Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 74 of 106

1461Maarif-ul-Hadith

غلام پر ظلم کا کفارہ

عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي، فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا: «اعْلَمْ، أَبَا مَسْعُودٍ، لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ»، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللهِ، فَقَالَ: «أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْكَ النَّارُ»، أَوْ «لَمَسَّتْكَ النَّارُ» (رواه مسلم)

حضرت ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا، میں نے پیچھے سے آواز سنی (کوئی کہہ رہا تھا) کہ اے ابو مسعود! تجھے معلوم رہنا چاہئے (اور اس بات سے غافل نہ ہونا چاہئے) کہ اللہ کو تجھ پر اس سے زیادہ قدرت اور قابو حاصل ہے جتنا تجھے اس بےچارے غلام پر ہے۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ فرمانے والے رسول اللہ ﷺ تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ (میں نے اس کو آزاد کر دیا) اب یہ (میری طرف سے) اللہ کے لئے آزاد ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اگر تم یہ نہ کرتے (یعنی اس غلام کو اللہ کے لئے آزاد نہ کر دیتے) تو “لَلَفَحَتْكَ النَّارُ” (جس کا ترجمہ ہے کہ جہنم کی آگ تمہیں جلا ڈالتی) یا فرمایا “لَمَسَّتْكَ النَّارُ” (جس کا ترجمہ ہے کہ جہنم کی آگ تمہیں لپیٹ میں لے لیتی)۔ (صحیح مسلم) تشریح اگر اللہ اور یوم آخرت پر ایمان ہو تو ظلم و زیادتی اور ہر قسم کے گناہوں سے بچانے کے لئے بہترین تدبیر یہی ہے کہ اللہ کی پکڑ اور آخرت کے مواخذہ و محاسبہ کو یاد دلایا جائے۔ اللہ تعالیٰ ایمان نصیب فرمائے۔

1462Maarif-ul-Hadith

غلاموں کے بارے میں حضور ﷺ کی آخری وصیت

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے (وفات سے پہلے) جو آخری کلام فرمایا وہ یہ تھا : “الصَّلاةَ الصَّلاةَ، اتَّقُوا اللهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ” (یعنی نماز کی پابندی کرو ، نماز کا پورا اہتمام کرو ، اور اپنے غلاموں میں زیرِ دستوں کے بارے میں خدا سے ڈرو) ۔ (سنن ابی داؤد)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس دنیا سے اور امت سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو خاص طور سے دو باتوں کی تاکید اور وصیت فرمائی تھی۔ ایک یہ کہ نماز کا پورا اہتمام کیا جائے اس سے غفلت اور کوتاہی نہ ہو یہ سب سے اہم فریضہ اور بندوں پر اللہ کا سب سے بڑا حق ہے۔ دوسری یہ کہ غلاموں، باندیوں کے ساتھ برتاؤ میں اس خداوند ذوالجلال سے ڈرا جائے جس کی عدالت میں ہر ایک کی پیشی ہو گی اور ہر مظلوم کو ظالم سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ غلاموں زیر دستوں کے لئے یہ بات کتنے شرف کی ہے کہ نبی رحمتﷺ نے اس دنیا سے جاتے وقت سب سے آخری وصیت اللہ کے حق کے ساتھ ان کے حق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی فرمائی، اور اس حدیث کے مطابق سب سے آخری لفظ آپ ﷺ کی زبان مبارک سے جو ادا ہوا وہ یہ تھا: “وَاتَّقُوا اللهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ” حضرت عائشہ ؓ کی ایک روایت ہے جو صحیح بخاری میں بھی مروی ہے، یہ معلوم ہوتا ہے کہ سب سے آخری کلمہ آپ ﷺ کی زبانِ مبارک سے یہ ادا ہوا تھا: “اللهم الرفيق الاعلى” (اے اللہ! مجھے رفیقِ اعلیٰ کی طرف اُٹھا لے) شارحین نے ان دونوں حدیثوں میں اس طرح تطبیق کی ہے کہ امت سے مخاطب ہو کر آپ ﷺ نے وصیت کے طور پر آخری بات تو وہ فرمائی تھی جو حضرت علی مرتضیٰ ؓ کی مندرجہ بالا حدیث میں مذکور ہوئی ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف مخاطب ہو کر آخری کلمہ وہ فرمایا تھا جو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے نقل کیا ہے۔ واللہ اعلم۔

1463Maarif-ul-Hadith

آقاؤں کی خیر خواہی اور وفاداری کے بارے میں غلاموں کو ہدایت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعِمَّا لِلْمَمْلُوكِ أَنْ يُتَوَفَّاهُ بُحْسِنِ عِبَادَةِ رَبِّهِ، وَطَاعَةَ سَيِّدِهِ، نِعِمَّا» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی غلام اور مملوک کے لئے بڑی اچھی اور کامیابی کی بات ہے کہ اللہ اس کو ایسی حالت میں اٹھائے کہ وہ اپنے پروردگار کا عبادت گزار ہو اور اپنے سید و آقا کا فرمانبردار ہو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ نے جس طرح غلاموں کے حقوق اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کے بارے میں آقاؤں کو ہدایات دیں اسی طرح غلاموں کو بھی آپ ﷺ نے نصیحت فرمائی اور ترغیب دی کہ وہ جس کے زیرِ دست ہیں ان کے ساتھ خیرخواہی اور وفاداری کا رویہ رکھیں۔ آپ ﷺ نے غلام کی بڑی خوش نصیبی اور کامیابی یہ بتائی کہ وہ اپنے خالق و پروردگار کا عبادت گزار اور اپنے سید و آقا کا وفادار و فرمانبردار ہو۔

1464Maarif-ul-Hadith

آقاؤں کی خیر خواہی اور وفاداری کے بارے میں غلاموں کو ہدایت

عَنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ، وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ، فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ»، (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی غلام جب اپنے سید و آقا کی خیر خواہی اور وفاداری کرے اور خدا کی عبادت بھی اچھی طرح کرے تو وہ دہرے ثواب کا مستحق ہو گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ کی ہدایت و تعلیم کا یہ ایک بنیادی اصول ہے کہ ہر فرد اور ہر طبقہ کو آپ ترغیب دیتے ہیں اور تاکید فرماتے ہیں کہ وہ دوسرے کا حق ادا کرے اور حقوق ادا کرنے میں اپنی کامیابی سمجھے۔ سیدوں اور آقاؤں کو آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ وہ غلاموں زیر دستوں کے بارے میں خدا سے ڈریں، ان کے حقوق ادا کریں، ان کے ساتھ بہتر سلوک کریں، ان کو اپنا بھائی سمجھیں، اور ایک فرد کاندان کی طرح رکھیں۔ اور غلاموں اور مملوکوں کو ہدایت فرمائی اور ترغیب دی کہ وہ سیدوں اور آقاؤوں کے خیر خواہ اور وفادار ہو کر رہیں۔ ہماری اس دنیا کے سارے شر و فساد کی جڑ بنیاد یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے کا حق ادا کرنے سے منکر یا کم از کم بےپروا ہے، اور اپنا حق دوسرے سے وصول کرنے بلکہ چھیننے کے لئے ہر کشمکش اور جبر و زور کو صحیح سمجھتا ہے، اسی نے دنیا کو جہنم بنا رکھا ہے، اور اس وقت تک یہ دنیا امن سکون سے محروم رہے گی جب تک کہ حق لینے اور چھیننے کے بجائے حق ادا کرنے پر زور نہ دیا جائے گا۔ اگر عقل و بصیرت سے محرومی نہ ہو تو مسئلہ بالکل بدیہی ہے۔

1465Maarif-ul-Hadith

بڑوں اور چھوٹوں کے باہمی برتاؤ کے بارے میں ہدایات

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ شَرَفَ كَبِيرِنَا. (رواه الترمذى وابوداؤد)

عمرو بن شعیب اپنے والد شعیب سے اور وہ اپنے دادا حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو آدمی ہمارے چھوٹوں کے ساتھ شفقت کا برتاؤ نہ کرے اور بڑوں کی عزت کا خیال نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد) تشریح ہر معاشرہ اور سماج میں کچھ بڑے ہوتے ہیں اور کچھ ان کے چھوٹے۔ رسول اللہ ﷺ نے بڑوں کو چھوٹوں کے ساتھ اور چھوٹون کو بڑوں کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں بھی ہدایات فرمائی ہیں۔ اگر ان کا اتباع کیا جائے تو معاشرہ میں وہ خوشگواری اور روحانی سرور و سکونم رہے جو انسانیت کے لئے نعمتِ عظمیٰ ہے۔ اس سلسلہ کی چند حدیثیں یہاں پڑھ لی جائیں:

1466Maarif-ul-Hadith

بڑوں اور چھوٹوں کے باہمی برتاؤ کے بارے میں ہدایات

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ شَيْخٌ يُرِيدُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَأَ القَوْمُ أَنْ يُوَسِّعُوا لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا. (رواه الترمذى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک بوڑھے بزرک آئے وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچنا چاہتے تھے لوگوں نے (جو اس وقت حاضر تھے) ان کے لئے گنجائش پیدا کرنے میں دیر کی (یعنی ایسا نہیں کیا کہ ان کے بڑھاپے کے احترام میں جلدی سے ان کو راستہ دے دیتے اور جگہ خالی کر دیتے) تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ: جو آدمی ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا احترام نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دین سے وابستگی چاہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ بڑوں کے ساتھ ادب و احترام کا برتاؤ رکھے اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئے، اور جو ایسا نہ کرے اس کو حق نہیں ہے کہ وہ حضور ﷺ کی طرف اور آپ و کی خاص جماعت کی طرف اپنی نسبت کرے۔ قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث جامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے۔

1467Maarif-ul-Hadith

بڑوں اور چھوٹوں کے باہمی برتاؤ کے بارے میں ہدایات

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا مِنْ اَجْلِ سِنِّهِ إِلاَّ قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ سِنِّهِ مَنْ يُكْرِمُهُ. (رواه الترمذى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو جوان کسی بوڑھے بزرگ کا اس کے بڑھاپے ہی کی وجہ سے ادب و احترام کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس جوان کو بوڑھے ہونے کے وقت ایسے بندے مقرر کر دے گا جو اس وقت اس کا ادب و احترام کریں گے۔ (جامع ترمذی) تشریح اوپر جو دو حدیثیں درج ہوئی ہیں ان سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بڑوں کے ادب و احترام اور چھوٹوں پر شفقت کا رسول اللہ ﷺ کی ہدایت و تعلیم میں کیا درجہ ہے اور اس میں غفلت اور کوتاہی کتنا سنگین جرم ہے۔ اَللَّهُمَّ احْفَظْنَا اور حضرت انس ؓ کی اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑوں کا ادب و احترام اور ان کی خدمت وہ نیکی ہے جس کا صلہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی عطا فرماتا ہے اور اصل جزاء ثواب کی جگہ تو آخرت ہی ہے۔

1468Maarif-ul-Hadith

اسلامی برادری کے باہمی تعلقات اور برتاؤ کے بارے میں ہدایات

عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے تعلق ایک مضبوط عمارت کا سا ہے، اس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھایا (کہ مسلمانوں کو اس طرح باہم وابستہ اور پیوستہ ہونا چاہئے) (صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ (اور اسی طرح آپ سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام بھی) اللہ تعالیٰ کی طرف سے دین حق کی دعوت اور ہدایت لے کر آئے تھے جو لوگ ان کی دعوت کو قبول کر کے ان کا دین اور ان کا راستہ اختیار کر لیتے تھے وہ قدرتی طور سے ایک جماعت اور امت بنتے جاتے تھے۔ یہی دراصل “اسلامی برادری” اور “امت مسلمہ” تھی۔ جب تک رسول اللہ ﷺ اس دنیا میں رونق افروز رہے یہی برادری اور یہی امت آپ ﷺ کا دست و بازو اور دعوت و ہدایت کی مہم میں آپ ﷺ کی رفیق و مددگار تھی، اور آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کسی کو آپ ﷺ کی نیابت میں اس مقدس مشن کی ذمہ داری سنبھالنی تھی۔ اس کے لئے جس طرح ایمان و یقین، تعلق باللہ اور اعمال و اخلاق کی پاکیزگی اور جذبہ دعوت کی ضرورت تھی، اسی طرح دلوں کے جوڑ اور شیرازہ بندی کی بھی۔ ضرورت تھی، اگر دل پھٹے ہوئے ہوں، اتحاد و اتفاق کے بجائے اختلاف و انتشار اور خود آپس میں جنگ و پیدار ہو تو ظاہر ہے کہ نیابت نبوت کی یہ ذمہ داری کسی طرح بھی ادا نہیں کی جا سکتی۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اسلامیت کو بھی ایک مقدس رشتہ قرار دیا۔ اور امت کے افراد اور مختلف طبقوں کو خاص طور سے ہدایت و تاکید فرمائی کہ وہ ایک دوسرے کو اپنا بھائی سمجھیں، اور باہم خیرخواہ و خیر اندیش اور معاون و مدد گار بن کے رہیں۔ ہر ایک دوسرے کا لحاظ رکھے، اور اس دینی ناطہ سے ایک دوسرے پر جو حقوق ہوں ان کو ادا کرنے کی کوشش کریں۔ اس تعلیم و ہدایت کی ضرورت خاص طور سے اس لئے بھی تھی کہ امت میں مختلف ملکوں، نسلوں اور مختلف طبقوں کے لوگ تھے۔ جن کے رنگ و مزاج اور جن کی زبانیں مختلف تھیں اور یہ رنگا رنگی آگے کو اور زیادہ بڑھنے والی تھی۔ اس سلسلہ کی رسول اللہ ﷺ کی اہم ہدایات مندرجہ ذیل حدیثوں میں پڑھئے: تشریح ..... مطلب یہ ہے کہ جس طرح عمارت کی اینٹیں باہم مل کر مضبوط قلعہ بن جاتی ہیں اسی طرح امت مسلمہ ایک قلعہ ہے، اور ہر مسلمان اس کی ایک ایک اینٹ ہے ان میں باہم وہی تعلق اور ارتباط ہونا چاہئے جو قلعہ کی ایک اینٹ کا دوسری اینٹ سے ہوتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھایا کہ مسلمانوں کے مختلف افراد اور طبقوں کو باہم پیوستہ ہو کر اس طرح امت واحد ہ بن جانا چاہئے جس طرح اگ اگ دو ہاتھوں کی یہ انگلیاں ایک دوسرے سے پیوستہ ہو کر ایک حلقہ اور گویا ایک وجود بن گئیں۔

1469Maarif-ul-Hadith

اسلامی برادری کے باہمی تعلقات اور برتاؤ کے بارے میں ہدایات

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْلِمُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنِ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ وَإِنِ اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ. (رواه مسلم)

حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب مسلمان ایک شخص واحد (کے مختلف اعضاء) کی طرح ہیں۔ اگر اس کی آنکھ دکھے تو اس کا سارا جسم درد محسوس کرتا ہے، اور اسی طرح اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بھی سارا جسم تکلیف میں شریک ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ پوری امت مسلمہ گویا ایک جسم و جان والا وجود ہے، اور اس کے افراد اس کے اعضاء ہیں۔ کسی کے ایک عضو میں اگر تکلیف ہو تو اس کے سارے اعضاء تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح پوری ملت اسلامیہ کو ہر مسلمان فرد کی تکلیف محسوس کرنی چاہئے۔ اور ایک کے دکھ درد میں سب کو شریک ہونا چاہئے۔

1470Maarif-ul-Hadith

اسلامی برادری کے باہمی تعلقات اور برتاؤ کے بارے میں ہدایات

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے (اس لئے) نہ تو خود اس پر ظلم و زیادتی کرے نہ دوسروں کا نشانہ ظلم بننے کے لئے اس کو بےمدد چھوڑے (یعنی دوسروں کے ظلم سے بچانے کے لئے اس کی مدد کرے) اور جو کوئی اپنے ضرورت مند بھائی کی حاجت پوری کرے گا اللہ تعالیٰ کی حاجت روائی کرے گا۔ اور جو کسی مسلمان کو کسی تکلیف اور مصیبت سے نجات دلائے گا اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کسی مصیبت اور پریشانی سے نجات عطا فرمائے گا۔ اور جو کسی مسلمان کی پردہ داری کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ داری کرے گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

1471Maarif-ul-Hadith

اسلامی برادری کے باہمی تعلقات اور برتاؤ کے بارے میں ہدایات

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يَخْذُلُهُ وَلاَ يَحْقِرُهُ. التَّقْوَى هَاهُنَا. وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ: بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ. (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے (لہذا) نہ خود اس پر ظلم و زیادتی کرے، نہ دوسروں کا مظلوم بننے کے لئے اس کو بےیار و مددگار چھوڑے، نہ اس کی تحقیر کرے (حدیث کے رااوی حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف تین دفعہ اشارہ فرمایا) “تقویٰ یہاں ہوتا ہے”۔ کسی آدمی کے لیے یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، اور اس کی تحقیر کرے۔ مسلمان کی ہر چیز دوسرے مسلمان کے لئے حرام ہے (یعنی اس پر دست دارزی حرام ہے) س کا خون بھی اس کا مال بھی اور اس کی آبرو بھی۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے یہ ہدایت فرمانے کے ساتھ کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو حقیر و ذلیل نہ سمجھے اور اس کی تحقیر نہ کرے (لا یحقرہ) اپنے سینہ مبارک کی طرف تین دفعہ اشارہ کر کے جو یہ فرمایا کہ “التقویٰ ھھنا” (تقویٰ یہاں سینہ کے اندر اور باطن میں ہوتا ہے) اس کا مقصد اور مطلب سمجھنے کے لئے پہلے یہ جان لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑائی، چھوٹائی، عظمت و حقارت اور عزت و ذلت کا دار و مدار “تقویٰ” پر ہے۔ قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ معزز اور قابلِ احترام وہ ہے جس میں تقویٰ زیادہ ہے۔ اور تقویٰ درحقیقت خدا کے خوف اور محاسبہ آخرت کی فکر کا نام ہے، اور ظاہر ہے کہ وہ دل کے اندر کی اور باطن کی ایک کیفیت ہے، اور ایسی چیز نہیں ہے جسے کوئی دوسرا آدمی آنکھوں سے دیکھ کر معلوم کر سکے کہ اس آدمی میں تقویٰ ہے یا نہیں ہے، اس لیے کسی بھی صاحب ایمان کو حق نہیں ہے کہ وہ دوسرے ایمان والے کو حقیر سمجھے اور اس کی تحقیر کرے۔ کیا خبر جس کو تم اپنی ظاہری معلومات یا قرائن سے قابلِ تحقیر سمجھتے ہو اس کے باطن میں تقویٰ ہو اور وہ اللہ کے نزدیک مکرم ہو۔ اس لئے کسی مسلم کے لئے روا نہیں کہ وہ دوسرے مسلم کی تحقیر کرے۔ آگے آپ ﷺ نے فرمایا کہ:کسی آدمی کے برے ہونے کے لئے تنہا یہی ایک بات کافی ہے کہ وہ اللہ کے کسی بندے کو حقیر سمجھے اور اس کی تحقیر کرے۔

1472Maarif-ul-Hadith

اسلامی برادری کے باہمی تعلقات اور برتاؤ کے بارے میں ہدایات

عَنْ جَرِيرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی۔ نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے پر اور ہر مسلمان کے ساتھ مخلصانہ خیر خواہی پر۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ کہ رسول اللہ ﷺ سے جب میں نے بیعت کی تھی تو آپ نے خصوصیت کے ساتھ تین باتوں کا مجھ سے عہد لیا تھا۔ ایک اہتمام سے نماز پڑھنے کا، دوسرے زکوٰۃ ادا کرنے کا، تیسرے ہر مسلمان کے ساتھ مخلصانہ تعلق اور اس کے لئے خیر خواہی اور خیر اندیشی کا۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کو مسلمانوں کے باہمی تعلق کااتنا اہتمام تھا کہ آپ ﷺ نماز اور زکوٰۃ جیسے بنیادی ارکان کے ساتھ اس کی بھی بیعت لیتے تھے۔

1473Maarif-ul-Hadith

اسلامی برادری کے باہمی تعلقات اور برتاؤ کے بارے میں ہدایات

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَا يَهْتَمُّ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ , وَمَنْ لَا يُصْبِحُ وَيُمْسِي نَاصِحًا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِإِمَامِهِ وَلِعَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ» (رواه الطبرانى فى الاوسط)

حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جس کو مسلمانوں کے مسائل و معاملات کی فکر نہ ہو وہ ان میں سے نہیں ہے اور جس کا یہ حال ہو کہ وہ ہر دن اور ہر صبح و شام اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب پاک قرآنِ مجید اور اس کے امام (یعنی خلیفہ وقت) کا اور عام مسلمانوں کا مخلص و خیرخواہ اور وفادار ہو (یعنی جو کسی وقت بھی اس اخلاص اور وفاداری سے خالی ہو) وہ مسلمانوں میں سے نہیں ہے۔ (معجم اوسط للطبرانی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی بندے کے اللہ کے نزدیک مسلمان اور مقبول الاسلام ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ عام مسلمانوں کے معاملات اور ان کے مصائب و مشکلات سے بےپرواہ نہ ہو بلکہ ان کی فکر رکھتا ہو۔ اسی طرح یہ بھی شرط ہے کہ وہ اللہ و رسول اور کتاب اللہ اور حکومت اسلام اور عوام مسلمین کا ایسا مخلص اور وفادار و خیرخواہ ہو کہ یہ خلوص اس کی زندگی کا جزو بن گئی ہو، اور اس کی رگ و پے میں اس طرح سرایت کر گئی ہو کہ وہ کسی وقت بھی اس سے خالی نہ ہو سکے۔ خدا کے لئے ہم غور کریں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی اس قدر اہم ہدایات کو کیسا پس پشت ڈال دیا ہے۔

1474Maarif-ul-Hadith

اسلامی برادری کے باہمی تعلقات اور برتاؤ کے بارے میں ہدایات

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: قسم اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، کوئی بندہ سچا مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے وہی نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتا ہو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کی اس درجہ خیرخواہی کہ جو خیر اور بھلائی اپنے لئے چاہے وہی اس کے لئے بھی چاہے ایمان کے شرائط اور لوازم میں سے ہے، اور ایمان و اسلام کا جو مدعی اس سے خالی ہے وہ ایمان کی روح و حقیقت اور اس کے برکات سے محروم ہے۔

1475Maarif-ul-Hadith

اسلامی رشتے کے چند خاص حقوق

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ رَدُّ السَّلاَمِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک مسلم کو دوسرے مسلم پر پانچ حق ہیں۔ سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینک آے پر “يرحمك الله” کہہ کے اس کے لئے دعائے رحمت کرنا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ روزمرہ کی عملی زندگی میں یہ پانچ باتیں ایسی ہیں جن سے دو مسلمانوں کا باہمی تعلق ظاہر ہوتا ہے اور نشوونما بھی پاتا ہے، اس لئے ان کا خاص طور سے اہتمام کیا جائے۔ ایک دوسری حدیث میں سلام کا جواب دینے کی جگہ خود سلام کرنے کا ذکر فرمایا گیا ہے، اور ان پانچ کے علاوہ بعض اور چیزوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں ان پانچ کا ذکر بطور تمثیل کے فرمایا گیا ہے، ورنہ اور بھی اس درجہ کی چیزیں ہیں جو اسی فہرست میں شامل ہیں۔

1476Maarif-ul-Hadith

مسلمان کی عزت و آبرو کی حفاظت و حمایت

عَنْ جَابِرَ أَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَخْذُلُ امْرَأً مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ تُنْتَهَكُ فِيهِ حُرْمَتُهُ وَيُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ إِلاَّ خَذَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي مَوْضِعٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ وَمَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَنْصُرُ مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ يُنْتَقَصُ مِنْ عِرْضِهِ وَيُنْتَهَكُ فِيهِ مِنْ حُرْمَتِهِ إِلاَّ نَصَرَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ نُصْرَتَهُ. (رواه ابوداؤد)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جو (بےتوفیق) مسلمان کسی دوسرے مسلمان بندے کو کسی ایسے موقع پر بےمدد چھوڑے گا جس میں اس کی عزت پر حملہ ہو، اور اس کی آبرو اتاری جاتی ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی ایسی جگہ اپنی مدد سے محروم رکھے گا جہاں وہ اللہ کی مدد کا خواہش مند (اور طلبگار) ہو گا۔ اور جو (باتوفیق مسلمان) کسی مسلمان بندے کی ایسے موقع پر مدد اور حمایت کرے گا جہاں اس کی عزت و آبرو پر حملہ ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے موقع پر اس کی مدد فرمائے گا جہاں وہ اس کی نصرت کا خواہشمند (اور طلب گار) ہو گا۔ (سنن ابی داؤد)

1477Maarif-ul-Hadith

مسلمان کی عزت و آبرو کی حفاظت و حمایت

عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَمَى مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ بَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا يَحْمِي لَحْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَمَنْ رَمَى مُسْلِمًا بِشَيْءٍ يُرِيدُ شَيْنَهُ بِهِ حَبَسَهُ اللَّهُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ. (رواه ابوداؤد)

حضرت معاذ بن انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی بددین منافق کے شر سے بندہ مومن کی حمایت کی (مثلا کسی شریر بددین نے کسی مومن بندے پر کوئی الزام لگایا، اور کسی باتوفیق مسلمان نے اس کی مدافعت کی) تو اللہ تعالیٰ قیامت میں ایک فرشتہ مقرر فرمائے گا جو اس کے گوشت (یعنی جسم) کو آتش دوزخ سے بچائے گا۔ اور جس کسی نے کسی مسلمان بندے کو بدنام کرنے اور گرانے کے لئے اس پر کوئی الزام لگایا تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کے پل پر قید کر دے گا، اس وقت تک کے لئے کہ وہ اپنے الزام کی گندگی سے پاک صاف نہ ہو جائے۔ (سنن ابی داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ کسی بندہ مومن کو بدنام رسوا کرنے کے لئے اس پر الزام لگانا اور اس کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا ایسا سنگین اور اتنا سخت گناہ ہے کہ اس کا ارتکاب کرنے والا اگرچہ مسلمانوں میں سے ہو جہنم کے ایک حصہ پر (جس کو حدیث میں جسر جہنم کہاگیا ہے) اس وقت تک ضرور قید میں رکھا جائے گا جب تک کہ جل بھن کر اپنے اس گناہ کی گندگی سے پاک صاف نہ ہو جائے جس طرح کہ سونا اس وقت تک آگ پر رکھا جاتا ہے جب تک کہ اس کا میل کچیل ختم نہ ہو جائے۔ حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گناہ اللہ کے ہاں ناقابل معافی ہے، لیکن آج ہم مسلمانوں کا، ہمارے خوص تک کا یہ لذیذ ترین مشغلہ ہے۔ اَللَّهُمَّ احْفَظْنَا مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا

1478Maarif-ul-Hadith

مسلمان کی عزت و آبرو کی حفاظت و حمایت

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَرُدُّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ إِلا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَرُدَّ عَنْهُ نَارَ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ تَلا هَذِهِ الآيَةَ: {وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ} (رواه البغوى فى شرح السنة)

حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ جب کوئی مسلمان اپنے کسی مسلم بھائی کی آبرو پر ہونے والے حملہ کا جواب دے (اور اس کی طرف سے مدافعت کرے) تو اللہ تعالیٰ کا یہ ذإہ ہو گا کہ وہ قیامت کے دن آتشِ جہنم کو اس سے دفع کرے۔ پھر (بطورِ سند کے) آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: “وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ” (اور ہمارے ذمہ ہے ایمان والوں کی مدد کرنا)۔ (شرح السنہ للامام محی السنہ البغوی)

1479Maarif-ul-Hadith

مسلمان کی عزت و آبرو کی حفاظت و حمایت

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ ذَبَّ عَنْ لَحْمِ أَخِيهِ بِالْمَغِيبَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُعْتِقَهُ مِنَ النَّارِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:جس بندے نے اپنے کسی مسلمان بھائی کے خلاف کی جانے والی غیبت اور بدگوئی کی اس کی عدم موجودگی میں مدافعت اور جواب دہی کی تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ آتشِ دوزخ سے اس کو آزادی بخش دے۔ (شعب الایمان للبیہقی)

1480Maarif-ul-Hadith

مسلمان کی عزت و آبرو کی حفاظت و حمایت

عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اغْتِيبَ عِنْدَهُ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ، وَهُوَ يقْدِرُ عَلَى نَصْرِهِ، فَنَصَرَهُ، نَصَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَاِنْ لَّمْ يَنْصُرَهُ وَهُوَ يقْدِرُ عَلَى نَصْرِهِ، أَدَرَكَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ». (رواه البغوى فى شرح السنة)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے سامنے اس کے کسی مسلم بھائی کی غیبت اور بدگوئی کی جائے اور وہ اس کی نصرت و حمایت کر سکتا ہو اور کرے (یعنی غیبت و بدگوئی کرنے والے کو س سے روکے یا اس کا کواب دے اور مداخلت کرے) تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی مدد فرمائے گا، اور اگر قدرت حاصل ہونے کے باوجود وہ اس کی نصرت و حمایت نہ کرے (نہ غیبت کرنے والے کو غیبت سے روکے نہ جوابدہی اور مدافعت کرے) تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں س کوتاہی پر پکڑے گا (اور اس کی سزا دے گا)۔ (شرح السنہ للامام محی السنہ للبغوی) تشریح حضرت جابر، حضرت معاذ بن انس، حضرت ابو الدرداء، حضرت اسماء بنت یزید اور حضرت انس ؓ کی ان پانچوں حدیثوں سے اندازاہ کیا جا سکتا ہے ہے کہ ایک بندہ مسلم کی عزت و آبرو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کس قدر محترم ہے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے اس کی حفاظت و حمایت کس درجہ کا فریضہ ہے اور اس میں کوتاہی کس درجہ کا سنگین جرم ہے۔ افسوس ےہے کہ ہدایت محمدی ﷺ کے اس اہم باب کو امت نے بالکل ہی فراموش کر دیا ہے۔ بلاشبہ یہ ہمارے ان اجتماعی گناہوں میں سے ہے جن کی پاداش میں ہم صدیوں سے اللہ تعالیٰ کی نصرت سے محروم ہیں، ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور ذلیل ہو رہے ہیں۔