اگر غیر اللہ کے لئے سجدے کی گنجائش ہوتی تو عورتوں کو شوہروں کے لئے سجدے کا حکم ہوتا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اگر میں کسی مخلوق کے لئے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
کسی مخلوق پر کسی دوسری مخلوق کا زیادہ سے زیادہ حق بیان کرنے کے لئے اس سے زیادہ بلیغ اور موثر کوئی دوسرا عنوان نہیں ہو سکتا جو رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں بیوی پر شوہر کا حق بیان کے لئے اختیار فرمایا۔ حدیث کا مطلب اور مدعا یہی ہے کہ کسی کے نکاح میں آ جانے اور اس کی بیوی بن جانے کے بعد عورت پر خدا کے بعد سب سے بڑا حق اس کے شوہر کا ہو جاتا ہے۔ اسے چاہئے کہ اس کی فرمانبرداری اور رجا جوئی میں کوئی کمی نہ کرے۔
جامع ترمذی میں یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ ؓ سے انہی الفاظ میں روایت کی گئی ہے۔
(52) اور امام احمد نے مسند میں اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت انسؓ سے ان الفاظ میں روایت کی ہے۔
«لَا يَصْلُحُ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ، وَلَوْ صَلَحَ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا» (الحديث)
کسی آدمی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے آدمی کو سجدہ کرے اور اگر یہ جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کیا کرے، کیوں کہ اس پر اس کے شوہر کا بہت بڑا حق ہے۔
(53) اور سنن ابن اماجہ میں یہی مضمون حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ کی روایت سے حضرت معاذ بن جبل کے ایک واقعہ کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے۔ اس روایت میں واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ:
“مشہور انصاری صحابی معاذ بن جبل ؓ ملک شام گئے ہوئے تھے جب وہاں سے واپس آئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حضور میں سجدہ کیا۔ آپ ﷺ نے تعجب سے پوچھا:
“ مَا هَذَا يَا مُعَاذ؟ ”
“معاذ! یہ کیا کر رہے ہو؟”
انہوں نے عرض کیا کہ: میں شام گیا تھا، وہاں کے لوگوں کو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے دینی پیشواؤں پادریوں کو اور قومی سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں، تو میرے دل میں آیا کہ ایسے ہی ہم بھی آپ کو سجدہ کیا کریں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ایسا نہ کرو۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا:
فَإِنِّي لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِغَيْرِ اللَّهِ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا. (الحديث)
اگر میں کسی کو اللہ کے سوا اور کے لئے سجدہ کرنے کے لئے کہتا تو عورت سے کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
(54) اور سنن ابی داؤد میں اس سے ملتا جلتا ایک دوسرا واقعہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی قیس بن سعد سے روایت کیا گیا ہے۔ وہ خود اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ:
“میں حیرہ گیا تھا (یہ کوفہ کے پاس ایک قدیمی شہر تھا) وہاں کے لوگوں نے دیکھا کہ وہ ادب و تعظیم کے طور پر اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں۔ میں نے اپنی جی میں کہا کہ رسول اللہ ﷺ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کیا کریں، پھر جب میں (سفر لوٹ کے) آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے یہی بات عرض کی۔ آپ نے مجھ سے فرمایا:
«أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِي أَكُنْتَ تَسْجُدُ لَهُ؟» قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا، لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ لِمَا جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ عَلَيْهِنَّ مِنَ الْحَقِّ»
بتاؤ اگر (میرے مرنے کے بعد) تم میری قبر کے پاس سے گزرو گے تو کیا میری قبر کو بھی سجدہ (1) کرو گے؟ (قیس کہتے ہیں) میں نے عرض کیا کہ نہیں (میں آپ کی قبر کو تو سجدہ نہیں کروں گا) تو آپ ﷺ نے فرمایا ایسے ہی اب بھی نہ کرو۔ (اس کے بعد آپنے ارشاد فرمایا) اگر میں کسی کو کسی دوسری مخلوق کے لئے سجدہ کرنے کے لئے کہتا تو عورتوں کو کہتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں، اس عظیم حق کی بناء پر جو اللہ نے ان کے شوہروں کا ان پر مقرر کیا ہے۔”
(55) اور مسند احمد میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک اور واقعہ روایت کیا گیا ہے کہ ایک اونٹ نے نے رسول اللہ ﷺ کے حضور میں سجدہ کیا (یعنی وہ اس طرح آپو کے حضور میں جھک گیا جس کو دیکھنے والوں نے سجدہ سے تعبیر کیا) اس اونٹ کا یہ طرز عمل دیکھ کر بعض صحابہؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ اونٹ جیسے چوپائے اور درخت آپ کے لئے سجدہ کرتے ہیں (یعنی جھک جاتے ہیں) تو ان کی بہ نسبت ہمارے لئے زیادہ سزاوار ہے کہ ہم آپ کو سجدہ کریں۔ آپنے ان سے فرمایا:
«اعْبُدُوا رَبَّكُمْ، وَأَكْرِمُوا أَخَاكُمْ، وَلَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا، أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا» (الحديث)
عبادت اور پرستش بس اپنے رب کو کرو اور اپنے بھائی کا (یعنی میرا) بس اکرام و احترام کرو اور اگر میں کسی کو کسی دوسری مخلوق کے لئے سجدہ کرنے کو کہتا تو عورت کو کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ الخ
ان مختلف احادیث و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیوی پر شوہر کے حق کے بارے میں یہ سجدے والی بات مختلف موقعوں پر اور بار بار فرمائی۔
ہر قسم کا سجدہ صرف اللہ کے لئے
ان سب حدیثوں سے یہ بات بھی پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ معلوم ہو گئی کہ شریعت محمدی ﷺ میں سجدہ صرف اللہ کے لئے ہے اس کے سوا کسی دوسرے کے لئے حتی کہ افضل مخلوق سید الانبیاء حضرت محمدﷺ کے لئے بھی کسی طرح کے سجدہ کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت م عاذ یا قیس بن سعدؓ یا جن دوسرے صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کے حضور میں سجدے کے بارے میں عرض کیا تھا وہ سجدہ تحیہ ہی کے بارے میں عرض کیا تھا (جس کو لوگ سجدہ تعظیمی بھی کہہ دیتے ہیں) اس کا تو شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ان صحابہؓ نے معاذ اللہ سجدہ عبادت و عبودیت کے بارے میں عرض کیا ہو۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ پر ایمان لا چکا اور آپ ﷺ کی دعوت توحید کو قبول کر چکا اس کو تو اس کا وسوسہ بھی نہیں آ سکتا کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو سجدہ عبادت کرے۔ اس لئے ماننا پڑے گا کہ ان حدیثوں کا تعلق خاص کر سجدہ تحیہ ہی سے ہے۔ اسی لئے فقہاء نے تصریح کی ہے کہ کسی مخلوق کے لئے سجدہ تحیہ بھی حرام ہے۔ پس جو لوگ اپنے بزرگوں، مرشدوں کو یا مرنے کے بعد ان کے مزاروں کو سجدہ کرتے ہیں وہ بہرحال شریعت محمدی ﷺ کے مجرم اور باغی ہیں اور ان کا یہ عمل صورۃ بلاشبہ شرک ہے۔
(غیر اللہ کے لئے سجدے کے بارے میں یہاں جو چند سطریں لکھی گئیں، یہ مندرجہ بالا احادیث کی تشریح کا ضروری حق اور تقاضا تھا اب اصل موضوع (یعنی بیوی پر شوہر کے حقوق) سے متعلق بقیہ احادیث پڑھئے)
شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَلْمَرْأَةُ اِذَا صَلَّتْ خَمْسَهَا وَصَامَتْ شَهْرَهَا وَاَحْصَنَتْ فَرْجَهَا وَاَطَاعَتْ بَعْلَهَا فَلْتَدْخُلْ مِنْ اَىِّ اَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَتْ. (رواه ابو نعيم فى الحيلة)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت جب پانچوں وقت کی نماز پڑھے اور ماہِ رمضان کے روزے رکھے اور اپنی شرم و آبرو کی حفاظت کرے اور شوہر کی فرمانبردار رہے تو پھر (اسے حق ہے کہ) جنت کے جس دروازے سے چاہے اس میں داخل ہو۔ (حلیہ ابو نعیم)
تشریح
میاں بیوی کے تعلق میں یہ ضروری تھا کہ کسی ایک کو سربراہی کا درجہ دیا جائے اور اسی حساب سے اس پر ذمہ داریاں بھی ڈالی جائیں، اور ظاہر ہے کہ فطری برتری کے لحاظ سے اس کے لئے شوہر ہی زیادہ موزوں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ شریعت محمدیﷺ میں گھر کا سربراہ مرد ہی کو قرار دیا گیا ہے، اور بڑی ذمہ داریاں اسی پر ڈالی گئی ہیں۔ فرمایا گیا ہے: “الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ” (مرد عورتوں کے سربراہ اور ذمہ دار ہیں) اور عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ گھر کے سربراہ ذمہ دار اور اور اپنے سرتاج کی حیثیت سے شوہر کی بات مانیں، اور بیوی ہونے کی حیثیت سے ان کی مخصوص خانگی ذمہ داریاں ہیں ان کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں۔ چنانچہ ان کے لئے فرمایا گیا ہے “فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ ” (النساء ۳۴) (نیک بیویاں شوہروں کی فرمانبردار ہوتی ہیں، اور شوہر کے پیچھے بھی (اس کی آبرو اور ہر امانت کی حفاظت کرتی ہیں)
اگر عورت شوہر کی اطاعت فرمانبرداری کے بجائے نافرمانی و سرکشی کا رویہ اختیار کرے تو ظاہر ہے کہ اس کے نتیجہ میں پہلے کشمکش اور پھر خانہ جنگی ہو گی جو دونوں کی دینی و دنیوی بربادی کا باعث ہو گی۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو شوہروں کی اطاعت و فرمانبرداری اور رضا جوئی کی تاکید بھی فرمائی ہے، اور اس کا عظیم اجر و ثواب بیان فرما کر ترغیب بھی دی ہے۔
تشریح ..... اس حدیث میں یہ بات خاص طور سے قابل لحاظ ہے کہ اس میں بیوی کے لئے شوہر کی اطاعت کو نماز، روزہ اور زنا سے اپنی حفاظت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، یہ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ شریعت کی نگاہ میں اس کی بھی ایسی ہی اہمیت ہے جیسی کہ ان ارکان و فرائض کی۔
شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الجَنَّةَ. (رواه الترمذى)
حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو عورت اس حالت میں دنیا سے جائے کہ اس کا شوہر اس سے راضی اور خوش ہو تو وہ جنت میں جائے گی۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس سلسلہ معارف الحدیث میں یہ بات بار بار واضح کی جا چکی ہے کہ جن احادیث میں کسی خاص عمل پر جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ عمل اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے اور اس کا صلہ جنت ہے اور اس کا کرنے والا جنتی ہے لیکن اگر بالفرض وہ عقیدہ یا عمل کی کسی ایسی گندگی میں ملوث ہو جس کی لازمی سزا دوزخ کا عذاب ہو تو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق اس کا اثر بھی ظاہر ہو کے رہے گا۔ اسی روشنی میں ام سلمہؓ کی اس حدیث کا مطلب سمجھنا چاہئے۔
دوسری بات یہاں یہ قابل لحاظ ہے کہ اگر کوئی شوہر ناواجب طور پر اپنی بیوی سے ناراض ہو تو اللہ کے نزدیک بیوی بےقصور ہو گی اور ناراضی کی ذمہ داری خود شوہر پر ہو گی۔
(یہاں تک وہ حدیثیں مذکور ہوئی جن میں بیویوں پر شوہروں کا حق بیان کیا گیا ہے، اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری اور رضا جوئی کی تاکید فرمائی گئی ہے، اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری اور رضا جوئی کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اب وہ حدیثیں پڑھئے جن میں شوہروں کو بیویوں کی رعایت اور دلجوئی و دلداری اور بہتر رویہ کی تاکید فرمائی گئی ہے)۔
بیویوں کے حقوق اور ان کی رعایت و مدارات کی تاکید
عَنْ جَابِرٍ (فى حديث طويل فى قصة حجة الوداع قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فى خطبته يوم عرفة) اتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ. (رواه مسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ (حجۃ الوداع میں یوم عرفہ کے خطبہ میں رسول اللہ ﷺ نے یہ ہدایت بھی دی) لوگو! اپنی بیویوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، تم نے ان کو اللہ کیامان کے ساتھ اپنے عقد میں لیا ہے۔ اور اسی اللہ کے کلمہ اور حکم سے وہ تمہارے لئے حلال ہوئی ہیں۔تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ جس کا (گھر میں آنا اور) تمہارے بستروں پر بیٹھنا تمہیں ناپسند ہو وہ اس کو آ کر وہاں بیٹھنے کا موقع نہ دیں، پس اگر وہ ایسی غلطی کریں تو ان کو (تنبیہ و تادیب کے طور پر) تم سزا دے سکتے ہو جو زیادہ سخت نہ ہو، اور تمہارے ذمہ مناسب طریقے پر ان کے کھانے کپڑے (وغیرہ ضروریات) کا بندوبست کرنا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں سب سے پہلی بات تو یہ فرمائی گئی ہے کہ مرد جو عورتوں کے بااختیار اور صاحب امر سربراہ ہیں وہ اپنی اس سربراہی کو خدا کے مواخذہ اور محاسبہ سے بےپروا ہو کر عورتوں پر استعمال نہ کریں، وہ ان کے معاملہ میں خدا سے ڈریں اور یاد رکھیں کہ ان کے اور ان کی بیویوں کے رمیان خدا ہے، اسی کے حکم اور اسی کے مقرر کئے ہوئے ضابطہ نکاح کے مطابق وہ ان کی بیوی بنی ہیں اور ان کے لئے حلال ہوئی ہیں اور وہ اللہ کی امان میں ان کی ماتحت اور زیرِ دست بنائی گئی ہیں، یعنی ان کی بیوی بن جانے کے بعد ان کو اللہ کی امان اور پناہ حاصل ہے۔اگر شوہر ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کریں گے تو اللہ کی دی ہوئی امان کو توڑیں گے اور اس کے مجرم ہوں گے۔ “أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللهِ” کا یہی مطلب ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے اس جملہ نے بتایا کہ جب کوئی عورت اللہ کے حکم کے مطابق کسی مرد سے نکاح کر کے اس کی بیوی بن جاتی ہے تو اس کو اللہ کی ایک خاص امان حاصل ہو جاتی ہے۔
یہ عورتوں کے لئے کتنا بڑا شرف ہے اور اس میں ان کے سربراہ شوہروں کو کتنی سخت آگاہی ہے کہ وہ یہ بات یاد رکھیں کہ ان کی بیویاں اللہ کی امان میں ہیں۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ شوہروں کا بیویوں پر یہ حق ہے کہ جن مردوں یا عورتوں کا گھر میں آنا اور بیویوں سے بات چیت کرنا انہیں پسند نہ ہو بیویاں ان کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دیں۔ “ وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ ” کا یہی (1) مطلب ہے۔ آگے فرمایا گیا ہے کہ اگر وہ اس کی خلاف ورزی کریں تو تم مردوں کو ان کے سربراہ کی حیثیت سے حق ہے کہ ان کی اصلاح اور تنبیہ کے لئے مناسب سمجھیں تو ان کو سزا دیں، لیکن صراحت کے ساتھ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ یہ سزا سخت نہ ہو “غَيْرَ مُبَرِّحٍ” کا یہی مطلب ہے۔
آخر میں فرمایا گیا ہے کہ بیویوں کا شوہر پر یہ خاص حق ہے کہ وہ ان کو کھانے، کپڑے وغیرہ کی ضروریات اپنی حیثیت اور معاشرے کے دستور کے مطابق پوری کریں، اس معاملہ میں بخل و کنجوسی سے کام نہ لیں۔ “بِالْمَعْرُوفِ” کا یہی مطلب ہے۔
بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّهُنَّ خَيْرًا، فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو! بیویوں کے ساتھ بہتر سلوک کے بارے میں میری وصیت مانو (یعنی میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کی ان بندیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نرمی اور مدارات کا برتاؤ رکھو، ان کی تخلیق پسلی سے ہوئی ہے (جو قدرتی طور پر ٹیڑھی ہتی ہے) اور زیادہ کجی پسلی کے اوپر کے حصے میں ہوتی ہے، اگر تم اس ٹیڑھی پسلی کو (زبردستی) بالکل سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی، اور اگر اسے یونہی اپنے حامل پر چھوڑ دو گے (اور درست کرنے کی کوشش نہ کرو گے) تو پھر وہ ہمیشہ ویسی ہی ٹیڑھی رہے گی، اس لئے بیویوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں عورتوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے: “فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ” (ان کی تخلیق اور بناوٹ پسلی سے ہوئی ہے) یہ واقعہ کا بیان بھی ہو سکتا ہے اور اس کو محاوراتی تمثیل بھی کہا جا سکتا ہے۔ بہرصورت مقصد و مدعا یہ ہے کہ عورتوں کی جبلت اور سرشت میں کچھ نہ کچھ کجی ہوتی ہے۔ (1) جیسے کہ آدمی کے پہلو کی پسلی میں قدرتی کجی ہوتی ہے۔ آگے فرمایا گیا ہے ک زیادہ کجی اس کے اوپر والے حصے میں ہوتی ہے، یہ غالبا اس طرف اشارہ ہے کہ عورت میں کجی کا زیادہ تر ظہور اوپر کے حصے میں ہوتا ہے جس میں سوچنے والا دماغ اور بولنے والی زبان ہے۔ آگے فرمایا گیا ہے کہ اگر تم ٹیڑھی پسلی کو زور و قوت سے بالکل سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی۔ اور اگر یونہی چھوڑ دو گے تو وہ ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی۔ مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی زبردستی اور تشدد سے عورت کی مزاجی کجی نکالنے کی کوشش کرے گا تو وہ کامیاب نہ ہو سکے گا، بلکہ ہو سکتا ہے کہ افتراق اور علیحدگی کی نوبت آ جائے اور اگر اصلاح کی بالکل فکر نہ کرے گا تو وہ کجی ہمیشہ رہے گی اور کبھی قلبی سکون اور زندگی کی خوشگواری کی وہ دولت حاصل نہ ہو سکے گی جو رشتہ اردواج کا خاص مقصد ہے۔ اس لئے مردوں کو چاہئے کہ وہ عورتوں کی معمولی غلطیوں اور کمزوریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے ساتھ بہتر سلوک اور دلداری کا برتاؤ کریں۔ اس طریقے اسے ان کی اصلاح بھی ہو سکے گی، یہ میری خاص وصیت اور نصیحت ہے۔ اس پر کاربند رہو۔ “اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا” سے آپ نے کالم شروع فرمایا تھا اور خاتمہ کلام پر پھر فرمایا: “فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ” اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کو عورتوں کے ساتھ حسن سلوک اور دلداری کے برتاؤ کا کتنا اہتمام تھا۔
بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يفرك مُؤمن مُؤمنَة، ان كره مِنْهَا خلقا رَضِي مِنْهَا الآخر " (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی ایمان والا شوہر اپنی مومنہ بیوی سے نفرت نہیں کرتا (یا یہ کہ اس کو نفرت نہیں کرنی چاہئے) اگر اس کو کوئی عادت ناپسندیدہ ہو گی تو دوسری کوئی عادت پسندیدہ بھی ہو گی۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر شوہر کو اپنی بیوی کی عادات و اطوار میں کوئی بات مرضی کے خلاف اور ناپسندیدہ معلوم ہو اور اچھی نہ لگے تو اس کی وجہ سے اس سے نفرت اور لاتعلقی کا رویہ اختیار نہ کرے اور نہ طلاق کے بارے میں سوچے، بلکہ اس میں جو خوبیاں ہوں ان پر نگاہ کرے اور ان کی قدر و قیمت کو سمجھے، یہ مومن شوہر کی صفت ایمان کا تقاضا اور مومنہ بیوی کے ایمان کا حق ہے۔ اسی صورتحال کے بارے میں قرآن مجید میں ہدایت دی گئی ہے۔
(وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّـهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا النساء۴:۱۹)
اور بیویوں کے ساتھ مناسب و معقول طریقے سے گزران کرو، اگر وہ تمہیں ناپسند بھی ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو اور اللہ نے اس میں بہت خیر و خوبی رکھی ہو۔
بیویوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کمال ایمان کی شرط
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ. (رواه الترمذى)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: مسلمانوں میں اس آدمی کا ایمان زیادہ کامل ہے جس کا اخلاق برتاؤ (سب کے ساتھ) بہت اچھا ہو (اور خاص کر) بیوی کے ساتھ جس کا رویہ لطف و محبت کا ہو۔ (جامع ترمذی)
بیویوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کمال ایمان کی شرط
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا، أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ» (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں میں زیادہ کامل الایمان وہ ہیں جن کےاخلاق بہتر ہیں اور (واقعہ میں اللہ کی نگاہ میں) تم میں اچھے اور خیر کا زیادہ حامل وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں زیادہ اچھے ہیں۔ (جامع ترمذی)
بیویوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا معیاری اور مثالی برتاؤ
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لأَهْلِي. (رواه الترمذى والدارمى ورواه ابن ماجه عن ابن عباس)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ آدمی تم میں زیادہ اچھا اور بھلا ہے جو اپنی بیوی کے حق میں اچھا ہو۔ (اسی کے ساتھ فرمایا) اور میں اپنی بیویوں کے لیے بہت اچھا ہوں۔ (جامع ترمذی)
(نیز مسند دارمی اور سنن ابن ماجہ مین یہی حدیث حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت کی گئی ہے)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آدمی کی اچھائی اور بھلائی کا خاص معیار اور نشانی یہ ہے کہ اس کا برتاؤ اپنی بیوی کے حق میں اچھا ہو۔ آگے مسلمانوں کے واسطے اپنی اس ہدایت کو زیادہ موثر بنانے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے خود اپنی مثال بھی پیش فرمائی کہ خدا کے فضل سے میں اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہوں۔
واقعہ یہ ہے کہ بیویوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا برتاؤ انتہائی دلجوئی اور دلداری کا تھا، جس کی ایک دو مثالیں آگے درج ہونے والی حدیثوں سے بھی معلوم ہوں گی۔
بیویوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا معیاری اور مثالی برتاؤ
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لِي صَوَاحِبُ يَلْعَبْنَ مَعِي، «فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ يَتَقَمَّعْنَ مِنْهُ، فَيُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ فَيَلْعَبْنَ مَعِي» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس (یعنی نکاح و رخصتی کے بعد آپ ﷺ کے ہاں آ جانے کے بعد بھی) گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میرے ساتھ کھیلنے والی میری کچھ سہیلیاں تھیں (جو ساتھ کھیلنے کے لئے میرے پاس بھی آیا جایا کرتی تھیں) تو جب آنحضرتﷺ گھر میں تشریف لاتے تو وہ (آپ کے اس احترام میں کھیل چھوڑ کے) گھر کے اندر جا چھپتیں تو آپ ﷺ ان کو میرے پاس بھجوا دیتے (یعنی خود فرما دیتے کہ وہ اسی طرح میرے ساتھ کھیلتی رہیں) چنانچہ وہ آ کے پھر میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ صحیح روایات کے مطابق نو سال کی عمر میں آنحضرتﷺ کے گھر آ گئیں تھیں (1) اور اس وقت وہ گڑیوں سے کھیلا کرتی تھیں اور انہیں اس سے دلچسپی تھی۔ صحیح مسلم کی ایک دوسری حدیث میں خود حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا اپنے متعلق یہ بیان ہے: “وَزُفَّتْ إِلَيْهِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، وَلُعَبُهَا مَعَهَا” (یعنی جب ان کی رخصتی ہوئی تو وہ نو سال کی تھیں اور ان کے کھیلنے کی گڑیاں ان کے ساتھ تھیں) صحیحین کی زیرِ تشریح حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں اس کھیل اور تفریحی مشغلہ سے نہ صرف یہ کہ منع فرماتے تھے بلکہ اس بارے میں ان کی اس حد تک دلداری فرماتے تھے کہ جب آپ کے تشریف لانے پر ساتھ کھیلنے والی دوسری بچیاں کھیل چھوڑ کے بھاگتیں تو آپ ﷺ خود ان کو کھیل جاری رکھنے کے لئے فرما دیتے۔ ظاہر ہے کہ بیوی کی دلداری کی یہ انتہائی مثال ہے۔
حضرت عائشہ ؓ گریاں اور تصویر کا مسئلہ
یہاں بعض ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ جب ذی روح کی تصویر بنانا اور اس کا گھر میں رکھنا جائز نہیں اور اس پر صحیح حدیثوں میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت صدیقہؓ کو گڑیوں سے کھیلنے اور گھر میں رکھنے کی اجازت کیوں دی؟ بعض شارحین نے اس کا ایک جواب یہ بھی دیا ہے کہ حضرت عائشہؓ کے گڑیوں سے کھیلنے کا یہ واقعہ ہجرت کے ابتدائی زمانہ کا ہے جب کہ تصویروں کی حرمت کا حکم نہیں آیا تھا، بعد میں جب تصویروں کے بنانے اور رکھنے کی سخت ممانعت کر دی گئی تو گڑیوں کے بنانے اور کھیلنے کی بھی گنجائش نہیں رہی۔ لیکن اس عاجز کے نزدیک زیادہ صحیح جواب یہ ہے کہ حضرت صدیقہ ؓ کی یہ گڑیاں تصویر کے حکم میں داخل ہی نہیں تھیں۔ وہ تو چودہ سو برس پہلے کی بات ہے خود ہمارے اس زمانے میں جب کہ سینے پرونے کے فن نے وہ ترقی کر لی ہے جو معلوم ہے گھروں کی چھوٹی بچیاں اپنے کھیلنے کے لئے جو گڑیاں بناتی ہیں ہم نے دیکھا کہ تصویریت کے لحاظ سے وہ اتنی ناقص ہوتی ہیں کہ ان پر کسی طرھ بھی تصویر کا حکم نہیں لگایا جا سکتا، اس لئے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی گڑیوں کے بارے میں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا۔
حضور ﷺ کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوڑ میں مقابلہ
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَالَتْ: فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ عَلَى رِجْلَيَّ، فَلَمَّا حَمَلْتُ اللَّحْمَ سَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي فَقَالَ: «هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ» (رواه ابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں حضور ﷺ کے ساتھ تھی تو پیدل دوڑ میں ہمارا مقابلہ ہوا تو میں جیت گئی اور آگے نکل گئی، اس کے بعد جب (فربہی سے) میرا جسم بھاری ہو گیا تو (اس زمانہ میں بھی ایک دفعہ) ہمارا دوڑ میں مقابلہ ہوا تو آپ جیت گئے اور آگے نکل گئے، اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا: “یہ تمہاری اس جیت کا جواب ہو گیا”۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
بلا شبہ بیویوں کے ساتھ حسن معاشرت اور ان کا دل خوش کرنے کی یہ بھی نہایت اعلیٰ مثال ہے۔ اور اس میں ان لوگوں کے لئے خاص سبق ہے جن کے نزدیک دین میں اس طرح کی تفریحات کی کوئی جگہ نہیں۔
حضور ﷺ نے حضرت عائشہؓ کو خود کھیل دکھایا
عَنْ عَائِشَةُ قَالَتْ: «وَاللهِ رَأَيْتُ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي، وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ، فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، لِكَيْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ، ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي، حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ، فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ، حَرِيصَةً عَلَى اللهْوِ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے، بیان کرتی ہیں: خدا کی قسم! میں نے یہ منظر دیکھا ہے کہ (ایک روز) حبشی لوگ مسجد میں نیزہ ماری کا کھیل کھیل رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ مجھے ان کا کھیل دکھانے کے لئے میرے لئے اپنی چادر کا پردہ کر کے میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہو گئے (جو مسجد ہی میں کھلتا تھا) میں آپ کے کاندھے اور کان کے درمیان سے ان کا کھیل دیکھتی رہی، آپ میری وجہ سے مسلسل کھڑے رہے، یہاں تک کہ (میرا جی بھر گیا اور) میں خود ہی لوٹ آئی۔ (حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اس واقعہ سے) انداسزہ کرو کہ ایک نو عمر اور کھیل تماشہ سے دلچسپی رکھنے والی لڑکی کا کیا مقام تھا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
ہ واقعہ بھی بیویوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی حسن معاشرت اور ان کی دل جوئی اور دلداری کی انتہائی مثال ہے، اور اس میں امت کے لئے بڑا سبق ہے۔
عید میں لہو و لعب کی بھی گنجائش
البتہ اس سلسلہ میں یہ بات خاص طور سے قابل لحاظ ہے کہ یہ عید کا دن تھا۔ جیسا کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ایک روایت میں اس کی تصریح ہے۔ (1) اور عید میں لہو و لعب کی بھی ایک حد تک گنجائش رکھی ہے، کیوں کہ عوامی جشن و نشاط کا یہ بھی ایک فطری تقاضا ہے۔ صحیحین اور دورسری کتب حدیث میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے یہ واقعہ مروی ہے کہ ایک دفعہ عید کے دن رسول اللہ ﷺ کپڑا اوڑھے آرام فرما رہے گھے، دو بچیاں آئیں اور دَف بجا بجا کر جنگ بُعاث سے متعلق کچھ اشعار گانے لگیں، اتنے میں حضرت ابو بکرؓ آ گئے۔ انہوں نے ان بچیوں کو ڈانٹ کر بھگا دینا چاہا، آنحضرتﷺ نے منہ کھول کر فرمایا: “دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ” (ابو بکر! ان بچیوں کو چھوڑ دو، یعنی جو کر رہی ہیں کرنے دو، یہ عید کا دن ہے) مطلب یہی تھا کہ عید میں اس طرح کے لہو و لعب کی ایک حد تک گنجائش رکھی گئی ہے۔
الغرض کھیل کو دیکھنے کا جو ذکر ہے اس کے بارے میں ایک بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ وہ عید کا دن تھا، اور عید میں اس طرح کی تفریحات کی ایک حد تک گنجائش ہے۔
یہ ایک بامقصد اور تربیتی کھیل تھا، اسی لئے خود حضور ﷺ نے اس میں دلچسپی لی
علاوہ ازیں نیزہ ماری کا یہ کھیل ایک بامقصد کھیل تھا جو فن جنگ کی تعلیم و تربیت کا بھی ایک ذریعہ تھا، غالبا اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے خود بھی اس سے دلچسپی لی۔ صحیحین کی اسی حدیث کی بعض روایات میں ہے کہ آنحضرتﷺ ان کھلاڑیوں کو “دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ” کہہ کر ایک طرح کی داد بھی دیتے اور ان کی ہمت افزائی فرماتے تھے۔ (1)
اور اسی واقعہ سے متعلق صحیحین کی بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ان کھلاڑیوں حبشیوں کو (جو مسجد میں اپنا کھیل دکھا رہے تھے) مسجد سے بھگا دینا چاہا تھا لیکن رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا: “دَعْهُمْ” (یعنی انہیں کھیلنے دو) اور ان کھلاڑیوں سے فرمایا “أَمْنًا بَنِي أَرْفِدَةَ” (یعنی تم بےخوف اور مطمئن ہو کر کھیلو)۔
پردہ کا سوال
اس حدیث کے سلسلہ میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ یہ حبشی لوگ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے لئے یقینا غیر محرم اور اجنبی تھے، پھر انہوں نے ان کا کھیل کیوں دیکھا اور رسول اللہ ﷺ نے کیوں دکھایا؟
بعض شارحین نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ یہ واقعہ اس ابتدائی زمانہ کا ہے جب پردہ کا حکم نازل ہی نہیں ہوا تھا۔ لیکن روایات کی روشنی میں یہ بات صحیح ثابت نہیں ہوتی۔ فتح الباری میں حافظ ابن حجر نے ابن حبان کی روایت سے ذکر کیا ہے کہ یہ واقعہ ۷ھ کا ہے جب کہ حبشہ کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور حجاب کا حکم یقینا اس سے پہلے آ چکا تھا۔ اس کے علاوہ حضرت عائشہ ؓ کی زیر تشریح حدیث میں بھی یہ مذکور ہے کہ جس وقت وہ کھیل دیکھ رہی تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے اپنی چادر مبارک کا پردہ کر دیا تھا، اگر یہ واقعہ حجاب کے حکم سے پہلے کا ہوتا تو اس کی ضرورت نہ ہوتی۔
دوسری بات اس سوال کے جواب میں یہ کہی گئی ہے کہ چونکہ اس کا قطعا کوئی خطرہ نہیں تھا کہ ان حبشیوں کا کھیل دیکھنے کی وجہ سے حضرت صدیقہؓ کے دل میں کوئی بُرا خیال اور وسوسہ پیدا ہو، اس لئے ان کے لئیے یہ دیکھنا جائز تھا۔ اور جب بھی کسی عورت کے لئے ایسی صورت ہو کہ وہ فتنہ اور مفسدہ سے مامون و محفوظ ہو تو اس کے لئے اجنبی کو دیکھنا ناجائز نہیں ہو گا۔ امام بخاریؒ نے صحیح بخاری کتاب النکاح میں اسی حدیث پر “باب النظر الى الحبش ونحوهم من غير ريبة” کا ترجمۃ الباب قائم کر کے اسی جواب کی طرف اشارہ کیا ہے، اور بلاشبہ یہی جواب زیادہ تشفی بخش ہے۔ واللہ اعلم۔
ہمسایوں کے حقوق: پڑوسی کے بارے میں حضرت جبرئیلؑ کی مسلسل وصیت اور تاکید
عَنِ عَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: (اللہ کے خاص قاصد جبرائیل کے پڑوسی کے حق کے بارے میں مجھے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) برابر وصیت اور تاکید کرتے رہے۔ یہاں تک کہ میں خیال کرنے لگا کہ وہ اس کو وارث قرار دے دیں گے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
انسان کا اپنے ماں باپ، اپنی اولاد اور قریبی رشتہ داروں کے علاوہ ایک مستقل واسطہ اور تعلق ہمسایوں اور پڑوسیوں سے بھی ہوتا ہے، اور اس کی خوشگواری اور ناخوشگواری کا زندگی کے چین و سکون پر اور اخلاق کے بناؤ بگاڑ پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیم و ہدایت میں ہمسائیگی اور پڑوس کے اس تعلق کو بڑی عظمت بخشی ہے اور اس کے احترام و رعایت کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ یہاں تک کہ اس کا جزو ایمان اور داخلہ جنت کی شرط اور اللہ و رسول ﷺ کی محبت کا معیار قرار دیا ہے۔ اس سلسلہ میں آپ ﷺ کے مندرجہ ذٰل ارشادات پڑھئے!
تشریح ..... مطلب یہ ہے کہ پڑوسی کے حق اور اس کے ساتھ اکرام و رعایت کا رویہ رکھنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت جبرئیل مسلسل ایسے تاکیدی احکام لاتے رہے کہ مجھے خیال ہوا کہ شاید اس کو وارث بھی بنا دیا جائے گا، یعنی حکم آ جائے گا کہ کسی کے انتقال کے بعد جس طرح اس کے ماں باپ اس کی اولاد اور دوسرے اقارب اس کے ترکہ کے وارث ہوتے ہیں اسی طرح پڑوسی کا بھی اس میں حصہ ہو گا۔ ظاہر ہے کہ اس ارشاد کا مقصد صرف یہ واقعہ بیان نہیں ہے بلکہ پڑوسیوں کے حق کی اہمیت کے اظہار کے لئے یہ ایک نہایت موثر اور بلیغ ترین عنوان ہے۔
پڑوسیوں کے ساتھ اچھا رویہ اللہ و رسول ﷺ کی محبت کی شرط اور اس کا معیار
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ يَوْمًا فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَتَمَسَّحُونَ بِوَضُوئِهِ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَذَا؟ " قَالُوا: حُبُّ اللهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحِبَّ اللهَ وَرَسُولَهُ، أَوْ يُحِبَّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ فَلْيَصْدُقْ حَدِيثَهُ إِذَا حَدَّثَ، وَلْيُؤَدِّ أَمَانَتَهُ إِذَا ائْتُمِنَ، وَلْيُحْسِنْ جِوَارَ مَنْ جَاوَرَهُ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
عبدالرحمن بن ابی قراد ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا تو صحابہؓ آپ ﷺ کے وضو کا استعمال شدہ پانی لے لے کر اپنے پر ملنے لگے۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا کہ: تمہارے لئے اس کا کیا باعث اور محرک ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ: بس اللہ و رسول ﷺ کی محبت! آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:“جس کی یہ خوشی اور چاہت ہو کہ اس کو اللہ اور رسول کی محبت نصیب ہو یا یہ کہ اس سے اللہ اور رسول کو محبت ہو تو اسے چاہئے کہ وہ ان تین باتوں کا اہتمام کرے:
۱۔ بات کرے تو سچ بوے، ۲۔ کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو امانتداری کے ساتھ اس کو ادا کرے اور ۳۔ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا رویہ رکھے”۔ (شعب الایمان للبیہقی)
پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ لازمہ ایمان
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ العَدَوِيِّ، قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ، وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ، حِينَ تَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ» وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو شریح عدوی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے کانوں سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد سنا اور جس وقت آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے اس وقت میری آنکھیں آپ ﷺ کو دیکھ رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے لازم ہے کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اکرام کا معاملہ کرے اور جو اللہ پر یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے لازم ہے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور جو اللہ پر یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے لازم ہے کہ اچھی بات بولے یا پھر چپ رہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
(یہی مضمون قریب قریب انہی الفاظ میں صحیح بخاری و صحیح مسلم ہی میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے بھی روایت کیا گیا ہے)۔
وہ آدمی مومن اور جنتی نہیں جس کے پڑوسی اس سے مامون اور بے خوف نہ ہوں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ» ، قِيْلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الَّذِىْ الْجَارُ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا کہ: خدا کی قسم! وہ شخص مومن نہیں، خدا کی قسم! اس میں ایمان نہیں،خدا کی قسم! وہ صاحب ایمان نہیں۔ عرض کیا گیا “یا رسول اللہ! کون شخص؟ ” (یعنی حضور صﷺ کس بدنصیب شخص کے بارے میں قسم کے ساتھ ارشاد فرما رہے ہیں کہ وہ مومن نہیں، اور اس میں ایمان نہیں؟) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:“وہ آدمی جس کے پڑوسی اس کی شرارتوں اور مفسدہ پروازیوں سے مامون اور بےخوف نہ ہوں۔” (یعنی ایسا آدمی ایمان سے محروم ہے) (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
(یہ حدیث قریب قریب انہی الفاظ میں حضرت طلق بن علیؓ سے طبرانی نے معجم کبیر میں اور حضرت انسؓ سے حاکم نے مستدرک میں روایت کی ہے)۔
تشریح
حدیث کے الفاظ میں غور کر کے ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد کیسے جلال سے معمور ہے، اور جس وقت آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہو گا اس وقت آپ ﷺ کا حال اور آپ ﷺ کے خطاب کا انداز کیا رہا ہو گا۔ بہرحال اس پُرجلال ارشاد کا مدعا اور پیغام یہی ہے کہ ایمان والوں کے لئے لازم ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ ان کا برتاؤ اور رویہ ایسا شریفانہ رہے کہ وہ ان کی طرف سے بالکل مطمئن اور بےخوف رہیں ان کے دلوں و دماغوں میں بھی ان کے بارے میں کوئی اندیشہ اور خطرہ نہ ہو۔ اگر کسی مسلمان کا یہ حال نہیں ہے، اور اس کے پڑوسی اس سے مطمئن نہیں ہیں تو رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اسے ایمان کا مقام نصیب نہیں ہے۔
وہ آدمی مومن اور جنتی نہیں جس کے پڑوسی اس سے مامون اور بے خوف نہ ہوں
عَنْ اَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» (رواه مسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“وہ آدمی جنت میں داخل نہ ہو سکے گا جس کی شرارتوں اور ایذاء رسانیوں سے اس کے پڑوسی مامون نہ ہوں ”۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کا کردار اور رویہ ایسا ہو کہ اس کے پڑوسی اس کی شرارتوں اور بداطواریوں سے خائف رہتے ہوں وہ اپنی اس بدکرداری کی وجہ سے اور اس کی سزا پائے بغیر جنت میں نہ جا سکے گا۔ ان دو حدیثوں سے سمجھا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و ہدایت میں ہمسائیوں کے ساتھ حسن سلوک کا کیا درجہ اور مقام ہے۔ نبوت کی زبان میں کسی عمل کی سخت تاکید اور دین میں اس کی انتہائی اہمیت جتانے کے لئے آخری تعبیر یہی ہوتی ہے کہ اس میں کوتاہی کرنے والا مومن نہیں یا یہ کہ وہ جنت میں نہ جا سکے گا۔ افسوس یہ ہے کہ اس طرح کی حدیثیں ہمارے علمی اور درسی حلقوں میں اب کلامی بحثوں اور علمی موشگافیوں کا موضوع بن کر رہ گئی ہیں، شاذ و نادر ہی اللہ کے وہ خوش نصیب بندے ہوں گے جو یہ حدیثیں پڑھ کر اور سن کر زندگی کے اس شعبہ کو درست کرنے کی فکر میں لگ جائیں، حالانکہ حضور ﷺ کے ان ارشادات کا مقصد و مدعا یہی ہے۔ یہ حدیثیں پڑھنے اور سننے کے بعد بھی پڑوسیوں کے ساتھ برتاؤ اور رویہ کو بہتر اور خوشگوار بنانے کی فکر نہ کرنا بلاشبہ بری شقاوت اور بدبختی کی نشانی ہے۔
اسی سلسلہ “معارف الحدیث” کی پہلی جلد “کتاب الایمان” میں تفصیل سے لکھا جا چکا ہے کہ اس طرح کی حدیثیں جن میں کسی عملی یا اخلاقی تقصیر اور کوتاہی کی بناء پر ایمان کی نفی کی گئی ہے یا جنت میں نہ جا سکنے کی وعید سنائی گئی ہے ان کا مدعا اور مطلب کیا ہے اور شریعت میں ایسے لوگوں کا حکم کیا ہے۔
وہ شخص مومن نہیں جو پیٹ بھر کے سو جائے اور اس کا پڑوسی بُھوکا ہو
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا آمَنَ بِي مَنْ بَاتَ شَبْعَانَ وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَى جَنْبِهِ وَهُوَ يَعْلَمُ بِهِ» (رواه البزار والطبرانى فى الكبير)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ آدمی مجھ پر ایمان نہیں لایا (اور وہ میری جماعت میں نہیں ہے) جو ایسی حالت میں اپنا پیٹ بھر کے رات کو (بےفکری سے) سو جائے کہ اس کے برابر والا اس کا پڑوسی بھوکا ہو، اور اس آدمی کو اس کے بھوکے ہونے کی خبر ہو۔ (مسند بزار، معجم کبیر للطبرانی)
تشریح
(یہی مضمون قریب قریب انہی الفاظ میں امام بخاری نے “الادب المفرد” میں اور بیہقی نے “شعب الایمان” میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے اور حاکم نے “مستدرک” میں ان کے علاوہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے بھی روایت کیا ہے)
ف ..... افسوس! ہم مسلمانوں کے طرز عمل اور رسول اللہ ﷺ کے ان ارشادات میں اتنا بعد اور فاصلہ ہو گیا ہے کہ کسی ناواقف کو اس بات کا یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ تعلیم اور ہدایت مسلمانوں کے پیغمبر ﷺ کی ہو سکتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان ارشادات میں اعلان فرما دیا ہے کہ جو شخص اپنے پڑوسیوں کے بھوک پیاس کے مسئلوں اور اسی طرح کی دوسری ضرورتوں سے بےفکر اور بےنیاز ہو کر زندگی گزارے وہ مجھ پر ایمان نہیں لایا اس نے میری بات بالکل نہیں مانی اور وہ میرا نہیں ہے۔ یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ ان تمام حدیثوں میں مسلم اور غیر مسلم پڑوسیوں کی کوئی تخصیص نہیں کی گئی ہے، بلکہ آگے درج ہونے والی بعض حدیثوں سے معلوم ہو گا کہ یہ سارے حقوق غیر مسلم پڑوسیوں کے بھی ہیں۔
ہم سائیگی کے بعض متعین حقوق
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَقُّ الْجَارِ إِنْ مَرِضَ عُدْتَهُ، وَإِنْ مَاتَ شَيَّعْتَهُ، وَإِنِ اسْتَقْرَضَكَ أَقْرَضْتَهُ، وَإِنْ أَعْوَزَ سَتَرْتَهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ هَنَّأْتَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ عَزَّيْتَهُ، وَلَا تَرْفَعْ بِنَاءَكَ فَوْقَ بِنَائِهِ فَتَسُدَّ عَلَيْهِ الرِّيحَ، وَلَا تُؤْذِهِ بِرِيحِ قِدْرِكَ إِلَّا أَنْ تَغْرِفَ لَهُ مِنْهَا» (رواه الطبرانى فى الكبير)
معاویہ بن حیدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پڑوسی کے حقوق تم پر یہ ہیں کہ اگر وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت اور خبر گیری کرو اور اگر انتقال کر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جاؤ (اور تدفین کے کاموں میں ہاتھ بٹاؤ) اور وہ (اپنی ضرورت کے لئے) قرض مانگے تو بشرط استطاعت) اس کو قرض دو اور اگر وہ کوئی برا کام کر بیٹھے تو پردہ پوشی کرو اور اگر اسے کوئی نعمت ملے تو اس کو مبارک باد دو اور اگر کوئی مصیبت پہنچے تو تعزیت کرو، اور اپنی عمارت اس کی عمارت سے اس طرح بلند نہ کرو کہ اس کے گھر کی ہوا بند ہو جائے اور (جب تمہارے گھر کوئی اچھا کھانا پکے تو اس کی کوشش کرو کہ) تمہاری ہانڈی کی مہک اس کے لئے (اور اس کے بچوں کے لئے) باعث ایذاء نہ ہو (یعنی اس کا اہتمام کرو کہ ہانڈی کی مہک اس کے گھر تک نہ جائے) الا یہ کہ اس میں سے تھوڑا سا کچھ اس کے گھر بھی بھیج دو (اس صورت میں کھانے کی مہک اس کے گھر تک جانے میں کوئی مضائقہ نہیں) (معجم کبیر للطبرانی)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے پڑوسیوں کے بعض متعین حقوق کی نشان دہی بھی فرمائی ہے ان سے اس باب میں شریعت کا اصولی نقطہ نظر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
تشریح ..... اس حدیث میں ہمسایوں کے جو متعین حقوق بیان کئے گئے ہیں ان میں سے آخری دو خاص طور سے قابل غور ہیں: ایک یہ کہ اپنے گھر کی تعمیر میں اس کا لحاظ رکھو اور اس کی دیواریں اس طرح نہ اُٹھاؤ کہ پڑوسی کے گھر کی ہوا بند ہو جائے اور اس کو تکلیف پہنچے۔ اور دوسرے یہ کہ گھر میں جب کوئی اچھی مرغوب چیز پکے تو اس کو نہ بھولو کہ ہانڈی کی مہک پڑوسی کے گھر تک جائے گی، اور اس کے یا اس کے بچوں کے دل میں اس کی طلب اور طمع پیدا ہو گی جو ان کے لئے باعث ایذاء ہو گی۔ اس لئے یا تو اپنے پر لازم کر لو کہ اس کھانے میں سے کچھ تم پڑوسی کے گھر بھیجو گے یا پھر اس کا اہتمام کرو کہ ہانڈی کی مہک پڑوسی کے گھر تک نہ جائے جو ظاہر ہے کہ مشکل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ان دو ہدایتوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پڑوسیوں کے بارے مٰں کتنے نازک اور باریک پہلوؤں کی رعایت کو آپ ﷺ نے ضروری قرار دیا ہے۔
قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث ابن عدی نے “کامل ” میں اور خرائطی نے “مکارم الاخلاق” میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے بھی روایت کی ہے۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے:
وَإِنِ اشْتَرَيْتَ فَاكِهَةً فَأَهْدِ لَهُ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَأَدْخِلْهَا سِرًّا، وَلَا يَخْرُجْ بِهَا وَلَدُكَ لِيَغِيظَ بِهِ وَلَدَهُ. (كنز العمال)
اور اگر تم کوئی پھل پھلار خرید کر لاؤ، تو اس میں سے پڑوسی کے ہاتھ بھی ہدیہ بھیجو اور اگر ایسا نہ کر سکو تو اس کو چھپا کے لاؤ) کہ پڑوس والوں کو خبر نہ ہو، اور اس کی بھی احتیاط کرو کہ) تمہارا کوئی بچہ وہ پھل لے کر گھر سے باہر نہ نکلے کہ پڑوسی کے بچے کے دل میں اسے دیکھ کر جلن پیدا ہو۔
اللہ تعالیٰ امت کوتوفیق دے کہ وہ اپنے رسول اللہ ﷺ کی ان ہدایتوں کی قدر و قیمت کو سمجھیں اور اپنی زندگی فکا معمول بنا کر ان کی بیش بہا برکات کا دنیا ہی میں تجربہ کریں۔
ہم سائیگی کے بعض متعین حقوق
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا طَبَخَ أَحَدُكُمْ قِدْرًا فَلْيُكْثِرْ مَرَقَهَا ثُمَّ لْيُنَاوِلْ جَارَهُ مِنْهَا» (رواه الطبرانى فى الاوسط)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کے ہاں سالن کی ہانڈی پکے تو اسے چاہئے کہ شوربہ زیادہ کر لے، پھر اس میں سے کچھ پڑوسیوں کو بھی بھیج دے۔ (معجم اوسط للطبرانی)
(رسول اللہ ﷺ کی یہ ہدایت قریب قریب انہی الفاظ میں جامع ترمذی وغیرہ میں حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے)۔