قیام لیل یا تہجد ۔ اس کی فضیلت اور اہمیت
عَنْ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الرَّبُّ مِنَ العَبْدِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ الآخِرِ ، فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللَّهَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ » (رواه الترمذى)
حضرت عمرو بن عبسہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بندے سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری رمیانی حصے میں ہوتا ہے، پس اگر تم سے ہو سکے کہ تم ان بندوں میں سے ہو جاؤ جو اس مبارک وقت میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو تم ان میں ہو جاؤ۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث میں آخری شب میں اللہ تعالیٰ کے ذخر کی ترگیب دی گئی ہے اور ذکر اگرچہ عام ہے لیکن نماز ذکر کی اعلیٰ اور مکمل ترین شکل ہے کیوں کہ وہ دل، زبان، اعضاء سب کے ذکر کا مجموعہ ہے۔