Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 51 of 106

1001Maarif-ul-Hadith

حج کے اہم افعال و ارکان: مکہ میں داخلہ اور پہلا طواف

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : « أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ فَأَقْبَلَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ أَتَى الصَّفَا فَعَلَاهُ حَتَّى يَنْظُرُ إِلَى الْبَيْتِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ مَا شَاءَ وَيَدْعُوهُ » (رواه ابوداؤد)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لائے تو مکہ میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے حجر اسود کے قریب پہنچ کر آپ نے اس کا استلام کیا، پھر آپ ﷺ نے طواف کیا، پھر صفا پہاڑی پر آئے اور اس کے اتنے اوپر چڑھ گئے کہ بیت اللہ نظر آنے لگا پھر آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھائے (جس طرح دعا میں اٹھائے جاتے ہیں) اور پھر جتنی دیر تک آپ نے چاہا آپ اللہ کے ذکر و دعا میں مشغول رہے۔ (سنن ابی داؤد)

1002Maarif-ul-Hadith

حج کے اہم افعال و ارکان: مکہ میں داخلہ اور پہلا طواف

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : طَافَ النَّبِيُّ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، عَلَى بَعِيرٍ ، يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ ، بِمِحْجَنٍ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا۔ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک خمدار چھڑی تھی اسی سے آپ حجر اسود کا استلام کرتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اوپر صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت جابر ؓ کی جو روایت نقل کی گئی ہے اس میں رسول اللہ ﷺ کے طواف کے بارے میں یہ صریح الفاظ ہیں: ثُمَّ مَشَى عَلَى يَمِينِهِ، فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا آپ ﷺ حجر اسود کا استلام کرنے کے بعد داہنی جانب کو چلے (اور طواف شروع کیا۔ پھر تین چکروں میں تو آپ نے رمل کیا اور چار چکر آپ نے اپنی عادی رفتار سے لگائے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے طواف اپنے پاؤں پر چل کر کیا تھا۔ اور حضرت ابو ہریرہ ؓ کی اس روایت میں اونٹ پر سوار ہو کر طواف کا تذکرہ ہے۔ لیکن ان دونوں بیانوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں مکہ معظمہ پہنچنے کے بعد پہلا طواف پیادہ پا کیا تھا۔ حضرت جابر ؓ نے اسی کا ذکر کیا ہے، اور اس کے بعد دسویں ذی الحجہ کو منیٰ سے مکہ آ کر جو طواف کیا تھا وہ اونٹ پر کیا تھا، تا کہ سوالات کرنے والے آپ سے سوالات کر سکیں، گویا آپ کی اونٹنی اس وقت آپ کے لیے منبر بنی ہوئی تھی، اور غالباًٍ اپنے عمل سے اس کا اظہار بھی مقصود تھا کہ خاص حالات میں سواری پر بھی طواف کیا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔

1003Maarif-ul-Hadith

حج کے اہم افعال و ارکان: مکہ میں داخلہ اور پہلا طواف

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ : « طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ رَاكِبَةٌ » فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ البَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ (حجۃ الوداع میں) میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: مجھے بیماری کی تکلیف ہے (میں طواف کیسے کروں؟) آپ ﷺ نے فرمایا کہ: تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو، تو میں نے اسی طرح طواف کیا، اور اس وقت رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پہلو میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، اور اس میں سورہ طور تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

1004Maarif-ul-Hadith

حج کے اہم افعال و ارکان: مکہ میں داخلہ اور پہلا طواف

عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ نَذْكُرُ إِلَّا الحَجَّ ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ طَمِثْتُ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : « لَعَلَّكِ نُفِسْتِ؟ » قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : « فَإِنَّ ذَلِكِ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ ، فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الحَاجُّ ، غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم لوگ (حجۃ الوداع والے سفر میں) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ سے چلے۔ ہماری زبانوں پر بس حج ہی کا ذکر تھا، یہاں تک کہ جب (مکہ کے بالکل قریب) مقام سرف پر پہنچے (جہاں سے مکہ صرف ایک منزل رہ جاتا ہے) تو میرے وہ دن شروع ہو گئے جو عورتوں کو ہر مہینے آتے ہیں ..... رسول اللہ ﷺ (خیمہ) میں تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ میں بیٹھی رو رہی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: شاید تمہارے ماہواری ایام شروع ہو گئے ہیں؟ .... میں نے عرض کیا کہ: ہاں! یہی بات ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (رونے کی کیا بات ہے) یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدمؑ کی بیٹیوں (یعنی سب عورتوں) کے ساتھ لازم کر دی ہے، تم وہ سارے عمل کرتی رہو جو حاجیوں کو کرنے ہوتے ہیں سوائے اس کے کہ بیت اللہ کا طواف اس وقت تک نہ کرو جب تک اس سے پاک صاف نہ ہو جاؤ ..... (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

1005Maarif-ul-Hadith

حج کے اہم افعال و ارکان: مکہ میں داخلہ اور پہلا طواف

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الطَّوَافُ حَوْلَ البَيْتِ مِثْلُ الصَّلاَةِ ، إِلاَّ أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فِيهِ ، فَمَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ فَلاَ يَتَكَلَّمَنَّ إِلاَّ بِخَيْرٍ. (رواه الترمذى والنسائى والدارمى)

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: بیت اللہ کا طواف نماز کی طرح کی عبادت ہے، بس یہ فرق ہے کہ طواف میں تم کو باتیں کرنے کی اجازت ہے، تو جو کوئی طواف کی حالت میں کسی سے بات کرے تو نیکی اور بھلائی ہی کی بات کرے (لغو و فضول یا ناجائز باتوں سے طواف کو مکدر نہ کرے)۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن دارمی)

1006Maarif-ul-Hadith

حج کے اہم افعال و ارکان: مکہ میں داخلہ اور پہلا طواف

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ مَسْحَهُمَا (الْحَجَرِ الْاَسْوَدِ وَالرُّكْنُ الْيَمَانِىْ) كَفَّارَةٌ لِلْخَطَايَا وَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : مَنْ طَافَ بِهَذَا البَيْتِ أُسْبُوعًا فَأَحْصَاهُ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : لاَ يَضَعُ قَدَمًا وَلاَ يَرْفَعُ أُخْرَى إِلاَّ حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ: حجر اسود اور رکن کمانی ان دونوں پر ہاتھ پھیرنا گناہوں کے کفارہ کا ذریعہ ہے۔ اور میں نے آپ ﷺ سے یہ بھی سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے کہ: جس نے اللہ کے اس گھر کا سات بار طواف کیا اور اہتمام اور فکر کے ساتھ کیا (یعنی سنن و آداب کی رعایت کے ساتھ کیا) تو اس کا یہ عمل ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہو گا۔ اور میں نے آپ ﷺ سے یہ بھی سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے کہ: بندہ طواف کرتے ہوئے جب ایک قدم رکھے گا اور دوسرا قدم اٹھائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلہ ایک گناہ معاف کرے گا اور ایک نیکی کا ثواب اس کے لیے لکھا جائے گا۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کے لفظ “ مَنْ طَافَ بِهَذَا البَيْتِ أُسْبُوعًا ” کا ترجمہ ہم نے سات بار طواف کرنا کیا ہے۔ شارحین نے لکھا ہے کہ اس میں تین احتمال ہیں: اول طواف کے سات چکر (یہ بات پہلے ذکر کی جا چکی ہے کہ ایک طواف میں بیت اللہ کے ساتھ چکر کئے جاتے ہیں) اور دوسرا احتمال ہے پورے ساتھ طواف جس کے انچاس چکر ہوں گے اور تیسرا احتمال ہے بلا ناغہ سات دن طواف ........ لیکن بظاہر پہلا راجح ہے۔ واللہ اعلم۔

1007Maarif-ul-Hadith

حجر اسود

عَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَيَأْتِيَنَّ هَذَا الْحَجَرُ ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا ، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ ، يَشْهَدُ عَلَى مَنِ اسْتَلَمَهُ ، بِحَقٍّ » (رواه الترمذى وابن ماجه والدارمى)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا: خدا کی قسم! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو نئی زندگی دے کر اس طرح اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا، اور زبان ہو گی جس سے وہ بولے گا، اور جن بندوں نے اس کا استلام کیا ہو گا ان کے حق میں سچی شہادت دے گا۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی) تشریح حجر اسود دیکھنے میں پتھر کا ایک ٹکڑا ہے، لیکن اس میں ایک روحانیت ہے اور وہ ہر اس شخص کو پہچانتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نسبت سے ادب اور محبت کے ساتھ اس کو بلا واسطہ یا بالواسطہ چومتا ہے اور اس کا استلام کرتا ہے، قیامت میں اللہ تعالیٰ اوس کو ایک دیکھنے اور بولنے والی ہستی بنا کر کھڑا کرے گا اور وہ ان بندوں کے حق میں شہادت دے گا جو اللہ کے حکم کے مطابق عاشقانہ اور نیاز مندانہ شان کے ساتھ اس کا استلام کرتے تھے۔

1008Maarif-ul-Hadith

حجر اسود

عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ ، وَيَقُولُ : « إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ ، مَاتَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ » (رواه البخارى ومسلم)

عابس بن ربیۃ تابعی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر ؓ کو دیکھا وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے میں یقین کے ساتھ جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے (تیرے اندر کوئی خدائی صفت نہیں ہے) نہ تو کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقسان اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تجھے نہ چومتا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت عمر ؓ نے یہ بات بالاعلان اور علی رؤس الاشہاد اس لیے کہی کہ کوئی ناتربیت یافتہ نیا مسلمان حضرت عمر ؓ اور دوسرے اکابر مسلمین کا حجر اسود کو چومنا دیکھ کر یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ اس پتھر میں کوئی خدائی کرشمہ اور خدائی صفت اور بناؤ بگاڑ کی کوئی طاقت ہے، اور اس لیے اس کو چوما جا رہا ہے۔ حضرت عمر ؓ کے اس ارشاد سے ایک اصولی اور بنیادی بات یہ معلوم ہوئی کہ کسی چیز کی جو تعظیم و تکریم اس نظریہ سے کی جائے کہ اللہ و رسول کا حکم ہے۔ وہ تعظیم برحق ہے، لیکن اگر کسی مخلوق کو نافع اور ضار اور بناؤ بگاڑ کا مختار یقین کر کے اس کی تعظیم کی جائے تو وہ شرک کا ایک شعبہ ہے، اور اسلام میں اس کی گنجائش نہیں۔

1009Maarif-ul-Hadith

طواف میں ذکر اور دعا

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ » (رواه ابوداؤد)

حضرت عبداللہ بن السائب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (طواف کی حالت میں) رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان (کی مسافت میں) یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ . (سنن ابنی داؤد)

1010Maarif-ul-Hadith

طواف میں ذکر اور دعا

عَنْ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وُكِلَ بِهِ سَبْعُونَ مَلَكًا (يعنى الركن اليمانى) ، فَمَنْ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ، قَالُوا : آمِينَ " (رواه ابن ماجه)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: رکن یمانی پر ستر فرشتے مقرر ہیں جو ہر اس بندے کی دعا پر آمین کہتے ہیں جو اس کے پاس یہ دعا کرے کہ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ. (اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت مانگتا ہوں۔ اے پروردگار! ہم کو دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی، اور دوزخ کے عذاب سے ہم کو بچا!)

1011Maarif-ul-Hadith

وقوف عرفہ کی اہمیت اور فضیلت

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَُرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِىَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : الحَجُّ عَرَفَةٌ ، وَمَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ طُلُوْعِ الفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الحَجَّ ..... أَيَّامُ مِنًى ثَلاَثَةٌ {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ....}. (رواه الترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجه والدارمى)

حضرت عبدالرحمن بن یعمر دئلی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: حج (کا خاص الخاص رکن جس پر حج کا دار و مدار ہے) وقووف عرفہ ہے، جو حاجی مزدلفہ والی رات میں (یعنی ۹ اور ۱۰ ذی الحجہ کی درمیانی شب میں) بھی صبح صادق سے پہلے عرفات میں پہنچ جائے تو اس نے حج پا لیا اور اس کا حج ہو گیا ...... (یوم النحر یعنی ۱۰ ذی الحجہ کے بعد) منیٰ میں قیام کے عین دن میں (جن میں تینوں جمروں کی رمی کی جاتی ہے ۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ) اگر کوئی آدمی صرف دو دن میں یعنی (۱۱، ۱۲ کو رمی کر کے) جلدی منیٰ سے چل دے تو اس میں بھی کوئی گناہ نہیں ہے، اور اگر کوئی ایک دن مزید ٹھہر کے (۱۳ ذی الحجہ کی رمی کر کے) وہاں سے جائے تو اس پر بھی کوئی گناہ اور الزام نہیں ہے (دونوں باتیں جائز ہیں)۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی) تشریح حج کا سب سے اہم رکن نویں ذی الحجہ کو میدان عرفات کا وقوف ہے، اگر یہ ایک لحظہ کے لیے بھی نصیب ہو گیا تو حج نصیب ہو گیا، اور اگر کسی وجہ سے حاجی ۹ ذی الحجہ کے دن، اور اس کے بعد والی رات کے کسی حصے میں بھی عرفات میں نہ پہنچ سکا تو اس کا حج فوت ہو گیا۔ حج کے دوسرے ارکان و مناسک طواف، سعی، رمی، جمرات وغیرہ اگر کسی وجہ سے فوت ہو جائیں تو ان کا کوئی نہ کوئی کفارہ اور تدارک ہے، لیکن اگر وقوف عرفہ فوت ہو جائے تو اس کا کوئی تدارک نہیں ہے۔ چونکہ وقوف عرفات پر حج کا دار و مدار ہے اس لیے اس میں اتنی وسعت رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی آدمی نویں ذی الحجہ کے دن میں عرفات نہ پہنچ سکے (جو وقوف کا اصلی وقت ہے) وہ اگر اگلی رات کے کسی حصے میں بھی وہاں پہنچ جائے تو اس کا وقوف ادا ہو جائے گا اور وہ حج سے محروم نہ سمجھا جائے گا۔ یوم العرفہ کے بعد ۱۰ ذی الحجہ کو یوم النحر ہے جس میں ایک جمرہ کی رمی اور قربانی اور حلق وغیرہ کے بعد احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں اور اسی دن مکہ جا کر طواف زیارت کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد منیٰ میں زیادہ سے زیادہ تین دن اور کم سے کم دو دن ٹھہر کر تینوں جمروں پر کنکریاں مارنا مناسک میں سے ہے ....... پس اگر کوئی شخص صرف دو دن ۱۱، ۱۲ ذی الحجہ کو رمی جمرات کر کے منیٰ سے چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور اگر کوئی ۱۳ ذی الھجہ کو بھی ٹھہرے، اور رمی کر لے، تو یہ بھی جائز ہے۔

1012Maarif-ul-Hadith

وقوف عرفہ کی اہمیت اور فضیلت

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمِ الْمَلَائِكَةَ ، فَيَقُولُ : مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟ " (رواه مسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زیادہ اپنے بندوں کے لیے جہنم سے آزادی اور رہائی کا فیصلہ کرتا ہو (یعنی گناہ گار بندوں کی مغفرت اور جہنم سے آزادی کا سب سے بڑے اور وسیع پیمانے پر فیصلہ سال کے ۳۶۰ دنوں میں سے ایک دن یوم العرفہ میں ہوتا ہے) اس دن اللہ تعالیٰ اپنی صفت رحمت اور رافت کے ساتھ (عرفات میں جمع ہونے والے) اپنے بندوں کے بہت ہی قریب ہو جاتا ہے اور ان پر فخر کرتے ہوئے فرشتوں سے کہتا ہے کہ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ دیکھتے ہو! میرے یہ بندے کس مقصد سے یہاں آئے ہیں؟ (صحیح مسلم)

1013Maarif-ul-Hadith

وقوف عرفہ کی اہمیت اور فضیلت

عَنْ طَلْحَةَ بن عبيد الله بن كريز أن رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا رَأَى الشَّيْطَانُ يَوْمًا هُوَ فِيهِ أَصْغَرُ ، وَلَا أَدْحَرُ ، وَلَا أَحْقَرُوَلَا أَغْيَظُ مِنْهُ فِىْ يَوْمِ عَرَفَةَ ، وَمَا ذَاكَ اِلَّا لِمَا يَرَى مِنْ تَنَزُّلِ الرَّحْمَةِ وَتَجَاوُزِ اللهِ عَنِ الذُّنُوبِ الْعِظَامِ. (رواه مالك مرسلا)

طلحہ بن عبیداللہ بن کریز (تابعی) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: شیطان کسی دن بھی اتنا ذلیل خوار، اتنا دھتکارا اور پھٹکارا ہوا اور اتنا جلا بھنا ہوا نہیں دیکھا گیا جتنا کہ وہ عرفہ کے دن ذلیل و خوار رو سیاہ اور جلا بھنا دیکھا جاتا ہے اور یہ صرف اس لیے کہ وہ اس دن کی رحمت کو (موسلا دھار) برستے ہوئے اور بڑے بڑے گناہوں کی معافی کا فیصلہ ہوتے ہوئے دیکھتا ہے (اور یہ اس لعین کے لیے ناقابل برداشت ہے)۔ (موطا امام مالک مرسلاً) تشریح عرفات کے مبارک میدان میں ذی الحجہ کی نویں تاریخ کو، جو رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا خاص دن ہے جب ہزاروں یا لاکھوں کی تعداد میں اللہ کے بندے فقیروں، محتاجوں کی صورت بنا کر جمع ہوتے ہین اور اس کے حضور میں اپنے اور دوسروں کے لیے مغفرت اور رحمت کے لیے دعائیں اور آہ و زاری کرتے ہین اور اس کے سامنے روتے اور گڑگڑاتے ہیں تو لا محالہ ارحم الراحمین کی رحمت کا اتھاہ سمندر جوش میں آ جاتا ہے، اور پھر وہ اپنی شان کریمی کے مطابق گناہ گار بندوں کی مغفرت اور جہنم سے رہائی و آزادی کے وہ عظیم فیصلے فرماتا ہے کہ شیطان بس جل بھن کے رہ جاتا ہے اور اپنا سر پیٹ لیتا ہے۔

1014Maarif-ul-Hadith

رمی جمرات

عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّمَا جُعِلَ رَمْيُ الجِمَارِ ، وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ. (رواه الترمذى والدارمى)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمرات پر کنکریاں پھینکنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا اور پھیرے لگانا (لہو و لعب کی باتیں نہیں ہیں، بلکہ) یہ ذکر اللہ کی گرم بازاری کے وسائل ہیں ..... (جامع ترمذی، سنن دارمی) تشریح منیٰ میں کافی کافی فاصلے سے تین جگہوں پر تین ستون بنے ہوئے ہیں۔ انہی ستونوں کو جمرات کہا جاتا ہے، ان جمرات پر کنکریاں پھینکنا بھی حج کے اعمال اور مناسک میں سے ہے، دسویں ذی الحجہ کو صرف ایک جمرہ پر سات کنکریاں پھینکی جاتی ہیں، اور ۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ کو تینوں جمروں پر سات سات کنکریاں پھینکی جاتی ہیں ..... ظاہر بات ہے کہ کنکریاں پھینکنا بذات خود کوئی نیک عمل نہیں ہے، لیکن اللہ کے حکم سے ہر عمل میں عبادت کی شان پیدا ہو جاتی ہے، اور بندگی یہی ہے کہ بے چوں و چرا اللہ کے حکم کی تعمیل کی جائے، علاوہ ازیں اللہ کے بندے جب اللہ کے حکم سے اس کے جلال و جبروت کا دھیان کرتے ہوئے اور اس کی کبریائی کا نعرہ لگاتے ہوئے شیطانی خیالات و عادات اور نفسانی خواہشات و معصیات کو عالم تصور میں نشانہ بنا کر ان جمروں پر کنکریاں مارتے ہیں، اور اس طرح گمراہی اور معصیت کو سنگسار کرتے ہیں تو ان کے قلوب کی اس وقت جو کیفیت ہوتی ہے اور ان کے ایمان والے سینوں کو جو انشراح اور سرور و انبساط اس سے نصیب ہوتا ہے اس کا ذائقہ بس وہی جانتے ہیں ..... بہر حال اللہ کے حکم سے اور اس کا حکم نام لے کر جمروں پر کنکریاں پھینکنا بھی اہل بصیرت کی نگاہ میں ایک ایمان افروز عمل ہے۔

1015Maarif-ul-Hadith

رمی جمرات

عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : « رَمَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى ، وَأَمَّا بَعْدَ ذَالِكَ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی چاشت کے وقت فرمائی اور اس کے بعد ایام تشریق میں جمرات کی رمی آپ نے زوال آفتاب کے بعد کی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح یہی سنت ہے کہ ۱۰ ذی الحجہ کو جمرۃ العقبہ کی رمی دوپہر سے پہلے کر لی جائے اور بعد کے دنوں میں زول کے بعد۔

1016Maarif-ul-Hadith

رمی جمرات

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ اَنَّهُ اِنْتَهَى اِلَى الْجَمْرَةِ الكُبْرَى فَجَعَلَ البَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ البَقَرَةِ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ وہ رمی کے لیے جمرہ کبریٰ کے پاس پہنچے، پھر اس طرح اس کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوئے کہ بیت اللہ (یعنی مکہ) اس کے بائیں جانب تھا اور منیٰ داہنی جانب۔ اس کے بعد انہوں نے جمرہ پر سات کنکریاں ماریں ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے۔ اس کے بعد فرمایا کہ: اسی طرح رمی کی تھی اس مقدس ہستی نے جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی (جس میں حج کے احکام اور مناسک کا بیان ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے رمی کرنے کے طریقے کو تفصیل سے یاد رکھا تھا، اور اسی کے مطابق عمل کر کے لوگوں کو دکھایا کہ رسول اللہ ﷺ جن پر اللہ نے حج کے احکام نازل کئے گھے اسی طرح رمی کیا کرتے تھے۔

1017Maarif-ul-Hadith

رمی جمرات

عَنْ جَابِرٍ قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ ، وَيَقُولُ : « لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ » (رواه مسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (۱۰ ذی الحجہ کو) اپنی ناقہ پر سے رمی کرتے ہوئے دیکھا، آپ اس وقت فرما رہے تھے کہ تم مجھ سے اپنے مناسک سیکھ لو، میں نہیں جانتا کہ شاید اس حج کے بعد میں کوئی اور حج نہ کروں (اور پھر تمہیں اس کا موقع نہ ملے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح دسویں ذی الحجہ کو رسول اللہ ﷺ اپنی ناقہ پر مزدلفہ سے روانہ ہو کر منیٰ پہنچے تو اس دن آپ ﷺ نے ناقہ پر سوار ہونے ہی کی حالت میں جمرہ عقبہ کی رمی کی، تا کہ سب لوگ آپ کو رمی کرتا ہوا دیکھ کر رمی کا طریقہ سیکھ لیں اور آسانی سے مسائل اور مناسک پوچھ سکیں، لیکن دوسرے اور تیسرے دن آپ نے رمی پاپیادہ کی ...... بہر حال رمی سوار ہو کر بھی جائز ہے اور پا پیادہ بھی۔ یہ اشارہ حجۃ الوداع میں آپ ﷺ نے بار بار فرمایا کہ: اہل ایمان مجھ سے مناسب اور دین و شریعت کے احکام سیکھ لیں، شاید اب اس دنیا میں میرا قیام بہت زیادہ نہیں ہے۔

1018Maarif-ul-Hadith

رمی جمرات

عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَرْمِي الجَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ عَلَى إِثْرِ كُلِّ حَصَاةٍ ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ حَتَّى يُسْهِلَ ، فَيَقُومَ مُسْتَقْبِلَ القِبْلَةِ ، طَوِيلًا ، وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ، ثُمَّ يَرْمِي الوُسْطَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحِصَاةٍ ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِذَاتِ الشِّمَالِ فََيُسْهَلُ ، وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ القِبْلَةِ ، ثُمَّ يَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ، وَيَقُومُ طَوِيلًا ، ثُمَّ يَرْمِي جَمْرَةَ ذَاتِ العَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ حِصَاةٍ ، وَلاَ يَقِفُ عِنْدَهَا ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ ، فَيَقُولُ « هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ » (رواه البخارى)

سالم بن عبداللہ اپنے والد ماجد حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ رمی جمرات کے بارے میں ان کا معمول اور دستور تھا کہ وہ پہلے جمرہ پر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے، اس کے بعد اگے نشیب میں اتر کر قبلہ رو کھڑے ہوتے اور ہاتھ اٹھا کے دیر تک دعا کرتے، پھر درمیان والے جمرہ پر بھی اسی طرح سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے، پھر بائیں جانب نشیب میں اتر کر قبلہ ر کھڑے ہوتے اور دیر تک کھڑے رہتے اور ہاتھ اٹھا کے دعا کرتے، پھر آخری جمرہ (جمرۃ العقبہ) پر بطن وادی سے سات کنکریاں مارتے اور کے ساتھ اللہ اکبر کہتے اور اس جمرہ کے پاس کھڑے نہ ہوتے بلکہ واپس ہو جاتے، اور بتاتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (صحیح بخاری) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ پہلے اور دوسرے جمروں کی رمی کے بعد قریب میں قبلہ رو کھڑے ہو کر دیر تک دعا کرتے تھے اور آخری جمرہ کی رمی کے بعد بغیر کھڑے ہوئے اور دعاکئے واپس ہو جاتے تھے، یہی سنت ہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے زمانہ میں اس سنت پر عمل کرنے والے بلکہ اس کے جاننے والے بھی بہت کم ہیں۔

1019Maarif-ul-Hadith

قربانی

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ » . (قَالَ ثَوْرٌ وَهُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي) قَالَ : وَقُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ. (رواه ابوداؤد)

عبداللہ بن قرط ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن یوم النحر (قربانی کا دن یعنی ۱۰ ذی الحجہ کا دن) ہے (یعنی یوم العرفہ کی طرح یوم النحر بھی بڑی عظمت والا دن ہے) اس کے بعد اس سے اگلا دن یوم القر (۱۱ ذی الحجہ) کا درجہ ہے (اس لیے قربانی جہاں تک ہو سکے ۱۰ ذی الحجہ کو کر لی جائے) اور کسی وجہ سے ۱۰ ذی الحجہ کو نہ کی جا سکے تو ۱۱ کو ضرور کر لی جائے۔ اس کے بعد (یعنی ۱۲ ذی الحجہ کو) اگر کی جائے تو ادا تو ہو جائے گی لیکن فضیلت کا کوئی درجہ ہاتھ نہ آئے گا) حدیث کے راوی عبداللہ بن قرط (رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرنے کے بعد اپنا یہ عجیب و غریب مشاہدہ) بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ پانچ یا چھ اونٹ قربانی کے لیے رسول اللہ ﷺ کے قریب لائے گئے تو ان میں سے ہر ایک آپ کے قریب ہونے کی کوشش کرتا تھا، تا کہ پہلے اسی کو آپ ذبح کریں۔ (سنن ابی داؤد) تشریح قربانی کی عام فضیلت اور اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی عام ہدایات “ کتاب الصلوٰۃ ” میں عیدالاضحیٰ کے بیان میں ذکر کی جا چکی ہیں، اور حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے ۶۳ اونٹوں کی، اور آپ کے حکم پر حضرت علی مرتضیٰ ؓ نے ۳۷ اونٹوں کی جو قربانی کی تھی، اس کا ذکر حجۃ الوداع کے بیان میں گزر چکا ہے، یہاں قربانی کے بارے میں صرف دو تین حدیثیں اور پڑھ لی جائیں۔ تشریح ..... اللہ تعالیٰ کو قدرت ہے کہ وہ جانوروں میں، بلکہ مٹی، پتھر جیسے جمادات میں حقائق جکا شعور پیدا کر دے۔ یہ ۵، ۶ اونٹ جو قربانی کے لیے رسول اللہ ﷺ کے قریب کئے گئے تھے ان میں اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ شعور پیدا فرما دیا تھا کہ اللہ کی راہ میں اس کے محبوب اور برگزیدہ رسول محمد ﷺ کے ہاتھ سے قربان ہونا ان کی کتنی بڑی خوش بختی ہے اس لیے ان میں سے ہر ایک اس خواہش کے ساتھ آپ سے قریب ہونا چاہتا تھا کہ پہلے آپ اسی کو ذبح کریں ؎ ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف بہ اُمید آنکہ روزے بہ شکار خواہی آمد

1020Maarif-ul-Hadith

قربانی

عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلاَ يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ وَفِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ » فَلَمَّا كَانَ العَامُ المُقْبِلُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ المَاضِي؟ قَالَ : « كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا ، فَإِنَّ ذَلِكَ العَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ ، فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهِمْ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت سلمہ بن الاکوع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر) ہدایت فرمائی کہ تم میں سے جو کوئی قربانی کرے تو (اس کا گوشت بس تین دن تک کھا سکتا ہے) تیسرے دن کے بعد اس کے گھر میں اس قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہنا چاہیے ..... پھر جب اگلا سال آیا تو لوگوں نے دریافت کیا: کیا ہم اس سال بھی ایسا کریں جیسا کہ گزشتہ سال آپ ﷺ کی ہدایت کے مطابق ہم نے کیا تھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: (نہیں! اس سال تین دن والی وہ پابندی نہیں ہے بلکہ اجازت ہے کہ جب تک چاہو) کھاؤ، کھلاؤ اور محفوظ رکھو۔ گزشتہ سال وہ ہدایت اس لیے دی گئی تھی کہ عوام کو (غذا کی کمی اور تنگدستی کی وجہ سے) کھانے پینے کی تکلیف تھی اس لیے میں نے چاہا کہ قربانی کے گوشت سے تم ان کی پوری مدد کرو (اس لیے میں نے عارضی اور وقتی طور پر وہ حکم دیا تھا، اب جب کہ وہ ضرورت باقی نہیں رہی تمہارے لیے کھانے کھلانے اور محفوظ رکھنے کی پوری گنجائش ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)