منہ سے نکلنے والی کوئی بات وسیلہ فوز و فلاھ بھی ہو سکتی ہے اور موجب ہلاکت بھی
عَنْ بِلالِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنَ الْخَيْرِ، مَا يَعْلَمُ مَبْلَغَهَا يَكْتُبُ اللَّهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنَ الشَّرِّ، مَا يَعْلَمُ مَبْلَغَهَا يَكْتُبُ اللَّهُ بِهَا عَلَيْهِ سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ». (رواه فى شرح السنة روى والترمذى وابن ماجه نحوه)
بلال بن الحارث ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: آدمی کی زبان سے کبھی خیر اور بھلائی کی کوئی ایسی بات نکل جاتی ہے جس کی پوری برکت اور قدر و قیمت وہ خود بھی نہیں جانتا، مگر اللہ تعالیٰ اسی ایک بات کی وجہ سے اپنے حضور میں حاضری تک کے لئے اس بندہ کے واسطے اپنی رضا طے فرما دیتا ہے۔ اور (اسی طرح) کبھی آدمی کی زبان سے شرج، کی کوئی ایسی بات نکل جاتی ہے جس کی برائی اور خطرناکی کی حد وہ خود بھی نہیں جانتا مگر اللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے اس آدمی پر آخرت کی پیشی تک کے لئے اپنی ناراضی اور اپنے غضب کا فیصلہ فرما دیتا ہے۔ (شرح السنہ للبغوی)
(اور ایسی ہی حدیث امام مالکؒ نے موطا میں اور امام ترمذیؒ نے اپنی جامع مین اور ابن ماجہ نے اپنی سنن میں روایت کی ہے)۔
تشریح
حدیث کا مقصد و مدعا یہ ہے کہ بندے کو چاہئے کہ اللہ اور آخرت کے انجام سے غافل و بےپروا ہو کر باتیں نہ کرے، منہ سے نکلنے والی بات ایسی بھی ہو سکتی ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی خاص رضا و رحمت کا مستحق بنا دے، اور (خدا پناہ میں رکھے) ایسی بھی ہو سکتی ہے جو اس کی رضا و رحمت الہی سے محروم کر کے جہنم میں پہنچا دے۔
کسی کی تعریف کرنا دراصل اس کے حق میں ایک شہادت اور گواہی ہے جو بڑی ذمہ داری کی بات ہے اور اس سے اس کا بھی خطرہ ہے کہ اس آدمی میں اعجابِ نفس اور خود پسندی پیدا ہو جائے، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں سخت احتیاط کی تاکید فرمائی ہے۔ افسوس ہے کہ اس تعلیم و ہدایت سے فی زماننا ہمارے دینی حلقوں میں بھی بڑی بے پروائی برتی جا رہی ہے۔ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا
کسی کی تعریف کرنے میں بھی احتیاط سے کام لیا جائے
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: أَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيْكَ ثَلَاثًا» .... «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا لاَ مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلاَنًا، وَاللَّهُ حَسِيبُهُ، إِنْ كَانَ يَرَى إِنَّهُ كَذَالِكَ وَلاَ يُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو بکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک صاحب نے ایک دوسرے صاحب کی تعریف کی (اور اس تعریف میں بےاحتیاطی کی) تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: تم نے اپنے اس بھائی کی (اس طرح تعریف کر کے) گردن کاٹ دی (یعنی ایسا کام کیا جس سے وہ ہلاک ہو جائے) یہ بات آپ ﷺ نے تین بار ارشاد فرمائی۔ (س کے بعد فرمایا) تم میں سے (کسی بھائی کی) تعریف کرنا ضروری ہی سمجھے اور اس کو اس تعریف و مدح کا مستحق سمجھے تو یوں کہے کہ میں فلاں بھائی کے بارے میں ایسا گمان کرتا ہوں (اور میری اس کے بارے میں یہ رائے ہے) اور اس کا حساب کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے (جس کو حقیقت کا پورا علم ہے) اور ایسا نہ کرے کہ خدا پر کسی کی پاکیزگی کا حکم لگائے (یعنی کسی کے حق میں ایسی بات نہ کہے کہ وہ بلاشبہ اور یقینا عنداللہ پاک اور مقدس ہے، کیوں کہ یہ خدا پر حکم لگانا ہے اور کسی بندہ کو اس کا حق نہیں ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
کسی کی تعریف کرنے میں بھی احتیاط سے کام لیا جائے
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ، فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمِ التُّرَابَ» (رواه مسلم)
حضرت مقداد بن الاسود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم “مداحین” (بہت زیادہ تعریف کرنے والوں) کو دیکھو تو ان کے منہ پر خاک ڈال دو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں “مداحین” سے غالبا وہ لوگ مراد ہیں جو لوگوں کی خوشامد اور چاپلوسی کےلئے اور پیشہ وارانہ طور پر ان کی مبالغہ آمیز تعریفیں اور ان کی قصیدہ خوانی کیا کرتے ہیں، اس حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جب ایسے لوگوں سے سابقہ پڑے اور وہ تمہارے منہ پر تمہاری مبالغہ آمیز تعریفیں کریں تو ان کے منہ پر خاک ڈال دو۔ اس کا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اظہارِ ناراضگی کے طور پر ان کے منہ پر حقیقۃً خاک ڈال دو۔ دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ انہیں کسی قسم کا انعام و اکرام کچھ نہ دو گویا “منہ پہ خاک ڈالنے” کا مطلب انہیں کچھ نہ دینا اور محروم و نامراد واپس کر دینا ہے اور بلاشبہ یہ بھی ایک محاورہ ہے۔ تیسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان مداحین سے کہہ دو کہ تمہارے منہ میں خاک! گویا یہ کہنا کہ منہ میں خاک ڈالنا ہے۔ حدیث کے راوی حضرت مقداد بن الاسود سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ایک آدمی نے ان کی موجودگی میں حضرت عثمان ؓ کے سامنے ان کی تعرید کی تو انہوں نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے مٹی زمین سے اُٹھا کے اس شخص کے منہ پر پھینک ماری۔ زمانہ مابعد کے بعض اکابر سے بھی اسی طرح کے واقعات مروی ہیں۔
واضح رہے کہ اگر اچھی نیت اور کسی چینی مصلحت سے کسی بندہ خدا کی سچی تعریف اس کے سامنے یا اس کے پیچھے کی جائے اور اس کا خطرہ نہ ہو کہ وہ اعجاب نفس اور اپنے بارے میں کسی غلط قسم کی خوش فہمی میں مبتلا ہو جائے گا تو ایسی تعریف کی ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ ان شاء اللہ اچھی نیت کے مطابق وہ اس پر اجر و ثواب کا مستحق ہو گا، خود رسول اللہ ﷺ نے بعض صحابہ کی اور بعض صحابہ کرام نے بعض دوسرے صحابیوں کی جو روح و تعریف کبھی کی ہے وہ اسی قبیل سے ہے۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْرُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ كَلَامٌ فَحَسَنَهُ حَسَنٌ , وَقَبِيحُهُ قَبِيحٌ». (رواه الدار قطنى وروى الشافعى عن عودة مرسلا)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے شعر کے بارے میں ذکر آیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: شعر بھی کلام ہے۔ اس میں جو اچھا ہے وہ اچھا ہے اور جو برا ہے وہ برا ہے۔ (سنن دار قطنی)
اور امام شافعی نے اسی حدیث کو حضرت عائشہ صدیقہؓ کے بھانجے حضرت عروہ سے مرسلا روایت کیا ہے۔
تشریح
واضح رہے کہ اگر اچھی نیت اور کسی چینی مصلحت سے کسی بندہ خدا کی سچی تعریف اس کے سامنے یا اس کے پیچھے کی جائے اور اس کا خطرہ نہ ہو کہ وہ اعجاب نفس اور اپنے بارے میں کسی غلط قسم کی خوش فہمی میں مبتلا ہو جائے گا تو ایسی تعریف کی ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ ان شاء اللہ اچھی نیت کے مطابق وہ اس پر اجر و ثواب کا مستحق ہو گا، خود رسول اللہ ﷺ نے بعض صحابہ کی اور بعض صحابہ کرام نے بعض دوسرے صحابیوں کی جو روح و تعریف کبھی کی ہے وہ اسی قبیل سے ہے۔
شعر و سخن
اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں اور اس سے پہلے بھی شعر و شاعر ی عام تھی اور شاذ و نادر ہی ایسے لوگ تھے جو اس کا ذوق نہ رکھتے ہوں، لیکن خود آنحضرتﷺ کو اس سے بالکل مناسبت نہ تھی۔ بلکہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ مشیت الٰہی نے خاص حکمت کے تحت آپ ﷺ کو اس سے بالکل محفوظ رکھا۔ سورہ یٰسین شریف میں فرمایا گیا ہے:
وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ (يسن 69:36)
ہم نے اپنے نبی کو شعر و شاعری کا علم نہیں دیا اور وہ ان کے لئے مناسبت اور سزاوار نہیں تھا۔
علاوہ ازیں جس قسم کی شعر و شاعری کا وہاں عام رواج تھا اور یہ شاعر جس سیرت و کردارکے ہوتے تھے قرآن مجید میں اس کی مذمت کی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے:
وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ﴿٢٢٤﴾ أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ ﴿٢٢٥﴾وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ (الشعراء224:27-226)
اور ان شاعروں کا حال یہ ہے کہ بےرا اور بدچلن لوگ ہی ان کی راہ چلتے ہیں، کیا تم نے دیکھا کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں اور جو نہیں کرتے وہ کہتے ہیں۔
بعض صحابہ نے شعر و شاعری کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا وہ مطلقاً قابل مذمت ہے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ایسا نہیں ہے بلکہ اگر شعر کا مضمون اچھا ہے تو وہ اچھا ہے اور اگر برا ہے تو وہ برا ہے۔ اور بعض موقعوں پر آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ: بعض اشعار تو بڑے حکیمانہ ہوتے ہیں۔اس سلسلہ کی چند حدیثیں ذیل میں پڑھئے:
عَنْ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً» (رواه البخارى)
حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: بعض شعر (اپنے مضمون کے لحاظ سے) سراسر حکمت ہوتے ہیں۔ (صحیح بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ، كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلاَ كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے زیادہ سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید بن ربیعہ شاعر کی یہ بات (یعنی یہ مصرع) ہے: “ أَلاَ كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ ” (آگاہی ہو کہ اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہ لبید زمانہ جاہلیت کا مشہور و مقبول شاعر تھا، لیکن اس کی شاعری اس زمانہ میں بھی خداپرستانہ اور پاکیزہ تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے مصرعہ “ أَلاَ كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ ” کو شعر کی دنیا کا سب سے سچا کلمہ اس لئے فرمایا کہ یہ قرآن مجید کے اس ارشاد کے بالکل ہم معنی ہے۔ “كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ” اس کے ساتھ کا دوسرا مصرعہ یہ ہے “وَكُلُّ شَيْءٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلُ” (یعنی یہاں کی ہر نعمت ایک دن ختم ہو جانے والی ہے)،
یہ شعر لبید کے جس قصیدہ کا ہے وہ انہوں نے اپنے دور جاہلیت ہی میں کہا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے قبولِ اسلام کی توفیق عطا فرمائی۔ روایات میں ہے کہ اسلام قبول کر لینے کے بعد شعر و شاعری کا مشغلہ بالکل چھوٹ گیا اور کہا کرتے تھے کہ “يَكْفِيْنِى الْقُرْآنُ” (بس اب قرآن میرے لئے کافی ہے) اللہ تعالیٰ نے بہت طویل عمر بھی عطا فرمائی۔ حافظ ابن حجر کے بیان کے مطابق حضرت عثمان ؓ کے زمانہ خلافت میں ۱۵۶ سال کی عمر میں وفات پائی (1) رضى الله عنه وارضاه۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَدِفْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ: «هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «هِيهْ» فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا، فَقَالَ: «هِيهْ» ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا، فَقَالَ: «هِيهْ» ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ. (رواه مسلم زاد فى رواية لقد كاد يسلم فى شعره)
عمرو بن شرید اپنے والد شرید بن سوید ثقفی سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک دن (سفر میں) رسول اللہ ﷺ کے پیچھے آپ ﷺ ہی کی سواری پر سوار تھا، آپ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کیا تمہیں امیۃ بن الصلت کے کچھ شعر بھی یاد ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا سناؤ! تو میں نے ایک بیت آپ ﷺ کو سنایا، آپ ﷺ نے فرمایا اور سناؤ، میں نے ایک اور بیت سنایا، آپ ﷺ نے پھر فرمایا اور سناؤ، تو میں نے سو بیت سنائے (اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ امیہ اپنے اشعار میں اسلام سے بہت قریب ہو گیا تھا)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
امیہ بن الصلت ثقفی بھی جاہلی شاعر تھا لیکن اس کی شاعری خدا پرستانہ تھی، اسی لئے رسول اللہ ﷺ کو جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا اس کے اشعار سے دلچسپی تھی اور آپ ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا: “لَقَدْ كَادَ يُسْلِمُ فِىْ شَعْرِهِ” (جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی شاعری میں اسلام سے بہت قریب ہو گیا تھا) اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے ایک دفعہ امیہ بن الصلت کے اشعار سن کر فرمایا: “آمَنَ شِعْرُهُ وَكَفَرَ قَلْبُهُ” (اس کی شاعری مسلمان ہو گئی اور اس کا قلب کافر رہا) امیہ نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پایا اور دین کی دعوت بھی پہنچی مگر ایمان کی توفیق نہیں ہوئی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا، قَالَ: إِنِّي لاَ أَقُولُ إِلاَّ حَقًّا. (رواه الترمذى)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ نے حضور ﷺ عرض کیا کہ رسول اللہ آپ ہم سے مزاح فرماتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں (مزاح میں بھی) حق ہی کہتا ہوں (یعنی اس میں کوئی بات غلط اور باطل نہیں ہوتی)۔ (جامع ترمذی)
عَنْ أَنَسِ " أَنَّ رَجُلا اسْتَحْمَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَلْ تَلِدُ الإِبِلَ إِلا النُّوقُ ". (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سواری کے لئے اونٹ مانگا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، ہاں میں تم کو سواری کے لئے ایک اونٹنی کا بچہ دوں گا، اس شخص نے عرض کیا کہ میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ: اونٹ اونٹنیوں ہی کے تو بچے ہوتے ہیں۔ (یعنی ہر اونٹ کسی اونٹنی کا بچہ ہی تو ہے جو اونٹ بھی دیا جائے گا وہ اونٹنی کا بچہ ہی ہو گا)۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
ظرافت ومزاح بھی انسانی زندگی کا ایک خوش کن عنصر ہے اور جس طرح اس کا حد سے متجاوز ہونا نازیبا اور مضر ہے اسی طرح آدمی کا اس سے بالکل خالی ہونا بھی ایک نقص ہے۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اگر کسی بلند پایہ اور مقدس شخصیت کی طرف سے چھوٹی اور معمولی حیثیت کے کسی آدمی کے ساتھ لطیف ظرافت مزاح کا برتاؤ ہو تو وہ اس کے لئے ایسی مسرت اور عزت افزائی کا باعث ہوتا ہے جو کسی دوسرے طریقہ سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ بھی کبھی کبھی اپنے جاں نثاروں اور نیاز مندوں سے مزاح فرماتے تھے اور یہ ان کے ساتھ آپ ﷺ کی نہایت لذت بخش شفقت ہوتی تھی، لیکن آپ ﷺ کا مزاح بھی نہایت لطیف اور حکیمانہ ہوتا تھا۔
عَنِ اَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِامْرَأَةٍ عَجُوْزٍ إِنَّهُ " لَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَجُوزٌ، فَقَالَتْ وَمَا لَهُنَّ؟ وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَقَالَ لَهَا اَمَا تَقْرَئِيْنَ الْقُرْآنَ {“ إِنَّا أَنشَأْنَاهُنَّ إِنشَاءً ﴿٣٥﴾فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا} (رواه زرين)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بوڑھی عورت سے فرمایا کہ: کوئی بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی۔ اس (بےچاری) نے عرض کیا کہ ان میں (یعنی بوڑھیوں میں) کیا ایسی بات ہے جس کی وجہ سے وہ جنت میں نہیں جا سکیں گی؟ وہ بوڑھی قرآن خواں تھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم قرآن میں یہ آیت نہیں پڑھتی ہو “ إِنَّا أَنشَأْنَاهُنَّ إِنشَاءً ﴿٣٥﴾فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا ” (جس کا مطلب یہ ہے کہ جنت کی عورتوں کی ہم نئے سرے سے نشوونما کریں گے اور ان کو نوخیز دوشیزائیں بنا دیں گے)۔ (مسند زریں)
تشریح
حضرت انس ؓ کی یہ دونوں حدیثیں رسول اللہ ﷺ کے لطیف مزاح کی مثالیں ہیں۔ بعض حدیثوں میں مزاح کی ممانعت بھی وارد ہوئی ہے لیکن ان حدیثوں میں اس کا قرینہ موجود ہے اور رسول اللہ ﷺ کا جو اسوہ حسنہ اس بارے میں مندرجہ بالا حدیثوں سے معلوم ہواہے وہ بھی اس کا قرینہ بلکہ اس کی واضح دلیل ہے کہ ممانعت اسی مزاح کی فرمائی گئی ہے جو دوسرے آدمی کے لئے ناگواری اور اذیت کا باعث ہو۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ تُمَارِ أَخَاكَ، وَلاَ تُمَازِحْهُ، وَلاَ تَعِدْهُ مَوْعِدًا فَتُخْلِفَهُ. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ اپنے بھائی سے جھگڑا ٹنٹا نہ کرو، اور اس سے مزاح (یعنی مذاق) نہ کرو اور اس سے ایسا وعدہ نہ کرو جس کی تم وعدہ خلافی کرو۔ (جامع ترمذی)
تشریح
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا۔ اس حدیث میں مزاح کی ممانعت جس سیاق و سباق میں کی گئی ہے اس سے یہ صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ اسی مزاح کی ممانعت ہے جو ناگوار اور اذیت کا باعث ہو۔
ضحک و تبسم (ہنسنا اور مسکرانا)
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلاَ رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ؓ سے روایت ہے کہ جب سے مجھے اسلام نصیب ہوا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے (خدمت میں) حاضری سے روکا ہو، اور جب بھی آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو آپ ﷺ نے تبسم فرمایا (یعنی ہمیشہ مسکرا کر ملے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
ہنسی کے موقع پر ہنسایا مسکرانا بھی انسانی فطرت کا تقاضا ہے اور اس میں قطعا کوئی خیر نہیں ہے کہ آدمی کے لبوں پر کبھی مسکراہٹ بھی نہ آئے اور وہ ہمیشہ “عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا” ہی بنا رہے۔ رسول اللہ ﷺ کی عادتِ شریفہ اللہ کے بندوں اور اپنے مخلصوں سے ہمیشہ مسکرا کر ملنے کی تھی، ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کا یہ رویہ اور برتاؤ ان لوگوں کے لئے کیسی قلبی روحانی مسرت کا باعث ہوتا ہو گا اور اس کی وجہ سے ان کے اخلاص و محبت میں کتنی ترقی ہوتی ہو گی۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل حدیثیں پڑھئے:
تشریح ..... “ مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ” کا مطلب بظاہر یہی ہے کہ جب کبھی میں نے حاضر خدمت ہونا چاہا تو آپ ﷺ نے اجازت عطا فرمائی اور شرف ملاقات بخشا ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپ ﷺ نے منع فرمایا ہو۔
ضحک و تبسم (ہنسنا اور مسکرانا)
عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» (رواه الترمذى)
عبداللہ بن الحارث ؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مسکرانے والا کوئی دوسرا نہیں دیکھا۔ (جامع ترمذی)
ضحک و تبسم (ہنسنا اور مسکرانا)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا، حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ. (رواه البخارى)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو پوری طرح (کھل کھلاتے) ہنستا ہوا نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ کے دہن مبارک کا اندرونی حصہ نظر پڑ جاتا۔ (یعنی آپ اس طرح کھل کھلا کر اور قہقہہ لگا کر کبھی نہیں ہنستے تھے کہ آپ ﷺ کے دہن مبارک کا اندرونی حصہ نظر آ سکتا) بس تبسم فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری)
تشریح
بعض روایات میں آنحضرت ﷺ کے ہنسنے کو “ضحک” سے بھی تعبیر کیا گیا ہے یعنی اس سے مراد وہی ہنسنا ہے جو آپ ﷺ کی عادت شریفہ تھی، یعنی مسکرانا، البتہ کبھی کبھی جب ہنسی کا غلبہ ہوتا تو آپ ﷺ اس طرح بھی مسکراتے تھے کہ دہن مبارک کسی قدر کھل جاتا تھا، چنانچہ بعض روایات میں ہے “ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ” (آپ کو ایسی ہنسی آئی کہ اندر کی داڑھیں بھی ظاہر ہو گئیں)۔
ضحک و تبسم (ہنسنا اور مسکرانا)
عَنْ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ نَامَ وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ، فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» (رواه مسلم)
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ فجر کی نماز جس جگہ پڑھتے تھے، آفتاب طلوع ہونے تک وہاں سے نہیں اٹھتے تھے، پھر جب آفتاب طلوع ہو جاتا تو کھڑے ہو جاتے۔ اور (اس اثناء میں) آپ ﷺ کے صحابہ زمانہ جاہلیت کی باتیں (بھی) کیا کرتے اور اس سلسلے میں خوب ہنستے اور رسول اللہ ﷺ بس مسکراتے رہتے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کبھی کبھی مسجد نبوی میں اور رسول اللہ ﷺ کی مجلس مبارک میں بھی زمانہ جاہلیت کی ایسی لغویات و خرافات کا بھی تذکرہ کیا کرتے تھے جن پر خوب ہنسی آتی تھی۔ اور جامع ترمذی کی اسی حدیث کی روایت میں یہ الفاظ مزید ہیں۔ “وَيَتَنَاشَدُوْنَ الشِّعْرَ” (یعنی اس سلسلہ گفتگو میں اشعار بھی پڑھے اور سنائے جاتے تھے) اور رسول اللہ ﷺ یہ سب کچھ سنتے اور اس پر تبسم فرماتے تھے۔
ناچیز راقم السطور عرض کرتا ہے کہ اگر آنحضرتﷺ اپنے اصحاب کرام کے ساتھ اس طرح کی بےتکلفی کا برتاؤ نہ کرتے تو ان حضرات پر آپ ﷺ کا ایسا رعب چھایا رہتا جو استفادہ میں رکاوٹ بنتا۔ حضرت مشائخ صوفیہ کی اصطلاح میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ حضور اقدس ﷺ کا نزول تھا، اس کے بغیر مقصد رسالت کی تکمیل نہیں ہو سکتی تھی۔
صحابہ کرام کے باہم ہنسنے ہنسانے کے اس تذکرہ کے ساتھ جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن عمر اور ایک بزرگ تابعی بلال بن سعد کے دو بیان پڑھ لینا بھی ان شاء اللہ موجب بصیرت ہو گا۔ یہ دونوں بیان مشکوٰۃ المصابیح میں “شرح السنہ” کے حوالے سے نقل کئے گئے ہیں۔
قتادہ تابعی نے بیان فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کسی نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ہنسا بھی کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا:
نَعَمْ وَالإِيمَانُ فِي قُلُوبِهِمْ أَعْظَمُ مِنَ الْجَبَلِ.
ہاں۔ بےشک! وہ حضرات (ہنسنے کے موقع پر) ہنستے بھی تھے لیکن اس وقت بھی ان کے قلوب میں ایمان پہاڑوں سے عظیم تر ہوتا تھا۔
(یعنی ان کا ہنسنا غافلین کا سا ہنسنا نہیں ہوتا تھا جو قلوب کو مردہ کر دیتا ہے)
اور بلال بن سعد کا بیان ہے:
أَدْرَكْتُهُمْ يَشْتَدُّونَ بَيْنَ الأَغْرَاضِ، وَيَضْحَكُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ، كَانُوا رُهْبَانًا
میں نے صحابہ کرام کو دیکھا ہے وہ مقررہ نشانیوں کے درمیان دوڑا بھی کرتے تھے (جس طرح بچے اور نوجوان کھیل اور مشق کے لئے دوڑ میں مقابلہ کیا کرتے ہیں) اور باہم ہنستے ہنساتے بھی تھے، پھر جب رات ہو جاتی تو بس درویش ہو جاتے۔
چھینکنے اور جمائی لینے کے برے میں رسول اللہ ﷺ کی ہدایات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الحَمْدُ لِلَّهِ، وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَإِذَا قَالَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَلْيَقُلْ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " (رواه البخارى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اسے چاہئے کہ “ الحَمْدُ لِلَّهِ ” کہے۔ اور اس کا جو بھائی (یا آپ ﷺ نے فرمایاکہ: اس کا جو ساتھی اس کے پاس) ہو وہ کہے “ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ”
(تم پر اللہ کی رحمت) اور جب یہ بھائی “يَرْحَمُكَ اللَّهُ”
(کا دعائیہ کلمہ) کہے تو چاہئے کہ چھینکنے والا (اس کے جواب میں یہ دعائیہ کلمہ) کہے “يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ” (اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نوازے اور تمہارے حالات درست فرمادے)۔ (صحیح بخاری)
تشریح
چھینکنا اور جمائی لینا بھی انسانی فطرت کے لوازم میں سے ہے، ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی چند حدیثیں ذیل میں پڑھئے:
تشریح .....چھینک آنے کے ذریعہ ایسی رطوبت اور ایسے ابخرات دماغ سے نکل جاتے ہیں وہ اگر نہ نکلیں تو کسی تکلیف یا بیماری کا باعث بن جائیں اس لئے صحت و اعتدال کی حالت میں چھینک کا آنا گویا اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے۔ اس لئے ہدایت فرمائی گئی کہ جس کو چھینک آئے وہ “ الحَمْدُ لِلَّهِ ” کہے اور جو کوئی اس کے پاس ہو وہ کہے “يَرْحَمُكَ اللَّهُ” (یعنی یہ چھینک تمہارے لئے خیر و برکت کا ذریعہ بنے) اور پھر چھینکنے والا اس دعا دینے والے بھائی کو کہے “ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ ”
ذرا غور کیا جائے رسول اللہ ﷺ کی اس تعلیم و ہدایت نے ایک چھینک کو اللہ کی کتنی یاد اور کتنی رحمتوں کا وسیلہ بنا دیا۔
چھینکنے اور جمائی لینے کے برے میں رسول اللہ ﷺ کی ہدایات
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللهَ، فَشَمِّتُوهُ، فَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللهَ، فَلَا تُشَمِّتُوهُ» (رواه مسلم)
حضرت موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ “الحَمْدُ لِلَّهِ” کہے تو تم کو چاہئے کہ اس کو “يَرْحَمُكَ اللَّهُ” کہہ کر دعا دو، اور اگر وہ “الحَمْدُ لِلَّهِ” نہ کہے (اور خدا کو یاد نہ کرے) تو تم بھی “يَرْحَمُكَ اللَّهُ” نہ کہو، (یعنی الحمدللہ نہ کہنے کی وجہ سے وہ تمہاری اس دعا رحمت کا حقدار نہیں رہا)
چھینکنے اور جمائی لینے کے برے میں رسول اللہ ﷺ کی ہدایات
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: عَطَسَ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الآخَرَ،فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَمَّتَّ هَذَا وَلَمْ تُشَمِّتْنِي، قَالَ: «إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَلَمْ تَحْمَدِ اللَّهَ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس (بیٹھے ہوئے) دو آدمیوں کو چھینک آئی تو آپ ﷺ نے ایک کو “يَرْحَمُكَ اللَّهُ” کہہ کر دعا دی اور دوسرے کو آپ ﷺ نے “يَرْحَمُكَ اللَّهُ” نہیں کہا تو اس دوسرے نے عرض کیا کہ حضرت آپ نے ان (بھائی) کو “يَرْحَمُكَ اللَّهُ” کہہ کے دعا دی اور مجھے یہ دعا نہیں دی، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ: ان (بھائی) نے “الحَمْدُ لِلَّهِ” کہا تھا اور تم نے نہیں کہا (اس لئے خود تم نے “يَرْحَمُكَ اللَّهُ” کا حق کھو دیا)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
چھینکنے اور جمائی لینے کے برے میں رسول اللہ ﷺ کی ہدایات
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ: «يَرْحَمُكَ اللهُ» ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى، فَقَالَ «الرَّجُلُ مَزْكُومٌ»
وفى روايةٍ للترمذى أَنَّهُ قَالَ فِى الثَّالِثَةِ أَنَّهُ مَزْكُومٌ.
حضرت سلمہ بن الاکوع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص کو چھینک آئی تو آپ ﷺ نے “يَرْحَمُكَ اللهُ” کہہ کے ان کو دعا دی، ان کو دوبارہ چھینک آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: یہ زکام میں مبتلا ہیں۔ (صحیح مسلم)
(اور جامع ترمذی کی اسی حدیث کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے تیسری دفعہ چھینکنے پر یہ فرمایا تھا کہ ان کو زکام ہے)۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر نزلہ زکام کی وجہ سے کسی کو بار بار چھینک آئے تو اس صورت میں ہر دفعہ “ يَرْحَمُكَ اللهُ ” کہنا ضروری نہیں۔ آگے درج ہونے والی حدیث میں اس بارے میں واضح ہدایت آ رہی ہے۔
چھینکنے اور جمائی لینے کے برے میں رسول اللہ ﷺ کی ہدایات
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «شَمِّتِ الْعَاطِسَ ثَلَاثًا، فَمَا زَادَ فَإِنْ شِئْتَ فَشَمِّتْهُ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا» (رواه ابوداؤد والترمذى)
عبید بن رفاعہ نے رسول اللہ ﷺسے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: چھینکنے والے کو تین دفعہ تو “يَرْحَمُكَ اللهُ” کہو اور اس سے زیادہ چھینکیں آئیں تو اختیار ہے چاہے “يَرْحَمُكَ اللهُ” کہو، چاہے نہ کہو۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)