مدینہ طیبہ کی عظمت اور محبوبیت
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا ، فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا. (رواه احمد والترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو اس کی کوشش کر سکے کہ مدینہ میں اس کی موت ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ (اس کی کوشش کرے، اور) مدینہ میں مرے۔ میں ان لوگوں کی ضرور شفاعت کروں گا جو مدینہ میں مریں گے (اور وہاں دفن ہوں گے)۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)
تشریح
ظاہر ہے کہ یہ بات کہ موت فلاں جگہ آئے، کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ تاہم بندہ اس کی آرزو اور دعا کر سکتا ہے اور کسی درجہ میں اس کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔ مثلاً یہ کہ جس جگہ مرنا چاہے وہیں جا کر پڑ جائے، اگر قضا و قدر کا فیصلہ خلاف نہیں ہے، تو موت وہیں آئے گی ....... بہر حال حدیث کا مدعا یہی ہے کہ جو شخص یہ سعادت حاصل کرنا چاہے، وہ اس کے لیے اپنے امکان کی حد تک کوشش کرے، اخلاص کے ساتھ کوشش کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ بھی مدد کرتا ہے۔
مدینہ طیبہ کی عظمت اور محبوبیت
عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم جَالِساً. وَقَبْرٌ يُحْفَرُ بِالْمَدِينَةِ. فَاطَّلَعَ رَجُلٌ فِي الْقَبْرِ. فَقَالَ : بِئْسَ مَضْجَعُ الْمُؤْمِنِ.فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « بِئْسَ مَا قُلْتَ » .قَالَ الرَّجُلُ : إِنِّي لَمْ أُرِدْ هذَا ، إِنَّمَا أَرَدْتُ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللهِ.فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : « لاَ مِثْلَ لِلْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ. مَا عَلَى الْأَرْضِ بُقْعَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَكُونَ قَبْرِي فِيْهَا ، مِنْهَا. ثَلاَثَ مَرَّاتٍ » (رواه مالك مرسلا)
یحییٰ بن سعید انصاری تابعی سے بطریق ارسال روایت ہے (یعنی وہ صحابی کا واسطہ ذکر کئے بغیر رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں) کہ رسول اللہ ﷺ (مدینہ کے قبرستان میں) تشریف فرما تھے اور (کسی میت کی) قبر کھودی جا رہی تھی۔ ایک صاحب نے قبر میں جھانک کر دیکھا اور ان کی زبان سے نکلا کہ مسلمان کے لیے یہ اچھی آرام گاہ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہاری زبان سے بہت بری بات نکلی۔ (ایک مسلمان کو مدینہ میں موت اور قبر نصیب ہوئی اور تم کہتے ہو کہ مسلمان کے لیے یہ آرام گاہ اچھی نہیں)۔ ان صاحب نے (بطور معذرت) عرض کیا: حضور ﷺ میرا مطلب یہ نہیں تھا (کہ مدینہ میں موت اور قبر اچھی نہیں) بلکہ میرا مقصد راہ خدا میں شہادت سے تھا (یعنی میں یہ عرض کرنا چاہتا تھا کہ یہ مرنے والے بھائی اگر بستر پر مرنے اور اس قبر میں دفن ہونے کے بجائے جہاد کے کسی میدان میں شہید ہوتے، اور ان کی لاش وہاں خاک و خون میں پڑپتی تو اس قبر میں دفن ہونے سے یہ زیادہ اچھا ہوتا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راہ خدا میں شہید ہونے کے برابر تو نہیں (یعنی شہادت کا مقام تو بے شک بلند ہے، لیکن مدینہ میں مرنا اور اس کی خاک میں دفن ہونا بھی بڑی سعادت اور خوش نصیبی ہے) روئے زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں اپنی قبر کا ہونا مجھے مدینہ سے زیادہ محبوب ہو ..... یہ بات آپ نے تین دفعہ ارشاد فرمائی۔ (موطا امام مالک)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ شہادت فی سبیل اللہ کی فضیلت و عظمت بے شک مسلم ہے اور بستر پر مرنا اور میدان جہاد میں اللہ کے لیے سر کٹانا برابر نہیں، لیکن مدینہ میں مرنا اور یہاں دفن ہونا بھی بڑی خوش بختی ہے، جس کی خود مجھے بھی چاہت اور آرزو ہے۔
امام بخاریؒ نے اپنی جامع صحیح بخاری میں کتاب الحج کے بالکل آخر میں مدینہ طیبہ کے فضائل کے سلسلہ کی حدیثیں ذکر کرنے کے بعد اس بیان کا خاتمہ امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب ؓ کی اس مشہور دعا پر کیا ہے کہ:
اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ
اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت بھی دے اور اپنے محبوب رسول اللہ ﷺ کے پاک شہر (مدینہ) میں مرنا اور دفن ہونا بھی نصیب فرما!
اس دعا کا واقعہ ابن سعد نے صحیح سند کے ساتھ یہ روایت کیا ہے کہ عوف بن مالک اشجعی ؓ نے خواب دیکھا کہ حضرت عمر ؓ شہید کر دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ خواب حضرت عمر ؓ سے بیان کیا۔ حضرت عمر ؓ نے بڑی حسرت سے کہا:
أَنَّى لِيْ بِالشَّهَادَةِ وَأَنَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَزِيْرَةِ الْعَرَبِ لَسْتُ أَغْزُوْ وَالنَّاسُ حَوْلِيْ مجھے شہادت فی سبیل اللہ کیسے نصیب ہو سکتی ہے جب کہ میں جزیرۃ العرب کے درمیان مقیم ہوں (اور وہ سب دارالاسلام بن چکا) اور میں خود جہاد نہیں کرتا، اور اللہ کے بندے ہر وقت میرے آس پاس رہتے ہیں۔
پھر خود ہی کہا:
بَلَى يَاْتِىْ بِهَا اللهُ اِنْ شَاءَ (فتح البارى بحواله ابن سعد)
مجھے شہادت کیوں نہیں نصیب ہو سکتی، اگر اللہ چاہے تو انہی حالات میں مجھے شہادت سے نوازے گا۔
اس کے بعد آپ نے اللہ تعالیٰ سے وہ دعا کی جو اوپر درج کی گئی ہے۔ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ آپ کی زبان سے یہ دعا سن کر آپ کی صاحبزادی ام المومنین حضرت حفصہ ؓ نے کہا کہ: “ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ راہِ خدا میں شہید ہوں، اور موت مدینہ میں بھی ہو؟ ” آپ نے فرمایا: “ اللہ چاہے گا تو یہ دونوں باتیں ہو جائیں گی۔ ”
اس سلسلہ کی روایات میں یہ بھی ہے کہ لوگوں کو حضرت عمر ؓ کی اس عجیب و غریب بلکہ بظاہر ناممکن سی دعا سے تعجب ہوا تھا اور کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ دونوں باتیں کس طرح ہو سکتی ہیں۔ جو ابو لؤلو نے مسجد نبوی ﷺ کی محراب میں آپ کو زخمی کیا، تب سب نے سمجھا کہ دعا کی قبولیت اس طرح مقدر تھی۔بے شک جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو اس چیز کو واقع کر کے دکھا دیتا ہے جس کے امکان میں بھی انسانی عقلیں شبہ کریں۔ إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِي هذَا ، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ. إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری اس مسجد میں (یعنی مدینہ طیبہ کی مسجد نبوی میں) ایک نماز، دوسری تمام مساجد کی ہزار نمازوں سے بہتر ہے، سوائے مسجد خرم کے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مسجد نبوی ﷺ جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں رکھی، پھر جس میں آپ ﷺ نے عمر بھر نمازیں پڑھیں اور جو آپ ﷺ کی ساری دینی سرگرمیوں، تعلیم و تربیت، ہدایت و ارشاد اور دعوت و جہاد کا مرکز بنی رہی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے مقدس بیت خانہ کعبہ اور مسجد حرام کے ما سوا دنیا کے سارے معبدوں پر عظمت و فضیلت بخشی ہے۔ صحیح احادیث میں ہے کہ اس کی ایک نماز اجر و ثواب میں دوسری عام مساجد کی ہزار نمازوں سے بڑھ کر ہے۔
اس حدیث میں مسجد نبوی کی نماز کو مکہ معظمہ اور مسجد حرام کے علاوہ دوسری عام مساجد کی ہزار نمازوں سے بہتر بتلایا گیا ہے لیکن مسجد حرام کے درجہ سے یہ حدیث ساکت ہے، مگر دوسری مندرجہ ذیل حدیث میں اس کی بھی وضاحت فرما دی گئی ہے۔
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و فضیلت
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ صَلَاةٍ فِي هَذَا " (رواه احمد)
حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے، اور مسجد حرام کی ایک نماز میری اس مسجد کی سو نمازوں سے افضل ہے۔ (مسند احمد)
تشریح
اس حدیث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ دنیا کی عام مسجدوں کے مقابلہ میں مسجد نبوی ﷺ میں نماز کا ثواب ہزار گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے اور مسجد حرام کی نماز مسجد نبوی ﷺ کی نماز سے بھی سو درجہ افضل ہے، یعنی عام مساجد کے مقابلہ میں مسجد حرام میں نماز کا ثواب ایک لاکھ گنا بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ ہے۔
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و فضیلت
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً ، لَا تَفُوتُهُ صَلَاةٌ ، كُتِبَ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ ، وَبَرَاءَةٌ مِنَ الْعَذَابِ ، وَبَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ " (رواه احمد والطبرانى)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری مسجد میں مسلسل ۴۰ نمازیں پڑھیں ایک نماز بھی فوت نہیں ہوئی اس کے لیے لکھ دی جائے گی نجات اور براءت دوزخ سے اور اسی طرح براءت نفاق سے۔ (مسند احمد، معجم للطبرانی)
تشریح
بعض اعمال اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنی خاص مقبولیت اور محبوبیت کی وجہ سے بڑے بڑے فیصلوں کا باعث بن جاتے ہین۔ اس حدیث میں مسجد نبوی ﷺ میں مسلسل ۴۰ نمازیں ادا کرنے پر بشارت سنائی گئی ہے کہ ایسے شخص کے بارے میں فرمان الٰہی ہو جائے گا کہ یہ بندہ نفاق کی نجاست سے بالکل پاک ہے، اور دوزخ اور ہر قسم کے عذاب سے اس کو نجات اور چھٹی ہے۔
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي ، رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ. وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي » . (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغیچہ ہے، اور میرا منبر میرے حوض کوثر پر ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مسجد نبوی ﷺ میں جس جگہ رسول اللہ ﷺ کا منبر مبارک تھا جس پر رونق افروز ہو کر آپ ﷺ خطبات دیتے تھے (اور وہ جگہ اب بھی معلوم اور متعین ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کہ منبر کی اس جگہ اور آپ ﷺ کے حجرہ شریفہ کے درمیان جو قطعہ زمین ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور عنایتوں کا خاص مورد اور محل ہے
اور اس کی وجہ سے وہ گویا جنت کے باغوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور اس لیے اس کا مستحق ہے کہ اللہ کی رحمت اور جنت کے طالبوں کو اس کے ساتھ جنت کی سی دلچسپی ہو۔ اور کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کا جو بندہ ایمان و اخلاص کے ساتھ اللہ کی رحمت اور جنت کا طالب بن کر اس قطعہ ارض میں آیا وہ گویا جنت کے ایک باغیچہ میں آ گیا اور آخرت میں وہ اپنے کو جنت کے ایک باغیچہ ہی میں پائے گا۔
حدیث کے آخر میں آپ ﷺ نے فرمایا: “ میرا منبر میرے حوض کوثر پر ہے ” اس کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ آخرت میں حوض کوثر پر میرا منبر ہو گا اور جس طرح اس دنیا میں اس منبر سے میں اللہ کے بندوں کو اس کی ہدایت پہنچاتا ہوں اور پیغام سناتا ہوں اسی طرح آخرت میں اس منبر پر جو حوض کوثر پر میرا نصب ہو گا اس خداوندی ہدایت کے قبول کرنے والوں کو رحمت کے جام پلاؤں گا، پس جو کوئی قیامت کے دن کے لیے آب کوثر کا طالب ہو وہ آگے بڑھ کر اس منبر پر سے دئیے جانے والے پیغام ہدایت کو قبول کرے اور اس دنیا میں اس کو اپنی روحانی غذا بنائے۔
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و فضیلت
عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا لِثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِي هَذَا ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: دنیا میں صرف تین مسجدیں ہیں، ان کے سوا کسی مسجد کے لیے رخت سفر نہ باندھا جائے۔ مسجد حرام، مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) اور میری یہ مسجد (مسجد نبوی ﷺ)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ یہ عظمت و شرف صرف ان تین مسجدوں کو حاصل ہے کہ ان میں اللہ کی عبادت کرنے کے لیے سفر کرنا درست ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے قرب و رضا کا باعث ہے۔ ان کے علاوہ کسی مسجد کو یہ درجہ اور شرف حاصل نہیں ہے، بلکہ ان کے لیے سفر کرنے کی ممانعت ہے۔
ظاہر ہے کہ اس حدیث کا تعلق صرف مساجد سے ہے، اور بلا شبہ اس حدیث کی رو سے مسجد حرام اور مسجد نبوی ﷺ اور مسجد اقصیٰ کے سوا دنیا کی کسی بھی مسجد میں عبادت کے لیے سفر کرنا ممنوع ہے، لیکن دوسرے جائز دنیوی و دینی مقاصد مثلاً تجارت، تحصیل دین، صحبت صلحاء اور تبلیغ و دعوت وغیرہ کے لیے سفر کرنے سے اس حدیث کا کوئی تعلق نہیں۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي ". (رواه البيهقى فى شعب الايمان والطبرانى فى الكبير والاوسط)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے حج کیا اور اس کے بعد میری قبر کی زیارت میری وفات کے بعد، تو وہ (زیارت کی سعادت حاصل کرنے میں) انہی لوگوں کی طرح ہے جنہوں نے میری حیات میں میری زیارت کی۔ (شعب الایمان للبیہقی، معجم کبیر و اوسط للطبرانی)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کا اپنی قبر مبارک میں بلکہ تمام انبیااء علیہم السلام کا اپنی منور قبور میں زندہ ہونا جمہور امت کے مسلمات میں سے ہے، اگرچہ حیات کی نوعیت میں اختلاف ہے اور روایات اور خواص امت کے تجربات سے یہ بھی ثابت ہے کہ جو امتی قبر پر حاضر ہو کر سلام عرض کرتے ہیں آپ ان کا سلام سنتے ہیں اور جواب دیتے ہیں، ایسی صورت میں بعد وفات آپ کی قبر پر حاضر ہونا اور سلام عرض کرنا ایک طرح سے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے اور بالمشافہ سلام کا شرف حاصل کرنے ہی کی ایک صورت ہے، اور بلا شبہ ایسی سعادت ہے کہ اہل ایمان ہر قیمت پر اس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
اگرچہ روضہ نبوی ﷺ کی زیارت حج کا کوئی رکن یا جز نہیں ہے، لیکن قدیم سے امت کا یہ تعامل چلا آ رہا ہے کہ خاص کر دور دراز علاقوں کے مسلمان جب حج کو جاتے ہیں تو روضہ پاک کی زیارت اور وہاں صلوٰۃ و سلام کی سعادت بھی ضرور حاصل کرتے ہیں۔ اسی لیے حدیث کے بہت سے مجموعوں میں کتاب الحج کے آخر میں زیارتِ نبوی ﷺ کی حدیثیں بھی درج کی گئی ہیں، اسی دستور کی پیروی کرتے ہوئے کتاب الحج کے اس سلسلہ کو ہم بھی زیارت نبوی ﷺ ہی کی حدیثوں پر ختم کرتے ہیں۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي ". (رواه ابن خزيمه فى صحيحه والدار قطنى والبيهقى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گی۔ (صحیح ابن خزیمہ، سنن دار قطنی، شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
اس سلسلہ “ معارف الحدیث ” کی جلد اول میں وہ حدیثیں درج ہو چکی ہیں جن میں فرمایا گیا ہے کہ جب تک ایک امتی کو رسول اللہ ﷺ کی محبت اللہ تعالیٰ کے سوا دنیا کی ہر چیز سے (حتیٰ کے اپنے ماں باپ، اہل و عیال اور خود اپنی ذات سے بھی) زیادہ نہ ہو اس وقت تک اس کو ایمان کی حقیقت و لذت حاصل نہیں ہو سکتی ..... اور روضہ اقدس نبوی ﷺ کی زیارت بلا شبہ اس محبت کے لازمی تقاضوں میں سے ہے، اور گویا اس کی ایک عملی صورت ہے۔ عربی شاعر نے کہا ہے ؎
امر (1) على الديار ديار ليلى
أقبل ذا الجدار و ذا الجدارا
وما حب الديار شغف قلبى
و لكن حب من سكن الديارا
علاوہ ازیں زیارت کے وقت زائر کے قلب مومن کی جو کیفیت ہوتی ہے اور جوار نبوی ﷺ کی برکت ہے ایمانی عہد کی تجدید، گنوہوں پر ندامت و شرمساری، انابت الی اللہ اور توبہ و استغفار کی جو لہریں اس وقت اس کے قلب میں اٹھتی ہیں اور محبت نبوی ﷺ کے جو جذبات موجزن ہوتے ہیں اور محبت و ندامت کے ملے جلے جذبات آنکھوں سے جو آنسو گراتے ہیں ان میں سے ہر چیز ایسی ہے جو شفاعت نبوی ﷺ بلکہ مغفرت خداوندی کو بھی واجب کر دیتے ہے، اس لیے اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ روضہ اقدس نبوی کے ہر صاحب ایمان زائر کو ان شاء اللہ ضرور شفاعت نبوی ﷺ نصیب ہو گی .... ہاں اگر بدنصیبی سے کوئی “ زائر ” ایسا ہے جس کے قلب کو ان کیفیات و جذبات اور ان واردات میں سے کچھ بھی نصیب نہیں ہوتا تو سمجھنا چاہیے کہ اس کا قلب دولت ایمانی سے خالی ہے پھر اس کی زیارت حقیقی زیارت نہیں صرف صورت زیارت ہے، اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہاں کسی عمل کی بھی صرف صورت معتبر نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کی زیارت کے جن منافع اور برکات و مصالح کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اگر اس کو پیش نظر رکھ کے ان احادیث پر غور کیا جائے جو اس زیارت کی ترغیب میں مروی ہیں تو خواہ سند کی لحاظ سے ان پر کلام کیا جا سکے (1) لیکن معنوی لحاظ سے وہ دین کے پورے فکری اور عملی نظام کے ساتھ بالکل مرتبط اور ہم آہنگ نظر آئیں گی اور ذہن سلیم اس پر مطمئن ہو جائے گا۔ کہ قبر مبارک کی یہ زیارت صاحب قبر ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ ایمانی تعلق اور محبت و توقیر میں اضافہ اور دینی ترقی کا خاص وسیلہ ہے، یقین ہے کہ ہر خوش نصیب صاحب ایمان بندہ جسے اللہ تعالیٰ نے زیارت کی سعادت سے بہرہ ور فرمایا ہے اس کی شہادت دے سکے گا۔
زیارت روضہ اقدس کے آداب یہ عاجز پوری تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب “ آپ حج کیسے کریں؟ ” میں لکھ چکا ہے۔ ناظرین سے گزارش ہے کہ وہ اس کو ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ ان شاء اللہ بڑی روحانی لذتیں پائیں گے۔
“ معارف الحدیث ” (جلد چہارم) زیارت نبوی ﷺ کے اس مختصر بیان پر ختم ہوئی۔
فَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَعَلَى رَسُولِهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ
ذکر اللہ کی عظمت اور اس کی برکات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللهَ إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمِ السَّكِينَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ. (رواه ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بھی اور جہاں بھی بیٹھ کے کچھ بندگانِ خدا اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو لازمی طور پر فرشتے ہر طرف سے ان کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور ان کو گھیر لیتے ہیں اور رحمت الہی ان پر چھا جاتی ہے اور ان کو اپنے سایہ میں لے لیتی ہے اور ان پر سکینہ کی کیفیت نازل ہوتی ہے اور اللہ اپنے ملائکہ مقربین میں کا ذکر فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اسی سلسلہ معارف الحدیث میں “کتاب الطہارۃ” کے بالکل شروع میں “حجۃ اللہ البالغہ” کے حوالے سے حضرت شاہ ولی اللہؒ کا یہ ارشاد نقل کیا جا چکا ہے کہ:
“اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے مجھے یہ حقیقت سمجھا دی ہے کہ فلاح و سعادت کی شاہراہ کی طرف دعوت دینے کے لئے انبیاء علیہم السلام کی بعثت ہوئی (جس کا نام شریعت ہے) اگرچہ اس کے بہت سے ابواب ہیں، اور ہر باب کے تحت سینکڑوں ہزاروں احکام ہیں لیکن اپنی اس بے پناہ کثرت کے باوجود وہ سب بس ان چار اصولی عنوانوں کے تحت آ جاتے ہیں:
۱۔ طہارت
۲۔ اخبات
۳۔ سماحت
۴۔ عدالت
یہ لکھنے کے بعد شاہ صاحبؒ نے ان چاروں میں سے ہر ایک کی حقیقت بیان کی ہے جس کے مطالعہ سے یہ بات بالکل واضح ہو کر سامنے آ جاتی ہے کہ بلا شبہ ساری شریعت ان ہی چار شعبوں میں منقسم ہے۔
جلد سوم میں (کتاب الطہارۃ) کے شروع میں حضرت شاہ صاحبؒ کے اس سلسلہ کلام کا صرف وہ حصہ تلخیص کے ساتھ نقل کیا گیا تھا جس میں انہوں نے طہارت کی حقیقت بیان فرمائی تھی۔
اخبات کی حقیقت کے بارے میں جو کچھ انہوں نے فرمایا ہے اس کو مختصر الفاظ میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ وہ:
“تحیر اور خوف و محبت کی کیفیات اور رضا جوئی و عنایت طلبی کے جذبہ کے ساتھ ساتھ اللہ ذوالجلال والجبروت کے حضور میں ظاہر و باطن سے اپنی بندگی و نیاز مندی اور محتاجی و رحمت طلبی کا اظہار ہے۔”
اسی کا دوسرا معروفِ عام عنوان عبادت ہے، اور وہی انسانوں کی تخلیق کا خاص مقصد ہے۔ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ
حضرت شاہ صاحبؒ نے سعادت کے ان چاروں شعبوں میں “حجۃ اللہ البالغہ” مقصد دوم میں ابواب الاحسان کے ذیل میں بھی کلام فرمایا ہے، وہاں فرماتے ہیں کہ:
“ان میں سے پہلی چیز یعنی طہارت کی تحصیل کے لئے وضو اور غسل وغیرہ کا حکم دیا گیا ہے، اور دوسری بنیات یعنی اخبات کی تحصیل کا خاص وسیلہ نماز اور اذکار اور قرآن مجید کی تلاوت ہے”۔ (1)
بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ فی الحقیقت ذکر اللہ ہی اخبات کا مخصوص وسیلہ ہے اور نماز اور تلاوت اور اسی طرح دُعا بھی اس کی خاص خاص شکلیں ہیں۔
بہرحال نماز اور ذکر اللہ اور تلاوتِ کلام مجید، ان سب کی غرض و غایت اس مبارک صفت کی تحصیل و تکمیل ہے جس کو حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اخبات کے عنوان سے ادا کیا ہے، اس لئے یہ سب ایک ہی قبیل کی چیزیں ہیں۔
نماز کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور آپ ﷺ کے ارشادات و معمولات اللہ کی توفیق سے اس سلسلہ کی تیسری جلد میں پیش کئے جا چکے ہیں۔ اذکار و دعوات اور تلاوتِ قرآن مجید سے متعلق حدیثیں اب اس پانچویں جلد میں پیش کی جا رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ لکھنے والے اپنے اس گنہگار بندے کو اور پڑھنے والے حضرات کو ان احادیث پاک پر عمل کرنے اور پورا نفع اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
ذکر اللہ کی عظمت اور اس کی برکات
جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے “ذکر اللہ” اپنے وسیع معنی کے لحاظ سے نماز، تلاوتِ قرآن اور دُعا و استغفار وغیرہ سب ہی کو شامل ہے، اور یہ سب اس کی خاص خاص شکلیں ہیں۔ لیکن مخصوص عرف و اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس، توحید و تمجید، اس کی عظمت و کبریائی اور اس کی صفات کمال کے بیان اور دھیان کو “ذکر اللہ” کہا جاتا ہے اور جیسا کہ آگے درج ہونے والی بعض احادیث سے صراحۃً معلوم ہو گا یہ اللہ تعالیٰ کے قرب و رضا اور انسان کی روحانی ترقی اور ملاءِ اعلیٰ سے اس کے ربط کا خاص الخاص وسیلہ ہے۔
شیخ ابن القیم نے “مدارج السالکین” میں ذکر اللہ کی عظمت و اہمیت اور اس کی برکات پر ایک بڑا بصیرت افروز اور روح پرور مضمون لکھا ہے، اس کے ایک حصہ کا خلاصہ ہم یہاں بھی درج کرتے ہیں۔
آگے درج ہونے والی احادیث میں ذِکراللہ کی جو عظمت بیان ہو گی اس مضمون کے مطالعہ کے بعد اس کا سمجھنا ان شاء اللہ آسان ہو گا۔ فرماتے ہیں:
قرآن مجید میں ذِکراللہ کی تاکید و ترغیب کے ہم کو مندرجہ ذیل دس عنوانات ملتے ہیں:
۱۔ بعض آیات میں اہل ایمان کو تاکید کے ساتھ اس کا حکم دیا گیا ہے، مثلاً ارشاد فرمایا گیا ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا (الاحزاب۳۳: ۴۱، ۴۲)
اے ایمان والو! اللہ کو بہت یاد کیا کرو، اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کرو۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے:
وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِيْفَةً
اور اپنے رب کا ذکر کرو اپنے جی میں (یعنی دل سے) گِڑگِڑا کر اور خوف کی کیفیت کے ساتھ۔
۲۔ بعض آیات میں اللہ کو بھولنے اور اس کی یاد سے غافل ہونے سے شدت کے ساتھ منع فرمایا گیا ہے۔ یہ بھی ذِکراللہ کی تاکید ہی کا ایک عنوان ہے۔ مثلاً ارشاد ہے:
وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ (اعفار ۷: ۲۰۵)
اور نہ ہونا تم غفلت والوں میں سے
دوسری جگہ ارشاد ہے:
وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ (الحشر ۵۹: ۱۹)
اور تم ان میں سے نہ ہو جاؤ، جنہوں نے اللہ کو بُھلا دیا پھر (اس کی پاداش میں) اللہ نے ان کو ان کے نفس بھلا دئیے (اور خدا فراموشی کے نتیجہ میں وہ خود فراموش ہو گئے)
۳۔ بعض آیات میں فرمایا گیا ہے کہ فلاح اور کامیابی اللہ کے ذکر کی کثرت کے ساتھ وابستہ ہے۔ ارشاد ہے:
وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (سورۃ الجمعہ ۶۲: ۱۰)
اور کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرو، پھر تم فلاح و کامیابی کی امید کر سکتے ہو۔
۴۔ بعض آیات میں حق تعالیٰ کی طرف سے اہلِ ذکر کی تعریف کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ذکر کے صلہ میں ان کے ساتھ رحمت و مغفرت کا خاص معاملہ کیا جائے گا اور ان کو اجرِ عظیم سے نوازا جائے گا۔ چنانچہ سورہ احزاب میں ایمان والے بندوں اور بندیوں کے چند دوسرے ایمانی اوصاف بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا گیا ہے:
وَ الذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا
اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے اس کے بندے اور اس کی بندیاں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں اور بندیوں کے لئے تیار کر رکھی ہے خاص بخشش اور عظیم ثواب۔
۵۔ اسی طرح بعض آیات میں آگاہی دی گئی ہے کہ جو لوگ دنیا کی بہاروں اور لذتوں میں منہمک اور مست ہو کر اللہ کی یاد سے غافل ہو جائیں گے وہ ناکام اور نامراد رہیں گے۔ مثلا سورہ منافقون میں ارشاد فرمایا گیا ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ
اے ایمان والو! تمہاری دولت اولاد تم کو اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے، اور جو لوگ اس غفلت میں مبتلا ہوں گے وہ بڑے گھاٹے اور نقصان میں رہیں گے۔
یہ تینوں عنوان بھی ذِکراللہ کی تاکید اور ترغیب کے لئے بلاشبہ بڑے مؤثر ہیں۔
۶۔ بعض آیات میں فرمایا گیا ہے کہ جو بندے ہمیں یاد کریں گے ہم ان کویاد کریں گے اور یاد رکھیں گے۔
فَاذْكُرُوْنِيْۤ۠ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِيْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ (بقرہ: ۲: ۱۵۲)
میرے بندو! تم مجھے یاد کرو، میں تم کو یاد رکھوں گا اور میرے احسان مانو اور ناشکری نہ کرو۔
سبحان اللہ وبحمدہ۔ بندے کی اس سے بڑی سعادت و کامیابی اور کیا ہو سکتی ہے کہ پوری کائنات کا خالق و مالک اس کو یاد کرے اور یاد رکھے۔
۷۔ بعض آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے ذکر کو ہر چیز کے مقابلہ میں عظمت و فوقیت حاصل ہے اور اس کائنات میں وہ ہر چیز سے بالاتر اور بزرک تر ہے۔
وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ (عنکبوت ع: ۵)
“اور یقین کرو کہ اللہ کا ذکر ہر چیز سے بزرک تر ہے”
بےشک اگر بندے کو عرفان نصیب ہو تو اللہ کا ذکر اس کے لئے اس ساری کائنات سے عظیم تر ہے۔
۸۔ بعض آیات میں بڑے اونچے درجہ کے اعمال کے بارے میں ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ان کے اختتام پر اللہ کا ذکر ہونا چاہئے گویا ذکر اللہ ہی کو ان اعمال کا “خاتمہ” بنانا چاہئے۔ مثلا نماز کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے:
فَاِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِيٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ
جب تم نماز ادا کر لو تو اللہ کا ذکر کرو (ہر حال میں) کھڑے بیٹھے اور پہلوؤں کے بل لیٹے۔
اور خاص کر جمعہ کی نماز کے بارے میں ارشاد ہے:
فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
جب جمعہ کی نماز ختم ہو جائے تو (اجازت ہے) کہ تم (مسجد سے نکل کر اپنے کام کاج کے سلسلہ میں) زمین میں چلو پھرو، اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور اس حالت میں بھی اللہ کا خوب ذکر کرو، پھر تم فلاح کی امید کر سکتے ہو۔
اور حج کے بارے میں ارشاد ہے:
فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا
پھر جب تم اپنے مناسک ادا کر کے فارغ ہو جاؤ تو اللہ کا ذکر کرو جیسے کہ تم (تفاخر کے طور پر) اپنے باپ داداؤں کا ذکر کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ اللہ کا ذکر کرو۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ نماز اور حج جیسی اعلیٰ درجہ کی عبادات سے فارغ ہونے کے بعد بھی بندہ کے لئے اللہ کے ذکر سے غافل ہونے کی گنجائش نہیں ہے، بلکہ ان سے فراغت کے بعد بھی اس کے دل میں اور اس کی زبان پر اللہ کا ذکر ہونا چاہئے اور اسی کو ان اعمال کا خاتمہ بننا چاہئے۔
۹۔ بعض آیات میں ذکراللہ کی ترغیب اس عنوان سے دی گئی ہے کہ دانش مند اور صاحب بصیرت بندے وہی ہیں جو ذکراللہ سے غافل نہیں ہوتے۔ جس کا لازمی مفہوم یہ ہے کہ جو ذکراللہ سے غافل ہوں وہ عقل و بصیرت سے محرورم ہیں۔ مثلاً سورہ آل عمرا کے آخری رکوع میں ارشاد فرمایا گیا ہے:
اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِۚۙ۰۰۱۹۰ الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِيٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ (آل عمران: ۳: ۱۹۰، ۱۹۱)
یقیناً زمین و آسمان کی تخلیق میں اور رات اور دن کی تبدیلیوں سے کھلی نشانیاں ہیں ان ارباب دانش کے لئے جو کھڑے بیٹھے اور لیٹنے کی حالت میں بھی اللہ کو یاد کرتے ہیں (اور اس سے غافل نہیں ہوتے)۔
۱۰۔ بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اونچے سے اونچے اعمالِ صالحہ کا مقصد اور ان کی روح ذکراللہ ہے۔ مثلاً نماز کے بارے میں ارشاد ہے:
اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ (طہ ۲۰: ۱۴)
میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔
اور مناسک کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ، وَالسَّعْىُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ.
بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کے درمیان سعی، اور جمرات کی رمی یہ سب چیزیں ذکراللہ ہی کے لئے مقرر ہوئی ہیں۔
اور جہاد کے بارے میں ارشادِ خداوندی ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
اے ایمان والو! جب تمہاری مڈ بھیڑ ہو جائے کسی دشمن فوج سے تو ثابت قدم رہو (اور قدم جما کے جنگ کرو) اور اللہ کا ذکر کرو، امید ہے کہ تم فلاح یاب ہو گے۔
اور ایک حدیث قدسی میں ہے:
إِنَّ عَبْدِي كُلَّ عَبْدِيَ الَّذِي يَذْكُرُنِي وَهُوَ مُلاَقٍ قِرْنَهُ
میرا بندہ مکمل بندہ وہ ہے جو اپنے حریف مقابل سے جنگ کے وقت بھی مجھے یاد کرتا ہے۔
قرآن حدیث کے ان نصوص سے ظاہر ہے کہ نماز سے لے کر جہاد تک تمام اعمال صالحہ کی روح اور جان ذکراللہ ہے۔ اور یہی ذکر اور دل و زبان سے اللہ کی یاد وہ پروانہ ولایت ہے جس کو عطا ہو گیا وہ واصل ہو گیا اور جس کو عطا نہیں ہوا وہ دور اور مہجور رہا۔ یہ ذکراللہ والوں کے قلوب کی غذا اور ذریعہ حیات ہے، اگر وہ ان کو نہ ملے تو جسم ان قلوب کے لئے قبور بن جائیں۔ اور ذکر ہی سے دلوں کی دنیا کی آبادی ہے، اگر دلوں کی دنیا اس سے خالی ہو جائے تو بالکل ویرانہ ہو کر رہ جائے اور ذکر ہی ان کا وہ ہتھیار ہے جس سے وہ روحانیت کے رہزنوں سے جنگ کرتے ہیں اور وہی ان کے لیے وہ ٹھنڈا پانی ہے جس سے وہ اپنے باطن کی آگ بجھاتے ہیں اور وہی ان کی بیماریوں کی وہ دوا ہے کہ اگر ان کو نہ ملے تو ان کے دل گرنے لگیں اور وہی وسیلہ رابط ہے ان کے اور ان کے علام الغیوب رب کے درمیان۔ کیا خوب کہا گیا ہے ؎
اِذَا مَرِضْنَا تَدَاوَيْنَا بِذِكْرِكُمْفَنَتْرُكُ الذِّكْرَ اَحْيَانًا فَنَتَكَّسُ
جب ہم بیمار پڑ جاتے ہیں تو تمہاری یاد سے اپنا علاج کرتے ہیں اور جب کسی وقت یاد سے غافل ہو جائیں تو مرنے لگتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے جس طرح بینا آنکھوں کو روشنی اور بینائی سے منور کیا ہے اسی طرح ذکر کرنے والی زبانوں کو ذکر سے مزین رمایا ہے، اسی لئے اللہ کی یاد سے غافل زبان اس آنکھ کی طرح ہے جو بینائی سے محروم ہے اور اس کان کی طرح ہے جو شنوائی کی صلاحیت کھو چکا ہے، اور اس ہاتھ کی طرح ہے جو مفلوج ہو کر بیکار ہو گیا ہے۔
ذکراللہ ہی وہ راستہ اور دروازہ ہے جو حق جل جلالہ اور اس کے بندے کے درمیان کھلا ہوا ہے اور اس سے بندہ اس کی بارگاہ عالی تک پہنچ سکتا ہے اور جب بندہ اللہ کے ذکر سے غافل ہوتا ہے تو یہ دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ کیا خوب کہا ہے کہنے والے نے ؎ فنسيان ذكر الله موت قلوبهم واجسامهم قبل القبور قبور
وارواحهم فى وحشة من جسومهموليس لهم حتى النشور نشور
اللہ کی یاد سے غافل ہو جانا اور فراموش کر دینا ان کے قلوب کی موت ہے، اور ان کے جسم زمین والی قبروں سے پہلے ان کے مردہ دلوں کی قبریں ہیں۔
اور ان کی روحیں سخت وحشت میں ہیں ان کے جسموں سے اور ان کے لئے قیامت اور حشر سے پہلے زندگی نہیں۔(ملخصا من كلام الشيخ ابن القيم فى مدارج السالكين)
ناچیز راقم سطور عرض کرتا ہے کہ مندرجہ بالا اقتباس میں ذکراللہ کی تاکید و ترغیب کے جن دس عنوانات کا ذکر کیا گیا ہے، قرآن مجید میں ان کے علاوہ بھی بعض عنوانات سے ذکراللہ کی ترغیب دی گئی ہے۔ مثلاً فرمایا گیا ہے کہ:
“قلوب کو (یعنی اللہ سے رابطہ رکنے والوں کے دلوں اور ان کی روحوں کو) اللہ کے ذکر ہی سے چین و اطمینان حاصل ہوتا ہے۔” اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ (جان لو کہ اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو چین اور سکون ملتا ہے)۔
ذکراللہ کی تاخیر اور برکت کے بارے میں ایک دوسرے ربانی محقق اور صرفی صاحب “سترصيع الجواهر الملكيه” کے چند فقروں کا ترجمہ بھی پڑھ لیا جائے۔ آگے درج ہونے والی اس باب کی احادیث کے سمجھنے میں ان شاء اللہ اس سے بھی خاص مدد ملے گی۔
فرماتے ہیں:
“قلوب کو نورانی بنانے اور اوصاف ردیہ کو اوصاف حمیدہ میں تبدیل کر دینے میں سب طاعات و عبادات سے زیادہ زوداثر اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے”
خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ
بلاشبہ نماز گندی اور ناشائستہ باتوں سے روکتی ہے اور یہ یقینی حقیقت ہے کہ اللہ کا ذکر بہت ہی بڑی چیز ہے۔
اور اکابر نے فرمایاہے کہ:
“ذکر کا عمل قلب کو صاف کرنے میں بالکل ویسا ہی کام کرتا ہے جیسا کہ تانبے کو صاف کرنے اور مانجھنے میں بال۔ اور باقی دوسری عبادات کا عمل قلوب کی صفائی کے بارے میں ویسا ہے جیسا کہ تانبے کے صاف کرنے میں صابن کا عمل۔” (ترصیع الجواہر المکیہ)
اس تمہید کے بعد ذکراللہ کی عظمت اور برکات کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات پڑھئے:
تشریح ..... اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ اللہ کے کچھ بندوں کے ایک جگہ جمع ہو کر ذکر کرنے کی خاص برکات ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی حدیث کی شرح میں فرمایا ہے:
“اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ مسلمانوں کا جمع ہو کر ذکر وغیرہ کرنا رحمت و سکینت اور قرب ملائکہ کا خاص وسیلہ ہے”۔ (حجۃ اللہ البالغہ، ص ۷۰، جلد:۲)
اس حدیث میں اللہ کا ذکر کرنے والے بندوں کے لیے چار خاص نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ ہر طرف سے اللہ کے فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ رحمت الٰہی ان کو اپنے آغوش اور سایہ میں لے لیتی ہے، اور ان دونوں نعمتوں کے لازمی نتیجہ کے طور پر تیسری نعمت ان کو یہ حاصل ہوتی ہے کہ ان کے قلب پر “سکینت” نازل ہوتی ہے، جو عظیم ترین روحانی نعمتوں میں سے ہے۔ یہاں سکینت سے مراد خاص درجہ کا قلبی اطمینان اور روحانی سکون ہے جو اللہ کے خاس بندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی عطیہ کے طور پر نصیب ہوتا ہے، اسی کو اہلِ سلوک “جمعیت قلبی” بھی کہتے ہیں۔ اس دولت اور نعمت کا صاحبِ سکینہ کو احساس اور شعور بھی ہوتا ہے۔اور ذاکر بندوں کو ملنے والی چوتھی نعمت جس کا اس حدیث میں سب سے آخر میں ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ملائکہ مقربین کے حلقہ میں ان ذاکر بندوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ مثلاً فرماتے ہیں کہ: “دیکھو آدمؑ کی اولاد میں سے میرے یہ بھی بندے ہیں جنہوں نے مجھے دیکھا نہیں غائبانہ ہی ایمان لائے ہیں، اس کے باوجود محبت و خشیت کی کیسی کیفیت اور کیسے ذوق و شوق اور کیسے سوز و گداز کے ساتھ میرا ذکر کر رہے ہیں۔ بلاشبہ مالک الملک کا اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں کا اس طرح ذکر فرمانا وہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے آگے کسی نعمت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ اس سے محروم نہ رکھے۔”
فائدہ ...... اس حدیث سے یہ بھی اشارہ ملا کہ اگر اللہ کا کوئی ذاکر بندہ اپنے قلب و باطن میں “سکینت” کی کیفیت محسوس نہ کرے (جو ایک محسوس کی جانے والی چیز ہے) تو اس کو سمجھنا چاہئے کہ ابھی وہ ذِکر کے اس مقام تک نہیں پہنچ سکا جس پر یہ نعمتیں موجود ہیں، یا اس کی زندگی میں کچھ ایسی خرابیاں ہیں جو آثارِ ذکر کے حصول میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ بہرحال اسے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے۔ ربِ کریم کے وعدے برحق ہیں۔
ذکر اللہ کی عظمت اور اس کی برکات
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا أَجْلَسَكُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللهَ، قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ؟ قَالُوا: وَاللهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «مَا أَجْلَسَكُمْ؟» قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ، وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا، قَالَ: «آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ؟» قَالُوا: وَاللهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: «أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَلَكِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي، أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ»
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ ؓ مسجد میں قائم ایک حلقہ پر پہنچے تو آپ نے ان اہلِ حلقہ سے پوچھا: تم کس لئے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم بیٹھ کر اللہ کو یاد کر رہے ہیں حضرت معاویہ ؓ نے کہا: کیا اللہ کی قسم! تم صرف ذِکر اللہ ہی کے لیےبیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا: قسم بخدا! ہمارے بیٹھنے کا کوئی اور مقصد اللہ کے ذِکر کے سوا نہیں ہے۔ حضرت معاویہ ؓ نے کہا: آپ لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ میں نے کسی بدگمانی کی بناء پر آپ لوگوں سے قسم نہیں لی ہے، اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے جس درجہ کا تعلق اور قرب مجھے حاصل تھا اس درجہ کے تعلق والا آدمی آپ کو حدیثیں مجھ سے کم بیان کرنے والا نہیں ہے (یعنی میں روایت حدیث میں بہت زیادہ احتیاط کرتا ہوں اس لئے اپنے جیسے دوسرے لوگوں کی بہ نسبت بہت کم حدیثیں بیان کرتا ہوں اور میں نے اسی کی پیروی میں آپ لوگوں سے قسم لی ہے۔ وہ حدیث یہ ہے کہ “رسول اللہ ﷺ ایک دن اپنے اصحاب کے ایک حلقہ کے پاس پہنچے آپ ﷺ نے ان سے پوچھا۔ “آپ لوگ یہاں کیوں جڑے بیٹھے ہیں؟ ” انہوں نے عرض کیا: ہم اللہ کو یاد کر رہے ہیں اور اس نے جو ہم کو ہدایت سے نوازا اور ایمان و اسلام کی توفیق دے کر احسانِ عظیم فرمایا اس پر اس کی حمد و ثناء کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہارے ساتھ کسی بدگمانی کی بناء پر تم سے قسم نہیں لی، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ابھی جبرئیل امین علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فخر و مباہات کے ساتھ فرشتوں سے تم لوگوں کا ذکر فرما رہے ہیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
معلوم ہوا کہ اللہ کے کچھ بندوں کا ایک جگہ بیٹھ کے اخلاص کے ساتھ اللہ کو یاد کرنا، اس کی باتیں کرنا، اس کی حمد و تسبیح کرنا اللہ کو بےحد پسند ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے خاص فرشتوں کے سامنے ایسے بندوں کے لئے اپنی رضا کا اظہار فرماتا ہے۔ اَللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْهُمْ
ذکر اللہ کی عظمت اور اس کی برکات
عَنْ أَبِىْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ أَنَا مَعَ عَبْدِي إِذَا ذَكَرَنِي، وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ. (رواه البخارى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس وقت بندہ میرا ذکر کرتا ہے اور میری یاد میں اس کے ہونٹ حرکت کرتے ہیں تو اس وقت میں اپنے اس بندہ کے ساتھ ہوتا ہوں۔” (صحیح بخاری)
تشریح
اللہ تعالیٰ کی ایک معیت وہ ہے جو اس کائنات کی ہر اچھی بری چیز کو اور ہر مؤمن و کافر کو ہر وقت حاصل ہے۔ کوئی چیز بھی کسی وقت اللہ سے دور نہیں، اللہ ہر چیز کو محیط ہے، ہر جگہ اور ہمہ وقت حاضر و ناظر ہے۔ اور ایک معیت رضا اور قبول والی معیت ہے۔ اس حدیث قدسی میں جس معیت کا ذکر ہے وہ یہی رضا اور قبول والی معیت ہے۔ اور حدیث کا مدعا یہ ہے کہ جب میرا بندہ میرا قرب اور میری رضا حاصل کرنے کے لئے میرا ذکر کرتا ہے تو اس کو میرے قرب و رضا کی دولت فوراً مل جاتی ہے جو وہ ذکر کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دولت کی طلب، اس کا ذوق و شوق اور پھر وہ دولت نصیب فرمائے۔
ذکر اللہ کی عظمت اور اس کی برکات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا ذَكَرَنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرا معاملہ بندے کے ساتھ اس کے یقین کے مطابق ہے۔ اور میں اس کے بالکل ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے۔ اگر وہ مجھے اپنے جی میں اس طرح یاد کرے کہ کسی اور کو خبر بھی نہ ہو تو میں بھی اس کو اسی طرح یاد کروں گا۔ اور اگر وہ دوسرے لوگوں کے سامنے مجھے یاد کرے تو میں ان سے بہتر بندوں کی جماعت میں اس کا ذکر کروں گا (یعنی ملائکہ کی جماعت میں اور ان کے سامنے)”۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کے پہلے جملے (أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي) کا مطلب یہ ہے کہ بندہ میرے بارے میں جیسا یقین قائم کرے گا تو میرا معاملہ اس کے ساتھ بالکل اسی کے مطابق ہو گا۔ مثلاً وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں رحم اور کرم کا یقین کرے تو اللہ تعالیٰ کو رحیم کریم ہی پائے گا۔ اسی لئے بندہ کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھا یقین کرے اور اسی کے مطابق عمل کرے۔ حدیث کے آخری حصہ میں جو فرمایا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بندہ مجھے خلوت میں اس طرح یاد کرتا ہے کہ اس کے اور میرے سوا کسی کو اس کی خبر نہیں ہوتی تو میری عنایت بھی اس کے ساتھ اسی طرح مخفی ہوتی ہے۔ ؎
میانِ عاشق و معشوق رمزیستکراماً کاتبین را ہم خبر نیست
اور جب بندہ جلوت میں اور دوسروں کے سامنے میرا ذکر کرتا ہے (جس میں دعوت اور ارشاد اور وعظ و نصیحت بھی داخل ہے) تو اس بندہ کے ساتھ اپنے تعلق اور اس کی قبولیت کا ذکر میں فرشتوں کے سامنے بھی کرتا ہوں، جس کے بعد وہ بندہ فرشتوں میں مقبول و محبوب ہو جاتا ہے، اور اس کے بعد اس دنیا میں بھی اس کو قبولِ عام اور محبوبیت عامہ حاصل ہو جاتی ہے۔
اسی سنت اللہ کا ظہور ہے کہ بہت سے عرفاء کاملین جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے خاص تعلق کا اخفا کرتے ہیں اگرچہ اللہ کے ہاتھ اُن کو مقبولیت کا خاص الخاص مقام حاصل ہوتا ہے۔ لیکن دنیا میں ان کو پہچانا ہی نہیں جاتا، اور جن کا تعلق باللہ اور دعوتِ الی اللہ ظاہر اور جلی قسم کی ہوتی ہے ان کو دنیا میں بھی مقبولیت امہ حاصل ہو جاتی ہے۔
ذکر اللہ کی عظمت اور اس کی برکات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَمَرَّ عَلَى جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ جُمْدَانُ، فَقَالَ: «سِيرُوا هَذَا جُمْدَانُ سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ» قَالُوا: وَمَا الْمُفَرِّدُونَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «الذَّاكِرُونَ اللهَ كَثِيرًا، وَالذَّاكِرَاتُ» (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں مکہ مکرمہ کی طرف تشریف لے جا رہے تھے، راستے میں جَمْدان نامی پہاڑ پر سے گزر ہوا تو آپ ﷺنے فرمایا: یہ پہاڑ جمدان ہے، مُفَرِّدُونَ سبقت لے گئے۔ عرض کیا گیا: مُفَرِّدُونَ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا زیادہ ذکر کرنے والے بندے اور زیادہ ذکرنے والی بندیاں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
جمدان ایک پہاڑی کا نام ہے جو مدینہ طیبہ کے قریب ہی ایک دن کی مسافت پر ہے۔ متعدد حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے جس حصہ پر اللہ کا نام لیا جاتا ہے اس کا شعور و احساس اس حصہ زمین کو ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ “ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ پوچھتا ہے کہ کیا آج اللہ کا نام لینے والا کوئی بندہ تجھ پر سے گزرا؟” جب وہ بتاتا ہے کہ ہاں گزرا، تو وہ کہتا ہے کہ “تجھے بشارت ہو، مبارک ہو!” معلوم ہوتا ہے کہ جمدان پہاڑ پر سے گزرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ پر یہ بات منکشف ہوئی کہ جو زیادہ ذکر کرنے والے بندے اور بندیاں ہیں اُنہوں نے قبول و رضا کے بڑے مقامات حاصل کر لئے اور وہ بہت آگے بڑھ گئے، تو آپ ﷺ نے یہ بات فرمائی کہ مُفَرِّدُونَ یعنی بہت زیادہ ذکر کرنے والے سبقت لے گئے۔
مُفَرِّدُونَ کے لغوی معنی ہیں اپنے کو سب سے الگ اور اکیلا اور ہلکا پھلکا کر لینے والے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے قرب و رضا کی طلب میں اپنے کو اس دنیا کی الجھنوں سے ہلکا کر لیں، اور سب طرف سے کٹ کے اکیلے اللہ کے ہو جائیں، یہی مقام تفرید ہے، اور یہی قرآن مجید کی خاص اصطلاح میں تَبَتُّلْ ہے (وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًا) پس “الذَّاكِرُونَ اللهَ كَثِيرًا، وَالذَّاكِرَاتُ” کے مصداق وہی بندے ہیں جن کا یہ حال ہوا اور جنہوں نے ہر طرف سے کٹ کر اللہ جل جلالہ کو اپنا قبلہ مقصود بنا لیا ہو۔
دوسرے تمام اعمال کے مقابلہ میں ذکر اللہ کی افضلیت
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ، وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ، وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّهَبِ وَالوَرِقِ، وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى. قَالَ: ذِكْرُ اللهِ. (رواه احمد والترمذى وابن ماجة)
حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کیا میں تم کو وہ عمل بتاؤں جو تمہارے سارے اعمال میں بہتر اور تمہارے مالک کی نگاہ میں پاکیزہ تر ہے اور تمہارے درجوں کو دوسرے تمام اعمال سے زیادہ بلند کرنے والا ہے، اور راہِ خدا میں سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بھی زیادہ اس میں خیر ہے، اور اس جہاد سے بھی زیادہ تمہارے لئے اس میں خیر ہے جس میں تم اپنے دشمنوں اور خدا کے دشمنوں کو موت کے گھاٹ اُتارو اور وہ تمہیں ذبح کریں اور شہید کریں؟ صحابہؓ نے عرض کیا۔ “ہاں یا رسول اللہ! ایسا قیمتی عمل ضرور بتائیے۔” آپ ﷺ نے فرمایا۔ “وہ اللہ کا ذِکر ہے۔” (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
یہ حدیث دراصل قرآن مجید کی آیت “ولذكر الله اكبر” کی تشریح و تفسیر ہے۔ بےشک “ذکراللہ” اس لحاظ سے کہ وہ اصلاً بالذات مقصد اعلیٰ ہے اور اللہ کی رضا اور اس کے تقرب کا سب سے قریبی ذریعہ ہے۔ وہ دوسرے تمام اعمال سے بہتر اور بالاتر ہے۔ اور یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ کسی خاص حالت میں اور کسی ہنگامی موقع پر صدقہ اور انفاق لوجہ اللہ یا جہاد و قتال فی سبیل اللہ کو زیادہ اہمیت حاصل ہو جائے۔ اسی طرح یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک عمل ایک اعتبار سے افضل و اہم ہو اور دوسرے اعتبار سے کوئی دوسرا عمل زیادہ اہمیت رکھتا ہو۔ آگے درج ہونے والی حضرت ابو سعید خدریؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی حدیثوں کا مطلب و مدعا بھی قریب قریب یہی ہے اور ان میں سے ہر حدیث سے دوسری حدیث کی شرح اور تائید ہوتی ہے۔
دوسرے تمام اعمال کے مقابلہ میں ذکر اللہ کی افضلیت
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ العِبَادِ أَفْضَلُ دَرَجَةً عِنْدَ اللهِ يَوْمَ القِيَامَةِ؟ قَالَ: الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمِنَ الغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ؟ قَالَ: لَوْ ضَرَبَ بِسَيْفِهِ فِي الكُفَّارِ وَالمُشْرِكِينَ حَتَّى يَنْكَسِرَ وَيَخْتَضِبَ دَمًا لَكَانَ الذَّاكِرَ لِلَّهَ كَثِيرًا أَفْضَلَ مِنْهُ دَرَجَةً. (رواه احمد والترمذى)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! بندوں میں کون (یعنی کس عمل کا کرنے والا) سب سے افضل ہے، اور قیامت میں کس کو اللہ کے ہاں زیادہ بلند درجہ ملنے والا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “اللہ کو زیادہ یاد کرنے والے بندے اور زیادہ یاد کرنے والی بندیاں ”۔ (یعنی افضلیت اور قیامت میں درجہ کی بلندی انہیں کے لئے ہے) عرض کیا گیا: “یا رسول اللہ! کیا ان لوگوں کا درجہ اس بندے سے بھی اُونچا ہے جو (سربکف ہو کر) راہِ خدا میں جہاد کرے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “اگر کسی بندہ نے (اس طرح جہاد میں جانبازی کی کہ) دشمنانِ حق (کفار و مشرکین) کی صفوں میں گھس کر تلوار چلائی یہاں تک کہ اس کی تلوار ٹوٹ گئی اور وہ دشمنوں کے ہاتھوں سے زخمی ہو کر خون میں شرابور ہو گیا، جب بھی اللہ کا ذکر کرنے والا بندہ درجہ میں اس سے افضل ہے۔” (مسند احمد، جامع ترمذی)
دوسرے تمام اعمال کے مقابلہ میں ذکر اللہ کی افضلیت
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ صِقَالَةً، وَإِنَّ صِقَالَةَ الْقُلُوبِ ذِكْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَا مِنْ شَىْءٍ أَنْجَى مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ " قَالُوا: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَلَا الْجِهَادُ، إِلَّا أَنْ يَضْرِبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى يَنْقَطِعَ» (رواه البيهقى فى الدعوات الكبير)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کرتے تھے کہ: “ہر چیز کی صفائی کے لئے کوئی صیقل ہے، اور قلوب کی صیقل (یعنی ان کی صفائی کا خاص مسالہ) ذِکراللہ ہے، اور اللہ کے عذاب سے بچانے اور نجات دلانے میں اللہ کا ذکر جس قدر موثر ہے اتنی کوئی دوسری چیز موثر نہیں۔” لوگوں نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟” آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “ہاں! وہ جہاد بھی عذاب خداوندی سے نجات دلانے میں ذِکر کے برابر مؤثر نہیں جس کا کرنے والا ایسی جانبازی سے جہاد کرے کہ تلوار چلاتے چلاتے اس کی تلوار بھی ٹوٹ جائے۔ (دعوات کبیر للبیہقی)”
تشریح
اصل حقیقت یہی ہے کہ سارے اعمالِ صالحہ کے مقابلہ میں “ذکر اللہ” افضل اور عنداللہ محبوب تر ہے (وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ) بندے کو اللہ تعالیٰ کا جو قرب اور اس کی وجہ سے جو سعادت اور شرف ذکر کے وقت حاصل ہوتا ہے وہ کسی دوسرے عمل کے وقت نہیں ہوتا، بشرطیکہ یہ ذکر عظمت اور محبت و خشیت اور دل کی توجہ کے ساتھ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: فَاذْكُرُوْنِيْۤ اَذْكُرْكُمْ (تم مجھے یاد کرو میں تم کو یاد کروں گا) اور حدیث قدسی: “أَنَا جَلِيْسُ مَنْ ذَكَرَنِي...... وَأَنَا مَعَ عَبْدِي إِذَا هُوَ ذَكَرَنِي، وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ” (میں اپنے ذکر کرنے والے بندے کے ساتھ اور اس کا ہم نشین رہتا ہوں)۔۔۔۔۔ اور میرا بندہ جب میرا ذکر کرتا ہے اور اس کے لب میرا ذکر کرنے سے حرکت کرتے ہیں تو بس اس کے بالکل پاس اور ساتھ ہوتا ہوں) بہرحال قرآن و حدیث کے ان واضح نصوص کا مدعا یہی ہے کہ تمام اعمالِ صالحہ میں ذکر اللہ ہی افضل اور عنداللہ محبوب تر اور اس کے قرب و رضا کا خاص الخاص وسیلہ ہے۔ البتہ یہ ملحوظ رہے کہ اس ذکر میں اور نماز اور تلاوت قرآن وغیرہ اس قسم کی عبادات سب داخل ہیں۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ، فَقَالَ: طوبى لمن مَنْ طَالَ عُمُرُهُ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَنْ تُفَارِقَ الدُّنْيَا وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللهِ. (رواه احمد والترمذى)
حضرت عبداللہ بسر ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ: “یا رسول اللہ! آدمیوں میں کون بہتر ہے”؟ (یعنی کس قسم کے آدمیوں کا انجام زیادہ اچھا ہونے والا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: “وہ لوگ جن کی عمر زیادہ ہو اور عمل اچھے ہوں”۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ: “یا رسول اللہ! اعمال میں کون سا عمل افٖضل ہے”؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “یہ کہ تم دنیا کو خیرباد کہو اور اس وقت تمہاری زبان اللہ کے ذکر دے تر ہو۔ ” (مسند احمد، جامع ترمذی)
تشریح
پہلے سوال کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ فرمایا اس کی وجہ ظاہر ہے کہ اچھے اعمال کے ساتھ عمر جتنی زیادہ ہو گی بندہ اتنی ہی ترقی کرے گا اور اللہ تعالیٰ کی رضا و رحمت کا اسی قدر زیادہ مستحق ہو گا۔ دوسرے سوال کے جواب میں آپ ﷺ نے سب سے اچھا عمل یہ بتایا کہ مرتے دم تک اور خاص کر آخری وقت بندہ اللہ کے ذکر سے رطب اللسان ہو۔ یعنی اس کی زبان پر ذوق اور لذت کے ساتھ اللہ کا نام ہو۔ بلا شبہ یہ عمل اور یہ حال بڑا ہی عزیز اور قیمتی ہے، اور جو بندہ اس کی قدر جانتا ہو وہ سب کچھ دے کے بھی اس کو لینے کے لئے خوشی سے آمادہ ہو گا۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ بات اسی بندے کو نصیب ہو گی جو زندگی میں اللہ کے ذکر سے خاص مناسبت پیدا کر لے، اور ذِکر اللہ اس کی روح کی غذا بن جائے۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ، أَنَّ رَجُلاً قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ اَبْوَابَ الْخَيْرِ كَثِيْرَةٌ وَلَا اَسْتَطِيْعُ الْقِيَامَ بِكُلِّهَا فَأَخْبِرْنِي عَنْ شَيْءٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ، وَلَا تُكْثِرْ عَلَىَّ فَاَنْسَى قَالَ: لاَ يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ: “اے اللہ کے پیغمبر (ﷺ) نیکی کے ابواب (یعنی ثواب کے کام) بہت ہیں اور یہ بات میری طاقت سے باہر ہے کہ میں ان سب کو بجا لاؤں، لہذا آپ مجھے کوئی ایسی بات بتا دیجئے جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں اور اس پر کاربند ہو جاؤں (اور بس وہی میرے لئے کافی ہو جائے) اسی کے ساتھ یہ بھی عرض ہے کہ جو کچھ آپ ﷺ بتائیں وہ بہت زیادہ بھی نہ ہو، کیوں کہ خطرہ ہے کہ میں اس کو یاد بھی نہ رکھ سکوں؟” آپ ﷺ نے فرمایا: (بس اس کا اہتمام کرو اور اس کی عادت ڈالو کہ) تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر رہے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ تمہاری فلاح و کامیابی کے لئے بس یہی کافی ہے کہ اللہ کے ذکر سے رطب اللسان رہو۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْثِرُوا ذِكْرَ اللهِ حَتَّ}ى يَقُولُوا: مَجْنُونٌ. (رواه احمد وابو يعلى)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ کا ذکر اتنا اور اس طرح کرو کہ لوگ کہیں کہ یہ دیوانہ ہے۔
تشریح
اہل دنیا جو تعلق باللہ کی دولت سے محروم ہیں جب کسی ایسے اللہ والے کو دیکھتے ہیں جس کو یہ دولت نصیب ہے،اور اس کی وجہ سے وہ دنیا کی طرف سے کسی قدر بےفکر اور اللہ کی یاد اور اس کی رضا طلبی میں منہمک ہے، اور اسی کے نام کی رَٹ لگا رہا ہے تو اپنے خیال کے مطابق وہ اس کو دیوانہ کہتے ہیں، حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ خود ہی دیوانے ہیں ؎
اوست دیوانہ کہ دیوانہ نہ شداوست فرزانہ کہ فرزانہ نہ شد