عَنْ حُذَيْفَةَ كَانَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ فَصَلَّى. (رواه ابوداؤد)
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا مستقل معمول اور دستور تھا کہ جب کوئی فکر آپ ﷺ کو لاحق ہوتی اور کوئی اہم معاملہ پیش آتا تو آپ ﷺ نماز میں مشغول ہو جاتے۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے: “ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ” (مشکلات اور مہمات میں ہمت و برداشت اور نماز کے ذریعہ اللہ کی مدد حاصل کرو) اس خداوندی تعلیم و ہدایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ کا یہ معمول تھا کہ ہر مشکل اور مہم میں اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کے لیے آپ ﷺ نماز میں مشغول ہو جاتے تھے اور امت کو اس کا تفصیلی طریقہ آپ ﷺ نے وہ تعلیم فرمایا جو حضرت عبداللہ بن ابی اوفیؓ والی اوپر کی حدیث میں مذکور ہوا۔
عَنْ جَابِرِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الأُمُورِ ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ القُرْآنِ ، يَقُولُ : " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالأَمْرِ ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الفَرِيضَةِ ، ثُمَّ لِيَقُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ العَظِيمِ ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ ، وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الغُيُوبِ ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي (أَوْ قَالَ فِىْ عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ) فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي (أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ) فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ ، وَاقْدُرْ لِي الخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ، ثُمَّ أَرْضِنِي " قَالَ : « وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو اپنے معاملات میں استخارہ کرنے کا طریقہ اسی اہتمام سے سکھاتے تھے جس اہتمام سے قرآن کی سورتوں کی تعلیم فرماتے تھے۔ آپ ﷺ ہم کو بتاتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے (اور اس کے انجام کے بارے میں فکر مند ہو تو اس کو اس طرح استخارہ کرنا چاہئے) پہلے وہ دو رکعت نفل پڑھے اس کے بعد اللہ کے حضور میں اس طرح عرض کرے: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ ..... (اے میرے اللہ! میں تجھ سے تیری صفت علم کے وسیلے سے خیر اور بھلائی کی رہنمائی چاہتا ہوں اور تیری صفت قدرت کے ذریعے تجھ سے قدرت کا طالب ہوں اور تیرے عظیم فضل کی بھیگ مانگتا ہوں کیوں کہ تو قادر مطلق ہے اور میں بالکل عاجز ہوں۔ اور تو علیم کل ہے اور میں حقائق سے بالکل ناواقف ہوں اور تو سارے غیبوں سے باخبر ہے۔ پس اے میرے اللہ! اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے بہتر ہو، میرے دین، میری دنیا اور میری آخرت کے لحاظ سے تو اس کو میرے لیے مقدر کر دے اور آسان بھی فرما دے اور پھر اس میں میرے لیے برکت بھی دے
اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے برا ہے (اور اس کا نتیجہ خراب نکلنے والا ہے)، میرے دین، میری دنیا اور میری آخرت کے لحاظ سے تو اس کام کو مجھ سے الگ رکھ اور مجھے اس سے روک دے اور میرے لیے خیر و بھلائی کو مقدر فرما دے، وہ جہاں اور جس کام میں ہو پھر مجھے اس خیر والے کام کے ساتھ راضی اور مطمئن کر دے “۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ:
جس کام کے بارے میں استخارہ کرنے کی ضرورت ہو استخؒارہ کی دعا کرتے ہوئے صراحۃ اس کا نام لے۔ (صحیح بخاری)
تشریح
بندوں کا علم ناقص ہے بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بندہ ایک کام کرنا چاہتا ہے اور اس کا انجام اس کے حق میں اچھا نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے “ صلوٰۃ استخارہ ” تعلیم فرمائی اور بتایا کہ جب کوئی خاص اور اہم کام درپیش ہو تو دو رکعت نماز پڑھ کے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی اور توفیق خیر کی دعا کر لیا کرو۔
تشریح ..... جیسا کہ اس دعا کے مضمون سے ظاہر ہے استخارہ کی حقیقت اور اس کی روح یہ ہے کہ بندہ اپنی عاجزی اور بےعلمی کا احساس و اعتراف کرتے ہوئے اپنے علیم کل اور قادر مطلق مالک سے رہنمائی اور مدد چاہتا ہے اور اپنے معاملہ کو اس کے حوالے کر دیتا ہے کہ جو اس کے نزدیک بہتر ہو بس وہی کر دے، اس طرح گویا وہ اپنے مقصد کو اللہ کی مرضی میں فنا کر دیتا ہے، اور جب اس کی یہ دعا دل سے ہو جیسے کہ ہونا چاہیے تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کی رہنمائی اور مدد نہ فرمائے۔ حدیث میں اس کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی بندے کو کس طرح ھاصل ہو گی، لیکن اللہ تعالیٰ کے بندوں کا تجربہ ہے کہ یہ رہنمائی بسا اوقات خواب وغیرہ میں کسی غیبی اشارہ کے ذریعہ بھی ہوتی ہے، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ سے آپ اس کام کے کرنے کا جذبہ اور داعیہ دل میں بڑھ جاتا ہے، یا اس کے برعکس اس کی طرف سے دل بالکل ہٹ جاتا ہے، ایسی صورت میں ان دونوں کیفیتوں کو منجانب اللہ اور دعا کا نتیجہ سمجھنا چاہیے، اور اگر استخارہ کے بعد تذبذب کی کیفیت رہے تو استخارہ بار بار کیا جائے اور جب تک کسی طرف رجحان نہ ہو جائے اقدام نہ کیا جائے۔
بہر حال یہ صلوٰۃ استغفار، صلوٰۃ حاجت اور صلوٰۃ استخارہ عظیم نعمتیں ہیں جو اس امت کو رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے ملی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم کو ان سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : " يَا عَبَّاسُ ، يَا عَمَّاهُ ، أَلَا أُعْطِيكَ ، أَلَا أَمْنَحُكَ ، أَلَا أُخْبِرُكَ ، أَلَا أَفْعَلُ بِكَ عَشْرَ خِصَالٍ ، إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ ، خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ ، صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ : أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً ، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ ، قُلْتَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً ، ثُمَّ تَرْكَعُ ، فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ ، فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا ، فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، ثُمَّ تَسْجُدُ ، فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ ، فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ ، فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً " ، (رواه ابوداؤد وابن مانه والبيهقى فى الدعوات الكبير وروى الترمذى عن ابي رافع نحوه)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب سے فرمایا: اے عباس! اے میرے محترم چچا! کیا میں آپ کی خدمت میں ایک گراں قدر عطیہ اور ایک قیمتی تحفہ پیش کروں؟ کیا میں آپ کو ایک خاص بات بتاؤں؟ کیا میں آپ کے دس کام اور آپ کی دس خدمتیں کروں (یعنی آپ کو ایک ایسا عمل بتاؤں جس سے آپ کو دس عظیم الشان منفعتیں حاصل ہوں، وہ ایسا عمل ہے کہ) جب آپ اس کو کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے سارے گناہ معاف فرما دے گا اگلے بھی اور پچھلےبھی، صغیرہ بھی اور کبیرہ بھی، ڈھکے چھپے بھی اور اعلانیہ ہونے والے بھی، (وہ عمل صلوٰۃ التسبیح ہے، اور اس کا طریقہ یہ ہے) آپ چار رکعت نماز پڑھیں، اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور دوسری کوئی سورت پڑھیں، پھر جب آپ پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جائیں تو قیام ہی کی حالت میں پندرہ دفعہ کہیں سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ پھر اس کے بعد رکوع کریں، اور رکوع میں بھی یہی کلمہ دس دفعہ پڑھیں، پھر رکوع سے اٹھ کر قومہ میں بھی یہی کلمہ دس دفعہ کہیں، پھر سجدہ میں چلے جائیں اور اس میں یہ کلمہ دس دفعہ کہیں، پھر سجدہ سے اٹھ کر جلسہ میں یہی کلمہ دس دفعہ کہیں، پھر دوسرے سجدہ میں بھی یہی کلمہ دس دفعہ کہیں، پھر دوسرے سجدے کے بعد بھی (کھڑے ہونے سے پہلے) یہ کلمہ دس دفعہ کہیں، چاروں رکعتیں اسی طرح پڑھیں اور اس ترتیب سے ہر رکعت میں پچھتر دفعہ کہیں۔ (میرے چچا) اگر آپ سے ہو سکے تو روزانہ یہ نماز پڑھا کریں، اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کے دن پڑھ لیا کریں، اور اگر آپ یہ بھی نہ کر سکیں تو سال میں ایک دفعہ پڑھ لیا کریں، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو کم از کم زندگی میں ایک دفعہ پڑھ ہی لیں۔ (سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، دعوات کبیر للبیہقی)
تشریح
کتب حدیث میں صلوٰۃ التسبیح کی تعلیم و تلقین رسول اللہ ﷺ سے متعدد صحابہ کرامؓ سے روایت کی گئی ہے۔ امام ترمذی نے رسول اللہ ﷺ کے خادم اور آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع کی روایت اپنی سند سے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ ان کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمرو اور فضل بن عباس نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے اپنی کتاب “ الخصال المفكرة ” میں ابن الجوزی کا رد کرتے ہوئے “ صلوٰۃ التسبیح ” کی روایات اور ان کی سندی حیثیت پر تفصیل سے کلام کیا ہے اور ان کی بحث کا حاصل یہ ہے کہ یہ حدیث کم از کم “ حسن ” یعنی صحت کے لحاظ سے دوم درجہ کی ضرور ہے، اور بعض تابعین اور تبع تابعین حضرات سے (جن میں عبداللہ بن مبارک جیسے جلیل القدر امام بھی شامل ہیں) صلوٰۃ التسبیح کا پڑھنا اور اس کی فضیلت بیان کر کے لوگوں کو اس کی ترغیب دینا بھی ثابت ہے اور یہ اس کا واضح ثبوت ہے کہ ان حضرات کے نزدیک بھی “ صلوٰۃ التسبیح ” کی تلقین اور ترغیب کی حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت تھی، اور زمانہ ما بعد میں تو یہ صلوٰۃ التسبیح اکثر صالحین امت کا معمول رہا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اس نماز کے بارے میں ایک خاص نکتہ لکھا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نمازوں میں (خاص کر نفلی نمازوں میں) بہت سے اذکار اور دعا میں ثابت ہیں۔ اللہ کے جو بندے ان اذکار اور دعاؤں پر ایسے قابو یافتہ نہیں ہیں کہ اپنی نمازوں میں ان کو پوری طرح شامل کر سکیں اور اس وجہ سے ان اذکار و دعوات والی کامل ترین نماز سے وہ بے نصیب رہتے ہیں ان کے لیے یہی صلوٰۃ التسبیح اس کامل ترین نماز کے قائم مقام ہو جاتی ہے، کیوں کہ اس میں اللہ کے ذکر اور تسبیح و تحمید کی بہت بڑی مقدار شامل کر دی گئی ہے، او ر چونکہ ایک ہی کلمہ بار بار پڑھا جاتا ہے اس لیے عوام کے لیے بھی اس نماز کا پڑھنا مشکل نہیں ہے۔ صلوٰۃ التسبیح کا جو طریقہ اور اس کی جو ترتیب امام ترمذی وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن مبارک سے روایت کی ہے اس میں دوسری عام نمازوں کی طرح قرأت سے پہلے ثناء یعنی سبحانك اللهم وبحمدك اور رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ اور سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى پڑھنے کا بھی ذکر ہے اور ہر رکعت میں قیام میں قرأت سے پہلے کلمہ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ پندرہ دفعہ، اور قرأت کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے یہی کلمہ دس دفعہ پڑھنے کا ذکر بھی ہے، اسی طرح ہر رکعت کے قیام میں یہ کلمہ پچیس دفعہ ہو جائے گا اور اس طریقہ میں دوسرے سجدے کے بعد یہ کلمہ کسی رکعت میں بھی نہیں پڑھا جائے گا، اس طرح اس طریقے کی ہر رکعت میں بھی اس کلمہ کی مجموعی تعداد پچھتر اور چار رکعتوں کی مجموعی تعداد تین ہو ہی ہو گی۔ بہرحال صلوٰۃ التسبیح کے یہ دونوں ہی طریقے منقول اور معمول ہیں۔ پڑھنے والے کے لیے گنجائش ہے جس طرح چاہے پڑھے۔
“ صلوٰۃ التسبیح ” کی تاثیر اور برکت
نماز کے ذریعہ گنوہوں کے معاف ہونے اور معصیات کے گندے اثرات کے زائل ہونے کا ذکر تو اصلی طور پر قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے:
أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ (هود: ۱۱۴: ۱۱)
لیکن اس تاثیر میں “ صلوٰۃ التسبیح ” کا جو خاص مقام ار درجہ ہے وہ حضرت عبداللہ بن عباس کی مندرجہ بالا حدیث میں پوری صراحت کے ساتھ ذکر کر دیا گیا ہے، یعنی یہ اس کی برکت سے بندہ کے اگلے، پچھلے، پرانے، نئے، دانستہ، نادانستہ، صغیرہ، کبیرہ، پوشیدہ، علانیہ، سارے ہی گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔ اور سنن ابی داؤد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی (عبداللہ بن عمروؓ) کو “ صلوٰۃ التسبیح ” کی تلقین کرنے کے بعد ان سے فرمایا:
فَإِنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَعْظَمَ أَهْلِ الْأَرْضِ ذَنْبًا غُفِرَ لَكَ بِذَلِكَ
“ تم اگر بالفرض دنیا کے سب سے بڑے گناہ گار ہو گے تو بھی اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرما دے گا ”
اللہ تعالیٰ محرومی سے حفاظت فرمائے اور اپنے ان خوش نصیب بندوں میں سے کر دے جو رحمت و مغفرت کے ایسے اعلانات کو نس کر ان سے فائدہ اٹھاتے اور ان کا حق ادا کرتے ہیں۔
عَنْ حُرَيْثِ بْنِ قَبِيصَةَ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا ، قَالَ فَجَلَسْتُ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقُلْتُ : إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي جَلِيسًا صَالِحًا ، فَحَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ العَبْدُ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلاَتُهُ ، فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ ، فَإِنْ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَيْئًا ، قَالَ الرَّبُّ تَعَالَى : انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ لِيَكْمُلَ بِهِ مَا انْتَقَصَ مِنَ الفَرِيضَةِ ، ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ اَعْمَالِهِ عَلَى ذَلِكَ. (رواه الترمذى والنسائى)
حریث بن قبیصہ تابعی بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ طیبہ آیاتو میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ: اے اللہ! مجھے اپنے کسی صالح بندے کی صحبت میسر فرما، پھر میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے ان سے کہا: کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی تھی کہ مجھے کسی صالح بندے کی صحبت نصیب فرما (اور میں اب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں) آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے خود رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنی ہو، مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو میرے لیے نع مند بنائے گا تو حضرت ابو ہریرہ ؓ نے یہ حدیث سنائی فرمایا کہ: میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا: کہ قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سے سب سے پہلے نماز کا حساب ہو گااور اس کی نماز جانچی جائے گی، پس اگر وہ ٹھیک نکلی تو بندہ فلاح یاب اور کامیاب ہو جائے گا، اور اگر وہ خراب نکلی تو وہ بندہ ناکام اور نامراد رہ جائے گا، پھر اگر اس کے فرائض میں کمی کسر ہوئی تو رب کریم فرمائے گا کہ دیکھو، کیا میرے بندے کے ذخیرہ اعمال میں فرائض کے علاوہ کچھ نیکیاں (سنتیں یا نوافل) ہیں؟ تا کہ ان سے اس کے فرائض کی کمی کسر پوری ہو سکے، پھر نماز کے علاوہ باقی اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہو گا “۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی)
تشریح
سنن و نوافل کی افادیت اور اہمیت کے لیے تنہا یہ حدیث کافی ہے۔
جمعہ کے دن کی عظمت و فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ » (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان سارے دنوں میں جن میں کہ آفتاب نکلتا ہے (یعنی ہفتہ کے ساتوں دنوں میں) سب سے بہتر اور بر تر جمعہ کا دن ہے۔ جمعہ ہی کے دن آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور جمعہ ہی کے دن وہ جنت میں داخل کئے گئے، اور جمعہ ہی کے دن وہ جنت سے باہر کر کے اس دنیا میں بھیجے گئے۔ (جہاں ان سے نسل انسانی کا سلسلہ شروع ہوا) اور قیامت بھی خاص جمعہ ہی کے دن قائم ہو گی۔ (صحیح مسلم)
تشریح
خاص اجتماعی نمازیں جو امت مسلمہ کا شعار ہیں
جمعہ و عیدین
دن رات کی پانچوں فرض نمازیں جن کے باجماعت پڑھنے کا حکم ہے، اور ان کے علاوہ وہ سنن و نوافل جو انفرادی طور پر ہی پڑھے جاتے ہیں ان سب کے متعلق رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اور معمولات سابق میں ذکر کئے جا چکے۔ ان کے علاوہ چند نمازیں اور ہیں جو صرف اجتماعی طور پر ہی ادا کی جاتی ہیں اور وہ اپنی مخصوص نوعیت اور امتیازی شان کی وجہ سے اس امت کا گویا شعار ہیں، ان میں سے ایک نماز جمعہ ہے جو ہفتہ وار ہے اور عید الفطر و عیدالاضحیٰ کی نمازیں ہیں جو سال میں ایک دفعہ ادا کی جاتی ہیں۔ فرائض پنجگانہ کے جماعت سے اکا کرنے میں جو مصالح اور منافع ہیں (جن کا ذکر اپنے موقع پر کیا جا چکا ہے) وہ سب کے سب وسیع تر پیمانے پر جمعہ اور عیدین کی نمازوں سے بھی حاصل ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ کچھ اور حکمتیں اور مصلحتیں بھی ہیں، جو صرف ان ہفتہ وار اور سالانہ اجتماعی نمازوں ہی سے وابستہ ہیں، پہلے جمعہ کے بارے میں چند اشارات ذکر کئے جاتے ہیں، امید ہے کہ اس باب کی احادیث کا مقصد و منشاء سمجھنے میں ان شاء اللہ ان اشارات سے ناظرین کو خاص رہنمائی حاصل ہو گی۔
روزانہ پانچوں وقت کی جماعت میں ایک محدود حلقہ یعنی ایک محمہ ہی کے مسلمان جمع ہو سکتے ہیں اس لئے ہفتہ میں ایک دن ایسا رکھ دیا گیا۔ جس میں پورے شہر اور مختلف محلوں کے مسلمان ایک خاص نماز کے لئے شہر کی ایک بڑی (1) مسجد میں جمع ہو جایا کریں اور ایسے اجتماع کے لئے ظہر ہی کا وقت زیادہ موزوں ہو سکتا تھا اس لئے وہی وقت رکھا گیا ار ظہر کی چار رکعت کے بجائے جمعہ کی نماز صرف دو رکعت رکھی گئی، اور اس اجتماع کو تعلیمی و تربیتی لحاظ سے زیادہ مفید اور مؤثر بنانے کے لئے تخفیف شدہ دو رکعتوں کے بجائے خطبہ لازمی کر دیا گیا۔ اور اس کے لئے جمعہ ہی کا دن اس واسطے مقر کیا گیا کہ ہفیہ کے سات دنوں میں سے وہی دن زیادہ باعظمت اور بابرکت ہے۔ جس طرح روزانہ اخیر شب کی گھڑیوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت بندوں کی طرف زیادہ متوجہ ہوتی ہے اور جس طرح سال کی راتوں میں سے ایک رات (شب قدر) خاص الخاص درجہ میں برکتوں اور رحمتوں والی ہے اسی طرح ہفتہ کے سات دنوں میں سے جمعہ کا دن اللہ تعالیٰ کے خاص الطاف و عنایات کا دن ہے اور اسی لئے اس میں بڑے بڑے اہم واقعات اللہ تعالیٰ کی طرف سے واقع ہوئے ہیں اور واقع ہونے والے ہیں (جیسا کہ آگے درج ہونے والی حدیثوں سے معلوم ہو گا) بہرحال جمعہ کی انہی خصوصیات کی وجہ سے اس اہم ار شاندار ہفتہ ار اجتماعی نماز کے لیے جمعہ کا دن مقرر کیا گیا۔ اور اس میں شرکت و حاضری کی سکت تاکید کی گئی، اور نماز سے پہلے غسل کرنے، اچھے صاف ستھرے کپڑے پہننے اور میسر ہو تو خوشبو بھی لگانے کی ترغیب بلکہ ایک درجے میں تاکید کی گئی، تا کہ مسلمانوں کا یہ مقدس ہفتہ واری اجتماعی توجہ الی اللہ اور ذکر و دعا کی باطنی و روحانی برکات کے علاوہ ظاہری حیثیت سے بھی پاکیزہ، خوش منظر، بارونق اور پر بہار ہو، اور مجمع کو ملائکہ کے پاک و صاف مجمع کے ساتھ زیادہ سے زیادہ مشابہت اور مناسبت ہو۔ ا تمہید کے بعد جمعہ اور نماز جمعہ کے متعلق احادیث ذیل میں پڑھئے:
جمعہ کے دن کا خصوصی وظیفہ درود شریف
عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ ، وَفِيهِ قُبِضَ ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ » قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ قَالَ يَقُولُونَ بَلِيتَ قَالَ : « إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ » (رواه ابوداؤد والنسائى وابن ماجه والدارمى والبيهقى فى الدعوات الكبير)
حضرت اوس بن اوس ثقفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جمعہ کا دن افضل ترین دنوں میں سے ہے، اسی میں آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی میں ان کی وفات ہوئی، اسی میں قیامت کا صور پھونکا جائے گا اور اسی میں موت اور فنا کی بیہوشی اور بے حسی ساری مخلوقات پر طاری ہو گی۔ لہذا تم لوگ جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے اور پیش ہوتا رہے گا “۔صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (آپ کے وفات فرما جانے کے بعد) ہمارا درود آپ پر کیسے پیش ہو گا، آپ کا جسد اطہر تو قبر میں ریزہ ریزہ ہو چکا ہو گا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے جسموں کو زمین پر حرام کر دیا ہے۔ (یعنی موت کے بعد بھی ان کے اجسام قبروں میں بالکل صحیح سالم رہتے ہیں، زمین ان میں کوئی تغیر پیدا نہیں کر سکتی)۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی، دعوات کبیر للبیہقی)
تشریح
اوپر والی حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیث کی طرح حضرت اوس بن اوس ثقفیؓ کی اس حدیث میں بھی جمعہ کے دن میں واقع ہونے والئے اہم اور غیر معمولی واقعات کا ذکر کر کے جمعہ کی اہمیت و فضیلت بیان کی گئی ہے اور مزید یہ فرمایا گیا ہے کہ اس مبارک اور محترم دن میں درود زیادہ پڑھنا چاہئے، گویا جس طرح رمضان المبارک کا خاص وظیفہ تلاوت قرآن پاک ہے اور اس کو رمضان المبارک سے خاص مناسبت ہے اور جس طرح سفر حج کا خاص وظیفہ تلبیہ لبيك اللهم لبيك...... ہے، اسی طرح جمعہ کے مبارک دن کا خاص وظیفہ اس حدیث کی رو سے درود شریف ہے، جمعہ کے دن خصوصیت سے اس کی کثرت کرنی چاہئے۔
وفات کے بعد آپ ﷺ پر درود کی پیشی اور مسئلہ حیات انبیاءؑ
درود شریف کی کثرت کا حکم دیتے ہوئے اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا انتظام ہے کہ امت کا درود میرے پاس پہنچایا جاتا ہے اور میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور یہ انتظام اس دنیا سے میرے جانے کے بعد بھی اسی طرح قائم رہے گا (بعض دوسری حدیثوں میں یہ بھی ذکر ہے کہ درود آپ ﷺ کے پاس فرشتے پہنچاتے ہیں) اس پر بعض صحابہ کرامؓ کے دل میں یہ سوال پیدا ہو ا کہ اس وقت تک جب کہ آپ ﷺ اس دنیا میں رونق افروز ہیں آپ ﷺ کے پاس ملائکہ کا آنا اور درود وغیرہ پہنچانا اور پیش کرنا معلوم ہے اور سمجھ میں آتا ہے، لیکن آپ ﷺ کی وفات کے بعد جب آپ ﷺ قبر میں دفن کر دئیے جائیں گے اور عام طبعی قانون کے مطابق آپ ﷺ کا جسم مبارک زمین کے اثر سے ریزہ ریزہ ہو جائے گا تو پھر درود شریف آپ ﷺ کی خدمت میں کیسے پیش کیا جا سکے گا؟ انہوں نے یہ سوال آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کے خاص حکم سے پیغمبروں کے اجسام ان کی وفات کے بعد قبروں میں جوں کے توں محفوظ رہتے ہیں، زمین ان پر اپنا عام طبعی عمل نہیں کر سکتی، یعنی جس طرح دنیا میں خاص تدبیروں اور دواؤں سے موت کے بعد بھی اجسام کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص قدرت اور خاص حکم سے پیغمبروں کی وفات کے بعد ان کے جسموں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قبروں میں محفوظ کر دیا ہے اور وہاں ان کو ایک خاص قسم کی حیات حاصل رہے گی (جو اس عام کے قوانین کے مطابق ہو گی) اس لئے درود کے پہنچنے اور پیش کئے جانے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔
جمعہ کے دن کا خصوصی وظیفہ درود شریف
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللهَ فِيْهَا خَيْرًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللهُ إِيَّاهُ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اگر کسی مسلمان بندے کو حسن اتفاق سے خاص اس گھڑی میں خیر اور بھلائی کی کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی توفیق مل جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو عطا ہی فرما دیتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس طرح پورے سال میں رحمت و قبولیت کی ایک خاص رات (شب قدر) رکھی گئی ہے جس میں کسی بندے کو اگر توبہ و استغفار اور دعا نصیب ہو جائے تو اس کی بڑی خوش نصیبی ہے اور اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی خاص توقع ہے۔ اسی طرح ہر ہفتے میں بھی جمعہ کے دن رحمت و قبولیت کی ایک خاص گھڑی ہوتی ہے اگر اس میں بندے کو اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا اور مانگنا نصیب ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے کرم سے قبولیت ہی کی امید ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے حضرت عبداللہ بن سلامؓ اور کعب احبارؓ دونوں نے نقل کیا ہے کہ: جمعہ کے دن کی اس ساعت اجابت کا ذکر تورات میں بھی ہے۔ اور معلوم ہے کہ یہ دونوں حضرات تورات اور کتب سابقہ کے بہت بڑے عالم تھے۔
جمعہ کے دن کی اس ساعت اجابت کے وقت کی تعیین و تخصیص میں شارحین حدیث نے بہت سے اقوال نقل کئے ہیں، ان میں سے دو ایسے ہیں جن کا صراحۃ یا اشارۃ بعض احادیث میں بھی ذکر ہے، صرف وہی یہاں ذکر کئے جاتے ہیں:
۱۔ ایک یہ کہ جس وقت امام خطبہ کے لئےممبر پر جائے اس وقت سے لیکر نماز کے ختم ہونے تک جو وقت ہوتا ہے، پس یہی وہ ساعت اجابت ہے۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ خطبہ اور نماز کا وقت ہی قبولیت کی دعا کا خاص وقت ہے۔
۲۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ ساعت عصر کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک کا وقفہ ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے “ حجۃ اللہ البالغہ ” میں یہ دونوں قول ذکر فرما کر اپنا خیال یہ ظاہر فرمایا ہے کہ:
“ ان دونوں باتوں کا مقصد بھی حتمی تعیین نہیں ہے، بلکہ منشاء صرف یہ ہے کہ خطبہ اور نماز کا وقت چونکہ بندگان خدا کی توجہ الی اللہ اور عبادت و دعا کا خاص وقت ہے اس لئیے اس کی امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ساعت اسی وقت میں ہو۔ اور اسی طرح چونکہ عصر کے بعد سے غروب تک کا وقت نزول قضا کا وقت ہے اور پورے دن کا گویا نچوڑ ہے اس لئے اس وقت بھی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ساعت غالبا اس مبارک وقفہ میں ہو ”۔
بعض حضرات نے لکھا ہے کہ: “ جمعہ کے ند کی اس خاص ساعت کو اسی طرح اور اسی مصلحبت سے مبہم رکھا گیا ہے جس طرح اور جس مصلحت سے شب قدر کو مبہم رکھا گیا ہے، پھر جس طرح رمضان مبارک کے عشرہ اخیر کی طاق راتوں اور خاص کر ستائیسویں شب کی طرف شب قدر کے بارے میں کچھ اشارات بعض حدیثوں میں کئے گئے ہیں اسی طرح جمعہ کے دن کی اس ساعت اجابت کے لیے نماز و خطبہ کے وقت اور عصر سے مغرب تک کے وقفہ کے لیے بھی احادیث میں اشارات کئے گئے ہیں تا کہ الہ کے بندے کم از کم ان دو وقتوں میں توجہ الی اللہ اور دعا کا خصوصیت سے اہتمام کریں۔ ”
اس ناچیز نے اپنے بعض اکابر کو دیکھا ہے کہ وہ جمعہ کے دن ان دونوں وقتوں میں لوگوں سے ملنا جلنا اور بات چیت کرنا پسند نہیں کرتے، بلکہ نماز یا ذکر و دعا اور توجہ الی اللہ میں ہی مصروف رہنا چاہتے ہیں۔
نماز جمعہ کی فرضیت اور خاص اہمیت
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً : عَبْدٌ مَمْلُوكٌ ، أَوِ امْرَأَةٌ ، أَوْ صَبِيٌّ ، أَوْ مَرِيضٌ " (رواه ابوداؤد)
طارق بن شہاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا ہر مسلمان پر لازم اور واجب ہے۔ اس وجوب سے چار قسم کے آدمی مستثنیٰ ہیں: ایک غلام جو بے چارہ کسی کا مملوک ہو، دوسرے عورت، تیسرے لڑکا جو ابھی بالغ نہ ہوا ہو، چوتھے بیمار۔ (سنن ابی داؤد)
نماز جمعہ کی فرضیت اور خاص اہمیت
عَنِ بْنَ عُمَرَ وَأَبِىْ هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا قَالَ : سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ : « لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ » (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ بر سر منبر فرما رہے تھے کہ: جمعہ چھوڑنے والے لوگ یا تو اپنی اس حرکت سے باز آئیں یا یہ ہو گا کہ ان کے گناہ کی سزا میں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر وہ غافلوں ہی میں سے ہو جائیں گے (اور اصلاح کی توفیق سے محروم کر دئیے جائیں گے)۔ (صحیح مسلم)
نماز جمعہ کی فرضیت اور خاص اہمیت
عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللهُ عَلَى قَلْبِهِ ". (رواه ابوداؤد والترمذى والنسائى وابن ماجه والدارمى ورواه مالك عن صفوان بن سليم واحمد عن ابى قتاده)
ابو الجعد ضمری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو آدمی بلا عذر تین جمعہ تساہل و سہل انگاری کی وجہ سے چھوڑ دے گا اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا (پھر وہ نیک عمل کی توفیق سے محروم ہی رہے گا)۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی۔ اور یہی حدیث امام مالک نے موطا میں صفوان بن سلیم سے اور امام احمد نے اپنے مسند میں حضرت ابو قتادہ سے بھی روایت کی ہے)
نماز جمعہ کی فرضیت اور خاص اہمیت
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ كُتِبَ مُنَافِقًا فِي كِتَابٍ لَا يُمْحَى وَلَا يُبَدَّلُ » وَفِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ : « ثَلَاثًا » (رواه الشافعى)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو شخص بغیر کسی مجبوری کے جمعہ کی نماز چھوڑے گا اور وہ اللہ کے اس دفتر میں جس میں کوئی رد و بدل نہیں ہو سکتا منافق لکھا جائے گا۔ اور بعض روایات میں تین دفعہ چھوڑنے کا ذکر ہے۔ (مسند شافعی)
تشریح
ان حدیثوں میں جمعہ کی جو غیر معمولی اہمیت بیان کی گئی ہے اور اس کے ترک پر جو وعیدیں سنائی گئی ہیں وہ کسی توضیح اور تشریح کی محتاج نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب معصیات و منکرات سے بچنے کی توفیق دے جن کے نتیجہ میں بندہ اللہ تعالیٰ کی نظر کرم سے گر جاتا ہے اور اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ اللهم احفظنا
نماز جمعہ کا اہتمام اور اس کے آداب
عَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لاَ يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الجُمُعَةِ ، وَيَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ ، وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ ، أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَلاَ يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ ، ثُمَّ يُصَلِّي مَا كُتِبَ لَهُ ، ثُمَّ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الإِمَامُ ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الجُمُعَةِ الأُخْرَى » (رواه البخارى)
حضرت سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو آدمی جمعہ کے دن غسل کرے اور جہاں تک ہو سکے صفائی پاکیزگی کا اہتمام کرے، اور جو تیل خوشبو اس کے گھر ہو وہ لگائے، پرھ وہ گھر سے نماز کے لئے جائے اور مسجد میں پہنچ کر اس کی احتیاط کرے کہ جو دو آدمی پہلے سے ساتھ بیٹھے ہوں ان کے بیچ نہ بیٹھے، ھر جو نماز یعنی سنن و نوافل کی جتنی رکعتیں اس کے لئے مقدر ہوں وہ پڑھے، پھر جب امام خطبہ دے تو توجہ اور خاموشی کے ساتھ اس کو سنے، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان کی اس کی ساری خطائیں ضرور معاف کر دی جائیں گی۔ (صحیح بخاری)
نماز جمعہ کا اہتمام اور اس کے آداب
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ ، وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَتَخَطَّ أَعْنَاقَ النَّاسِ ، ثُمَّ صَلَّى مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي قَبْلَهَا » (رواه ابوداؤد)
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ ؓ دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور جو اچھے کپڑے اسے میسر تھے وہ پہنے خوشبو اگر اس کے پاس تھی تو وہ بھی لگائی پھر وہ نماز جمعہ کے لیے حاضر ہوا اور اس کی احتیاط کی کہ پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں کی گردنوں کے اوپر سے پھلانگتا ہوا نہیں گیا پھر سنتوں اور نفلوں کی جتنی رکعتوں کی اللہ تعالیٰ نے توفیق دی وہ پڑھیں، پھر جب امام خطبہ دینے کے لئے آیا تو ادب اور خاموشی سے اس کی طرف متوجہ ہو کر خطبہ سنا، یہاں تک کہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو اس بندے کی نماز اس جمعہ اور اس سے پہلے والے جمعہ کے درمیان کے گناہوں خطاؤں کے لئے کفارہ ہو جائے گی۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
شریعت میں غسل جمعہ کا جو درجہ ہے اور اس کا جو خاص مقصد و منشاء ہے اس کا بیان تفصیل کے ساتھ “ مسنون یا مستحب عمل ” کے عنوان سے پہلے کیا جا چکا ہے۔ مندرجہ بالا دونوں حدیثوں میں غسل کے علاوہ چند اور اعمال کا بھی ذکر ہے۔ بقدر امکان ہر قسم کی پاکیزگی اور صفائی کا اہتمام، اچھے لباس کا اہتمام، خوشبو کا استعمال، مسجد میں ہر اس چیز سے احتیاط اور اجتناب جس سے لوگوں کو ایذا پہنچے اور باہمی تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہو، جیسے پہلے سے ساتھ بیٹھے ہوئے دو آدمیوں کے بیچ میں گھس کے بیٹھنا یا لوگوں کے اوپر سے پھلانگ کے جانا وغیرہ پھر وہاں حسب توفیق نوافل پڑھنا اور خطبہ کے وقت ادب اور توجہ کے ساتھ اس کو سننا، پھر نماز پڑھنا۔ جمعہ کی جو نماز اس اہتمام اور آداب کے ساتھ پڑھی جائے اس کو ان دونوں حدیثوں میں پورے ہفتہ کے گناہوں کا کفارہ اور بخشش و معافی کا وسیلہ فرمایا گیا ہے۔ یوں بھی غور کر کے سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ سب اعمال جب صحیح ذہن کے ساتھ کئے جائیں گے تو ان بندوں کے دلوں اور ان کی روحوں کی کیا کیفیات ہوں گی اور ان کی زندگی پر اس نماز کے کیا اثرات پڑیں گے اور پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور شان مغفرت کا ان کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا۔
نماز جمعہ کا اہتمام اور اس کے آداب
عَنْ عُبَيْدِ ابْنِ السَّبَّاقِ مُرْسَلًٍا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي جُمُعَةٍ مِنَ الْجَمْعِ : « يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ جَعَلَهُ اللَّهُ عِيدًا لِلْمُسْلِمِينَ ، فَاغْتَسِلُوا ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طِيبٌ فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ يَمَسَّ مِنْهُ ، وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ » (رواه مالك ورواه ابن ماجه وهو عن ابن عباس متصلا)
عبید بن السباق تابعی سے مرسلاً روایت ہے کہ ایک جمعہ کو خطاب فرماتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے اس دن کو عید بنایا ہے لہٰذا اس دن غسل کیا کرو اور جس کے پاس خوشبو ہو اس کے لیے کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ خوشبو لگائے، اور مسواک اس دن ضرور کیا کرو۔ (مؤطا امام مالک، سنن ابن ماجہ اور ابن ماجہ نے اس حدیث کو برایت عبداللہ بن عباس متصلا روایت کیا ہے)
جمعہ کے دن خط بنوانا اور ناخن ترشوانا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ « يُقَلِّمُ أَظْفَارَهُ ، ويَقُصُّ شَارِبَهُ ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ » (رواه البزار والطبرانى فى الاوسط)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن نماز کو جانے سے پہلے اپنے ناخن اور اپنی لبیں تراشا کرتے تھے۔ (1) (مسند بزار، معجم اوسط للطبرانی)
جمعہ کے لیے اچھے کپڑوں کا اہتمام
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَّامٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِلْجُمُعَةِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَةِ. (رواه ابن ماجه ورواه مالك عن يحيى بن سعيد)
حضرت عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: تم میں سے کسی کے لئے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اگر اس کو وسعت ہو تو وہ روزمرہ کے کام کاج کے وقت پہنے جانے والے کپڑوں کے علاوہ جمعہ کے دن کے لئے کپڑوں کا ایک خاص جوڑا بنا کے رکھ لے۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
روزمرہ پہنے جانے والے کپڑوں کے ما سوا کوئی خاص جوڑا بنا کے رکھنے میں شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید یہ شان فقر و زہد کے خلاف اور ناپسندیدہ ہو، اس حدیث میں دراصل اسی شبہ کو زائل کیا گیا ہے، اور آپ ﷺ کا مطلب یہ ہے کہ جمعہ جیسے دینی اجتماع کے لئے جو مسلمانوں کی ہفتہ وار عید ہے چونکہ حسب استطاعت اچھا کپڑا پہننا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اس لئے اس کے واسطے خاص جوڑا بنا کے رکھکنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ طبرانی نے معجم صغیر اور اوسط میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ:
“ رسول اللہ ﷺ کا ایک خاص جوڑا تھا جو آپ ﷺ جمعہ کے دن پہنا کرتے تھے، اور جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو کر تشریف لاتے تو ہم اس کو تہہ کر کے رکھ دیتے تھے اور پھر وہ اگلے جمعہ ہی کو نکلتا تھا ”۔
لیکن محدثین کے اصول پر اس روایت کی سند میں کچھ ضعف ہے۔
جمعہ کے لئے اول وقت جانے کی فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا كَانَ يَوْمُ الجُمُعَةِ وَقَفَتِ المَلاَئِكَةُ عَلَى بَابِ المَسْجِدِ يَكْتُبُونَ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ ، وَمَثَلُ المُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي بَدَنَةً ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً ، ثُمَّ كَبْشًا ، ثُمَّ دَجَاجَةً ، ثُمَّ بَيْضَةً ، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ طَوَوْا صُحُفَهُمْ ، وَيَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور شروع میں آنے والوں کے نام یکے بعد دیگرے لکھتے ہیں، اور اول وقت دوپہر میں آنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے، جو اللہ کے حضور میں اونٹ کی قربانی پیش کرتا ہے۔ پھر اس کے بعد دوم نمبر پر آنے والے کی مثال مینڈھا پیش کرنے والے کی، اور اس کے بعد مرغی پیش کرنے والے کی، اس کے بعد انڈا پیش کرنے والے کی۔ پھر جب امام خطبہ کے لیے منبر کی طرف جاتا ہے تو یہ فرشتے اپنے لکھنے کے دفتر لپیٹ دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں شریک ہو جاتے ہیں۔
تشریح
حدیث کا اصل مقصد و مدعا جمعہ کے لئے اول وقت جانے کی ترغیب ہے اور آگے پیچھے آنے والوں کے ثواب اور درجات کے فرق کو آپ ﷺ نے مختلف درجہ کی قربانیوں کی مثال دے کر سمجھانا چاہا ہے۔
نماز جمعہ اور خطبہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : « كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَدَّ البَرْدُ يُبَكِّرُ بِالصَّلاَةِ ، وَإِذَا اشْتَدَّ الحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلاَةِ » يَعْنِي الجُمُعَةَ . (رواه البخارى)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ جب سردی زیادہ ہوتی تو نماز جمعہ شروع وقت ہی میں پڑھ لیتے اور جب موسم زیادہ گرم ہوتا تو ٹھنڈے وقت یعنی گرمی کی شدت کم ہونے پر پڑھتے۔ (صحیح بخاری)
نماز جمعہ اور خطبہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : « كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، وَيُذَكِّرُ النَّاسَ فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا ، وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا » (رواه مسلم)
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو خطبے دیا کرتے تھے اور دونوں کے درمیان (تھوڑی دیر کے لئے) بیٹھتے تھے۔ آپ ان خطبوں میں قرآن مجید کی آیات بھی پڑھتے تھے اور لوگوں کو نصیحت بھی فرماتے تھے، آپ ﷺ کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور اسی طرح آپ ﷺ کا خطبہ بھی (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے خطبہ اور نماز میں نہ بہت طول ہوتا تھا اور نہ بہت زیادہ اختصار، بلکہ دونوں کی مقدار معتدل اور متوسط ہوتی تھی۔ قرأت کے بیان میں وہ حدیثیں پہلے گزر چکی ہیں جن میں بتلایا گیا ہے کہ جمعہ کی نماز میں آپ ﷺ کون کون سی سورتیں پڑھتے تھے۔
نماز جمعہ اور خطبہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول
عَنْ جَابِر قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ ، وَعَلَا صَوْتُهُ ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ ، حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ : « صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ » ، وَيَقُولُ : « بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ » ، وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ ، وَالْوُسْطَى. (رواه مسلم)
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب خطبہ دیتے تھے تو آپ ﷺ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں تھیں، آواز بلند ہو جاتی تھی اور سخت غصہ اور جلال کی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی حالت اس شخص کی سی ہو جاتی تھی کہ دشمن کا لشکر قریب ہی آ پہنچا ہے (اپنی پوری تباہ کاریوں کے ساتھ) پس صبح شام تم پر آ پڑنے والا ہے۔ آپ ﷺ یہ بھی فرماتے تھے کہ میری بعثت اور قیامت کی آمدن ان دو انگلیوں کی طرح (قریب ہی قریب) ہیں اور آپ ﷺ (تفہیم اور تمثیل کے لیے) اپنی دو انگلیوں یعنی کلمہ والی اور اس کے برابر کی بیچ والی انگلی کو ملا دیتے تھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کا خطبہ پر جوش اور پر جلال خطبہ ہوتا تھا، اور آپ ﷺ کا حال قال کے بالکل مطابق ہتا تھا خصوصیت کے ساتھ آپ ﷺ خطبہ میں قیامت کے قرب اور اس کی ہولناکیوں کا ذکر بکثرت فرماتے تھے اور کلمہ والی انگلی ار اس کے بیچ والی انگلی کو باہم ملا کر فرمایا کرتے تھے کہ جس طرح یہ دونوں قریب قریب ہیں اسی طرح سمجھو کہ میری بعثت کے بعد قیامت بھی قریب ہی ہے، اب درمیان میں کوئی اور نبی بھی آنے والا نہیں ہے، میرے ہی دور میں قیامت آنے والی ہے اس لئے اس کی تیاری کرو۔