ نَبَأُ مَا قَبْلَكُمْ وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ، وَهُوَ الفَصْلُ لَيْسَ بِالهَزْلِ، مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ، وَمَنْ ابْتَغَى الهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ، وَهُوَ حَبْلُ اللهِ الْمَتِينُ، وَهُوَ الذِّكْرُ الحَكِيمُ، وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ، هُوَ الَّذِي لاَ تَزِيغُ بِهِ الأَهْوَاءُ، وَلاَ تَلْتَبِسُ بِهِ الأَلْسِنَةُ، وَلاَ يَشْبَعُ مِنْهُ العُلَمَاءُ، وَلاَ يَخْلَقُ عَلَى كَثْرَةِ الرَّدِّ، وَلاَ تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ، هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا: {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ} مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ، وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ، وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ، وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هَدَى إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ. (رواه الترمذى والدارمى)
حضرت علی مرتضی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے ایک دن فرمایا: “آگاہ ہو جاؤ ایک بڑا فتنہ آنے والا ہے۔” میں نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! اس فتنہ کے سر سے بچنے اور نجات پانے کا ذریعہ کیا ہے؟ ” آپ ﷺ نے فرمایا: “کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے امتوں کے (سبق آموز) واقعات ہیں، اور تمہارے بعد کی اس میں اطلاعات ہیں، (یعنی اعمال و اخلاق کے جو دنیوی و اخروی نتائج و ثمرات مستقبل میں سامنے آنے والے ہیں، قرآن مجید میں ان سب سے بھی آگاہی دے دی گئی ہے) اور تمہارے درمیان جو مسائل پیدا ہوں قرآن میں ان کا حکم اور فیصلہ موجود ہے (حق و باطل اور صحیح و غلط کے بارے میں) وہ قول فیصل ہے، وہ فضو بات اوریا وہ گوئی نہیں ہے۔ جو کوئی جابر و سرکش اس کو چھوڑے گا (یعنی غرور و سرکشی کی راہ سے قرآن سے منہ موڑے گا) اللہ تعالیٰ اس کو توڑ کے رکھ دے گا، اور جو کوئی ہدایت کو قرآن کے بغیر تلاش کرے گا اس کے حصہ میں اللہ کی طرف سے صرف گمراہی آئے گی (یعنی وہ ہدایتِ حق سے محروم رہے گا) قرآن ہی حبل اللہ المتین یعنی اللہ سے تعلق کا مضبوط وسیلہ ہے، اور محکم نصیحت نامہ ہے، اور وہی صراطِ مستقیم ہے۔ وہی وہ حق مبین ہے جس کے اتباع سے خیالات کجی سے محفوظ رہتے ہیں اور زبانیں اس کو گڑ بڑ نہیں کر سکتیں (یعنی جس طرح اگلی کتابوں میں زبانوں کی راہ سے تحریف داخل ہو گئی اور محرفین نے کچھ کا کچھ پڑھ کے اس کو محرف کر دیا اس طرح قرآن مین کوئی تحریف نہیں ہو سکے گی، اللہ تعالیی نے تا قیامت اس کے محفوظ رہنے کا انتظام فرما دیا ہے) اور علم والے بھی اس کے علم سے سیر نہیں ہوں گے (یعنی قرآن میں تدبر کا عمل اور اس کے حقائق و معارف کی تلاش کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا اور کبھی ایسا وقت نہیں آئے گا کہ قرآن کا علم حاصل کرنے والے محسوس کریں کہ ہم نے علم قرآن پر پورا عبور حاصل کر لیا اور اب ہمارے حاصل کرنے کے لئے کچھ باقی نہیں رہا، بلکہ قرآن کے طالبین علم کا حال ہمیشہ یہ رہے گا کہ وہ علم قرآن میں جتنے آگے بڑھتے رہین گے اتنی ہی ان کی طلب ترقی کرتی رہے گی اور ان کا احساس یہ ہو گا کہ جو کچھ ہم نے حاصل کیا ہے وہ اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہے جو ابھی ہم کو حاصل نہیں ہوا ہے) اور وہ قرآن کثرت مزاولت سے کبھی پرانا نہیں ہو گا (یعنی جس طرح دنیا کی دوسری کتابوں کا حال ہے کہ بار بار پڑھنے کے بعد ان کے پڑھنے میں آدمی کو لطف نہیں آتا، قرآن مجید کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے وہ جتنا پڑھا جائے گا اور جتنا اس میں تفکر و تدبر کیا جائے گا اتنا ہی اس کے لطف و لذت میں اضافہ ہو گا) اور اس کے عجائب (یعنی اس کے دقیق و لطیف حقائق و معارف) کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ قرآن کی یہ شان ہے کہ جب جنوں نے اس کو سنا تو بےاختیار بول اٹھے۔
إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ (الجن، 1،2:72)
ہم نے قرآن سنا جو عجیب ہے، رہنمائی کرتا ہے بھلائی کی، پس ہم اس پر ایمان لے آئے۔
جس نے قرآن کے موافق بات کہی اس نے سچی بات کہی، اور جس نے قرآن پر عمل کیا وہ مستحقِ اجر و ثواب ہوا اور جس نے قرآن کے موافق فیصلہ کیا اس نے عدل و انصاف کیا اور جس نے قرآن کی طرف دعوت دی اس کو صراطِ مستقیم کی ہدایت نصیب ہو گئی۔ (جامع ترمذی، سنن دارمی)
تشریح
یہ حدیث قرآن کریم کی عظمت و فضیلت کے بیان میں بلاشبہ نہایت جامع حدیث ہے۔ اس میں جو کلمات اور جو جملے وضاحت طلب تھے ان کی وضاحت ترجمہ ہی میں کر دی گئی ہے۔
عَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» (رواه البخارى)
حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تم میں سب سے بہتر اور افضل بندہ وہ ہے جو قرآن کا علم حاصل کرے اور دوسروں کو اس کی تعلیم دے”۔ (صحیح بخاری)
تشریح
قرآن مجید کو کلام اللہ ہونے کی حیثیت سے جب دوسرے کلاموں پر اس طرح کی فوقیت اور فضیلت حاصل ہے جس طرح کی اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق پر حاصل ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا سیکھنا، سکھانا دوسرے تمام اچھے کاموں سے افضل و اشرف ہو گا۔ علاوہ ازیں یہ ایک حقیقت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سب سے اہم پیغمبرانہ وظیفہ وحی کے ذریعہ قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ سے لینا، اس کی حکمت کو سمجھنا اور دوسروں تک اس کو پہنچانا اور اس کو سکھانا تھا اس لئے اب قیامت تک جو بندہ قرآن مجید کے سیکھنے سکھانے کو اپنا شغل اور وظیفہ بائے گا وہ گویا رسول اللہ ﷺ کے خاص مشن کا علمبردار اور خادم ہو گا۔ اور اس کو آنحضرت ﷺ سے خاص الخاص نسبت حاصل ہو گی۔ اس بناء پر قرآن پاک کے متعلم اور معلم کو سب سے افضل و اشرف ہونا ہی چاہئے۔ لیکن یہ اسی صورت میں ہے جب کہ قرآن مجید کا یہ سیکھنا سکھانا اخلاص کے ساتھ اور اللہ کے لئے ہو، اگر بدقسمتی سے کسی دنیوی غرض کے لئے قرآن سیکھنے سکھانے کو کوئی اپنا پیشہ بنائے تو حدیث پاک میں ہے کہ: وہ ان بدنصیبوں میں سے ہو گا جو سب سے پہلے جہنم میں جھونکے جائیں گے اور اس کا اولین ایندھن بنیں گے۔ اَللَّهُمَّ احْفَظْنَا
(یہ حدیث صحیح مسلم کے حوالہ سے معارف جلد دوم کے بالکل آخر میں درج ہو چکی ہے)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا، فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صرف دو آدمی قابل رشک ہیں۔ (اور ان پر رشک آنا برحق ہے) ایک وہ جس کو اللہ نے قرآن کی نعمت عطا فرمائی پھر وہ دن اور رات کے اوقات میں اس میں لگا رہتا ہے.اور دوسرا وہ خوش نصیب آدمی جس کو اللہ نے مال و دولت سے نوازا،اور وہ دن اور رات کے اوقات میں راہ خدا میں اس کو خرچ کرتا رہتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
دن اور رات میں قرآن پاک میں مشغول ہونے اور رہنے کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے سیکھنے سکھانے میں لگا رہتا ہے۔ دوسرے یہ کہ نماز میں اور بیرونِ نماز اس کی تلاوت کرتا رہتا ہے۔ تیسرے یہ کہ فکر و اہتمام کے ساتھ اس کے احکام و ہدایات پر عمل کرتا رہتا ہے۔ حدیث کے الفاظ: فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ اس طرح کی سب شکلوں پر حاوی ہیں۔ قرآن پاک کی عظیم نعمت کا شکر یہی ہے کہ بندہ اس کو اپنا شغل اور اپنی زندگی کا دستور بنا لے۔
عَنْ عُبَيْدَةَ الْمُلَيْكِيِّ، اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، لَا تَتَوَسَّدُوا الْقُرْآنَ وَاتْلُوهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَفْشُوهُ، وَتَغَنَّوْهُ وَتَدَبَّرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ، وَلَا تَعْجَلُوا تِلَاوَتَهُ فَإِنَّ لَهُ ثَوَابًا " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبیدہ ملیکی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے قرآن والوں! قرآن کو اپنا تکیہ اور سہارا نہ بنا لو، بلکہ دن اور رات کے اوقات میں اس کی تلاوت کیا کرو جیسا کہ اس کا حق ہے، اور اس کو پھیلاؤ اور اس کو دلچسپی سے اور مزہ لے لے کر پڑھا کرو، اور اس میں تدبر کرو، امید رکھو کہ تم اس سے فلاح پا جاؤ گے، اور اس کا عاجل معاوضہ لینے کی فکر نہ کرو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا عظیم ثواب اور معاوضہ (اپنے وقت پر) ملنے والا ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جن بندوں کو قرآن کی دولت نصیب فرمائی ہے وہ اسی پر تکیہ کر کے نہ بیٹھ جائیں کہ ہمارے پاس قرآن ہے اور ہم قرآن والے ہیں، بلکہ انہیں چاہئے کہ قرآن مجید کے حقوق ادا کریں، رات اور دن کے اوقات میں اس کے حق کے مطابق اس کی تلاوت کیا کریں، اس کو اور اس کے پیغامِ ہدایت کو دوسروں تک پہنچائیں، اس کو م زہ لے لے کے پڑھیں، اس کے احکام، اس کی ہدایات، اس کے قصص اور نصائح پر غور و فکر کیا کریں۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کی فلاح کی پوری امید ہے۔ اور انہیں چاہئے کہ وہ قرآن کے اس پڑھنے اور پڑھانے اور اس کی خدمت کا معاوضہ دنیا ہی میں نہ چاہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو اپنے وقت پر اس کا بڑا غیر معمولی معاوضہ اور عظیم صلہ ملنے والا ہے۔
قرآن اور قوموں کا عروج و زوال
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ». (رواه مسلم)
حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ اس کتابِ پاک (قرآن مجید) کی وجہ سے بہت سوں کو اونچا کرے گا اور بہت سوں کو نیچے گرائے گا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی صفتِ قائمہ اور بندوں کے لئے اس کا فرمان اور عہد نامہ ہے۔ اس کی وفاداری اور تابعداری اللہ تعالیٰ کی وفاداری اور تابعداری ہے۔ اسی طرح اس سے انحراف اور بغاوت اللہ تعالیی سے انحراف اور سرکشی ہے، اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ جو قوم اور جو اُمت خواہ وہ کسی نسل سے ہو، اس کا کوئی بھی رنگ اور کوئی بھی زبان ہو، قرآن مجید کو اپنا راہنما بنا کر اپنے کو اس کا تابعدار بنا دے گی اور اس کے ساتھ وہ تعلق رکھے گی جو کلام اللہ ہونے کی حیثیت سے اس کا حق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دنیا اور آخرت میں سربلند کرے گا۔ اور اس کے برعکس جو قوم اور امت اس سے انحراف اور سرکشی کرے گی وہ اگر بلندیوں کے آسمان پر بھی ہو گی تو نیچی گرا دی جائے گی۔
اسلام اور مسلمانون کی پوری تاریخ اس حدیث کی گواہ اور اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کی آئینہ دار ہے۔ اس حدیث میں “اَقْوَامًا” کے لفظ سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ عروج و زوال کے اس الٰہی قانون کا تعلق افراد سے نہیں بلکہ قوموں اور امتوں سے ہے۔ واللہ اعلم۔
تلاوت قرآن کا اجر و ثواب
عَنِ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لاَ أَقُولُ الم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلاَمٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ. (رواه الترمذى والدارمى)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن پاک کا ایک حرف پڑھا اس نے ایک نیکی کما لی، اور یہ کہ ایک نیکی اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق دس نیکیوں کے برابر ہے۔ (مزید وجاحت کے لئے آپ نے فرمایا) میں نہیں کہتا (یعنی میرا مطلب یہ نہیں ہے) کہ الم ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ (اس طرح الم پڑھنے والا بندہ تیس نیکیوں کے برابر ثواب حاصل کرنے کا مستحق ہو گا۔) (جامع ترمذی، سنن دارمی)
تشریح
اللہ تعالیٰ کا یہ کریمانہ قانون کہ ایک نیکی کرنے والے کو دس نیکیوں کے برابر ثواب عطا ہو گا۔
واضح طور پر قرآن مجید میں بھی بیان فرمایا گیا ہے۔ سورہ انعام میں ارشاد ہے:
مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا(الانعام ع: 20)
جو بندہ ایک نیکی لے کر آئے گا اس کو اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب دیا جائے گا۔
مندرجہ بالا حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اُمت کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ جو بندہ اخلاص کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرے گا تو حروف تہجی کے ہر حرف کی تلاوت ایک نیکی شمار ہو گی جو اجر و ثواب کے لحاظ سے دس نیکیوں کے برابر ہو گی۔ اسی حدیث کی بیہقی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: “بسم اللہ” ایک حرف ہے بلکہ “ب” ایک حرف ہے “س” ایک حرف ہے “م” ایک حرف ہے۔ اور میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ “ا، ل، م” الگ الگ حروف ہیں۔ اللہ پاک یقین کی دولت نصیب فرمائے۔ اس حدیث میں کلام پاک کی تلاوت کرنے والوں کے لئے بڑی ہی خوشخبری ہے۔ فَطُوْبىٰ لَهُمْ
اس حدیث سے ایک واضح اشارہ یہ بھی ملا کہ قرآن مجید کی تلاوت پر ثواب کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ تلاوت معنی مفہوم سمجھ کر ہی ہو۔ کیوں کہ “الم” اور سارے حروف مقطعات کی تلاوت معنی مفہوم سمجھے بغیر ہی کی جاتی ہے، اور حدیث نے صراحۃً بتلایا کہ ان حروف کی تلاوت کرنے والوں کو بھی ہر حرف پر دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔ واللہ اعلم۔
قرآن کی تلاوت قلب کا صیقل
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذِهِ الْقُلُوبَ تَصْدَأُ، كَمَا يَصْدَأُ الْحَدِيدُ إِذَا أَصَابَهُ الْمَاءُ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا جِلَاؤُهَا؟ قَالَ: " كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “بنی آدم کے قلوب پر اسی طرح زنگ چڑھ جاتا ہے جس طرح پانی لگ جانے سے لوہے پر زنگ آ جاتا ہے۔ عرض کیا گیا کہ: “حضور (ﷺ) دلوں کے اس زنگ کے دور کرنے کا ذریعہ کیا ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا کہ: “موت کو زیادہ یاد کرنا، اور قرآن مجید کی تلاوت”۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
قلب کا زنگ یہ ہے کہ وہ اللہ سے اور آخرت کے انجام سے غافل اور بےفکر ہو جائے، یہ سارے چھوٹے بڑے گناہوں کی جڑ بنیاد ہے۔ اور بلاشبہ اس بیماری کی اکسیر دوا یہی ہے کہ اپنی موت کو بہت زیادہ یاد کیا جائے، اس کا دھیان اور مراقبہ کیا جائے اور قرآن مجید کی عظمت اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے خاص الخاص نسبت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ادب اور اخلاص کے ساتھ اس کی تلاوت کی جائے اگر یہ تلاوت اللہ تعالیٰ کی توفیق سے شوق اور تدبر کے ساتھ ہو گی تو ان شاء اللہ قلب کے زنگ کو دور کر کے اس کو نور سے بھر دے گی۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے۔ (1)
(1) حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں “ احسان ” کے بیان میں قرآن مجید کی تلاوت پر کلام کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے: “ تلاوت قرآن کی روح یہ ہے کہ شوق و محبت اور انتہائی تعظیم و اجلال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر قرآن پاک کی تلاوت کرے، اور اس کے مواعظ اور نصائح میں غور اور ان سے اثر لینے کی کوشش کرے، اور اس کے احکام و ہدایات کی تعمیل اور پیروی کے عزم کے ساتھ تلاوت کرے اور اسم میں بیان ہونے والے قصص اور امثال سے عبرت حاصل کرے، اور جب اللہ کی صفات کا بیان آئے تو کہے “سبحان اللہ” اور جب ان آیتوں سے گزرے جن میں جنت اور اللہ کی رحمت کا بیان ہے تو اللہ سے فضل و کرم فرمانے کی دُعا کرے اور اپنے لئے جنت اور رحمت کا سوال کرے۔ اور جب ان آیتوں سے گزرے جن میں دوزخ اور اللہ کے غضب کا بیان ہے تو اللہ سے پناہ مانگے”۔
بلاشبہ اس طرح کی تلاوت قلب کا خاص الخاص صیقل ہے اور جس بندہ کو کسی درجہ میں بھی ایسی تلاوت نصیب ہو اس پر اللہ تعالیٰ کا خاص الخاص فضل ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اس فضل سے محروم نہ فرمائے۔ ۱۲
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ، وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ، لَهُ أَجْرَانِ». (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن میں مہارت حاصل کر لی ہو (اور اس کی وجہ سے وہ اس کو ..... حفظ یا ناظرہ ......... بہتر طریقے پر اور بےتکلف رواں پڑھتا ہو وہ معزز اور وفادار و فرمانبردار فرشتوں کے ساتھ ہو گا۔ اور جو بندہ قرآن پاک (اچھا یاد اور رواں نہ ہونے کی وجہ سے زحمت اور مشقت کے ساتھ) اس طرح پڑھتا ہو کہ اس میں اٹکتا ہو تو اس کو دو اجر ملیں گے (ایک تلاوت کا اور دوسرے زحمت و مشقت کا) (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں سفرہ کا جو لفظ ہے اس سے اکثر شارحین نے حامل وحی فرشتے مراد لئے ہیں، اور بعض حضرات نے اس سے انبیاء و رُسل علیہم السلام مراد لئے ہیں، اور لفظی معنی میں ان دونوں ہی کی گنجائش ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے جو بندے قرآن کو کلام اللہ یقین کرتے ہوئے اس سے شغف رکھیں اور کثرتِ تلاوت اور اہتمام کی وجہ سے قرآنِ پاک سے ان کو خاص مناسبت اور مہارت حاصل ہو جائے۔ ان کو انبیاء و رسل کی یا حاملِ وحی فرشتوں کی معیت اور رفاقت حاصل ہو گی۔ اور جن ایمان والے بندوں کا حال یہ ہو کہ صلاحیت اور مناسبت کی کمی کی وجہ سے وہ قرآن کو رواں نہ پڑھ سکتے ہوں، بلکہ تکلف کے ساتھ اور اٹک اٹک کے پڑھتے ہوں اور اس کے باوجود اجر و ثواب کی امید پر تلاوت کرتے ہوں، ان کو تلاوت کے اجر و ثواب کے علاوہ اس زحمت و مشقت کا بھی ثواب ملے گا، اس لئے ان کو اپنی اس حالت کی وجہ سے شکستہ دل نہ ہونا چاہئے۔
قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کا انعام
عَنْ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ، أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ضَوْءُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيكُمْ، فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهَذَا؟» (رواه احمد وابوداؤد)
حضرت معاذ جھنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس نے قرآن پڑھا اور اس میں جو کچھ ہے اس پر عمل کیا، قیامت کے دن اس کے ماں باپ کو ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بھی زیادہ حسین ہو گی، جب کہ وہ روشنی دنیا کے گھروں مین ہو اور سورج آسمان سے ہمارے پاس ہی اتر آئے۔ (اس ک بعد حضور ﷺ نے فرمایا) پھر تمہارا کیا گمان ہے خود اس آدمی کے بارے میں جس نے خود یہ عمل کیا ہو؟ ” (مسند احمد، سنن ابی داؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ قرآن کے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والے کے والدین کو جب ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بھی حسین تر ہو گی، تو سمجھ لو کہ خود اس قرآن پڑھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا کیا عطا فرمایا جائے گا۔
قیامت میں قرآنِ پاک کی شفاعت و وکالت
عَنْ أَبِىْ أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ، اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ، وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ، فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ، تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا، اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ». (رواه مسلم)
حضرت ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ارشاد فرماتے تھے کہ: “قرآن پڑھا کرو، وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا شفیع بن کر آئے گا .... (خاص کر) “زہراوین” یعنی اس کی دو اہم نورانی سورتیں البقرۃ اور آل عمران پڑھا کراو، وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کو اپنے سایہ میں لئے اس طرح آئیں گی جیسے کہ وہ اَبر کے ٹکڑے ہیں، یا سائبان ہیں، یا صف باندھے پرندوں کے پرے ہیں۔ یہ دونوں سورتیں قیامت میں اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے مدافعت کریں گی (آپ ﷺ نے فرمایا) پڑھا کرو سورہ بقرہ کیونکہ اس کو حاصل کرنا بڑی برکت والی بات ہے، اور اس کو چھوڑنا بڑی حسرت اور ندامت کی بات ہے،ا ور اہلِ بطالت اس کی طاقت نہیں رکھتے۔” (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے قرآن پاک پڑھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ: قرآنِ اپنے “اصحاب” کے لئے بارگاہِ خداوندی میں شفاعت کرے گا۔ “اصحاب قرآن” وہ سب لوگ ہیں جو قرآنِ پاک پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس سے تعلق اور شغف کو اللہ تعالیی کی رضا اور رحمت کا وسیلہ یقین کرتے ہوئے اس سے خاص نسبت اور لگاؤ رکھیں، جس کی شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً کثرت سے اس کی تلاوت کریں، اس میں تدبر اور تفکر اور اس کے احکام پر عمل کرنے کا اہتمام رکھیں، یا اس کی تعلیم ہدایت کو عام کرنے اور پھیلانے کی جدوجہد کریں، ان سب کے لئے رسول اللہ ﷺ کی بشارت ہے کہ قرآنِ ان کے حق میں شفیع ہو گا۔ ہاں اخلاص یعنی اللہ کی رضا اور ثواب کی نیت شرط ہے۔
اس حدیث میں قرآنِ پاک کی قرأت و تلاوت کی عمومی ترغیب کے بعد رسول اللہ ﷺ نے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کی تلاوت و قرأت کی خصوصیت کے ساتھ بھی ترغیب دی ہے۔ اور فرمایا کہ: قیامت میں اور حشر میں جب ہر شخص سایہ کا بہت ہی محتاج اور ضرورت مند ہو گا، یہ دونوں سورتیں بادل یا سایہ دار چیز کی طرح یا پرندوں کے پرے کی طرح اپنے اصحاب پر سایہ کئے رہیں گی اور ان کی طرف سے وکالت اور جواب دہی کریں گی۔ اور آخر میں سورہ بقرہ کے متعلق مزید فرمایا کہ: اس کے سیکھنے اور پڑھنے میں بڑی برکت ہے، اور اس سے محرومی میں بڑا خسارہ ہے۔ اور اہلِ بطالت اس کی طاقت نہیں رکھتے۔
اس حدیث کے بعض راویوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد “ساحرین” ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ سورہ بقرہ کی تلاوت کا معمول رکھنے والے پر کبھی کسی جادو گر کا جودو نہیں چلے گا۔
سورہ بقرہ کی اس خاصیت اور تاثیر کا اشارہ اس حدیث سے بھی ملتا ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ: جس گھر میں سورہ بقرہ پڑھی جائے شیطان اس گھر سے بھاگنے پر مجبور ہوتا ہے۔ (1) بعض شارحین نے یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ اہل بطالت یعنی ناحق کوش لوگ شورہ بقرہ کی برکات حاصل نہ کر سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان برکات کا دورازہ بند کر دیا ہے۔ واللہ اعلم۔
قیامت میں قرآنِ پاک کی شفاعت و وکالت
عَنِ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، وَآلُ عِمْرَانَ»، كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ، تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا» (رواه مسلم)
حضرت نواس بن سمعان ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ: “قیامت کے دن قرآن کو اور ان قرآن والوں کو لایا جائے گا جو اس پر عامل تھے۔ سورہ بقرہ اور آل عمران (جو قرآن کی سب سے پہلی سورتیں ہیں) وہ پیش پیش ہوں گی (محسوس ہو گا) گویا کہ وہ بادل کے دو ٹکڑے ہیں، یا سیاہ رنگ کے دو سائبان ہیں جن میں نور کی چمک ہے، یا صف باندھے پرندوں کے دو پرے ہین، اور وہ مدافعت اور وکالت کریں گی اپنے سے تعلق رکھنے والوں کی ”۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث کا مضمون قریب قریب وہی ہے جو حضرت ابو امامہ کی مندرجہ بالا حدیث کا ہے۔ ذرا تصور کیا جائے قیامت اور میدانِ حشر کی ہولناکیوں کا۔ کیسے خوش نصیب ہوں گے اللہ کے وہ بندے جو قرآنِ پاک سے خاص تعلق اور شغف اور اس کے احکام کی فرمانبرداری کی برکت سے حشر کے اس پرہول میدان میں اس شان سے آئیں گے کہ اللہ کا کلام پاک ان کا شفیع و وکیل بن کر ان کے ساتھ ہو گ، اور اس کی پہلی اور اہم نورانی سورتیں بقرہ اور آل عمران اپنے انوار کے ساتھ ان کے سروں پر سایہ فگن ہوں گی۔ ان احادیث پر مطلع ہو جانے کے بعد بھی جو بندے اس سعادت کے حاصل کرنے میں کوتاہی کریں، بلاشبہ وہ بڑے محروم ہیں۔
خاص خاص سورتوں اور آیتوں کی برکات: سورۃ الفاتحہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَتُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَكَ سُورَةً لَمْ يَنْزِلْ فِي التَّوْرَاةِ وَلاَ فِي الإِنْجِيلِ وَلاَ فِي الزَّبُورِ وَلاَ فِي القُرْآنِ مِثْلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ تَقْرَأُ فِي الصَّلاَةِ؟ قَالَ: فَقَرَأَ أُمَّ القُرْآنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلاَ فِي الْإِنْجِيلِ وَلاَ فِي الزَّبُورِ وَلاَ فِي الفُرْقَانِ مِثْلُهَا، وَإِنَّهَا سَبْعٌ مِنَ الْمَثَانِي وَالقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُهُ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابی بن کعب سے فرمایا کہ: “کیا تمہاری خواہش ہے کہ میں تم کو قرآن کی وہ سورت سکھاؤں جس کے مرتبہ کی کوئی سورت نہ تورتت میں نازل ہوئی نہ انجیل میں نہ زبور میں اور نہ قرآن ہی میں؟ ابی نے عرض کیا ہاں حضور ﷺ! مجھے وہ سورت بتا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم نماز میں قرات کس طرح کرتے ہو؟ ابی نے آپ ﷺ کو سورہ فاتحہ پڑھ کر سنائی (کہ میں نماز میں یہ سورت پڑھتا ہوں، اور اس طرح پڑھتا ہوں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قسم اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ توریت، انجیل، زبورمیں کسی میں اور خود قرآن میں بھی اس جیسی کوئی سورت نازل نہیں ہوئی۔ یہی وہ سَبْعٌ مِنَ الْمَثَانِي وَالقُرْآنُ الْعَظِيمُ ہے جو مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔” (جامع ترمذی)
تشریح
بعض حدیثوں میں خاص خاص سورتوں اور آیتوں کے فضائل و برکات بھی بیان فرمائے گئے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو امامہ باہلیؓ اور حضرت نواس بن سمعانؓ کی مندرجہ بالا حدیثوں میں پورے قرآن کی فضیلت کے ساتھ خاص طور سے سورہ بقرہ اور آل عمران کی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے۔
اس طرح دوسری بعض سورتوں اور خاص خاص آیتوں کے فضائل و برکات بھی مختلف مواقع پر رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائے ہیں۔ ذیل میں اس سلسلہ کی بھی چند حدیثیں درج کی جا رہی ہیں۔
تشریح ..... قرآنِ مجید میں سورہ حجر کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر اپنے خاص الخاص انعام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے: “وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ”(اور ہم نے تم کو سات آیتیں وظیفہ کے طور پر بار بار دہرائی جانے والی عطا کیں اور قرآن عظیم) رسول اللہ ﷺ نے مندرجہ بالا حدیث میں اس آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ “سَبْعٌ مِنَ الْمَثَانِي وَالقُرْآنُ الْعَظِيمُ” سورہ فاتحہ ہی ہے۔ اور یہ ایسی عظیم الشان اور عظیم البرکت سورت ہے کہ اس درجہ کی سورت کسی پہلی آسمانی کتاب میں بھی نازل نہیں کی گئی، اور قرآن میں بھی اس کے درجہ کی کوئی دوسری سورت نہیں ہے۔ یہ پورے قرآن کے مضامین پر حاوی ہے۔ اسی لئے اس کو “ام القرآن” بھی کہا جاتا ہے۔ اور اسی لئے اس کو قرآن کا افتتاحیہ قرار دیا گیا ہے، اور ہر نماز کی ہر رکعت میں اس کا پڑھنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس حدیث کی بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ جس بندے کو سورہ فاتحہ یاد ہے اور اخلاص کے ساتھ اس کا پڑھنا اس کو نصیب ہوتا ہے اس کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی دولت اور نعمت نصیب ہے۔ چاہئے کہ وہ اس کی قدر و عظمت کو محسوس کرے اور اس کا حق ادا کرے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامٌ، وَسَنَامُ القُرْآنِ سُورَةُ البَقَرَةِ وَفِيهَا آيَةٌ هِيَ سَيِّدَةُ آيِ القُرْآنِ، هِيَ آيَةُ الكُرْسِيِّ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “ہر چیز کی کوئی چوٹی ہوتی ہے (جو سب سے اوپر اور بالا تر ہوتی ہے) اور قرآن کی چوٹی سورہ بقرہ ہے، اور اس میں ایک آیت (آیت الکرسی) تمام آیاتِ قرآنی کی گویا سردار ہے۔” (جامع ترمذی)
تشریح
اسلام کے بنیادی اصول و عقائد اور احکام شریعت کا جتنا تفصیلی بیان سورہ بقرہ میں کیا گیا، اتنا اور ایسا قرآن پاک کی کسی دوسری سورت میں نہیں کیا گیا۔ غالباً اسی خصوصیت کی وجہ سے اس کو قرآن مجید میں سب سے مقدر رکھا گیا ہے، اور غالبا اسی امتیاز کی وجہ سے اس کو اس حدیث میں “سنام القرآن” کا لقب دیا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، وَإِنَّ البَيْتَ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ البَقَرَةُ لاَ يَدْخُلُهُ الشَّيْطَانُ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “اپنے گھروں کو مقبرے نہ بنا لو یعنی جس طرح قبرستانوں میں مُردے ذکر و تلاوت نہیں کرتے اور اس کی وجہ سے قبرستانوں کی فضا ذِکر و تلاوت کے انوار و آثار سے خالی رہتی ہے، تم اس طرح اپنے گھروں کو نہ بنا و، بلکہ گھروں کو ذکر تلاوت سے معمور رکھا کرو) اور جس گھر میں (خاصکر) سورہ بقرہ پڑھی جائے اس گھر میں شیطان نہیں آ سکتا”۔ (جامع ترمذی)
تشریح
بعض سورتوں کے، اور اسی طرح بعض آیات کے کچھ خواص ہیں۔ اس حدیث میں سورہ بقرہ کی خاص برکت اور تاثیر یہ بیان فرمائی ہے کہ جس گھر میں اس کی تلاوت کی جائے وہ شیطان کے اثرات اور تسلط سے محفوظ رہے گا۔
سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کی بعض خاص فضیلتوں کا بیان اس سے پہلے بھی بعض حدیثوں میں ضمناً گزر چکا ہے۔
عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ أَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ سُوْرَةَ الَْكَهْفِ فِىْ يَوْمَ الجُمُعَةِ أَضَاءَ لَهُ النُّوْرُ مَا بَيْنَ الْجُمْعَتَيْنِ. (رواه البيهقى فى الدعوات الكبير)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھے اس کے لئے نور روشن ہو جائے گا دو جمعوں کے درمیان”۔ (دعوات الکبیرللبیہقی)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ کہف کو جمعہ کے دن کے ساتھ کوئی خاص مناسبت ہے جس کی وجہ سے اس دن میں اس کی تلاوت کے لئے رسول اللہ ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ ترغیب دی ہے۔ اور فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن سورہ کہف کے پڑےھنے سے قلب میں ایک خاص نور پیدا ہو گا جس کی روشنی اور برکت اگلے جمعہ تک رہے گی۔ اس حدیث کو حاکم نے بھی مستدرک میں روایت کیا ہے اور کہا ہے۔ “(هذا حديث صحيح الاسناد ولم يخرجاه”
ایک دوسری حدیث میں (جس کو امام مسلم نے بھی روایت کیا ہے) سورہ کہف کی ابتدائی دس آیتوں کے بارے میں وارد ہوا ہے کہ: “جو ان کو یاد کر لے گا اور پڑھے گا وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا”۔ اس کی توجیہ میں شارحین حدیث نے لکھا ہے کہ سورہ کہف کے ابتدائی حصہ میں جو تمہیدی مضمون ہے اور اسی کے ساتھ اصحاب کہف کا جو وقعہ بیان فرمایا گیا ہے اس میں ہر دجالی فتنہ کا پورا توڑ موجود ہے اور جس دل کو ان حقائق اور مضامین کا یقین نصیب ہو جائے جو کہف کی ان ابتدائی آیتوں میں میںٰ بیان کئے گئے ہیں وہ دل کسی دجالی فتنہ سے کبھی متاثر نہ ہو گا۔ اسی طرح اللہ کے جو بندے ان آیتوں کی اس خاصیت اور برکت پر یقین کرتے ہوئے ان کو اپنے دل و دماغ میں محفوظ کریں گے اور ان کی تلاوت کریں گے اللہ تعالیٰ ان کو بھی دجالی فتنوں سے محفوظ رکھے گا۔
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَرَأَ يس ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ فَاقْرَءُوهَا عِنْدَ مَوْتَاكُمْ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ رضا کے لئے سورہ یٰسین پڑھی اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے، لہذا یہ مبارک سورت مرنے والوں کے پاس پڑھا کرو۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
اس حدیث میں مرنے والوں کے پاس (عِنْدَ مَوْتَاكُمْ) یٰسین شریف پڑھنے کے لئے جو فرمایا گیا ہے اس کا مطلب بظاہر یہی ہے کہ مرنے ولے کے پاس اس کے آخری وقت میں یہ سورت پڑھی جائے۔ اور اکثر علماء نے یہی سمجھا ہے اور اس لئے یہی معمول ہے لیکن دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مر جانے والے کی قبر پر یہ سورۃ پڑھی جائے تا کہ یہ اس کی مغفرت کا وسیلہ بن جائے۔
عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ يس فِي صَدْرِ النَّهَارِ، قُضِيَتْ حَوَائِجُهُ» (رواه الدارمى مرسلا)
عطاء بن ابی رباح تابعی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “جو بندہ دن کے ابتدائی حصے میں یعنی علی الصباح سورہ یٰسین پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کی حاجتیں پوری فرمائے گا۔” (سنن دارمی)