ذکراللہ سے غفلت کا انجام حسرت و محرومی اور دل کی قساوت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ، وَمَنْ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا، لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ. (رواه ابوداؤد)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کہیں بیٹھا اور اس نشست میں اس نے اللہ کو یاد نہیں کیا تو یہ نشست اس کے لئے بڑی حسرت اور خسران کا باعث ہو گی، اور اسی طرح جو شخص کہیں لیٹا اور اس میں اس نے اللہ کو یاد نہیں کیا تو یہ لیٹنا اس کے لئے بڑی حسرت اور خسران کا باعث ہو گا۔ (سنن ابی داؤد)
ذکراللہ سے غفلت کا انجام حسرت و محرومی اور دل کی قساوت
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تُكْثِرُوا الكَلاَمَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللهِ فَإِنَّ كَثْرَةَ الكَلاَمِ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللهِ قَسْوَةٌ لِلْقَلْبِ، وَإِنَّ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللهِ القَلْبُ القَاسِي. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “اللہ کے ذکر کے بغیر زیادہ کلام نہ کیا کرو، کیوں کہ اس سے دل میں قساوت (سختی اور بےحسی) پیدا ہوتی ہے اور لوگوں میں وہ آدمی اللہ سے زیادہ دو ر ہے جس کے قلب میں قساوت ہو۔” (جامع ترمذی)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اللہ کے ذکر کے بغیر زبان زیادہ چلانے کا عادی ہو گا اس کے دل میں قساوت یعنی بےحسی اور بےنوری پیدا ہو گی اور وہ اللہ کے قرب اور اس کی خاص رحمت سے محروم رہے گا۔ اعاذنا الله منه
کلمات ذِکر اور ان کی فضیلت و برکت
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الْكَلَامِ أَرْبَعٌ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ. (رواه مسلم)
حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمام کلموں میں افضل یہ چار کلمے ہیں: سُبْحَانَ اللَّهِ اور الْحَمْدُ لِلَّهِ اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اور اللَّهُ أَكْبَرُ. (صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے جس طرح اللہ کے ذکر کی ترغیب دی اور تاکید فرمائی اُسی طرح اس کے خاص کلمات بھی تلقین فرمائے، اگر یہ نہ ہوتا تو اس کا امکان تھا کہ علم و معرفت کی کمی کی وجہ سے بہت سے لوگ اللہ کا ذکر اس طرح کرتے جو اس کے شایان شان نہ ہوتا، یا جس سے بجائے حمد و ثناء کے معاذ اللہ اس کی تنقیص ہوتی۔ عارف رومی نے اپنی مثنوی میں حضرت موسیٰؑ اور ایک چرواہے کی جو حکایت بیان کی ہے وہ اسی کی ایک مثال ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے جو کلمات ذِکر تلقین فرمائے ہیں وہ معنوی لحاظ سے مندرجہ ذیل چند قسموں میں سے کسی ایک قسم کے ہیں: یا تو ان میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہ اور تقدیس ہے (یعنی ان کا مفہوم اور مدعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اس بات سے منزہ اور پاک ہے جس میں عیب و نقص کا شائبہ بھی ہو) (سُبْحَانَ اللهِ) کا یہی مفہوم اور مدعا ہے۔ یا ان میںٰ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء ہے (یعنی ان کا مفہوم اور مدعا یہ ہے کہ ساری خوبیاں اور تمام کمالی صفات اللہ تعالیٰ میں ہیں اور اس لئے حمد و ثناء اسی کو سزاوار ہے۔ (الْحَمْدُ لِلَّهِ) کی یہی خصوصیت ہے۔ یا ان میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی شانِ یکتائی کا بیان ہے۔ چنانچہ (لَا إِلَهَ إِلا اللهُ) کی یہی شان ہے۔ یا ان میں اللہ تعالیٰ کی اس شانِ عالی کا اظہار ہے کہ ہم نے اس کے بارے میں منفی اور مثبت طور پر جو کچھ جانا اور سمجھا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی بلند و بالا اور وراء الوراء ہے، (اللهُ أَكْبَرُ) کا یہی مفہوم و مدعا ہے۔ یا ان کلمات میں اس حقیقت کا اظہار ہے کہ سب کچھ کرنے والا اللہ ہی ہے اس کے سوا کسی کے بس میں کچھ نہیں، لہذا وہی اس کا حقدار ہے کہ اس سے مدد مانگی جائے اور اس پر بھروسہ کیا جائے۔ (لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ) کی یہی نوعیت اور خصوصیت ہے۔
اس طرح کے کلماتِ ذکر کے علاوہ مختلف اوقات اور مختلف حاجتوں کے لئے دعائیں آپ ﷺ نے تعلیم فرمائیں۔ ان کے بارے میں ان شاء اللہ آگے مستقلاً لکھا جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے آگے درج ہونے والی حدیثوں میں جن کلماتِ ذکر کی تلقین فرمائی ہے وہ اختصار کے باوجود اللہ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس اور تحمید و توحید اور اس کی شانِ کبریائی و صمدیت کے بیان میں بلاشبہ معجزانہ شان رکھتے ہیں اور اس کی معرفت کے گویا دروازے ہیں۔
اس مختصر تمہید کے بعد اس سلسلہ کے رسول اللہ ﷺ کے چند ارشادات ذیل میں پڑھئے۔
تشریح ..... اسی حدیث کی ایک دوسری روایت میں “أَفْضَلُ الْكَلَامِ أَرْبَعٌ” کے بجائے “أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللهِ أَرْبَعٌ” کے الفاظ بھی نقل کئے گئے ہیں، جس کا ترجمہ یہ ہو گا کہ سب کلموں مین اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیارے یہ چار کلمے ہیں۔
کلمات ذِکر اور ان کی فضیلت و برکت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ أَقُولَ سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ» (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اس دنیا کی وہ تمام چیزیں جن پر سورج کی روشنی اور اس کی شعاعیں پڑتی ہیں، ان سب چیزوں کے مقابلے میں مجھے یہ زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک دفعہ “سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ” کہوں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ان چاروں کلموں کا اجمالی مفہوم اوپر کی تمہیدی سطروں میں ذکر کیا جا چکا ہے اس سے یہ اندازہ بھی ہو گیا ہو گا کہ یہ نہایت مختصر اور ہلکے پھلکے چار کلمے اللہ تعالیٰ کی تمام مثبت و منفی صفاتِ کمال پر کس قدر حاوی ہیں۔ بعض عرفاء کاملین نے لکھا ہے کہ:
اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء حسنیٰ جو اس کی تمام صفات کمال کی ترجمانی کرتے ہین ان میں سے کسی کا مفہوم بھی ان چار کلموں سے باہر نہیں ہے۔ مثلاً الْقُدُّوسُ، السَّلامُ الظَّاهِرُ جیسے اسماء جو اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک سے ہر عیب و نقص کی نفی کرتے ہیں۔ سبحان اللہ کا مفہوم ان سب پر حاوی ہے۔ اسی طرح الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ الْكَرِيْمُ الْعَلِيمُ اَلْقَدِيْرُ السَّمِيعُ، الْبَصِيرُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ جیسے وہ تمام اسماء حسنیٰ جو اللہ تعالیٰ کی ایجابی صفاتِ کمال پر دلالت کرتے ہیں، وہ سب الحمدللہ کے احاطے میں آ جاتے ہیں۔ اسی طرح جو اسماء حسنیٰ اس کی وحدانیت و یکتائی اور اس کی شانِ لاشریکی و بےمثالی پر فلالت کرتے ہیں، جیسے الْوَاحِدُ، الْأَحَدُ وغیرہ، ان کی پوری ترجمانی کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کرتا ہے۔ علیٰ ہذا الْعَلِيُّ الْاَعْلَى الْكَبِيْرُ الْمُتَعَالِي جیسے اسماء حسنیٰ جن کا مفہوم و مدعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جو کچھ کسی نے جانا اور سمجھا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی بلند و بالا اور وراء الوراء ہے۔ بلا شبہ الله اكبر اس حقیقت کی بہترین تعبیر ہے۔
پس جس نے دل کے شعور و یقین کے ساتھ کہا سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ اس نے اللہ کی ساری ثناء و صفت بیان کر دی اور تمام اسماء حسنیٰ میں اللہ تعالیٰ کی جن ایجابی یا سلبی صفاتِ کمال کا بیان ہے دل سے ان سب کی شہادت دے دی، اس لئے یہ چار کلمے اپنی قدر و قیمت اور عظمت و برکت کے لحاظ سے بلاشبہ اس ساری کائنات کے مقابلے میں فائق ہیں جس پر سورج کی روشنی یا اس کی شعاعیں پڑتی ہیں۔ جن قلوب کو ایمان کی دولت نصیب ہے ان کے لئے یہ حقیقت بالکل وجدانی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان کی یہ دولت نصیب فرمائے۔
کلمات ذِکر اور ان کی فضیلت و برکت
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى شَجَرَةٍ يَابِسَةِ الوَرَقِ فَضَرَبَهَا بِعَصَاهُ فَتَنَاثَرَ الوَرَقُ، فَقَالَ: إِنَّ الحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ لَتُسَاقِطُ مِنْ ذُنُوبِ العَبْدِ كَمَا تَسَاقَطَ وَرَقُ هَذِهِ الشَّجَرَةِ. (رواه الترمذى)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے درضت کے پاس سے گزرے جس کے پتے سوکھ چکے تھے، آپ ﷺ نے اس پر اپنا عصائے مبارک مارا تو اس کے سوکھے پتے جھڑ پڑے (اور ساتھ والوں نے وہ منظر دیکھا) پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ: یہ کلمے: “سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ” بندے کے گناہوں کو اس طرح جھاڑ دیتے ہیں جس طرح تم نے اس درخت کے پتے جھڑتے دیکھے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
نیک اعمال کی اس خاصیت کا ذکر قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے کہ ان کی برکت اور تاثیر سے گناہ مِٹ جاتے ہیں۔ ارشاد ہے: “اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ ” (یقینی بات ہے کہ نیکیاں گناہوں کا صفایا کر دیتی ہیں)۔
احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے نماز اور صدقہ وغیرہ بہت سے اعمالِ صالحہ کی اس تاثیر کا خصوصیت سے بیان فرمایا ہے۔ اس حدیث میں آپ ﷺ نے ان چار کلموں کی یہ تاثیر بیان فرمائی اور درخت کے سوکھے پتے عصا کی ایک ضرب سے جھاڑ کے صحابہ کرامؓ کو اس کا ایک نمونہ بھی دکھایا۔ اللہ تعالیٰ ان حقیقتوں کا یقین نصیب فرمائے، اور ان کلموں کی عظمت و تاثیر سے استفادہ کی توفیق دے۔
کلمات ذِکر اور ان کی فضیلت و برکت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، حُطَّتْ خَطَايَاهُ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ البَحْرِ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے روزانہ سو دفعہ کہا (سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ) اس کے قصور معاف کر دئیے جائیں گے اگرچہ کثرت میں سمندر کے جھاگوں کے برابر ہوں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
“سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ” کا مطلب وہی ہے جو “سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ” کا ہے، یعنی ہر اس بات سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ و تقدیس جو اس کے شایان شان نہیں ہے اور جس میں ذرا بھی قصور یا عیب کا کوئی شائبہ ہے، اور اسی کے ساتھ تمام صفات کمال کا اس کی ذات عالی کے لئے اثبات اور اس کی بناء پر اس کی حمد و ثناء اس طرح یہ مختصر کلمہ “سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ” اس سب پر حاوی ہے جو سلبی یا ایجابی طور پر اللہ تعالیٰ کی ثناء و صفت کہا جا سکتا ہے۔ حدیث سابق کی طرح اس حدیث میں مختصر دو حرفی کلمہ کی یہ تاثیر بیان کی گئی ہے کہ جو بندہ روزانہ یہ کلمہ سو دفعہ پڑھے تو اس کے سارے گناہ دور ہو جائیں گے اور وہ گناہوں کی گندگی سے پاک صاف ہو جائے گا، اگرچہ اس کے گناہ سمندر کے جھاگوں کے برابر حد و حساب سے باہر ہوں۔ گویا جس طرح تیز روشنی اندھیرے کو ایک دم ختم کر دیتے ہے اور جس طرح سخت تپش بالخاصہ نمی اور رطوبت کو فنا کر دیتی ہے اسی طرح اللہ کا ذکر اور دوسری نیکیاں گناہوں کے گندے اثرات کو فنا کر دیتی ہیں۔ لیکن جیسا کہ اسی سلسلہ (معارف الحدیث) میں کئی بار پہلے ذکر کیا جا چکا ہے قرآن مجید کی بعض آیات اور رسول اللہ ﷺ کے بعض ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ نیکیوں کی برکت اور تاثیر سے صرف وہ خطائیں معاف ہوتی ہیں جو “کبیرہ” درجہ کی نہ ہوں، اس لئے بڑے درجہ کے گناہ جن کو خاص اصطلاح میں گناہ کبیرہ کہا جاتا ہے۔ ان کی معافی کے لئے توبہ و استغفار ضروری ہے۔ واللہ اعلم۔
کلمات ذِکر اور ان کی فضیلت و برکت
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْكَلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَا اصْطَفَى اللهُ لِمَلَائِكَتِهِ: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ " (رواه مسلم)
حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ: کلاموں میں کون سا کلام افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ کلام جو اللہ تعالیٰ نے اپنے ملائکہ کے لئے منتخب فرمایا ہے۔ یعنی “سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ”. (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کا خاص ذکر یہی “سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ” ہے۔ اس حدیث مین اس کلمہ کو سب سے افضل کہا گیا ہے۔ اور حضرت سمرہ بن جندب ؓ کی حدیث میں جودو ہی ورق پہلے درج ہو چکی ہے فرمایا گیا ہے کہ سب سے افضل یہ چار کلمے ہیں: “سُبْحَانَ اللهِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، اللهُ أَكْبَرُ” اور ایک دوسری حدیث میں “لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ” کو افضل الذکر فرمایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان تینوں باتوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کلمے دوسرے سب کلاموں کے مقابلے میں افضل اور اللہ کو زیادہ محبوب ہیں۔
کلمات ذِکر اور ان کی فضیلت و برکت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي المِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللَّهِ العَظِيمِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “دو کلمے زبان پر ہلکے پھلکے، میزانِ اعمال میں بڑے بھاری اور خدا وند مہربان کو بہت پیارے۔ “سُبْحَانَ اللَّهِ العَظِيمِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ”. (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
ان دو کلموں کا زبان پر ہلکا ہونا تو ظاہر ہے، اور اللہ تعالیٰ کو محبوب ہونا بھی آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے، لیکن میزانِ اعمال مین بھاری ہونے والی بات کا سمجھنا شاید بعض لوگوں کے لئے آسان نہ ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ جس طرح مادی چیزیں ہلکی اور بھاری ہوتی ہیں اور ان کا وزن معلوم کرنے کے لئے آلات ہوتے ہیں جن کو میزان (ترازو یا کانٹا) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح بہت سی غیر مادی چیزیں بھی ہلکی اور بھاری ہوتی ہیں اور ان کا ہلکا اور بھاری پن بتانے والا آلہ ہوتا ہے۔ وہی اس کی میزان ہوتی ہے۔ مثلاً حرارت اور برودت یعنی گرمی اور ٹھنڈک ظاہر ہے کہ مادی چیزیں نہیں ہیں بلکہ کیفیات ہیں، لیکن ان کا ہلکا اور بھاری پن تھرمامیٹر کے ذریعہ معلوم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح قیامت مین اللہ کے نام کا وزن ہو گا، کلمات ذکر کا وزن ہو گا، تلاوتِ قرآن کا وزن ہو گا، نماز کا وزن ہو گا۔ ایمان کا اور اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی محبت کا وزن ہو گا۔ اس وقت یہ بات کھل کر سامنے آئے گی کہ بعض بہت ہلکے پھلکے کلمے بےحد وزنی ہوں گے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ: “اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھی بھاری اور وزنی نہ ہو گی۔ ” لَا يَزِنُ مَعَ اسْمِ اللهِ شَيْئٌ.
اس کلمہ “سُبْحَانَ اللَّهِ العَظِيمِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ” کا مطلب یہ ہے کہ میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں اس کی حمد و ستائش کے ساتھ، میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو بڑی عظمت والا ہے۔
کلمات ذِکر اور ان کی فضیلت و برکت
عَنْ جُوَيْرِيَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ، وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى، وَهِيَ جَالِسَةٌ، فَقَالَ: «مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ " (رواه مسلم)
ام المؤمنین حضرت جویریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن نمازِ فجر پڑھنے کے بعد ان کے پاس سے باہر نکلے، وہ اس وقت اپنی نماز پڑھنے کی جگہ بیٹھی کچھ پڑھ رہی تھیں۔ پھر آپ ﷺ دیر کے بعد جب چاشت کا وقت آ چکا تھا واپس تشریف لائے، حضرت جویریہؓ اسی طرح بیٹھی اپنے وظیفہ میں مشغول تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “تمہارے پاس سے جانے کے بعد میں نے چار کلمے تین دفعہ کہے، اگر وہ تمہارے اس پورے وظیفے کے ساتھ تولے جائیں جو تم نے آج صبح سے پڑھا ہے تو ان کا وزن بڑھ جائے گا، وہ کلمے یہ ہیں: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ (اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد اس کی ساری مخلوقات کی تعداد کے برابر اور اس کے عرش عظیم کے وزن کے برابر، اور اس کی ذاتِ پاک کی رضا کے مطابق اور اس کے کلموں کی مقدار کے مطابق۔ (صحیح مسلم)
کلمات ذِکر اور ان کی فضیلت و برکت
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَبَيْنَ يَدَيْهَا نَوَاةٌ، أَوْ قَالَ: حَصَاةٌ تُسَبِّحُ بِهَا، فَقَالَ: أَلاَ أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا أَوْ أَفْضَلُ؟ سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ. (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہنچے ایک بیوی کے پاس اور ان کے آگے کھجور کی گٹھلیاں تھیں، (یا سنگریزے تھے) وہ ان گٹھلیوں (یا سنگریزوں) پر تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “میں تم کو نہ نہ بتا دوں جو تمہارے لئے اس سے زیادہ آسان ہے۔ (یا فرمایا کہ اس سے افضل ہے) وہ یہ ہے کہ تم اس طرح کہو:
سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ.
سبحان اللہ ساری مخلوق کی تعداد کے مطابق۔ سبحان اللہ ساری زمینی مخلوق کی تعداد کے مطابق۔ سبحان اللہ زمین و آسمان کے درمیان کی ساری مخلوقات کی تعداد کے مطابق۔ جس کو وہ ابد الآباد تک پیدا فرمانے والا ہے۔
اور (اللهُ أَكْبَرُ) اسی طرح، اور (الْحَمْدُ لِلَّهِ) اسی طرح اور (لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ) اسی طرح اور (لا حول ولا قوة الا بالله) اسی طرح۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
ان دونوں حدیثوں سے معلو ہوا کہ زیادہ ثواب حاصل کرنے کا ایک طریقہ جس طرح کثرتِ ذکر ہے اسی طرح ایک آسان تر طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ ایسے الفاظ شامل کر دئیے جائیں جو کثرتِ تعداد پر دلالت کرنے والے ہوں۔ جیسا کہ مندرجہ بالا دونوں حدیثوں میں حضور ﷺ نے بتلایا ہے۔
یہاں یہ بات ملحوظ رکھنے کی ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے بعض حدیثوں میں کثرتِ ذکر کی ترغیب دی ہے۔ اور قریب ہی وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں آپ ﷺ نے روزینہ سو دفعہ “سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ” کہنے والے کو گناہوں کے معاف کئے جانے کی خوشخبری سنائی ہے۔ اس لئے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی روایت کردہ اس حدیث، اور اس سے پہلے والی حضرت جویریہؓ کی حدیث سے کثرتِ ذکر کی نفی یا باپسندیدگی سمجھنا ہرگز صحیح نہ ہو گا۔ ان دونوں حدیثوں کا منشاء اور مدعا دراصل یہ ہے کہ زیادہ ثواب حاصل کرنے کا ایک زیادہ آسان طریقہ یہ بھی ہے اور خاص کر وہ لوگ جو اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے ذِکر اللہ کے لئے زیادہ وقت فارغ نہ کر سکیں، وہ اس طرح سے بھی بڑا ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں فرمایا ہے کہ: “جس شخص کا مقصد اپنے باطن اور اپنی زندگی کو ذکر کے رنگ میں رنگنا ہو اس کو کثرت ذکر کا طریقہ اختیار کرنا ناگزیر ہے، اور جس کا مقصد ذکر سے صرف ثوابِ اُخروی حاصل کرنا ہو اس کو ایسے کلمات ذکر کا انتخاب کرنا چاہئے جو معنوی لحاظ سے زیادہ فائق اور سیع تر ہوں جیسے کہ ان دونوں حدیثوں میں مذکور ہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عہدِ نبویﷺ میں تسبیح کا رواج تو نہیں تھا لیکن بعض حضرات اس مقصد کے لئے گٹھلیاں یا سنگریزے استعمال کرتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس سے منع نہیں فرمایا۔ ظاہر ہے کہ اس میں اور تسبیح کے دانوں کے ذریعے شمار میں کوئی فرق نہیں، بلکہ تسبیح دراصل اس کی ترقی یافتہ اور سہل شکل ہے۔ جن حضرات نے تسبیح کو بدعت قرار دیا ہے بلاشبہ انہوں نے شدت اور غلو سے کام لیا ہے۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کی خاص فضیلت
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الذِّكْرِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. (رواه الترمذى وابن ماجه)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے افضل ذکر “لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ” ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
حضرت سمرہ بن جندبؓ والی وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ سب کلموں میں افضل یہ چار کلمے ہیں: سُبْحَانَ اللهِ اور الْحَمْدُ لِلَّهِ اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اور اللهُ أَكْبَرُ. اور حضرت جابرؓ والی اس حدیث میں لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کو افضل ترین کلمہ فرمایا گیا ہے۔ واقعہ یہی ہے کہ دنیا بھر کے دوسرے سب کلموں اور کلاموں کے مقابلے میں تو یہ چاروں کلمے افضل ہیں، لیکن ان سب میں نسبتاً لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ افضل ہے، کیوں کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ باقی تینوں کلموں کے مدعا کو بھی ضمنی طور پر اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ جب بندہ یہ کہتا ہے کہ معبود برحق صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں، تو اس کے ضمن میں یہ بات خود بخود آ جاتی ہے کہ وہ ہر نقص و عیب سے پاک اور منزہ ہے، اور تمام صفاتِ کمال کا وہ جامع ہے اور عظمت و کبریائی میں وہ برتر ہے، کیوں کہ جو لا شریک معبود ہو اس میں یہ سب باتیں ہونا لازمی ہیں۔ اس لئے جس نے صرف لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہا اس نے گویا وہ سب کچھ بھی کہہ دیا جو سُبْحَانَ اللهِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ اور اللهُ أَكْبَرُ کے ذریعے کہا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں “لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ” کلمہ ایمان ہے۔ اور اسی لئے سب پیغمبروں کی تعلیم کا پہلا سبق ہے۔ نیز اپنے اپنے تجربہ کی بناء پر عرفا اور صوفیاء کا اس پر گویا اتفاق ہے کہ باطن کی تطہیر اور قلب کو ہر طرف سے موڑ کے اللہ تعالیٰ سے وابستہ کرنے مین سب سے زیادہ مؤثر اسی کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا ذکر ہوتا ہے۔ اسی لئے ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایمانی کیفیت کو قلب میں تازہ کرنے اور ترقی دینے کے لئے اس کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کی کثرت کا حکم دیا ہے۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کی خاص فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ إِلاَّ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، حَتَّى تُفْضِيَ إِلَى العَرْشِ، مَا اجْتَنَبَ الكَبَائِرَ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو بندہ دل کے اخلاص سے کہے لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ اس کے لئے لازماً آسمانوں کے دروازے کھل جائیں گے، یہاں تک کہ وہ کلمہ عرش الٰہی تک پہنچے گا بشرطیکہ وہ آدمی کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث میں کلمہ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ کی ایک خاص فضیلت و خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ اگر اخلاص سے یہ کلمہ کہا جائے اور اللہ سے دور کرنے والے بڑے گناہوں سے بچنے کا اہتمام کیا جائے تو یہ کلمہ براہِ راست عرشِ الٰہی تک پہنچتا ہے اور خاص مقبولیت سے نوازا جاتا ہے۔ اور ترمذی ہی کی ایک دوسری حدیث میں ہے:
وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ لَيْسَ لَهَا حِجَابٌ مِنْ دُونِ اللهِ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَيْهِ.
کلمہ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں، یہ کلمہ سیدھا اللہ کے پاس پہنچتا ہے۔
معلوم ہوا کہ ذکر اللہ کے دوسرے کلموں کے مقابلے میں اس کلمہ کی یہ ایک مخصوص فضیلت اور خصوصیت ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ “حجۃ اللہ البالغہ” میں فرماتے ہیں “لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ” میں بہت سے خواص ہیں۔ پہلی خاصیت یہ ہے کہ وہ شرکِ جلی کو ختم کر دیتا ہے۔ دوسری خاصیت یہ ہے کہ وہ شرکِ خفی کو بھی ختم کرتا ہے، اور تیسری خاصیت یہ ہے کہ وہ بندے کے اور معرفتِ الہٰی کے درمیان حجابات کو سوخت کر کے حصول معرفت اور قرب کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کی خاص فضیلت
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ مُوسَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَبِّ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَذْكُرُكَ بِهِ، أَوْ أَدْعُوكَ بِهِ. فَقَالَ: يَا مُوسَى، قُلْ: لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ. فَقَالَ: يَا رَبِّ، كُلُّ عِبَادِكَ يَقُولُ هَذَا، إِنَّمَا أُرِيدُ شَيْئًا تَخُصُّنِي بِهِ. قَالَ: يَا مُوسَى، لَوْ أَنَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ وَعَامِرَهُنَّ غَيْرِي، وَالأَرَضِينَ السَّبْعَ وُضِعْنَ فِي كِفَّةٍ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ، لَمَالَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ". (رواه البغوى فى شرح السنة)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: “اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کیا کہ اے میرے رب مجھ کو کوئی کلمہ تعلیم فرما جس کے ذریعے میں تیرا ذکر کروں (یا کہا کہ جس کے ذریعے میں تجھے پکاروں) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
کہ اے موسیٰؑ! لاالہ الا اللّٰہ کہا کرو۔ انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب! یہ کلمہ تو تیرے سارے ہی بندے کہتے ہیں، میں تو وہ کلمہ چاہتا ہوں جو آپ خصوصیت سے مجھے ہی بتائیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: اے موسیٰؑ! اگر ساتوں آسمان اور میرے سواوہ سب کائنات جس سے آسمانوں کی آبادی ہے اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھی جائیں اور لاالہ الا اللّٰہ دوسرے پلڑے میں تو لاالہ الا اللّٰہ کا وزن ان سب سے زیادہ ہوگا۔ (شرح السنہ للبغوی)
تشریح
موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بندگی اور محبت کا جو خاص تعلق تھا اور اس کی بناء پر قربِ خصوصی کی جو قدرتی خواہش تھی اسی کی وجہ سے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے استدعا کی کہ مجھے ذکر کا کوئی خاص کلمہ تعلیم فرمایا جائے، اللہ تعالیٰ نے ان کو لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ بتایا جو افضل الذکر ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ میری استدعا کسی خاص کلمہ کے لئے ہے جس سے مجھے ہی نوازا جائے۔ الغرض کلمہ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ کا عموم اس کی قدر و قیمت اور عظمت کے بارے میں ان کے لئے حجاب بن گیا۔ اس لئے ان کو بتایا گیا کہ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ کی حقیقت زمین و آسمان کی ساری کائنات کے مقابلے میں زیادہ قیمتی اور بھاری ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت عامہ ہے کہ اس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ یہ نعمت عظمیٰ ہر عامی کو بھی پہنچا دی ہے۔ بہرکیف انبیاء و مرسلینؑ کے لئے بھی کوئی کلمہ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ سے زیادہ قیمتی اور بابرکت نہیں ہے۔
اس بے بہا نعمتِ خداوندی کا شکر یہی ہے کہ اس کلمہ پاک کو اپنا ورد بنایا جائے اور اس کی کثرت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے خاص رابطہ قائم کیا جائے۔
کلمہ توحید کی خاص عظمت و برکت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ، إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْهُ" (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے سو دفعہ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، کوئی اس کا شریک ساجھی نہیں، فرمانروائی اسی کی ہے اور اس کے لئے ہر قسم کی ستائش ہے اور ہر چیز پر اس کی قدرت ہے) تو وہ دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب کا مستحق ہو گا اور اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کی سو غلط کاریاں محو کر دی جائی گی، اور یہ عمل اس کے لئے اس دن شام تک شیطان کے حملہ سے حفاظت کا ذریعہ ہو گا،ا ور کسی آدمی کا عمل اس کے عمل سے افضل نہ ہو گا سوائے اس آدمی کے جس نے اس سے بھی زیادہ عمل کیا ہو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
بےشک کلمہ توحید جس میں کلمہ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ پر کچھ اور اضافہ ہے جس سے اس کے منفی و مثبت مضمون کی مزید تشریح اور وضاحت ہوتی ہے اتنا ہی عظیم القدر اور بابرکت ہے جتنا کہ اس حدیث شریف میں بتایا گیا ہے۔ مرنے کے بعد ان شاء اللہ یہ چیز ہم سب کے مشاہدے میں آ جائے گی۔ بعض لوگوں کو ایسی حدیثوں کے بارے میں شکوک و شبہات ہوتے ہیں جن میں کسی کلمہ کا اتنا بڑا ثواب بتایا جائے۔ حالانکہ خود انہیں اپنی زندگی میں بارہا اس کا تجربہ ہوا ہو گا کہ برائی اور فساد کا ایک کلمہ آگ لگا دیتا ہے، اور اس کے منحوس اثرات برسہا برس تک کے لئے خاندانوں اور گروہوں کی زندگیوں کو جہنم بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح کبھی خلوص سے نکلا ہوا ایک اصلاحی کلمہ خیر و فساد کی بھڑکتی آگ کو بجھانے میں ٹھنڈے پانی کا کام کرتا ہے اور بےچینیوں اور تلخیوں کو دور کر کے زندگیوں کو باغ و بہار بنا دیتا ہے۔ انسان کی زبان سے نکلے ہوئے ایک ایک کلمہ کے جو اثرات ہماری اس دنیا میں ہوتے ہیں ان میں غور و فکر کر کے آخرت کے ان سے بڑے اور دور رس نتائج و ثمرات کا سمجھنا زیادہ مشکل نہیں رہتا۔
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کی خاص فضیلت
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ»
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک دن فرمایا: “میں تمہیں وہ کلمہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے؟ میں نے عرض کیا کہ: “ہاں حضرت ﷺ! ضرور بتائیں”۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ہے “لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس کلمہ کے “خزائن جنت” میں سے ہونے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو شخص یہ کلمہ اخلاص کے ساتھ پڑھے گا اس کے لئے اس کلمہ کے بےبہا اجر و ثواب کا خزانہ اور ذخیرہ جنت میں محفوظ کیا جائے گا جس سے وہ آخرت میں ویسا ہی فائدہ اُٹھا سکے گا جیسا کہ ضرورت کے موقعوں پر محفوظ خزانوں سے اٹھایا جاتا ہے۔ اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ حضور ﷺ کا منشا اس لفظ سے اس کلمہ کی صرف عظمت اور قدر و قیمت بتانا ہے، یعنی یہ کہ جنت کے خزانوں کے جواہرات میں سے یہ ایک جوہر ہے۔ کسی چیز کو بہت قیمتی بتانےکے لئے یہ بہترین تعبیر ہو سکتی ہے۔ واللہ اعلم۔
“لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ” کا مطلب یہ ہے کہ کہ کسی کام کے لئے سعی و حرکت اور اس کے کرنے کی قوت و طاقت بس اللہ ہی سے مل سکتی ہے، کوئی بندہ خود کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ دوسرا ایک مطلب جو اس کے قریب ہی قریب ہے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ “گناہ سے باز آنا اور طاعت کا بجا لانا اللہ کی مدد و توفیق کے بغیر بندے سے ممکن نہیں”۔
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کی خاص فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ: “لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ” زیادہ پڑھا کرو، کیوں کہ یہ خزائن جنت میں سے ہے۔ (جامع ترمذی)
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کی خاص فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ " (رواه البيهقى فى الدعوات الكبير)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: “میں تم کو وہ کلمہ بتاؤں جو عرش کے نیچے سے اُترا ہے اور خزانہ جنت میں سے ہے، وہ ہے “لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ” (جب بندہ دل سے یہ کلمہ پڑھتا ہے تو) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: “یہ بندہ (اپنی انانیت سے دستبردار ہو کر) میرا تابعدار اور بالکل فرمانبردار ہو گیا۔” (دعوات کبیر للبیہقی)
تشریح
اس حدیث میں کلمہ “لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ” کو “مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ” کے علاوہ “مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ” بھی فرمایا گیا ہے۔ یہ بھی دراصل اس کلمہ کی عظمت کے اظہار کا ایک عنوان ہے، اور مطلب یہ ہے کہ مجھ پر اس کا نزول عرشِ الہٰی سے ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔
فائدہ ........ بعض مشائخ طریقت کا ارشاد ہے کہ: “جس طرح شرکِ جلی و خفی اور قلب نفس کی دوسری کدورتیں دور کرنے اور ایمان و معرفت کا نور حاصل کرنے میں کلمہ “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ” خاص اثر کرتا ہے۔ اسی طرح عملی زندگی درست کرنے یعنی معصیات اور منکرات سے بچنے اور نیکی کی راہ پر چلنے میں یہ کلمہ “لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ” خاص اثر رکھتا ہے۔”
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام یعنی ایک کم سو نام ہیں، جس نے ان کو محفوظ کیا اور ان کی نگہداشت کی وہ جنت میں جائے گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حقیقی معنی میں اللہ پاک کا نام یعنی اسم ذات صرف ایک ہی ہے، اور وہ ہے “اللہ” البتہ اس کے صفاتی نام سینکڑوں ہیں جو قرآن مجید اور احادیث مین وارد ہوئے ہیں، انہی کو اسماء حسنیٰ کہا جاتا ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں امام جعفر بن محمد صادق اور سفیان بن عیینہ اور بعض دوسرے اکابر امت سے نقل کیا ہے کہ: “اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام تو صرف قرآن مجید ہی میں مذکور ہیں۔ اور پھر انہی حضرات سے ان کی تفصیل اور تعیین بھی نقل ہے۔ اس کے بعد حافظ ممدوحؒ نے ان میں سے بعض اسماء کے متعلق یہ تبصرہ کر کے کہ یہ اپنی خاص شکل میں قرآن مجید میں مذکور نہیں ہیں بلکہ استخراج اور اشتقاق کے طور پر وضع کئے گئے ہیں، ان کے بجائے دوسرے اسماء قرآن مجید ہی سے نکال کے بتایا ہے کہ یہ ننانوے اسماء الٰہیہ قرآن مجید میں اپنی اصل شکل میں مذکور ہیں اور ان کی پوری فہرست دی ہے جو ان شاء اللہ عنقریب نقل ہو گی”۔
ہمارے ہی زمانہ کے بعض علماء نے اللہ تعالیٰ کے صفاتی اسماء کا تتبع احادیث سے کیا تو دو سو سے زائد ان کو ملے۔ یہ سارے صفاتی اسماء حسنیٰ اللہ تعالیٰ کے صفاتِ کمال کے عنوانات اور اس کی معرفت کے دروازے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کے ذکر کی ایک بڑی جامع اور تفصیلی شکل یہ بھی ہے کہ بندہ عظمت اور محبت کے ساتھ ان اسماء کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو یاد کرے اور ان کو اپنا وظیفہ بنائے۔ اس تمہید کے بعد اس سلسلہ کی چند احادیث ذیل میں پڑھئے۔
تشریح ..... صحیحین کی روایت میں صرف اتنا ہی ہے، ان ننانوے ناموں کی تفصیل اور تعین اس روایت میں نہیں کی گئی ہے۔ عنقریب ہی ان شاء اللہ جامع ترمذی وغیرہ کی اس روایت کا ذکر آئے گا جس میں تفصیل کے ساتھ یہ ننانوے نام بیان کئے گئے ہیں۔ شارحین حدیث اور علماء کا اس پر قریب قریب اتفاق ہے کہ اسماء الہیہ صرف ننانوے پر منحصر نہیں ہیں اور یہ ان کی پوری تعداد نہیں ہے، کیوں کہ تتبع اور تلاش کے بعد احادیث میں اس سے بہت زیادہ تعداد مل جاتی ہے۔ اس لئے حضرت ابو ہریرہ ؓ کی اس حدیث کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب اور مدعا صرف یہ ہے کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کو یاد کرے گا اور ان کی نگہداشت کرے گا وہ جنت میں جائے گا۔ یعنی صرف ننانوے ناموں کا احصاء کر لینے پر بندہ اس بشارت کا مستحق ہو جائے گا۔
حدیث پاک کے جملہ “مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ” کی تشریح میں علماء اور شارحین نے مختلف باتیں لکھیں ہیں۔ ایک مطلب اس کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو بندہ اسماء الہیہ کے مطالب سمجھ کر اور ان کی معرفت حاصل کر کے اللہ تعالیی کی ان صفات پر یقین کرے گا جن کے یہ اسماء عنوانات ہیں وہ جنت میں جائے گا۔
دوسرا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو بندہ ان اسماء حسنیٰ کے تقاضوں پر عمل پیرا ہو گا وہ جنت میں جائے گا۔
تیسرا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو بندہ ننانوے ناموں سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرے گا اور ان کے ذریعے اس سے دعا کرے گا وہ جنت میں جائے گا۔ امام بخاریؒ نے “مَنْ أَحْصَاهَا” کی تشریح “مَنْ حَفِظَهَا” سے کی ہے، بلکہ اس حدیث کی بعض روایات میں “مَنْ أَحْصَاهَا” کی جگہ “مَنْ حَفِظَهَا” کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں، اس لئے اس تشریح کو ترجیح دی گئی ہے، اور اسی لئے ترجمہ میں اس عاجز نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ اس بناء پر حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ جو بندہ ایمان اور عقیدت کے ساتھ اللہ تعالیی کا قرب اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس کے ننانوے نام محفوظ کر لے اور ان کے ذریعہ اس کو یاد کرے وہ جنت میں جائے گا۔ واللہ اعلم۔
ننانوے اسماءِ حسنیٰ جو سب کے سب قرآن مجید میں ہیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً إِلَّا وَاحِدَةً مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ، الرَّحِيمُ، الْمَلِكُ، الْقُدُّوسُ، السَّلامُ، الْمُؤْمِنُ، الْمُهَيْمِنُ، الْعَزِيزُ، الْجَبَّارُ، الْمُتَكَبِّرُ، الْخَالِقُ، الْبَارِئُ، الْمُصَوِّرُ، الْغَفَّارُ، الْقَهَّارُ، الْوَهَّابُ، الرَّزَّاقُ، الْفَتَّاحُ، الْعَلِيمُ، الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الْخَافِضُ، الرَّافِعُ، الْمُعِزُّ، الْمُذِلُّ، السَّمِيعُ، الْبَصِيرُ، الْحَكَمُ، الْعَدْلُ، اللَّطِيفُ، الْخَبِيرُ، الْحَلِيمُ، الْعَظِيمُ، الْغَفُورُ، الشَّكُورُ، الْعَلِيُّ، الْكَبِيرُ، الْحَفِيظُ، الْمُقِيتُ، الْحَسِيبُ، الْجَلِيلُ، الْكَرِيمُ، الرَّقِيبُ، الْمُجِيبُ، الْوَاسِعُ، الْحَكِيمُ، الْوَدُودُ، الْمَجِيدُ، الْبَاعِثُ، الشَّهِيدُ، الْحَقُّ، الْوَكِيلُ، الْقَوِيُّ، الْمَتِينُ، الْوَلِيُّ، الْحَمِيدُ، الْمُحْصِي، الْمُبْدِئُ، الْمُعِيدُ، الْمُحْيِي، الْمُمِيتُ، الْحَيُّ، الْقَيُّومُ، الْوَاجِدُ، الْمَاجِدُ، الْوَاحِدُ، الصَّمَدُ، الْقَادِرُ، الْمُقْتَدِرُ، الْمُقَدِّمُ، الْمُؤَخِّرُ، الأَوَّلُ، الآخِرُ، الظَّاهِرُ، الْبَاطِنُ، الْوَالِي، الْمُتَعَالِي، الْبَرُّ، التَّوَّابُ، الْمُنْتَقِمُ، الْعَفُوُّ، الرَّءُوفُ، مَالِكُ الْمُلْكِ، ذُو الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ، الْمُقْسِطُ، الْجَامِعُ، الْغَنِيُّ، الْمُغْنِي، الْمَانِعُ، الضَّارُّ، النَّافِعُ، النُّورُ، الْهَادِي، الْبَدِيعُ، الْبَاقِي، الْوَارِثُ، الرَّشِيدُ، الصَّبُورُ. (رواه الترمذى والبيهقى فى الدعوات الكبير)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں (ایک کم سو) جس نے ان کو محفوظ کیا اور ن کی نگہداشت کی وہ جنت میں جائے گا۔ (ان ناموں کی تفصیل یہ ہے)۔
وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ الرَّحْمَنُ (بڑی رحمت والا) الرَّحِيمُ (نہایت مہرباب) الْمَلِكُ (حقیقی بادشاہ) الْقُدُّوسُ (نہایت مقدس اور پاک) السَّلامُ (جس کی ذاتی صفت سلامتی ہے) الْمُؤْمِنُ (امن و امان عطا فرمانے والا) الْمُهَيْمِنُ (پوری نگہبانی فرمانے والا) الْعَزِيزُ (غلبہ اور عزت جس کی ذاتی صفت ہے، اور جو سب پر غالب ہے) الْجَبَّارُ (صاحب جبروت ہے، ساری مخلوق اس کے زیر تصرف ہے،) الْمُتَكَبِّرُ (کبریائی اور بڑائی اس کا حق ہے) الْخَالِقُ (پیدا فرمانے والا) الْبَارِئُ (ٹھیک بنانے والا) الْمُصَوِّرُ (صورت گری کرنے والا) الْغَفَّارُ (گناہوں کا بہت زیادہ بخشنے والا) الْقَهَّارُ (سب پر پوری طرح غالب اور قابو یافتہ جس کے سامنے سب عاجز اور مغلوب ہیں) الْوَهَّابُ (بغیر کسی عوض اور منفعت کے خوب عطا فرمانے والا) الرَّزَّاقُ (سب کو روزی دینے والا) الْفَتَّاحُ (سب کے لئے رحمت اور رزق کے دروازے کھولنے والا) الْعَلِيمُ (سب کچھ جاننے والا) الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ (تنگی کرنے والا، فراخی کرنے والا۔ یعنی اس کی شان یہ ہے کہ اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق کبھی کسی کے حالات میں تنگی پیدا کرتا ہے اور کبھی فراخی کر دیتا ہے) الْخَافِضُ، الرَّافِعُ (پست کرنے والا، بلند کرنے والا) الْمُعِزُّ، الْمُذِلُّ (عزت دینے والا، ذلت دینے والا) (یعنی کسی کو نیچا اور کسی کو اونچا کرنا، کسی کو عزت دے کر سرفراز کرنا اور کسی کو قعر مذلت میں گرا دینا اس کے قبضہ و اختیار میں ہے، اور یہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہوتا ہے) السَّمِيعُ، الْبَصِيرُ (سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا) الْحَكَمُ، الْعَدْلُ (حاکم حقیقی، سراپا عدل و انصاف) اللَّطِيفُ (لطافت اور لطف و کرم جس کی ذاتی صفت ہے) الْخَبِيرُ (ہر بات سے باخبر) الْحَلِيمُ (نہایت بردبار) الْعَظِيمُ (بڑی عظمت والا، سب سے بزرگ و برتر) الْغَفُورُ (بہت بخشنے والا) الشَّكُورُ (حسن عمل کی قدر کرنے والا اور بہتر سے بہتر جزا دینے والا) الْعَلِيُّ، الْكَبِيرُ (سب سے اعلیٰ، سب سے بڑا) الْحَفِيظُ (سب کا نگہبان) الْمُقِيتُ (سب کو سامانِ حیات فراہم کرنے والا) الْحَسِيبُ (سب کے لئے کفایت کرنے والا) الْجَلِيلُ (عظیم القدر) الْكَرِيمُ (صاحب کرم) الرَّقِيبُ (نگہدار اور محافظ) الْمُجِيبُ (قبول فرمانے والا) الْوَاسِعُ (وسعت رکھنے والا) الْحَكِيمُ (سب کام حکمت سے کرنے والا) الْوَدُودُ (اپنے بندوں کو چاہنے والا) الْمَجِيدُ (بزرگی والا) الْبَاعِثُ (اٹھانے والا، موت کے بعد مُردوں کو جلانے والا) الشَّهِيدُ (حاضر جو سب کچھ دیکھتا ہے اور جانتا ہے) الْحَقُّ (جس کی ذات اور جس کا وجود اصلاً حق ہے) الْوَكِيلُ (کارسازِ حقیقی) الْقَوِيُّ، الْمَتِينُ (صاحب قوت اور بہت مضبوط) الْوَلِيُّ (سرپرست مددگار) الْحَمِيدُ (مستحق حمد و ستائش) الْمُحْصِي (سب مخلوقات کے بارے میں پوری معلومات رکھنے والا) الْمُبْدِئُ، الْمُعِيدُ (پہلا وجود بخشنے والا، دوبارہ زندگی دینے والا) الْمُحْيِي، الْمُمِيتُ (زندگی بخشنے والا، موت دینے والا) الْحَيُّ (زندہ جاوید، زندگی جس کی ذاتی صفت ہے) الْقَيُّومُ (خود قائم رہنے والا اور سب مخلوق کو اپنی مشیت کے مطابق قائم رکھنے والا) الْوَاجِدُ (سب کچھ اپنے پاس رکھنے والا) الْمَاجِدُ (بزرگی اور عظمت والا) الْوَاحِدُ، الاحد (ایک اپنی ذات میں، یکتا اپنی صفات میں) الصَّمَدُ (سب سے بےنیاز اور سب اس کے محتاج) الْقَادِرُ، الْمُقْتَدِرُ (قدرت والا، سب پر کامل اقتدار رکھنے والا) الْمُقَدِّمُ، الْمُؤَخِّرُ (جسے چاہے آگے کر دینے والا اور جسے چاہہے پیچھے کر دینے والا) الأَوَّلُ، الآخِرُ (سب سے پہلے اور سب سے پیچھے) (یعنی جب کوئی نہ تھا، کچھ نہ تھا، جب بھی وہ موجود تھا اور جب کوئی نہ رہے گا کچھ نہ رہے گا وہ اس وقت اور اس کے بعد بھی موجود رہے گا) الظَّاهِرُ، الْبَاطِنُ (بالکل آشکار اور بالکل مخفی) الْوَالِي (مالک و کارساز) الْمُتَعَالِي (بہت بلند و بالا) الْبَرُّ (بڑا محسن) التَّوَّابُ (توبہ کی توفیق دینے والا اور توبہ قبول کرنے والا) الْمُنْتَقِمُ (مجرمین کو کیفر کردار کو پہنچانے والا) الْعَفُوُّ (بہت معافی دینے والا) الرَّءُوفُ (بہت مہربان) مَالِكُ الْمُلْكِ (سارے جہان کا مالک) ذُو الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ (صاحب جلال اور بہت کرم فرمانے والا۔ جس کے جلال سے بندہ ہمیشہ خائف رہے اور جس کے کرم سے ہمیشہ امید رکھے) الْمُقْسِطُ (حقدار کا حق ادا کرنے والا عادل و منصف) الْجَامِعُ (ساری مخلوق کو قیامت کے دن یکجا کرنے والا) الْغَنِيُّ، الْمُغْنِي (خود بےنیاز جس کو کسی سے کوئی حاجت نہیں، اور اپنی عطا کر ذریعہ بندوں کو بےنیاز کر دینے والا) الْمَانِعُ (روک دینے والا ہر اس چیز کو جس کو روکنا چاہے) الضَّارُّ، النَّافِعُ (اپنی حکمت اور مشیت کے تحت ضرر پہنچانے والا اور نفع پہنچانے والا) النُّورُ (سراپا نور) الْهَادِي (ہدایت دینے والا) الْبَدِيعُ (بغیر مثالِ سابق کے مخلوق کا پیدا فرمانے والا) الْبَاقِي (ہمیشہ رہنے والا جس کو کبھی فنا نہیں) الْوَارِثُ (سب کے فنا ہو جانے کے بعد باقی رہنے والا) الرَّشِيدُ (صاحبِ رُشد و حکمت جس کا ہر فعل اور فیصلہ درست ہے) الصَّبُورُ (بڑا صابر کہ بندوں کی بڑی سے بڑی نافرمانیاں دیکھتا ہے اور فوراً عذاب بھیج کر ان کو تہس نہس نہیں کر دیتا) . (جامع ترمذی، دعوات کبیر للبیہقی)
تشریح
حضرت ابو ہریرہ ؓ کی اس حدیث کا ابتدائی حصہ بالکل وہی ہے جو صحیحین کے حوالے سے ابھی اوپر نقل ہو چکا ہے۔ البتہ اس میں ننانوے ناموں کی تفصیل بھی ہے جو صحیحین کی روایت میں نہیں ہے۔ اس بناء پر بعض محدثین اور شارحینِ حدیث کی یہ رائے ہے کہ حدیث مرفوع یعنی رسول اللہ ﷺ کا اصل ارشاد بس اسی قدر ہے جتنا صحیحین کی روایت میں ہے یعنی: “إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِئَةً غَيْرَ وَاحِدَةٍ، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ” (اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جس نے ان کا احصاء کیا وہ جنت میں جائے گا) اور ترمذی کی اس روایت میں اور اسی طرح ابن ماجہ اور حاکم وغیرہ کی روایتوں میں جو ننانوے نام بہ تفصیل ذکر کئے گئے ہیں وہ ارشادِ نبویﷺ کا جز نہیں ہیں، بلکہ حضرت ابو ہریرہؓ کے بلاواسطہ یا بالواسطہ کسی شاگرد نے حدیث کے اجمال کی تفصیل اور ابہام کی تفسیر کے طور پر قرآن و حدیث میں وارد شدہ اسماءِ الہٰیہ ذکر کر دئیے ہیں، گویا محدثین کی اصطلاح میں یہ اسماء حسنیٰ مدرج ہیں۔ اس کا ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ ترمذی اور ابنِ ماجہ اور حاکم کی روایات میں ننانوے ناموں کی جو تفصیل ذکر کی گئی ہے اس میں بہت بڑا فرق اور اختلاف ہے۔ اگر یہ ننانوے اسماء حسنیٰ رسول اللہ ﷺ کے تعلیم فرمائے ہوئے ہوتے تو ان میں اتنا اختلاف اور فرق ناممکن تھا۔
بہرحال یہ تو فنِ حدیث و روایت کی ایک بحث ہے، مگر اتنی بات سب کے نزدیک مسلم ہے کہ ترمذی کی مندرجہ بالا روایت مین اور اسی طرح ابنِ ماجہ وغیرہ کی روایات میں جو ننانوے اسماءِ حسنیٰ ذکر کئے گئے ہیں وہ سب قرآن مجید اور احادیث میں وارد ہوئے ہیں، اور رسول اللہ ﷺ نے ننانوے اسماء الٰہیہ کے احصاء پر (محفوظ کرنے پر) جو بشارت سنائی ہے اس کے وہ بندے یقیناً مستحق ہیں جو اخلاص اور عظمت کے ساتھ ان اسماءِ حسنیٰ کو محفوظ کریں اور ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اس کی لِم اور اس کے سبب پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا ہے کہ: “جو صفاتِ کمال حق تعالیٰ کے لئے ثابت کی جانی چاہئیں اور جن چیزوں کی اس کی ذاتِ پاک سے نفی کی جانی چاہئے، ان ننانوے اسماءِ حسنیٰ میں وہ سب کچھ آ جاتا ہے، اس بناء پر یہ اسماءِ حسنیٰ اللہ تعالیٰ کی معرفت کا مکمل اور صالح نصاب ہیں، اور اسی وجہ سے ان کے مجموعہ میں غیر معمولی برکت ہے، اور عالمِ قدس میں ان کو خاص قبولیت حاصل ہے اور جب کسی بندے کے اعمال نامہ میں یہ اسماءِ الٰہیہ ثبت ہوں تو یہ اس کے حق میں رحمتِ الٰہی کے فیصلہ کے موجب ہوں گے۔ واللہ اعلم۔
ترمذی کی مندرجہ بالا روایت میں جو ننانوے اسماءِ حسنیٰ ذکر کئے گئے ہیں ان میں سے دو تہائی قرآن مجید میں مذکور ہیں باقی احادیث میں وارد ہوئے ہیں۔
حضرت امام جعفر صادق وغیرہ جن حضرات نے دعویٰ کیا ہے کہ اللہ تعایلٰ کے ننانوے نام قرآن مجید میں موجود ہیں ان کا ذِکر ابھی اوپر کیا جا چکا ہے، اور اس سلسلہ میں حافظ ابن حجرؒ کی آخری کاوش کا بھی حوالہ دیا جا چکا ہے کہ انہوں نے صرف قرآن مجید سے وہ ننانوے اسماءِ الٰہیہ نکالے ہیں جو اپنی اصل شکل میں قرآن پاک میں موجود ہیں۔
اگر ان محدثین اور شارحین کی بات مان لی جائے جن کی رائے ہے کہ ترمذی کی مندرجہ بالا روایت میں جو اسماءِ حسنیٰ ذکر کئے گئے ہیں یہ حدیث مرفوع کا جزو نہیں ہیں بلکہ کسی راوی کی طرف سے مُدرج ہیں (1) یعنی حدیث کے اجمال کی تفصیل کے طور پر انہوں نے قرآن و حدیث میں وارد شدہ ان ناموں کا اضافہ کر دیا ہے تو پھر حافظ ابن، حجر کی پیش کردہ وہ فہرست قابلِ ترجیح ہونی چاہئے جس کے سب اسماء بغیر کسی خاص تصرف کے قرآن مجید ہی سے لئے گئے ہین۔ ہم ذیل میں ان کی وہ فہرست فتح الباری سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے اسم ذات اللہ کو بھی ان ننانوے ناموں مین شمار کیا ہے، بلکہ اسی سے اپنی فہرست کا آغاز کیا ہے۔
اللَّهُ الرَّحْمَنُ، الرَّحِيمُ، الْمَلِكُ، الْقُدُّوسُ، السَّلامُ، الْمُؤْمِنُ، الْمُهَيْمِنُ، الْعَزِيزُ، الْجَبَّارُ، الْمُتَكَبِّرُ، الْخَالِقُ، الْبَارِئُ، الْمُصَوِّرُ، الْغَفَّارُ، الْقَهَّارُ، التَّوَّابُ، الْوَهَّابُ، الْخَلَّاقُ، الرَّزَّاقُ، الْفَتَّاحُ، الْعَلِيمُ، الْحَلِيْمُ، الْعَظِيْمُ، الْوَاسِعُ، الْحَكِيمُ، الْحَيُّ، الْقَيُّومُ، السَّمِيعُ، الْبَصِيرُ، اللَّطِيفُ، الْخَبِيرُ، الْعَلِيُّ، الْكَبِيرُ، الْمُحِيْطُ، الْقَدِيْرُ، الْمَوْلَى، النَّصِيْرُ، الْكَرِيمُ، الرَّقِيبُ، الْقَرِيْبُ، الْمُجِيبُ، الْوَكِيْلُ، الْحَسِيبُ، الْحَفِيظُ، الْمُقِيتُ، الْوَدُودُ، الْمَجِيدُ، الْوَارِثُ، الشَّهِيدُ، الْوَلِيُّ، الْحَمِيدُ، الْحَقُّ، الْمُبِيْنُ، الْقَوِيُّ، الْمَتِينُ، الْغَنِيُّ، الْمَالِكُ، الشَّدِيْدُ، الْقَادِرُ، الْمُقْتَدِرُ، الْقَاهِرُ، الْكَافِىُ، الْمُسْتَعَانُ، الْفَاطِرُ، الْبَدِيْعُ، الْغَافِرُ، الأَوَّلُ، الآخِرُ، الظَّاهِرُ، الْبَاطِنُ، الْكَفِيْلُ، الْغَالِبُ، الْحَكَمُ، الْعَالِمُ، الرَّفِيْعُ، الْحَافِظُ، الْمُنْتَقِمُ، الْقَائِمُ، الْمُحْيِي، الْجَامِعُ، الْمَلِيْكُ، الْمُتَعَال، النُّورُ، الْهَادِي، الْغَفُورُ، الشَّكُورُ، الْعَفُوُّ، الرَّءُوفُ، الْاَكْرَمُ، الْاَعْلَى، الْبِرُّ، الْحَفِىُّ، الرَّبُّ، الْاِلَهُ. الْوَاحِدُ، الْأَحَدُ، الصَّمَدُ، الَّذِي، لَمْ يَلِدْ، وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ، كُفُوًا أَحَدٌ.
(فتح الباری، صفحہ ۸۳، جز ۲۶)
ننانوے اسماءِ حسنیٰ جو ترمذی کی روایت میں مذکور ہیں اور اسی طرح یہ جو حافظ ابن حجرؒ نے قرآن مجید سے نکالے ہیں، بلاشبہ ان میں سے ہر ایک معرفتِ الٰہی کا دروازہ ہے۔ علمائے اُمت نے مختلف زمانوں میں ان کی شرح میں مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ مہمات میں ان کے ذریعہ دعا کرنا بہت سے اہل اللہ کے خاص معمولات میں سے ہے اور اس کی قبولیت مجرب ہے۔
عَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ، الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ» (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو اس طرح دُعا کرتے ہوئے سنا، وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کر رہا تھا: “اے اللہ! میں اپنی حاجت تجھ سے مانگتا ہوں بوسیلہ اس کے کہ بس تو اللہ ہے، تیرے سوا کوئی مالک و معبود نہیں، ایک اور یکتا ہے، بالکل بےنیاز ہے، اور سب تیرے محتاج ہیں، نہ کوئی تیری اولاد، نہ تو کسی کی اولاد اور نہ تیرا کوئی ہمسر” رسول اللہ ﷺ نے (جب اس بندے کو یہ دُعا کرتے سنا تو) فرمایا کہ: اس بندے نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے وسیلہ سے دعا کی ہے جب اس کے وسیلہ سے اس سے مانگا جائے تو وہ دیتا ہے، اور جب اس کے وسیلہ سے دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ میں سے بعض وہ ہیں جن کو اس لحاظ سے خاص عظمت و امتیاز حاصل ہے کہ جب ان کے ذریعہ دعا کی جائے تو قبولیت کی زیادہ امید کی جا سکتی ہے۔
ان اسماڑ کو حدیث میں “اسم اعظم” کہا گیا ہے، لیکن صفائی اور صراحت کے ساتھ ان کو متعین نہیں کیا گیا ہے، بلکہ کسی درجہ میں ان کو مبہم رکھا گیا ہے، اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ لیلۃ القدر کو اور جمعہ کے دن قبولیت دعا کے خاص وقت کو مبہم رکھا گیا ہے۔ احادیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ایک ہی اسمِ پاک “اسمِ اعظم” نہیں ہے جیسا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں، بلکہ متعدد اسماءِ حسنیٰ کو “اسمِ اعظم” کہا گیا ہے۔ نیز انہی احادیث سے یہ بات بھی صاف ہو جاتی ہے کہ عوام میں اسمِ اعظم کا جو تصور ہے اور اس کے بارے میں جو باتیں مشہور ہین وہ بالکل بےاصل ہیں، اصل حقیقت وہی ہے جو اوپر عرض کی گئی ہے۔ اس کے بعد اس سلسلہ کی احادیث ذیل میں پڑھی جائیں: