اپنے گھر یا کسی مجلس میں آؤ یا جاؤ تو سلام کرو
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِّ النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الآخِرَةِ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں پہنچے تو چاہئے کہ اولاً اہلِ مجلس کو سلام کرے، پھر بیٹھنا مناسب سمجھے تو بیٹھ جائے، پھر جانے لگے تو پھر سلام کرے اور پہلا سلام بعد والے سلامسے اعلیٰ اور بالا نہیں ہے۔ (یعنی بعد والے رخصتی سلام کا بھی وہی درجہ ہے جو پہلے سلام کا، اس سے کچھ کم نہیں۔) (جامع ترمذی)
سلام کے متعلق کچھ احکام اور ضابطے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ، وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ. (رواه البخارى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ: چھوٹا بڑے کو سلام کیا کرے اور راستہ سے گزرنے والے چلنے والا بیٹھے ہوؤں کو سلام کیا کرے، اور تھوڑے آدمی زیادہ آدمیوں کی جماعت کو سلام کریں۔ (صحیح بخاری)
(اور حضرت ابو ہریرہؓ کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ سوار آدمی کو چاہئے کہ وہ پیدل چلنے ولے کو سلام کرے)۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب ایک چھوٹے اور بڑے کی ملاقات ہو تو چھوٹے کو چاہئے کہ وہ پیش قدمی کر کے بڑے کو سلام کرے۔ اور اسی طرح جب کسی چلنے والے کا گزر کسی بیٹھے ہوئے آدمی پر ہو تو چلنے والے کو چاہئے کہ وہ سلام میں پیش قدمی کرے، اور اگر دو جماعتوں کی ملاقات ہو تو جس جماعت میں نسبتاً آدمی کم ہوں وہ دوسری زیاد ہ آدمیوں والی جماعت کو سلام کرنے میں پیش قدمی کرے، اور جو شخص کسی سواری پر جا رہا ہو وہ پیش قدمی کر کے پیدل چلنے والوں کو سلام کرے۔ اس ہدایت کی یہ حکمت عملی ظاہر ہے کہ سوار کو بظاہر ایک دنیوی بلندی اور بڑائی حاصل ہے اس لئے اس کو حکم دیا گیا کہ وہ پیدل چلنے والوں کو سلام کر کے اپنی بڑائی کی نفی اور تواضع اور خاکساری کا اظہار کرے۔
سلام کے متعلق کچھ احکام اور ضابطے
عَنْ عَلِيٍّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مَرْفُوعًا: " يُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَةِ إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمْ، وَيُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف نسبت کر کے بیان فرمایا کہ گزرنے والی جماعت میں سے اگر کوئی ایک سلام کر لے تو پوری جماعت کی طرف سے کافی ہے، اور بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک جواب دے دے تو سب کی طرف سے کافی ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے سلام اور جوابِ سلام کے کچھ احکام اور ضابطے بھی تعلیم فرمائے ہیں۔ ان کے لئے ذیل کی چند حدیثیں پڑھئے:
بعض حالتوں میں سلام نہ کیا جائے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلاً سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلاَمَ. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو اس حالت میں سلام کیا جب آپ ﷺ پیشاب کے لیے بیٹھے تھے۔ تو آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسی حالتوں میں سلام نہیں کرنا چاہئے۔ اور اگر کوئی آدمی ناواقفی سے سلام کرے تو اس کا جواب نہ دینا چاہئے۔
بعض حالتوں میں سلام نہ کیا جائے
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ فِىْ حَدِيْثِ طَوِيْلٍ فَيَجِيءُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ عَلَيْنَا تَسْلِيمًا لاَ يُوقِظُ النَّائِمَ وَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ. (رواه الترمذى)
حضرت مقداد بن الاسود ؓ ایک طویل حدیث کے ضمن میں بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو اصحاب صفہ کے پاس تشریف لاتے تو آپ ﷺ اس طرح آہستہ اور احتیاط سے سلام کرتے کہ سونے والے نہ جاگتے اور جاگنے والے سن لیتے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سلام کرنے والے کو اس کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ اس کے سلام سے کسی سونے والے کی آنکھ نہ کھل جائے، یا اس طرح کی کوئی دوسری اذیت اللہ کے کسی بندے کو نہ پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ آداب سیکھنے اوربرتنے کی توفیق عطا فرمائے۔
عَنِ اَبِىْ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مِنْ تَمَامِ التَّحِيَّةِ الأَخْذُ بِاليَدِ. (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: سلام کا تکملہ مصافحہ ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
ملاقات کے وقت محبت و مسرت اور جذبہ اکرام و احترام کے اظہار کا ایک ذریعہ سلام کےعلاوہ اور اس سے بالاتر مصافحہ بھی ہے جو عموما سلام کے ساتھ اور اس کے بعد ہوتا ہے۔ اور اس سے سلام کے ان مقاصد کی گویا تکمیل ہوتی ہے۔ بعض احادیث میں صراحۃً یہی بات فرمائی گئی ہے۔
(قریب قریب یہی مضمون جامع ترمذی ہی میں ایک دوسری حدیث کے ضمن میں مشہور صحابی حضرت ابو امامہ ؓ سے بھی مروی ہے)۔
مصافحہ کا اجر و ثواب اور اس کی برکتیں
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا، وَحَمِدَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَاسْتَغْفَرَاهُ غُفِرَ لَهُمَا» (رواه ابوداؤد)
حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب دو مسلمانوں کی ملاقات ہو اور وہ مصافحہ کریں اور اس کے ساتھ اللہ کی حمد اور اپنے لئے مغفرت طلب کریں تو ان کی مغفرت ہو ہی جائے گی۔ (سنن ابی داؤد)
مصافحہ کا اجر و ثواب اور اس کی برکتیں
عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْخُرَاسَانِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «تَصَافَحُوا يَذْهَبِ الْغِلُّ. وَتَهَادَوْا تَحَابُّوا، وَتَذْهَبِ الشَّحْنَاءُ». (رواه مالك مرسلا)
عطاء خراسانی سے (بطریق ارسال) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم باہم مصافحہ کرو اس سے کینہ کی صفائی ہوتی ہے اور آپس میں ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو اس سے تم میں باہم محبت پیدا ہو گی اور دلوں سے دشمنی دور ہو گی۔ (موطا امام مالک)
(یہ روایت امام مالک نے اسی طرح عطاء خراسانی سے مرسلا روایت کی ہے یعنی انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کو یہ حدیث کس صحابی سے پہنچی۔ ایسی حدیث کو مرسل کہا جاتا ہے اور اس طریقہ سے روایت کرنے کو ارسال)
تشریح
یہاں بھی اس بات کو یاد کر لیا جائے کہ ہر عمل کی تاثیر اور برکت اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ اس میں روح ہو اور جو دانہ بےجان ہو چکا اس سے پودا نہیں اگتا۔
عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوهُ؟ قَالَ: «مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي، وَبَعَثَ إِلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَمْ أَكُنْ فِي أَهْلِي فَلَمَّا جِئْتُ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ أَرْسَلَ لِي، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ فَالْتَزَمَنِي، فَكَانَتْ تِلْكَ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ» (رواه ابوداؤد)
ایوب بن بشیر قبیلہ بنو عنزہ کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں اس نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ ملاقات کے وقت آپ لوگوں سے مصافحہ بھی کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: میں جب بھی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ ﷺ سے ملا تو آپ نے ہمیشہ مجھ سے مصافحہ کیا۔ اور ایک دفعہ آپ ﷺ نے مجھے گھر سے بلوایا میں اس وقت اپنے گھر پر نہیں تھا، جب میں گھر آیا اور مجھے بتایا گیا (کہ حضور ﷺ نے مجھے بلوایا تھا) تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ ﷺ اپنے سریر پر تھے (جو کھجور کی شاخوں سے ایک تخت یا چارپائی کی طرح بنا لیا جاتا ہے) آپ ﷺ (اس سے اٹھ کر) مجھ سے لپٹ گئے اور گلے لگایا، اور آپ ﷺ کا یہ معانقہ بہت خوب اور بہت ہی خوبصورت تھا (یعنی بڑا لذت بخش اور بہت ہی مبارک تھا)۔
تشریح
محبت و تعلق کے اظہار کا آخری اور انتہائی ذریعہ معانقہ اور تقبیل (چومنا) ہے، لیکن اس کی اجازت اسی صورت میں ہے جبکہ موقع محل کے لحاظ سے کسی شرعی مصلحت کے خلاف نہ ہو، اور اس سے کسی برائی یا اس کے شک شبہ کے پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ جامع ترمذی میں حضرت انس ؓ سے یہ حدیث مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ: جب اپنے بھائی یا عزیز دوست سے ملاقات ہو تو، کیا اس کی اجازت ہے کہ اس سے لپٹ جائیں، اسے گلے لگائیں اور اس کو چومیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ:اس کی اجازت نہیں ہے۔ اس شخص نے عرض کیا: تو کیا اس کی اجازت ہے کہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیں اور مصافحہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اس کی اجازت ہے۔ اس حدیث اس حدیث سے معانقہ اور تقبیل کی جو ممانعت مفہوم ہوتی ہے اس کے بارے میں شارحین حدیث کی رائے دوسری بہت سی حدیثوں کی روشنی میں یہی ہے کہ اس کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ سینہ سے لگانے اور چومنے میں کسی برائی یا اسکے شک و شبہ کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔ ورنہ خود رسول اللہ ﷺ سے معانقہ اور تقبیل کے بہت سے واقعات مروی اور ثابت ہیں۔ ان میں سے بعض ذیل کی حدیثوں سے معلوم ہوں گے۔
عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَلَقَّى جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَالْتَزَمَهُ، وَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ» (رواه ابوداؤد والبيهقى فى شعب الايمان مرسلا)
امام شعبی تابعی سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جعفر بن ابی طالب کا استقبال کیا (جب وہ حبشہ سے واپس آئے۔ تو آپ ﷺ ان کو لپٹ گئے (یعنی معانقہ فرمایا) اور دونوں آنکھوں کے بیچ میں (ان کی پیشانی کو) بوسہ دیا۔ (سنن ابی داؤد، شعب الایمان للبیہقی)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَاطِمَةَ كَانَتْ «إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَبَّلَهَا، وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ، وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِلَيْهِ، فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَقَبَّلَتْهُ، وَأَجْلَسَتْهُ فِي مَجْلِسِهَا» (رواه ابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو شکل و صورت، سیرت و عادت اور چال ڈھال میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ زیادہ مشابہ ہو۔ صاحبزادی فاطمہ ؓ سے (یعنی ان سب چیزوں میں وہ سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ سے مشابہ تھیں) جب وہ حضور ﷺ کے پاس آتیں تو آپ ﷺ (جوشِ محبت سے) کھڑے ہو کر ان کی طرف بڑھتے۔ ان کا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لے لیتے اور (پیار سے) اس کو چومتے، اور اپنی جگہ پر ان کو بٹھاتے (اور یہی ان کا دستور تھا) جب آپ ﷺ ان کے یہاں تشریف لے جاتے تو وہ آپکے لئے کھڑی ہو جاتیں۔ آپ ﷺ کا دستِ مبارک اپنے ہاتھ میں لے لیتیں، اس کو چومتیں اور اپنی جگہ پر آپ ﷺ کو بٹھاتیں۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
یہ روایات اس کی واضح دلیل ہیں کہ محبت اور اکرام کے جذبہ سے معانقہ اور تقبیل (یعنی ہاتھ یا پیشانی وغیرہ چومنا) جائز، اور خود رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں، اس لئے حضرت انسؓ کی اس حدیث کو جس میں معانقہ اور تقبیل کی ممانعت کا ذکر ہے اسی پر محمول کیا جائے گا کہ وہ حکم ان مواقع کے لئے جب سینہ سے لگانے اور چومنے میں کسی برائی یا اس کے شک و شبہ کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔ حضرت عائشہ والی آخرت حدیث میں حضرت فاطمہ ؓ کی آمد پر حضور ﷺ کے کھڑے ہو جانے اور حضور ﷺ کی تشریف آوری پر حضرت فاطمہؓ کے کھڑے ہونے کا ذکر ہے۔ یہ بات اس کی دلیل ہے ہے کہ محبت اور اکرام و احترام کے جذبہ سے اپنے کسی عزیز، محبوب یا محترم بزرگ کے لئے کھڑا ہو جانا بھی درست ہے۔ لیکن بعض احادیث سے (جو آگے درج ہوں گی) یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کے تشریف لانے پر اگر صحابہ کرامؓ کبھی کھڑے ہو جاتے تو آپ ﷺ اس کو ناپسند فرماتے اور ناگواری کا اظہار فرماتے تھے، غالباً اس کی وجہ آپ ﷺ کی مزاجی خاکساری اور تواضع پسندی تھی۔ واللہ اعلم۔
ملاقات یا گھر یا مجلس میں آنے کے لئے اجازت کی ضرورت
عَنْ كَلَدَةَ بْنَ حَنْبَلٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بَعَثَهُ بِلَبَنٍ وَجَدَايَةٍ وَضَغَابِيسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى الوَادِي، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْجِعْ فَقُلْ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ (رواه الترمذى وابوداؤد)
کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ (ان کے اخیافی بھائی) صفوان بن امیہ نے ان کو دودھ اور ہرنی کا ایک بچہ اور کچھ کھیرے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول اللہ ﷺ وادی مکہ کے بالائی حصے میں تھے کلدہ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گیا اور نہ میں نے سلام کیا اور نہ حاضری کی اجازت چاہی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم واپس جاؤ اور (قاعدہ کے مطابق) “السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ” کہہ کر اجازت مانگو۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی ہدایت فرمائی ہے کہ جب کسی سے ملاقات کرنے کے لئے یا اس کے گھر یا اس کی مجلس میں کوئی جانا چاہے تو پہلے سلام کہے اور اجازت مانگے، اس کے بغیر ہرگز اچانک داخل نہ ہو، معلوم نہیں وہ اس وقت کس حال اور کس کام میں ہو، ممکن ہے اس وقت اس کے لئے ملنا مناسب نہ ہو۔
تشریح ..... یہ صفوان بن امیہ مشہور دشمنِ اسلام اور دشمنِ رسول ﷺ امیہ بن خلف کے لڑکے تھے۔ یہ اللہ کی توفیق سے فتح مکہ کے بعد اسلام لے آئے۔ اور یہ واقعہ جو اس روایت میں ذکر کیا گیا ہے غالباً فتح مکہ کے سفر ہی کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا قیام وادی مکہ کے اس بالائی حصہ میں تھا جس کو معلی کہتے ہیں۔ صفوان بن امیہ نے اپنے اخیافی بھائی کلدہ بن حنبل کو ہدیہ کے طور پر یہ تین چیزیں لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا۔ کچھ دودھ تھا، ایک ہرنی کا بچہ تھا اور کچھ کھیرے تھے۔ یہ اس سے واقف نہیں تھے کہ جب کسی سے ملنے کے لئے جانا ہو تو سلام کر کے اور پہلے اجازت لے کر جانا چاہئے اسی لئے یونہی حضور ﷺ کے پاس پہنچ گئے۔ آپ نے اس ادب کی تعلیم کے لئے ان سے فرمایا کہ: باہر واپس جاؤ اور کہو: “السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ” (السلام علیکم! کیا میں اندر آ سکتا ہوں) اور جب اجازت ملے تو آؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے سلام اور استیذان (یعنی اجازت چاہنے) کا طریقہ صرف زبانی بتا دینے کے بجائے اس سے عمل بھی کرا دیا۔ ظاہر ہے جو سبق اس طرح دیا جائے اس کو آدمی کبھی نہیں بھول سکتا۔
ملاقات یا گھر یا مجلس میں آنے کے لئے اجازت کی ضرورت
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَسْتَأْذِنُ عَلَى أُمِّي؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي مَعَهَا فِي الْبَيْتِ، قَالَ: «اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا» ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي خَادِمُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا أتُحِبُّ أَنْ تَرَاهَا عُرْيَانَةً؟» قَالَ: لا، قَالَ: «فَاسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا» . (رواه مالك مرسلا)
عطاء بن یسار تابعی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا میں اپنی ماں کے پاس جانے کے لئے بھی پہلے اجازت طلب کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! مان کے پاس جانے کے لئے بھی اجازت لو! اس شخص نے عرض کیا کہ: میں ماں کے ساتھ ہی گھر میں رہتا ہوں (مطلب یہ کہ میرا گھر کہیں الگ نہیں ہے، ہم ماں بیٹے ایک ہی گھر میں ساتھ رہتے ہیں۔ تو کیا ایسی صورت میں بھی میرے لئے ضروری ہے کہ اجازت لے کر گھر میں جاؤں؟)
آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! اجازت لے کر ہی جاؤ۔ اس شخص نے عرض کیا کہ: میں ہی اس کا خادم ہوں (اس کے سارے کام کاج میں ہی کرتا ہوں اس لیے بار بار جانا ہوتا ہے، ایسی صورت میں تو ہر دفعہ اجازت لیجنا ضروری نہ ہو گا) آپ ﷺ نے فرمایا کہ: نہیں، اجازت لے کر ہی جاؤ، کیا تم یہ پسند کرو گے کہ اس کو برہنہ دیکھو! اس شخص نے عرض کیا کہ: یہ تو ہرگز پسند نہیں کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر اجازت لے کر ہی جاؤ۔ (موطا امام مالک)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اجازت اور اچانک اپنی ماں کے گھر میں جانے کی صورت میں اس کا امکان ہے کہ تم ایسی حالت میں گھر میں پہنچو کہ تمہاری ماں کسی ضرورت سے کپڑے اتارے ہوئے ہو، اس لئے ماں کے پاس بھی اجازت لے کر ہی جانا چاہئے۔
ملاقات یا گھر یا مجلس میں آنے کے لئے اجازت کی ضرورت
عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَأْذَنُوا لِمَنْ لَمْ يَبْدَأْ بِالسَّلَامِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو شخص اجازت لینے سے پہلے سلام نہ کرے اس کو اجازت نہ دو۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اجازت لینیے کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ پہلے السلام علیکم کہے، اس کے بعد کہے کیا میں آ سکتا ہوں، اگر کوئی آدمی بغیر سلام کے اجازت چاہے تو اس کو اجازت نہ دو۔ بلکہ اس کو بتا دو کہ پہلے السلام علیکم کا دعائیہ کلمہ کہہ کے (جو اسلامی شعار بھی ہے) اسلامی اخوت اور للہی رشتہ کا اظہار کرے، اس کے بعد اجازت طلب کرے۔ جب وہ اس طریقہ پر اجازت طلب کرے تو اس کو اجازت دے دو۔
ملاقات یا گھر یا مجلس میں آنے کے لئے اجازت کی ضرورت
عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَأَلِجُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَادِمِهِ: " اخْرُجْ إِلَى هَذَا فَعَلِّمْهُ الِاسْتِئْذَانَ، فَقُلْ لَهُ: قُلِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَدْخُلُ؟ " فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَدْخُلُ؟ فَأَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ. (رواه ابوداؤد)
ربعی بن خراش (تابعی) روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے حاضری کی اجازت چاہی اور عرض کیا “أَأَلِجُ” (کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟) رسول اللہ ﷺ نے اپنے خدم سے فرمایا کہ اس شخص کے پاس جاؤ اور اسے اجازت طلب کرنے کا طریقہ بتاؤ اس سے کہو کہ وہ یوں کہے “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَدْخُلُ؟” اس شخص نے آپ ﷺ کی بات خود سن لی اور عرض کیا “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَدْخُلُ؟” تو آپ ﷺ نے آنے کی اجازت دے دی اور وہ آپ ﷺ کے پاس حاضر ہو گیا۔ (سنن ابی داؤد)
ملاقات یا گھر یا مجلس میں آنے کے لئے اجازت کی ضرورت
عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِنَا فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» فَرَدَّ اَبِىْ رَدًّا خَفِيًّا، قَالَ قَيْسٌ: فَقُلْتُ: أَلَا تَأْذَنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَرْهُ يُكْثِرُ عَلَيْنَا السَّلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» فَرَدَّ سَعْدُ رَدًّا خَفِيًّا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ تَسْلِيمَكَ وَأَرُدُّ عَلَيْكَ رَدًّا خَفِيًّا لِتُكْثِرَ عَلَيْنَا مِنَ السَّلَامِ، فَانْصَرَفَ مَعَهُ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ لَهُ سَعْدٌ بِغُسْلٍ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ مِلْحَفَةً مَصْبُوغَةً بِزَعْفَرَانٍ، أَوْ وَرْسٍ، فَاشْتَمَلَ بِهَا، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آلِ سَعْدِ» قَالَ: ثُمَّ أَصَابَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّعَامِ، فَلَمَّا أَرَادَ الِانْصِرَافَ قَرَّبَ لَهُ سَعْدٌ حِمَارًا قَدْ وَطَّأَ عَلَيْهِ بِقَطِيفَةٍ، فَقَالَ لِي سَعْدٌ: اصْحَبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَحِبْتُهُ فَقَالَ لِىْ «ارْكَبْ مَعِىْ» فَأَبَيْتُ، فَقَالَ: إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ فَانْصَرَفْتُ. (رواه ابوداؤد)
حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے فرزند قیس بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایک دن) ہمارے گھر پہ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے (قاعدے کے مطابق باہر سے) “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ” تو میرے والد (سعد بن عبادہؓ) نے (بجائے اس کے کہ آپ ﷺ کے سلام کا آواز سے جواب دیتے اور اندر تشریف لے آنے کے لئے عرض کرتے) بہت خفی آواز سے (کہ حضور سُن نہ سکیں) صرف سلام کا جواب دیا۔ تو میں نے کہا کہ آ پ حضور ﷺ سے اندر تشریف لانے کے لئے کیوں عرض نہیں کرتے؟ میرے والد نے فرمایا کہ بولو مت، ایسے ہی رہنے دو، تا کہ آپ بار بار ہمارے لئے سلام فرمائیں (اور ہمیں اس کی برکتیں حاصل ہوں) تو رسول اللہ ﷺ نے دوبارہ ارشاد فرمایا “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ” حضرت سعدؓ نے پھر اسی طرح چپکے سے سلام کا جواب دیا (جس کو حضور ﷺ نے نہیں سنا۔ تو پھر (تیسری بار) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ” (اور جب اس کے بعد بھی حضرت سعدؓ کی طرف سے کوئی جواب آپ ﷺ نے نہیں سنا) تو آپ واپس لوٹنے لگے۔ تو حضرت سعدؓ آپ ﷺ کے پیچھے آئے اور عرض کیا کہ: حضرت! میں آپ کا سلام سنتا تھا اور (دانستہ) چپکے سے جواب دیتا تھا، تا کہ آپ (ﷺ) بار بار ہمارے لئے سلام فرمائیں (اور ہمیں اس کی برکات حاصل ہوں) تو رسول اللہ ﷺ سعدؓ کے ساتھ ان ان کے گھر لوٹ آئے۔ حضرت سعدؓ نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا کہ حضور ﷺ کے غسل کا انتظام کیا جائے۔ چنانچہ حضور ﷺ نے غسل فرمایا۔ پھر حضرت سعدؓ نے حضور ﷺ کو ایک چادر دی (جو زعفران یا ورس سے رنگی ہوئی تھی) جسے آپ نے “اشمال” کے طریقے پر باندھ لیا، پھر آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھا کے اس طرح دعا فرمائی: اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آلِ سَعْد (اے میرے اللہ! اپنی خاص نوازشیں اور رحمتیں نازل فرما سعد کے گھر والوں پر) اس کے بعد آپ ﷺ نے کچھ کھانا تناول فرمایا۔ پھر جب آپ ﷺ نے واپسی کا ارادہ فرمایا تو میرے والد سعد بن عبادہ نے سواری کے لئے اپنا حمار پیش کیا۔ جس کی کمر پر چادر کا گدا بنا کر رکھ دیا گیا تھا اور مجھ سے فرمایا کہ تم حضور ﷺ کے ساتھ جاؤ، تو میں آپ ﷺ کے ساتھ ساتھ چلا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ: تم بھی میرے ساتھ سوار ہو جاؤ۔ میں نے معذرت کر دی اور سوار نہیں ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: یا تو میرے ساتھ تم بھی سوار ہو جاؤ یا پھر واپس چلے جاؤ (یعنی مجھے یہ گوارا نہیں کہ میں سوار ہو کر چلو اور تم ساتھ ساتھ پیدل چلو، واقعہ کے راوی قیس بن سعد کہتے ہیں کہ جب حضور ﷺ نے یہ فرمایا تو میں واپس لوٹ آیا۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کسی کے ہاں ملاقات کے لئے جائے تو پہلے “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ” کہہ کے اندر آنے کی اجازت چاہے۔ اور جب کوئی جواب نہ ملے تو دوسری دفعہ اور پھر جواب نہ ملے تو تیسری دفعہ “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ” کہہ کے اجازت مانگے، اور بالفرض اگر تیسری دفعہ بھی جواب نہ ملے تو پھر واپس ہو جائے۔
حضرت سعد بن عبادہ نے حضور ﷺ کے بار بار سلام اور اس کی برکات حاصل کرنے کے لئے جو رویہ اختیار کیا (جس کی وجہ سے حضور ﷺ کو تین دفعہ سلام کرنا اور اس کے بعد واپسی کا ارادہ کر لینا پڑا) بظاہر ایک نامناسب بات تھی، لیکن ان کی نیت اور جذبہ بہت مبارک تھا، اور حضور ﷺ کی مزاج شناسی کی بناء پر انہیں یقین تھا کہ آپ ﷺ اس سے ناراض نہ ہوں گے۔ اس لئے انہوں نے یہ جرأت کی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، اور حضور ﷺ نے کسی گرانی کا اظہار نہیں فرمایا، بلکہ ان کے جذبہ اور نیت کی قدر فرمائی، جیسا کہ آپ ﷺ کی دعا سے ظاہر ہے۔
اس روایت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ نے غسل فرمانے کے بعد ایک ایسی چادر لپیٹ لی جو زعفران یا ورس سے رنگی ہوئی تھی۔ حالانکہ دوسری بعض حدیثوں میں اس کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے کہ کوئی مرد زعفران یا ورس سے رنگا ہوا کپڑا پہنے (ورس بھی زعفران ہی کی طرح ایک نبات ہے جو رنگ دار بھی ہوتی ہے اور خوشبودار بھی) اب یا تو یہ سمجھا جائے کہ یہ واقعہ جو زیر تشریح حدیث میں ذکر کیا گیا ہے اس ابتدائی زمانہ کا ہے جب کہ مردوں کے لئے زعفران وغیرہ سے رنگے ہوئے کپڑوں کی ممانعت کا حکم نہیں آیا تھا، یا یہ کہا جائے کہ جو چادر حضور ﷺ نے استعمال فرمائی وہ کبھی پہلے رنگی گئی تھی لیکن بعد میں اچھی طرح دھو دی گئی تھی، اور ایسی صورت میں اس کا استعمال مردوں کے لئے بھی جائز ہے۔ واللہ اعلم۔
ملاقات کو آنے والے کا حق ہے کہ اس کو پاس بٹھایا جائے
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ قَاعِدٌ، فَتَزَحْزَحَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فِي الْمَكَانِ سَعَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلْمُسْلِمِ حَقًّا إِذَا رَآهُ أَخُوهُ أَنْ يَتَزَحْزَحَ لَهُ ". (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
واثلہ بن الخطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے، ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ ان کے لئے اپنی جگہ سے کھسک گئے۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضرت (اپنی جگہ تشریف رکھیں) جگہ میں کافی گنجائش ہے (مطلب یہ تھا کہ میرے لئے اپنی جگہ سے ہٹنے کی حضرت زحمت نہ فرمائیں) حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: مسلم کا یہ حق ہے کہ جب کوئی بھائی اس کو (اپنے پاس آتا) دیکھے تو اس کے لئے اپنی جگہ سے کچھ ہٹے (اور اپنے قریب بٹھائے)۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی بڑے سے بڑے کے پاس بھی کوئی مسلم آئے تو اس کو بھی اس کے ساتھ اکرام کا یہی برتاؤ کرنا چاہئے، اس میں رسول اللہ ﷺ سے قرب و جان نشینی کی نسبت رکھنے والے بزرگوں کے لئے خاص سبق ہے۔
مجلس سے کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھنا چاہئے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوْا وَتَوَسَّعُوْا» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی آدمی ایسا نہ کرے (یعنی کسی کو اس کا حق نہیں ہے) کہ کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس جگہ بیٹھ جائے، بلکہ لوگوں کو چاہئے کہ (آنے والوں کے لئے) کشادگی اور گنجائش پیدا کریں (اور ان کو جگہ دے دیں) (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں اس بات سے ممانعت فرمائی گئی ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس جگہ بیٹھ جائے لیکن اگر خود بیٹھنے والا ایثار کر کے کسی کے لئے اپنی جگہ خالی کر دے تو اپنی نیت کے مطابق وہ اجر کا مستحق ہو گا۔
مجلس سے کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھنا چاہئے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ» وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ «مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ» (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو شخص اپنی جگہ سے (کسی ضرورت سے) اٹھا اور پھر واپس آ گیا تو اس جگہ کا وہی شخص زیادہ حق دار ہے۔ (صحیح مسلم)
مجلس میں دو آدمیوں کے بیچ میں ان کی اجازت کے بغیر بیٹھنا چاہئے
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَجْلِسْ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا» (رواه ابوداؤد)
عمرو بن شعیب اپنے والد شعیب سے اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: دو آدمیوں کے بیچ میں ان کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
یہی حدیث حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے سنن ابی داؤد ہی میں اور اس کے علاوہ جامع ترمذی میں بھی ایک دوسرے طریقے سے ان الفاظ میں روایت کی گئی ہے: “لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا” (کسی کے لئے یہ بات جائز نہیں کہ (قریب قریب بیٹھے ہوئے) دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ کر انہیں ایک دوسرے سے الگ کر دے)
سبحان اللہ العظیم! رسول اللہ ﷺ کی ان تعلیمات و ہدایات میں لطیف انسانی جذبات اور نازک احساسات کا کتنا لحاظ فرمایا گیا ہے۔