اپنی تعظیم کے لئے بندگانِ خدا کا کھڑا ہونا جسے اچھا لگے وہ جہنمی ہے
عَنْ مُعَاوِيَةُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ. (رواه ابوداؤد والترمذى)
حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ سے روایت ہے کہ جس آدمی کو اس بات سے خوشی ہو کہ لوگ اس کی تعظیم میں کھڑے رہیں، اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
ظاہر ہے کہ اس وعید کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ کوئی آدمی خود یہ چاہے اور اسی سے خوش ہو کہ اللہ کے بندے اس کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوں اور یہ تکبر کی نشانی ہے، اور تکبر والوں کی جگہ جہنم ہے، جس کے حق میں فرمایا گیا ہے: “بِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ” (وہ دوزخ متکبرین کا برا ٹھکانہ ہے) لیکن اگر کوئی آدمی خود بالکل نہ چاہے مگر دوسرے لوگ اکرام اور عقیدت و محبت کے جذبہ میں اس کے لئے کھڑے ہو جائیں تو یہ بالکل دوسری بات ہے۔ اگرچہ رسول اللہ ﷺ اپنے لئے اس کو بھی پسند نہیں فرماتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ اپنے لئے تعظیمی قیام کو ناپسند فرماتے تھے
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى عَصًا فَقُمْنَا لَهُ فَقَالَ: «لَا تَقُومُوا كَمَا يَقُومُ الْأَعَاجِمُ، يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا» (رواه ابوداؤد)
حضرت ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ عصا کا سہارا لیتے ہوئے باہر تشریف لائے تو ہم کھڑے ہو گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اس طرح مت کھڑے ہو جس طرح عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاے ہیں۔ (سنن ابی داؤد)
رسول اللہ ﷺ اپنے لئے تعظیمی قیام کو ناپسند فرماتے تھے
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ. (رواه الترمذى)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کے لئے کوئی شخصیت بھی رسول اللہ ﷺ سے زیادہ محبوب نہیں تھی اس کے باوجود ان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے تھے، کیوں کہ جانتے تھے کہ یہ آپ ﷺ کو ناپسند ہے۔ (جامع ترمذی)
صاحب ِ مجلس کے اُٹھنے پر اہلِ مجلس کا کھڑا ہو جانا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ مَعَنَا فِي الْمَسْجِدِ يُحَدِّثُنَا، فَإِذَا قَامَ قُمْنَا قِيَامًا حَتَّى نَرَاهُ قَدْ دَخَلَ بَعْضَ بُيُوتِ أَزْوَاجِهِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ مسجد میں تشریف فرما تھے اور ہم سے باتیں فرماتے تھے، پھر جب آپ (گھر تشریف لے جانے کے لئے مجلس سے) اٹھتے تو ہم سب لوگ بھی کھڑے ہو جاتے، اور اس وقت تک کھڑے رہتے جب کہ ہم دیکھ لیتے کہ ازواجِ مطہرات کے گھروں میں سے کسی گھر میں آپ ﷺ داخل ہو گئے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
صحابہ کرام کو اس طریقہ عمل سے رسول اللہ ﷺ کا منع نہ فرمانا اس کی دلیل ہے کہ اس کو آپ ﷺ نے گوارا فرمایا، حالانکہ ابھی م علوم ہو چکا ہے کہ مجلس میں تشریف آوری کے وقت لوگوں کے کھڑے ہونے کو آپ ﷺ ناپسند فرماتے تھے۔ اس عاجز کے نزدیک ان دونوں صورتوں میں فرق یہ ہے کہ مجلس میں تشریف آوری کے وقت اہلِ مجلس کا کھڑا ہونا صرف تعظیم ہی کے لئے ہوتا تھا جو آپ کے لئے گرانی کا باعث ہوتا تھا، اور مجلس سے حضور ﷺ کے اُٹھ جانے کے وقت کھڑا ہونا مجلس کے برخواست ہو جانے کی وجہ سے بھی ہوتا تھا، اس کے بعد خود اہلِ مجلس بھی اپنے اپنے ٹھکانوں پر جانے والے ہوتے تھے، اس لئے کھڑے ہونے کو حضور ﷺ گوارا فرما لیتے تھے۔ واللہ اعلم۔
لیٹنے ، سونے اور بیٹھنے کے بارے میں حضور ﷺ کی ہدایات اور آپ ﷺ کا طریقہ: سپاٹ چھت پر سونے کی ممانعت
عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَطْحٍ لَيْسَ بِمَحْجُورٍ عَلَيْهِ. (رواه الترمذى)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو ایسی چھت پر پر سونے سے منع فرمایا، جو (دیواروں یا منڈیروں سے) گھیری نہ گئی ہو۔ (جامع ترمذی)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے لیٹنے، سونے اور بیٹھنے کے بارے میں بھی امت کو ہدایات دی ہیں، اور اپنے طرزِ عمل سے بھی رہنمائی فرمائی ہے۔ ذیل میں اس سلسلہ کی چند احادیث پڑھئے اور آپ ﷺ کی تعلیم و ہدایت کی جامعیت کا اندازہ کیجئے۔
تشریح .....ظاہر ہے کہ جو چھت دیواروں یا منڈیروں سے گھیری نہ گئی ہو اس پر سونے سے اس کا اندیشہ ہے کہ آدمی نیند کی غفلت میں چھت سے نیچے گر جائے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
لیٹنے ، سونے اور بیٹھنے کے بارے میں حضور ﷺ کی ہدایات اور آپ ﷺ کا طریقہ: سپاٹ چھت پر سونے کی ممانعت
عَنْ عَلِيٍّ ابْنَ شَيْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ عَلَيْهَِ حِجَابٌ (وَفِىْ رِوَايَةً حِجَارٌ) فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ» (رواه ابوداؤد)
علی بن شیبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو شخص کسی گھر کی ایسی چھت پر سوئے جس پر پردہ اور رکاوٹ کی دیوار نہ ہو تو اس کی ذمہ داری ختم ہو گئی۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
یہ دراصل ممانعت کا ایک بلیغ انداز ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کی حفاظت کے جو غیبی انتظامات ہیں، جن کا اشارہ قرآن مجید میں بھی کیا گیا ہے (قُلْ مَن يَكْلَؤُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ الآية) تو اگر کوئی آدمی جان بوجھ کر ایسی چھت پر سوتا ہے جس کے گرد رکاوٹ کے لئے کوئی دیوار یا منڈیر نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ کے اس حفاظتی انتظام کا استحقاق کھو دیتا ہے اور ملائکہ محافظین کی کوئی ذمہ داری نہیں رہتی اور اگر خدانخواستہ وہ گر کے ہلاک ہو جاتا ہے یا اس کو سخت جسمانی صدمہ پہنچ جاتا ہے تو کسی دوسرے پر اس کی ذمہ داری نہیں وہ خود ہی ذمہ دار ہے۔
کھڑی ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر لیٹنے کی ممانعت اور اس کی وجہ
عَنْ جَابِرٍ، نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ» (رواه مسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی چت لیٹنے کی حالت میں اپنی ایک ٹانگ اٹھا کے دوسری ٹانگ پر رکھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حضور ﷺ کے زمانہ میں عربوں میں عام طور سے تہبند باندھنے کا رواج تھا اور ظاہر ہے کہ اگر تہبند باند کے اس طرح چ ت لیٹا جائے کہ اپنا ایک زانو کھڑا کر کے دوسرا پاؤں اس کے اوپر رکھا جائے تو بسا اوقات ستر کھل جائے گا۔ غالباً اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے اس طرح لیٹنے سے منع فرمایا۔ لیکن اگر لباس ایسا ہو کہ اس طرح لیٹنے سے ستر کھل جانے کا اندیشہ نہ ہو تو ظاہر یہی ہے کہ اس کی ممانعت نہ ہو گی۔ واللہ اعلم۔
پیٹ کے بل اوندھے لیٹنے کی ممانعت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلاً مُضْطَجِعًا عَلَى بَطْنِهِ فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ لاَ يُحِبُّهَا اللَّهُ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو پیٹ کے بل اوندھا لیٹا ہوا دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ لیٹنے کا یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
ظاہر ہے کہ یہ لیٹنے کا غیر فطری اور غیر مہذب طریقہ ہے اسی لئے اس کوناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے ایک دوسری حدیث میں اس کو دوزخیوں کا طریقہ بھی فرمایا گیا ہے۔
پیٹ کے بل اوندھے لیٹنے کی ممانعت
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُضْطَجِعٌ عَلَى بَطْنِي، فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: «يَا جُنْدُبُ، إِنَّمَا هَذِهِ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ» (رواه ابن ماجه)
حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے اور میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا تو آپ ﷺ نے اپنے قدم مبارک سے مجھے ہلایا اور فرمایا: اے جندب! یہ دوزخیوں کے لیٹنے کا طریقہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
کسی عمل یا کسی عادت کی قباحت یا شناخت اہل ایمان کے دلوں پر بٹھانے کے لئے یہ نہایت موثر طریقہ ہے کہ ان کو بتایا جائے کہ یہ دوزخیوں کا طریقہ یا ان کی عادت ہے۔ جندت حضرت ابو ذرغفاری ؓ کا اصل نام ہے۔ حضور ﷺ نے اس تعلیم و ہدایت کے وقت ان کو اسی نام سے یاد فرمایا۔
خود آنحضرتﷺ کس طرح لیٹتے تھے
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَرَّسَ بِلَيْلٍ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ، وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْحِ، نَصَبَ ذِرَاعَهُ، وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ» (رواه فى شرح السنة)
حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول اور دستور تھا کہ (سفر میں) جب آپ ﷺ رات میں پڑاؤ کرتے تو داہنی کروٹ پر آرام فرماتے اور جب صبح سے کچھ پہلے پڑاؤ کرتے تو اپنی کلائی کھڑی کر لیتے اور سر مبارک اپنی ہتھیلی پر رکھ کر کچھ آرام لے لیتے۔ (شرح السنہ للبغوی)
تشریح
اہلِ عرب عام طور سے رات کے ٹھنڈے وقت میں سفر کرتے تھے، پھر اگر سفر سویرے سرِ شام شروع کرتے تو کسی مناسب جگہ ایسے وقت آرام کے لئے اتر جاتے اور پڑاؤ کرتے کہ رات کا کافی حصہ باقی ہوتا تھا اور سونے کا کافی موقع مل جاتا تھا۔ اور اگر سفر دیر رات سے شروع کرتے تو آرام کے لئے صبح سے کچھ پہلے اتر جاتے تھے۔ حضرت ابو قتادہؓ کی اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ حضور ﷺ جب ایسے وقت اترتے اور پڑاؤ کرتے کہ رات کافی باقی ہوتی تو آپ ﷺ سونے کے لئے اطمینان سے داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے جیسا کہ سونے میں آپ ﷺ کا ہمیشہ معمول تھا۔ اور جب آپ ﷺ رات کے بالکل آخری حصہ میں اترتے کہ فجر کا وقت ہوتا تو آپ اپنی کہنی ٹیک کے اور کلائی کھڑی کر کے ہتھیلی پر سر مبارک رکھ کر لیٹ جاتے تھے، اور اس طرح گویا نمازِ فجر کا انتظار فرماتے تھے۔ اس قسم کی احادیث سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ کے لیٹنے اور سونے تک کی ہستیوں کو بھی کتنے اہتمام سے محفوظ رکھ کر امت کو پہنچایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس فکر و کاوش کا ان کو بہتر سے بہتر صلہ پوری امت کی طرف سے عطا فرمائے اور ہم کو اتباع اور پیروی کی توفیق دے۔
خود آنحضرتﷺ کس طرح لیٹتے تھے
عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ، وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ خَدِّهِ، ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا» وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: «الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ» (رواه البخارى)
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا جب آپ ﷺ رات کو بستر پر لیٹتے تو اپنا ہاتھ رخسار مبارک کے نیچے رکھ لیتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کرتے “اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا” (اے اللہ! میں تیرے ہی نام کے ساتھ مرنا چاہتا ہوں، اور تیرے ہی نام کے ساتھ جیسا چاہتا ہوں) اور پھر جب آپ ﷺ بیدار ہوتے تو اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کرتے “الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ” (ساری حمد و ستائش اس اللہ کے لئے جس نے ہمیں (ایک طرح کی) موت دینے کے بعد جِلا دیا، اور مرنے کے بعد اسی کی طرف ہمارا اُٹھنا ہو گا)۔ (صحیح بخاری)
تشریح
دوسری روایتوں میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپ ﷺ داہنی کروٹ پر داہنا ہاتھ رخسار مبارک کے نیچے رکھ کر لیٹتے رھے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین فرماتے تھے۔ علاوہ ازیں اس حدیث میں سونے کے لئے لیٹنے کے وقت اور پھر جاگتے وقت کی جس مختصر دعا کا ذکر ہے دوسری حدیثوں میں اس کے علاوہ بھی متعدد دعائیں ان دونوں موقعوں کے لئے روایت کی گئی ہیں۔ یہ سب حدیثیں اس سلسلہ معارف الحدیث کی پانچویں جلد میں “زیر عنوان” سونے کے وقت کی دعائیں درج کی جا چکی ہیں۔
سو کے اٹھ کر مسواک کا اہتمام
عَنْ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَنَامُ إِلَّا وَالسِّوَاكُ عِنْدَهُ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ» (رواه احمد والحاكم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ سونے کا ارادہ کرتے تو مسواک اپنے سرہانے رکھ لیتے، پھر جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک کرتے۔ (مسند احمد، مستدرک حاکم)
سو کے اٹھ کر مسواک کا اہتمام
عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ، فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا تَسَوَّكَ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ» (رواه ابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات میں یا دن میں جب بھی سوتے تو اُٹھ کر مسواک ضرور کرتے۔ (سنن ابی داؤد)
حضور ﷺ کس طرح بیٹھتے تھے اور کس طرح بیٹھنے کی ہدایت فرماتے تھے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِنَاءِ الكَعْبَةِ، مُحْتَبِيًا بِيَدِهِ» (رواه البخارى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، بیان رماتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ کے صحن میں احتبا کے طور پر (یعنی گوٹ مارے)بیٹھا دیکھا ہے۔ (صحیح بخاری)
تشریح
احتبا بیٹھنے کا ایک خاص طریقہ ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ دونوں سرینیں اور دونوں پاؤں کے تلوے زمین پر ہوں اور دونوں زانوں کھڑ ہوں اور ان کو دونوں ہاتھوں کے حلقہ میں لے لیا جائے، یہ اہل تفکر اور اصحاب مسکنت کے بیٹھنے کا طریقہ ہے، اس کو ہندی میں گوٹ مار کے بیٹھنا بھی کہتے ہیں۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اکثر اس طرح بیٹھتے تھے۔
حضور ﷺ کس طرح بیٹھتے تھے اور کس طرح بیٹھنے کی ہدایت فرماتے تھے
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ تَرَبَّعَ فِي مَجْلِسِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسْنَاءَ» (رواه ابوداؤد)
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ معمول تھا کہ فجر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ اپنی اسی جگہ میں چہار زانو بیٹھے رہتے تھے، یہاں تک کہ آفتاب اچھی طرح نکل ا ٓتا تھا۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ احتبا کی شکل ک علاوہ چہار زانو بھی بیٹھتے تھے۔ اور حدیث کے راوی جابر بن سمرہ کے بیان کے مطابق فجر کی نماز کے بعد سے طلوع آفتاب کے بعد تک (گویا اشراق تک) حضور ﷺ مسجد شریف میں اپنی جگہ پر چہار زانو ہی بیٹھے رہتے تھے۔
مجلس میں آنے والے کو چاہئے کہ مجلس کے کنارے ہی بیٹھ جائے
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي» (رواه ابوداؤد)
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم لوگوں کا (یعنی صحابہ کا)یہ طریقہ اور دستور تھا کہ جب ہم میں سے کوئی حضور ﷺ کی مجلس میں آتا تو (حاضرین مجلس کے درمیان سے گزر کے آگے جانے کی کوشش نہیں کرتا تھا بلکہ) کنارے ہی بیٹھ جایا کرتا تھے۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
اصولِ حدیث میں یہ بات مسلم اور مقرر ہو چکی ہے کہ کسی صحابی کا یہ بیان کرنا کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں آپ ﷺ کے صحابہؓ ایسا کیا کرتے تھے اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کا وہ عمل آپ ﷺ کی مرضی کے مطابق اور آپ ﷺ ہی کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ تھا۔ اس بناء پر اس حدیث کا مطلب اور مدعا یہ ہو گا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ ادب سکھایا تھا کہ جب مجلس قائم ہو اور کوئی آدمی بعد میں آئے تو وہ مجلس کے کنارے پر جہاں جگہ پائے وہاں بیٹھ جائے۔ ہاں صاحبِ مجلس کو حق ہے کہ کسی خصوصیت یا کسی مصلحت کے پیش نظر اس کو آگے بلا لے۔
حلقہ کے بیچ میں آ کر بیٹھ جانا سخت ممنوع ہے
عَنْ حُذَيْفَةَ مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَعَدَ وَسْطَ الْحَلْقَةِ» (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی زبان مبارک نے اس شخص کو قابل لعنت قرار دیا ہے جو بیچ حلقہ میں بیٹھ جائے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
شارحین نے اس حدیث کی کئی توجیہیں کی ہیں: ایک یہ کہ اللہ کے بندے حلقہ بنائے بیٹھے ہیں، ایک متکبر یا بےتمیز اور ادب سے ناآشنا آدمی لوگوں کے اوپر سے پھلانگ کے حلقہ کے بیچ میں آ کر بیٹھ جاتا ہے بلا شبہ یہ سخت مجرمانہ حرکت ہے، اور ایسا آدمی لوگوں کی لعنت کا مستحق ہے۔ دوسری توجیہ یہ کی گئی ہے کہ اللہ کے کچھ بندے حلقہ بنائے بیٹھے ہیں اور ہر ایک کا دوسرے سے مواجہہ یعنی آمنا سامنا ہے، ایک آدمی آ کر اس طرھ حلقہ کے بیچ میں بیٹھ جاتا ہے کہ بعض لوگوں کا مواجہہ باقی نہیں رہتا ظاہر ہے کہ یہ بھی بہت بےہودہ حرکت ہے۔ تیسری توجیہ یہ کی گئی ہے کہ اس سے وہ مسخرے مراد ہیں جو لوگوں کے بیچ میں ان کو ہنسانے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں اور یہی ان کا مشغلہ ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
متفرق ہو کر بیٹھنے کی ممانعت
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابُهُ جُلُوْسٌ فَقَالَ: «مَالِي أَرَاكُمْ عِزِينَ» (رواه ابوداؤد)
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور صحابہ متفرق الگ الگ (ٹکڑیاں بنائے) بیٹھتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے کیا ہو گیا ہےکہ میں تمہیں الگ الگ بیٹھے دیکھ رہا ہوں۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
کسی چیز پر اظہار ناراضی کا یہ ایک خاص انداز ہے کہ کہا جائے “میری آنکھیں یہ کیا دیکھ رہی ہیں” یعنی جو کچھ دیکھنے میں آ رہا ہے وہ نہیں ہونا چاہئے اور نظر نہ آنا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ الگ الگ ٹکڑیوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے حیرت کا اظہار فرما کر تنبیہ فرمائی اور بتایا کہ بجائے اس طرح الگ الگ بیٹھنے کے سب مل کر قرینے سے بیٹھو۔ بعض دوسری حدیثوں میں اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اس سے ظاہری تفرق اور تشتت کا اثر دلوں میں پڑتا ہے اور مل کر ساتھ بیٹھنے سے قلوب میں جوڑ اور توافق پیدا ہوتا ہے۔
اس طرح نہ بیٹھا جائے کہ جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں ہو اورکچھ سائے میں
عَنْ أَبِىْ هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْفَيْءِ فَقَلَصَ عَنْهُ الظِّلُّ، فَصَارَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ، وَبَعْضُهُ فِي الظِّلِّ فَلْيَقُمْ» (رواه ابوداؤد)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سایہ کی جگہ میں بیٹھا ہو پھر اس پر سے سایہ ہٹ جائے اور پھر اس کے جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں اور کچھ سائے میں ہو جائے تو اس چاہئے کہ وہ اس جگہ سے اُٹھ جائے۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
ماہرین نے بتایا ہے کہ اس طرح بیٹھنا یا لیٹنا کہ جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں اور کچھ سایہ میں ہو طبی لحاظ سے مضر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ ممانعت غالبا اسی لئے فرمائی ہو گی۔ واللہ اعلم۔
مجلس میں گفتگو ، ہنسی و مزاح ، چھینک اور جمائی وغیرہ کے بارے میں ہدایات: بےضرورت بات کو لمبا نہ کیا جائے
عَنْ عَمْرِو ابْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: يَوْمًا وَقَامَ رَجُلٌ فَأَكْثَرَ الْقَوْلَ فَقَالَ عَمْرٌو: لَوْ قَصَدَ فِي قَوْلِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَقَدْ رَأَيْتُ، أَوْ قَالَ أُمِرْتُ، أَنْ أَتَجَوَّزَ فِي الْقَوْلِ، فَإِنَّ الْجَوَازَ هُوَ خَيْرٌ» (رواه ابوداؤد)
حضرت عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن جب کہ ایک شخص نے (ان کی موجودگی میں) کھڑے ہو کر (وعظ و تقریر کے طور پر) بات کی اور بہت لمبی بات کی، تو آپ نے فرمایا کہ: اگر یہ شخص مختصر بات کرتا تو اس کے لئے زیادہ بہتر ہوتا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: میں یہ مناسب سمجھتا ہوں۔ یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ: مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہے “بات کرنے میں اختصار سے کوم لوں کیوں کہ بات میں اختصار ہی بہتر ہوتا ہے”۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
رسول اللہ ﷺنے امت کو اس بارے میں واضح ہدایات دی ہیں کہ بات چیت میں کن باتوں کا لحاظ رکھا جائے، اور ظرافت و مزاح اور کسی بات پر ہنسنے یا چھینک اور جمائی آنے کے جیسے موقعوں پر کیا رویہ اختیار کیا جائے۔ اس سلسلہ کی آپ ﷺ کی ہدایات و تعلیمات کی روح یہ ہے کہ بندہ اپنے فطری اور معاشرتی تقاضوں و وقار اور خوبصورتی کے ساتھ پورا کرے لیکن ہر حال میں اللہ کو اور اس کے ساتھ اپنی بندگی کی نسبت کو اور اس کے احکام اور اپنے عمل اور رویہ کے اُخروی انجام کو پیش نظر رکھے۔
زبان کے استعمال اور بات چیت کے بارے میں آنحضرتﷺ کے ارشادات کا کافی حصہ اسی سلسلہ معارف الحدیث کی دوسری جلد (کتاب الاخلاق) میں درج ہو چکا ہے۔ سچ اور جھوٹ، شیریں کلامی اور بدزبانی، چغل خوری و عیب جوئی یا وہ گوئی، غیبت اور بہتان وغیرہ کے متعلق احادیث وہاں گزر چکی ہیں، اس لئے گفتگو اور زبان کے استعمال کے سلسلہ میں چند باقی مضامین کی حدیثیں ہی یہاں درج کی جا رہی ہیں۔
تشریح .....تجربہ شاہد ہے کہ بہت لمبی بات سے سننے والے اکتا جاتے ہیں اور دیکھا ہے کہ بعض اوقات کسی تقریر یا وعظ سے سامعین شروع میں بہت اچھا تاثر لیتے ہیں لیکن جب بات حد سے زیادہ لمنی ہو جاتی ہے تو لوگ اکتا جاتے ہیں، اور وہ اثر بھی زائل ہو جاتا ہے۔