فجر کے علاوہ دوسرے اوقات کے سنن و نوافل کی فضیلت
عَنْ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ".
(رواه احمد والترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجه)
حضرت ام حبیبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں برابر پڑھا کرے اللہ رتعالیٰ اس کو دوزخ کی آگ پر حرام کر دے گا۔
تشریح
بعض شارحین نے لکھا ہے کہ ظہر کے بعد رسول اللہ ﷺ سے چونکہ دو ہی رکعت پڑھنا زیادہ ثابت ہے (جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ، حضرت عبداللہ بن عمر اور خود حضرت ام حبیبہ ؓ کی مندرجہ بالا حدیثوں سے معلوم ہو چکا ہے) اس لئے ظہر کے بعد موکدہ سنت تو صرف دو ہی رکعت ہے، لہذا چار رکعت پڑھنے کی صورت یہ ہو گی کہ ان مؤکدہ دو رکعت کے علاوہ مزید دو رکعت نفل پڑھی جائیں۔
فائدہ ........ ہمارے دیار میں ظہر کی دو سنتوں کے بعد مزید دو نفل پڑھنے کا کافی رواج ہے، لیکن اکثر عوام ان نفلوں کو (بلکہ عام طور سے ہر وقت کے نوافل کو) بیٹھ کے پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ نوافل بیٹھ کے ہی پڑھنے چاہئیں، حالانکہ یہ سراسر غلط ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی صریح حدیث ہے کہ بیٹھ کے نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کے پڑھنے کے مقابلے میں آدھا ملے گا۔
فجر کے علاوہ دوسرے اوقات کے سنن و نوافل کی فضیلت
عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا".
(رواه احمد والترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ رحمت اس بندے پر جو پڑھے عصر سے پہلے چار رکعتیں۔
تشریح
عصر سے پہلے چار رکعت نفل کے بارے میں یہ آپ ﷺ کا ترغیبی ارشاد ہے اور اسی کے مطابق آپ ﷺ کا عمل بھی روایت کیا گیا ہے، اور کبھی کبھی عصر سے پہلے دو رکعت پڑھنا بھی آپ سے ثابت ہے۔
فجر کے علاوہ دوسرے اوقات کے سنن و نوافل کی فضیلت
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارَ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : "رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنِ يَاسِرٍ يُصَلِّىْ بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ حَبِيْبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيْ بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوْبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ". (رواه الطبرانى)
حضرت عمار بن یاسر کے صاحبزادے محمد بن عمار ؓ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد ماجد عمار بن یاسرؒ کو دیکھا کہ وہ مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھتے تھے اور بیان فرماتے تھے کہ میں نے اپنے حبیب ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو بندہ مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اگرچہ وہ کثرت میں سمندر کے کف کے برابر ہوں۔ (معجم طبرانی)
تشریح
مغرب کے بعد دو رکعت تو سنت موکدہ ہیں جن کا ذکر حضرت ام حبیبہ، حضرت عائشہ صدیقہؓ اور عبداللہ بن عمرؓ کی مندرجہ بالا حدیثوں میں آ چکا ہے۔ ان کے علاوہ ۴ رکعت نفل اور پڑھی جائیں تو ۶ ہو جائیں گی، اور بندہ گنوہوں کی مغفرت کی اس بشارت کا مستحق ہو جائے گا جو اس حدیث میں دی گئی ہے۔
فجر کے علاوہ دوسرے اوقات کے سنن و نوافل کی فضیلت
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : "مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوْ سِتَّ رَكَعَاتٍ. (رواه ابوداؤد)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز پڑھ کے (آرام فرمانے کے لیے) بارے میرے پاس تشریف لائے ہوں اور آپ نے چار رکعتیں یا چھ رکعتیں نہ پڑھی ہوں۔
تشریح
عشاء کے بعد دو رکعت تو سنت موکدہ ہے جس کا ذکر حضرت ام حبیبہ، حضرت عائشہ صدیقہؓ و حضرت ابن عمرؒ وغیرہ کی مندرجہ بالا حدیثوں میں بھی گزر چکا ہے، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ عشاء کے بعد اور آرام فرمانے سے پہلے اس دو رکعت سنت موکدہ کے علاوہ کبھی ۲ رکعت اور کبھی ۴ رکعت مزید نفل پڑھتے تھے۔ واللہ اعلم۔
عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ الْوِتْرُ ، جَعَلَهُ اللَّهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْر". (رواه ابوداؤد والترمذى)
حضرت خارجہ بن حذافہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ (کاشانہ نبوت سے) باہر تشریف لائے اور ہم سے مخاطب ہو کر فرمایاکہ: اللہ تعالیٰ نے ایک اور نماز مزید تمہیں عطا فرمائی ہے، وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے، (جن کو تم دنیا کی عزیز ترین دولت سمجھتے ہو) وہ نماز وتر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو تمہارے واسطے نماز عشاء کے بعد سے طلوع صبح صادق تک مقرر کیا ہے “۔ (یعنی وہ اس وسیع وقت کے ہر حصے میں پڑھی جا سکتی ہے)۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
عَنْ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : "الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا ، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا ، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا". (رواه ابوداؤد)
حضرت بریدہ اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے آپ ﷺ نے فرمایا “ وتر حق ہے، جو وتر ادا نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے، وتر حق ہے، جو وتر ادا نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے، وتر حق ہے، جو وتر ادا نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے “۔ (یہ بات آپ ﷺ نے تین دفعہ ارشاد فرمائی)۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
ظاہر ہے کہ وتر کے بارے میں تشدید اور تہدید کے یہ آخری الفاظ ہیں، اسی قسم کی حدیثوں سے حضرت امام ابو حنیفہؒ نے یہ سمجھا ہے کہ وتر صرف سنت نہیں ہے بلکہ واجب ہے، یعنی اس کا درجہ فرض سے کم اور موکدہ سنتوں سے زیادہ ہے۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَ وَإِذَا اسْتَيْقَظ". (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجه)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص وتر سے سوتا ره جائے، (یعنی نیند کی وجہ سے اس کی نماز وتر قضا ہو جائے) یا بھول جائے تو جب یاد آئے یا جب وہ جاگے تو اسی وقت پڑھ لے “۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، و سنن ابن ماجہ)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا". (رواه مسلم)
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا رات میں اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ۔ “ (یعنی رات کی نمازوں میں تمہاری آخری نماز وتر ہو)۔ (صحیح مسلم)
عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ ، وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ ، فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ ، فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ". (رواه مسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو یہ اندیشہ ہو کہ روات میں وہ اٹھ نہ سکے گا (یعنی سوتا رہ جائے گا) تو اس کو چاہئے کہ رات کے شروع ہی میں (یعنی عشاء کے ساتھ ہی) وتر پڑھ لے اور جس کو اس کی پوری امید ہو کہ وہ (تہجد کے لیے) آخر شب میں اٹھ جائے گا تو اس کو چاہیئے کہ آخر شب ہی میں (یعنی تہجد کے بعد) وتر پڑھے اس لئے کہ اس وقت کی نماز میں ملائکہ رحمت حاضر ہوتے ہیں اور وہ وقت بڑی فضیلت کا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
وتر کے بارے میں عام حکم یہی ہے کہ جو ان دو حدیثوں سے معلوم ہوا، یعنی یہ کہ نماز وتر رات کی سب نمازوں کے بعد میں اور آخر میں پڑھی جائے، یعنی نوافل کے بھی بعد اور یہ کہ جس کسی کو اخیر شب میں اٹھنے کے بارے میں اعتماد ہو وہ وتر شروع رات میں نہ پڑھے بلکہ آخر شب میں تہجد کے ساتھ پڑھے، اور جس کو یہ اعتماد نہ ہو وہ شروع رات ہی پڑھ لیا کرے۔ لیکن بعض صحابہؒ کو رسول اللہ ﷺ نے ان کے خاص حالات کی بناء پر شروع رات ہی میں وتر پڑھ لینے کی ہدایت فرمائی تھی۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ بھی انہی میں سے تھے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ان کا یہ بینا موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وہ چند خاص وصیتیں فرمائی تھیں ان مین سے ایک یہ بھی تھی کہ: “ میں شروع رات ہی میں وتر پڑھ لیا کروں ”۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ : "كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَلَا بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ". (رواه ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن ابی قیس تابعی سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے دریافت کیا: کہ رسول اللہ ﷺ کتنی رکعت وتر پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ: چار اور تین، اور چھ اور تین، اور آٹھ اور تین اور دس اور تین۔ اور سات سے کم اور تیرہ سے زیادہ وتر نہیں پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح ..... بعض صحابہ کرامؓ تہجد اور وتر کے مجموعے کو بھی وتر ہی کہا کرتے تھے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا طریقہ بھی یہی تھا، انہوں نے اس حدیث میں عبداللہ بن ابی قبیس کے سوال کا جواب بھی اسی اصول پر دیا ہے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر کی تین رکعتوں سے پہلے تہجد کبھی صرف چار رکعت پڑھتے تھے، کبھی چھ رکعت کبھی آٹھ رکعت اور کبھی دس رکعت، لیکن چار رکعت سے کم اور دسد رکعت سے زیادہ تہجد پڑھنے کا آپ ﷺ کا معمول نہیں تھا اور تہجد کی ان رکعتوں کے بعد آپ ﷺ وتر کی تین رکعتیں پڑھتے تھے۔
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا عَائِشَةَبِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ " يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ : كَانَ يَقْرَأُ فِي الْأُولَى بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ بِقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ". (رواه الترمذى وابوداؤد)
عبدالعزیز بن جریج تابعی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے دریافت کیا کہ: رسول اللہ ﷺ وتر میں کون کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ: پہلی رکعت میں آپ ﷺ “ سبح اسم ربك الأعلى ” پڑھتے تھے اور دوسری میں “ قل يا أيها الكافرون ” اور تیسری رکعت میں “ قل هو الله أحد ” اور معوذتین (یعنی قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ) پڑھتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
وتر کی پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى دوسری میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور تیسری رکعت میں قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ پڑھنا رسول اللہ ﷺ سے حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے بھی روایت کی اہے، لیکن ان دونوں حضرات نے تیسری رکعت میں “ معوذتین ” پڑھنے کا ذکر نہیں کیا معلوم ہوتا ہے کہ کبھی آپ ﷺ تیسری رکعت میں صرف سورہ اخلاص پڑھتے تھے اور کبھی اسی کے ساتھ معوذتین بھی۔ واللہ اعلم۔
عَنْ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوْتِ الْوِتْرِ " اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ" (رواه الترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجه والدارمى)
حضرت حسن بن علی رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے چند کلمے تعلیم فرمائے جن کو میں قنوت وتر میں پڑھتا ہوں، اللهم اهدني فيمن هديت ” اے اللہ! جن بندوں کو تو ہدایت عطا فرمائے ان کے ساتھ مجھے بھی ہدایت دے اور جن کو عافیت (یعنی دنیا اور آخرت کی تمام بلاؤں سے سلامتی) عطا فرمائے ان کے ساتھ مجھے بھی عافیت دے، میرا متولی اور کارساز بن جا ان بندوں کے ساتھ جن کا تو کارساز بنے، اور مجھے برکت دے ان تمام چیزوں میں جو تو مجھے عطا فرمائے اور اپنے فیصلوں کے اثرات بد سے میری حفاظت فرما، تو ہی سارے فیصلے کرتا ہےاور احکام جاری کرتا اور تجھ پر کسی کا حکم نہیں چلتا،، بلا شبہ جس سے تیری دوستی ہو وہ ذلیل و خوار نہیں (وہ ہر حال میں معزز و محترم ہے)، تو برکت والا ہے اور تیری شان بلند ہے اے میرے مالک اور پروردگار!۔ “ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی)
تشریح
اس قنوت کی بعض روایات میں إِنَّهُ لَا يَذُلُّ مَنْ وَّالَيْتَ کے بعد ولا يعز من عاديت بھی روایت کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ جس سے تیری دشمنی ہو وہ کسی حال میں باعزت نہیں۔ اور بعض روایات میں تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ کے بعد استغفرك واتوب اليك بھی روایت کیا گیا ہے۔ یعنی اے میرے رب میں تجھ سے گناہوں کی مغفرت اور بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ اور بعض روایات میں توبہ اور استغفار کے اس کلمی کے بعد اس درود کا بھی اضافہ ہے۔ وَصَلَّى اللهُ عَلَى النَّبِىِّ (اور اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل فرماے، اپنے پاک نبی پر)۔ اکثر ائمہ اور علماء نے وتر میں پڑھنے کے لیے اسی قنوت کو اختیار فرمایا ہے۔ حنفیہ میں جو قنوت رائج ہے اللَّهُمَّ اِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ اس کو امام ابن ابی شیبہؒ اور امام طحاویؒ وغیرہ نے حضرت عمر ؓ سے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے۔ علامہ شامی نے بعض اکابر احناف سے نقل کیا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ اللَّهُمَّ اِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ کے ساتھ حضرت حسن بن علیؒ والی یہ قنوت اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ بھی پڑھی جائے۔
عَنْ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي وِتْرِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ". (رواه ابوداؤد والترمذى والنسائى وابن ماجه)
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے وتر كے آخر میں یہ دعا کیا کرتے تھےاللهم إني أعوذ برضاك من سخطك اے اللہ! میں تیری ناراضی سے تیری رضا مندی کی پناہ لیتا ہوں، اور تیری سزا اور تیرے عذاب سے تیری عافیت بخشی کی پناہ لیتا ہوں، اور تجھ سے تیری پناہ لیتا ہوں مجھ سے تیری ثناء صفت کا حق ادا نہیں ہو سکتا (بس یہی عرض کر سکتا ہوں کہ) تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے اپنی ثناء و صفت بیان کی ہے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
سبحان اللہ! کیسا لطیف مضمون ہے اس دعا کا، حاصل پوری دعا کا یہ ہے کہ اللہ کی ناراضی، اللہ کی سزا، اللہ کی پکڑ اور اس کے جلال سے کوئی جائے پناہ نہیں، بس اسی کی رحمت و عنایت اور اسی کی کریم ذات پناہ دے سکتی ہے۔ حضرت علی ؓ کی اس حدیث میں صرف اتنا مذکور ہے کہ “ رسول اللہ ﷺ یہ دیا اپنے وتر کے آخر میں کرتے تھے ”۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ تیسری رکعت میں قنوت کے طور پر یہ دعا کرتے تھے، اور بعض ائمہ اور علماء نے یہی سمجھا ہے۔ اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ وتر کے آخری قعدہ میں سلام سے پہلے یا سلام کے بعد آپ یہ دعا کرتے تھے، اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ وتر کے آخری سجدوں میں آپ یہ دعا کرتے تھے۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے رات کی نماز کے سجدے میں رسول اللہ ﷺ کو یہی دعا کرتے ہوئے سنا تھا۔ بہر حال ان سب ہی صورتوں کی گنجائش ہے، اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق دے۔
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ فِي الْوِتْرِ ، قَالَ : "سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ". (رواه ابوداؤد والنسائى وزاد “ ثلث مرات يطيل ”)
حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب وتر کا سلام پھیرتے تھے تو کہتے تھے سبحان الملك القدوس۔ (سنن ابی داؤد و سنن نسائی)
تشریح
نسائی کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ آپ ﷺ یہ کلمہ تین دفعہ کہتے تھے، اور اس کو طویل کرتے تھے (یعنی کھینچ کر پڑھتے تھے)۔ اور بعض روایات میں ہے کہ “ ويرفع صوته بالثالثة ” یعنی آپ ﷺ یہ کلمہ تیسری دفعہ بلند آواز سے کہتے تھے۔
وتر کے بعد کی دو رکعت نفل
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الوِتْرِ رَكْعَتَيْنِ. (رواه الترمذى وزاد ابن ماجه “ خفيفتين وهو جالس ”)
حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں اور پڑھتے تھے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث کو ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ وتر کے بعد کی یہ دو رکعتیں ہلکی ہلکی اور بیٹھ کر پڑھتے تھے۔
تشریح ..... وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھنا رسول اللہ ﷺ سے حضرت ام سلمہؒ کے علاوہ حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضرت امامہؓ نے بھی روایت کیا ہے۔ انہی احادیث کی بناء پر بعض علماء وتر کے بعد کی ان دو رکعتوں کا بیٹھ کر پڑھنا ہی افضل سمجھتے ہیں۔ لیکن دوسرے حضرات فرماتے ہین کہ اس بار میں عام امتیوں کو رسول اللہ ﷺ پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا کہ مجھے تو کسی نے آپ کے حوالے سے یہ بتایا تھا کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے، اور آپ بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں مسئلہ وہی ہے (یعنی بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے کے مقابلے میں آدھا ہوتا ہے) لیکن میں اس معاملہ میں تمہاری طرح نہیں ہو، میرے ساتھ اللہ کا معاملہ استثنائی ہے، یعنی مجھے بیٹھ کر پڑھنے کا بھی پورا ثواب ملتا ہے۔
اس حدیث کی بناء پر اکثر علماء اس کے قائل ہیں کہ وتر کے بعد ان دو رکعتوں کے لیے کوئی الگ اصول نہیں ہے، بلکہ وہی عام اصول اور قاعدہ ہے کہ بیٹھ کر پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے کے مقابلے میں آدھا ہو گا۔ واللہ اعلم۔
وتر کے بارے میں یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ “ وتر رات کی سب سے آخری نماز ہونی چاہئے، وتر کے بعد یہ دو رکعتیں پڑھنا اس حدیث کے خلاف نہیں ہو گا، کیوں کہ یہ دو رکعتیں دراصل وتر ہی کی تابع ہیں، ان کی کوئی مستقل حیثیت نہیں ہے۔
قیام لیل یا تہجد ۔ اس کی فضیلت اور اہمیت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ يَقُولُ : مَنْ يَدْعُونِي ، فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ، مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارا مالک اور رب تبارک وتعالیٰ ہر رات کو جس وقت آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے۔ سماء دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگے، اور میں اس کو عطا کروں کون ہے جو مجھ سے مغفرت اور بخشش چاہے، میں اس کو بخش دوں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
عشاء اور فجر کے درمیان کوئی نماز فرض نہیں کی گئی ہے۔ اگر عشاء اول وقت ہی میں پڑھ لی جائے یا کچھ دیر کر کے بھی پڑھی جائے تو فجر تک بہت بڑا وقت خالی رہ جاتا ہے، حالانکہ یہ وقت اس لحاظ سے نہایت قیمتی ہوتا ہے کہ فضا میں جیسا سکون رات کو سناٹے میں ہوتا ہے ایسا دوسرے کسی وقت میں نہیں ہوتا، اور اگر عشاء کے بعد آدمی کچےھ دیر کے لیے سو جائے اور آدھی رات گزرنے کے بعد کسی وقت اٹھ جائے (جو تہجد کا اصلی وقت ہے) تو پھر اس وقت جیسی یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ نماز نصیب ہو جاتی ہے وہ دوسرے وقت نصیب نہیں ہوتی، علاوہ ازیں اس وقت بستر چھوڑ کے نماز پڑھنا نفس کی ریاضت اور تربیت کا بھی خاص وسیلہ ہے۔ قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے:
“ إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا (رات کو نماز کے لیے کھڑے ہونا نفس کو بہت زیادہ دبانے والا عمل ہے اور اس وقت (دعا یا قرأت میں) جو زبان سے نکلتا ہے وہ بالکل ٹھیک اور دل کے مطابق یعنی دل سے نکلتا ہے)۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ایسے بندوں کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے۔
“ تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا ”
اُن کے پہلو (اس وقت میں جو لوگوں کے سونے کا خاص وقت ہے) خواب گاہوں سے الگ رہتے ہیں، وہ اس وقت اپنے پروردگار سے کو اُمید و بیم کے ساتھ دعائیں کرتے ہیں) آگے فرمایا گیا ہے کہ ان بندوں کے اس عمل کا جو انعام اور صلہ جنت میں ملنے والا ہے۔ جس میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا پورا سامان ہے۔ اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (السجدہ)
اور قرآن مجید میں ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ کو تہجد کا حکم دینے کے ساتھ آپ کو “ مقام محمود ” کی امید دلائی گئی ہے۔ فرمایا گیا ہے:
“ وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا ”
اور اے نبی (ﷺ) آپ اس قرآن کے ساتھ تہجد پڑھئے (یعنی تہجد میں خوب قران پڑھا کیجئے) یہ حکم آپ کے لئے زائد اور مخصوص ہے، امید رکھنا چاہئے کہ آپ کو آپ کا رب “ مقامِ محمود ” پر فائز کرے گا۔
“ مقام محمود ” عالم آخرت میں اور جنت میں بلند ترین مقام ہو گا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ “ مقام محمود ” اور نماز تہجد میں کوئی خاص نسبت اور تعلق ہے، اس لیے جو امتی نماز تہجد سے شغف رکھیں گے ان شاء اللہ “ مقام محمود ” میں کسی درجہ کی حضور ﷺ کی رفاقت ان کو بھی نصیب ہو گی۔
احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رات کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ اپنے پورے لطف و کرم اور اپنی خاص شان رحمت کے ساتھ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اور جن بندوں کو ان باتوں کا کچھ احساس و شعور بخشا گیا ہے وہ اس مبارک وقت کی خاص برکات کو محسوس بھی کرتے ہیں۔ اس تمہید کے بعد اب قیام لیل اور تہجد سے متعلق حدیثیں پڑھئے!
تشریح ..... سماء دنیا کی طرف اللہ تعالیٰ کا نزول فرمانا جس کا اس حدیث میں ذکر ہے، اللہ تعالیٰ کی ایک صفت اور اس کا ایک فعل ہے جس کی حقیقت ہم نہیں جانتے، جس طرح ید اللہ، وجہ اللہ اور استویٰ علی العرش اور اس کے عام صفات و افعال کی حقیقت اور کیفیت بھی ہم نہیں جانتے، اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات و افعال کی حقیقت اور کیفیت کے علم سے اپنی عاجزی اور جہالت کا اقرار و اعتراف ہی علم ہے۔ ائمہ سلف کا طریقہ اور مسلک یہی رہا ہے کہ ان کے بارے میں اپنی نارسائی اور بےعلمی کا اقرار کیا جائے اور ان کی حقیقت اور کیفیت کا علم دوسرے متشابہات کی طرح خدا کے سپرد کیا جائے اور مانا جائے کہ جو بھی حقیقت ہے وہ حق ہے۔ لیکن اس حدیث کا یہ پیغام بالکل واضح ہے کہ رات کے آخری تہائی حصے میں اللہ تعالیٰ اپنی خاص شان رحمت کے ساتھ بندوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور خود ان کو دعا اور سوال اور استغفار کے لیے پکارتا ہے۔ جو بندے اس حقیقت پر یقین رکھتے ہیں ان کے لیے اس وقت بسترے پر سوتے رہنا، اس سے زیادہ مشکل ہوتا ہے، جتنا دوسروں کے لیے اسوقت بستر چھوڑ کر کھڑا ہونا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس حقیقت کا ایسا یقین نصیب فرمائے جو اس وقت بے چین کر کے اللہ تعالیٰ کے دربار کی حاضری اور دعا و سوال و استغفار کے لیے کھڑا کر دیا کرے۔
قیام لیل یا تہجد ۔ اس کی فضیلت اور اہمیت
عَنْ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الرَّبُّ مِنَ العَبْدِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ الآخِرِ ، فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللَّهَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ » (رواه الترمذى)
حضرت عمرو بن عبسہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بندے سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری رمیانی حصے میں ہوتا ہے، پس اگر تم سے ہو سکے کہ تم ان بندوں میں سے ہو جاؤ جو اس مبارک وقت میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو تم ان میں ہو جاؤ۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث میں آخری شب میں اللہ تعالیٰ کے ذخر کی ترگیب دی گئی ہے اور ذکر اگرچہ عام ہے لیکن نماز ذکر کی اعلیٰ اور مکمل ترین شکل ہے کیوں کہ وہ دل، زبان، اعضاء سب کے ذکر کا مجموعہ ہے۔
قیام لیل یا تہجد ۔ اس کی فضیلت اور اہمیت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَفْضَلُ الصَّلَاةِ ، بَعْدَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ ، الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ. (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرض نماز کے بعد سب سے افضل درمیان رات کی نماز ہے (یعنی تہجد)۔ (صحیح مسلم)
قیام لیل یا تہجد ۔ اس کی فضیلت اور اہمیت
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ دَأَبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ ، وَهُوَ قُرْبَةٌ إِلَى رَبِّكُمْ ، وَمَكْفَرَةٌ لِلسَّيِّئَاتِ ، وَمَنْهَاةٌ لِلإِثْمِ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ضرور پڑھا کرو تہجد، کیوں کہ وہ تم سے پہلے صالحین کا طریقہ اور شعار رہا ہے اور قرب الٰہی کا خاص وسیلہ ہے اور وہ گناہوں کے برے اثرات کو مٹانے والی اور معاصی سے روکنے والی چیز ہے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث میں نماز تہجد کی چار خصوصیتیں ذکر فرمائی گئی ہیں اول یہ کہ وہ دور قدیم سے اللہ کے نیک بندوں کا طریقہ اور شعار رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ تقریب الہٰی کا خاص وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ تیسرے اور چوتھے یہ کہ اس میں گناہوں کا کفارہ بن کر ان کے اثرات کو مٹانے اور معاصی سے روکنے کی خاصیت ہے۔
حق یہ ہے کہ نماز تہجد عظیم ترین دولت ہے۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں منقول ہے کہ ان کے وصال کے بعد حضرات نے ان کو خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ کیا گزری اور آپ کے پرورچگار نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟۔ جواب میں فرمایا: تاهت العبارات وفنيت الاشارات وما نفعنا الا ركعات صليناها فى جوف الليل (یعنی حقائق و معارف کی جو اونچی اونچی باتیں ہم عبارات اور اشارات میں کیا کرتے تھے وہ سب وہاں ہوا ہو گئیں اور بس وہ رکعتیں کام آئیں جو رات میں ہم پڑھا کرتے تھے)۔
قیام لیل یا تہجد ۔ اس کی فضیلت اور اہمیت
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ : لِمَ تَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : « أَفَلاَ أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس قدر قیام فرمایا (یعنی رات کو نماز تہجد اتنی طویل پڑھی) کہ آپ ﷺ کے قدم مبارک متورم ہو گئے، تو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ آپ کی اگلی پچھلی ساری تقصیریں معاف ہو گئی ہیں (اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کا اعلان فرما کے آپ کو اس بارے میں مطمئن بھی کر دیا ہے)؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تو کیا میں (اس کے احسان عظیم کا) زیادہ شکر کرنے والا بندہ نہ بنوں (اور اس شکر گزاری میں اس کی اور زیادہ عبادت نہ کروں)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ با آنکہ آپ ﷺ کو ہم گنہگاروں کی طرح عبادت و ریاضت کی زیادہ ضرورت نہ تھی اور باوجود اس کے آپ کا چلنا پھرنا حتیٰ کہ سونا بھی کار ثواب تھا، لیکن پھر بھی آپ راتوں میں اتنی طویل نماز پڑھتے تھے کہ قدم مبارک متورم ہو جاتے تھے۔ اس میں آپ ﷺ کے ہم جیسے راحت طلب نام لیواؤں اور نیابت رسول ﷺ کے مدعیوں کے لیے بڑا سبق ہے۔
عقیدہ عصمت اور رسول اللہ ﷺ کے ذنوب کی مغفرت
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے ذنوب کی مغفرت کا ذکر ہے، اور ذنب کے معنی عام طور سے گناہ کے لیے جاتے ہیں، اس لیے یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ جب عصمت انبیاء اہل حق کا مسلم عقیدہ ہے تو رسول اللہ ﷺ کے ذنوب کی مغفرت کا کیا مطلب ہے؟ اس کے جواب میں جو کچھ کہا گیا ہے اور کہا جاتا ہے اس میں سب سے زیادہ معقول اور دل لگتی بات اس عاجز کے نزدیک یہ ہے کہ آپ ﷺ کے معصوم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان برائیوں سے محفوظ ہیں جو معصیات اور منکرات کے قبیلہ سے ہیں اور جو امت کے حق میں بھی گناہ ہیں، لیکن ایسی باتیں ہر نبی سے اور آپ ﷺ سے بھی صادر ہو سکتی ہیں جو اگرچہ معصیت اور گناہ نہ ہوں لیکن خلاف اولیٰ یا آپ کی شان عالی کے لحاظ سے نامباسب ہوں۔ جیسا کہ مثلا شہد کی تحریم کا واقعہ یا عبداللہ بن ام مکتوم سے ایک موقع پر بے اعتنائی برتنے کا واقعہ جن پر سورہ تحریم اور سورہ عبس میں آپ ﷺ کو محبت کے خاص انداز میں تنبیہ فرمائی گئی۔ بہرحال اس قسم کی معمولی لغزشیں حضرات انبیاء علیہم السلام سے بھی سرزد ہو جاتی ہیں اور اگرچہ یہ چیزیں معصیت اور گناہ کی حد میں نہیں آتیں۔ لیکن
“ قریباں لا بیش بود حیرانی ”
کے اصول پر یہ حضرات اپنی ان معمولی لغزشوں سے اتنے رنجیدہ اور فکر مند ہوتے تھے کہ ہم عوام اپنے موٹے موٹے گناہوں سے بھی اتنے فکر مند نہیں ہوتے۔ پس قرآن و حدیث میں جہاں کہیں رسول اللہ ﷺ یا کسی بھی پیغمبر کے ذنوب کی مغفرت کا ذکر آتا ہے وہاں اسی قسم کی لغزشوں اور کوتاہیوں کی معافی مراد ہوتی ہے۔ ذنب کے لغوی معنی میں اتنی وسعت ہے کہ اس سے اس قسم کی لغزشیں اور کوتاہیاں بھی مراد ہو سکتی ہیں۔