Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 75 of 106

1481Maarif-ul-Hadith

ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے آئینہ ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ يَكُفُّ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ وَيَحُوطُهُ مِنْ وَرَائِهِ. (رواه ابوداؤد والترمذى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے، اور مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے، اس کے ضرر کو اس سے دفع کرتا ہے اور اس کے پیچھے سے اس کی پاسبانی و نگرانی کرتا ہے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی) تشریح آئینہ کا یہ کام ہے کہ وہ دیکھنے والے کو اس کے چہرے کا ہر داغ دھبہ اور ہر بدنما نشان دکھا دیتا ہے، اور صرف اسی کو دکھاتا ہے دوسروں کو نہیں دکھاتا۔ ایک مومن کے دوسرے مومن کے لئے آئینہ ہونے کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس کو چاہئے کہ دوسرے بھائی میں جو نامناسب اور قابلِ اصلاح بات دیکھے وہ پورے خلوص اور خیرکواہی کے ساتھ اس کو اس پر مطلع کر دے، دوسروں میں اس کی تشہیر نہ کرے۔ آگے ارشاد فرمایا ہے کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، اس دینی اخوت کے ناطے سے اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ اگر اس پر کوئی آفت اور تباہی آنے والی ہو تو وہ اپنے مقدور بھر اس کو روکنے اور اس کی زد سے اس کو بچانے کی کوشش کرے، اور جس طرح اپنی کسی عزیز ترین چیز کی ہر طرف سے پاسبانی اور نگرانی کی جاتی ہے اسی طرح اپنے دینی و ایمانی بھائی کی نگرانی اور پاسبانی کرے۔

1482Maarif-ul-Hadith

عام انسانوں اور مخلوقات کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں ہدایات

عَنْ مُعَاذٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ قَالَ: «أَنْ تُحِبَّ لِلَّهَ، وَتُبْغِضَ لِلَّهِ، وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ» . قَالَ: وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ» (رواه احمد)

حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ ایمان کا افضل درجہ کیا ہے؟ (یعنی ایمان والے اعمال و اخلاق میں وہ کون سے ہیں جن کو فضیلت کا اعلیٰ درجہ حاصل ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کہ تمہاری محبت و مودت اور تمہاری نفرت و عداوت بس اللہ کے واسطے ہو، اور تمہاری زبان اللہ کے ذکر میں استعمال ہو۔ معاذ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اس کے علاوہ اور کیا یا رسول اللہ! تو آپ ﷺ نے فرمایا: اور یہ کہ تم سب لوگوں کے وہی چاہو اور وہی پسند کرو جو اپنے لئے چاہتے اور پسند کرتے ہو اور اس چیز اور اس حالت کو سب لوگوں کے لئے ناپسند کرو جس کو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو۔ (مسند احمد) تشریح مندرجہ بالا حدیثوں میں مسلمانوں کو دوسرے مسلمانوں کے ساتھ تعلق اور برتاؤ کے بارے میں ہدایات دی گئی ہیں۔ ذیل میں وہ حدیثیں پڑھئے جن میں رسول اللہ ﷺنے عام انسانوں اور دوسری مخلوقات کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں ہدایات دی ہیں۔ تشریح ..... اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی ہدایت و تعلیم میں عام انسانوں کی اس حد تک خیرخواہی و خیر اندیشی اور ان کے ساتھ اتنا خلوص کہ جو اپنے لئے چاہے وہ سب کے لئے چاہے اور جو اپنے لئے نہ چاہے وہ کسی کے لئے بھی نہ چاہے، اعلی درجہ کے ایمانی اعمال و اخلاق میں سے ہے۔

1483Maarif-ul-Hadith

عام انسانوں اور مخلوقات کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں ہدایات

عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لاَ يَرْحَمُ النَّاسَ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس شخص پر اللہ کی رحمت نہ ہو گی، جو (اس کے پیدا کئے ہوئے) انسانوں پر رحم نہ کھائے گا، اور ان کے ساتھ ترحم کا معاملہ نہ کرے گا۔ تشریح اس حدیث میں ان لوگوں کے لئے جو دوسرے قابلِ رحم انسانوں کے ساتھ ترحم کا برتاؤ نہ کریں یعنی ان کی تکلیف اور ضرورت کو محسوس کر کے اپنے مقدور کے مطابق ان کی مدد اور خدمت نہ کریں، بڑی سخت وعید ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ: ایسے لوگ خداوند رحمٰن کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ الفاظ میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ اس کو بددعا سمجھا جائے، اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ ایسے لوگ خدا کی رحمت سے محروم رہیں۔ واضح رہے کہ چوروں، ڈاکوؤں اور اس طرح کے دوسرے مجرموں کو سزا دینا اور قاتلوں کو قصاص میں قتل کرنا، ترحم کی اس تعلیم و ہدایت کے خلاف نہیں ہے، بلکہ یہ بھی عوام کے ساتھ ترحم ہی کا تقاضا ہے۔ اگر مجرموں کو تعزیری قانون کے مطابق سخت سزائیں نہ دی جائیں تو بےچارے عوام ظالموں کے مظالم اور مجرمین کے جرائم کا اور زیادہ نشانہ بنیں گے۔ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا گیا ہے: وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ اے اہل دانش قصاص کے قانون میں تمہارے لئے زندگی کا سامان ہے۔

1484Maarif-ul-Hadith

عام انسانوں اور مخلوقات کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں ہدایات

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ ارْحَمُوا مَنْ فِي الأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ. (رواه ابوداؤد والترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اللہ کی مخلوق پر) رحم کھانے والوں اور (ان کے ساتھ) ترحم کا معاملہ کرنے والوں پر خداوند رحمن کی خاص رحمت ہو گی۔ تم زمین والی مخلوق کے ساتھ رحم کا معاملہ کرو، آسمان والا تم پر رحمت فرمائے گا۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی) تشریح اس حدیث میں بڑے ہی بلیغ اور موثر انداز میں تمام مخلوق کے ساتھ جس سے انسان کا واسطہ پڑتا ہے ترحم کی ترغیب دی گئی ہے، پہلے فرمایا گیا ہے کہ ترحم کرنے والوں پر خدا کی رحمت ہو گی، اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ تم کدا کی زمینی مخلوق کے ساتھ رحم کا برتاؤ کرو، آسمان والا (رب العرش) تم پر رحمت کرے گا۔ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لئے “مَنْ فِي السَّمَاءِ” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے کہ “وہ جو آسمان میں ہے” ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو آسمان سے وہ نسبت نہیں ہے جو ایک مکین کو اپنے خاص رہائشی مکان سے ہوتی ہے، آسمان بھی زمین اور دوسری مخلوق کی طرح اس کی ایک مخلوق ہے وہ “ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ” ہے، اور اس کی خالقیت اور الوہیت و ربوبیت کا دونوں سے یکساں تعلق ہے۔ (وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَـٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ) (1) اس کے باوجود فوقیت اور بالاتری کے لحاظ سے اس کی نوعیت اور کیفیت جانتا ہے، اسی نسبت کے اعتبار سے اس حدیث میں “مَنْ فِي الأَرْضِ” کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کے لئے “مَنْ فِي السَّمَاءِ” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

1485Maarif-ul-Hadith

عام انسانوں اور مخلوقات کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں ہدایات

عَنْ أَنَسٍ وَ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَلْقُ عِيَالُ اللهِ، فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللهِ مَنْ أَحْسَنَ إِلَى عِيَالِهِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت انس اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ساری مخلوق اللہ کی عیال (گویا اس کا کنبہ) ہے اس لئے اللہ کو زیادہ محبوب اپنی مخلوق میں وہ آدمی ہے جو اللہ کی عیال (یعنی اس کی مخلوق) کے ساتھ احسان اور اچھا سلوک کرے۔ (شعب الایمان للبیہقی) تشریح آدمی کے “عیال” ان کو کہا جاتا ہے جن کی زندگی کی ضروریات کھانے، کپڑے وغیرہ کا وہ کفیل ہو۔ بلاشبہ اس لحاظ سئ ساری مخلوق اللہ کی “عیال” ہے، وہی سب کا پروردگار اور روزی رساں ہے۔ اس نسبت سے جو آدمی اس کی مخلوق کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے گا، اس حدیث میں فرمایا گیا ہے ک وہ اس کی محبت اور پیار کا مستحق ہو گا۔

1486Maarif-ul-Hadith

جانوروں کے ساتھ بھی اچھے برتاؤ کی ہدایت

عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعِيرٍ قَدْ لَحِقَ ظَهْرُهُ بِبَطْنِهِ فَقَالَ: اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ الْمُعْجَمَةِ فَارْكَبُوهَا وَكُلُوهَا صَالِحَةً. (رواه ابوداؤد)

حضرت سہیل بن الحنظلیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کا پیٹ (بھوک کی وجہ سے) اس کی کمر سے لگ گیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا لوگو! ان بےزبان جانوروں کے معاملہ میں خدا سے ڈرو! (ان کو اس طرح بھوکا نہ مارو) ان پر سوار ہو تو ایسی حالت میں جب یہ ٹھیک ہوں (یعنی ان کا پیٹ بھرا ہو) اور ان کو چھوڑو تو (اسی طرح کھلا پلا کر) اچھی حالت میں۔ (سنن ابی داؤد)

1487Maarif-ul-Hadith

جانوروں کے ساتھ بھی اچھے برتاؤ کی ہدایت

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا»

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی نظر ایک گدھے پر پڑی جس کے چہرے پر داغ دے کر نشان بنایا گیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص خدا کی رحمت سے محروم ہے جس نے یہ (بےرحمی کا) کام کیا ہے۔ (مسند احمد) تشریح اگرچہ رسول اللہ ﷺ نے (اور آپ ﷺ سے پہلے آنے والے نبیوں، رسولوں نے بھی) اس کی اجازت دی ہے کہ جو جانور سواری یا باربرداری کے لئے یا کسی دوسرے کام کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ان سے وہ کام لئے جائیں۔ اسی طرح جن جانوروں کو حلال طیب قرار دیا گیا ہے ان کو اللہ کی نعمت سمجھتے ہوئے اس کے حکم کے مطابق غذا میں استعمال کیا جائے، لیکن اسی کے ساتھ آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ ان کے ساتھ ایذاء رسانی اور بےرحمی کا برتاؤ نہ کیا جائے، اور ان کے معاملہ میں بھی خدا سے ڈرا جائے۔ تشریح ..... دنیا کے بہت سے حصوں میں گھوڑون، گدھوں جیسے جانوروں کی پہچان کے لئے ان کے جسم کے کسی حصہ پر گرم لوہے سے داغ دے کر نشان بنا دیا جاتا تھا، اب بھی کہیں کہیںاس کا رواج ہے لیکن س مقصد کے لئے چہرے کو داغنا (جو جانور کے سارے جسم میں سب سے زیادہ نازک اور حساس عضو ہے) بڑی بےرحمی اور گنوار پنے کی بات ہے۔ رسول اللہ ﷺنے ایک گدھے کو دیکھا جس کا چہرہ داغا گیا تھا تو آپ ﷺ کو سخت دکھ ہوا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ: “ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا” (یعنی اس پر خدا کی لعنت جس نے یہ کیا ہے) ظاہر ہے کہ یہ انتہائی درجہ کی ناراضی اور بےزاری کا کلمہ تھا، جو ایک گدھے کے ساتھ بےرحمی کا معاملہ کرنے والے کے لئے آپ ﷺ کی زبان مبارک سے نکلا۔ دنیا نے “انسداد بےرحمی” کو اب اپنی ذمہ داری سمجھا ہے، لیکن اللہ کے رسول حضرت محمدﷺ نے اب سے چودہ سو برس پہلے اس کی طرف رہنمائی فرمائی تھی اور اس پر روز دیا تھا۔

1488Maarif-ul-Hadith

جانوروں کے ساتھ بھی اچھے برتاؤ کی ہدایت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غُفِرَ لاِمْرَأَةٍ مُومِسَةٍ مَرَّتْ بِكَلْبٍ عَلَى رَأْسِ رَكِيٍّ يَلْهَثُ، قَالَ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ، فَنَزَعَتْ خُفَّهَا، فَأَوْثَقَتْهُ بِخِمَارِهَا، فَنَزَعَتْ لَهُ مِنَ الْمَاءِ، فَغُفِرَ لَهَا بِذَلِكَ. قِيْلَ إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا؟ قَالَ: فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ایک بدچلن عورت کی اسی عمل پر بخشش ہو گئی کہ وہ ایک کتے کے پاس سے گزری جو ایک کنویں کے پاس اس حالت میں (چکر کاٹ رہا) تھا کہ اس کی زبان باہر نکلی ہوئی تھی اور وہ ہانپ رہا تھا کہ پیاس سے مر جائے۔ اس عورت نے (ڈول رسی نہ ہونے کی وجہ سے) پاؤں سے اپنا چمڑے کا موزہ اتارا پھر اپنی اوڑھنی میںٰ (کسی طرح) اس کو باندھا اور اس پیاسے کتے کے لئے (کنویں سے)پانی نکالا (اور پلایا) تو اس پر اس کی مغفرت کا فیصلہ فرما دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ: کیا جانور (کے کھلانے پلانے) میں بھی ثواب ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: بےشک ہر زندہ جانور کے کھلانے پلانے میں ثواب ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح ظاہر ہے کہ اس بدچلن عورت کے اس واقعہ کا ذکر کرنے سے رسول اللہ ﷺ کا مقصد صرف واقعہ سنا دینا نہ تھا، بلکہ یہ سبق دینا تھا کہ کتے جیسی مخلوق کے ساتھ بھی اگر ترحم کا برتاؤ کیا جائے تو وہ خدا وند قدوس کی رحمت و مغفرت کا باعث ہو گا اور بندہ اس کا اجر و ثواب پائے گا۔ قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث جس میں عورت کے بجائے اس راستہ چلتے مسافر کا اسی طرح کا ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم ہی کے حوالہ سے اسی سلسلہ معارف الحدیث میں اب سے بہت پہلے (کتاب الاخلاق میں رحم دلی کے زیر عنوان) درج ہو چکی ہے اور وہاں اس کی تشریح میں بہت تفصیل سے کلام کیا جا چکا ہے اور اس سوال کا جواب بھی دیا جا چکا ہے کہ صرف ایک کتے کو پانی پلا دینا کیونکر ایک گنہگار آدمی کی مغفرت کا سبب بن سکتا ہے، اور اس میں کیا راز (1) ہے۔ اس حدیث کی روح اور اس کا خاص پیغام یہی ہے کہ کتے جیسے جانوروں کے ساتھ بھی ہمارا برتاؤ ترحم کا ہونا چاہئے۔

1489Maarif-ul-Hadith

جانوروں کے ساتھ بھی اچھے برتاؤ کی ہدایت

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ، إِلاَّ كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلم بندہ کسی درخت کا پودا لگائے یا کھیتی کرے، پھر کوئی انسان یا کوئی پرندہ یا چوپایہ اس درخت یا کھیتی میں سے کھائے، تو یہ اس بندے کی طرف سے صدقہ اور کارِ ثواب ہو گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث کا بھی پیغام اور سبق یہی ہے کہ انسانوں کے علاوہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے سب جانوروں، پرندوں اور چوپایوں کو کھلانا پلانا بھی صدقہ اور کار ثواب ہے۔ اس کے برعکس مندرجہ ذیل حدیث سے معلوم ہو گا کہ کسی جانور کو بلاوجہ ستانا اور اس کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرنا سخت گناہ ہے، جو آدمی کو عذاب خداوندی کا مستحق بنا دیتا ہے۔

1490Maarif-ul-Hadith

جانوروں کے ساتھ بھی اچھے برتاؤ کی ہدایت

عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ اَمْسَكْتَهَا، حَتَّى مَاتَتْ مِنَ الْجُوعِ، فَلَمْ تَكُنْ تُطْعِمُهَا وَلاَ تُرْسِلُهَا فَتَاكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ایک ظاہم عورت کو ایک بلی کو (نہایت ظالمانہ طریقہ سے) مار ڈالنے کے جرم میں عذاب دیا گیا ہے۔ اس نے اس بلی کو بند کر لیا، پھر نہ تو خود اسے کچھ کھانے دیا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ حشرات الارض سے اپنا پیٹ بھر لیتی (اس طرح اسے بھوکا تڑپا تڑپا کے ماڑ ڈالا۔ اس کی سزا اور پاداش میں وہ عورت عذاب میں ڈالی گئی ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح یہ چند حدیثیں یہ جاننے کے لئے کافی ہیں کہ جانوروں کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی ہدایت اور تعلیم کیا ہے اور یہ اس کے بالکل منافی نہیں ہے کہ سانپ، بچھو جیسے موذی جانوروں کو مار ڈالنے کا خود آپ ﷺ نے حکم دیا ہے، اور حرم میں بھی ان کے مار دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ بھی دراصل اللہ کی مخلوق اور اس کے بندوں کے ساتھ خیرخواہی کا تقاضا ہے۔

1491Maarif-ul-Hadith

آدابِ ملاقات: سلام کی فضیلت و اہمیت

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَأَفْشُوا السَّلاَمَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلاَمٍ. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگو! خدا وند رحمن کی عبادت کرو اور بندگانِ خدا کو کھانا کھلاؤ اور سلام کو خوب پھیلاؤ، تم جنت میں پہنچ جاؤ گے، سلامتی کے ساتھ۔ (جامع ترمذی) تشریح یہاں تک جو حدیثیں درج ہوئی ان سے انسانوں کے مختلف طبقات اور اللہ کی عام مخلوقات کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات و ہدایات معلوم ہوئیں، آگے “آدابِ ملاقات” اور اس کے بعد “آدابِ مجلس” کےسلسلہ کی جو احادیث درج کی جا رہی ہیں، وہ بھی دراصل زندگی کے ایک خاص دائرے میں آپس کے برتاؤ ہی سے متعلق ہدایات ہیں۔ تحیہ اسلام، سلام دنیا کی تمام متمدن قوموں اور گروہوں میں ملاقات کے وقت پیار و محبت یا جذبہ اکرام و خیر اندیشی کا اظہار کرنے اور مخاطب کو مانوس و مسرور کرنے کے لئے کوئی خاص کلمہ کہنے کا رواج رہا ہے، اور آج بھی ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں ہمارے برادرانِ وطن ہندو، ملاقات کے سات “نمستے” کہتے ہیں، کچھ پرانے قسم کے کم پڑھے لکھوں کو “رام رام” کہتے ہوئے بھی سنا ہے۔ یورپ کے لوگوں میں صبح کی ملاقات کے وقت “گذ مارننگ” (اچھی صبح) اور شام کی ملاقات کے وقت “گذ ایوننگ” (اچھی شام) اور رات کی ملاقات میں “گذ نائٹ” (اچھی رات) وغیرہ کہنے کا رواج ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے وقت عربوں میں بھی اسی طرح کے کلمات ملاقات کے وقت کہنے کا رواج تھا۔ سنن ابی داؤد میں رسول اللہ ﷺ کے صحابی عمران بن حصینؓ کا یہ بیان مروی ہے کہ ہم لوگ اسلام سے پہلے ملاقات کے وقت آپس میں “أَنْعَمَ اللَّهُ بِكَ عَيْنًا” (خدا آنکھوں کی ٹھنڈک نصٰب کرے) اور “أَنْعِمْ صَبَاحًا” (تمہاری صبح خوشگوار ہو) کہا کرتے تھے۔ جب ہم لوگ جاہلیت کے اندھیرے سے نکل کر اسلام کی روشنی میں آگئے تو ہمیں اس کی ممانعت کر دی گئی، یعنی اس کے بجائے ہمیں “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ” تعلیم دی گئی۔ آج بھی غور کرے تو واقعہ یہ ہے کہ اس سے بہتر کوئی کلمہ محبت و تعلق اور اکرام و خیراندیشی کے اظہار کے لئے سوچا نہیں جا سکتا۔ ذرا اس کی معنوی خصوصیات پر غور کیجئے۔ یہ بہترین اور نہایت جامع دعائیہ کلمہ ہے، اس کا مطلب ہے کہ اللہ تم کو ہر طرح کی سلامتی نصیب فرمائے۔ یہ اپنے سے چھوٹوں کے لئے شفقت اور مرحمت اور پیار و محبت کا کلمہ بھی ہے اور بڑوں کے لئے اس میں اکرام اور تعظیم بھی ہے، اور پھر “السَّلَامُ” اسماء الہیہ میں سے بھی ہے۔ قرآن مجید میں یہ کلمہ انبیاء و رسل علیہم السلام کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور اکرام اور بشارت کے استعمال فرمایا گیا ہے، اور اس میں عنایت اور پیار و محبت کا رس بھرا ہوا ہے۔ ارشاد ہوا ہے: سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ ...... سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ ...... سَلَامٌ عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُونَ ....... سَلَامٌ عَلَىٰ إِلْ يَاسِينَ ...... سَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ...... سَلَامٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَىٰ اور اہل ایمان کو حکم ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھی اسی طرح سلام عرض کریں: “ السَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبِىُّ ” اور ایک جگہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ: جب ہمارے وہ بندے آپ کے پاس آئیں۔ جو ایمان لا چکے ہیں، تو آپ ان سے کہیں کہ: “سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۖ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ” (السلام علیکم! تمہارے پروردگار نے تمہارے لئے رحمت کا فیصلہ فرما دیا ہے) اور آخرت میں داخلہ جنت کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہلِ ایمان سے فرمایا جائے گا: “ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ” اور “سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ” الغرض ملاقات کے وقت کے لئے “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ” سے بہتر کوئی کلمہ نہیں ہو سکتا۔ اگر ملنے والے پہلے بے باہم متعارف اور شناسا ہیں اور ان میں محبت و اخوت یا قرابت کے قسم کا کوئی تعلق ہے تو اس کلمہ میں اس تعلق اور اس کی بناء پر محبت و مسرت اور اکرام و خیراندیشی کا پورا اظہار ہے اور اگر پہلے سے کوئی تعارف اور تعلق نہیں ہے، تو یہ کلمہ ہی تعلق و اعتماد اور خیرسگالی کا وسیلہ بتنا ہے، اور اس کے ذریعے ہر ایک دوسرے کو گویا اطمینان دلاتا ہے کہ میں تمہارا خیراندیش اور دعاگو ہوں، اور میرے تمہارے درمیان ایک روحانی رشتہ اور تعلق ہے۔ بہرحال ملاقات کے وقت “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ” اور “وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ” کی تعلیم رسول اللہ ﷺ کی نہایت مبارک تعلیمات میں سے ہے، اور یہ اسلام کا شعار ہے، اور اسی لئے آپ ﷺ نے اس کی بڑی تاکید فرمائی اور بڑے فضائل بیان فرمائے یہں۔ اس تمہید کے بعد اس سلسلہ کی احادیث پڑھئے! تشریح ..... اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے تین نیک کاموں کی ہدایت فرمائی ہے، اور ان کے کرنے والے کو جنت کی بشارت دی ہے۔ ایک خداوند رحمن کی عبادت (یعنی بندے پر اللہ کا جو حق ہے اور جو دراصل مقصدِ تخلیق ہے کہ اس کی اور صرف اس کی عبادت کی جائے اور اس کو ادا کیا جائے) دوسرے اطعام طعام، یعنی اللہ کے محتاج اور مسکین بندوں کو بطور صدقہ کے اور دوستوں عزیزوں اور اللہ کے نیک بندوں کو بطور ہدیہ اخلاق و محبت کے کھانا کھلایا جائے (جو دلوں کو جورنے اور محبت و الفت پیدا کرنے کا بہترین وسیلہ ہے، اور بخل جیسی مہلک بیماری کا علاج بھی ہے) تیسرے “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ” اور “وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ” کو جو اسلامی شعار ہے اور اللہ تعالیٰ کی تعلیم فرمایا ہوا دعائیہ کلمہ ہے، اس کو خوب پھیلایا جائے اور اس کی ایسی کثرت اور ایسی رواج ہو کہ اسلامی دنیاکی فضاء اس کی لہروں سے معمور رہے۔ ان تین نیک کاموں پر رسول اللہ ﷺ نے بشارت سنائی ہے: “ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ ” (تم پوری سلامتی کے ساتھ جنت میں پہنچ جاؤ گے)۔

1492Maarif-ul-Hadith

سلام کی فضیلت و اہمیت

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتُقْرِئُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ:“حضرت اسلام میں (یعنی اسلامی اعمال میں) وہ کیا چیز (اور کون ساعمل)زیادہ اچھا ہے؟”آپ ﷺ نے فرمایا:“(ایک)یہ کہ تم اللہ کے بندوں کو کھانا کھلاؤ اور (دوسرے) یہ کہ جس سے جان پہچان ہو اس کو بھی اور جس سے جان پہچان نہ ہو اس کو بھی سلام کرو”۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺنے اطعام طعام اور سلام کو خیر اور بہتر قرار دیا ہے۔ بعض دوسری حدیثوں میں (جو گزر بھی چکی ہیں) دوسرے بعض اعمالِ صالحہ کو مثلا ذکراللہ یا جہاد فی سبیل اللہ کو یا والدین کو خدمت و اطاعت کو “خیر اعمال” اور “افضل اعمال” قرار دیا گیا ہے لیکن جیسا کہ اسی سلسلہ میں بار بار واضح کیا جا چکا ہے کہ اس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ آپ ﷺ کے جوابات کا یہ فرق دراصل پوچھنے والوں کی حالت و ضرورت اور موقع محل کے فرق کے لحاظ سے ہے، اور اسلامی نظامِ حیات میں ان سب ہی اعمال کو مختلف جہتوں سے خاص اہمیت اور عظمت حاصل ہے۔

1493Maarif-ul-Hadith

سلام کی فضیلت و اہمیت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا. أَوَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى شيء إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلاَمَ بَيْنَكُمْ. (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جنت میں نہیں جا سکتے تاوقتیکہ پورے مومن نہ ہو جاؤ (اور تمہاری زندگی ایمان والی زندگی نہ ہو جائے) اور یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم میں باہم محبت نہ ہو جائے، کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتا دوں جس کے کرنے سے تمہارے درمیان محبت و یگانگت پیدا ہو جائے۔ (وہ یہ ہے کہ) سلام کو آپس میں خوب پھیلاؤ۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں صراحۃً معلوم ہوا کہ ایمان جس پر داخہ جنت کی بشارت ور وعدہ ہے، وہ صرف کلمہ پڑھ لینے کا اور عقیدہ کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ اتنی وسیع حقیقت ہے کہ اہل ایمان کی باہمی محبت و مودت بھی اس کی لازمی شرط ہے اور رسول اللہ ﷺ نے بڑے اہتمام کے ساتھ بتلایا ہے کہ ای دوسرے کو سلام کرنے اور اس کا جواب دینے سے یہ محبت و مودت دِلوں میں پیدا ہوتی ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ لحاظ ہے کہ کسی عمل کی خاص تاثیر جب ہی ظہور میں آتی ہے جب کہ اس عمل میں روح ہو، نماز، روزہ اور حج اور ذکراللہ جیسے اعمال کا حال بھی یہی ہے۔ بالکل یہی معاملہ سلام اور مصافحہ کا بھی ہے کہ یہ اگر دل کے اخلاص اور ایمانی رشتہ کی بناء پر صحیح جذبہ سے ہوں تو پھر دلوں سے کدورت نکلنے اور محبت و مودت کا رس پیدا ہو جانے کا یہ بہترین وسیلہ ہیں۔ لیکن آج ہمارا ہر عمل بےروح ہے۔

1494Maarif-ul-Hadith

سلام کا اجر و ثواب

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ. فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرٌ. ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ فَقَالَ: عِشْرُونَ. ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ فَقَالَ: ثَلاَثُونَ. (رواه الترمذى وابوداؤد)

حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا “ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ” آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا، پھر وہ مجلس میں بیٹھ گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:“دس (یعنی اس بندے کے لئے اس کے سلام کی وجہ سے دس نیکیاں لکھی گئیں)”پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: “ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ” آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا، پھر وہ آدمی بیٹھ گیا تو تو آپ ﷺ نے فرمایا:“بیس (یعنی اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی گئیں)”پھر ایک تیسرا آدمی آیا اور اس نے کہا: “ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ” آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ مجلس میں بیٹھ گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:“تیس (یعنی اس کے لئے تیس نیکیاں ثابت ہو گئیں)۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد) تشریح اللہ تعالیٰ کا یہ کریمانہ قانون ہے کہ اس نے ایک نیکی کا اجر اس آخری امت کے لئے دس نیکیوں کے برابر مقرر کیا ہے۔ قرآن پاک میں بھی فرمایا گیا: “مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا” اسی بناء پر رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے حق میں جس نے صرف ایک کلمہ “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ” کہا تھا، فرمایا کہ: اس کے لیے دس نیکیاں ثابت ہو گئیں۔ اور جس شخص نے اس کے ساتھ دوسرے کلمہ “وَرَحْمَةُ اللَّهِ” کا بھی اضافہ کیا، اس کے لئے آپ فرمایا کہ: بیس نیکیاں ثابت ہو گئیں۔ اور تیسرے شخص کے لئے جس نے کلمہ “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ” کے ساتھ “وَبَرَكَاتُهُ” کا اضافہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ:اس کے لیے ۳۰نیکیاں ثابت ہو گئیں۔ اسی حساب سے سلام کا جواب دینے والا بھی اجر و دثواب کا مستحق ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ان حقیقتوں کا یقینی نصیب فرمائے اور رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور رحمت حاصؒ کرنے کے جو راستے ہیں ان کی قدر اور استفادے کی توفیق دے۔ امام مالکؒ نے ابی بن کعب کے صاحبزادے طفیل کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ ان کا طریقہ تھا کہ وہ ہمیں ساتھ لے کر بازار جاتے اور جس دکاندار اور جس کباڑئیے اور جس فقیر و مسکین کے پاس سے گزرتے اس کو بس سلام کرتے (اور کچھ خرید و فروخت کے بغیر واپس آ جاتے) ایک دن میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، تو معمول کے مطابق مجھے ساتھ لے کربازار جانے لگے میں نے عرض کیا کہ آپ بازار جا کے کیا کریں گے؟ نہ تو آپ کسی دکان پر کھڑے ہوتے ہیں، نہ کسی چیز کا سودا کرتے ہیں، نہ بھاؤ ہی کی بات کرتے ہیں، اور بازار کی مجلسوں میں بھی نہیں بیٹھتے (پھر آپ بازار کس لئے جائیں؟) یہیں بیٹھئے، باتیں ہوں اور ہم استفادہ کریں! حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ: ہم تو صرف اس غرض اور اس نیت سے بازار جاتے ہیں کہ جو سامنے پڑے اس کو سلام کریں اور ہر سلام پر کم از کم دس نیکیاں کما کر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور بندگانِ خدا کے جوابی سلاموں کی برکتیں حاصل کریں۔)

1495Maarif-ul-Hadith

سلام کا اجر و ثواب

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِاللَّهِ مَنْ بَدَأَ بِالسَّلاَمِ. (رواه احمد والترمذى وابوداؤد)

حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں اللہ کے قرب اور اس کی رحمت کا زیادہ مستحق وہ بندے ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)

1496Maarif-ul-Hadith

سلام کا اجر و ثواب

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْبَادِئُ بِالسَّلَامِ بَرِيءٌ مِنَ الْكِبْرِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:سلام میں پہل کرنے والا تکبر سے بری ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی) تشریح یعنی سلام میں پہل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ اس بندے کے دل میں تکبر نہیں ہے۔ اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ سلام میں پہل کرنا کبر کا علاج ہے جو بدترین رزیلہ ہے، جس پر احادیث میں عذاب نار کی وعید ہے۔ اَللَّهُمَّ احْفَظْنَا۔ اس کے بعد چند وہ حدیثین پڑھئے جن میں خاص خاص موقعوں پر سلام کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔

1497Maarif-ul-Hadith

عندالملاقات ، سلام

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ. قِيلَ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ:إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ. (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ (خاص) حق ہیں: اول یہ کہ جب ملاقات ہو تو سلام کرے۔ دوسرے جب وہ مدعو کرے تو اس کی دعوت قبول کرے (بشرطیکہ کوئی شرعی محذور اور مانع نہ ہو) تیسرے جب وہ نصیحت (یا مخلصانہ مشورہ) کا طالب ہو تو اس سے دریغ نہ کرے، چوتھے جب اس کو چھینک آئے اور وہ “الحمدللہ” کہے تو اس کو یہ کہے “یرحمک اللہ” (جو دعائیہ کلمہ ہے) پانچویں جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے۔ چھٹے وہ انتقال کر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر سب سے پہلا حق یہ بتلایا ہے کہ ملاقات ہو تو سلام کرے، یعنی “السلام علیکم” کہے (حضرت ابو ہریرہؓ ہی کی روایت سے قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث “ اسلامی رشتہ کے چند حقوق” کے زیرِ عنوان) صحیح بخاری و صحیح مسلم کے حوالہ سے چند ہی ورق پہلے گزر چکی ہے۔ وہاں ضروری تشریح بھی کی جا چکی ہے، اس لئے یہاں اس سے زیادہ کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔

1498Maarif-ul-Hadith

عندالملاقات ، سلام

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ جِدَارٌ أَوْ حَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ. (رواه ابوداؤد)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جب تم میں سے کسی کی اپنے کسی مسلمان بھائی سے ملاقات ہو تو چاہئے کہ اس کو سلام کرے، اگر اس کے بعد کوئی درخت یا کوئی دیوار یا کوئی پتھر ان دونوں کے درمیان حائل ہو جائے (اور تھوڑی دیر کے لئے ایک دوسرے سے غائب ہو جائیں) اور اس کے بعد پھر سامنا ہو، تو پھر سلام کرے۔ (سنن ابی داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر ملاقات اور سلام کے بعد دو چار سیکنڈ کے لئے بھی ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں اور اس کے بعد پھر ملیں تو دوبارہ سلام کیا جائے اور دوسرا اس کا جواب دے۔ اس حدیث سے سمجھا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم اور شریعت اسلام میں سلام کی کتنی اہمیت ہے۔

1499Maarif-ul-Hadith

اپنے گھر یا کسی مجلس میں آؤ یا جاؤ تو سلام کرو

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا بُنَيَّ إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ يَكُونُ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ. (رواه الترمذى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیٹا! جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو سلام کرو، یہ تمہارے لئے بھی باعث برکت ہو گا، اور تمہارے گھر والوں کے لئے بھی۔ (جامع ترمذی)

1500Maarif-ul-Hadith

اپنے گھر یا کسی مجلس میں آؤ یا جاؤ تو سلام کرو

عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلْتُمْ بَيْتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهِ، فَإِذَا خَرَجْتُمْ فَأَوْدِعُوا أَهْلَهُ بِسَلَامٍ ". (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت قتادہ (تابعی) سے (مرسلاً) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی گھر میں جاؤ تو گھر والوں کو سلام کرو، اور پھر جب گھر سے نکلو اور جانے لگو تو وداعی سلام کر کے نکلو۔ (شعب الایمان للبیہقی)