قیام لیل یا تہجد ۔ اس کی فضیلت اور اہمیت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى ، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا ، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ » (رواه ابوداؤد والترمذى)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی رحمت اس بندے پر جو رات کو اٹھا اور اس نے تہجد پڑھی اور اپنی بیوی کو بھی جگایا، اور اس نے بھی نماز پڑھی اور اگر نیند کے غلبہ کی وجہ سے وہ نہیں اٹھی تو اس کے منہ پر پانی کا ہلکا سا چھینٹا دے کر اس کو بیدار کر دیا۔ اور اسی طرح اللہ کی رحمت اس بندی پر جو رات کو نماز تہجد کے لیے اٹھی اور اس نے نماز ادا کی اور اپنے شوہر کو بھی جگایا، پھر اس نے بھی اٹھ کر نماز پڑھی، اور اگر وہ نہ اٹھا تو اس کے منہ پر پانی کا ہلکا سا چھینٹا دے کر اٹھا دیا۔ (سنن ابی داؤد سنن نسائی)
تشریح
اس حدیث کو سمجھنے کے لیے یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ نے جن صحابہ کرامؓ کے سامنے یہ بات فرمائی تھی وہ نماز تہجد کے بارے میں آپ کے ارشادات سن سن کر اور آپ ﷺ کا حال دیکھ دیکھ کر یقین کے ساتھ جانتے تھے اس میں بندہ کیا پاتا ہے اور اس سے محروم رہ جانا کتنا بڑا خسارہ ہے۔ فرق مراتب کے باوجود عام صحابہ کرامؓ اور صحابیاتؓ کا یہی حال تھا، اس لیے قدرتی طور پر ان میں سے ہر ایک اس دولت کا شائق اور حریص تھا، اس کے باوجود ایسا بھی ہو سکتا ہے بلکہ ضرور ہوتا ہو گا کہ کسی رات کو ایک شوہر کی آنکھ وقت پر کھل گئی اور بیوی سوتی رہ گئی یا بیوی کی آنکھ کھل گئی اور شوہر سوتا رہ گیا اور پھر جاگنے والے نے سونے والے کو اٹھانا چاہا اور وہ اگر کسل اور نیند کے غلبہ کی وجہ سے اس وقت آمادہ نہ ہوا تو محبت و تعلق کے اعتماد پر منہ پر پانی کا ہلکا سا چھینٹا دے کر اٹھا دیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں یہ طرز عمل کسی کشیدگی اور ناگواری کا باعث نہ ہو گا بلکہ ان شاء اللہ باہمی محبت و مودت میں ترقی اور اضافہ کا سبب بنے گا۔ بہرحال اس حدیث کا تعلق ایسی ہی صورت حال سے ہے، اور حضور ﷺ کی ترغیب انہی خوش نصیب شوہروں اور بیویوں کے لیے ہے جو اس کے اہل ہوں، اور وہ بذات خود بھی اس عظیم نعمت نماز تہجد کے قدر شناس اور شائق ہوں۔
نماز تہجد کی قضا اور اس کا بدل
عَنْ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ ، أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، وَصَلَاةِ الظُّهْرِ ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ » (رواه مسلم)
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص رات کو سو تا رہ گیا اپنے مقررہ ورد سے یا اس کے کسی جز سے پھر اس نے اس کو پڑھ لیا نماز فجر اور نماز ظہر کے درمیان تو لکھا جائے گا اس کے حق میں جیسے کہ اس نے پڑھا ہے رات ہی میں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے رات کے لیے اپنا کوئی ورد مقرر کر لیا مثلاً یہ کہ میں اتنی رکعتیں پڑھا کروں گا اور اس میں قرآن مجید اتنا پڑھوں گا، اور وہ کسی رات سوتا رہ جائے اور اس کا پورا اور دیا کوئی جزو فوت ہو جائے، تو اگر وہ اسی دن نماز ظہر سے پہلے پہلے اس کو پڑھ لے تو حق تعالیٰ اس کے لیے رات کے پڑھنے کے برابر ثواب عطا فرمائیں گے۔
نماز تہجد کی قضا اور اس کا بدل
عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « كَانَ إِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ ، أَوْ غَيْرِهِ ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً » (رواه مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ جب بیماری وغیرہ کسی عذر کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز تہجد فوت ہو جاتی تو آپ دن کو اس کے بجائے بارہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد میں کتنی رکعتیں پڑھتے تھے
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : « كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْهَا الوِتْرُ ، وَرَكْعَتَا الفَجْرِ » (رواه مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے جن میں وتر اور سنت فجر کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے تہجد کی رکعات کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا جو معمول بتلایا ہے وہ آپ ﷺ کا اکثری معمول تھا ورنہ خود حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہی کی بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی کبھی آپ ﷺ اس سے بھی کم پڑھتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد میں کتنی رکعتیں پڑھتے تھے
عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ فَقَالَتْ : « سَبْعٌ ، وَتِسْعٌ ، وَإِحْدَى عَشْرَةَ ، سِوَى رَكْعَتِي الفَجْرِ » (رواه البخارى)
مسروق تابعی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے دریافت کیا (کہ آپ ﷺ کتنی رکعتیں پڑھتے تھے) تو انہوں نے فرمایا کہ: سات اور نو اور گیارہ، سنت فجر کی دو رکعتوں کے سوا۔ (صحیح بخاری)
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ تہجد میں کبھی صرف سات رکعتیں پڑھتے تھے (یعنی چار رکعت تہجد اور تین رکعات وتر) اور کبھی صرف نو (یعنی چھ رکعت تہجد اور تین رکعات وتر) اور کبھی صرف گیارہ (یعنی آٹھ رکعت تہجد اور تین رکعات وتر) یہ تفصیل خود حضرت صدیقہ ؓ کی اس حدیث مذکور ہے جو وتر کے بیان میں سنن ابی داؤد کے حوالے سے نقل ہو چکی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد کی بعض تفصیلات
عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : « كَانَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِيُصَلِّيَ ، افْتَتَحَ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ » (رواه مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو نماز تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو پہلے ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
بعض شارحین نے لکھا ہے کہ ایسا غالبا اس لیے کرتے تھے کہ پہلے ہلکی دو رکعتیں پڑھ کے طبیعت میں نشاط پیدا ہو جائے تو اس کے بعد طویل قرأت کے ساتھ پڑھیں۔ واللہ اعلم۔ اور صحیح مسلم ہی میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے کہ: إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِيُصَلِّيَ، افْتَتَحَ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ (جب تم میں سے کوئی رات کو نماز کے لیے اٹھے تو پہلے ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ کے نماز شروع کرے)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد کی بعض تفصیلات
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ : {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} فَقَرَأَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ سِتَّ رَكَعَاتٍ ، كُلَّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَهُوَ يَقُولُ : « اللهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا ، وَفِي لِسَانِي نُورًا ، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا ، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا ، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا ، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا ، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا ، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا ، اللهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا » (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وه ایک رات رسول اللہ ﷺ کے پاس سوئے پس (وقت آ جانے پر تہجد کے لیے) رسول اللہ ﷺ اٹھے اور آپ ﷺ نے مسواک کی اور وضو کیا اور آپ ﷺ اس وقت (سورہ آل عمران کے آخر کی) یہ دعائیہ آیتیں تلاوت فرماتے تھے: إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ (ختم سورت تک) پھر آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں جن میں قیام اور رکوع سجدہ بہت طویل کیا، پھر آپ ﷺ بستر کی طرف واپس آئے اور (ذرا دیر کے لیے) سو گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کا سانس آواز کے ساتھ چلنے لگا، اس کے بعد آپ ﷺ نے تین دفعہ ایسا کیا (یعنی تین دفعہ ایسا کیا کہ ذرا دیر کے سونے کے بعد اٹھے مسواک کی، وضو فرمایا اور طویل قیام اور طویل رکوع و سجود کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں) اس طرح آپ ﷺ نے (پہلی دو رکعتوں کے علاوہ) چھ رکعتیں پڑھیں۔ اور ہر دفعہ اٹھ کر آپ ﷺ مسواک کرتے اور وضو فرماتے اور آل عمران کے آخر کی وہ آیتیں پڑھتےتھے، پھر آپ ﷺ نے تین رکعت نماز وتر پڑھی پھر مؤذن نے فجر کی اذان دی۔ تو آپ ﷺ نماز فجر کے لیے تشریف لے گئے اور اس وقت آپ ﷺ یہ دعا فرما رہے تھے اللهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا.... الخ (اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، اور میری زبان میں نور پیدا فرما، اور میری سمع و بصر میں نور پیدا فرما، اور میرے پیچھے اور میرے آگے نور کر دے اور میرے اوپر اور میرے نیچے نور کر دے اے اللہ! مجھے نور عطا فرما دے۔ “ (صحیح مسلم)
تشریح
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ یہ حدیث صحیحین میں بھی اور دوسری کتابوں میں بھی کئی طریقوں سے روایت کی گئی ہے، اور بعض طرق میں اس سے زیادہ تفصیل ہے نیز بیان اور ترتیب میں بھی کچھ فرق ہے۔ مثلا ی کہ دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ آل عمران کی آخری آیتیں آپ ﷺ نے سو کے اٹھ کر وضو فمانے سے پہلے پڑھیں۔ اسی طرح بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا نوری: اللهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا آپ ﷺ نے اس دن صبح کی نماز میں کی تھی۔ اسی طرح کا ایک فرق یہ ہے کہ دو دو رکعتیں پڑھ کے درمیان میں ذرا دیر کے لیے سو جانے کا ذکر جو اس روایت میں کیا گیا ہے دوسری روایات اس سے خالی ہیں۔ اور یہ تو معلوم ہے کہ اس طرح ہر دو رکعت کے بعد دونا حضور ﷺ کی عام عادت مبارکہ نہیں تھی اس رات آپ ﷺ نے اتفاقا ایسا کیا ہو گا۔
اس روایت میں دو خفیف رکعتیں پڑھنے کا ذکر نہیں ہے، بظاہر ان کا ذکر راوی کے بیان سے رہ گیا، اور اس کا قرینہ یہ بھی ہے کہ اسی حدیث کی دوسری روایتوں میں صراحۃ تیرہ رکعت پڑھنے کا ذکر ہے، اور اس روایت کے مطابق کل رکعتیں صرف گیارہ ہوتی ہیں، ان دونوں بیانوں میں تطبیق اسی طرح دی جا سکتی ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ اس کے راوی نے پہلی دو خفیف رکعتوں کا ذکر نہیں کیا ہے اور غالبا ان کو نماز تہجد سے خارج تحیۃ الوضو سمجھا ہے۔ واللہ اعلم۔
دعاء نوری جو اس روایت میں ذکر کی گئی ہے اس میں نو دعائیہ کلمے ہیں، بعض دوسری روایات میں ان سے زیادہ کلمات نقل کیے گئے ہیں۔ بڑی مبارک اور نورانی دعا ہے۔ حاصل اس دعا کا یہ ہے کہ اے اللہ میرے قلب اور میرے قالب اور میری روح اور میرے جسم میں اور جسم کے ہر حصے میں اور میری رگ رگ اور ریشہ ریشہ میں نور پیدا فرما دے اور مجھے از سر تا پا نور بنا دے، اور میرے گرد و پیش اور اوپر نیچے ہر طرف نور ہی نور کر دے۔ قرآن مجید کی آیت “ اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ” کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس دعا کا مقصد یہ ہو گا کہ میرا وجود اور گرد و پیش بس آ کے نور سے منور ہو جائے اور میرا ظاہر و باطن اور پورا ماحول بھی بس آپ کے رنگ میں رنگ جائے۔ صبغة الله ومن أحسن من الله صبغة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد کی بعض تفصیلات
عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ، فَكَانَ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ » ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ ، ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ، فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ : « سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ » ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، فَكَانَ قِيَامُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ ، يَقُولُ : لِرَبِّيَ الْحَمْدُ ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَكَانَ سُجُودُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ، فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : « سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى » ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ ، وَكَانَ يَقْعُدُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ ، وَكَانَ يَقُولُ : « رَبِّ اغْفِرْ لِي ، رَبِّ اغْفِرْ لِي » ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، قَرَأَ فِيهِنَّ الْبَقَرَةَ ، وَآلَ عِمْرَانَ ، وَالنِّسَاءَ ، وَالْمَائِدَةَ ، أَوِ الْأَنْعَامَ ، شَكَّ شُعْبَةُ. (رواه ابوداؤد)
حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک رات تہجد کی نماز پڑھتے دیکھا، آپ ﷺ نے نماز شروع کرتے ہوئے کہا اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ (اللہ سب سے بڑا، اللہ سب سے بڑا، اللہ سب سے بڑا، بڑی بادشاہت والا، بڑے دبدبے والا، کبریائی اور عظمت والا) اس کے بعد آپ ﷺ نے نماز شروع کی، پھر (سورہ فاتحہ کے بعد) سورۃ بقرہ کی پڑھی، پھر رکوع کیا تو آپ ﷺ کا رکوع قیام ہی کی طرح تھا (یعنی جس طرح قیام بہت طویل کیا کہ ایک رکعت میں پوری سورہ بقرہ پڑھی، اسی طرح اس نماز میں آپ ﷺ نے رکوع بھی بہت طویل کیا) اور اس رکوع میں آپ ﷺ کی زبان پر یہی کلمہ جاری تھا سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا تو رکوع کی طرح بہت دیر تک کھڑے رہے اور اس قومہ میں آپ کی زبان پر یہ کلمہ تھا لِرَبِّيَ الْحَمْدُ (ساری حمد و ستائش بس میرے رب کے لیے ہے) اس کے بعد آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو آپ ﷺ کا سجدہ قیام ہی کی طرح طویل تھا، اور آپ ﷺ سجدہ سجدے میں کہتے تھے: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى، پھر آپ ﷺ نے سجدہ سے سر اٹھایا اور دونوں سجدوں کے درمیان آپ ﷺ اپنے سجدے کی طرح یعنی قریبا اس کے بقدر ہی بیٹھتے تھے، اور اس درمیانی جلسہ میں دعا کرتے تھے رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي (اے میرے رب میری مغفرت فرما! اے میرے مالک مجھے معاف کر دے) آپ ﷺ نے اس وقت چار رکعتیں پڑھیں جن میں سورہ بقرہ، آل عمران، نساء اور مائدہ یا انعام پڑھیں۔ (امام ابو داؤد کے استاذ الاستاذ) شعبۃ بن الحجاج کو اس میں شبہ ہو گیا ہے کہ ان کے استاذ عمرو بن مرۃ نے چوتھی رکعت میں سورہ مائدہ پڑھنے کا ذکر کیا تھا یا سورہ انعام پڑھنے کا۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
اس طرح طویل قرات اور طویل رکوع و سجود کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے تہجد پڑھنے کے واقعات حضرت حذیفہؓ کے علاوہ اور بھی متعدد صحابہ کرامؓ سے مروی ہیں۔ چنانچہ حضرت عوف بن مالک اشجعی نے ایک رات کی آپ ﷺ کی نماز تہجد کا ذکر کیا ہے جس میں آپ ﷺ نے پہلی دو رکعتوں میں سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھیں۔ اور اس کے بعد کی دو رکعتوں میں بھی اسی طرح دو بڑی بڑی سورتیں (غالبا نساء اور مائدہ) پڑھیں۔ اور یہ ساری سورتیں اس طرح پڑھیں کہ جہاں رحمت کی کوئی آیت آ جاتی تو اثناء قرأت ہی میں ٹھہر کر رحمت کی دعا کرتے اور جہاں عذاب کی آیت آ جاتی وہاں اسی طرح اس سے پناہ مانگتے۔
واضح رہے کہ نماز تہجد میں اور اسی طرح دوسری نفل نمازوں میں قرأت کے درمیان ٹھہر کے دعا کرنا بالاتفاق جائز ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد کی بعض تفصیلات
عَنْ أَبَىْ ذَرٍّ قَالَ : " قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ بِآيَةٍ ، وَالْآيَةُ {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} (رواه النسائى وابن ماجه)
حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات کی نماز میں رسول اللہ ﷺ نے ایک ہی آیت پڑھتے پڑھتے صبح کر دی، اور وہ (سورہ مائدہ کے آخری رکوع کی) یہ آیت تھی۔ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ الاية. (سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ایک رات کو آپ ﷺ نماز تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو کسی خاص حالت اور کیفیت میں اسی ایک آیت کو بار بار پڑھتے رہے، یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ “ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ” یہ آیت اللہ تعالیٰ کے ایک پرجلال سوال کے جواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معذرت اور عاجزانہ گزارش کا ایک جز ہے۔ سورہ مائدہ کے آخری رکوع میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مسیحیوں پر حجت قائم کرنے کے لیے حضرت عیسیٰؑ سے سوال کریں گے کہ کیا تم نے اپنی امت سے کہا تھا کہ اللہ کے علاوہ مجھے اور میری ماں مریم کو بھی معبود اور خدا بنا لینا؟ حضرت عیسیٰؑ اس کے جواب میں ایسی بات سے اپنی قطعی برأت ظاہر کریں گے، اور عرض کریں گے کہ خداوندا! آپ سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے آپ علام الغیوب ہیں آپ کو معلوم ہے کہ میں نے ان کو توحید ہی کی دعوت و تعلیم دی تھی، ان میں یہ شرک دنیا سے میرے جانے کے بعد آیا۔ اس کے بعد یہ آیت ہے اور یہی حضرت عیسیٰؑ کے جواب کا آخری جز ہے۔
“ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (مائدہ) ” خداوند اگر تو ان کو (ان کے سنگین جرم کی وجہ سے) عذاب میں ڈالے تو یہ سب تیرے بندے ہیں (تجھے عذاب دینے کا پورا حق ہے) اور اگر تو ان کو معاف کر دے (تو یہ بھی تیرے بس میں ہے) بے شک تو غالب ہے حکمت والا ہے۔ (تیرا جو فیصلہ بھی ہو گا وہ کسی کے دباؤ سے اور مجبوری سے نہیں ہو گا، بلکہ اپنے ذاتی ارادے سے اور حکمت کے تقاضے سے ہو گا)۔
رات کی نماز میں صبح تک اسی ایک آیت کو پڑھتے رہنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے بعض شارحین نے لکھا ہے کہ اس آیت پر پہنچ کے غالبا آپ ﷺ کو اپنی امت کا خیال آ گیا جس کے بارے میں آپ ﷺ پر یہ بات منکشف ہو چکی تھی کہ اگلی امتوں کی طرح اس میں بھی عقیدہ اور عمل کا بہت کچھ فساد آئے گا، اور آپ ﷺ اسی کی میں عیسیٰ علیہ السلام کی یہ عاجزانہ اور دردمندانہ گزارش اللہ تعالیٰ کے حضور دہراتے رہے۔ واللہ اعلم۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد کی بعض تفصیلات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : « كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ يَرْفَعُ طَوْرًا ، وَيَخْفِضُ طَوْرًا » (رواه ابوداؤد)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کی نماز میں قرأت کبھی بلند آواز سے کرتے تھے اور کبھی آہستہ پست آواز سے۔ (سنن ابی داؤد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد کی بعض تفصیلات
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلَةً ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ ، قَالَ : وَمَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ ، قَالَ : فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : « يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ صَوْتَكَ » ، قَالَ : قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَقَالَ لِعُمَرَ : « مَرَرْتُ بِكَ ، وَأَنْتَ تُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَكَ » ، قَالَ : فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُوقِظُ الْوَسْنَانَ ، وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ - زَادَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ : - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « يَا أَبَا بَكْرٍ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا » ، وَقَالَ لِعُمَرَ : « اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا » . (رواه ابوداؤد)
حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ باہر نکلے تو ابوبکر ؓ کو دیکھا کہ وہ بالکل آہستہ آہستہ نماز پڑھ رہے ہیں عمر ؓ کے پر آپ کا گزر ہوا وہ خوب بلند آواز سے نماز پڑھ رہے ہیں، جب یہ دونوں حضرات (دوسرے کسی وقت) آپ کی خدمت میں ایک ساتھ حاضر ہوئے تو آپ ﷺ ابوبکرؓ سے فرمایا: کہ میں رات تمہارے پاس سے گزرا تو دیکھا کہ تم بالکل آہستہ نماز پڑھ رہے تھے؟، انہوں نے عرض کیا کہ جس کے حضور میں عرض معروض کر رہا تھا بس اس کو میں نے سنا دیا اور اس نے میری سن لی (یعنی اللہ تعالیٰ نے) پھر اسی طرح آپ نے عمر ؓ سے فرمایا کہ تمہارے پاس سے میں گزرا تو تم خوب بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھےانہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (ﷺ) میں بلند آواز سے قرأت کر کے اونگھتے ہوؤں کو اٹھانا اور شیطان کو بھگانا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکرؓ! تم کسی قدر اونچی آواز میں پڑھا کرو اور عمر ؓ سے فرمایا تم کسی قدر ہلکی آواز سے پڑھا کرو۔
تشریح
عام حالات میں یہی مناسب ہے کہ تہجد کی نماز میں قرأت معتدل آواز سے ہو، نہ بالکل خفی ہو نہ بہت زیادہ جہسے سے، مندجہ بالا حدیث کا منشاء یہی ہے، لیکن اگر کسی وقت خاص وجہ سے آہستہ پڑھنا زیادہ مناسب ہو تو وہی بہتر ہو گا اور اس کے برعکس کسی دوسرے وقت اگر بلند آواز سے پڑھنے میں کوئی مصلحت ہو تو اس وقت وہی افضل ہو گا۔
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ ، فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ ، وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى » (رواه مسلم)
حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کے جوڑ جوڑ پر صبح کو صدقہ ہے۔ (یعنی صبح کو جب آدمی اس حالت سے اٹھتا ہے کہ اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ اعضاء اور ان کے ہر جوڑ صحیح سلامت ہے تو اللہ کی اس نعمت کے شکریہ میں ہر جوڑ کی طرف سے اس کو صدقہ یعنی کوئی نیکی اور ثواب کا کام کرنا چاہیے اور ایسے کاموں کی فہرست بہت وسیع ہے) پس ایک دفعہ سبحان الله کہنا بھی صدقہ ہے، اور الحمدالله کہنا بھی صدقہ ہے اور لَا اِلَهَ اِلَّا اللهُ کہنا بھی صدقہ ہے اور اللهُ اكبر کہنا بھی صدقہ ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی صدقہ ہے، اس شکر کی ادائگی کے لیے دو رکعتیں کافی ہیں جو آدمی چاشت کے وقت میں پڑھے۔ “ (صحیح مسلم)
تشریح
جس طرح عشاء کے بعد سے لے کر طلوع فجر تک کے طویل وقفہ میں کوئی نماز فرض نہیں کی گئی ہے لیکن اس درمیان میں تہجد کی کچھ رکعتیں پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے، اسی طرح فجر سے لے کر ظہر تک کے طویل وقفہ میں بھی کوئی نماز فرض نہیں کی گئی ہے، مگر اس درمیان میں “ صلوٰۃ الضحی ” کے عنوان سے کم سے کم دو اور زیادہ سے زیادہ جتنی ہو سکیں نفلی رکعتیں پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے، اگر یہ رکعتیں طلوع آفتاب کے تھوڑی ہی دیر کے بعد پڑھی جائیں تو ان کو چاشت کہا جاتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ان کی حکمت بیان کرتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ:
“ دن (جو اہل عرب کے نزدیک صبح سے یعنی فجر کے وقت سے شروع ہو جاتا ہے اور جو چار چوتھائیوحں میں تقسیم ہے جن کو چار پہر کہتے ہیں) حکمت الٰہی کا تقاضا ہوا کہ دن کے ان چار پہروں میں سے کوئی پہر بھی نماز سے خالی نہ رہے، اس لئے پہلے پہر کے شروع میں نماز فجر فرض کی گئی اور تیسرے اور چوتھے پہر میں ظہر وہ عصر اور دوسرا پہر جو عوام الناس کی معاشی مشغولیتوں کی رعایت سے فرض نماز سے خالی رکھا گیا تھا اس میں نفل اور مستحب کے طور پر یہ “ صلوٰۃ الضحیٰ ” (نماز چاشت) مقرر کر دی گئی ہے، اور اس کے فضائل و برکات بیان کر کر کے اس کی ترغیب دی گئی ہے کہ جو بندگانِ خدا اپنے مشاغل سے وقت نکال کر اس وقت میں چند رکعتیں پڑھ سکیں وہ یہ سعادت حاصل کریں ..... پھر یہ “ صلوٰۃ الضحیٰ ” کم سے کم دو رکعت ہے اور اس سے زیادہ نفع بخش چار رکعت، اور اسے سے بھی افضل آٹھ رکعت ”۔ (حجۃ اللہ البالغہ)
اس تمہید کے بعد صلوۃ الضحی سے متعلق چند حدیثیں ذیل میں پڑھی جائیں:
تشریح ..... مطلب یہ ہے کہ آدمی کو اپنے ہر جوڑ کی طرف سے شکرانہ کا جو صدقہ ہر روز صبخ کو ادا کرنا چاہیے چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے سے ہو پوری طرح ادا ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس مختصر شکرانہ کو اس کے ہر جوڑ کی طرف سے قبول فرما لیتا ہے، اور غالبا اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ نماز ایسی عبادت ہے جس میں انسان کے سارے اعضاء اور اس کے تمام جوڑ اور اس کا ظاہر و باطن سب ہی شریک رہتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَأَبِي ذَرٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ : ابْنَ آدَمَ ارْكَعْ لِي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو الدرداء اور حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: اے فرزند آدم! تو دن کے ابتدائی حصے میں چار رکعتیں میرے لیے پڑھا کر میں دن کے آخری حصے تک تجھے کفایت کروں گا۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اللہ کا جو بندہ رب کریم کے اس وعدہ پر یقین رکھتے ہوئے صبح یا اشراق یا چاشت کے وقت پورے اخلاص کے ساتھ چار رکعتیں اللہ تعالیٰ کے لیے پڑھے گا، ان شاء اللہ اس حدیث قدسی کے مطابق وہ ضرور دیکھے گا کہ مالک الملک دن بھر کے اس کے مسائل کو کس طرح حل فرماتا ہے۔
عَنْ مُعَاذَةَ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، كَمْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ : « أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ » . (رواه مسلم)
معاذہ عدویہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز کے (کتنی) رکعت پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ: چار رکعتیں، اور اس سے زیادہ جتنی اللہ چاہتا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب چاشت کی نماز پڑھتے تو اکثر چار رکعت پڑھتے تھے، اور کبھی کبھی اس سے زیادہ بھی پڑھتے تھے، لیکن خود حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا معمول آٹھ رکعت پڑھنے کا تھا، اور ان کو یہ رکعتیں اتنی محبوب تھیں کہ فرماتی تھیں: لو نشر لى ابواى ما تركتها (اگر میرے والدین ماجدین پھر سے دنیا میں بھیج دئیے جائیں تو ان کی زیارت و ملاقات کی پر مسرت مشغولیت میں بھی ان رکعتوں کو نہیں چھوڑوں گی)۔
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ : « إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، فَلَمْ أَرَ صَلاَةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا ، غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَفِىْ رِوَايَةٍ اُخْرَى وَذَالِكَ ضُحًى » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن ان کے گھر تشریف لائے اور وہاں آپ ﷺ نے غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں (اور ایسی ہلکی اور مختصر پڑھیں کہ) میں نے کوئی نماز اس سے زیادہ ہلکی نہیں دیکھی، لیکن آپ ﷺ رکوع سجدہ پوری طرح کرتے تھے۔ اور اسی حدیث کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ وقت چاشت کا تھا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى ، غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " (رواه احمد والترمذى وابن ماجه)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جس نے دوگانہ چاشت کا اہتمام کیا اس کے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اگرچہ وہ کثرت میں سمندر کے جھاگوں کے برابر ہوں۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
عبادات یا دوسرے اعمال صالحہ کی برکت سے گناہوں کی بخشش کے بارے میں جو وضاحت پہلے کئی بار کی جا چکی ہے، وہ یہاں بھی ملحوظ رہنی چاہیے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ : « بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى ، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَرْقُدَ » . (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میرے محبوب ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی ہے: ایک ہر مہینے تین دن کے روزے اور چاشت کی دو رکعتیں اور تیسرے یہ کہ میں سونے سے پہلے ہی وتر پڑھ لیا کروں۔ (صحیح مسلم)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى حَتَّى نَقُولَ : لَا يَدَعُهَا ، وَيَدَعُهَا حَتَّى نَقُولَ : لَا يُصَلِّيهَا " (رواه والترمذى)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (کبھی کبھی) چاشت کی نماز (اتنے اہتمام اور پابندی سے) پڑھتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب غالبا آپ ﷺ کبھی نہیں چھوڑیں گے (اور برابر پڑھا ہی کریں گے) اور (کبھی کبھی) اس کو (اس طرح) چھوڑ دیتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب (غالبا آپ ﷺ اس کو نہیں پڑھیں گے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے نماز چاشت نہ پڑھنے کی وجہ ہی بیان کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ:
“ رسول اللہ ﷺ بسا اوقات ایسے اعمال بھی ترک فرما دیتے تھے جن کا کرنا آپ ﷺ کو بہت محبوب ہوتا تھا اس خطرے کی وجہ سے کہ آپ ﷺ کو پابندی سے کرتا دیکھ کر آپ ﷺ کی تقلید اور پیروی میں عام مسلمان بھی اس کو پابندی سے کرنے لگیں تو اس کی فرضیت کا حکم نہ آ جائے ”
الغرض اشراق اور چاشت جیسے نوافل بسا اوقات آپ ﷺ اس مصلحت سے ترک کر دیتے تھے، اور ایسے مقصد سے ترک کرنے کے زمانہ میں بھی عمل کا ثواب برابر ملتا رہتا ہے، اور ظاہر ہے کہ یہ مصلحت صرف آپ ﷺ سے مخصوص تھی، کسی دوسرے کا یہ مقام نہیں ہے۔
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ ، ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ لَهُ » ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ } (رواه الترمذى)
حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ مجھ سے ابو بکرؓ نے بیان فرمایا (جو بلا شبہ صادق و صدیق ہیں) کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: جس شخص سے کوئی گناہ ہو جائے پر وہ اٹھ کر وضو کرے، پھر نماز پڑھے، پھر اللہ سے مغفرت اور معافی طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما ہی دیتا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی: وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ .... الآية (جامع ترمذی)
تشریح
ٓفرض نمازوں سے پہلے یا بعد میں پڑھے جانے والے نوافل اور اسی طرح تہجد اور اشراق و چاشت یہ سب وہ ہیں جن کے اوقات متعین ہیں، لیکن کچھ نوافل وہ ہیں جن کا تعلق خاص اوقات سے نہیں بلکہ خاص حالات سے ہے۔ جیسے: دوگانہ وضو (جس کو عرف عام میں تحیۃ الوضو کہتے ہیں) یا تحیۃ المسجد، اسی طرح صلوۃ حاجت، صلوۃ توبہ اور نماز استخارہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے کسی کا بھی کوئی وقت معین نہیں ہے، بلکہ جس وقت بھی وہ حالات یا ضروریات پیش آئیں جن سے ان نوافل کا تعلق ہے، یہ اسی وقت پڑھے جاتے ہیں۔ ان میں سے تحیۃ الوضو سے متعلق حدیثیں وضو کے بیان میں ذکر کی جا چکی ہیں۔ اسی طرح تحیۃ المسجد سے متعلق احادیث بھی “ مسجد کی اہمیت و فضیلت ” کے بیان میں مذکور ہو چکی ہیں۔ ان کے علاوہ اس نوع کے باقی نوافل سے متعلق حدیثیں ذیل میں پڑھئے۔
تشریح ..... یہ آیت جو رسول اللہ ﷺ نے گناہوں کی مغفرت کے سلسلہ میں اس موقع پر تلاوت فرمائی سورہ آل عمران کی ہے، اوپر اللہ کے ان متقی بندوں کا ذکر ہے جن کے لیے جنت خاص طور سے تیار کی گئی ہے۔ اس کے بعد یہ آیت ہے۔
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿١٣٥﴾ أُولَـٰئِكَ جَزَاؤُهُم مَّغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚوَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ. (العمران۳: ۱۳۵، ۱۳۶)
(اور وہ بندے (جن کا حال یہ ہے کہ) جن ان سے کوئی گندہ گناہ ہو جاتا ہے یا کوئی برا کام کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو جلد ہی انہیں اللہ یاد آ جاتا ہے اور وہ اس سے اپنے گناہوں کی مغفرت اور معارفی کے طالب ہوتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کون ہے گناہوں کا معاف کرنے والا، اور وہ دیدہ و دانستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے (135) ایسے لوگوں کی جزا بخشش اور معافی ہے ان کے رب کی طرف سے اور بہشتی باغات جن کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، کیا اچھا بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا)۔
اس آیت میں ان گنہگار بندوں کے لیے مغفرت اور جنت کی بشارت ہے جنہوں نے معصیت کو عادت اور پیشہ نہیں بنایا ہے، بلکہ ان کا حال یہ ہے کہ جب ان سے کوئی بڑا یا چھوٹا گناہ ہو جاتا ہے تو وہ اس پر نادم ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوہ ہو کر اس سے مغفرت اور معافی کے طالب ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور معافی حاصل کرنے کا بہترین اور پیٹنٹ طریقہ یہ ہے کہ بندہ وضو کر کے پہلے دو رکعت نماز پڑھے اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش اور معافی طلب کرے، اگر وہ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کی بخشش کا فیصلہ فرما ہی دے گا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى اللَّهِ ، أَوْ إِلَى أَحَدٍ مِنْ بنى آدم ، فَلْيَتَوَضَّأْ فَلْيُحْسِنِ الْوُضُوْءَ ثُمَّ لِيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ لِيُثْنِ عَلَى اللهِ عَزَّ تَعَالَى ، وَلِيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ لِيَقُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ ، لَا تَدَعَ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ ، وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ. (رواه الترمذى وابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو کوئی حاجت اور ضرورت ہو اللہ تعالیٰ سے متعلق یا کسی آدمی سے متعلق (یعنی خواہ وہ حاجت ایسی ہو جس کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ ہی سے ہو کسی بندے سے اس کا واسطہ ہی نہ ہو، یا ایسا معاملہ ہو کہ بظاہر اس کا تعلق کسی بندے سے ہو، بہر صورت) اس کو چاہئے کہ وہ وضو کرے اور خوب اچھا وضو کرے، اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی کچھ حمد و ثنا کرے اور اس کے نبی (علیہ السلام) پر درود پڑھے، پھر اللہ کے حضور میں اس طرح عرض کرے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، الْحَلِيمُ، الْكَرِيمُ.... (اللہ کے سوا کوئی مالک و معبود نہیں، وہ بڑے حلم والا اور بڑا کریم ہے، پاک اور مقدس ہے وہ اللہ جو عرش عظیم کا بھی رب اور مالک ہے، ساری حمد و شتائش اس اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے، اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ان اعمال اور ان اخلاق و احوال کا جو تیری رحمت کا موجب اور وسیلہ اور تیری مغفرت اور بخشش کا پکا ذریعہ بنیں، اور تجھ سے طالب ہوں ہر نیکی سے فائدہ اٹھانے اور حصہ لینے کا اور ہر گناہ اور معصیت سے سلامتی اور حفاظت کا۔ خداوندا! میرے سارے ہی گناہ بخش دے، اور میری ہر فکر اور پریشانی دور کر دے اور میری ہر حاجت جس سے تو راضی ہو اس کو پورا فرما دے۔ اے ارحم الراحمین! سب مہربانوں سے بڑے مہربان!!!۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
یہ ایک حقیقت ہے کہ جس میں کسی مومن کے لیے کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ مخلوقات کی ساری حاجتیں اور ضرورتیں اللہ کے اور صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں، اور بظاہر جو کام بندوں کے ہاتھوں سے ہوتے دکھائی دیتے ہیں دراصل وہ بھی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں اور اسی کے حکم سے انجام پاتے ہیں۔ اور صلوٰۃ حاجۃ کا جو طریقہ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں تعلیم فرمایا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجتیں پوری کرانے کا بہترین اور متعمد ترین طریقہ ہے، اور جن بندوں کو ان ایمانی حقیقتوں پر یقین نصیب ہے، ان کا یہی تجربہ ہے اور انہوں نے “ صلوٰۃ حاجت ” کو خزائن الہیہ کی کنجی پایا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں ان حاجتوں کے لیے بھی صلوٰۃ حاجت تعلیم فرمائی ہے جن کا تعلق بظاہر کسی بندے سے ہو۔ اس کا ایک خاص فائدہ یہ بھی ہے کہ جب بندہ اپنی ایسی حاجات کے لیے بھی صلوٰۃ حاجت پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعا کرے گا تو اس کا یہ عقیدہ اور یقین اور زیادہ مستحکم ہو جائے گا کہ کام کرنے اور بنانے والا دراصل وہ بندہ نہیں ہے، نہ اس کے کچھ اختیار میں ہے، بلکہ سب کچھ اللہ تعالیی ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہ بندہ اللہ تعالیٰ کا صرف آلہ کار ہے، اس کے بعد جب وہ کسی بندے کے ہاتھ سے کام ہوتا ہوا بھی دیکھے گا تو اس کے توحیدی عقیدے میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔