Maarif-ul-Hadith 1414

کتاب المعاملات والمعاشرت

1414Maarif-ul-Hadith

والدین کی نافرمانی و ایذاء رسانی عظیم ترین گناہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ، وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ» (رواه البخارى)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اپنے ماں باپ کو گالی دینا بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ عرض کیا گیا کہ: یا رسول اللہ کیا کوئی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی کے ماں باپ کو گالی دے، پھر وہ جواب میں اس کے ماں باپ کو گالی دے، (تو گویا اس نے خود ہی اپنے ماں باپ کو گالی دلوائی)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی آدمی کا کسی دوسرے کو ایسی بات کہنا یا ایسی حرکت کرنا جس کے نتیجہ میں دوسرا آدمی اس کے ماں باپ کو گالی دینے لگے اتنی ہی بری بات ہے جتنی کہ خود اپنے ماں باپ کو گالی دینا، اور یہ گناہِ کبیرہ کے درجہ کی چیز ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم میں ماں باپ کے احترام کا کیا مقام ہے، اور اس بارے میں آدمی کو کتنا محتاط رہنا چاہئے۔