عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضَحِّي. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ہجرت کے بعد) مدینہ طیبہ میں دس سال قیام فرمایا، اور آپ ﷺ برابر (ہر سال) قربانی کرتے تھے۔ (جامع ترمذی)
عَنْ حَنَشٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ : مَا هَذَا؟ فَقَالَ : « إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ » (رواه ابوداؤد وروى الترمذى نحوه)
حنش بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی مرتضیٰ ؓ کو دو مینڈھوں کی قربانی کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے عرض کیا کہ: یہ کیا ہے (یعنی آپ ﷺ ایک کی بجائے دو مینڈھوں کی قربانی کیوں کرتے ہیں؟) انہوں نے فرمایا کہ: رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ ﷺ کی طرف سے بھی قربانی کیا کروں، تو ایک قربانی میں آپ ﷺ کی جانب سے کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)
تشریح
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوا تھا کہ مدینہ طیبہ میں قیام فرمانے کے بعد سے رسول اللہ ﷺ پابندی کے ساتھ ہر سال قربانی فرماتے رہے اور حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ بعد کے لئے آپ ﷺ حضرت علی ؓ کو وصیت فرما گئے تھے کہ آپ ﷺ کی طرف سے قربانی کیا کریں، چنانچہ اس وصیت کے مطابق حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے برابر قربانی کرتے تھے۔
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا وَيَقُوْلُ بِسْمِ اللهِ اَللهُ اَكْبَر. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیاہی و سفیدی مائل رنگ کے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی کی، اپنے دست مبارک سے ان کو ذبح کیا اور ذبح کرتے وقت “ بِسْمِ اللهِ وَاللهُ اَكْبَر ” پڑھا۔ میں نے دیکھا کہ اس وقت آپ ﷺ اپنا پاؤں ان کے پہلو پر رکھے ہوئے تھے اور زبان سے “ بِسْمِ اللهِ وَاللهُ اَكْبَر ” کہتے جاتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
عَنْ جَابِرٍ ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مُوجَأَيْنِ ، فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ : « إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ ، وَعَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ بِاسْمِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ » ثُمَّ ذَبَحَ. (رواه احمد وابوداؤد وابن ماجه والدارمى)
وفى روايته لاحمد وابى داؤد والترمذى ذَبَحَ بِيَدِهِ وَقَالَ بِسْمِ اللهِ ، اللهُ أَكْبَرُ هَذَا عَنِّىْ وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِىْ.
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ قربانی کے دن یعنی عید قربان کے دن رسول اللہ ﷺ نے سیاہی و سفیدی مائل سینگوں والے دو خصی مینڈھوں کی قربانی کی۔ جب آپ ﷺ نے ان کا رخ صحیح قبلہ کی طرف کر لیا تو یہ دعا پڑھی “ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي ..... اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، وَعَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ بِسْمِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ” (میں نے اپنا رخ اس اللہ کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیاہے، طریقے پر ابراہیم کے ہر طرف سے یکسو ہو کر اور میں شرک والوں میں سے نہیں ہوں، میری نماز و عبادت اور میری قربانی اور میرا جینا اور مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے اس کا کوئی شریک ساتھی نہیں، اور مجھے اسی کا حکم ہے، اور میں حکم ماننے والوں میں ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی طرف سے اور تیری ہی توفیق سے ہے اور تیرے ہی واسطے ہے، تیرے بندے محمد کی اور اس کی امت کی جانب سے بسم اللہ واللہ اکبر) یہ دعا پڑھ کر آپ ﷺ نے مینڈھے پر چھری چلائی اور اس کو ذبح کیا۔
اور مسند احمد و سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی کی اسی حدیث کی ایک دوسری روایت میں آخری حصہ اس طرح ہے کہ آپ نے “ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ ” کہنے کے بعد اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور زبان سے کہا: “ بِسْمِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ” (اے اللہ! یہ میری جانب سے اور میرے ان امتیوں کی جانب سے جنہوں نے قربانی نہ کی ہو)۔
تشریح
قربانی کے وقت رسول اللہ ﷺ کا اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کرنا کہ: “ میری جانب سے اور میرے ان امتیوں کی جانب سے جنہوں نے قربانی نہیں کی ” ظاہر ہے کہ یہ امت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی انتہائی شفقت و رأفت ہے۔ لیکن ملحوظ رہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے ساری امت کی طرف سے یا قربانی نہ کرنے والے امتیوں کی طرف سے قربانی کر دی اور سب کی طرف سے ادا ہو گئی بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اے اللہ! اس کے ثواب میں میرے ساتھ میرے امتیوں کو بھی شریک فرما! ثواب میں شرکت اور چیز ہے اور قربانی کا ادا ہو جانا دوسری چیز ہے۔
قربانی کے جانور کے بارے میں ہدایات
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ : مَاذَا يُتَّقَى مِنَ الضَّحَايَا؟ فَاَشَارَ بِيَدِهِ فَقَالَ : "أَرْبَعٌ الْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا ، وَالْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا ، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا ، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي". (رواه مالك واحمد والترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجة والدارمى)
حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ قربانی میں کیسے جانوروں سے پرہیز کیا جائے (یعنی وہ کیا عیوب اور خرابیاں ہیں جن کی وجہ سے جانور قربانی کے قابل نہیں رہتا)۔ آپ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور بتایا کہ چار (یعنی چار عیوب اور نقائص ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی عیب و نقص جانور میں پایا جائے تو قربانی کے قابل نہیں رہتا)۔ ایک ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن بہت کھلا ہوا ہو (کہ اس کی وجہ سے اس کو چلنا بھی مشکل ہو)۔ دوسرے وہ جس کی ایک آنکھ خراب ہو گئی ہو، اور وہ خرابی بالکل نمایاں ہو۔ تیسرے وہ جو بہت بیمار ہو۔ چوتھے وہ جو ایسا کمزور اور لاغر ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودا بھی نہ رہا ہو۔ (موطا امام مالک، مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی)
قربانی کے جانور کے بارے میں ہدایات
عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ « نَهَى أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ ، وَالْأُذُنِ » (رواه ابن ماجه)
حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
قربانی در اصل بندہ کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں نذر ہے، اس لئے ضروری ہے کہ اپنی استطاعت کی حد تک اچھے جانور کا انتخاب کیا جائے۔ یہ بات بہت غلط ہے کہ لولا، لنگڑا، اندھا، کانا، بیمار، مریل، سینگ ٹوٹا، کان کٹا جانور اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کیا جائے۔ قرآن مجید میں اصول کے طور پر فرمایا گیا ہے کہ:
“ لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ”
تم کو نیکی کا مقام اس وقت تک ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا، جب تک کہ وہ چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو جو تمہیں مرغوب و محبوب ہوں۔
بہرحال قربانی کے بارے م یں رسول اللہ ﷺ کی ان ہدایات کی روح اور ان کا خاص مقصد یہی ہے۔
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ ، وَالْجَزُورُ عَنْ سَبْعَةٍ » (رواه مسلم واب و داؤد واللفظ له)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: گائے یا بیل کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے اور اسی طرح اونٹ کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے ہو سکتی ہے۔ (صحیح مسلم و سنن ابی داؤد)
تشریح
بھینس اہل عرب کے نزدیک گویا گائے ہی کی ایک قسم ہے جو عرب میں نہیں ہوتی اس لئے اس کا اس حدیث میں الگ ذکر نہیں کیا گیا، اس کی قربانی بھی سات آدمیوں کی طرف سے ہو سکتی ہے۔
قربانی کا وقت عید کی نماز کے بعد
عَنِ البَرَاءِ ، قَالَ : خَطَبَنَا النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ : « إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا نُصَلِّي ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَنْحَرُ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ، فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا ، وَمَنْ ذَبَحَ ، فَإِنَّمَا هُوَ شَاةُ لَحْمٍ عَجَّلَه لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عید قرباں کے دن خطبہ دیا اس میں ارشاد فرمایا: آج کے دن کے خاص کاموں میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم اللہ کے حضور میں نماز عید ادا کریں، پھر وہاں سے لوٹ کر ہم قربانی کریں، جو اس طرح کرے گا وہ ہمارے طریقے کے مطابق ٹھیک کرے گا (اور اس کی قربانی ٹھیک ادا ہو گی) اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر ڈالی اس کی قربانی بالکل نہیں ہوئی، بلکہ اس نے اپنے گھر والوں کے گوشت کھانے کے لئے بکری ذبح کر لی ہے (اس سے زیادہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
قربانی کا وقت عید کی نماز کے بعد
عَنْ جُنْدَبُ بْنِ عَبْدِاللهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ الْأَضْحَى يَوْمَ النَّحْرِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَعْدُ أَنْ صَلَّى وَفَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ يَرَى لَحْمَ أَضَاحِيَّ قَدْ ذُبِحَتْ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، فَقَالَ : « مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ أَوْ نُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت جندب بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں عید قربان کے دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا، آپ جیسے ہی عید کی نماز سے فارغ ہوئے آپ کی نگاہ قربانیوں کے گوشت پر پڑی، یہ قربانیاں نماز سے فارغ ہونے کے قبل ہی ذبح کی جا چکی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے نماز سے پہلے قربانی کر دی ہے وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کریں (کیوں کہ ان کی قربانی قبل از وقت ہونے کی وجہ سے صحیح نہیں ہوئی)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت و حرمت
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا مِنْ أَيَّامٍ العَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الأَيَّامِ العَشْرِ » (رواه البخارى)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو عمل صالح جتنا ان دس دنوں میں محبوب ہے اتنا کسی دوسرے دن میں نہیں۔ (صحیح بخاری)
تشریح
جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے سات دنوں میں جمعہ کو، اور سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان المبارک کو، اور پھر رمضان المبارک کے تین عشروں میں سے عشرہ اخیر کو خاص فضیلت بخشی ہے، اسی طرح ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کو بھی فضل و رحمت کا خاص عشرہ قرار دیا ہے، اور اسی لئے حج بھی انہی ایام میں رکھا گیا ہے۔ بہرحال یہ رحمت خداوندی کا خاص عشرہ ہے۔ ان دنوں میں بندے کا ہر نیک عمل اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے، اور اس کی بڑی قیمت ہے۔
عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت و حرمت
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَاَرَادَ بَعْضُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا ، وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا » (رواه مسلم)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے (یعنی ذی الحجہ کا چاند دیکھ لیا جائے) اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کا ہو تو اس کو چاہیے کہ اب قربانی کرنے تک اپنے بال یا ناخن بالکل نہ تراشے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
دراصل یہ عشرہ حج کا ہے، اور ان ایام کا خاص الخاص عمل حج ہے، لیکن حج مکہ معظمہ جا کر ہی ہو سکتا ہے، اس لئے وہ عمر میں صرف ایک دفعہ اور وہ بھی اہل استطاعت پر فرض کیا گیا ہے، اس کی خاص برکات وہی بندے حاصل کر سکتے ہیں جو وہاں حاضر ہو کر حج کریں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے سارے اہل ایمان کو اس کا موقع دیا ہے کہ جب حج کے یہ ایام آئیں تو وہ اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے بھی حج اور حجاج سے ایک نسبت پیدا کر لیں اور ان کے کچھ اعمال میں شریک ہو جائیں، عید الاضحیٰ کی قربانی کا خاص راز یہی ہے۔
حجاج دسویں ذی الحجہ کو منیٰ میں اللہ کے حضور میں اپنی قربانیاں پیش کرتے ہیں، دنیا بھر کے دوسرے مسلمان جو حج میں شریک نہیں ہو سکے ان کو حکم ہے کہ وہ اپنی اپنی جگہ ٹھیک اسی دن اللہ کے حضور میں اپنی قربانیاں نذر کریں، اور جس طرح حاجی احرام باندھنے کے بعد بال یا ناخن نہیں ترشواتا، اسی طرح یہ مسلمان جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد بال یا ناخن نہ ترشوائیں اور اس طریقے سے بھی حجاج سے ایک مناسبت اور مشابہت پیدا کریں۔
کس قدر مبارک ہدایت ہے جس پر چل کر مشرق و مغرب کے مسلمان حج کے انوار و برکات میں حصہ لے سکتے ہیں۔
تنبیہ ...... واضح رہے کہ یہاں قربانی اور اس سے پہلے صدقہ فطر سے متعلق احادیث، نماز عیدین کی احادیث کے ساتھ تبعا ذکر کر دی گئی ہیں، ورنہ یہ “ کتاب الصلوٰۃ ” ہے۔ لیکن اکثر محدثین نے ایسا ہی کیا ہے کہ صدقہ فطر اور قربانی سے متعلق احادیث بھی انہوں نے صلوٰۃ عیدین کے ساتھ ہی درج کی ہیں۔ انہی کی پیروی میں اس کتاب میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔
صلوٰۃ کسوف اور صلوٰۃ استسقا
عَنِ المُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ النَّاسُ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّ الشَّمْسَ وَالقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ فَصَلُّوا ، وَادْعُوا اللَّهَ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں خاص اس دن جس دن آپ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا سورج گرہن کو گہن لگا۔ تو بعض لوگوں نے کہا کہ سورج کو یہ گہن ابراہیم کے انتقال فرما جانے کی وجہ سے لگا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سورج اور چاند کو گہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا۔ (بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کی نشانیوں میں سے ہے) تم ایسا دیکھو تو اللہ تعالیٰ کے حضور میں نماز پڑھو اور اس سے خوب دعا کرو۔
تشریح
جمعہ اور عیدین کی نمازیں (جن سے متعلق احادیث صفحات ما سبق میں درج کی گئی ہیں) وہ اجتماعی نمازیں ہیں، جن کا دن یا تاریخ مقرر اور معلوم ہے، ان کے علاوہ دو نمازیں اور بھی ہیں جو اجتماعی طور پر ادا کی جاتی ہیں، لیکن نہ ان کا دن مقرر ہے نہ تاریخ۔ ان میں ایک “ صلوٰۃ کسوف ” ہے جو سورج کے گہن میں آ جانے کے وقت پڑھی جاتی ہے، اور دوسرے “ صلوٰۃ استسقا ” جو کسی علاقہ میں سوکھا پڑنے یعنی بارش نہ ہونے کی صورت میں بارش کی دعا کے لئے پڑھی جاتی ہے۔
نماز کسوف
سورج یا چاند کا گہن میں آ جانا اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ اور اس کے جلال و جبروت کی ایک نشانیوں میں سے ہے جن کا کبھی کبھی ظہور ہوتا ہے اور جن کا حق ہے کہ جب ان کا ظہور ہو تو اللہ کے بندے عاجزی کے ساتھ اس قادر و قہار کی عظمت و جلال کے سامنے جھک جائیں اور اس سے رحم و کرم کی بھیک مانگیں۔ رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ٹھیک اس دن جس دن آپ ﷺ کے شیر خوار صاحبزادے ابراہیم (علی ابیہ وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) کا قریبا ڈیڑھ سال کی عمر میں انتقال ہوا تھا (1) سورج کو گہن لگا۔ عربوں میں زمانہ جاہلیت کے توہمات میں سے ایک یہ خیال بھی تھا کہ بڑے آدمیوں کی موت پر سورج کو گہن لگتا ہے، اور گویا وہ اس کے ماتم میں سیاہ چادر اوڑھ لیتا ہے۔ حضرت ابراہیم کی وفات کے دن سورج کے گہن میں آ جانے سے اس توہم پرستی اور غلط عقیدہ کو تقویت پہنچ سکتی تھی، بلکہ بعض روایات میں ہے کہ کچھ لوگوں کی زبانوں پر یہی بات آئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس وقت غیر معمولی خشیت اور انتہائی فکر مندی کے ساتھ اللہ کے حضور میں جماعت سے دو رکعت نماز پڑھی، یہ نماز بھی غیر معمولی قسم کی تھی، آپ ﷺ نے اس میں بہت طویل قرأت کی اور قرأت کے دوران آپ ﷺ بار بار اللہ کے حضور جھک جاتے تھے (گویا رکوع میں چلے جاتے تھے) اور پھر کھڑے ہو کر قرأت کرنے لگتے تھے۔ اسی طرح اس نماز میں آپ ﷺ نے رکوع اور سجدے بھی بہت طویل کئے اور اثناء نماز میں دعا بھی بہت اہتمام اور ابتہال کے ساتھ کی، اس کے بعد آپ ﷺ نے خطبہ دیا اور اس میں خاص طور سے اس غلط خیال کی تردید کی کہ سورج یا چاند کو گہن کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے لگتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ محض جاہلانہ توہم پرستی ہے جس کی اصل بنیاد کوئی نہیں، یہ تو دراصل اللہ کی قدرت وسطوت اور اس کے جلال و جبروت کی نشانی ہے، جب ایسی کسی نشانی کا ظہور ہو تو عاجزی کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ اس کی عبادت اور اس سے دعا کرنی چاہئے۔اس تمہید کے بعد “ صلوٰۃ کسوف ” سے متعلق چند احادیث ذیل میں پڑھیے:
تشریح ..... حضرت مغیرہ بن شعبہ کی ایک حدیث میں بہت اختصار ہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی نماز پڑھنے کا بھی ذکر نہیں ہے۔ دوسری روایات میں آپ ﷺ کی نماز اور اس کی خاص کیفیت کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔
صلوٰۃ کسوف اور صلوٰۃ استسقا
عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا ، يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ ، فَأَتَى المَسْجِدَ ، فَصَلَّى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ رَأَيْتُهُ قَطُّ يَفْعَلُهُ ، وَقَالَ : « هَذِهِ الآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ ، لاَ تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنْ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ ، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دن) سورج گہن میں آ گیا تو رسول اللہ ﷺ ایسے خوفزدہ اور گھبرائے ہوئے اٹھے جیسے کہ آپ ﷺ کو ڈر ہو کہ اب قیامت ہو جائے گی، پھر آپ مسجد آئے اور آپ ﷺ نے نہایت طویل قیام اور ایسے ہی طویل رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھائی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ: (اللہ کی قدرت قاہرہ کی) یہ نشانیاں جن کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرتا ہے۔ یہ کسی کی موت اور حیات کی وجہ سے واقع نہیں ہوتیں بلکہ بندوں کے دلوں میں یہ اللہ کا خوف پیدا کرنے کے لیے ظاہر ہوتی ہیں۔ جب تم ایسی کوئی چیز دیکھو تو خوف اور فکر کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہو جاؤ، اس کو یاد کرو اور اس سے دعا و استغفار کرو۔
صلوٰۃ کسوف اور صلوٰۃ استسقا
عَنْ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ ، قَالَ : كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ وَأَنَا مَعَهُ يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَانْجَلَتْ ، فَقَالَ : « إِنَّمَا هَذِهِ الْآيَاتُ يُخَوِّفُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ » . (رواه ابوداؤد والنسائى)
حضرت قبیصہ ہلالی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ گھبرائے ہوئے باہر تشریف لائے (اور اس گھبراہٹ کی وجہ سے آپ ﷺ کا حال یہ تھا کہ اپنی چادر مبارک اچھی طرح اوڑھ بھی نہیں سکے تھے بلکہ) آپ ﷺ کی چادر زمین پر گھسٹ رہی تھی، میں اس دن مدینہ میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی اور اس میں بہت طویل قیام کیا، پھر آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے اور آفتاب اس اثناء میں معلمول کے مطابق روشن ہو گیاتھا، تو آپ ﷺ نے (لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے) فرمایا: ان نشانیوں کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا ہو (اور وہ معاصی سے بچیں) لہٰذا جب تم ایسی نشانیاں دیکھو تو اس طرح نماز پڑھو جیسی فرض نماز تم نے ابھی تھوڑی دیر پہلے پڑھی تھی (یعنی فجر کی نماز کی طرح دو رکعت نماز کسوف کے وقت بھی پڑھو)۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی)
صلوٰۃ کسوف اور صلوٰۃ استسقا
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : كُنْتُ أَرْتَمِي بِأَسْهُمٍ لِي بِالْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَنَبَذْتُهَا ، فَقُلْتُ : وَاللهِ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا حَدَثَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ ، قَالَ : « فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الصَّلَاةِ رَافِعٌ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ يُسَبِّحُ ، وَيَحْمَدُ ، وَيُهَلِّلُ ، وَيُكَبِّرُ ، وَيَدْعُو ، حَتَّى حُسِرَ عَنْهَا » ، قَالَ : « فَلَمَّا حُسِرَ عَنْهَا ، قَرَأَ سُورَتَيْنِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ » . (رواه مسلم)
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ سے روایت ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں اپنے تیروں سے نشانہ بازی کر رہا تھا کہ اچانک آفتاب گہن میں آ گیا، میں نے اپنے تیر وہیں چھوڑ دئیے اور اپنے جی میں کہا کہ میں ابھی چل کر دیکھوں گا کہ سورج گہن کے اس وقت میں رسول اللہ ﷺ پر کیا نئی واردات ہوئی اور آپ ﷺ نے کیا نیا عمل کیا۔ میں آپ ﷺ کے پاس آیا آپ ﷺ اس وقت کھڑے نماز پڑھ رہے (یعنی نماز شروع ہو چکی تھی) اسی حال میں آپ ﷺ نے دونوں ہاتھ اٹھائے (جس طرح دعا میں اٹھائے جاتے ہیں) اور دیر تک اللہ کی تسبیح و تہلیل اور تکبیر و حمد کے ساتھ اس سے دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آفتاب گہن سے نکل گیا (یعنی آپ ﷺ کی نماز اور دعا کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ آفتاب گہن ختم ہوا، اور وہ معمول کے مطابق روشن ہو گیا) آپ ﷺ نے اس نماز میں دو سورتیں اور دو رکعتیں پڑھیں۔ (صحیح مسلم)
صلوٰۃ کسوف اور صلوٰۃ استسقا
عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ ، فَقَامَ ، فَأَطَالَ القِيَامَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ القِيَامَ وَهُوَ دُونَ القِيَامِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الأُولَى ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ انْجَلَتِ الشَّمْسُ ، فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : « إِنَّ الشَّمْسَ وَالقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ ، فَادْعُوا اللَّهَ ، وَكَبِّرُوا وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا » ثُمَّ قَالَ : « يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلبَكَيْتُمْ كَثِيرًا اَلَا هَلْ بَلَّغْتُ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں آفتاب کو گہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس نماز میں آپ ﷺ بہت طویل قیام فرمایا، پھر آپ ﷺ رکوع میں گئے اور بہت طویل رکوع کیا۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہو گئے اور پھر بہت طویل قیام فرمایا، لیکن قیام پہلے قیام کی بنسبت کچھ کم طویل تھا، اس کے بعد پھر آپ ﷺ رکوع میں گئے اور آپ ﷺ نے طویل رکوع کیا، لیکن پہلے رکوع کی بہ نسبت یہ رکوع کچھ کم طویل تھا، پھر آپ ﷺ سجدہ میں گئے اور سجدہ بھی آپ ﷺ نے بہت طویل کیا پھر آپ ﷺ نے دوسری رکعت میں بھی بالکل اسی طرح کیا، جس طرح پہلی رکعت میں کیا ھتا۔ اس کے بعد (قاعدے کے مطابق قعدہ اخیرہ اور سلام کے بعد) آپ ﷺ نے نماز ختم کر دی اور آفتاب گہن سے نکل گیا۔ اور (معمول کے مطابق) روشن ہو گیا، پھر آپ ﷺ نے خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد اس میں فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی قدرت و صنعت کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت و حیات سے ان کو گہن نہیں لگتا۔ (بلکہ زمین و آسمان کی دوسری مخلوقات کی طرح ان پر بھی اللہ کا حکم چلتا ہے اور ان کی روشنی اور تاریکی اسی مالک الملک اور قادر مطلق کے ہاتھ میں ہے) لہذا جب تم ان کو گہن لگتے دیکھو تو اللہ سے دعا کرو اور اس کی کبریائی بیان کرو اور اس کے حضور میں نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا اے امت محمد (ﷺ)! کسی غلام یا باندی کی بدکاری سے کسی کو اتنی ناگواری نہیں ہوتی جتنی ناگواری اللہ تعالیٰ کو اپنے کسی بندے یا بندی کی بدکاری سے ہوتی ہے (اس لیے اس کے قہر و جلال سے ڈرو اور ہر قسم کی بدکاری اور معصیت سے بچو) اے امت محمد (ﷺ)! قسم ہے اللہ کی اگر (اللہ کے قہر و جلال کے بارے میں) تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے۔
تشریح
نماز کسوف کا واقعہ چونکہ غیر معمولی قسم کا واقعہ تھا اور آپ ﷺ نے یہ نماز بھی غیر معمولی طرح پڑھی اس لئے بہت سے صحابہؓ نے اس کو روایت کیا ہے، یہاں صرف پانچ صحابیوں کی روایتیں نقل کی گئی ہیں کتب حدیث میں بیس سے زیادہ صحابیوں کے مجمل یا مفصل بیانات اس واقعہ کے بارے میں ملتے ہیں۔ امام بخاریؒ نے صحیح بخاری کے کسوف کے متعلق ابواب میں اس واقعہ سے متعلق نو صحابیوں کی حدیثیں روایت کی ہیں، ان سب حدیثوں سے واقعہ کی پوری تفصیلات معلوم ہو جاتی ہیں۔
ایک بات جو ان میں سے اکثر حدیثوں سے مشترک طور پر معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ صحابہؓ کے لئے یہ نماز نئی سی بات تھی اور انہوں نے اس سے پہلے کبھی صلوٰۃ کسوف نہیں پڑھی تھی، اور یہ بات بھی روایات میں صراحۃ موجود ہے کہ یہ کسوف اسی دن ہوا جس دن آپ ﷺ کے شیرخوار صاحبزادہ ابراہیم کا انتقال ہوا تھا، اور محدثین کا اس پر قریب قریب اتفاق ہے کہ ان کا انتقال ۱۰ھ میں ہوا یعنی رسول اللہ ﷺ کی وفات سے چند ہی مہینے پہلے، اس طرح یہ بات متعین ہو جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسوف کی نماز بس ایک ہی دفعہ پڑھی ہے جس کا ان احادیث میں ذکر ہے۔ چاند گرہن کے وقت بھی نماز پڑھنے کا حکم ان احادیث میں صاف موجود ہے لیکن کسی صحیح حدیث سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی چاند گرہن کے وقت بھی نماز پڑھی، غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس نماز کا حکم آپ ﷺ کو اس کسوف ہی کے موقع پر ملا، اور اس کے بعد جو چند مہینے آپ ﷺ اس دنیا میں رونق افروز رہے ان میں چاند گرہن کی نوبت ہی نہیں آئی۔ واللہ اعلم۔
یہ نماز آپ ﷺ نے بہت غیر معمولی کیفیات کے ساتھ پڑھی (حالانکہ جماعت کے ساتھ اتنی طویل نماز پڑھنا آپ ﷺ کی عادت مبارکہ نہ تھی بلکہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے)۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ میرا اندازہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس نماز کی ایک رکعت میں سورہ بقرہ پڑھی، اور دوسری میں آل عمران۔ اور حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ بعض لوگ اس نماز میں کھڑے نہیں رہ سکے بلکہ گر پڑے۔ اور بعض روایات میں ہے کہ اس نماز میں بہت سے لوگ بے ہوش ہو گئے اور ان کےک سروں پر پانی ڈالا گیا۔
اسی طرح کی ایک نئی بات اس نماز میں یہ تھی کہ آپ ﷺ نے قیام کے دوران ہاتھ اٹھا کے اللہ کی تسبیح و تہلیل اور تحمید و تکبیر کے ساتھ دیر تک دیا بھی کی۔ اسی طرح ایک دوسری نئی اور عجیب بات یہ بھی ہوئی کہ آپ ﷺ قیام کے دوران اللہ تعالیٰ کے حضور میں جھک گئے اور دیر تک رکوع میں رہنے کے بعد پھر کھڑے ہو کر آپ ﷺ نے قرأت کی اور اس کے بعد رکوع اور سجدہ کیا اور بعض روایات کے مطابق قیام کے دوران میں صرف ایک دفعہ نہیں بلکہ آپ ﷺ کئی دفعہ اسی طرح رکوع میں گئے۔ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ اس نماز کے دوران ایک دفعہ پیچھے کی جانب ہٹے اور پھر آگے بڑھے، اور آپ ﷺ نے ایک دفعہ ہاتھ آگے بڑھایا جس طرح کسی چیز کو لینے اور پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہیں اور پھر خطبہ میں آپ ﷺ نے بتایا کہ اس وقت آپ ﷺ کے سامنے عالم غیب کے بہت سے حقائق منکشف کیے گئے آپ ﷺ نے جنت اور دوزخ کو اپنے سامنے دیکھا، اور دوزخ میں عذاب کے نہایت ہیبت ناک اور کرزہ خیز مناظر دیکھے اور وہ دیکھا جو کبھی پہلے نہیں دیکھا تھا۔
یہ بات بہت قریب قیاس ہے کہ اس نماز میں جو غیر معمولی باتیں آپ ﷺ سے ظہور میں آئیں۔ مثلاً آپ ﷺ کا دوران نماز ہاتھ اٹھا کر دیر تک دعا کرنا، دوران قیام و قرأت میں بار بار اللہ کے حضور میں جھک جانا کبھی پیچھے ہٹنا کبھی آگے بڑھنا اور کبھی اپنا ہاتھ آگے بڑھانا، یہ سب ان غیبی مشاہدات کی وجہ سے ہوا۔
فائدہ ....... ٹھیک آپ ﷺ کے صاحبزادے کی وفات کے دن سورج گہن لگنا اور آپ ﷺ کا خطبہ میں پورے روز و قوت کے ساتھ یہ اعلان فرمانا کہ اس گہن کا میرے گھر کے اس حادثہ سے کوئی تعلق نہیں اور یسا سمجھنا غلط فہمی اور توہم پرستی ہے، رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور بے لوثی کی ایسی دلیل ہے جو بڑے سے بڑے منکر کو متاثر کرتی ہے بشرطیکہ اس کا دل بالکل ہی مردہ نہ ہو۔
عَنْ عَائِشَةَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُحُوطَ الْمَطَرِ ، فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ ، فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى ، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللَّهَ ، ثُمَّ قَالَ : « إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ ، وَاسْتَخَارَ الْمَطْرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ أَنْ تَدْعُوهُ ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ » ، ثُمَّ قَالَ : « الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ » ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ، فَلَمْ يَتْرُكِ الرَّفْعِ حَتَّى بَدَا بَيَاضُ إِبِطَيْهِ ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ ، وَقَلَّبَ ، أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ ، وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَنَزَلَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابَةً فَرَعَدَتْ وَبَرِقَتْ ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ ، فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهُ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ ، فَلَمَّا رَأَى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الْكِنِّ ضَحِكَ ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، فَقَالَ : « أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ » (رواه ابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ خدمت میں حاضر ہو کر بارش نہ ہونے اور سوکھا پڑ جانے کی تکلیف بیان کی، آپ ﷺ (مدینہ کی آبادی سے باہر) اس جگہ جہاں عیدین کی نماز پڑھی جاتی تھی نماز استسقا پڑھنے کا فیصہ فرمایا، اور لوگوں کو ایک دن متعین کر کے بتلایا کہ کہ اس دن سب لوگ آپ ﷺ کے ساتھ چل کر نماز استسقا پڑھیں، اور حکم یا کہ اور حکم فرمایا کہ آپ ﷺ کا منبر اس دن وہاں لے جا کر رکھا جائے، چنانچہ منبر وہاں پہنچا دیا گیا۔ آگے حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ جب وہ دن آیا تو رسول اللہ ﷺ علی الصبح آفتاب طلوع ہوتے ہی وہاں تشریف لے گئے، آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے، پھر اللہ کی کبریائی اور حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا: تم لوگوں نے اپنے علاقہ میں وقت پر بارش نہ ہونے اور سوکھا پڑ جانے کی شکایت کی ہے، اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اپنی حاجات میں تم اس سے دعا کرو اور اس کا وعدہ ہے کہ وہ ضرور قبول فرمائے گا “، اس کے بعد آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کیا:
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ
ساری حم و ستائش اللہ رب العالمین کے لیے ہیں وہ نہایت رحمت والا اور بڑا مہربان ہے یوم جزا کا مالک و فرمانروا ہے، اللہ کے سوا کوئی الہ و معبود نہیں، اس کی شان یہ ہے کہ جو چاہے کر ڈالے، خدا وند تو ہی اللہ ہے، ہے، تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں، تو غنی ہے اور ہم سب تیرے محتاج بندے ہیں، ہم پر باش نازل فرما اور جو بارش تو بھیجے اس کو ہمارے لیے تقویت کا ذریعہ اور ایک مدت تک کفایت کا ذریعہ بنا۔
پھر آپ ﷺ نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے (غالبا مطلب یہ ہے کہ اس دعا میں آپ ﷺ نے ہاتھ جتنے اٹھائے ہوئے تھے اس سے اور اوپر اٹھائے) اور بہت دیر تک اسی طرح ہاتھ اٹھائے دعا کرتے رہے اور ہاتھ اتنے اوپر اٹھائے کہ (باوجود یکہ آپ ﷺ چادر مبارک اوڑھے ہوئے تھے لیکن) آپ ﷺ کی بغل کے اندرونی حصے کی سپیدی بھی نظر آنے لگی، پھر آپ ﷺ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور پشت لوگوں کی طرف کر لی ہاتھ اور جو چادر آپ ﷺ اوڑھے ہوئے تھے اس پر آپ ﷺ نے پلٹا اور دعا میں میں آپ ﷺ کے ہاتھ اب تک اٹھے ہوئ ے رہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا رخ لوگوں کی طرف کر لیا اور منبر سے نیچےت آ کر دو رکعت نماز پڑھائی، اللہ کے حکم اسی وقت ایک بدلی اٹھی، جس میں گرج اور چمک بھی تھی، پھر وہ اللہ کے حکم سے خوب برسی (اور ایسی بھرپور بارش ہوئی کہ ابھی آپ ﷺ اپنی مسجد تک واپس نہیں پہنچے تھے کہ پانی سے راستے اور نالے بھر کر بہنے لگے، پھر جب آپ ﷺ نے یہ منظر دیکھا کہ لوگ (جو قحط اور سوکھا کی شکایت کر رہے تھے) بارش سے پناہ لینے کے لئے سائبان یا چھپر کی طرف دوڑ رہے ہیں تو آپ ﷺ کو ہنسی آ گئی یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کو ہر چیز پر قدرت ہے اور میں اس کا بندہ اور رسول (ﷺ) ہوں “۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
بارش عام انسانوں کی بلکہ اکثر حیوانات کی بھی ان کی ضروریات میں سے ہے جن پر زندگی کا گویا انحصار ہے، اس لیے کسی علاقہ میں قحط اور سوکھا پڑ جانا وہاں کی عمومی مصیبت بلکہ ایک گونہ عذاب عما ہے رسول اللہ ﷺ نے جس طرح شخصی اور انفرادی حاجتوں اور پریشانیوں کے لیے وہ “ صلوٰۃ حاجت ” تعلیم فرمائی جس کا بیان پچھلے صفحات میں اپنے موقع پر گزر چکا ہے۔ اسی طرح اس عمومی مصیبت اور پریشانی کی دفیعہ کے لیے بھی آپ ﷺ نے ایک اجتماعی نماز اور دعا کی تعلیم فرمائی جس کی منظم اور مکمل شکل “ صلوٰۃ استسقا ” ہے۔ استسقا کے لغوی معنی ہی پانی مانگنے اور سیرابی طلب کرنے کے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک دفعہ قحط پڑا تو آپ ﷺ نے صلوٰۃ استسقا پڑھی اور اللہ کے حکم سے اسی وقت بارش ہوئی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی مندرجہ ذٰل حدیث میں اس واقعہ کی تفصیل پڑھئے۔
عَنْ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَسْتَسْقِي ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ بِالقِرَاءَةِ وَاسْتَقْبَلَ القِبْلَةَ يَدْعُوْ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِيْنَ اسْتَقْبَلَ القِبْلَةَ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز استسقا کے لئے لوگوں کو ساتھ لے کر عید گاہ تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ نے اس نماز میں دو رکعتیں پڑھیں اور قرأت بالجہر کی اور قبلہ رو ہو کر اور ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور جس وقت آپ ﷺ نے قبلہ کی طرف اپنا رخ کیا، اس وقت اپنی چادر کو پلٹ کر اوڑھا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
عَنْ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا ، مُتَخَشِّعًا ، مُتَضَرِّعًا. (رواه الترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز استسقا کے لئے چلے تو آپ ﷺ بہت معمولی اور کم حیثیت لباس پہنے ہوئے تھے، اور آپ ﷺ کا انداز خاکساری اور مسکینی اور عاجزی کا تھا۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
جیسا کہ ابھی عرض کیا گیا صلوٰۃ استسقا قحط کی عمومی اور اجتماعی مصیبت کے دفیعہ کے لئے اجتماعی نماز اور دعا ہے۔ مندرجہ بالا حدیثوں سے اس نماز کے بارے میں چند باتیں معلوم ہوئیں۔
اول ...... یہ کہ یہ نماز آبادی اور بستی سے باہر صحرا اور جنگل میں براہ راست زمین پر ہونی چاہئے، بارش طلبی کے لئے صحرا اور جنگل ہی نسبتاً زیادہ موزوں جگہ ہے اور اس میں پانی بے مائگی کا اظہار بھی زیادہ ہوتا ہے۔
دوسرے ..... یہ جمعہ یا عید کی نماز کی طرح اس نماز کے لئے نہانے دھونے اور اچھے کپڑے پہننے کا اہتمام نہ کیا جائے بلکہ اس کے برعکس بالکل معمولی اور کم حیثیت لباس ہو، مسکینوں اور فقیروں کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضری ہو، سائل کے لئے فقیرانہ صورت اور پھٹے حال مسکینوں کی سی حالت ہی زیادہ مناسب ہے۔
تیسرے ...... یہ کہ دعا بہت ابتہال اور الحاح کے ساتھ کی جائے، اور اس غرض سے ہاتھ آسمان کی طرف زیادہ اونچے اٹھائے جائیں۔
پہلی دونوں حدیثوں میں “ تحویل رداء ” کا بھی ذکر ہے یعنی یہ کہ آپ ﷺ نے قبلہ رو ہر کر اپنی چادر مبارک پلٹ کر اوڑھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اے اللہ! جس طرح میں نے اس چادر کو الٹ دیا اسی طرح تو بارش نازل فرما کر صورت حال بالکل پلٹ دے، گویا ہاتھ اٹھانے کی طرح یہ عمل بھی دعا ہی کا ایک جز تھا۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی پہلی حدیث میں گزرا کہ جس وقت آپ ﷺ نے نماز استسقا پڑھی اسی وقت ایک بدلی اٹھی اور بھرپور بارش ہوئی۔ دوسرے بعض صحابہ کرامؓ کی روایت میں بھی اس کا ذکر ہے۔
الحمد للہ یہ امت کا بھی عام تجربہ ہے۔ اس عاجز و عاصی کو بھی اپنی عمر میں تین دفعہ نماز استسقاپڑھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ پہلی دفعہ اپنے بالکل بچپن میں اپنے اصل وطن سنبھل میں، دوسری دفعہ اب سے قریبا پندرہ سال پہلے لکھنو میں اور تیسری دفعہ ۱۹۵۱ میں مدینہ طیبہ میں اور یہ تینوں دفعہ کی نماز کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے بارش نازل فرمائی۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ: جب نماز اور دعا کے نتیجہ میں بارش ہوئی اور بھرپور ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور میں اس کا بندہ اور رسول ہوں۔
یہ کمال عبدیت ہے کہ آپ ﷺ نے نماز اور دعا کے نتیجہ میں جب معجزانہ طور پر بارش نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے اس حقیقت کا اعتراف و اعلان ضروری سمجھا کہ یہ جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت سے ہوا لہٰذا وہی حمد و شکر کا مستحق ہے اور میں تو بس اس اللہ کا ایک بندہ اور پیغامبر ہوں۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سيدنا مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ.
نماز جنازہ ، اور اس کے قبل و بعد
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ المَوْتِ. (رواه الترمذى والنسائى وابن ماجه)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو! موت کو یاد کرو اور یاد رکھو جو دنیا کی لذتوں کو ختم کر دینے والی ہے۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
محدثین کا عام دستور ہے کہ وہ کتاب الصلوٰۃ کے آخر میں کتاب الجنائز کے تحت موت، مرض الموت بلکہ مطلق مرض و دیگر مصائب و بلیات اور ان حوادث کے وقت کے طرز عمل، پھر غسل میت، تجہیز و تکفین، نماز جنازہ، دفن، تعزیت، یہاں تک کہ زیارت قبور ان سب ہی امور کے متعلق حدیثیں درج کرتے ہیں۔ اس دستور کی پیروی میں یہاں بھی ان تمام امور سے متعلق رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اور معمولات اسی طرح ذکر کئے جائیں گے۔ ان حدیثوں سے جو کچھ معلوم ہو گا ان کا حاصل اور خلاصہ یہ ہے کہ موت چونکہ یقیناً آنے والی ہے، اور اس کا کوئی وقت معلوم نہیں ہے، اس لئے مسلمان کو چاہئے کہ کسی وقت بھی اس سے غافل نہ ہو، ہمیشہ اس کو یاد رکھے اور آخرت کے اس سفر کی تیاری کرتا رہے۔ خصوصا جب بیمار ہو تو اپنی دینی و ایمانی حالت کو درست کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو صحیح کرنے کی زیادہ فکر کرے، دوسرے بھائی اس کی خدمت و ہمدردی اور اس کا غم ہلکا کرنے اور جی بہلانے کی کوشش کریں، اور اس کے سامنے اجر و ثواب کی باتیں اور اللہ تعالیٰ کی شان رحمت کے خوش آئند تذکرے کریں۔ خصوصا جب محسوس ہو کہ مریض بظاہر اچھا ہونے والا نہیں اور سفر آخرت کے قریب ہے تو اس کے دل کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنے کی اور کلمہ ایمان کی یاد دہانی کی مناسب طریقے پر کوشش کریں۔ پھر جب موت وارد ہو جائے تو اس کے اقارب صبر سے کام لیں، طبعی اور فطری رنج و غم کے باوجود موت کو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سمجھ کر وفادار بندے کی طرح اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں، اور اس کے کرم سے اس صدمہ پر اجر و ثواب کی امید رکھیں اور اس کی دعائیں کریں۔ پھر میت کو غسل دیا جائے، پھر اس کو اچھے صاف ستھرے کپڑوں میں کفنایا جائے، اور خوشبو کا استعمال کیا جائے۔ پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور تسبیح و تقدیس ہو، اس کی عظمت و کبریائی کا اعتراف و اقرار ہو، اللہ کے نبی و رسول حضرت محمد ﷺ کے لئے دعائے رحمت ہو جن سے اس میت کو اور نماز پڑھنے والوں کو ہدایت ملی، اس سب کے بعد مرنے والے بھائی کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش اور رحم و کرم کی دعا اور التجا ہو، پھر پورے اعزاز و احترام کے ساتھ اس کا اس زمین کے سپرد کر دیا جائے اور اس کی گود میں دے دیا جائے جس کے اجزاء سے اس کا جسم بنا اور پلا تھا، اور جو ایک طرح سے گویا اس کی ماں تھی۔ پھر لوگ زبانی اور عملی طور پر میت کے اقارت اور گھر والوں کی غمخواری اور ہمدردی کریں اور ان کی تسلی و تشفی اور غم ہلکا کرنے کی کوشش کریں۔
ان میں سے ہر بات کی حکمت اور مصلحت بالکل ظاہر ہے اور یہ واقعہ اور تجربہ ہے کہ مرض و موت اور دوسری مصیبتوں میں رسول اللہ ﷺ کی ان ہدایات پر عمل کرنے سے قلب و روح کو بڑا سکون نصیب ہوتا ہے، اور اس سلسلہ کی آپ ﷺ کی ہر تعلیم و ہدایت دل کے زخم کا مرہم اور صدمہ کی دوا بن جاتی ہے، اور موت تو لقاء الٰہی کا وسیلہ ہونے کی حیثیت سے محبوب و مطلوب ہو جاتی ہے۔
یہ تو ان ہدیت کے دینوی اور نقد برکات ہیں، اور آخرت میں ان شاء اللہ وہ سب سامنے آنے والا ہے۔ جس کا وعدہ آگے آنے والی حدیثوں میں کیا گیا ہے۔
اس تمہید کے بعد اس سلسلہ کی حدیثیں پڑھئے۔