Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 73 of 106

1441Maarif-ul-Hadith

پڑوسی کی تین قسمیں ، غیر مسلم پڑوسی کا بھی حق ہے

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْجِيرَانُ ثَلَاثَةٌ: فَجَارٌ لَهُ حَقٌّ وَاحِدٌ، وَهُوَ اَدْنَى الْجِيْرَانِ حَقًّا وَجَارٌ لَهُ حَقَّانِ، وَجَارٌ لَهُ ثَلَاثَةُ حُقُوقٍ، فَأَمَّا الَّذِي لَهُ حَقٌّ وَاحِدٌ فَجَارٌ مُشْرِكٌ لا رَحِمَ لَهُ، لَهُ حَقُّ الْجِوَارِ، وَأَمَّا الَّذِي لَهُ حَقَّانِ: فَجَارٌ مُسْلِمٌ، لَهُ حَقُّ الإِسْلامِ وَحَقُّ الْجِوَارِ، وَأَمَّا الَّذِي لَهُ ثَلاثَةُ حُقُوقٍ: فَجَارٌ مُسْلِمٌ ذُو رَحِمٍ، لَهُ حَقُّ الإِسْلامِ، وَحَقُّ الْجِوَارِ، وَحَقُّ الرَّحِمِ ". (رواه البزار فى المسند وابى نعيم فى الحلية)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پڑوسی تین قسم کے اور تین درجے کے ہوتے ہیں ایک وہ پڑوسی جس کا صرف ایک ہی حق ہو اور وہ (حق کے لحاظ سے) سب سے کم درجہ کا پڑوسی ہے، اور دوسرا وہ پڑوسی جس کے دو حق ہوں اور تیسرا وہ جس کے تین حق ہوں۔ تو ایک حق والا وہ مشرک (غیر مسلم) پڑوسی ہے جس سے کوئی رشتہ داری بھی نہ ہو (تو اس کا صرف پڑوسی ہونے کا حق ہے) اور دو حق والا وہ پڑوسی ہے، جو پڑوسی ہونے کے ساتھ مسلم (یعنی دینی بھائی) بھی ہو، اس کا ایک حق مسلمان ہونے کی وجہ سے ہو گا اور دوسرا پڑوسی ہونے کی وجہ سے اور تین حق والا پڑوسی وہ ہے، جو پڑوسی بھی ہو، مسلم بھی ہو اور رشتہ دار بھی ہو۔ تو اس کا ایک حق مسلمان ہونے کا ہو گا دوسرا حق پڑوسی ہونے کا اور تیسرا رشتہ داری کا ہو گا۔ (مسند بزار، حلیہ ابی نعیم) تشریح اس حدیث میں صراحت اور وضاحت فرما دی گئی ہے کہ پڑوسیوں کے جو حقوق قرآن و حدیث میں بیان فرمائے گئے اور ان کے اکرام اور رعایت و حسنِ سلوک کی جو تاکید فرمائی گئی ہے ان میں غیر مسلم پڑوسی بھی شامل ہیں اور ان کے بھی وہ سب حقوق ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ کی تعلیم سے یہی سمجھا۔ جامع ترمذی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کے متعلق روایت کیا گیا ہے کہ ایک دن ان کے گھر بکری ذبح ہوئی وہ تشریف لائے تو انہوں نے گھر والوں سے کہا: أَهْدَيْتُمْ لِجَارِنَا اليَهُودِيِّ؟ أَهْدَيْتُمْ لِجَارِنَا اليَهُودِيِّ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ. تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے لئے بھی گوشت کا ہدیہ بھیجا َ؟ تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے لئے بھی بھیجا؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے کہ پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کے بارے میں مجھے جبرئیل (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) برابر وصیت اور تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ اس کو وارث بھی قرار دے دیں گے۔ افسوس کہ عہد نبویﷺ سے جتنا بعد ہوتا گیا امت آپ ﷺ کی تعلیمات اور ہدایات سے اسی قدر دور ہوتی چلی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے پڑوسیوں کے بارے میں جو وصیت اور تاکید امت کو فرمائی تھی اگر صحابہ کرامؓ کے بعد بھی اس پر امت کا عمل رہا ہوتا تو یقینا آج دنیا کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو توفیق دے کہ آنحضرتﷺ کی تعلیم و ہدایت کی قدر و قیمت سمجھیں اور اس کو اپنا دستور العمل بنائیں۔

1442Maarif-ul-Hadith

تعلیم و تربیت کا اہتمام بھی پڑوسی کا حق ہے

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ جده: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ لا يفقهون جيرانهم ولا يعلمونهم ولا يعظونهم ولا يامرونهم ومَا بَالُ أَقْوَامٍ لا يتعلمون جيرانهم ولا يتفقهون ولا يتعظون والله ليعلمن قوم جيرانهم ويفقهونهم ويعظونهم ويامرونهم وينهونهم وليتعلمن قوم من جيرانهم ويتفقهون ويتعظون ولاعاجلنهم بالعقوبة فى الدنيا. (رواه ابن راهويه والبخارى فى الوحدان وابن السكن وابن مدة)

علقمہ بن عبدالرحمن بن ابزی نے اپنے والد عبدالرحمن کے واسطے سے اپنے دادا ابزی خزاعی ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن (اپنے ایک خاص خطاب میں) اراشاد فرمایا: کیا ہو گیا ہے ان لوگوں کو اور کیا حال ہے ان کا (جنہیں اللہ نے علم و تفقہ کی دولت سے نوازا ہے اور ان کے پڑوس میں ایسے پسماندہ لوگ ہیں جن کے پاس دین کا علم اور اس کی سمجھ بوجھ نہیں ہے) وہ اپنے ان پڑوسیوں کو دین سکھانے اور ان میں دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں، نہ ان و وعظ و نصیحت کرتے ہیں۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ اور کیا ہو گیا ہے ان (بےعلم اور پسماندہ) لوگوں کو کہ وہ اپنے پڑوسیوں سے دین سیکھنے اور دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرنے کی فکر نہیں کرتے نہ ان سے نصیحت لیتے ہیں۔ خدا کی قسم! (دین کا علم اور اس کی سمجھ رکھنے والے) لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے (ناواقف اور پسماندہ) پڑوسیوں کو دین سکھانے اور دین کی سمجھ بوجھ ان میں پیدا کرنے کی کوشش کریں اور وعظ و نصیحت (کے ذریعہ ان کی اصلاح) کریں اور انہیں نیک کاموں کی تاکید اور برے کاموں سے منع کریں اور اسی طرح ان کے ناواقف اور پسماندہ پڑوسیوں و چا ہئے کہ وہ خود طالب بن کر اپنے پڑوسیوں سے دین کا علم و فہم حاصل کریں اور ان سے نصیحت لیں۔ یا پھر (یعنی اگر یہ دونوں طبقے اپنا اپنا فرض ادا نہیں کریں گے) تو میں ان کو دنیا ہی میں سخت سزا دوں گا۔ (مسند اسحاق بن راہویہ) تشریح پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے جو ارشادات یہاں تک درج ہوئے ان کا زیادہ تر تعلق زندگی کے معاملات میں ان کے ساتھ اکرام و رعایت کے برتاؤ اور حسن سلوک سے تھا۔ آخر میں آپ ﷺ کا ایک وہ ارشاد بھی پڑھئے جس میں ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اگر کسی کے پڑوس میں بےچارے ایسے لوگ رہتے ہوں جو دینی تعلیم و تربیت اور اپنی عملی اور اخلاقی حالت کے لحاظ سے پسماندہ ہوں تو دوسرے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت اور اور ان کے سدھار و اصلاح کی فکر و کوشش کریں اور اگر وہ اس میں کوتاہی کریں تو مجرم اور سزا کے مستحق ہوں گے۔ تشریح ..... یہ حدیث کنز العمال جلد پنجم میں “حق الجار” کے زیر عنوان اسی طرح مرکوز ہے۔ جس طرح یہاں درج کی گئی ہے، لیکن دوسری جگہ اسی کنز العمال میں حضور و کا یہی خطاب قریب قریب انہی الفاظ میں اس اضافہ کے ساتھ مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا روئے سخن اس خطاب میں ابو موسیٰ اشعری اور ابو مالک اشعری کی قوم اشعریین کی طرف تھا۔ اس قوم کے افراد عام طور سے دین کے علم اور تفقہ سے بہرہ مند تھے لیکن ان ہی کے علاقہ میں اور ان کے پڑوس میں ایسے لوگ بھی آباد تھے جو اس لحاظ سے بہت پسماندہ تھے، نہ ان کی تعلیم و تربیت ہوئی تھی اور نہ خود ان می ں اس کی طلب اور فکر تھی۔ اس لحاظ سے یہ دونوں طبقے قصور وار تھے، اس بناء پر رسول اللہ ﷺنے اپنے کریمانہ عادت کے مطابق ان کو نامزد کئے بغیر اپنے اس خطاب میں ان دونوں پر عتاب فرمایا تھا۔ اس روایت میں آگے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جب اشعریین کو یہ معلوم ہوا کہ اس خطاب میں حضور ﷺ کے عتاب کا روئے سخن ہماری طرف تھا تو ان کا ایک وفد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اور انہوں نے حضور ﷺ سے یہ وعدہ کیا کہ ہم ان شاء اللہ ایک سال کے اندر اندر ان آبادیوں کے لوگوں کو دین کی تعلیم دے دیں گے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر علاقہ کے لوگوں کو جو دین کا علم رکھتے ہوں اس کا ذمہ دار قرار دیا کہ وہ اپنے پاس پڑوس کے ناواقف لوگوں کو دین کی تعلیم دیں اور تبلیغ اور وعظ و نصیحت کے ذریعہ ان ی اصلاح کی کوشش کرتے تہیں۔ اور اس طرح ناواقف لوگوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے کہ وہ اپنے پاس پڑوس کے اہل علم اور اہل دین سے تعلیم اور تربیت و اصلاح کا رابطہ رکھیں۔ اگر رسول اللہ ﷺ کی اس ہدایت پر عمل جاری رہتا تو امت کے کسی طبقہ میں بھی دین سے بےخبری اور رسول اللہ ﷺ سے وہ بےتعلقی نہ ہوتی جس میں امت کی غالب اکثریت آج مبتلا ہے۔ بلاشبہ اس وقت کا سب سے بڑا اصلاحی اور تجدیدی کارنامہ یہی ہے کہ امت میں تعلیم اور تعلم کے اس عمومی غیر رسمی نظام کو پھر سے جاری اور قائم کیا جائے جس کی اس حدیث پاک میں ہدایت فرمائی گئی ہے۔ بڑے خوش نصیب ہوں گے وہ بندے جن کو اس کی توفیق ملے گی۔

1443Maarif-ul-Hadith

کمزور اور حاجت مند طبقوں کے حقوق: مسکینوں ، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت و سرپرستی

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالمِسْكِينِ، كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَحْسِبُهُ قَالَ «كَالقَائِمِ لاَ يَفْتُرُ، وَكَالصَّائِمِ لاَ يُفْطِرُ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی بےچاری بےشوہر والی عورت یا کسی مسکین حاجت مند کے لئے دوڑ دھوپ کرنے والا بندہ (اللہ کے نزدیک اور اجر و ثواب میں) راہ خدا میں جہاد کرنے والے بندے کے مثل ہے۔ اور میرا گمان ہے کہ یہ بھی فرمایا تھا کہ اس قائم اللیل (یعنی شب بیدار) بندے کی طرح جو (عبادت اور شب خیزی میں) سستی نہ کرتا ہو اور اس صائم الدہر بندے کی طرح ہے جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہو کبھی ناغہ نہ کرتا ہو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح یہاں تک جن طبقوں کے حقوق کا بیان کیا گیا یہ سب وہ تھے جن سے آدمی کا کوئی خاص تعلق اور واسطہ ہوتا ہے خواہ نسلی اور خونی رشتہ ہو یا ازدواجی رابطہ، یا ہمسائیگی اور پڑوس کا تعلق یا عارضی اور وقتی سنگھ ساتھ۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کی تعلیم میں ان کے علاوہ تمام طبقوں اور ہر طرح کے حاجت مندوں، یتیموں، بیواؤں، غریبوں، مسکینوں، مظلوموں، آفت رسیدوں اور بیماروں وغیرہ کا بھی حق مقرر کیا گیا ہے اور آپ ﷺ نے اپنے پیروؤں کو ان کی خدمت و خبر گیری اور ہمدردی و معاونت کی تلقین و تاکید فرمائی ہے اور اس کو اعلیٰ درجہ کی نیکی قرار دے کر اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑے بڑے انعامات کی بشارت سنائی ہے۔ ان سے طبقوں سے متعلق رسول اللہ ﷺ کے چند ارشادات ذیل میں پڑھئے۔ شریح ..... ہر شخص جو دین کی کچھ بھی واقفیت رکھتا ہے، جانتا ہے کہ راہِ خدا میں جہاد و جانبازی بلند ترین عمل ہے، اسی طرح کسی بندے کا یہ حال کہ اس کی راتیں عبادت میں کٹتی ہوں اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھتا ہو، بڑا ہی قابلِ رشک حال ہے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا ہے کہ اللہ کے نزدیک یہی درجہ اور مقام ان لوگوں کا بھی ہے جو کسی حاجت مند مسکین یا کسی ایسی لاوارث عورت کی خدمت و اعانت کے لئے جس کے سر پر شوہر کا سایہ نہ ہو دورڑ دھوپ کریں، جس کی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ خود محنت کر کے کمائیں اور ان پر خرچ کریں، اور یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دوسرے لوگوں کو ان کی خبر گیری اور اعانت کی اطراف متوجہ کرنے کے لئے دوڑ دھوپ کریں۔ بلاشبہ وہ بندے بڑے محروم ہیں جو اس حدیث کے علم میں آ جانے کے بعد اس سعادت سے محرورم رہیں۔

1444Maarif-ul-Hadith

کمزور اور حاجت مند طبقوں کے حقوق: مسکینوں ، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت و سرپرستی

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا وَكَافِلُ اليَتِيمِ لَهُ اَوْ لِغَيْرِهِ فِي الجَنَّةِ هَكَذَا وَأَشَارَ السَّبَّابَةَ وَالوُسْطَى وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا شَيْئًا. (رواه البخارى)

حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: میں اور اپنے یا پرائے یتیم کی کفالت کرنے والا آدمی جنت میں اس طرح (قریب قریب) ہوں گے اور آپ ﷺ نے اپنی انگشت شہادت اور بیچ والی انگلی سے اشارہ کر کے بتلایا، اور ان کے درمیان تھوڑی سی کشادگی رکھی۔ (صحیح بخاری) تشریح مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی کلمہ والی انگلی اور اس کے برابر کی بیچ والی انگلی اس طرح اٹھا کر ان کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا، بتلایا کہجتنا تھوڑا سا فاصلہ اور فرق تم میری ان دو انگلیوں کے درمیان دیکھتے ہو بس اتنا ہی فاصلہ اور فرق جنت میں میرے اور اس مردِ مومن کے مقام میں ہو گا جو اللہ کے لئے اس دنیا میں کسی یتیم کی کفالت اور پرورش کا بوجھ اٹھائے خواہ وہ یتیم اس کا اپنا ہو (جیسے پوتا یا بھتیجا وغیرہ) یا پرایا ہو یعنی جس کے ساتھ رشتہ داری وغیرہ کا کوئی خاص تعلق نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ان حقیقتوں پر یقین نصیب فرمائے اور وہ سعادت میسر فرمائے جس کی رسول اللہ ﷺ نے ان ارشادات میں ترغیب دی ہے۔

1445Maarif-ul-Hadith

کمزور اور حاجت مند طبقوں کے حقوق: مسکینوں ، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت و سرپرستی

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَبَضَ يَتِيمًا مِنْ بَيْنِ الْمُسْلِمِينَ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الجَنَّةَ الْبَتَّةَ إِلاَّ أَنْ يَعْمَلَ ذَنْبًا لاَ يُغْفَرُ لَهُ. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ کے جس بندے نے مسلمانوں میں سے کسی یتیم بچے کو لے لیا اور اپنے کھانے پینے میں شریک کر لیا تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور بالضرور جنت میں داخل کر دے گا۔ الا یہ اس نے کوئی ایسا جرم کیا ہو جو ناقابلِ معافی ہو۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ یتیم کی کفالت و پرورش پر داخلہ جنت کا قطعی بشارت اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ آدمی کسی ایسے سخت گناہ کا مرتکب نہ ہو جو اللہ کے نزدیک ناقابل معافی ہو (جیسے شرک و کفر اور کونِ ناحق وغیرہ) دراصل یہ شرط اس طرح کی تمام تبشیریں حدیثوں میں ملھوظ ہوتی ہے، اگرچہ الفاظ میں مذکور نہ ہو۔ بہرحال اس طرح کی تمام ترغیبی اور تبشیری حدیثوں میں بطور قاعدہ کلیہ کے اس کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔

1446Maarif-ul-Hadith

کمزور اور حاجت مند طبقوں کے حقوق: مسکینوں ، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت و سرپرستی

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَسَحَ رَأْسَ يَتِيمٍ لَمْ يَمْسَحْهُ إِلَّا لِلَّهِ كَانَ لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ يَمُرُّ عَلَيْهَا يَدُهُ حَسَنَاتٌ، وَمَنْ أَحْسَنَ إِلَى يَتِيمَةٍ أَوْ يَتِيمٍ عِنْدَهُ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ وَقَرَنَ بَيْنَ إِصْبُعَيْهِ» (رواه احمد والترمذى)

حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جس شخص نے کسی یتیم کے سر پر صرف اللہ کے لئے ہاتھ پھیرا تو سر کے جتنے بالوں پر اس کا ہاتھ پھرا تو ہر ہر بال کے حساب سے اس کی نیکیاں ثابت ہوں گی، اور جس نے اپنے پاس رہنے والی کسی یتیم بچی یا یتیم بچے کے ساتھ بہتر سلوک کیا تو میں اور وہ آدمی جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب ہوں گے اور آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر بتایا اور دکھایا (کہ ان دو انگلیوں کی طرح بالکل پاس پاس ہوں گے) (مسند احمد، جامع ترمذی) تشریح اس حدیث سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوا کہ یتیموں کے ساتھ حسن سلوک پر جو روح پرور بشارت اس حدیث میں سنائی گئی ہے وہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ یہ حسنِ سلوک خالصاً لوجہ اللہ ہو۔ اس کو بھی قاعدہ کلیہ کی طرح اس کی تمام ترغیبی اور تبشیری حدیثوں میں ملحوظ رکھنا چاہئے۔

1447Maarif-ul-Hadith

کمزور اور حاجت مند طبقوں کے حقوق: مسکینوں ، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت و سرپرستی

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ، وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ» (رواه ابن ماجه)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کے گھرانوں میں بہترین گھرانہ وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو، اور مسلمانوں کے گھروں میں بدترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے۔ (سنن ابن ماجہ)

1448Maarif-ul-Hadith

کمزور اور حاجت مند طبقوں کے حقوق: مسکینوں ، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت و سرپرستی

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهِ، فَقَالَ: «امْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ، وَأَطْعِمِ الْمِسْكِينَ» (رواه احمد)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی قساوتِ قلبی اور سخت دلی کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ:یتیموں کے سر پر (پیار کا) ہاتھ پھیرا کرو اور مسکینوں حاجت مندوں کو کھانا کھلایا کرو۔ (مسند احمد) تشریح یتیموں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ پھیرنا اور مسکینوں حاجت مندوں کو کھانا کھلانا دراصل وہ اعمال ہیں جو جو دل کی درد مندی اور ترحم کے جذبہ سے صادر ہوتے ہیں، لیکن اگر کسی کا دل دردمندی اور جذبہ ترحم سے خالی ہو اور اس کے بجائے اس میں قساوت ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ وہ عزت اور قوت ارادی سے کام لے کر یہ اعمال کرے، ان شاء اللہ اس کے دل کی قساوت دردمندی سے بدل جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں اسی طریق علاج کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔

1449Maarif-ul-Hadith

محتاجوں ، بیماروں اور مصیبت زدوں کی خدمت و اعانت

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً، فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ القِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ القِيَامَةِ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے (اس لئے) نہ تو خود اس پر ظلم و زیادتی کرے نہ دوسروں کا مظلوم بننے کے لئے اس کو بے یارو مددگار چھوڑے اور جو کوئی اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی کرے گا اور جو کسی مسلمان کی تکلیف اور مصیبت کو دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مصیبتوں میں سے اس کی کسی مصیبت کو دور کرے گا اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ دری کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ دری کرے گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

1450Maarif-ul-Hadith

محتاجوں ، بیماروں اور مصیبت زدوں کی خدمت و اعانت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ القِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ فِي الدُّنْيَا يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ فِي الدُّنْيَا سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ العَبْدِ مَا كَانَ العَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ. (رواه ابوداؤد والترمذى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی مسلمان کی کوئی دنیوی تکلیف اور پریشانی دور کرے گا اللہ تعالیٰ (س کے عوض) قیامت کے دن کی تکلیف اور پریشانی سے اس کو نجات دے گا اور (جو قرض خواہ اپنے) کسی مقروض کو (اپنے قرضے کی وصولی کے سلسلے میں) سہولت دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت میں سہولت دے گا اور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو کوئی بندہ جب تک اپنے کسی بھائی کی مدد و اعانت کرتا رہے گا اللہ تعالیٰ اس کی مدد و اعانت کرتا رہے گا۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)

1451Maarif-ul-Hadith

محتاجوں ، بیماروں اور مصیبت زدوں کی خدمت و اعانت

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَامُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا عَلَى عُرْيٍ، كَسَاهُ اللَّهُ مِنْ خُضْرِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَطْعَمَ مُسْلِمًا عَلَى جُوعٍ، أَطْعَمَهُ اللَّهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ سَقَى مُسْلِمًا عَلَى ظَمَإٍ، سَقَاهُ اللَّهُ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ» (رواه ابوداؤد والترمذى)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان کسی مسلمان کو عریانی کی حالت میں کپڑے پہنائے اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے سبز جوڑے عطا فرمائے گا اور جو مسلمان کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلائے اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھل اور میوے کھلائے گا اور جو مسلمان کسی مسلمان کو پیاس کی حالت میں اپنی (یا کوئی مشروب) پلائے اللہ تعالیٰ اس کو نہایت نفیس (جنت کی) شراب طہور پلائے گا، جس پر غیبی مہر لگی ہو گی۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)

1452Maarif-ul-Hadith

محتاجوں ، بیماروں اور مصیبت زدوں کی خدمت و اعانت

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْعِمُوا الجَائِعَ، وَعُودُوا المَرِيضَ، وَفُكُّوا العَانِيَ» (رواه البخارى)

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بھوکوں کو کھانا کھلاؤ، بیماروں کی خبر لو (اور دیکھ بھال کرو) اور اسیروں قیدیوں کو رہائی دلانے کی کوشش کرو۔ (صحیح بخاری) تشریح اس حدیث میں بھوکوں کو کھانا کھلانے کے علاوہ مریضوں کی عیادت اور قیدیوں کو رہا کرانے کی بھی تلقین فرمائی گئی ہے۔ “عیادت” کے متعلق یہ بات قابل لحاظ ہے کہ ہمارے عرف اور محاورہ میں عیادت کا مطلب صرف بیمار پرسی (یعنی مریض کا حال دریافت کرنا) سمجھا جاتا ہے لیکن عربی زبان میں اس کا مفہوم اس سے زیادہ وسیع ہے اور بیمار پرسی اور خبر گیری کے علاوہ تیمار داری بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ اس لئے اس حدیث میں مریضوں کی عیادت کا جو حکم دیا گیا ہے اس کا مطلب صرف بیمار پرسی نہیں، بلکہ تیمار داری اور حسب استطاعت دوا علاج کی فکر بھی اس میں شامل ہے۔ اسی طرح قیدیوں کو رہا کرانے کا جو حکم اس حدیث میں دیا گیا ہے اس کے بارے میں بھی یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ اس سے وہی اسیران بلا مراد ہیں جو ناحق قید میں رکھے گئے ہوں یا کم از کم ان کے رہا ہو جانے سے خیر کی امید ہو، بلاشبہ ایسے گرفتار ان بلا کا رہا کرانا اور ان کو آزادی دلانا بڑا کارثواب ہے۔

1453Maarif-ul-Hadith

محتاجوں ، بیماروں اور مصیبت زدوں کی خدمت و اعانت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي، قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أَعُودُكَ؟ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ، قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ؟ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي، قَالَ: يَا رَبِّ وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ؟ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ، قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ، فَلَمْ تُطْعِمْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي، يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ، فَلَمْ تَسْقِنِي، قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أَسْقِيكَ؟ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ، قَالَ: اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِهِ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي " (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرزند آدمؑ سے فرمائے گا کہ اے ابن آدم میں بیمار پڑا تھا تونے میری خبر نہیں لی؟ بندہ عرض کرے گا: اے میرے مالک اور پروردگار! میں کیسے تیری تیمارداری یا بیمار پرسی کر سکتا تھا تو تو رب العالمین ہے (بیماری کا تجھ سے کیا واسطہ اور تیری بارگاہ میں اس کا کہاں گزر)۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے علم نہیں ہوا تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار پڑا تھا تو نے اس کی عیادت نہیں کی اور خبر نہیں لی؟ کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ اگر تو اس کی خبر لیتا اور تیمارداری کرتا تو مجھے اس کے پاس ہی پاتا؟ اے ابنِ آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تو نے مجھے نہیں کھلایا؟ بندہ عرض کرے گا: (خدا وندا!) میں تجھے کیسے کھانا کھلا سکتا تھا تو تو رب العالمین ہے (تجھے کھانے سے کیا واسطہ) اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تو نے اس کو کھانا نہیں دیا، کیا تجھے علم نہیں ہے کہ اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو اس کو میرے پاس پا لیتا۔ اے ابن آدم میں نے پینے کے لئے تجھ سے (پانی) مانگا تھا تونے مجھے نہیں پلایا؟ بندہ عرض کرے گا: میں تجھے پانی کیسے پلاتا تو تو رب العالمین ہے تجھے پینے سے کیا واسطہ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے فلاں بندے نے تجھ سے پینے کے لئے پانی مانگا تھا تو نے اس کو نہیں پلایا اگر تو اس کو پانی پلا دیتا تو اس کو میرے پاس پا لیتا۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں موثر اور غیر معمولی انداز میں کسمپرس بیماروں کی عیادت و تیمارداری اور بھوکوں، پیاسوں کو کھلانے پلانے کی ترغیب دی گئی ہے اس میں غور کرنے سے سمجھا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و ہدایت میں ان معاشرتی اعمال اور حاجت مندوں کی خدمت و اعانت کی کس قدر اہمیت ہے اور ان کا درجہ کتنا بلند ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ جو کسی حاجت مند اور بیمار کی عیادت کرے گا وہ خدا کو اس کے پاس پائے گا اور اسے خدا مل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔

1454Maarif-ul-Hadith

غلوموں اور زیرِ دستوں کے بارے میں ہدایت: غلاموں کے بنیادی حقوق

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ، وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا يُطِيقُ» (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: طعام اور لباس غلام کا حق ہے، اور یہ بھی اس کا حق ہے کہ اسے ایسے سخت کام کی تکلیف نہ دی جائے جس کا وہ متحمل نہ ہو سکے۔ (صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ جب دنیا میں مبعوث ہوئے تو عرب میں بلکہ قریب قریب اس پوری دنیا میں جس کی تاریخ معلوم ہے غلاموں کا طبقہ موجود تھا۔ فاتح قومیں مفتوح قوموں کے افراد کو غلام بنا لیتی تھیں، پھر وہ ان کی ملکیت ہو جاتے تھے، ان سے جانوروں کی طرح محنت و مشقت کے کام لئے جاتے تھے، اور ان کا کوئی حق نہیں سمجھا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک طرف تو غلاموں کو آزاد کرنے کو بہت سے گناہوں کا کفارہ اور بہت بڑا کارِ ثواب قرار دیا اور طرح طرح سے اس کی ترغیب دی، دوسری طرف ہدایت فرمائی کہ ان کے ساتھ بہتر سلوک کیا جائے، ان پر محنت و مشقت کا زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے، ان کے طعام لباس جیسی بنیادی ضرورتوں کا مناسب انتظام کیا جائے، بلکہ حکم دیا کہ جو گھر میں کھایا جائے وہی اس کو کھلایا جائے، جیسا کپڑا خود پہنا جائے ویسا ہی ان کو پہنایا جائے، ان کے معاملے میں خدا کے محاسبہ اور مواخذہ سے ڈرا جائے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ان ہدایات اور تعلیمات نے غلاموں کی دنیا ہی بدل دی، پھر تو ان میں سے ہزاروں امت کے ائمہ اور پیشوا تک ہوئے، ہزاروں حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوئے، ان کی حکومتیں تک قائم ہوئیں۔ یہ سب اس ہدایت و تعلیم ہی کے نتائج تھے جو انسانیت کے اس مظلوم و ناتواں طبقہ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو دی تھی، اور پھر ساری دنیا اس سے متاثر ہوئی۔ اس سلسلہ کی چند حدیثیں ذیل میں پڑھی جائیں۔ تشریح ..... اس حدیث میں صرف یہ فرمایا گیا ہے کہ طعام و لباس غلام کا حق ہے۔ آقا کی یہ ذمہ داری ہے کہ س کا یہ حق ادا ہو، اسے ضرورت بھر کھانا اور کپڑا دیا جائے۔ آگے درج ہونے والی حدیث سے معلوم ہو گا کہ اسے وہی کھانا کھلایا جائے جو گھر میں کھایا جائے، وہی لباس پہنایا جائے جو خود پہنا جائے۔ یہ بھی فرمایا گیا کہ: اس پر کام کا بےجا بوجھ نہ ڈالا جائے، اتنا ہی کام لیا جائے جتنا وہ کر سکے۔ یہ گویا غلاموں کے بنیادی حقوق ہیں۔

1455Maarif-ul-Hadith

یہ غلام تمہارے بھائی ہیں ، ان سے برادرانہ سلوک کیا جائے

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِخْوَانُكُمْ، جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ جَعَلَ اللَّهُ أَخَاهُ تَحْتَ يَدِهِ، فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلاَ يُكَلِّفُهُ مِنَ العَمَلِ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: (یہ بیچارے غلام) تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے ان کو تمہارا زیرِ دست (محکوم) بنا دیا ہے، تو اللہ جس کے زیرِ دست (اور تحت حکم) اس کے کسی بھائی کو کر دے تو اس کو چاہئے کہ اس کو وہ کھلائے جو خود کھاتا ہے، اور وہ پہنائے جو خود پہنتا ہے، اور اس کو ایسے کام کا مکلف نہ کرے جو اس کے لئے بہت بھاری ہو، اور اگر ایسے کام کا مکلف کرے تو پھر اس کام میں خود اس کی مدد کرے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں ہر غلام کو اس کے آقا کا بھائی بتایا گیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے تحت میں کر دیا ہے۔ اس تعبیر میں اس مظلوم طبقہ کے ساتھ حسن سلوک کی جتنی موثر اپیل ہے وہ ظاہر ہے۔ غلام اور آقا کو بھائی غالبا اسی بناء پر قررار دیا گیا ہے کہ دونوں بہرحال آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ ؎ بنی آدم اعضائے یکد یگرند کہ در آفرینش ز یک جوہر اند پھر اسی تعلق اور رشتہ کی بنیاد پر فرمایا گیا ہے کہ جب تمہارا غلام اور خادم تمہارا بھائی ہے تو اس کے ساتھ وہی برتاؤ ہونا چاہئے جو بھائیوں کے ساتھ ہوتا ہے اسے وہی کھلایا اور پہنایا جائے جو خود کھایا اور پہنا جائے۔

1456Maarif-ul-Hadith

غلام یا نوکر جو کھانا بنائے اس میں اس کو ضرور کھلایا جائے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ، وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ، فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ، فَلْيَأْكُلْ، فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلًا، فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ» (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے لئے کھانا تیار کرے، پھر وہ اس کے پاس لے کر آئے اور اس نے اس کے پکانے اور بنانے میں گرمی اور دھوئیں کی تکلیف اٹھا لی ہے۔ تو آقا کو چاہئے کہ کھانا تیار کرنے والے اس خادم کو بھی کھانے میں اپنے ساتھ بٹھا لے اور وہ بھی کھا لے۔ پس اگر (کبھی) وہ کھانا تھوڑا ہو (جو دونوں کے لئے کافی نہ ہو سکے) تو آقا کو چاہئے کہ اس کھانے میں سے دو ایک لقمے ہی اس خادم کو دے دے۔ (صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جن گھروں میں غلام یا باندیاں ہوتی تھیں کھانے پکانے، جیسے خدمت کے کام انہی سے لئے جاتے تھے۔ ان کے بارے میں آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ جب وہ کھانا پکا کے لائیں تو ان کو اس میں سے کچھ حصہ ضرور دو کیوں کہ انہوں نے اس کے پکانے میں گرمی اور دھوئیں کی تکلیف برداشت کی ہے۔ ہمارے زمانے میں اسی بنیاد پر یہی حکم کھانا پکانے والے نوکروں اور نوکرانیوں کے لئے ہو گا۔

1457Maarif-ul-Hadith

غلاموں کی غلطیوں اور قصوروں کو معاف کیا جائے

عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَقَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمْ نَعْفُو عَنِ الْخَادِمِ؟ فَصَمَتَ، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ الْكَلَامَ، فَصَمَتَ، فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ، قَالَ: «اعْفُوا عَنْهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً» (رواه ابوداؤد)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! اپنے خادم اور غلام کی غلطیاں کس حد تک ہمیں معاف کر دینا چاہئیں۔ آپ ﷺ نے سکوت فرمایا (اور کوئی جواب نہیں دیا) اس شخص نے دوبارہ آپ ﷺ کی خدمت میں یہی عرض کیا۔ آپ ﷺ پھر خاموش رہے، اور جواب میں کچھ نہیں فرمایا۔ پھر جب تیسری دفعہ اس نے عرض کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہر روز ستر دفعہ۔ (سنن ابی داؤد) تشریح پہلی اور دوسری دفعہ جو آپ ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی اختیار فرمائی اس کی وجہ غالبا یہ تھی کہ آپ ﷺ نے سوال کرنے والے صاحب کو اپنی خاموشی سے یہ تاثر دینا چاہا کہ یہ کوئی پوچھنے کی بات نہیں ہے، اپنے زیرِ دست خادم اور غلام کا قصور معاف کر دینا تو ایک نیکی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور رحمت حاصل ہوتی ہے۔ اس لئے جہاں تک ہو سکے معاف ہی کیا جائے لیکن جب دو دفعہ کے بعد تیسری دفعہ بھی ان صاحب نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:“ كُلِّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً” یعنی اگر بالفرض ہر روز صبح سے شام تک ستر قصور کرے تب بھی اسے معاف ہی کر دو۔ ظاہر ہے کہ یہاں “سبعین” سے ستر کا خاص عدد مراد نہیں ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارا زیرِ دست غلام یا نوکر بار بار غلطی اور قصور کرے تو انتقام نہ لو، معاف ہی کر دو۔ اس عاجز کے نزدیک معافی کے اس حکم کا مطلب یہی ہے کہ اس کو انتقاماً سزا نہ دی جائے، لیکن اگر اصلاح و تادیب کے لئے کچھ سرزنش مناسب سمجھی جائے تو اس کا پورا حق ہے، اور اس حق کا استعمال کرنا اس ہدایت کے خلاف نہ ہو گا، بلکہ بعض اوقات اس کے حق میں یہی بہتر ہو گا۔

1458Maarif-ul-Hadith

غلاموں کی غلطیوں اور قصوروں کو معاف کیا جائے

عَنْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَضْرِبُوْا اِمَاءَكُمْ عَلَى كَسْرِ اِنَاءِكُمْ فَاِنَّ لَهَا آجَالًا كَآجَالِكُمْ. (رواه الديلمى)

حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ: اپنی باندیوں کو برتن توڑ دینے پر سزا نہ دیا کرو، ال لئے کہ برتنوں کی بھی عمریں مقرر ہیں تمہاری عمروں کی طرح۔ (مسند الفردوس للدیلمی) تشریح گھروں میں کام کرنے والی باندیوں اور نوکرانیوں سے اور اسی طرح غلاموں اور نوکروں سے برتن ٹوٹ پھوٹ جاتے تھے، اور ان بےچاروں کی پٹائی ہوتی تھی۔ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی ہے کہ جس طرح وقت پورا ہونے پر آدمی مر جاتا ہے اسی طرح وقت پورا ہونے پر برتن بھی ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں، اس لئے ان بےچاروں سے انتقام لینا اور مارنا پیٹنا بہت ہی غلط بات ہے۔ (ہاں جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا اصلاح و تادیب کی نیت سے مناسب تنبیہ اور سرزنش کی جا سکتی ہے)۔

1459Maarif-ul-Hadith

غلام پر ظلم کرنے والے سے قیامت میں بدلہ لیا جائے گا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ ضَرَبَ مَمْلُوكَهُ ظَالِمًا اُقِيْدَ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جب کوئی اپنے غلام کو ناحق مارے گا قیامت کے دن اس سے بدلہ لیا جائے گا۔ (شعب الایمان للبیہقی)

1460Maarif-ul-Hadith

غلام پر ظلم کا کفارہ

عَنْ اَبِىْ عُمَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ، أَوْ لَطَمَهُ، فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ» (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جس کسی نے اپنے غلام کو کسی ایسے جرم پر سزا دی جو اس نے نہیں کیا تھا، یا اس کو طمانچہ مارا، تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے۔ (یعنی اگر ایسا نہیں کرے گا تو خدا کے ہاں سزا کا مستحق ہو گا)۔ (صحیح مسلم)