Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 52 of 106

1021Maarif-ul-Hadith

قربانی

عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ لِكَيْ تَسَعَكُمْ ، فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا ، أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ » (رواه ابوداؤد)

نبیشہ ہذلی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (عیدالاضحیٰ کے موقع پر فرمایا) پہلے ہم نے قربانیوں کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی ممانعت کر دی تھی، اور یہ پابندی اس لیے لگائی گئی تھی کہ سب لوگوں کو گوشت اچھی طرح مل جائے، اب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے (وہ تنگدستی اور فقر و فاقہ والی بات اب نہیں رہی ہے بلکہ) اللہ کے کرم سے لوگ اب خوشحال ہیں، اس لیے (اب وہ پابندی نہیں ہے) اجازت ہے، لوگ کھائیں اور محفوظ رکھیں، اور قربانی کا ثواب بھی حاصل کریں ..... یہ دن کھانے پینے کے اور اللہ کی یاد کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد) تشریح جیسا کہ ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا قربانی کے گوشت کے بارے میں اجازت ہے کہ جب تک چاہیں کھائیں اور رکھیں۔ اور آخری حدیث کے آخری جملہ سے معلوم ہوا کہ ایام تشریق میں بندوں کا کھانا پینا بھی اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے، گویا یہ دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کی ضیافت کے دن ہیں، لیکن اس کھانے پینے کے ساتھ اللہ کی یاد اور اس کی تکبیر و تمجید تقدیس و توحید سے بھی زبان تر رہنی چاہیے ..... اس کی آمیزش کے بغیر اللہ کے بندوں کے لیے ہر چیز بے ذائقہ ہے۔ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ

1022Maarif-ul-Hadith

طوافِ زیارت اور طوافِ وداع

عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « لَمْ يَرْمُلْ فِي السَّبْعِ ، الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ » (رواه ابوداؤد وابن ماجه)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طواف زیارت کے سات چکروں میں رمل نہیں کیا (یعنی پورا طواف عادی رفتار سے کیا)۔ (سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح حج کے اعمال و مناسک اور ان کی ترتیب سے جیسا کہ سمجھا جا سکتا ہے اس کا اہم مقصد بیت اللہ کی تعظیم و تکریم اور اس کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار ہے جو ملت ابراہیمیؑ کا خاص شعار ہے ...... اس لیے جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے مکہ معظمہ میں حاضری کے بعد حج کا سب سے پہلا عمل طواف ہی کرنا ہوتا ہے، یہاں تکک کہ مسجد حرام میں داخل ہو کر پہلے تحیۃ المسجد بھی نہیں پڑھی جاتی، بلکہ طواف پہلے کیا جاتا ہے، اور دوگانہ طواف اس کے بعد پڑھا جاتا ہے ...... حاجی کے اس پہلے طواف کا معروف اصطلاحی نام ہی “ طواف قدوم ” ہے، (یعنی حاضری کا طواف)۔ اس کے متعلق احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔ اس کے بعد ۱۰ ذی الحجہ کو قربانی اور حلق سے فارغ ہونے کے بعد ایک طواف کا حکم ہے، اس کا معروف اصطلاحی نام “ طواف زیارۃ ” ہے۔ یہ وقوف عرفات کے بعد حج سب سے اہم رکن ہے ..... پھر حج سے فارغ ہونے کے بعد جب حاجی مکہ معظمہ سے اپنے وطن واپس ہونے لگے تو حکم ہے کہ وہ آخری وداعی کر کے واپس ہو، اور اس کے سفر حج کا آخری عمل بھی طواف ہی ہو، اس کا معروف اصلاحی نام طواف وداع اور طواف رخصت ہے ..... ان دونوں طوافوں سے متعلق چند حدیثیں ذیل میں پڑھئے! تشریح ..... پہلے گزر چکا ہے کہ حاجی جب مکہ معظمہ حاضر ہو کر پہلا طواف کرے (جس کے بعد اس کو صفا و مروہ کے درمیان سعی بھی کرنی ہو گی) تو اس طواف کے پہلے تین چکروں میں وہ رمل کرے گا۔ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے تمام صحابہ نے ایسا ہی کیا تھا، اس کے بعد ۱۰ ذی الحجہ کو آپ ﷺ نے منیٰ سے مکہ معظمہ آ کر طواف کیا اس میں آپ ﷺ نے رمل نہیں کیا، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اس حدیث میں تصریح ہے۔

1023Maarif-ul-Hadith

طوافِ زیارت اور طوافِ وداع

عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ ، إِلَى اللَّيْلِ » (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجه)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طواف زیارت کو موخر کیا (یعنی اس کی تاخیر کی اجازت دے دی) دسویں ذی الحجہ کی رات تک۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ طواف زیارت کے لیے افضل دن یوم النحر (عیدالاضحیٰ) کا دن ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اجازت دی ہے کہ اس دن کے ختم ہونے کے بعد رات میں بھی وہ کیا جا سکتا ہے اور اس رات کا طواف بھی افضلیت کے لحاظ سے ۱۰ ذی الحجہ ہی کا طواف شمار ہو گا .... عام عربی قاعدے کے مطابق رات کی تاریخ اگلے دن والی تاریخ ہوتی ہے اور ہر رات اگلے دن کے ساتھ لگتی ہے، لیکن حج کے مناسک اور احکام میں بندوں کی سہولت کے لیے اس کے برعکس قاعدہ مقرر کیا گیا ہے اور ہر دن کے بعد والی رات کو اس دن کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، اسی بناء پر جو طواف ۱۰ ذی الحجہ کا دن گزرنے کے بعد رات میں کیا جائے گا وہ ۱۰ ذی الحجہ ہی میں شمار ہو گا، اگرچہ عام قاعدے کے لحاظ سے وہ ۱۱ ذی الحجہ کی رات ہے۔

1024Maarif-ul-Hadith

طوافِ زیارت اور طوافِ وداع

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا يَنْفِرُ أَحَدُكُمْ ، حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ ، إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الحَائِضِ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ لوگ (حج کرنے کے بعد) اپنے اپنے وطنوں کے رخ پر چل دیتے تھے (طواف وداع کا اہتمام نہیں کرتے تھے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک وطن کی طرف کوچ نہ کرے جب تک کہ اس کی آخری حاضری بیت اللہ پر نہ ہو (یعنی جب تک کہ طواف وداع نہ کر لے) البتہ جو عورت خاص ایام کے عذر کی وجہ سے طواف سے معذور ہو وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہے (اس کو طواف وداع معاف ہے) (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح جیسا کہ اس حدیث میں صراحۃً مذکور ہے۔ پہلے لوگ طواف وداع کا اہتمام اور پابندی نہیں کرتے تھے۔ ۱۲ یا ٍ۱۳ ذی الحجہ تک منیٰ میں قیام کر کے اور رمی جمرات وغیرہ وہاں کے مناسک ادا کر کے اپنے اپنے وطنوں کو چل دیتے تھے ..... رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعہ گویا اس کے وجوب اور اہمیت کا اعلان فرمایا۔ چنانچہ فقہاء نے طواف وداع کوواجب قرار دیا ہے، البتہ حدیث کی تصریح کے مطابق وہ مستورات جو اپنے خاص ایام کی وجہ سے طواف سے معذور ہوں، وہ اگر طواف زیارت کر چکی ہوں تو بغیر طواف وداع کیے مکہ معظمہ سے وطن رخصت ہو سکتی ہیں ....... ان کے علاوہ ہر بیرونی حاجی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ملک کی طرف روانہ ہونے سے پہلے وداع اور رخصت ہی کی نیت سے آخری طواف کرے اور یہی حج کے سلسلے کا آخری عمل ہو۔

1025Maarif-ul-Hadith

طوافِ زیارت اور طوافِ وداع

عَنِ الْحَارِثِ الثَّقَفِىِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ ، فَلْيَكُنْ آخِرَ عَهْدِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ » (رواه احمد)

حارث ثقفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص حج یا عمرہ کرے تو چاہئے کہ اس کی آخری حاضری بیت اللہ پر ہو اور آخری عمل طواف ہو۔ (مسند احمد)

1026Maarif-ul-Hadith

طوافِ زیارت اور طوافِ وداع

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : « أَحْرَمْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ حَتَّى فَرَغْتُ ، وَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ » ، قَالَتْ : « وَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ثُمَّ خَرَجَ » (رواه ابوداؤد)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے سفر میں قیام مکہ کی اس آخری رات میں جس میں مدینہ کی طرف واپسی ہونے والی تھی) میں نے مقام تنعیم جا کر عمرہ کا احرام باندھا، اور عمرہ کے ارکان (طواف، سعی وغیرہ) ادا کئے اور رسول اللہ ﷺ نے (منیٰ اور مکہ کی درمیان) مقام ابطح میں میرا انتظار فرمایا۔ جب میں عمرہ سے فارغ ہو چکی تو آپ نے لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیا اور آپ طواف وداع کے لیے بیت اللہ کے پاس آئے اور طواف کیا، اور اسی وقت مکہ سے مدینہ کی طرف چل دئیے۔ تشریح حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جب حجۃ الوداع کے سفر میں مدینہ سے روانہ ہوئی تھیں تو آ نے تمتع کا ارادہ کیا تھا اور اس وجہ سے عمرہ کا احرام باندھا تھا لیکن جب مکہ معظمہ کے قریب پہنچیں، تو (جیسا کہ پہلے گزر چکاہے) خاص ایام شروع ہو گئے جس کی وجہ سے وہ عمرہ کا طواف وغیرہ کچھ بھی نہ کر سکیں اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایت کے مطابق آپ نے عمرہ ترک کر کے ۸ ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھ لیا، اور آپ کے ساتھ پورا حج کیا۔ ۱۳ ذی الحجہ کو جمرات کی رمی کر کے جب رسول اللہ ﷺ منی سے واپس ہوئے تو آ نے ابطح میں قیام فرمایا اور رات وہیں بسر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی رات میں آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ بھیجا کہ حدود حرم سے باہر تنعیم جا کر وہاں سے عمرہ کا احرام باندھیں ار عمرہ سے فارغ ہو کر آ جائیں، اس حدیث میں اس واقعہ کا ذکر ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جب عمرہ سے فارغ ہو کے آئیں تو آپ نے قافلے کو کوچ کرنے کا حکم دیا، قافہ ابطح سے مسجد حرام آیا، آپ نے اور آپ کے اصحاب کرام ؓ نے سحر میں طواف وداع کیا اور اسی وقت مدینہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا یہ عمرہ اس عمرہ کی قضا تھا جو احرام باندھنے کے باوجود نہ کر سکی تھیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ طواف وداع مکہ معظمہ سے روانگی ہی کے وقت کیا جائے۔

1027Maarif-ul-Hadith

طواف کے بعد ملتزم سے چمٹنا اور دعا کرنا

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : " كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ أَبِي عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَرَأَيْتُ قَوْمًا قَدِ الْتَزَمُوا الْبَيْتَ , فَقُلْتُ لَهُ : انْطَلِقْ بِنَا نَلْتَزِمِ الْبَيْتَ مَعَ هَؤُلَاءِ , فَقَالَ : أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ , فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ الْتَزَمَ مَا بَيْنَ الْبَابِ وَالْحَجَرِ , قَالَ : هَذَا وَاللهِ الْمَكَانُ الَّذِي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَزَمَهُ " (رواه البيهقى بهذا اللفظ)

عمرو بن شعیب اپنے والد شعیب سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کے ساتھ طواف کر رہا تھا، میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ بیت اللہ سے چمٹ رہے ہیں تو میں نے اپنے دادا (حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ) سے عرض کیا کہ ہم کو یہاں لے چلئے ان لوگوں کے ساتھ ہم بھی ان کی طرح بیت اللہ سے چمٹ جائیں؟ انہوں نے فرمایا کہ: میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں مردود شیطان سے (مطلب غالباً یہ تھا کہ اگر میں طواف کے درمیان ان لوگوں کی طرح ملتزم کی خاص جگہ کا لحاظ کئے بغیر بیت اللہ کی کسی دیوار سے چمٹ جاؤں تو یہ خلاف سنت اور غلط کام ہو گا اور اس سے خدا راضی نہیں ہو گا بلکہ شیطان راضی ہو گا اور میں اس مردود سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں ..... شعیب کہتے ہیں کہ) پھر جب میرے دادا طواف سے فارغ ہو گئے تو دیوار کعبہ کے خاص اس حصہ پر آئے جو باب کعبہ اور حجر اسود کے درمیان ہے (جس کو ملتزم کہتے ہیں) اور مجھ سے فرمایا: خدا کی قسم! یہی وہ جگہ ہے جس سے رسول اللہ ﷺ چمٹ گئے تھے۔ (سنن بیہقی) تشریح خانہ کعبہ کی دیوار کا قریباًٍ دو گز کا جو حصہ حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان ہے وہ ملتزم کہلاتا ہے۔ حج کے مسنون اعمال میں سے یہ بھی ہے کہ اگر موقع ملے تو طواف کے بعد اس ملتزم سے چمٹ کر دعا کی جائے۔ مندرجہ ذیل احادیث سے معلوم ہو گا کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں ایسا ہی کیا تھا: اور سنن ابی داؤد کی روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو ملتزم سے اس طرح چمٹ گئے کہ اپنا سینہ اور اپنا چہرہ اس سے لگا دیا اور ہاتھ بھی پوری طرح پھیلا کے اس پہ رکھ دئیے، اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ تشریح ..... اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ملتزم سے چمٹنے والا یہ عمل طواف کے بعد ہونا چاہیے اور اس کی خاص جگہ ملتزم ہی ہے۔ اللہ کے دیوانوں کو اس میں جو کیفیت نصیب ہوتی ہے وہ بس انہی کا حصہ ہے اور حج کی خاص الخاص کیفیات میں سے ہے۔

1028Maarif-ul-Hadith

فضائل حرمین: حرم مکہ کی عظمت

عَنْ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا تَزَالُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بِخَيْرٍ ، مَا عَظَّمُوا هَذِهِ الْحُرْمَةَ ، حَقَّ تَعْظِيمِهَا ، فَإِذَا ضَيَّعُوا ذَلِكَ ، هَلَكُوا » (رواه ابن ماجه)

عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت جب تک اس حرم مقدس کا پورا احترام کرتی رہے گی اور اس کی حرمت و تعظیم کا حق ادا کرے گی خیریت سے رہے گی اور جب اس میں یہ بات باقی نہ رہے گی برباد ہو جائے گی۔ (سنن ابن ماجہ) تشریح ٍمحدثین کرام کا دستور ہے کہ کتاب الحج ہی میں حرمین پاک کے فضائل کی حدیثیں بھی درج کرتے ہیں، اسی دستور کی پیروی میں حرم مکہ اور حرم مدینہ کے فضائل کی احادیث یہاں درج کی جا رہی ہیں۔ حرم مکہ کی عظمت خانہ کعبہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنا مقدس بیت (گھر) قرار دیا ہے، اور اسی نسبت سے شہر مکہ کو جس میں بیت اللہ واقع ہے بلد اللہ الحرام قرار دیا گیا ہے، گویا جس طرح دنیا بھر کے گھروں میں کعبہ مکرمہ کو اللہ تعالیٰ سے خاص نسبت ہے اسی طرح دنیا بھر کے شہروں میں مکہ معظمہ کو اللہ تعالیٰ کی نسبت کا خاص شرف حاصل ہے۔ پھر اسی نسبت سے اس کی ہر سمت میں کئی کئی میل کے علاقہ کو حرم (یعنی واجب الاحترام) قرار دیا گیا ہے اور اس کے خاص آداب و احکام مقرر کئے گئے ہیں اور ادب و احترام ہی کی بنیاد پر بہت سی ان باتوں کی بھی وہاں ممانعت ہے جن کی باقی ساری دنیا مین اجازت ہے۔ مثلاً ان حدود میں کسی کو شکار کی اجازت نہیں، جنگ اور قتال کی اجازت نہیں، درخت کاٹنے اور درختوں کے پتے جھاڑنے کی اجازت نہیں۔ اس محترم علاقہ میں ان سب چیزوں کو ادب و احترام کے خلاف گناہ گارانہ جسارت قرار دیا گیا ہے۔ اس علاقہ حرم کی حدود پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے معین کی تھیں، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے عہد میں انہی کی تجدید فرمائی اور اب وہ حدود معلوم و معروف ہیں، گویا یہ پورا علاقہ بلد اللہ الحرام کا صحن ہے اور اس کا وہی ادب و احترام ہے جو اللہ کے مقدس شہر مکہ معظمہ کا .... اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کی چند احادیث ذیل میں پڑھئے۔ تشریح ..... گویا بیت اللہ اور بلد اللہ الحرام (مکہ معظمہ) اور پورے علاقہ حرم کی تعظیم و حرمت اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندگی کے صحیح تعلق اور سچی وفاداری کی علامت اور نشانی ہے۔ جب تک یہ چیز اجتماعی حیثیت سے امت میں باقی رہے گی اللہ تعالیٰ اس مات کی نگہبانی فرمائے گا اور وہ دنیا میں سلامتی اور عزت کے ساتھ رہے گی اور جب امت کا رویہ بحیثیت مجموعی اس بارے میں بدل جائے گا اور خانہ کعبہ اور حرم مقدس کی حرمت و تعظیم کے بارے میں اس میں تقصیر آ جائے گی تو پھر یہ امت اللہ تعالیٰ کی حمایت و نگہبانی کا استحقاق کھو دے گی، اور اس کے نتیجہ میں تباہیاں اور بربادیاں اس پر مسلط ہوں گی۔ ہمارے اس زمانہ میں سجر کی سہولتوں کی وجہ سے اور بعض دوسری وجوہ سے بھی اگرچہ حج کرنے والوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے لیکن وہاں ساری دنیا کے جو مسلمان آتے ہیں ان کا طرز عمل بتاتا ہے کہ بیت اللہ اور حرم مقدس کے ادب و احترام کے لحاظ سے امت میں بحیثیت مجموعی بہت بڑی تقصیر آ گئی ہے اور بلا شبہ یہ بھی ان اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے جن کی وجہ سے امت مشرق و مغرب میں اللہ تعالیٰ کی نصرت اور نگہبانی سے محروم کر دی گئی ہے۔ اللَّهُمَّ عَافِنَا، وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَعَامِلَنَا بِمَا اَنْتَ اَهْلُهُ وَلَا تُعَامِلْنَا بِمَا نَحْنُ اَهْلُهُ.

1029Maarif-ul-Hadith

حرم مکہ کی عظمت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : « لاَ هِجْرَةَ ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ ، فَانْفِرُوا » وَقَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : « إِنَّ هَذَا البَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ القِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ ، لاَ يُعْضَدُ شَوْكُهُ ، وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهُ ، وَلاَ يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا ، وَلاَ يُخْتَلَى خَلاَهُ » قَالَ العَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَّا الإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ ، فَقَالَ : « إِلَّا الإِذْخِرَ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اب ہجرت کا حکم نہیں رہا لیکن جہاد ہے، اور نیت! تو جب تم سے راہ خدا میں کوچ کرنے کو کہا جائے تو چل دو ..... اور اسی فتح مکہ کے دن آپ نے یہ بھی اعلان فرمایا کہ: یہ شہر مکہ اللہ نے اس کو اسی دن سے محترم قرار دیا ہے جس دن کہ زمین و آسمان ک ی تخلیق ہوئی (یعنی جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اسی وقت زمین کے اس قطعہ کو جس پر مکہ معظمہ آباد ہے، اور اس کے آس پاس کے علاقہ احرام کو واجب الاحترام قرار دیا، لہذا اللہ کے اس حکم سے قیامت تک کے لیے اس کا ادب و احترام واجب ہے) اور مجھ سے پہلے اللہ نے اپنے کسی بندے کو یہاں قتال فی سبیل اللہ کی بھی اجازت نہیں دی، اور مجھے بھی دن کے تھوڑے وقت کے لیے اس کی عارضی اور وقتی اجازت دی گئی تھی اور وہ وقت ختم ہو جانے کے بعد اب قیامت تک کے لیے یہاں قتال اور ہر وہ اقدام اور عمل جو اس مقدس جگہ کے ادب و احترام کے خلاف ہو حرام ہے، اس علاقہ کے خاردار جھاڑ بھی نہ کاٹے چھانٹے جائیں۔ یہاں کے کسی قابل شکار جانور کو پریشان بھی نہ کیا جائے اور اگر کوئی گری پڑی چیز نظر پڑے تو اس کو وہی اٹھائے جو قاعدے کے مطابق اس کا اعلان اور تشہیر کرتا رہے، اور یہاں کی سبز گھاس بھی نہ کاٹی اکھاڑی جائے ..... (اس پر آپ کے چچا) حضرت عباس ؓ نے عرض کیا: “ اذخر گھاس کو مستثنیٰ قرار دیا جائے، کیوں کہ یہاں کے لوہار اس کو استعمال کرتے ہیں اور گھروں کی چھتوں کے لیے بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ” رسول اللہ ﷺ نے حضرت عباس ؓ کے اس عرض کرنے پر اذخر گھاس کو مستثنیٰ فرما دیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے دو اعلانوں کا ذکر ہے، جو آپ نے فتح مکہ کے دن خاص طور سے فرمائے تھے ..... پہلا اعلان یہ تھا کہ: اب ہجرت کا حکم نہیں رہا ..... اس کا مطلب سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ فتح مکہ سے پہلے جب مکہ پر ان اہل کفر و شرک کا اقتدار تھا جو اسلام اور مسلمانوں کے سخت دشمن تھا، اور مکہ میں رہ کر کسی مسلمان کے لیے اسلامی زندگی گذارنا گویا ناممکن تھا تو حکم یہ تھا کہ مکہ میں اللہ کا جو بندہ اسلام قبول کرے اس کے لیے اگر ممکن ہو تو وہ مکہ سے مدینہ ہجرت کر جائے جو اس وقت اسلامی مرکز اور روئے زمین پر اسلامی زندگی کی واحد تعلیم گاہ اور تربیت گاہ تھی۔ بہرحال ان کاص حالات میں یہ ہجرت فرض تھی اور اس کی بڑی فضیلت اور اہمیت تھی ..... لیکن جب ۸؁ھ میں اللہ تعالیٰ نے مکہ معظمہ پر بھی اسلامی اقتدار قائم کرا دیا تو پھر ہجرت کی ضرورت ختم ہو گئی، اس لئے آپ ﷺ نے فتح مکہ ہی کے دن اعلان فرما دیا کہ: اب ہجرت کا وہ حکم اٹھا لیا گیا ..... اس سے قدرتی طور پر ان لوگوں کو بڑی حسرت اور مایوسی ہوئی ہو گی جن کو اب اسلام کی توفیق ملی تھی اور ہجرت کی عظیم فضیلت کا دروازہ بند ہو جانے کی وجہ سے وہ اس سعادت سے محروم رہ گئے تھے ..... ان کی اس حسرت کا مداوا فرماتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ہجرت کی فضیلت و سعادت کا دروازہ اگرچہ بند ہو گیا ہے لیکن جہاد فی سبیل اللہ کا راستہ اور اللہ تعالیٰ کے سارے اوامر کی اطاعت کی نیت اور بالخصوص اعلاء کلمۃ اللہ کی راہ میں ہر قربانی کے لیے دلی عزم و آمادگی کا دروازہ کھلا ہوا ہے، اور برٰ سے بڑی سعادت اور فضیلت ان راہوں سے اللہ کا ہر بندہ حاصل کر سکتا ہے۔ دوسرا اعلان فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ: یہ شہر جس کی عظمت و حرمت دور قدیم سے مسلم چلی آ رہی ہے یہ مضح رسم و رواج یا کسی فرد یا پنچائیت کی تجویز نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے ازلی حکم سے ہے اور قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس کا خاص ادب و احترام کیا جائے، یہاں تک کہ اللہ کے لیے جہاد و قتال جو ایک اعلیٰ درجہ کی عبادت اور بڑے درجہ کی سعادت ہے یہاں اس کی بھی اجازت نہیں ہے۔ مجھ سے پہلے کسی بندہ کو اس کی اجازت وقتی طور پر بھی نہیں دی گئی۔ مجھے بھی بہت تھوڑے سے وقت کے لیے اس کی اجازت اللہ تعالیٰ نے دی تھی اور وہ بھی وقت ختم ہونے کے ساتھ ختم ہو گئی۔ اب قیامت تک کے لیے کسی بندے کو یہاں قتال کی اجازت نہیں ہے .... جس طرح مخصوص سرکاری علاقوں کے خاص قوانین ہوتے ہیں اسی طرح یہاں کے خاص آداب اور قوانین ہیں، اور وہ وہی ہیں جن کا آپ ﷺ نے اس موقع پر اعلان فرمایا .... قریب قریب اسی مضمون کی حدیث حضرت ابو ہریرہ ؓ سے بھی مروی ہے۔

1030Maarif-ul-Hadith

حرم مکہ کی عظمت

عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَحْمِلَ بِمَكَّةَ السِّلَاحَ » (رواه مسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے۔ (صحیح مسلم) تشریح جمہور علماء امت کے نزدید اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مکہ اور حدود حرم میں کسی مسلمان کو دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھانا اور اس کا استعمال کرنا جائز نہیں، یہ اس مقام مقدس کے ادب و احترام کے خلاف ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی کو ہتھیار ہاتھ میں لینے کی اجازت ہی نہ ہو۔ واللہ اعلم۔

1031Maarif-ul-Hadith

حرم مکہ کی عظمت

عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ : - وَهُوَ يَبْعَثُ البُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الأَمِيرُ ، أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الغَدَ مِنْ يَوْمِ الفَتْحِ ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي ، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ : حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ ، فَلاَ يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا ، وَلاَ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً ، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ، فَقُولُوا : إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، ثُمَّ عَادَتْ حُرْمَتُهَا اليَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الغَائِبَ " فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ مَا قَالَ عَمْرٌو قَالَ : أَنَا أَعْلَمُ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ لاَ يُعِيذُ عَاصِيًا وَلاَ فَارًّا بِدَمٍ وَلاَ فَارًّا بِخَرْبَةٍ. (رواه البخارى ومسلم)

ابو شریح عدوی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا، جب کہ وہ (یزید کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا اور اس کے حکم سے عبداللہ بن الزبیر ؓ کے خلاف) مکہ پر چڑھائی کرنے کے لیے لشکر تیار کر کے روانہ کر رہا تھا کہ اے امیر! مجھے اجازت دیجئے کہ میں رسول اللہ ﷺ کا ایک فرمان بیان کروں جو آپ ﷺ نے فتح مکہ کے اگلے دن (مکہ میں) ارشاد فرمایا تھا۔ میں نے اپنے کانوں سے آپ ﷺ کا وہ فرمان خود سنا تھا اور میرے ذہن نے اس کو یاد کر لیا تھا اور جس وقت آپ ﷺ کی زبان مبارک سے وہ فرمان صادر ہو رہا تھا اس وقت میری آنکھیں آپ ﷺ کو دیکھ رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی، اس کے بعد فرمایا تھا کہ: اور اس کے ماحو کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے، اس کی حرمت کا فیصلہ انسانوں سے نہیں کیا ہے، اس لیے جو آدمی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے حرام ہے کہ وہ یہاں خونریزی کرے بلکہ یہاں کے درختوں کا کاٹنا بھی منع ہے۔ (آپ ﷺ نے فرمایا) اور اگر کوئی شخص میرے قتال کو سند بنا کر اپنے لیے اس کا جواز نکالے تو اس سے کہو کہ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اجازت دی تھی، تجھے اجازت نہیں دی ہے، اور مجھے بھی اللہ نے ایک دن کے تھوڑے سے وقت کے لیے عارضی اور وقتی طور پر اجازت دی تھی، اور اس وقت کے ختم ہونے کے بعد وہ حرمت لوٹ آئی، اور اب قیامت تک کسی کے لیے اس کا جواز نہیں ہے ..... (اس کے ساتھ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ) جو لوگ یہاں موجود ہیں اور جنہوں نے میری یہ بات سنی ہے وہ دوسرے لوگوں کو یہ بات پہنچا دیں (اس لیے اے امیر! میں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں آپ ﷺ کا یہ فرمان تم کو پہنچایا ہے) ..... ابو شریح سے کسی نے پوچھا کہ پھر عمرو بن سعید نے کیا جواب دیا، انہوں نے بتلایا کہ اس نے کہا کہ: ابو شریح! مین یہ باتیں تم سے زیادہ جانتا ہوں، حرم کسی نافرمان کو یا ایسے آدمی کو جو کسی کا ناحق خون کر کے یا کوئی نقصان کر کے بھاگ گیا ہو پناہ نہیں دیتا (یعنی ایسے لوگوں کے خلاف حرم میں بھی کاروائی کی جائے گی)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اسلام کی پہلی ہی صدی میں سیاسی اقتدار کی ہوس رکھنے والوں نے اسلام کے ساتھ جو معاملہ کیا اور اس کے احکام کو اپنی اغراض کے لیے جس طرح توڑا مروڑا وہ تاریخ اسلام کا نہایت تکلیف دہ باب ہے۔ ابو شریح عدوی جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے، انہوں اموی حاکم عمرو بن سعید کے سامنے بروقت کلمہ حق کہہ کے اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان سنا کر اپنا فرض ادا کر دیا .... صحیحین کی اس روایت میں یہ مذکور نہیں ہے کہ عمرو بن سعید نے جو بات کہی، ابو شریح نے اس کے جواب میں کچھ کہا یا نہیں۔ لیکن مسند احمد کی روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: قَدْ كُنْتُ شَاهِدًا، وَكُنْتَ غَائِبًا وَقَدْ أَمَرَنَا أَنْ يُبَلِّغَ شَاهِدُنَا غَائِبَنَا، وَقَدْ بَلَّغْتُكَ فتح مکہ کے دن جب رسول اللہ ﷺ نے یہ بات فرمائی تھی مین اس وقت وہاں حاضر اور موجود تھا اور تم وہاں نہیں تھے اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ جو یہاں موجود ہے وہ میری یہ بات ان لوگوں کو پہنچا دیں جو یہاں حاضر نہیں ہیں ..... میں نے اس حکم نبوی ﷺ کی تعمیل کر دی اور تم کو یہ بات پہنچا دی۔ ابو شریح عدوی ؓ کے اس جواب میں یہ بھی مضمر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مقصد و منشاء سمجھنے کے زیادہ حقدار وہ لوگ ہیں جن کے سامنے آپ ﷺ نے یہ بات فرمائی، اور جنہوں نے موقع پر حضور ﷺ سے یہ بات سنی۔

1032Maarif-ul-Hadith

حرم مکہ کی عظمت

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ حَمْرَاءَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى الحَزْوَرَةِ فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللهِ ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللهِ إِلَى اللهِ ، وَلَوْلاَ أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ. (رواه الترمذى وابن ماجه)

عبداللہ بن عدی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ مکہ میں حزورہ (ایک ٹیلے) پر کھڑے تھے اور مکہ سے مخاطب ہو کر فرما رہے تھے: خدا کی قسم! تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر جگہ ہے، اور اللہ کی نگاہ میں سب سے زیادہ محبوب ہے، اور اگر مجھے یہاں سے نکلنے اور ہجرت کرنے پر مجبور نہ کیا گیا ہوتا، تو میں ہرگز تجھے چھوڑ کے نہ جاتا۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد) تشریح اس حدیث میں اس کی تصریح ہے کہ مکہ معظمہ تمام روئے زمیں میں سب سے افضل اور باعظمت اور اللہ کے نزدیک محبوب ترین جگہ ہے، اور ہونا بھی یہی چاہئے، کیوں کہ اس میں کعبۃ اللہ ہے جو حق تعالیٰ کی خاص الخاص تجلی گاہ اور قیامت تک کے لیے اہل ایمان کا قبلہ ہے، جس کا رسول اللہ ﷺ بھی طواف کرتے تھے، اور اسی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے ..... اسی مضمون کی حدیث قریب قریب انہی الفاظ میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے:

1033Maarif-ul-Hadith

حرم مکہ کی عظمت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ : مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ ، وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ ، وَلَوْلاَ أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: تو کس قدر پاکیزہ اور دل پسند شہر ہے، اور تو مجھے کتنا محبوب ہے، اور اگر میری قوم نے مجھے نکالا نہ ہوتا تو میں تجھے چھوڑ کے کسی اور جگہ نہ بستا .... (جامع ترمذی) تشریح ان دونوں حدیثوں میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ یہ بات آپ نے کس موقع پر فرمائی۔ شارحین نے حضرت عبداللہ بن عباس والی اس حدیث کی شرح میں ذکر کیا ہے کہ آپ نے یہ بات فتح مکہ کے سفر میں مکہ سے واپس ہونے کے وقت فرمائی تھی۔ واللہ اعلم۔

1034Maarif-ul-Hadith

مدینہ طیبہ کی عظمت اور محبوبیت

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « إِنَّ اللهَ تَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ » (رواه مسلم)

حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ فرماتے تھے کہ: اللہ تعالیٰنے مدینہ کا نام “ طابہ ” رکھا ہے۔ (و صحیح مسلم) تشریح اکثر محدثین کا دستور ہے کہ وہ اپنی مؤلفات میں حج و عمرہ سے متعلق حدیثوں کے ساتھ “ باب فضل مکہ ” کے تحت مکہ معظمہ کی عظمت و فضیلت کی حدیثیں، اور انہی کے ساتھ “ باب فضل مدینہ ” کے تحت مدینہ طیبہ کی عظمت کی حدیثیں بھی درج کرتے ہیں۔ اس طریقہ کی پیروی کرتے ہوئے یہاں بھی پہلے مکہ معظمہ سے متعلق احادیث درج کی گئی ہیں اور اب مدینہ طیبہ سے متعلق درج کی جا رہی ہیں۔ تشریح ..... طابہ، طیبہ، اور طیّبہ ان تینوں کے معنی پاکیزہ اور خوشگوار کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا نام رکھا اور اس کو ایسا ہی کر دیا، اس میں روحون کے لیے جو خوشگواری، جو سکون و اطمینان اور جو پاکیزگی ہے وہ بس اسی کا حصہ ہے۔

1035Maarif-ul-Hadith

مدینہ طیبہ کی عظمت اور محبوبیت

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَامًا ، وَّإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا ، أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ ، وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ ، وَلَا يُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ. (رواه مسلم)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: حضرت ابراہیمؑ نے مکہ کے “ حرم ” ہونے کا اعلان کیا تھا (اور اس کے خاص آداب و احکام بتائے تھے) اور میں مدینہ کے “ حرم ” قرار دئیے جانے کا اعلان کرتا ہوں، اس کے دونوں طرف کے دروں کے درمیان پورا رقبہ واجب الاحترام ہے، اس میں خوں ریزی نہ کی جائے، کسی کے خلاف ہتھیار نہ اٹھایا جائے (یعنی اسلحہ کا استعمال نہ کیا جائے) اور جانورون کے چارے کی ضرورت کے سوا درختوں کے پتے بھی نہ جھاڑے جائیں۔ (صحیح مسلم) تشریح جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا، مدینہ طیبہ بھی سرکاری علاقہ کی طرح واجب الاحترام ہے، اور وہاں ہر وہ عمل اور اقدام منع ہے جو اس کی عظمت و حرمت کے خلاف ہو، لیکن اس کے احکام بالکل وہ نہیں ہیں جو حرم مکہ کے ہیں۔ خود اسی حدیث مین اس کا اشارہ موجود ہے، اس میں جانوروں کے چارہ کے لیے وہاں کے درختوں کے پتے توڑنے اور جھاڑنے کی اجازت دی گئی ہے، جب کہ حرم مکہ میں اس کی بھی اجازت نہیں ہے۔

1036Maarif-ul-Hadith

مدینہ طیبہ کی عظمت اور محبوبیت

عَنِ بْنُ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا ، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا » ، وَقَالَ : « الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا ، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ » (رواه مسلم)

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں حرم قرار دیتا ہوں مدینہ کے دونوں طرف کے سنکتانی کناروں کے درمیان کے علاقہ کو (یعنی اس کےواجب الاحترام ہونے کا اعلان کرتا ہوں، اور حکم دیتا ہوں کہ) اس کے خاردار درخت کاٹے نہ جائیں اور اس میں رہنے والے جانوروں کو شکار نہ کیا جائے .... اسی سلسلہ میں آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: کہ (بعض اشیاء کی کمی اور بعض تکلیفوں کے باوجود) مدینہ لوگوں کے لیے بہتر ہے، اگر وہ اس کی خیر و برکت کو جانتے (تو کسی تنگی اور پریشانی کی وجہ سے اور کسی لالچ میں اس کو نہ چھوڑتے) جو کوئی اپنی پسند اور خواہش سے اس کو چھوڑ کے جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ اپنے کسی ایسے بندے کو بھیج دے گا جو اس سے بہتر اور افضل ہو گا (یعنی کسی کے اس طرح چلے جانے سے مدینہ میں کوئی کمی نہیں آئے گی بلکہ وہ جانے والا ہی اس کی برکات سے محروم ہو کر جائے گا) اور جو بندہ مدینہ کی تکلیفوں، تنگیوں اور مشقتوں پر صبر کر کے وہاں پڑا رہے گا میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا یا اس کے حق میں شہادت دوں گا۔ (صحیح مسلم) تشریح سفارش اس کی کہ اس کے قصور اور اس کی خطائیں معاف کر دی جائیں اور اس کو بخش دیا جائے۔ اور شہادت اس کے ایمان اور اعمال صالحہ کی اور اس بات کی کہ یہ بندہ تنگیوں تکلیفوں پر صبر کئے ہوئے مدینہ ہی میں پڑا رہا۔

1037Maarif-ul-Hadith

مدینہ طیبہ کی عظمت اور محبوبیت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا جو امتی مدینہ کی تکلیفوں اور سختیوں پر صبر کر کے وہاں رہے گا، میں قیامت کے دن اس کی شفاعت اور سفارش کروں گا۔ (صحیح مسلم)

1038Maarif-ul-Hadith

مدینہ طیبہ کی عظمت اور محبوبیت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَاءُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا أَخَذَهُ قَالَ : اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ ، وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ لِمَكَّةَ ، وَمِثْلِهِ مَعَهُ » ، قَالَ : ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ. (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں کا دستور تھا کہ جب وہ درخت پر نیا پھل دیکھتے تو اس کو لا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کرتے، آپ اس کو قبول فرما کر اس طرح دعا فرماتے: اے اللہ! ہمارے پھلوں میں اور پیداوار میں برکت دے، اور ہمارے شہر مدینہ میں برکت دے، اور ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت دے! الہٰی! ابراہیمؑ تیرے خاص بندے ار تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے، اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں۔ انہوں نے مکہ کے لیے تجھ سے دعا کی تھی، اور میں مدینہ کے لیے تجھ سے ویسی ہی دعا کرتا ہوں اور اس کے ساتھ اتنی ہی مزید ....... پھر آپ کسی چھوٹے بچے کو بلاتے اور وہ نیا پھل اس کو دے دیتے۔ (صحیح مسلم) تشریح پھلوں اور پیداوار میں برکت کا مطلب تو ظاہر ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار ہو اور فصل بھرپور ہو۔ اور شہر مدینہ میں برکت کا مطلب یہ ہے کہ وہ خوب آباد ہو، اور اس کے رہنے والوں پر اللہ کا فضل ہو .... اور صاع اور مد دو پیمانے ہیں۔ اس زمانہ میں غلہ وغیرہ کی خرید و فروخت ان پیمانوں ہی سے ہوتی تھی، ان میں برکت کا مطلب یہ ہے کہ ایک صاع ایک مد جتنے آدمیوں کے لیے یا جتنے دنوں کے لیے کافی ہوتا ہے اس سے زیادہ کے لیے کافی ہو۔ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کا ذکر ہے جو آپ نے اپنی بیوی بچے کو مکہ کی غیر آباد اور بے آب و گیاہ وادی میں بسا کر اللہ سے ان کے لیے کی تھی، کہ: “ اے اللہ! تو اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت و مودت ڈال دے، اور ان کو ان کی ضرورت کا رزق اور پھل وغیرہ پہنچا، اور یہاں کے لیے امن اور سلامتی مقدر فرما! ” رسول اللہ ﷺ بطور نظیر اس ابراہیمیؑ دعا کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے مدینہ کے لیے وہی دعا، بلکہ مزید اضافے کے ساتھ کرتے تھے ..... اس دعا کا یہ ثمرہ بھی ظاہر ہے کہ دنیا بھر کے جن ایمان والے بندوں کو مکہ سے محبت ہے ان سب کو مدینہ طیبہ سے بھی محبت ہے، اور اس محبوبیت میں تو اس کا حصہ مکہ سے یقیناً زیادہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کا بندہ، اس کا نبی اور خلیل کہا، اور اپنے کو صرف بندہ اور نبی کہا، حبیب ہونے کا ذکر نہیں کیا۔ یہ تواضع اور کسر نفسی آپ کا مستقل مزاج تھا۔ بالکل نیا اور درخت کا پہلا پھل چھوٹے بچے کو بلا کر دینے میں یہ سبق ہے کہ ایسے مواقعوں پر چھوٹے معصوم بچوں کو مقدم رکھنا چاہئے۔ اس کے علاوہ نئے پھل اور کمسن بچے کی مناسبت بھی ظاہر ہے۔

1039Maarif-ul-Hadith

مدینہ طیبہ کی عظمت اور محبوبیت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ. (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک مدینہ اپنے فاسد اور خراب عناصر کو اس طرح باہر نہ پھینک دے گا جس طرح لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کو دور کر دیتی ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح یعنی قیامت آنے سے پہلے مدینہ کی آبادی کو ایسے خراب عناصر سے پاک صاف کر دیا جائے گا جو عقائد و افکار اور اعمال و اخلاق کے لحاظ سے گندے ہوں گے۔

1040Maarif-ul-Hadith

مدینہ طیبہ کی عظمت اور محبوبیت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، « عَلَى أَنْقَابِ المَدِينَةِ مَلاَئِكَةٌ لاَ يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ ، وَلاَ الدَّجَّالُ » (رواه البخارى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ مدینہ کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں، اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہو سکتا۔ ” (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح صحیحین ہی کی بعض دوسری حدیثوں میں مدینہ طیبہ کے ساتھ مکہ معظمہ کی بھی یہ خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ دجال اس میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ یہ غالباً ان دعاؤں کی برکات میں سے ہے جو اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور اس کے حبیب حضرت محمد ﷺ نے ان دونوں مقدس و مبارک شہروں کے لیے کی تھیں۔