Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 37 of 106

721Maarif-ul-Hadith

نماز جمعہ سے پہلے اور بعد کی سنتیں

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : « كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَرْكَعُ قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا ، وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا » (رواه الطبرانى فى الكبير)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے اور جمعہ کے بعد چار رکعت۔ (1) (معجم کبیر طبرانی)

722Maarif-ul-Hadith

نماز جمعہ سے پہلے اور بعد کی سنتیں

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِقَالَ : جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَعَدَ سُلَيْكٌ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ؟ » قَالَ : لَا ، قَالَ : « قُمْ فَارْكَعْهُمَا » (رواه مسلم)

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ سلیک غطفانی ایک دفعہ جمعہ کے دن ایسے وقت مسجد میں آئے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھ گئے (یعنی خطبہ شروع کرنے کے لیے منبر پر تشریف لے جا چکے تھے اور ابھی بیٹھے ہوئے تھے) تو سلیک اسی حالرت میں آ کر بیٹھ گئے قبل اس کے کہ نماز پڑھتے (یعنی انہوں نے مسجد میں داخل ہو کر نماز نہیں پڑھی بلکہ یہ دیکھ کر کہ حضور ﷺ خطبہ کے لئے منبر پر جا چکے ہیں خود بھی بیٹھ گئے) رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تم نے دو رکعتیں پڑھیں ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: اٹھو اور پہلے دو رکعتیں پڑھو۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث کی بناء پر امام شافعیؒ اور امام احمدؒ اور بعض دوسرے ائمہ کا مسلک ہے کہ نماز جمعہ کے لیے جو شخص مسجد میں آئے اس کے لیے اس دن تحیۃ المسجد واجب ہے اور اگر بالفرض امام خطبہ شروع کر چکا ہو جب بھی یہ آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے۔ لیکن امام ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ اور سفیان ثوری وغیرہ اکثر ائمہ ان احادیث کی بناء ر جن میں خطبہ کے وقت خاموش رہنے اور توجہ کے ساتھ اس کو سننے کی تاکید کی گئی ہے اور ترغیب دی گئی ہے، اور اسی کے مطابق اکثر صحابہؒ و اکابر تابعین کے عمل اور فتوے کی بناء پر خطبہ کے وقت نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے، اور سلیک غطفانی کے اس واقعہ کی مختلف توجیہات فرماتے ہیں۔ اس مسئلہ میں دونوں طرف کے دلائل بہت وزنی ہیں، اس لئے احتیاط کا تقاجا یہ ہے کہ جمعہ کے دن مسجد میں ایسے وقت پہنچ جائے کہ خطبے سے پہلے کم از کم دو رکعتیں ضرور پڑھ لے۔

723Maarif-ul-Hadith

نماز جمعہ سے پہلے اور بعد کی سنتیں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا » (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز پڑھے تو چاہئے کہ اس کے بعد چار رکعت اور پڑھے۔ (صحیح مسلم)

724Maarif-ul-Hadith

نماز جمعہ سے پہلے اور بعد کی سنتیں

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز جمعہ کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھتے یہاں تک کہ مسجد سے گھر تشریف لے جاتے تھے پھر گھر ہی میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح کتب حدیث میں نماز جمعہ کے بعد کی سنتوں کے بارے میں جو روایت ہیں ان میں دو رکعت کا بھی ذکر ہے، چار کا بھی اور چھ کا بھی۔ امام ترمذی نے خود حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں نقل کیا ہے کہ وہ جمعہ کے بعد دو رکعت اور اس کے بعد چار رکعت، گویا کل چھ رکعت بھی پڑھتے تھے۔ اس لئے ائمہ مجتہدین کے رجحانات بھی اس بارے میں مختلف ہیں۔ بعض حضرات دو کو ترجیح دیتے ہیں بعض چار رکعت کو اور بعض چھ رکعت کو۔

725Maarif-ul-Hadith

عیدین کا آغاز

عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا ، فَقَالَ : مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ؟ قَالُوا : كُنَّا نَلْعَبُ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا : يَوْمَ الْأَضْحَى ، وَيَوْمَ الْفِطْرِ " (رواه ابوداؤد)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ (جن کی کافی تعداد پہلے ہی سے اسلام قبول کر چکی تھی) دو تہوار منایا کرتے تھے، اور ان میں کھیل تماشے کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ: یہ دو دن جو تم مناتے ہو ان کی کیا حقیقت اور حیثیت ہے؟ (یعنی تمہارے ان تہواروں کی کیا اصلیت اور تاریخ ہے؟) انہوں نے عرض کیا کہ: ہم جاہلیت میں (یعنی) اسلام سے پہلے یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے (بس وہی رواج ہے جو اب تک چل رہا ہے) رسول اللہ ﷺ نے فریاما کہ: اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دو تہواروں کے بدلہ میں ان سے بہتر دو دن تمہارے لیے مقرر کر دئیے ہیں (اب وہی تمہارے قومی اور مذہبی تہوار ہیں) عید الاضحیٰ یوم اور عید الفطر۔ (سنن ابی داؤد) تشریح عید الفطر و عید الاضحیٰ ہر قوم کے کچھ خاص تہوار اور جشن کے دن ہوتے ہیں جن مین اس قوم کے لوگ اپنی اپنی حیثیت اور سطح کے مطابق اچھا لباس پہنتے اور عمدہ کھانے پکاتے کھاتے ہیں، اور دوسرے طریقوں سے بھی اپنی اندرونی مسرت و خوشی کا اظہار کرتے ہیں، یہ گویا انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ اسی لئے انسانوں کا کوئی طبقہ اور فرقہ ایسا نہیں ہے جس کے ہاں تہوار اور جشن کے کچھ خاص دن نہ ہوں۔ اسلام میں بھی ایسے دو دن رکھے گئے ہیں ایک عید الفطر اور دوسرے عید الاضحیٰ بس یہی مسلمانوں کے اصلی مذہبی و ملی تہوار ہیں۔ ان کے علاوہ مسلمان جو تہوار مناتے ہیں ان کی کوئی مذہبی حیثیت اور بنیاد نہیں ہے، بلکہ اسلامی نقطہ نظر سے ان میں سے اکثر خرافات ہیں۔ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب کہ رسول اللہ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ آئے۔ عید الفطر اور عید الاضحیٰ ان دونوں تہواروں کا سلسلہ بھی اسی وقت سے شروع ہوا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ عید الفطر رمضان المبارک کے ختم ہونے پر یکم شوال کو منائی جاتی ہے اور عید الاضحیٰ ۱۰ ذی الحجہ کو۔ رمضان المبارک دینی و روحانی حیثیت سے سال کے بارہ مہینوں میں سب سے مبارک مہینہ ہے۔ اسی مہینہ میں قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا، اسی پورے مہینے کے روزے امت مسلمہ پر فرض کئے گئے، اس کی راتوں میں ایک مستقل با جماعت نماز کا اضافہ کیا گیا ہے اور ہر طرح کی نیکیوں میں اضافہ کی ترغیب دی گئی۔ الغرض یہ پورا مہینہ خواہشات کی قربانی اور مجاہدہ اور ہر طرح کی طاعات و عبادات کی کثرت کا مہینہ قرار دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس مہینہ کے خاتمہ پر جو دن آئے ایمانی اور روحانی برکتوں کے لحاظ سے وہی سب سے زیادہ اس کا مستحق ہے کہ ان کو اس امت کے جشن و مسرت کا دن اور تہوار بنایا جائے، چنانچہ اسی دن کو عید الفطر قرار دیا گیا۔ اور ۱۰ ذی الحجہ وہ مبارک تاریخی دن ہے جس میں امت سملمہ کے موسس و مورث ایلیٰ سیدنا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی دانست میں اللہ تعالیٰ کا حکم و اشارہ پا کر اپنے لخت جگر سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کو ان کی رضا مندی سے قربانی کے لیے اللہ کے حضور میں پیش کر کے اور ان کے گلے پہ چھری رکھ کر اپنی سچی وفاداری اور کامل تسلیم و رضا کا ثبوت دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے عشق و محبت اور قربانی کے اس امتحان میں ان کو کامیاب قرار دے کر حضرت اسماعیل کو زندہ و سلامت رکھ کر ان کی جگہ ایک جانور کی قربانی قبول فرما لی تھی، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سر پر “ انى جاعلك للناس اماما ” کا تاج رکھ دیا تھا، اور ان کی اس ادا کی نقل کو قیامت تک کے لئے “ رسم عاشقی ” قرار دے دیا تھا، پس اگر کوئی دن کسی عظیم تاریخی واقعہ کی یادگار کی حیثیت سے تہوار قرار دیا جا سکتا ہے تو اس امت مسلمہ کے لئے جو ملت ابراہیمی کی وارث اور اوہ خلیلی کی نمائندہ ہے ۱۰ ذی الحجہ کے دن کے مقابلے میں کوئی دوسرا دن اس کا مستحق نہیں ہو سکتا، اس لئے دوسری عید ۱۰ ذی الحجہ کو قرار دیا گیا۔ جس وادی غیر ذی ذرع میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا یہ واقعہ پیش آیا تھا اسی وادی میں پورے عالم اسلامی کا حج کا سالانہ اجتماع اور اس کے مناسک قربانی وغیرہ اس واقعہ کی گویا اصل اور اول درجے کی یادگار ہے اور ہر اسلامی شہر اور بستی میں عید الاضحیٰ کی تقریبات نماز اور قربانی وغیرہ بھی اسی کی گویا نقل اور دوم درجہ کی یادگار ہے۔ بہرحال ان دونوں (یکم شوال اور ۱۰ ذی الحجہ) کی ان خصوصیات کی وجہ سے ان کو یوم العید اور امت مسلمہ کا تہوار قرار دیا گیا۔ اس تمہید کے بعد ان دونوں عیدوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں ذیل میں پڑھئے۔ اصل مقصد تو یہاں “ کتاب الصلوٰۃ ” میں عیدین کی نماز کا بیان ہے، لیکن ضمنا اور تبعا ان دونوں عیدوں سے متعلق دوسرے اعمال و احکام کی حدیثیں بھی یہیں درج کی جائیں گی، جیسا کہ حضرات محدثین کا عام طریقہ ہے۔ تشریح ..... قوموں کے تہوار دراصل ان کے عقائد و تصورات اور ان کی تاریخ و روایات کے ترجمان اور ان کے قومی مزاج کے آئینہ دار ہوتے ہیں، اس لیے ظاہر ہے کہ اسلام سے پہلے اپنی جاہلیت کے دور میں اہل مدینہ جو دو تہوار مناتے تھے وہ جاہلی مزاج تصورات اور جاہلی روایات ہی کے آئینہ دار ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے بلکہ حدیث کے صریح الفاظ کے مطابق خود اللہ تعالیٰ نے ان قدیمی تہواروں کو ختم کرا کے ان کی جگہ عید الفطر اور عید الاضحیٰ دو تہوار اس امت کے لئے مقرر فرما دئیے جو اس کے توحیدی مزاج اور اصول حیات کے عین مطابق اور اس کی تاریخ و روایات اور عقائد و تصورات کے پوری طرح آئینہ دار ہیں۔ کاش اگر مسلمان انے ان تہواروں ہی کو صحیح طور پر اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایت و تعلیم کے مطابق منائیں تو اسلام کی روح اور اس کے پیغام کو سمجھنے سمجھانے کے لئے صرف یہ دو تہوار ہی کافی ہو سکتے ہیں۔

726Maarif-ul-Hadith

عیدین کی نماز اور خطبہ وغیرہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ ، قَالَ : « كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الفِطْرِ وَالأَضْحَى إِلَى المُصَلَّى ، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلاَةُ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ ، فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ ، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ فَيَعِظُهُمْ ، وَيُوصِيهِمْ ، وَيَأْمُرُهُمْ ، وَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهُ ، أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْءٍ أَمَرَ بِهِ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن عید گاہ تشریف لے جاتے تھے۔ سب سے پہلے آپ ﷺ نماز پڑھاتے تھے، پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کی طرف رخ کر کے خطبہ کے لئے کھڑے ہوتے تھے اور لوگ بدستور صفوں میں بیٹھے رہتے تھے، پھر آپ ﷺ ان کو خطبہ اور وعظ و نصیحت فرماتے تھے اور احکام دیتے تھے اور اگر آپ ﷺ کا ارادہ کوئی لشکر کا دستہ تیار کر کے کسی طرف روانہ کرنے کا ہوتا تو آپ ﷺ (عیدین کی نماز و خطبہ کے بعد) اس کو بھی روانہ فرماتے تھے یا کسی خاص چیز کے بارے میں آپ ﷺ کو کوئی حکم دینا ہوتا تو اسی موقع پر وہ بھی دیتے تھے، پھر (ان سارے مہمات سے فارغ ہو کر) آپ ﷺ عیدگاہ سے واپس ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا رسول اللہ ﷺ کا عام معمول یہی تھا کہ عیدین کی نماز آپ ﷺ مدینہ طیبہ کی آبادی سے باہر اس میدان میں پڑھتے تھے جس کو آپ ﷺ نے اس کام کے لئے منتخب فرما لیا تھا اور گویا (عیدگاہ) قرار دے دیا گھا اس وقت اس کے گرد کوئی چہار دیواری بھی نہیں تھی، بس صحرائی میدان تھا۔ لوگوں نے لکھا ہے کہ مسجد نبوی ﷺ سے قریبا ایک ہزار قدم کے فاصلے پر تھا۔ آپ ﷺ نے عید کی نماز ایک مرتبہ بارش کی مجبوری سے مسجد شریف میں بھی پڑھی ہے، جیسا کہ آگے ایک حدیث میں اس کا ذکر آئے گا۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عید کے دن نماز و خطبہ کے بعد عید گاہ ہی میں اعلاء کلمۃ الحق کے مجاہدین کے لشکر اور دستے بھی منظم کئے جاتے تھےاور وہیں سے ان کو روانہ اور رخصت کیا جاتا تھا۔

727Maarif-ul-Hadith

عیدین کی نماز بغیر اذان و اقامت ہی سنت ہے

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : « صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَيْنِ ، غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ ، بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ » (رواه مسلم)

حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عیدین کی نماز ایک یا دو دفعہ ہی نہیں بلکہ بہت دفعہ پڑھی ہے۔ ہمیشہ بغیر اذان اور بغیر اقامت کے۔ (صحیح مسلم)

728Maarif-ul-Hadith

عیدین کی نماز بغیر اذان و اقامت ہی سنت ہے

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ مُتَّكِّئًا عَلَى بِلَالٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَحَثَّهُمْ عَلَى طَاعَتِهِ ، ثُمَّ مَالَ وَمَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ ، فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ. (رواه النسائى)

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں عید کے دن نماز کے لئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عیدگاہ حاضر ہوا تو آپ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھی بغیر اذان اور اقامت کے، پھر جب آپ نماز پڑھ چکے، تو بلال ؓ پر سہارا لگا کر آپ ﷺ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے، پہلے اللہ کی حمد و ثنا کی، اور لوگوں کو پند و نصیحت فرمائی، اور اللہ کی فرمانبرداری کی ان کو توغیب دی، پھر آپ ﷺ خواتین کے مجمع کی طرف گئے، اور بلال ؓ آپ کے ساتھ ہی تھے، وہاں پہنچ کر آپ ﷺ نے ان کو اللہ سے ڈرنے کا اور تقوے والی زندگی گزارنے کے لئے فرمایا اور ان کو پند و نصیحت فرمائی۔ (سنن نسائی) تشریح حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی اس حدیث میں عید کے خطبہ میں مردوں کو خطاب فرمانے کے بعد عورتوں کو مستقل خطاب فرمانے کا ذکر ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی ایک حدیث جو صحیح مسلم میں ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آپ ﷺ نے اس لئے کیا تھا کہ آپ ﷺ کے خیال میں خواتین آپ ﷺ کا خطبہ سن نہیں سکی تھیں۔ واللہ اعلم۔ فائدہ ..... رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں عیدین کی نماز میں خواتین بھی عام طور پر شریک ہوتی تھیں، بلکہ ان کے لئے یہ آپ ﷺ کا حکم تھا، لیکن زمانہ ما بعد میں مسلم معاشرے میں فساد آ گیا تو جس طرح امت کے فقہاء اور علماء نے جمعہ اور پنجگانہ نماز کے کے لئے خواتین کا مسجدوں میں آنا مناسب نہیں سمجھا، اسی طرح نماز عید کے لئے ان کا عیدگاہ جانا بھی مناسب نہیں سمجھا۔

729Maarif-ul-Hadith

عیدین کی نماز سے پہلے اور بعد میں کوئی نفلی نماز نہیں ہے

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : « أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ الفِطْرِ رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهُمَا وَلاَ بَعْدَهُمَا. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عیدالفطر کے دن دو رکعت نماز پڑھی، اور اس سے پہلے یا بعد آپ ﷺ نے کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

730Maarif-ul-Hadith

عیدین کی نماز کا وقت

عَنْ يَزِيْدِ بْنُ خُمَيْرٍ الرَّحَبِيُّ ، قَالَ : خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ ، صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ ، أَوْ أَضْحَى ، فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الْإِمَامِ ، فَقَالَ : « إِنَّا كُنَّا قَدْ فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ » (رواه ابوداؤد)

یزید بن خمیر رحبی باتعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت عبداللہ بن بسر ؓ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے دن نماز عید پڑھنے کے لئے لوگوں کے ساتھ عیدگاہ تشریف لائے (امام کے آنے میں دیر ہوئی) تو آپ ﷺ نے امام کی اس تاخیر کو منکر بتایا (اور اس کی مذمت کی) اور فرمایا کہ اس وقت تو ہم (رسول اللہ ﷺ کے ساتھ) نماز پڑھ کر فارغ ہو جایا کرتے تھے (راوی کہتے ہیں) اور یہ نوافل کا وقت تھا (نوافل سے مراود غالبا چاشت کے نوافل ہیں)۔ (سنن ابی داؤد) تشریح عبداللہ بن بسر صحابی ؓ نے شام میں سکونت اختیار کر لی تھی اور وہیں۔ ۸۸؁ھ میں “ حمص ” میں ان کا انتقال ہوا۔ غالبا وہیں کا یہ واقعہ ہے کہ نماز عید میں امام کی تاخیر پر آپ نے نکیر فرمائی اور بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم لوگ نماز عید سویرا پڑھ کر فارغ ہو جایا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز کے وقت کے بارے میں سب سے زیادہ واضح حدیث وہ ہے جو حافظ بن حجر نے “ تلخیص الحبیر ” میں احمد بن حسن البناء کی کتاب الاضاحی کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کے صحابی جندب ؓ کی روایت سے ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے۔ “ كَانَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَالشَّمْسُ عَلَى قِيدَ رُمْحَيْنِ وَالْاَضْحَى عَلَى قِيدَ رُمْحٍ ” . “ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کی نماز ہم لوگوں کو ایسے وقت پڑھاتے تھے کہ آفتاب بقدر دو نیزے کے بلند ہوتا تھا اور عید الاضحیٰ کی نماز ایسے وقت پڑھاتے تھے کہ آفتاب بقدر ایک نیزہ کے ہوتا تھا ”۔ ہمارے زمانے میں بہت مقامات پر عیدین کی نماز بہت تاخیر سے پڑھی جاتی ہے، یہ بلا شبہ خلاف سنت ہے۔

731Maarif-ul-Hadith

عیدین کی نماز کا وقت

عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، « أَنَّ رَكْبًا جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْهَدُونَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا ، وَإِذَا أَصْبَحُوا أَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ » (رواه ابوداؤد والنسائى)

حضرت انس ؓ کے صاحبزادے ابو عمیر سے روایت ہے وہ اپنے متعدد چچوں سے نقل کرتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کرامؓ میں سے تھے کہ ایک دفعہ ایک قافلہ (کہیں باہر سے) رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور انہوں نے شہادت دی کہ کل (راستہ میں) انہوں نے چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزے کھول دیں اور کل جب صبح ہو تو نماز عید ادا کرنے کے لئے عیدگاہ پہنچیں۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی) تشریح مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک دفعہ رمضان کی ۲۹ تاریخ کو چاند نظر نہیں آیا تو قاعدے کے مطابق اگلے دن سب لوگوں نے روزہ رکھا لیکن دن ہی میں سے کسی وقت باہر کا کوئی قافلہ مدینہ طیبہ پہنچا اور ان لوگوں نے گواہی دی کہ ہم نے کل شام چاند دیکھا تھا تو آپ ﷺ نے ان لوگوں کی گواہی قبول فرما کر لوگوں کو روزے کھولنے کا حکم دے دیا اور نماز عید کے لئے فرمایا کہ کل صبح پڑھی جائے گی۔ بظاہر یہ قافلہ دن کو دیر سے مدینہ پہنچا تھا اور نماز کا وقت نکل چکا تھا۔ شرعی مسئلہ بھی یہی ہے کہ اگر چاند کی رویت ایسے وقت معلوم ہو کہ نماز عید اپنے وقت پر نہ پڑھی جا سکتی ہو تو پھر اگلے دن صبح ہی کو پڑھی جائے گی۔

732Maarif-ul-Hadith

عیدین کی نماز میں قرأت

عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ : " مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ : « كَانَ يَقْرَأُ فِيْهِمَا بِق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ » (رواه مسلم)

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود تابعی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب ؓ نے ابو واقد لیثی ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحیٰ اور عید الفطر کی نماز میں کون سی سورتیں پڑھا کرتے تھے، انہوں نے فرمایا کہ: “ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ” اور “ وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ ”۔ (صحیح مسلم) تشریح یہ بات بعید از قیاس ہے کہ حضرت عمر ؓ کو عیدین میں رسول اللہ ﷺ کی قرأت کے بارے میں خود یاد نہ رہا ہو اور اس وجہ سے انہوں نے ابو واقد لیثیؓ سے پوچھا۔ بظاہر حضرت عمرؓ کا یہ سوال تو ابو واقد لیثیؓ کے علم و حافظہ کا اندازہ کرنے کے لئے تھا یا اپنے مزید اطمینان کے لئے۔ واللہ اعلم۔

733Maarif-ul-Hadith

عیدین کی نماز میں قرأت

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : « كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ ، وَفِي الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ » ، قَالَ : « وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ ، فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ ، يَقْرَأُ بِهِمَا فِي الصَّلَاتَيْنِ ». (رواه مسلم)

حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین اور جمعہ کی نماز میں “ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ” اور “ وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ” پڑھا کرتے تھے، اور جب (اتفاق سے) عید اور جمعہ ایک ہی دن پڑ جاتا تو بھی دونوں نمازوں میں یہی دونوں سورتیں پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح ابو واقد لیثی اور نعماب بن بشیر ؓ کے ان دونوں بیانوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔ عیدین کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کبھی سورہ ق اور سورہ قمر پڑھتے تھے، اور کبھی سورہ اعلیٰ و سورہ غاشیہ۔

734Maarif-ul-Hadith

بارش کی وجہ سے عید کی نماز مسجد میں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، « أَنَّهُ أَصَابَهُمْ مَطَرٌ فِي يَوْمِ عِيدٍ ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِيدِ فِي الْمَسْجِدِ » (رواه ابوداؤد وابن ماجه)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ عید کے دن بارش ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ہم کو عید کی نماز مسجد نبوی ﷺ ہی میں پڑھائی۔ (سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح عیدین میں “ امت مسلمہ کا تہوار ” اور “ دینی جشن ” ہونے کی جو شان ہے اس کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کی قوموں کے جشنوں اور میلوں کی طرح ہمارا عیدین کی نماز والا اجتماع بھی کہیں کھلے میدان میں ہو، اور جیسا کہ اوپر معلوم ہو چکا رسول اللہ ﷺ کا عام معمول و دستور بھی یہی تھا اور اس لئے عام حالات میں یہی سنت ہے۔ لیکن حضرت ابو ہریرہؓ کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر بارش کی حالت ہو (یا ایسا ہی کوئی اور سبب ہو) تو عید کی نماز بھی مسجد میں پڑھی جا سکتی ہے۔

735Maarif-ul-Hadith

عیدین کے دن کھانا نماز سے پہلے یا نماز کے بعد ؟

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يَخْرُجُ يَوْمَ الفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ ، وَلاَ يَطْعَمُ يَوْمَ الأَضْحَى حَتَّى يُصَلِّيَ. (رواه الترمذى وابن ماجه والدارمى)

حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپ ﷺ عیدالفطر کی نماز کے لئے کچھ کھا کے تشریف لے جاتے تھے اور عید الاضحیٰ کے دن نماز پڑھنے تک کچھ نہیں کھاتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی) تشریح صحیح بخاری میں حضرت انس ؓ کی روایت سے یہ بھی مروی ہے کہ عید الفطر کے دن نماز کو تشریف لے جانے سے پہلے آپ چند کھجوریں تناول فرماتے تھے اور طاق عدد میں تناول فرماتے تھے۔ عید الاضحیٰ کے دن نماز کے بعد کھانے کی وجہ سے غالبا یہ ہو گی کہ اس دن سب سے پہلے قربانی ہی کا گوشت منہ میں جائے، جو ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کی ضیافت ہے۔ اور عید الفطر میں علی الصبح نماز سے پہلے ہی کچھ کھا لینا غالبا اس لئے ہوتا تھا کہ جس اللہ کے حکم سے رمضان پورے مہینہ دن میں کھانا پینا بالکل بند رہا، آج جب اس کی طرف سے دن میں کھانے پینے کا اذن ملا، اور اسی میں اس کی رضا اور خوشنودی معلوم ہوئی تو طالب و محتاج بندہ کی طرح صبح ہی اس کی ان نعمتوں سے لذت اندوز ہونے لگے۔ بندگی کا مقام یہی ہے۔ ؎ گر طمع خواہد ز من سلطان دیںخاک بر فرق قناعت بعد ازیں

736Maarif-ul-Hadith

عید گاہ کی آمد و رفت میں راستہ کی تبدیلی

عَنْ جَابِرٍ قَالَ : « كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدٍ خَالَفَ الطَّرِيقَ » (رواه البخارى)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید کے دن راستہ بدل دیتے تھے۔ (صحیح بخاری) تشریح مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید کی نماز کے لئے جس راستہ سے عیدگاہ تشریف لے جاتے تھے، واپسی میں اس کو چھوڑ کر دوسرے راستہ سے تشریف لاتے تھے۔ علماء نے اس کی مختلف حکمتیں بیان کی ہیں۔ اس عاجز کے نزدیک ان میں سے زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ آپ ﷺ یہ اس لئے کرتے تھے کہ اس طرح شعائر اسلام اور مسلمانوں کی اجتماعیت و شوکت کا زیادہ سے زیادہ اظہار و اعلان ہو۔ نیز عید میں جشن اور تفریح کا جو پہلو ہے اس کے لئے بھی یہی زیادہ مناسب ہے، کہ مختلف راستوں اور بستی کے مختلف حصوں سے گزرا جائے۔ واللہ اعلم۔

737Maarif-ul-Hadith

صدقہ فطر ۔ اس کا وقت اور اس کی حکمت

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : « فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى العَبْدِ وَالحُرِّ ، وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى ، وَالصَّغِيرِ وَالكَبِيرِ مِنَ المُسْلِمِينَ ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاَةِ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں میں سے ہر غلام اور آزاد پر اور ہر مرد و عورت پر اور ہر دچھوٹے اور بڑے پر صدقہ فطر لازم کیا ہے، ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو۔ اور حکم دیا ہے کہ یہ صدقہ فطر نماز عید کے لئے جانے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح زکوٰۃ کی طرح صدقہ فطر بھی اغنیاء (دولتمندوں) ہی پر واجب ہے، چونکہ یہ بات مخاطببین خود سمجھ سکتے تھے اس لئے اس حدیث میں اس کی وضاحت نہیں کی گئی، رہی بات یہ کہ اغنیاء کون ہیں اور اسلام میں دولت مندی کا معیار کیا ہے؟ اس کی وضاحت اور تفصیل ان شاء اللہ زکوٰۃ کے بیان میں کی جا سکے گی۔ اس حدیث میں ہر نفر کی طرف سے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہی دو چیزیں اس زمانہ میں مدینہ اور اس کے گرد و نواح میں عام طور سے بطور غذا کے استعمال ہوتی تھیں اس لئے اس حدیث میں انہی دو کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اس زمانہ میں ایک چھوٹے گھرانے کی غذا کے لئے ایک صاع کھجوریں یا ایک صاع جو کافی ہوتے تھے، اس حساب سے ہر دولتمند گھرانے کے ہر چھوٹے بڑے فرد کی جانب سے عید الفطر کے دن اتنا صدقہ ادا کرنا ضروری قرار دیا گیا، جس سے ایک معمولی گھرانے کے ایک دن کے کھانے کا خرچ چل سکے۔ ہندوستان کے اکثر علماء کی تحقیق کے مطابق رائج الوقت سیر کے حساب سے ایک صاع قریبا ساڑھے تین سیر کا ہوتا ہے۔

738Maarif-ul-Hadith

صدقہ فطر ۔ اس کا وقت اور اس کی حکمت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : « فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْراً لِلصَّيَامِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ ، وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ. (رواه ابوداؤد)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے روزوں کو فضول و لایعنی اور فحش باتوں کے اثرات سے پاک صاف کرنے کے لئے اور مسکینوں محتاجوں کے کھانے کا بندوبست کرنے کے لئے صدقہ فطر واجب قرار دیا۔ (سنن ابی داؤد) تشریح اس حدیث میں صدقہ فطر کی دو حکمتوں اور اس کے دو خاص فائدوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کے جشن و مسرت کے اس دن میں صدقہ فطر کے ذریعہ محتاجوں مسکینوں کی بھی شکم سیری اور آسودگی کا انتظام ہو جائے گا۔ اور دوسرے یہ کہ زبان کی بے احتیاطیوں اور بے باکیوں سے روزے پر جو برے اثرات پڑے ہوں گے یہ صدقہ فطر ان کا بھی کفارہ اور فدیہ ہو جائے گا۔

739Maarif-ul-Hadith

عید الاضحیٰ کی قربانی

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ ، وَإِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ القِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلاَفِهَا ، وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الأَرْضِ ، فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا. (رواه الترمذى وابن ماجه)

حضرت صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ذی الحجہ کی دسویں تاریخ یعنی عید الاضحیٰ کے دن فرزند آدم کا کوئی عمل اللہ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھروں کے ساتھ (زندہ ہو کر) آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پہنچ جاتا ہے، پس اے خدا کے بندو! دل کی پوری خوشی سے قربانیاں کیا کرو۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

740Maarif-ul-Hadith

عید الاضحیٰ کی قربانی

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : « سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ » قَالُوا : فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ : « بِكُلِّ شَعَرَةٍ ، حَسَنَةٌ » قَالُوا : " فَالصُّوفُ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : « بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ ، حَسَنَةٌ » (رواه احمد وابن ماجه)

حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعض اصحاب نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (ﷺ) ان قربانیوں کی کیا حقیقت اور کیا تاریخ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہارے (روحانی اور نسلی) مورث حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے (یعنی سب سے پہلے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا حکم دیا گیا اور وہ کیا کرتے تھے، ان کی اس سنت اور قربانی کے اس عمل کی پیروی کا حکم مجھ کو اور میری امت کو بھی دیا گیا ہے) ان صحابہؓ نے عرض کیا۔ پھر ہمارے لئے یا رسول اللہ (ﷺ) ان قربانیوں میں کیا اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: قربانی کے جانور کے ہر بال کے عوض ایک نیکی۔ انہوں نے عرض کیا: تو کیا اون کا بھی یا رسول اللہ (ﷺ) یہی حساب ہے؟ (اس سوال کا مطلب تھا کہ بھیڑ، دنبہ، مینڈھا، اونٹ جیسے جانور جن کی کھال پر گائے، بیل یا بکری کی طرح کے بال نہیں ہوتے بلکہ اون ہوتا ہے، اور یقینا ان میں سے ایک ایک جانور کی کھال پر لاکھوں یا کروڑوں بال ہوتے ہیں، تو کیا ان اون والے جانوروں کی قربانی کا ثواب بھی ہر بال کے عوض ایک نیکی کی شرح سے ملے گا؟) آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اون والے جانور کی قربانی کا اجر بھی اسی شرح اور اسی حساب سے ملے گا کہ ہر بال کے عوض ایک نیکی “۔ (مسند احمد، سنن ابن ماجہ)