نماز جنازہ ، اور اس کے قبل و بعد
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي ، فَقَالَ : « كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ » وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ : « إِذَا أَمْسَيْتَ فَلاَ تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلاَ تَنْتَظِرِ المَسَاءَ ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ ، وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ » (رواه البخارى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ میرا مونڈھا پکڑا اور مجھ سے فرمایا: دنیا میں اس طرح رہ جیسے کہ تو پردیسی اور راستہ چلتا مسافر ہے، اور (رسول اللہ ﷺ کی اس ہدایت و تعلیم کا اثر تھا کہ اپنے نفس کو یا دوسروں کو بھی مخاطب کر کے) ابن عمرؓ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ جب شام آئے تو صبح کا انتظار نہ کر (معلوم نہیں کہ صبح تک تو رہے گا یا نہیں) اور جب صبح ہو تو شام انتظار نہ کر (نہیں معلوم کہ شام تک تو زندہ رہے گا یا نہیں) اور تندرستی کی حالت میں بیماری کے لئے اور زندگی میں موت کے لئے کچھ کمائی کر لے۔ (صحیح بخاری)
نماز جنازہ ، اور اس کے قبل و بعد
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو اللہ سے ملنا اور اس کے حضور میں حاضر ہونا محبوب ہو اللہ کو اس سے ملنا محبوب ہے، اور جس کو اللہ سے ملنا نا گوار ہو، اللہ کو اس سے ملنا ناگوار ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت عبادہ بن صامت کی اسی روایت میں آگے یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ بات ارشاد فرمائی تو ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ یا ازواج مطہرات میں سے کسی اور نے عرض کیا: حضرت (ﷺ) ہمارا حال تو یہ ہے کہ:
اِنَّا نَكْرَهُ الْمَوْتَ “ ہم موت سے گھبراتے ہیں اور موت ہم کو محبوب اور گوارا نہیں ہے ”
آپ ﷺ نے اس کے جواب میں جو کچھ فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ میرا مطلب یہ نہیں کہ آدمی کو خود موت محبوب ہونی چاہیے، موت کا محبوب نہ ہونا تو ایک طبعی اور فطری سی بات ہے، بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ موت کے بعد اللہ تعالیٰ کی جو رضا اور اس کا جو فضل و کرم مؤمن پر ہونے والا ہے جو موت کے وقت اس پر منکشف کر دیا جاتا ہے وہ آدمی کو محبوب اور اس کا شوق ہونا چاہئے اور جس بندے کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اس سے ملنا اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوتا ہے، اور اس کے بر عکس جو بندہ اپنی بداعمالی اور بدبختی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب کا مستحق ہوتا ہے، موت کے وقت اس کے اس برے انجام پر اس کو مطلع کر دیا جاتا ہے اس لئے وہ اللہ کے حضور میں جانا نہیں چاہتا اور اس کو اپنے حق میں سخت مصیبت سمجھتا ےہے تو ایسے شخص سے اللہ تعالیٰ بھی ملنا نہیں چاہتا اور اس سے نفرت کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی اس تشریح کی بناء پر لقاء اللہ سے مراد یہاں موت نہیں ہے بلکہ موت کے بعد اللہ تعالیٰ کا جو معاملہ بندے کے ساتھ ہونے والا ہے وہ مراد ہے، چنانچہ اسی مضمون کی جو حدیث خود حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے اس کے آخر میں رسول اللہ ﷺ کی یہ تصریح ہے کہ: والموت قبل لقاء الله (یعنی موت لقاء اللہ سے پہلے ہے)۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا ہے کہ جب اس دنیا سے دوسرے عالم کی طرف منتقل ہونے کا وقت بالکل قریب آتا ہے تو بہیمیت اور مادیت کے غلیظ پردے چاک ہونے لگتے ہیں، اور روح کے لئے عالم ملکوت کا ظہور ہونے لگتا ہے، اس وقت عالم غیب اور عالم آخرت کی وہ حقیقتیں گویا مشاہدے میں آنے لگتی ہیں جن کی اطلاع انبیاء علیہم السلام نے دی ہے، اس وقت اس صاحب ایمان بندے کی روح جس نے ہمیشہ بہیمی تقاضوں کو دبایا اور ملکی صفات کو غالب کرنے کی کوشش کی، اللہ تعالیٰ کی عنایات اور اس کے لطف و کرم کے نقشوں کا مشاہدہ کر کے اس کی مشتاق ہو جاتی ہے اور اس کا داعیہ اور شوق یہ ہوتا ہے کہ جلد سے جلد وہ اسی عالم میں اور اللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت میں پہنچ جائے اور اس کے برعکس جو منکر یا خدا فراموش اور نفس پرست بندہ ہمیشہ اپنے بہیمی تقاضوں میں غرق اور دنیوی لذتوں میں مست رہا، اس کی روح موت کے وقت جب اپنے مستقبل کے مہیب نقشے دیکھتی ہے تو کسی طرح دنیا سے نکلنا نہیں چاہتی۔
شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ انہیں دونوں حالتوں کو “ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ” اور “ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ ” سے تعبیر کیا گیا ہے، اور آگے أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُاور كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ کا مطلب بس اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضی اور انعام اور غضب اور ثواب و عذاب ہے۔
نماز جنازہ ، اور اس کے قبل و بعد
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُحْفَةُ الْمُؤْمِنِ الْمَوْتُ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: مؤمن کا تحفہ موت ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے موت طبعی طور پر کسی کے لئے بھی خوشگوار نہیں ہوتی، لیکن اللہ کے جن بندوں کو ایمان و یقین کی دولت نصیب ہے وہ موت کے بعد کے اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قرب خصوصی اور لذت دیدار پر نظر رکھتے ہوئے عقلی طور پر موت کے مشتاق ہوتے ہیں، بلکل اس طرح جس طرح کہ آنکھ میں نشتر لگوانا طبعی طور پر کسی کو بھی مرغوب اور گوارا نہیں ہو سکتا لیکن اس امید پر کہ آپریشن سے آنکھ میں روشنی آ جائے گی، عقلی طور پر وہ محبوب و مطلوب ہوتا اور ڈاکٹر کو فیس دے کر آنکھ میں نشتر لگوایا جاتا ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ آپریشن کے نتیجہ میں آنکھ کا روشن ہو جانا قطعی اور یقینی نہیں ہے، آپریشن ناکامیاب بھی ہو جاتا ہے، لیکن صاحب ایمان و یقین کے لیے اللہ تعالیٰ کے انعامات اور اس کا قرب اور لذت و دیدار بالکل یقینی ہے، اسی لحاظ سے اصحاب ایمان و یقین کے لئے موت محبوب ترین تحفہ ہے۔
سمجھنے کے لئے بلا تشبیہ اس کی دوسری ایک مثال یہ ہے کہ ہر لڑکی کے لئے شادی اور ماں باپ کے گھر سے رخصت ہو کر شوہر کے ہاں جانا اس حیثیت سے بڑے رنج اور صدمہ کی بات ہوتی ہے کہ ماں باپ کی شفقت اور گھر کا ماحول اس سے چھوٹ جائے گا اور اس کی آئندہ زندگی ایک نئے گھر اور نئے خاندان میں گزرے گی، لیکن شادی سے مستقبل کے بارے میں جو خاص توقعات ہوتی ہیں جن کے لئے شادی کی جاتی ہے ان کی وجہ سے بلا شبہ شادی کا شوق اور ارمان بھی ہوتا ہے۔ بس اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ساتھ صحیح ایمانی تعلق رکھنے والے بندوں کا معاملہ ہے۔ موت کے بعد اللہ تعالیٰ کی جن الطاف و عنایات اور جس طرح قرب خصوصی کی ان کو توقع ہوتی ہے اسی کی وجہ سے ان کو موت کا اشتیاق اور ارمان ہوتا ہے!
موت کی تمنا کرنے کی ممانعت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : « لاَ يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ المَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ يَزْدَادُ ، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ يَسْتَعْتِبُ » (رواه البخارى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے، اگر وہ نیکو کار ہے تو امید ہے کہ جب تک وہ زندہ رہے گا نیکیوں کے اس کے ذخیرے میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اگر اس کے اعمال خراب ہیں تو ہو سکتا ہے آئندہ زندگی میں وہ توبہ وغیرہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر لے۔ (صحیح بخاری)
تشریح
بہت سے لوگ دنیا کی تنگیوں اور پریشانیوں سے گھبرا کر موت کی آرزو اور دعا کرنے لگتے ہیں، یہ بڑی بے دانشی، کم ہمتی اور بے صبری کی بات اور ایمان کی کمزوری کی علامت ہے رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
تشریح ..... صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کی اس حدیث کے الفاظ یہی ہیں جو اوپر درج کئے گئے ہیں لیکن صحیح مسلم کی روایت میں خفیف سا لفظی فرق ہے اور اس میں موت کی تمنا کے ساتھ اس کی دعا کرنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے۔
موت کی تمنا کرنے کی ممانعت
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ المَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ ، فَإِنْ كَانَ لاَ بُدَّ فَاعِلًا ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الوَفَاةُ خَيْرًا لِي " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی دکھ اور تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا (اور دعا) نہ کرے اگر (اندر کے داعیہ سے) بالکل ہی لاچار ہو، تو یوں دعا کرے کہ اے اللہ! میرے لئے جب تک زندگی بہتر ہو اس وقت تک مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت بہتر ہو اس وقت تو مجھے دنیا سے اٹھا لےئ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
بیماری بھی مومن کے لئے رحمت اور گناہوں کا کفارہ
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « مَا يُصِيبُ المُسْلِمَ ، مِنْ نَصَبٍ وَلاَ وَصَبٍ ، وَلاَ هَمٍّ وَلاَ حُزْنٍ وَلاَ أَذًى وَلاَ غَمٍّ ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا ، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو سعید خدری ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: مرد مومن کو جو بھی دکھ اور جو بھی بیماری اور جو بھی پریشانی اور جو بھی رنج و ٹم اور جو بھی اذیت پہنچتی ہے، یہاں تک کہ کانٹا بھی اگر اس کے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے ذریعہ اس کے گناہوں کی صفائی کر دیتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
جس طرح رسول اللہ ﷺ نے موت کے متعلق بتلایا کہ وہ فنا اور نیست ہو جانا نہیں ہے بلکہ ایک دوسری زندگی کا آغاز اور ایک دوسرے عالم کی طرف منتقل ہو جانا ہے جو اللہ کے ایمان والے بندوں کے لئے نہایت ہی خوشگوار ہو گا، اور اس لحاظ سے وہ موت مومن کا تحفہ ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے بتایا کہ بیماری بھی صرف دکھ اور مصیبت نہیں ہے بلکہ ایک پہلو سے وہ رحمت ہے اور اس سے گناہوں کی صفائی ہوتی ہے، اور اللہ کے سعادت مند بندوں کو چاہئے کہ بیماری اور دوسری تکلیفوں اور مصیبتوں کو خدائی تنبیہ سمجھتے ہوئے اپنی اصلاح کی فکر اور کوشش میں لگ جائیں۔ ذیل کی حدیثوں میں یہی تعلیم اور ہدایت دی گئی ہے۔
بیماری بھی مومن کے لئے رحمت اور گناہوں کا کفارہ
عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ ، فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللهُ بِهِ سَيِّئَاتِهِ ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مرد مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے مرض سے یا اس کے علاوہ، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کو اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح خزاں رسیدہ درخت اپنے پتے جھاڑ دیتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
بیماری بھی مومن کے لئے رحمت اور گناہوں کا کفارہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ , وَالْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى يَلْقَى اللهَ تَعَالَى وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ ". (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کے بعض ایمان والے بندوں یا ایمان والی بندیوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصائب اور حوادث آتے رہتے ہیں۔ کبھی اس کی جان پر کبھی اس کے مال پر، کبھی اس کی اولاد پر (اور اس کے نتیجہ میں اس کے گناہ جھڑتے رہتے ہیں) یہاں تک کہ مرنے کے بعد وہ اللہ کے حضور میں اس حال میں پہنچتا ہے کہ اس کا ایک گناہ بھی باقی نہیں رہتا۔ (جامع ترمذی)
بیماری بھی مومن کے لئے رحمت اور گناہوں کا کفارہ
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ ، لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ ، أَوْ فِي مَالِهِ ، أَوْ فِي وَلَدِهِ ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ » (رواه احمد وابوداؤد)
محمد بن خالد سلمی اپنے والد سے روایت ہیں اور وہ ان کے دادا سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی بندہ مومن کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا بلند مقام طے ہو جاتا ہے جس کو وہ اپنے عمل سے نہیں پا سکتا، تو اللہ تعالیٰ اس کو کسی جسمانی یا مالی تکلیف میں یا اولاد کی طرف سے کسی صدمہ اور پریشانی میں مبتلا کر دیتا ہے، پھر اس کو صبر کی توفیق دے دیتا ہے، یہاں تک کہ (ان مصائب و تکالیف اور ان پر صبر کرنے کی وجہ سے) اس بلند مقام پر پہنچا دیتا ہے جو اس کے لئے پہلے سے طے ہو چکا تھا۔
تشریح
اللہ تعالیٰ مالک الملک اور احکم الحاکمین ہے، وہ اگر چاہے تو بغیر کسی عمل اور استحقاق کے بھی اپنے کسی بندے کو بلند سے بلند درجہ عطا فرما سکتا ہے، لیکن اس کی حکمت اور صفت عدالت کا تقاضا یہ ہے کہ جو بندے اپنے اعمال اور احوال کی وجہ سے جس درجہ کے مستحق ہوں ان کو اسی درجہ پر رکھا جائے، اس لئے اللہ تعالیٰ کا یہ دستور اور معاملہ ہے کہ جب وہ کسی بندے کے لئے اس کی کوئی ادا پسند کر کے یا خود اس کی یا اس کے حق میں کسی دوسرے بندے کی دعا قبول کر کے اس کو ایسا بلند درجہ عطا فرمانے کا فیصلہ کرتا ہے جس کا وہ اپنے اعمال کی وجہ سے مستحق نہیں ہوتا تو اعمال کی اس کمی کو مصائب حوادث اور صبر کی توفیق سے پورا کر دیتا ہے۔ واللہ اعلم۔
بیماری بھی مومن کے لئے رحمت اور گناہوں کا کفارہ
عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَوَدُّ أَهْلُ العَافِيَةِ يَوْمَ القِيَامَةِ حِينَ يُعْطَى أَهْلُ البَلاَءِ الثَّوَابَ لَوْ أَنَّ جُلُودَهُمْ كَانَتْ قُرِضَتْ فِي الدُّنْيَا بِالمَقَارِيضِ. (رواه الترمذى)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن جب ان بندوں کو جو دنیا میں مبتلائے مصائب رہے، ان مصائب کے عوض اجر و ثواب دیا جائے گا تو وہ لوگ جو دنیا میں ہمیشہ آرام و چین سے رہے حسرت کریں گے کہ کاش دنیا میں ہماری کھالیں قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتیں۔ (جامع ترمذی)
بیماری بھی مومن کے لئے رحمت اور گناہوں کا کفارہ
عَنْ عَامِرٍ الرَّامِ قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسْقَامَ ، فَقَالَ : « إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَصَابَهُ السَّقَمُ ، ثُمَّ أَعْفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ ، كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ ، وَمَوْعِظَةً لَهُ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ ، وَإِنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا مَرِضَ ثُمَّ أُعْفِيَ كَانَ كَالْبَعِيرِ ، عَقَلَهُ أَهْلُهُ ، ثُمَّ أَرْسَلُوهُ فَلَمْ يَدْرِ لِمَ عَقَلُوهُ ، وَلَمْ يَدْرِ لِمَ أَرْسَلُوهُ » (رواه ابوداؤد)
عامر رامی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ بیماریوں کے سلسلہ میں کچھ ارشاد فرمایا (یعنی بیماری کی حکمتیں اور اس میں جو خیر کا پہلو ہے اس کا تذکرہ فرمایا) اس سلسلہ میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ: جب مرد مومن بیماری میں مبتلا ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کو صحت و عافیت دیتا ہے تو یہ بیماری اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے اور مستقبل کے لئے نصیحت و تنبیہ کا کام کرتی ہے اور (خدا و آخرت سے غافل و بے پرواہ) منافق آدمی جب بیمار پڑتا ہے اور اس کے بعد اچھا ہو جاتا ہے (تو وہ اس سے کوئی سبق نہیں لیتا اور کوئی نفع نہیں اٹھاتا) اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جس کو اس کے مالک نے باندھ دیا، پھر کھول دیا، لیکن اس کو کوئی احساس نہیں کیوں اس کو باندھا اور کیوں کھولا۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے ان سب ارشادات کا خاص سبق اور پیغام یہی ہے کہ بیماریوں اور دوسری تکلیفوں اور پریشانیوں کو (جو اس دنیوی زندگی کا گویا لازمہ ہیں) صرف مصیبت اور اللہ تعالیٰ کے غضب اور قہر کا ظہور ہی نہ سمجھنا چاہیے۔ اللہ سے صحیح تعلق رکھنے والے بندوں کے لئے ان میں بھی بڑا خیر اور رحمت کا بڑا سامان ہے، ان کے ذریعہ کے ذریعہ گناہوں کی صفائی اور تطہیر ہوتی ہے، اللہ تعوالیٰ کی خاص عنایات اور بلند درجات کا استحقاق حاصل ہوتا ہے اعمال کی کمی کی کسر پوری ہوتی ہے۔ اور ان کے ذریعہ سعادت مند بندوں کی تربیت ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی اس تعلیم کی یہ کتنی عظیم برکت ہے کہ جن بندوں کو ان حقیقتوں کا یقین ہے وہ بڑی سے بڑی بیماری اور مصیبت کو بھی اللہ تعالیٰ کی عنایت و رحمت کی ایک صورت سمجھتے ہیں۔ اپنے جن بندوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ دولت نصیب فرمائی ہے بس وہی جانتے ہیں کہ یہ کتنی عظیم نعمت ہے اور اس سے بیماری اور مصیبت کے حال میں بھی دل اور روح کو کتنی تقویت حاصل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق اور محبت میں کتنی ترقی اور کس قدر اضافہ ہوتا ہے۔
بیماری میں زمانہ تندرستی کے اعمال کا ثواب
عَنْ أَبِىْ مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا مَرِضَ العَبْدُ ، أَوْ سَافَرَ ، كُتِبَ لَهُ بِمِثْلِ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا » (رواه البخارى)
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جب کوئی بندہ بیمار ہو یا سفر میں جائے (اور اس بیماری یا سفر کی وجہ سے اپنی عبادت وغیرہ کے معمولات پورا کرنے سے مجبور ہو جائے) تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے اعمال اسی طرح لکھے جاتے ہیں جس طرح وہ صحت و تندرستی کی حالت میں اور زمانہ اقامت میں کیا کرتا تھا۔ (صحیح بخاری)
تشریح
یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص لطف و کرم اور فضل و اھسان ہے کہ اگر آدمی بیماری یا سفر جیسی کسی مجبوری سے اپنے ذکر و عبادت و غیرہ کے معمولات پورے نہ کر سکے تو اللہ تعالیٰ اس کے اعمال نامہ میں اپنے حکم سے وہ معمولات لکھواتا ہے، جو یہ بندہ تندرستی اور اقامت کی حالت میں کیا کرتا تھا۔ اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ لَا تُحْصِي ثَنَاءعَلَيْكَ.
مریض کی عیادت اورتسلی و ہمدردی
عَنْ أَبِىْ مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَطْعِمُو الْجَائِعَ وَعُوْدُو الْمَرِيْضَ وَكُفُّوْ الْعَانِىْ. (رواه البخارى)
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بھوکوں کو کھانا کھلاؤ، بیماروں کی عیادت کرو اور جو لوگ ناحق قید کر دیئے گئے ہوں ان کی رہائی کی کوشش کرو۔ (صحیح بخاری)
تشریح
مریض کی عیادت و تسلی اس کی خدمت و ہمدردی کو رسول اللہ ﷺ نے اونچے درجہ کا نیک عمل اور ایک طرح کی مقبول ترین عبادت بتلایا ہے اور مختلف طریقوں سے اس کی ترغیب دی ہے، خود آپ ﷺ کا دستور اور معمول بھی تھا کہ مریضوں کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے، ان سے ایسی باتیں کرتے جن سے ان کو تسلی ہوتی اور ان کا غم ہلکا ہوتا، اللہ کا نام اور اس کا کلام پڑھ کر ان پر دم بھی فرماتے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین فرماتے
مریض کی عیادت اورتسلی و ہمدردی
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ » (رواه مسلم)
حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: بندہ مومن جب اپنے صاحب ایمان بندے کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک وہ گویا جنت کے باغ میں ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم)
مریض کی عیادت اورتسلی و ہمدردی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ عَادَ مَرِيضًا نَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : طِبْتَ ، وَطَابَ مَمْشَاكَ ، وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا. (رواه ابن ماجة)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس بندے نے کسی مریض کی عیادت کی تو اللہ کا منادی آسمان سے پکارتا ہے کہ تو مبارک، اور عیادت کے لئے تیرا چلنا مبارک اور تو نے یہ عمل کر کے جنت میں اپنا گھر بنا لیا۔ (سنن ابن ماجہ)
مریض کی عیادت اورتسلی و ہمدردی
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ ، فَنَفِّسُوا لَهُ فِي أَجَلِهِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا ، وَهُوَ يُطَيِّبُ بِنَفْسِ الْمَرِيضِ » (رواه الترمذى وابن ماجة)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو اس کی عمر کے بارے میں اس کے دل کو خوش کرو (یعنی اس کی عمر اور زندگی کے برے میں خوش کن اور اطمینان بخش باتیں کرو۔ مثلاً یہ تمہاری حالت بہتر ہے، ان شاء اللہ تم جلد ہی تندرست ہو جاؤ گے) اس طرح کی باتیں کسی ہونے والی چیز کو روک تو نہ سکیں گی (جو ہونے ولا ہے وہی ہو گا) لیکن اس سے اس کا دل خوش ہو گا (اور یہی عیادت کا مقصد ہے)۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
مریض کی عیادت اورتسلی و ہمدردی
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ غُلاَمٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرِضَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَقَالَ لَهُ : « أَسْلِمْ » ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ : أَطِعْ أَبَا القَاسِمِ ، فَأَسْلَمَ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : « الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ » (رواه البخارى)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ مریض ہو گیا تو آپ ﷺ اس کی عیادت کے لئے اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور اس سے فرمایا تو اللہ کا دین اسلام قبول کر لے اس نے اپنے والد کی طرف دیکھا جو وہیں موجود تھے، اس نے لڑکے سے کہا تو ابو القاسم (ﷺ) کی بات مان لے، اس لڑکے نے اسلام قبول کر لیا، رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرماتے تھے۔ “ حمد اس اللہ کی جس نے اس لڑکے جو جہنم سے نکال لیا ”۔ (صحیح بخاری)
تشریح
اس حدیث سے ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ بعض غیر مسلم بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خادمانہ تعلق رکھتے تھے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ آپ ﷺ غیر مسلموں کی بھی عیادت فرماتے تھے۔ تیسری بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ جن غیر مسلموں کو آپ ﷺ سے کچھ قریب ہونے کا موقع ملتا تھا وہ آپ ﷺ سے اتنے متاثر ہوتے تھے کہ اپنی اولاد کے لئے اسلام قبول کرنا بہتر اور بھلائی کا وسیلہ سمجھتے تھے۔
مریض پر دم اور اس کے لئے دعا صحت
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا اشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ ، مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ قَالَ : « أَذْهِبِ الْبَاسَ ، رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے روایت ہے کہ جب ہم میں سے کوئی آدمی بیمار ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اپنا داہنا ہاتھ اس کے جسم پر پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے: أَذْهِبِ الْبَاسَ، رَبَّ النَّاسِ۔ (اے سب آدمیوں کے پروردگار! اس بندے کی تکلیف دور فرما دے اور شفا عطا فرما دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، بس رتیری ہی شفا شفا ہے، ایسی کامل شفا عطا فرما جو بیماری بالکل نہ چھوڑے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
مریض پر دم اور اس کے لئے دعا صحت
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي يَأْلَمُ مِنْ جَسَدِكَ ، وَقُلْ بِاسْمِ اللهِ ثَلَاثًا ، وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ قَالَ فَفَعَلْتُ فَاذْهَبَ اللهُ مَا كَانَ بِىْ » (رواه مسلم)
حضرت عثمان بن ابی العاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درد کی شکایت کی جو ان کے جسم کے کسی حصے میں تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم اس جگہ پر اپنا ہاتھ رکھو جہاں تکلیف ہے اور تین دفعہ کہو “ بِسْمِ اللهِ ” اور سات مرتبہ کہو “ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ ” (میں پناہ لیتا ہوں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی قدرت کی اس تکلیف کے شر سے جو میں پا رہا ہوں اور جس کا مجھے خطرہ ہے) کہتے ہیں کہ میں نےایسا ہی کیا تو اللہ تعالیٰ نے میری وہ تکلیف دور فرما دی۔ (صحیح مسلم)
مریض پر دم اور اس کے لئے دعا صحت
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُعَوِّذُ الحَسَنَ وَالحُسَيْنَ " أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ وَيَقُولُ إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ " (رواه البخارى)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا پڑھ کے حسن و حسین ؓ کو اللہ کی پناہ میں دیتے تھے:
أُعِيذُ كُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ
میں تمہیں پناہ میں دیتا ہوں اللہ کے کلمات تامہ کی ہر شیطان کے شر سے اور ہر زہریلے جانور سے اور اثر ڈٖالنے والی آنکھ سے۔
اور فرماتے تھے کہ: تمہارے جد امجد ابراہیم اپنے دونوں صاحبزادوں اسماعیل اور اسحٰق پر ان کلمات سے دم کرتے تھے۔
تشریح
“ كَلِمَاتٍ تَامَّة ” سے مراد یا تو اللہ کے احکام ہیں یا اس کی نازل کی ہوئی کتابیں ہیں بہرحال آپ ﷺ حضرت حسن و حسین ؓ پر بطور تعویذ اور دم کے یہ دعا پڑھا کرتے تھے اور اس طرح ان کے لئے اللہ سے پناہ اور حفاظت مانگتے تھے۔